Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزارت داخلہ میں کرپشن الزامات،سیکشن افسر کی واپسی

    وزارت داخلہ میں کرپشن الزامات،سیکشن افسر کی واپسی

    اسلام آباد: وزارت داخلہ و انسداد منشیات نے سنگین بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزامات کے بعد سیکشن افسر (او ایم جی/بی ایس-18) جمال حیدر کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن واپس بھیج دیا۔

    وزارت کی جانب سے جاری کردہ ایک سرکاری میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ جمال حیدر کی خدمات "مزید درکار نہیں ہیں”، جسے اندرونی ذرائع ان کی سرگرمیوں کی جاری تحقیقات کا براہ راست نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
    اگرچہ ڈپٹی سیکرٹری (ایڈمن) عزیر احمد کے دستخط شدہ میمورنڈم میں بدعنوانی کے الزامات کا واضح طور پر ذکر نہیں کیا گیا، لیکن وزارت کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مسٹر حیدر رشوت ستانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور غیر قانونی سرگرمیوں میں سہولت کاری کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کی وجہ سے زیرِ تفتیش تھے۔

    اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے مناسب متبادل فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جو اس خالی آسامی کو پُر کرنے اور وزارت کے بلا تعطل کام کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت کی نشاندہی کرتی ہے۔ توقع ہے کہ مسٹر جمال حیدر کو تادیبی کارروائی اور متعلقہ حکام کی جانب سے مکمل تحقیقات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    یہ واقعہ سول سروس میں بدعنوانی کے خلاف حکومتی عزم کو اجاگر کرتا ہے۔ مسٹر جمال حیدر کی واپسی ایک مضبوط پیغام دیتی ہے کہ کسی بھی بدانتظامی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    رپورٹ. زبیر قصوری، اسلام آباد

  • افغان شہریوں کے لیے نئے اقدامات کا اعلان ، ویزا قوانین سخت

    افغان شہریوں کے لیے نئے اقدامات کا اعلان ، ویزا قوانین سخت

    پاکستان، جہاں تقریباً 37 لاکھ افغان شہری مقیم ہیں، نے اس آبادی کے لیے اپنی ویزا پالیسیوں میں اہم تبدیلیاں کی ہیں، جن میں سخت تقاضے اور تیسرے ممالک میں دوبارہ آبادکاری کے منتظر افراد کے لیے دوبارہ آبادکاری کے عمل کی تکمیل کے لیے ایک حتمی تاریخ شامل ہے۔

    یہ تبدیلیاں پاکستان کی سرحدوں کے اندر افغان شہریوں کی موجودگی کو منظم کرنے اور دوبارہ آبادکاری کے زیادہ موثر اور بروقت عمل کو یقینی بنانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ حکومت نے بہت سے افغان شہریوں کے طویل قیام پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ افغان شہریوں کے لیے ویزہ میں توسیع اب زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک محدود رہے گی، صرف ان لوگوں کے شریک حیات کو مستثنیٰ قرار دیا جائے گا جو پہلے ہی دوبارہ آبادکاری کے عمل میں ہیں۔ اس تبدیلی کا مقصد طویل مدتی قیام کی حوصلہ شکنی کرنا اور دوبارہ آبادکاری کے پروگرام کے فوری اختتام کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ وزارت داخلہ بروقت دوبارہ آبادکاری کی حوصلہ افزائی کے لیے ویزہ میں توسیع کی فیس میں اضافہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس میں فیس میں ایڈجسٹمنٹ کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے غیر ملکیوں کے ایکٹ (F/A) میں ترمیم کرنا شامل ہوگا۔ میڈیکل بنیادوں پر ویزا درخواستوں کا سختی سے جائزہ لینے کے لیے ایک وفاقی میڈیکل افسر مقرر کیا جائے گا، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ صرف حقیقی معاملات کو ہی توسیع دی جائے۔ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) ویزہ کی میعاد کی نگرانی اور کسی بھی خلاف ورزی کے خلاف سخت کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ 31 مارچ 2024 کی حتمی تاریخ افغانوں کی فہرست کو حتمی شکل دینے کے لیے مقرر کی گئی ہے جو دوبارہ آبادکاری کے اہل ہیں۔

    پاکستانی حکومت نے افغان شہریوں کے لیے اپنی انسانی ہمدردی کی کوششوں کے لیے بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہ کیے جانے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور سفارت خانوں سے دوبارہ آبادکاری کے عمل کو تیز کرنے کی اپیل کی ہے۔ درست پروف آف رجسٹریشن (POR) کارڈز اور ویزوں کے ساتھ اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری (ICT) میں مقیم افغان شہریوں کو 31 دسمبر 2024 تک اپنی دستاویزات رجسٹر یا دوبارہ درست کرانی ہوں گی، ورنہ انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

    8 جنوری 2025 کو سیکشن آفیسر (ویزا) آغا حاشر محمود خان کی جانب سے جاری کردہ سرکاری دستاویزات اور ایک خط میں بیان کردہ یہ پالیسی تبدیلیاں، افغان شہریوں کی موجودگی کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے حکومت کے عزم کو واضح کرتی ہیں۔ وزیر داخلہ نے بھی ان اقدامات کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔تاہم، ویزا قوانین کو سخت کرنے سے دوبارہ آبادکاری کے عمل میں تاخیر کا شکار افغان شہریوں کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، اور فیسوں میں اضافے سے کمزور خاندانوں پر مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ ان اقدامات کی کامیابی کا انحصار دوبارہ آبادکاری کی کوششوں میں شامل بین الاقوامی ایجنسیوں اور سفارت خانوں کے تعاون پر بہت زیادہ ہوگا

    رپورٹ. زبیر قصوری، اسلام آباد

  • ریڈیو پاکستان کی کرایہ پر دی جانے والی عمارات کے کرائے میں اضافہ کی ہدایت

    ریڈیو پاکستان کی کرایہ پر دی جانے والی عمارات کے کرائے میں اضافہ کی ہدایت

    اسلام آباد: ؛ قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات نے پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کو ہدایت کی ہے کہ کارپوریشن کے مالی حالات بہتر کرنے کے لیے ریڈیو پاکستان کی کرایہ پر دی جانے والی عمارات کے کرایوں کے نرخوں پر نظر ثانی کر کے اور انہیں مارکیٹ ریٹ پر لائے۔ کمیٹی نے کہا کہ کارپوریشن کی موجودی مالی حالت ادارے کو اپنا کام خوش اسلوبی سے جاری رکھنے اور اپنے ملازمین کو تنخواہوں اور پینشن کی بر وقت ادائیگی کے لیے فوری سخت اقدامات کی متقاضی ہے۔

    کمیٹی کا اجلاس ایم این اے پھلین بلوچ کی صدارت میں ہوا۔ کمیٹی نے پاکستان ٹیلی ویژن سے طلب کی گئی معلومات کی عدم فراہمی پر برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی کا موقف تھا کہ قائمہ کمیٹیاں پارلیمنٹ کی توسیع ہیں اور انہیں حکومتی وزارتوں اور ان کی ماتحت اداروں کی پارلیمانی نگرانی کی ذمہ داری تفویص ہے اور حکومت کے کسی بھی محکمے/تنظیم سے معلومات حاصل کرنے کا استحقاق حاصل ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ کمیٹی سے معلومات تک رسائی کو روکنے یا چھپانے کی کسی بھی کوشش کے سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ کمیٹی نے اپنے آئندہ اجلاس سے پہلے پی ٹی وی سے مانگی گئی ضروری معلومات جمع کرانے کی ہدایات جاری کی۔ وزیر اطلاعات و نشریات نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ ان کی وزارت کمیٹی اور اس کے اراکین قابل احترام ہیں اور کمیٹی سے معلومات کو کبھی مخفی نہیں رکھے گی۔ انہوں نے کمیٹی کو پی ٹی وی کو مزید متحرک اور خود کفیل بنانے کے لیے شروع کیے گئے حالیہ اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
    کمیٹی نے بلوچستان اور ملک کے سرحدی علاقوں میں ریاست مخالف بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے وضع کی گئی حکمت عملی کا جائزہ لیا اور اس پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے بلوچستان اور سرحدی علاقوں میں سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی کورج مزید بڑھانے پر زور دیا اور ترقیاتی شعبے میں حکومت کی کامیابیوں کو اجاگر کرنے اور عوامی خصوصی طور پر نوجوانوں کی ملکی ترقی میں ان کا کردار اجاگر کرنے پر زور دیا۔

    پرائم ٹائم اور کھیلوں کے میچوں کے دوران ٹی وی چینلز کی جانب سے مقررہ حد سے زیادہ اشتہارات چلانے کا نوٹس لیتے ہوئے کمیٹی نے پیمرا کو ہدایت کی کہ وہ حوالے سے اپنے ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنائے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام ٹی وی چینلز کو قواعد و ضوابط کی پاسداری کے لیے ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے۔

    اجلاس میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کرن عمران ڈار، آسیہ ناز تنولی، رومینہ خورشید عالم، سحر کامران، رانا انصار، محمد معظم علی خان، مولانا عبدالغفور حیدری، جبکہ مہتاب اکبر راشدی اور وقاص اکرم نے زوم کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔ وزارت اطلاعات کی نمائندگی ڈائریکٹر جنرل (IP)، ڈائریکٹر جنرل (PBC) اور وزارت کے ماتحت محکموں کے دیگر افسران نے کی۔

  • پی آئی اے کی تین ماہ میں نجکاری، تحفظات دور،سرمایہ کاروں کی زیادہ دلچسپی کی توقع

    پی آئی اے کی تین ماہ میں نجکاری، تحفظات دور،سرمایہ کاروں کی زیادہ دلچسپی کی توقع

    پی آئی اے کی ساکھ بحال، یورپ اور برطانیہ کے بعد امریکہ اور مشرق بعید کیلئے فلائٹس
    اسلام آباد،وفاقی وزیر نجکاری، سرمایہ کاری بورڈ اور مواصلات عبدالعلیم خان نے پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ادارے کی پرائیویٹائزیشن میں دلچسپی رکھنے والی پارٹیوں کے تمام تحفظات دور کر دیے گئے ہیں اور حکومت نے پی آئی اے کی فروخت کے لئے خواہشمند پارٹیوں کے مطابق تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی وزیر نجکاری نے مزید کہا کہ پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کو زیادہ سے زیادہ پُر کشش بنانے کے لئے نیا لائحہ عمل دے رہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ تین ماہ میں اس نجکاری کے تمام مراحل طے کر لیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ پی آئی اے کی پرائیویٹائزیشن کے عمل میں انویسٹرز کی طرف سے بہت بہتر اظہار دلچسپی آنے کی توقع ہے کیونکہ یورپ کے لئے پی آئی اے کی فلائٹس کے آغاز سے نجکاری کا ماحول مزید سازگار ہوگا، حالیہ اقدامات کے باعث یہ قومی ادارہ دوبارہ منافع بخش ہونے جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان نے بتایا کہ یورپ کے بعد آئندہ تین ماہ میں برطانیہ کے لئے بھی پی آئی اے کی فلائٹس شروع ہونے جا رہی ہیں، 24کروڑ پاکستانیوں کی اولین ترجیح پی آئی اے سے سفر کرنا ہے،اسی طرح یورپ اور برطانیہ کے بعد اگلے مرحلے میں امریکہ اور مشرق بعید کے لئے فلائٹس کھولی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ انشاء اللہ مثبت اقدامات کے ساتھ پی آئی اے کی ساکھ کو بحال کر کے اس ادارے کو واپس اپنے عروج پر پہنچائیں گے۔

    وفاقی وزیر نجکاری عبدالعلیم خان کا مزید کہنا تھا کہ اس امر میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کے ادارے میں آج بھی اتنا دم خم موجود ہے کہ اسے دوبارہ منافع بخش بنایا جا سکے۔انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو پہلے سے کہیں بہتر اور قابل عمل ہونے کی توقع کا اظہار کیا جس سے پرائیویٹائزیشن کے عمل پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

  • اسلام آباد: پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس، وزیر اعظم کی ہدایات پر سخت اقدامات کا فیصلہ

    اسلام آباد: پرائس کنٹرول کمیٹی کا اجلاس، وزیر اعظم کی ہدایات پر سخت اقدامات کا فیصلہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر ڈاکٹر طارق فضل چودھری کی زیر صدارت وزارت داخلہ میں پرائس کنٹرول کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر حنیف عباسی ،سیکرٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد، اور آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران وفاقی وزیر کو اسلام آباد کے تمام سستے بازاروں میں قیمتوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم کے احکامات کی روشنی میں قیمتوں کے کنٹرول کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عملدرآمد کا فیصلہ کیا گیا۔ ڈاکٹر طارق فضل چودھری نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو مستحکم رکھنے اور مصنوعی مہنگائی کی روک تھام کے لیے سخت مانیٹرنگ کی جائے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ اجلاس میں ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف فوری کارروائی کا بھی فیصلہ کیا گیا تاکہ شہریوں کو معیاری اور سستی اشیاء کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے

  • ریاست ایک قدم آگے بڑھے گی تو پی ٹی آئی دو قدم آگے بڑھنے کو تیار ہے،جیند اکبر

    ریاست ایک قدم آگے بڑھے گی تو پی ٹی آئی دو قدم آگے بڑھنے کو تیار ہے،جیند اکبر

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر نے اعتراف کیا ہے کہ پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے رابطے موجود ہیں اور ان رابطوں پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ یہ ہمارے اپنے ادارے ہیں۔

    اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جنید اکبر نے کہا کہ عوام اور اداروں کے درمیان فاصلے نہیں بڑھنے چاہئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کے ساتھ ٹکراؤ نہیں چاہتے لیکن ہمیں سیاسی سرگرمیاں انجام دینے سے روکا جارہا ہے اور ہمارے کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ وہ کبھی نہیں کہیں گے کہ پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ سے کوئی رابطے نہیں ہیں۔ ان کے مطابق بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریقوں سے رابطے ہوتے رہتے ہیں اور ان رابطوں پر کوئی شرمندگی نہیں کیونکہ یہ ملک کے اپنے ہی ادارے ہیں۔ جنید اکبر نے کہا کہ پی ٹی آئی کی کسی بھی ریاستی ادارے سے لڑائی نہیں ہے، تاہم اگر ریاست ایک قدم آگے بڑھے گی تو پی ٹی آئی دو قدم آگے بڑھنے کو تیار ہے، مگر سب کو آئین کی حدود میں رہنا ہوگا۔

    انہوں نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے صوبائی حکومت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال افغان پالیسی اور خارجہ پالیسی کی وجہ سے خراب ہوئی ہے اور دہشت گردی کا مسئلہ براہ راست افغانستان سے جڑا ہوا ہے۔

  • سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ ، پی ٹی آئی کے 25 رہنما،سوشل میڈیا اراکین طلب

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈہ ، پی ٹی آئی کے 25 رہنما،سوشل میڈیا اراکین طلب

    سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والے پی ٹی آئی کے مزید 15 افراد کو طلبی کے نوٹس جاری کر دیئے گئے

    وفاقی حکومت کی قائم کردہ جے آئی ٹی نے سوشل میڈیا پر منفی پروپگینڈا کرنے پر پی ٹی آئی کے مزید 15 افراد کو طلب کرلیا ہے، طلبی کے مزید نوٹس جن افراد کو جاری کئے گئے ان میں گوہر علی خان، سلمان اکرم راجا، رؤف حسن، سید فردوس شمیم نقوی، محمد خالد خورشید خان، میاں محمد اسلم اقبال، محمد حماد اظہر ،عون عباس، عالیہ حمزہ ملک، محمد شہباز شبیر، وقاص اکرم، کنول شوزاب، تیمور سلیم خان، اسد قیصر اور شاہ فرمان شامل ہیں،ذرائع کے مطابق جے آئی ٹی کے پاس ان افراد سے پوچھ گچھ کے لیے کافی شواہد موجود ہیں، جے آئی ٹی ان افراد کیخلاف ریاست مخالف پروپگنڈے کی تحقیقات کرے گی، ان تمام افراد کو بذریعہ نوٹس 7 مارچ 2025ء دوپہر 12 بجے جے آئی ٹی کے سامنے طلب کیا گیا ہے،

    یاد رہے کہ جے آئی ٹی بذریعہ نوٹیفیکیشن https://F.No.8/9/2024-FIA/، الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ 2016 کے سیکشن 30 کے تحت تشکیل دی گئی تھی، جے آئی ٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس، اسلام آباد کی سربراہی میں تحقیقات کر رہی ہے، جے آئی ٹی کا مقصد قانون کے مطابق ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی تجویز کرنا ہے، نوٹسیز میں ان تمام افراد کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اس معاملے پر اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں،

    قبل ازیں وفاقی حکومت کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سوشل میڈیا ٹیم کے 10 ارکان کو سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈے کے الزامات کے تحت طلب کرلیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، ملزمان کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں اور انہیں کل دوپہر 12 بجے تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ تحقیقات وفاقی حکومت کی ہدایت پر آئی جی اسلام آباد کی سربراہی میں کی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق، جن افراد کو طلب کیا گیا ہے ان میں آصف رشید،محمد ارشد،صبغت اللہ ورک،اظہر مشوانی،محمد نعمان افضل،جبران الیاس،سید سلمان رضا زیدی،ذلفی بخاری،موسیٰ ورک،علی حسنین ملک شامل ہیں

    ذرائع کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی ان افراد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، پوسٹس اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیوں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے الزامات درست ہیں یا نہیں۔ اگر ان افراد پر الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی قسم کے منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

    دوسری جانب، پی ٹی آئی رہنماؤں نے حکومت کے اس اقدام کو آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ حکومت اپوزیشن کی آواز دبانے کے لیے سوشل میڈیا کارکنان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ پارٹی نے اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی کا عندیہ بھی دیا ہے۔

  • اختیار ولی وزیر اعظم شہباز شریف کا کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا مقرر

    اختیار ولی وزیر اعظم شہباز شریف کا کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا مقرر

    مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کے رہنما اختیار ولی کو وزیر اعظم شہباز شریف کا کوآرڈینیٹر برائے خیبر پختونخوا مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے وزیر اعظم آفس نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق اختیار ولی کی بطور کوآرڈینیٹر تعیناتی اعزازی بنیادوں پر کی گئی ہے اور وہ بغیر کسی تنخواہ کے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔یاد رہے کہ اختیار ولی نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس ملاقات میں وزیراعظم نے اختیار ولی کو خیبرپختونخوا میں پارٹی معاملات بہتر بنانے اور عوامی رابطے کو مزید مضبوط کرنے کی ہدایت کی تھی۔

    ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران اختیار ولی نے پرویز خٹک کو کابینہ میں شامل کرنے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اختیار ولی نے وزیر اعظم کے سامنے اس بات پر اعتراض کیا کہ انہیں کابینہ میں شامل کرنا یا نہ کرنا ایک الگ معاملہ تھا، لیکن جس امیدوار کو شکست دے کر وہ ایوان میں پہنچے ہیں، اسے کابینہ میں شامل کرنا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے تھا۔اس تقرری کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا میں مزید متحرک ہو گی اور عوامی سطح پر پارٹی کے معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔

  • لاہور. مرکزی مسلم لیگ کا صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر

    لاہور. مرکزی مسلم لیگ کا صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے کہا ہے کہ خدمت کا رمضان مہم کے تحت ملک بھر میں ہزاروں سحرو افطار دسترخوان لگائے گئے ہیں. انتخابات کے دنوں میں عوام کے ساتھ رابطہ قائم کرنا اور پھر انہیں فراموش کر دینا مفادات کی سیاست کہلاتا ہے، ہم عوام کی حقیقی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور ہر مرحلے پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں.مولانا حامد الحق حقانی کے قاتلوں کو گرفتار کیا جائے.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں صحافیوں کے اعزاز میں افطار ڈنر کی تقریب کے موقع پر بات چیت کرتے ہوئےکیا. اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ خالد نیک، ترجمان تابش قیوم بھی موجود تھے. خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ہمارا نعرہ خدمت کی سیاست کا تھا.ہم مفادات کی سیاست کی بجائے عوام کی خدمت کر رہے ہیں. سیاسی جماعتیں انتخابات کے دنوں میں عوام سے رابطے کرتی ہیں ہمارا عوام کے ساتھ ہمیشہ رابطہ رہتا ہے.مولانا حامد الحق حقانی پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہیں. دہشت گردی کے خلاف سب ایک ہیں. مرکزی مسلم لیگ نے ہمیشہ اتحاد امت کی بات کی ہے. احتجاج اور فسادمیں فرق ہونا چاہئے . احتجاج جمہوری حق لیکن احتجاج کے نام پر ملک میں انتشار اور جلاؤ گھیراؤ کی اجازت نہیں ہونی چاہئے.

    خالد مسعود سندھو کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ رمضان المبارک کے بعد بھی فلاحی سرگرمیاں جاری رکھے گی. خدمت کی سیاست کے منشور سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، حکومتیں عوام کو ریلیف دینے کے دعوے تو کر رہی ہیں لیکن حقیقت میں عوام کو ریلیف نہیں مل رہا.مہنگائی بڑھ چکی.غریب عوام پر ٹیکس لگائے جا رہے. بجلی، گیس کے بلوں میں اضافے اور روزگار کا نہ ہونا، ہر سطح پر شہری پریشان ہیں. اسی لئے مرکزی مسلم لیگ نے ملک بھر میں سحر و افطار دسترخوان لگانے کا منصوبہ بنایاتا کہ شہریوں کو سحری و افطاری میں آسانی ہو.

  • افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہا،عرفان صدیقی

    افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ پاکستان کیخلاف استعمال ہو رہا،عرفان صدیقی

    مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سینیٹر عرفان صدیقی نے پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے افغانستان میں اپنے اسلحے کے ذخائر چھوڑ دیے ہیں، جو اب پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ یہ اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جا رہا ہے، جس سے ہمارے ملک کے اندر دہشت گردی کی سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اور امریکا کے مشترکہ مفادات ہیں، اور جب اس حوالے سے بات کی جائے تو ہمیں امریکی کوششوں کو سراہنا چاہیے تھا۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا تھا، جو ایک مثبت قدم تھا۔سینیٹر عرفان صدیقی نے اے پی ایس (آرمی پبلک اسکول) کے سانحے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پورا ملک ایک تھا، اور تمام سیاسی جماعتوں نے مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہمیں نیشنل ایکشن پلان کی تمام شقوں پر عمل درآمد کرنا چاہیے، جسے اس وقت کے قومی اتحاد کے دوران منظور کیا گیا تھا، مگر بدقسمتی سے اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ن لیگ کے رہنما نے کہا کہ ہمارے 80 ہزار شہری دہشت گردی کے ہاتھوں اپنی جانوں سے گئے، اور ہمیں اس دکھ کا ہمیشہ سامنا رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے سیاسی مفادات کو ایک طرف رکھ کر قومی مفاد میں ایک ہو جائیں، تو دہشت گردی کے خلاف ہماری کامیابیاں اور بھی بڑھ سکتی ہیں۔سینیٹر عرفان صدیقی نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ہمیں ایک نئے عزم کے ساتھ کام کرنا ہوگا اور تمام سیاسی قوتوں کو اس جنگ میں حصہ ڈالنا چاہیے تاکہ پاکستان ایک محفوظ اور ترقی یافتہ ملک بن سکے