Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 2024 میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ

    2024 میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ

    2024 میں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گرد حملوں میں ہونے والی اموات کی تعداد 1081 تک جا پہنچی ہے۔ یہ رپورٹ انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان عالمی دہشت گردی انڈیکس 2025 میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) ملک میں تیزی سے بڑھنے والی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم کے طور پر سامنے آئی ہے، اور یہ تنظیم 2024 میں پاکستان میں 52 فیصد ہلاکتوں کی ذمہ دار تھی۔ اس سال دہشت گرد حملوں میں ہونے والی اموات کی تعداد گزشتہ سال کی نسبت بڑھ گئی ہے، جہاں 2023 میں دہشت گرد حملوں کی تعداد 517 تھی جو 2024 میں بڑھ کر 1099 تک پہنچ گئی۔2024 میں ٹی ٹی پی نے 482 حملے کیے، جن میں 558 افراد جاں بحق ہوئے، جو 2023 کے مقابلے میں 91 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ اضافہ دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں شدت کو ظاہر کرتا ہے اور اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی صورتحال مسلسل بدتر ہو رہی ہے۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد دہشت گردوں کو سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں مل گئی ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان کے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں حملے تیزی سے بڑھ گئے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیاں 2024 میں 116 سے بڑھ کر 504 تک جا پہنچیں۔ ان حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد بھی چار گنا بڑھ کر 388 ہو گئی۔ یہ گروہ پاکستان کے جنوبی حصے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا چکے ہیں اور ان کے حملوں نے پورے ملک میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے۔

    پاکستان کی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف آپریشن "عزمِ استحکام” شروع کر رکھا ہے جس کا مقصد شدت پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنا اور سکیورٹی کو مستحکم کرنا ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ اقدامات دہشت گردوں کے خلاف ایک مضبوط ردعمل کے طور پر سامنے آ رہے ہیں، لیکن دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نے ملکی امن و امان کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ہونے والے اضافہ نے عالمی سطح پر پاکستان کی سکیورٹی صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور سکیورٹی فورسز اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہیں تاکہ ملک میں امن و امان قائم کیا جا سکے۔

  • پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے مابین مذاکرات جاری

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی اگلی قسط کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق، اس مذاکرات میں آئی ایم ایف کے حکام کے ساتھ ساتھ ایف بی آر اور بی آئی ایس پی کے افسران بھی شریک ہوں گے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو 605 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے ایک منصوبہ پیش کیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکس وصولی کے شارٹ فال کو پورا کرنے کے لیے کسی منی بجٹ کی ضرورت نہیں ہوگی۔اس ضمن میں بتایا گیا ہے کہ شارٹ فال پورا کرنے کے لیے عدالتوں میں زیر سماعت ٹیکس مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ ٹیکس کیسز کے حوالے سے عدالتوں میں بھرپور تعاون کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے چیف جسٹس پاکستان نے بھی ٹیکس کیسز کی سماعت جلد کرانے کی درخواست منظور کرلی ہے، تاکہ ٹیکس وصولی میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے اور قرض پروگرام کی اگلی قسط جاری کی جا سکے۔

  • کراچی، ایک ماہ میں 13 افراد کو بلی کاٹ گئی

    کراچی، ایک ماہ میں 13 افراد کو بلی کاٹ گئی

    کراچی میں بلی کے کاٹنے کے کیسز میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے،

    سول اسپتال کراچی کی ریبیز کلینک کی انچارج ڈاکٹر رومانہ فرحت نے بتایا کہ فروری کے مہینے میں صرف سول اسپتال میں بلی کے کاٹنے کے 13 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ڈاکٹر رومانہ نے مزید کہا کہ بلی کے ساتھ ساتھ گدھے اور بندر کے کاٹنے سے بھی ریبیز وائرس منتقل ہو سکتا ہے، جو کہ ایک جان لیوا بیماری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان جانوروں کے کاٹنے کے بعد فوری طور پر اینٹی ریبیز ویکسین لگوانا ضروری ہے تاکہ بیماری کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان جانوروں سے محتاط رہیں اور اگر کسی شخص کو ان جانوروں کے کاٹنے کا سامنا ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں اور ویکسین کی ڈوز لیں۔

    ریبیز ایک خطرناک بیماری ہے جو دماغ کو متاثر کرتی ہے اور اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو موت کا باعث بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر رومانہ نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ بیماری انسانوں میں بلی، گدھے اور بندر کے ذریعے بھی منتقل ہو سکتی ہے، اور اس لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہیں۔کراچی میں ریبیز کی روک تھام کے لیے مزید آگاہی کی ضرورت ہے تاکہ شہری اس خطرناک بیماری سے بچ سکیں۔

  • آڈیولیک کیس،علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    آڈیولیک کیس،علی امین گنڈا پور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلام آباد: آڈیو لیک کیس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار ہیں۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں علی امین گنڈاپور کے خلاف کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور کاکڑ کی عدم دستیابی کی وجہ سے بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی۔آج بھی علی امین گنڈاپور عدالت میں پیش نہ ہوئے، جبکہ ان کے وکیل بھی عدالت میں موجود نہیں تھے۔ اس موقع پر شریک ملزم اسد فاروق عدالت میں پیش ہوئے اور حاضری لگائی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار ہیں۔ کیس کی آئندہ سماعت 25 مارچ کو ہوگی۔

    یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج ہے اور اس پر آڈیو لیک کیس میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔مزید تفصیلات کے لیے آئندہ سماعت کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ اس کیس میں مزید پیشرفت ہو سکے۔

  • پاکستان کے باصلاحیت نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں. وزیرِ اعظم

    پاکستان کے باصلاحیت نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں. وزیرِ اعظم

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے نوجوانوں کو مارکیٹ اور صنعتوں میں درکار ہنر کے مطابق تربیت فراہم کرنے کے ایک اہم منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس منصوبے پر عملدرآمد کی خود نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کرنے کے لیے مقامی صنعتوں کے ساتھ مسلسل روابط برقرار رکھنے اور افرادی قوت کے بین الاقوامی اداروں کی کھپت کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مقامی صنعتوں میں درکار ہنر کے حوالے سے ایک جامع ڈیٹا بیس قائم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

    وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کے باصلاحیت نوجوان ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت اور ضروری ہنر کی فراہمی سے انہیں بااختیار اور برسر روزگار بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تربیت کی فراہمی سے افرادی قوت کی برآمد کو فروغ دیا جائے گا۔

    وزیرِ اعظم کی زیرِ صدارت نیشنل یوتھ ایمپلائیمنٹ پلان پر ایک جائزہ اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں آئندہ 4 برس میں مختلف اداروں کے ذریعے تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لائحہ عمل سے وزیرِ اعظم کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ آئندہ 4 برس میں 24 لاکھ سالانہ سے لے کر 60 لاکھ سالانہ تک نوجوانوں کو پیشہ ورانہ تربیت اور ہنر کی فراہمی سے روزگار کے مواقع حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جائے گی۔اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ نوجوانوں کی ہنر و پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی کے لیے مارکیٹ اور صنعتوں و بین الاقوامی سطح پر افرادی قوت کی کھپت کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ وزیرِ اعظم کو یہ بھی اطلاع دی گئی کہ ڈیجیٹل یوتھ حب حتمی مراحل میں ہے اور اس کا اجراء رواں ماہ میں کر دیا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے اس حوالے سے متعلقہ تمام وزارتوں اور اداروں کی کاوشوں کی تعریف کی اور ان کے کردار کو سراہا۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء احد خان چیمہ، شزہ فاطمہ خواجہ، چیئرمین وزیرِ اعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خان، چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر مختار احمد اور دیگر اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

  • آف لوڈ کیوں کیا، فیصل جاوید عدالت پہنچ گئے،توہین عدالت درخواست دائر

    آف لوڈ کیوں کیا، فیصل جاوید عدالت پہنچ گئے،توہین عدالت درخواست دائر

    پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر فیصل جاوید نے اپنے ساتھ پیش آنے والے ایک واقعے کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ فیصل جاوید کو عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے سے روکنے والے اقدامات کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

    فیصل جاوید نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ عدالت نے وزارتِ داخلہ کو حکم دیا تھا کہ ان کا نام پی این آئی ایل (پبلک نیشنل لسٹ) سے نکال دیا جائے تاکہ وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جا سکیں۔ تاہم، عدالتی حکم کے باوجود فیصل جاوید کو ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے سے روکا گیا اور انہیں طیارے سے آف لوڈ کر دیا گیا.گزشتہ روز فیصل جاوید کو پشاور ایئرپورٹ پر سعودی عرب جانے والی پرواز سے آف لوڈ کر دیا گیا تھا۔ ذرائع کے مطابق انہیں سعودی عرب کی فلائٹ سے اُتار لیا گیا، حالانکہ عدالت نے پہلے ہی وزارتِ داخلہ کو ان کا نام پی این آئی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔

    فیصل جاوید نے اپنی درخواست میں کہا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور ان کے ساتھ توہینِ عدالت کی کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔

  • موٹروے پر تیز رفتاری پر پہلی ایف آئی آر درج، ڈرائیور گرفتار

    موٹروے پر تیز رفتاری پر پہلی ایف آئی آر درج، ڈرائیور گرفتار

    لاہور: موٹروے پولیس نے تیز رفتاری پر پہلی ایف آئی آر درج کروا دی ہے، اور ڈرائیور کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔ موٹروے پولیس نے تیز رفتاری کے خلاف مقدمات درج کرنا شروع کر دیے ہیں، اور اسی سلسلے کی پہلی ایف آئی آر ملتان کے قریب پشاور کے رہائشی ایک ڈرائیور کے خلاف درج کی گئی ہے۔ ڈرائیور کو حراست میں لے کر ملتان پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق، تیز رفتاری کا واقعہ ملتان کے قریب موٹروے ایم 4 پر پیش آیا، جہاں ایک گاڑی 173 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے جا رہی تھی۔ ترجمان نے بتایا کہ غفلت اور تیز رفتار ڈرائیونگ کی دفعات کے تحت مقدمہ تھانہ بدھلہ سنت ملتان میں درج کیا گیا ہے اور ملزم، پشاور کے رہائشی ڈرائیور رحیم خان کو حراست میں لے کر مقامی پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ترجمان نے مزید کہا کہ تیز رفتاری کے خلاف مقدمات درج کرانے کا حکم آئی جی موٹروے پولیس رفعت مختار راجہ نے دیا ہے۔ آئی جی موٹروے پولیس کا کہنا ہے کہ تیز رفتاری کے باعث حادثات کی روک تھام کے لیے یہ کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی تاکہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ موٹروے پر تیز رفتاری کی بنا پر ایف آئی آر درج کی گئی ہے، اور موٹروے پولیس کی جانب سے اس اقدام کو عوامی حفاظت کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

  • لیبیا کشتی حادثہ کیس میں ملوث اہم ملزم  گرفتار

    لیبیا کشتی حادثہ کیس میں ملوث اہم ملزم گرفتار

    اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لیبیا کشتی حادثہ کیس میں ملوث ایک اہم ملزم عثمان خان کو گجرات سے گرفتار کر لیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کا نام وزارت داخلہ کی ریڈ بک میں شامل تھا اور وہ کئی اہم مقدمات میں مطلوب تھا۔

    ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ ملزم عثمان خان نے یورپ جانے کی خواہش رکھنے والے ایک شہری سے 24 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ حکام کے مطابق، ملزم کے خلاف مختلف مقدمات میں تحقیقات جاری تھیں اور وہ اس سے قبل درجنوں دیگر مقدمات میں بھی ایف آئی اے کو مطلوب تھا۔گرفتار ملزم کو ایف آئی اے کے تھانے منتقل کیا گیا ہے، جہاں اس سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ ملزم کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس سے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ 5 فروری 2025 کو لیبیا میں ایک کشتی حادثہ پیش آیا تھا جس میں 16 پاکستانی تارکین وطن ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حادثے کے نتیجے میں حکومت پاکستان اور ایف آئی اے نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا تاکہ اس انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے جو ان حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ایف آئی اے کی جانب سے ملزم کی گرفتاری کو اس کیس میں بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کے مزید ساتھیوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا۔

  • افغان دراندازی کے مزید شواہد سامنے آگئے

    افغان دراندازی کے مزید شواہد سامنے آگئے

    بلوچستان میں پاک افغان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن میں کامیابی حاصل کی ہے، جس کے دوران افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کے مزید شواہد سامنے آئے ہیں۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں افغان دہشت گردوں کی ملوثیت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، اور افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی میں شدت آئی ہے۔ مختلف دہشت گرد تنظیمیں افغان طالبان کی مکمل حمایت، سہولت کاری اور سرپرستی حاصل کر رہی ہیں۔

    5 مارچ 2025 کو بلوچستان کے علاقے ٹوبہ کاکڑی میں سیکیورٹی فورسز نے ایک کامیاب آپریشن کے دوران 4 اہم دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ان دہشت گردوں کے قبضے سے کلاشنکوفیں، دستی بم اور دیگر آتشیں اسلحہ برآمد ہوا۔ گرفتار دہشت گردوں نے دہشت گردی کی بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کا اعتراف کیا ہے۔ ایک دہشت گرد نے اپنے اعترافی بیان میں کہا کہ "میرا نام اسام الدین ہے، والد کا نام گلشاد ہے، اور میں افغانستان سے آیا ہوں۔ ہمارا نظریہ ہماری ٹریننگ ہے۔ میرے پاس دو بندوقیں، دو کلاشنکوف، ایک گرنیڈ، اور دیگر اسلحہ تھا۔ ہم افغانستان سے 3 دن پہلے پاکستان میں داخل ہوئے اور سرحدی باڑ کے ذریعے رات میں پاکستان میں گھسے تھے۔ ہمارا مقصد پشین جانا تھا۔”

    سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی میں مقامی لوگوں کا اہم کردار تھا، جنہوں نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی۔ گرفتار دہشت گردوں کو مزید تفتیش کے لیے ایک نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی افغان دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک یا گرفتار ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والے افغان دہشت گردوں میں افغان صوبے باغدیس کے گورنر کا بیٹا خارجی بدرالدین بھی شامل تھا، جو 28 فروری 2025 کو ہلاک ہوا۔ اسی طرح، 28 فروری 2025 کو ہلاک ہونے والا افغان دہشت گرد مجیب الرحمان، جو افغانستان کی حضرت معاذ بن جبل نیشنل ملٹری اکیڈمی میں کمانڈر تھا، بھی اس کارروائی کا شکار ہوا۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقامی لوگوں کا دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ لڑنا ایک خوش آئند امر ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں اضافے کی بنیادی وجہ افغانستان کی سرزمین پر پنپنے والی دہشت گرد تنظیمیں ہیں۔ افغانستان دہشت گردوں کا آماجگاہ بن چکا ہے، اور اس پر بین الاقوامی سطح پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ پاکستان میں داخل ہونے والے زیادہ تر افغان شہری یا تو مارے جاتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں۔ پاکستان کے بار بار شواہد دینے کے باوجود افغان عبوری حکومت کی خاموشی دراصل دہشت گردوں کی حمایت ہے۔

    بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن اور مقامی لوگوں کی مدد سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی یہ کامیابی ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس آپریشن نے نہ صرف دہشت گردوں کی دراندازی کو روکنے میں مدد دی بلکہ عالمی سطح پر افغانستان میں پناہ گزین دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ضرورت کو بھی اجاگر کیا۔

  • سیف علی خان اور کرینہ کپو ر میں طلاق کی پیشگوئی

    سیف علی خان اور کرینہ کپو ر میں طلاق کی پیشگوئی

    بالی وڈ کی مشہور جوڑی، سیف علی خان اور کرینہ کپور کے درمیان ڈیڑھ سال میں طلاق ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ بھارتی نجومی سشیل کمار سنگھ کی جانب سے یہ حیران کن دعویٰ کیا گیا ہے، جس نے بالی وڈ کے مداحوں کو ہلچل میں مبتلا کر دیا ہے۔

    سیف علی خان اور کرینہ کپور کی جوڑی بالی وڈ کی خوشحال جوڑیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ دونوں نے 2012 میں شادی کی تھی اور اس وقت ان کے دو بیٹے ہیں، تیمور اور جے، جو کہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہیں۔ دونوں کا تعلق ہمیشہ عوامی دلچسپی کا مرکز رہا ہے، اور ان کے ساتھ تعلقات کی خبریں میڈیا میں اکثر زیر بحث آتی ہیں۔سشیل کمار سنگھ نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں سیف اور کرینہ کے درمیان ممکنہ علیحدگی کے حوالے سے بات کی۔ ان کا کہنا تھا، "سیف اور کرینہ اگلے ڈیڑھ سال میں الگ ہو جائیں گے۔” نجومی نے یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پیشگوئی اس سے پہلے بھی 2010 میں کی گئی تھی جب انہوں نے کہا تھا کہ یہ شادی نہیں چل پائے گی کیونکہ دونوں کی کنڈلی میں ایسا ہی ظاہر ہو رہا تھا۔

    سیف علی خان پر حال ہی میں ممبئی کی اپنی رہائش گاہ میں حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں انہیں شدید چوٹیں آئیں۔ سیف کو فوراً بھارت کے لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی سرجری کی گئی۔ اس کے بعد سیف علی خان نے اپنی فیملی کی حفاظت کے لیے اضافی احتیاطی تدابیر اختیار کیں۔سشیل کمار سنگھ نے اس حملے کے حوالے سے بھی تبصرہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ "یہ اندرونی معاملہ ہو سکتا ہے اور شاید اس معاملے کو حل نہیں کیا جا سکے گا۔” نجومی نے مزید کہا کہ "سیف اور کرینہ کے درمیان طلاق کا امکان بہت زیادہ ہے۔ ان کی کنڈلی صاف بتا رہی ہے کہ دونوں کے درمیان جلد علیحدگی ہو سکتی ہے۔”

    بھارتی میڈیا میں اس پیشگوئی کے بعد سیف علی خان اور کرینہ کپور کی جانب سے اس معاملے پر کوئی بھی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ دونوں اداکاروں اور ان کے خاندان نے اس پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، اور اس حوالے سے کوئی بھی واضح بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔

    سشیل کمار سنگھ کی یہ پیشگوئی اگرچہ حیران کن اور متنازعہ ہے، لیکن بالی وڈ کے شائقین اور مداحوں میں اس نے بے حد دلچسپی پیدا کر دی ہے۔ اس وقت تک، سیف علی خان اور کرینہ کپور کے درمیان تعلقات کی حالت پر کوئی بھی حتمی بات نہیں کی جا سکتی، اور ان کے مداح اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ کیا واقعی یہ جوڑی ڈیڑھ سال میں علیحدگی کی طرف جائے گی۔