Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • شریف اللّٰہ کو کس قانون کے تحت امریکا کے سپرد کیا گیا،وزارت قانون بتا سکتا، ترجمان دفترخارجہ

    شریف اللّٰہ کو کس قانون کے تحت امریکا کے سپرد کیا گیا،وزارت قانون بتا سکتا، ترجمان دفترخارجہ

    دفتر خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم داعش کے رکن شریف اللّٰہ کو کس قانون کے تحت امریکا کے سپرد کیا گیا، اس کے بارے میں وزارتِ قانون بہتر وضاحت فراہم کر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے تحت اس کی گرفتاری عمل میں لائی اور امریکہ کے حوالے کیا، اس میں کوئی پریشانی یا خوف کی بات نہیں ہے۔

    ہفتہ وار بریفنگ کے دوران شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن و استحکام کے لیے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی پوزیشن میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم کا شریف اللّٰہ کی گرفتاری پر ردعمل ریاستی ردعمل تھا، جو ملکی سلامتی اور عالمی ذمہ داریوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تھا۔ شفقت علی خان نے افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے موقف کو واضح کیا اور کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر ہمسائیگی پر مبنی تعلقات چاہتا ہے، لیکن افغان سرزمین پر تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی ایک بڑا چیلنج ہے۔ترجمان نے بتایا کہ افغان سائیڈ نے پاک افغان سرحد پر پاکستانی حدود میں دو سرحدی چوکیوں کی تعمیر کی کوشش کی، جس پر پاکستان نے احتجاج کیا اور منع کیا۔ تاہم، افغان فورسز کی جانب سے پاکستانی حدود میں فائرنگ کی گئی جس کے باعث طورخم سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں، شفقت علی خان نے بھارتی وزیر مملکت کے آزاد کشمیر سے متعلق حالیہ بیان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے قابلِ مذمت قرار دیا۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت کی جانب سے اس نوعیت کے بیانات ایک مرتبہ پھر پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔

  • شریف اللہ افغانی کی گرفتاری،پاکستان اور امریکہ کے درمیان کامیاب انٹیلیجنس تعاون

    شریف اللہ افغانی کی گرفتاری،پاکستان اور امریکہ کے درمیان کامیاب انٹیلیجنس تعاون

    سی آئی اے کی خفیہ اطلاع پر پاکستانی انٹیلیجنس نے برق رفتاری سے شریف اللہ افغانی کو پاک-افغان سرحد کے سنگلاخ پہاڑوں سے گرفتار کر لیا۔

    چند پراپیگنڈہ باز اس گرفتاری کو مختلف رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ایک روایتی انٹیلی جنس آپریشن تھا جس میں امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر پاکستانی ایجنسی نے کارروائی کی۔ تاہم، یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ دونوں ممالک کے درمیان کامیاب تعلقات کی ایک مثال ہے؛ جن میں دیگر نمایاں سرگرمیاں شامل ہیں . جنوری 2025 میں ٹرمپ کے قریبی ساتھی گینٹری بیچ کی قیادت میں اعلی سطحی امریکی وفد نےدورہ کیا، حالیہ دنوں میں گینٹری بیچ جونیئر، جو صدر ٹرمپ کے ڈیجیٹل اثاثوں کے مشیر ہیں، نے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا،

    پاکستان کی امریکی مشاورت سے نیشنل کرپٹو کونسل کے قیام کی منصوبہ بندی ہوئی،امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کے بارے میں اپنی افتتاحی کانگریس خطاب میں تعریف کی، امریکہ کا اس بات کا اعتراف کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ امریکہ اور صدر ٹرمپ کا یہ ادراک کہ افغانستان میں چھوڑے گئے تمام امریکی اسلحہ و گولہ بارود کو جلد از جلد واپس لیا جائے؛ جو پاکستان کی دیرینہ خواہش کا اعادہ ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے حالیہ برطانیہ کے دورے پر ان کا غیر معمولی استقبال، جس کے دوران مغرب نے پاکستان کو امریکی نقطہ نظر سے دیکھا۔

    پاکستان کے دشمن، چاہے وہ داخلی ہوں یا خارجی، اس گرفتاری پر نالاں ہیں، لیکن امریکی صدر نے پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی متعدد کامیاب کارروائیوں میں سے صرف ایک ہے، جن میں دونوں ممالک افغان خطے میں امن کے لیے امریکی اسلحہ و گولہ بارود کے جلد انخلا کی امید رکھتے ہیں۔ جبکہ پاکستان نے صرف سی آئی اے کی فراہم کردہ انٹیلی جنس پر عمل کیا، امریکہ نے جلدی سے شریف اللہ افغانی کی حوالگی کو ممکن بنایا تاکہ انہیں امریکی قوانین کے تحت کاروائی ہو سکے۔ دونوں ممالک اپنے دوطرفہ تعلقات کو تیز رفتار انداز میں آگے بڑھانے کے لیے تیار ہیں۔

  • میو ہسپتال کا دورہ، وزیراعلیٰ نے ایم ایس کو ہٹا دیا

    میو ہسپتال کا دورہ، وزیراعلیٰ نے ایم ایس کو ہٹا دیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی میو ہسپتال آمد، مریضوں نے شکایات کے انبار لگا دیئے ،وزیراعلیٰ کاشدید اظہاربرہمی، میوہسپتال انتظامیہ کی سخت سرزنش،، ایم ایس میو اسپتال کو فوری عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ مخلوق رل رہی ہے،کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کیا اللہ کو جواب نہیں دینا، میوہسپتال کے حالات بہت برے ہیں۔ لوگ ہسپتال میں علاج کی توقع اور امید لیکر آتے ہیں۔ کس وارڈ میں کیا ہو رہا ہے، ہسپتال انتظامیہ کو علم ہی نہیں۔ جو عوام کے ساتھ ہورہا ہے ذمہ داروں کے اپنوں کے ساتھ ہو تو پتہ چلے۔ کسی کی بد انتظامی کی سزا عوام کو کیوں ملے۔ میو ہسپتال میں زیر علاج مریضوں اور لواحقین نے سرنج،برنولا وغیرہ تک نہ ملنے کے بارے میں بتایا۔ کارڈیالوجی وارڈ میں کیڑے مکوڑے پائے جانے کی شکایت پر وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مزید برہم ہوگئیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے رک کر انتظارِ گاہ اور راستے میں کھڑے مریضوں اور لواحقین کی شکایات سنیں۔ بیماروالدہ کیساتھ آئی بچی نے وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ماں بیمار ہے، رات بھر دوائیوں کیلئے بھاگ بھاگ کرتھک گئی ہوں۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے دورہ کے دوران ہی میو ہسپتال میں ہنگامی اجلاس طلب کرلیا۔

    میو ہسپتال کے امور کے بارے میں تفصیلی انکوائری اور تمام ذمہ داروں کی جواب طلبی کی ہدایات جاری کردیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے میڈیسن کے واجباتِ کی ادائیگی کے لئے فوری اقدامات کا حکم دیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف میو ہسپتال میں ادویات کی100 فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔ اس کے علاوہ سیکرٹری ہیلتھ کو ذمہ داروں کا تعین کرکے کارروائی کی ہدایت بھی کی۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے میو ہسپتال کی تعمیر و مرمت کا جامع پلان طلب کر لیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے سٹور میں ادویات، سرنج،برنولا اور دیگر اشیاء کی فراہمی چیک کرائی ۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے میو ہسپتال ایمرجنسی بلاک،ٹی بی اینڈ چیسٹ، آئی سی یو کارڈیالوجی اور دیگر وارڈ کا جائزہ بھی لیا۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے وارڈز میں زیر علاج مریضوں کی عیادت کی، جلد صحت یابی کی دعائیں کیں۔ وزیراعلی جگہ جگہ رک کر لوگوں کی شکایات اور مسائل سنتی رہیں۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے سندھ سے آئے میاں بیوی کی شکایت سنیں اور فوری ازالہ کی ہدایت کردی۔ وزیراعلی مریم نواز شریف نے گوجرانوالہ سے علاج کیلئے آنے والی خاتون کو گلے لگا کر تسلی دی۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے زیر علاج مریضوں اور تیمارداروں سے علاج کے بارے میں مکمل تفصیلات دریافت کیں۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے وارڈز میں مریضوں کے علاج کے عمل کا مشاہدہ کیا۔وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے ہسپتال کے مختلف وارڈزمیں صفائی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔گردے کے مرض میں مبتلا بچی کی ماں کی اپیل پر فوری ٹرانسپلانٹ کیلئے اقدامات کی ہدایت کردی۔

  • سندھ ہائیکورٹ کا  عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ کا عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر اور پی ٹی آئی کے رہنما عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کے خلاف قانونی تقاضے پورے کیے بغیر کسی بھی قسم کی کارروائی نہ کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ فیصلہ سندھ ہائیکورٹ نے اس وقت سنایا جب کلینک کی سیل کرنے کی کوششیں جاری تھیں۔

    دوران سماعت، عدالت نے بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ عارف علوی کے ڈینٹل کلینک کے خلاف کوئی کارروائی اس وقت تک نہ کرے جب تک کہ تمام قانونی تقاضے پورے نہ کر لیے جائیں۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایسے معاملات میں مکمل قانونی طریقہ کار اختیار کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ ایک رہائشی علاقے میں کمرشل سرگرمی کے حوالے سے ہے، اور اس بات پر سوال اُٹھایا کہ پولیس اس معاملے میں کیا کر رہی ہے؟ عدالت نے کہا کہ یہ صورتحال غیر واضح ہے اور پولیس کو اپنے کردار کو واضح کرنا چاہیے۔

    وکیل درخواست گزار نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس ایس بی سی اے حکام کے ساتھ مل کر کلینک کو سیل کرنے کے لیے پہنچی تھی۔ وکیل نے خدشہ ظاہر کیا کہ کلینک دوبارہ سیل کر دیا جائے گا، جس پر عدالت نے فوری طور پر کارروائی روکتے ہوئے فیصلہ سنایا۔آخرکار، عدالت نے ثمینہ علوی کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کو نمٹا دیا اور حکم دیا کہ کلینک کے خلاف کارروائی اس وقت تک نہ کی جائے جب تک کہ تمام قانونی تقاضے مکمل نہ ہو جائیں۔

  • لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس چودھری عبد العزیز مستعفی

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس چودھری عبد العزیز مستعفی

    لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جج، جسٹس چودھری عبد العزیز نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق جسٹس چودھری عبد العزیز نے ذاتی وجوہات کی بنا پر مزید کام کرنے سے معذرت کی ہے۔

    اپنے استعفے میں جسٹس چودھری عبد العزیز نے کہا کہ انہوں نے 2016 میں لاہور ہائیکورٹ کے جج کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں اور اس دوران تقریباً 40 ہزار کیسز کے فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 206 کے تحت اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔انہوں نے اپنے استعفے میں مزید بتایا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر مزید اس عہدے پر نہیں رہ سکتے اور اپنے کام میں مزید کوئی حصہ نہیں لے سکتے۔

  • جیکب آباد، کچی دیوار گرنے سے 4 افراد جاں بحق

    جیکب آباد، کچی دیوار گرنے سے 4 افراد جاں بحق

    جیکب آباد کی تحصیل ٹھل میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جس میں کچی دیوار گرنے سے ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔ یہ دل دہلا دینے والا واقعہ نصیب اللہ کھوسو کے علاقے میں پیش آیا، جہاں ایک کچی دیوار اچانک گر گئی۔

    مقامی ذرائع کے مطابق، دیوار کے گرنے سے ملبہ تلے دب کر 4 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اہل علاقہ نے فوراً ملبہ ہٹانے کی کوشش کی اور تمام لاشوں کو نکال لیا۔جاں بحق ہونے والوں کی شناخت 35 سالہ امینا، 12 سالہ حسان، 8 سالہ سعدیہ اور 6 سالہ رحمٰن کے نام سے ہوئی ہے۔ حادثہ کی خبر ملتے ہی علاقہ میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔

    یہ واقعہ علاقے میں کچی اور غیر مستحکم عمارات کی تعمیر کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے مناسب اقدامات کریں۔متاثرہ خاندان کے ساتھ گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

  • کب مارشل لا لگا،اس کا ملٹری کورٹ کیس سے کیا لنک ہے؟جسٹس جمال مندوخیل

    کب مارشل لا لگا،اس کا ملٹری کورٹ کیس سے کیا لنک ہے؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین کی سربراہی میں آئینی بینچ نے سویلینز کے ملٹری ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت کی ، لاہور بار ایسوسی ایشن اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکیل حامد خان کے دلائل دیے۔ سماعت کے آغاز میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے تحریری معروضات عدالت میں پیش کی گئیں جن میں کہا گیا کہ شہریوں کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل نہیں ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی معروضات میں کہا گیا کہ آرمی ایکٹ کی شقوں کو مختلف عدالتی فیصلوں میں درست قرار دیا جاچکا ہے، آرمی ایکٹ کی شقوں کو غیر آئینی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

    سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ شہریوں کا ملٹری ٹرائل ہو سکتا ہے یا نہیں؟ وکیل حامد خان نے جواب دیا آرمی ایکٹ مئی 1952 میں آیا، اس سے قبل پاکستان میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا ان ساری باتوں کاملٹری ٹرائل سےکیاتعلق ہے؟ ملک میں کب مارشل لا لگا،اس کا ملٹری کورٹ کیس سے کیا لنک ہے؟ آئین میں مارشل لا کی کوئی اجازت نہیں، اس پر وکیل حامد خان نے کہا مارشل لا کا کوئی نہ کوئی طریقہ نکال لیا جاتا ہے، سپریم کورٹ فیصلے سے مارشل لا کا راستہ بند ہوا۔،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آئین میں مارشل لا کا کوئی ذکر نہیں، مارشل لا ماورائے آئین اقدام ہوتا ہے۔

  • جنوبی کوریا،فوجی طیارے نے غلطی سے آبادی پر گرائے بم

    جنوبی کوریا،فوجی طیارے نے غلطی سے آبادی پر گرائے بم

    جنوبی کوریا کے شہر پوچیون میں فوجی طیارے کی مشقوں کے دوران ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں ایک فائٹر جیٹ نے غلطی سے آ بادی والے علاقے پر بم گرا دیے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جنوبی کوریا کی ایئر فورس کی مشقیں جاری تھیں۔

    ایک ایف کے-16 فائٹر جیٹ طیارے کی جانب سے آ بادی والے علاقے میں 8 بم گرائے گئے۔ ان بموں میں سے سات بم دھماکہ کرنے میں ناکام رہے، تاہم ایک بم پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے 2 کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔رپورٹس میں مزید بتایا گیا ہے کہ بم گرنے کے باعث کچھ گھروں کو نقصان پہنچا ہے اور ایک چرچ بھی متاثر ہوا ہے۔ جنوبی کوریا کی ایئر فورس نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا ہے کہ وہ متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ، نا پھٹنے والے بموں کو ناکارہ بنانے کے لیے خصوصی ٹیمیں سرگرم ہیں۔جنوبی کوریا کی ایئر فورس نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ حادثہ انسانی غلطی کی وجہ سے پیش آیا۔ ان کے حکام نے عوام سے تعاون کی اپیل کی ہے تاکہ اس کے اثرات کو جلد از جلد کم کیا جا سکے۔

    اس واقعے پر مقامی شہریوں اور بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور جنوبی کوریا کے حکام اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں کہ آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکے۔

  • دہشتگردوں کو پاکستان میں واپس کس نے بسایا؟ خواجہ آصف نے نام بتا دیئے

    دہشتگردوں کو پاکستان میں واپس کس نے بسایا؟ خواجہ آصف نے نام بتا دیئے

    اسلام آباد: وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنگین الزامات عائد کیے ہیں کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، اس وقت کے آئی ایس آئی سربراہ جنرل فیض حمید اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے دہشت گردوں کو پاکستان میں واپس بسایا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ دہشت گردوں کو واپس بسانے میں جنرل باجوہ کا بھی اہم کردار تھا، اور فیض حمید تو اس وقت گرفتار ہیں، لیکن جنرل باجوہ سے یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ انہوں نے ان دہشت گردوں کو پاکستان میں واپس کیوں بسایا؟وفاقی وزیر نے اس موقع پر عالمی سطح پر دہشت گردی کے مسئلے کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف پاکستان کا نہیں بلکہ دنیا بھر کا ہے، جسے مل کر حل کرنا ہو گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کی روک تھام میں ناکامی کو جانچنے کے لیے خیبر پختون خوا حکومت کی انکوائری ہونی چاہیے۔

    خواجہ آصف نے خیبر پختون خوا حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اس حکومت نے دہشت گردی کے خلاف کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا میں موجودہ حکومت، جو کہ بانی پی ٹی آئی کے زیر اثر ہے، صرف اقتدار کی جنگ لڑ رہی ہے اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات اٹھانے میں ناکام ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ رہے ہیں تو اس کا بھی وہی حشر ہو گا جو ماضی میں ہوا تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مفاہمت کی سیاست تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب دونوں فریقین کے درمیان تنازعات نہ ہوں، مگر جب آپ کے خلاف حملہ آور فریق موجود ہو تو اس کا مقابلہ مزاحمت کی سیاست سے کرنا چاہیے۔وزیرِ دفاع نے کہا کہ پہلے پاکستان میں خطوط بازی ہوتی تھی، لیکن اب ان خطوط کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرایا گیا ہے، اور جو ماضی میں ان خطوط کا حال ہوا تھا، ویسا ہی حال اب بھی ہو گا۔ خواجہ آصف نے مزید کہا کہ وہ کسی کو مشورہ نہیں دے رہے کیونکہ وہ خود مشورے سے بہت بلند ہیں۔

  • عون عباس بپی کی گرفتاری، سینیٹ میں اپوزیشن کا احتجاج، وزیر قانون کی وضاحت

    عون عباس بپی کی گرفتاری، سینیٹ میں اپوزیشن کا احتجاج، وزیر قانون کی وضاحت

    اسلام آباد: وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے سینیٹ اجلاس کے دوران سینیٹر عون عباس بپی کی گرفتاری پر وضاحت پیش کی اور کہا کہ عون عباس بپی کو چنکارا ہرن کے غیر قانونی شکار پر گرفتار کیا گیا ہے۔ وزیرِ قانون کے مطابق، سینیٹر عون عباس بپی کو بہاولپور کے تھانہ پی ایس دراوڑ میں ایف آئی آر کے تحت گرفتار کیا گیا۔

    وزیرِ قانون نے کہا، "سینیٹر عون عباس ہمارے کولیگ ہیں اور اپوزیشن میں ہونے کے باوجود ہم ان کی قانونی حقوق کا تحفظ کریں گے۔ ہم سینیٹر عون عباس بپی کو ہر ممکن قانون کی سہولت فراہم کریں گے۔”اس دوران سینیٹ اجلاس میں پی ٹی آئی کے اراکین ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ آج کا اجلاس یہاں ہی روک دینا چاہیے اور عون عباس بپی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے جائیں تاکہ انہیں ایوان میں پیش کیا جا سکے۔سینیٹر منظور کاکڑ نے پوائنٹ آف آرڈر نہ ملنے پر احتجاج کیا۔ اسی دوران، سینیٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف شبلی فراز نے کہا کہ "ہمارے پاس عون بپی کی گرفتاری کی ویڈیو موجود ہے، اور گرفتاری کے وقت ان کے گھر میں توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔ گرفتار کرنے والوں نے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے۔”

    اس پر وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت پیش کی کہ "ہم نے پنجاب پولیس سے تفصیلات حاصل کی ہیں اور عون عباس بپی کے خلاف غیر قانونی شکار کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ وہ غیر قانونی حراست میں نہیں ہیں، بلکہ ضابطے کی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔”وزیرِ قانون نے مزید کہا کہ عون عباس بپی کی گرفتاری کے معاملے میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا گیا ہے اور وہ ہر طرح کی قانونی سہولت کے حق دار ہیں۔