Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • صوبوں کے تعاون سے ہی ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا. وزیراعظم

    صوبوں کے تعاون سے ہی ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا. وزیراعظم

    وزیرِاعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت انسدادِ پولیو مہم کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر میں پولیو کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے اقدامات اور مہم کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    وزیرِاعظم نے کہا کہ فروری 2025 میں پولیو کیسز میں منفی رجحان انسداد پولیو مہم کے مؤثر ہونے کی ایک واضح علامت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہیں اور اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہے ہیں۔”

    وزیرِاعظم نے پولیو کیسز کی بروقت شناخت اور ان میں منفی رجحان کے لیے تمام صوبوں کی انتظامیہ کی کاوشوں کی پزیرائی کی۔ انہوں نے کہا کہ "پولیو کیسز میں بتدریج کمی تمام صوبوں کی انتظامیہ کی انتھک محنت کی بدولت ممکن ہوئی ہے، اور وفاق اور صوبوں کے تعاون سے ہی ملک سے پولیو کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔”اس موقع پر وزیرِاعظم نے پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی فورسز کے تعاون کو بھی سراہا، جنہوں نے اس مہم کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیرِاعظم نے پولیو کے تمام ڈیٹا کو ڈیجیٹائز کرنے اور سخت مانیٹرنگ کی ہدایت بھی کی تاکہ مہم کے تمام پہلوؤں کی مستقل نگرانی کی جا سکے۔

    اجلاس میں وزیراعظم کو انسدادِ پولیو مہم کی اب تک کی پیشرفت کے حوالے سے تفصیلاً آگاہ کیا گیا۔ اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ تمام صوبوں میں انسدادِ پولیو مہم مکمل تحریک کے ساتھ جاری ہے، اور فروری 2025 کی مہم میں 42.5 ملین بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ اس مہم میں ملک کے پولیو سے متاثرہ اضلاع میں بچوں کی تقریبا 90 فیصد آبادی کو پولیو کے قطرے پلائے گئے ہیں۔

    وزیرِاعظم کو بتایا گیا کہ سال 2025 کے آغاز سے اب تک 6 پولیو کیسز سامنے آئے ہیں، اور فروری 2025 کی انسدادِ پولیو مہم کے آغاز سے اب تک پولیو سے متاثرہ اضلاع خصوصاً بلوچستان، سندھ اور جنوبی خیبر پختونخوا میں پولیو کیسز میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    اس بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ اس سال کے پہلے 6 ماہ میں تین پولیو مہم پلان کا حصہ ہوں گی، جن میں سے پہلی مہم فروری میں ہو چکی ہے، جبکہ دیگر دو مہمیں اپریل اور مئی کے مہینوں میں ہوں گی۔وزیرِاعظم کو یہ بھی بتایا گیا کہ آئی ٹی ڈیش بورڈ کے ذریعے پولیو مہم کے تمام پہلوؤں کی مستقل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ اس مہم کی کامیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔

    اجلاس میں وزیرِمملکت ڈاکٹر مختار بھرت، سینیٹر عائشہ رضا فاروق اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شریک ہوئے اور پولیو کے خاتمے کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا عہد کیا۔

  • امن کے قیام کیلئے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم

    امن کے قیام کیلئے امریکہ کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھیں گے۔ وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان میں انسداد دہشتگردی کے لئے پاکستان کی کوششوں کے اعتراف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بیان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ انسداد دہشتگردی کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے میں فعال کردار نبھایا ہے، جنہیں دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا۔وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان دہشتگردی کی ہر قسم کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لئے اپنے عزم کو مضبوطی سے قائم رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے بہادر شہریوں اور سپاہیوں سمیت 80 ہزار جانوں کی قربانی دی ہے، اور ان قربانیوں کے باوجود اس لعنت کے خاتمے کے لئے پاکستان کا عزم غیر متزلزل ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان عالمی امن اور استحکام کے قیام کے لئے امریکہ کے ساتھ اپنے تعاون کو مزید مستحکم اور قریبی بنائے گا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی کوششیں عالمی سطح پر سراہا جانے والی ہیں اور پاکستان اپنے عزم کو مزید مستحکم کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

  • امریکی صدرکا دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں پر پاکستان سے اظہار تشکر

    امریکی صدرکا دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں پر پاکستان سے اظہار تشکر

    امریکی صدرکا دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں پر پاکستان سے اظہار تشکر۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائیوں میں پاکستان کے تعاون کو سراہا ہے اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ افغانستان میں اہم ترین دہشت گردوں کو پکڑنے میں پاکستان کا تعاون قابلِ ستائش ہے، جو عالمی امن کے لئے اہم قدم ہے۔امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم اپریل سے ان ممالک پر جوابی ٹیکس لگائے گا جو امریکہ پر ٹیکس لگائیں گے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ امریکی معیشت کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ضروری تھا اور اس سے امریکی کاروباروں کو فائدہ پہنچے گا۔امریکہ نے کینیڈا کو مزید سبسڈیز دینے سے انکار کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی طرف سے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ کینیڈا سے تجارتی تعلقات کے بارے میں امریکہ کی پالیسی میں مزید تبدیلیاں آئیں گی۔

    امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان اداروں کو ٹیرف عائد کرے گا جو امریکا میں مصنوعات کی تیاری نہیں کریں گے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس فیصلے کا مقصد امریکہ میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ملکی صنعت کو فروغ دینا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایک نئے سنہری دور میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکہ کی معیشت میں نمایاں ترقی دیکھنے کو ملے گی اور عوام کو روزگار کے نئے مواقع ملیں گے۔صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین سے اپیل کی کہ وہ ملک کی فلاح کے لئے ایک ساتھ کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافات کے باوجود امریکہ کے مفاد میں ایک مشترکہ کوشش کی ضرورت ہے۔امریکہ میں معدنیات کی پیداوار کو بڑھانے کے لیے صدر ٹرمپ نے تاریخی اقدامات کا اعلان کیا۔ ان اقدامات سے نہ صرف امریکہ کی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کا اثر و رسوخ بھی مضبوط ہوگا۔امریکہ نے 50 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو گولڈ کارڈ دینے کا اعلان کیا ہے، جو کہ گرین کارڈ سے بہتر ہوگا۔ اس پروگرام کے تحت سرمایہ کاروں کو امریکہ میں رہائش اور کاروبار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔امریکہ کے صدر نے کہا کہ گولڈ کارڈ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم سے ملک کا قرضہ اتارنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، اس رقم کو مہنگائی کم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس کریک ڈاؤن کے تحت ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن کو امریکہ سے بے دخل کیا جا رہا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس سے اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا خطاب کیا، جس میں انہوں نے اپنے منصوبوں کا اعلان کیا اور امریکی عوام سے وعدہ کیا کہ ان کی حکومت ملک کی معیشت کو مزید مستحکم کرنے کے لیے کوشاں رہے گی۔

  • بنوں،فتنہ الخوارج کے 8 دہشت گرد جہنم واصل،12 شہری شہید،32 زخمی

    بنوں،فتنہ الخوارج کے 8 دہشت گرد جہنم واصل،12 شہری شہید،32 زخمی

    فتنہ الخوارج کے 8 دہشت گرد جہنم واصل۔۔۔سیکیورٹی فورسز کی بڑی کاروائی

    گزشتہ روز افطار کے بعد دہشتگردوں نے بنوں کینٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔سیکیورٹی فورسز کی بر وقت کاروائی سے بنوں کینٹ کے باہر گھبراہٹ میں دہشت گردوں نے دو بارود سے لدی ہوئی گاڑیاں بنوں کینٹ کی دیوار سے ٹکرا دی۔8 فتنہ الخوارج کومختلف انٹری پوائنٹس پر موجود چوکس سکیورٹی عملہ نے جہنم واصل کر دیا جبکہ باقی دہشت گردوں کو محصور کر لیا گیا ،فتنہ الخوارج کے خارجیوں کا ماہ رمضان میں افطار کے وقت معصوم شہریوں اور مسجد کو نشانہ بنانا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان خارجیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں

    دہشت گردوں کی بارود سے بھری گاڑیوں کے دھماکے سے قریبی مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور گھر کی چھت منہد ہو گئی ،معصوم شہریوں کی شہادتوں کی تعداد 12 جبکہ زخمیوں کی تعداد 32 ہو چکی ہے،3 معصوم شہری مسجد میں جبکہ باقی بارودی دھماکے کے باعث عمارت منہدم ہونے سے شہید ہوئے ہیں،

    مصدقہ سیکیورٹی اطلاعات کے مطابق فتنہ الخوارج کے باقی ماندا خارجی دہشت گردوں کا فون پر افغانستان سے رابطہ تھا ،یہ وہ درندہ صفت جہنمی کتے ہیں جنکا اسلام سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں۔ انکا کام صرف دہشت پھیلانا، انسانیت کا قتلِ عام کرنا اور فتنہ برپا کرنا ہے۔لعنت ہو ایسے فتنہ پروروں پر جو معصوم بچوں، انسانوں اور خواتین تک کو قتل کرنے سے باز نہیں آتے۔ جس طرح پہلے اس ناسور کا خاتمہ کیا تھا اب دوبارہ اسکو جڑ سے ختم کریں گے انشااللہ،پاک فوج اور عوام ملکر خارجی دہشت گردی کا صفایا کرنے کیلئے پرعزم ہیں اور پاکستان کی پاک سرزمین سے فتنہ الخوارج کا ناپاک وجود ہمیشہ کیلئے ختم کردیں

  • لاہور،پولیس مقابلے کے بعد "بھائی ڈاکو” گرفتار

    لاہور،پولیس مقابلے کے بعد "بھائی ڈاکو” گرفتار

    لاہور کے علاقے نشتر کالونی میں پولیس نے ایک مبینہ مقابلے میں دو ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ گلو کوٹ کے قریب اس وقت پیش آیا جب پولیس اہلکار گشت پر تھے۔

    پولیس نے دوران گشت دو مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا، تاہم ان موٹر سائیکل سواروں نے رکنے کی بجائے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں دونوں ڈاکوؤں کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے دونوں ملزمان سگے بھائی ہیں اور ان کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل اور اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ زخمی ڈاکوؤں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

    پولیس نے اس واقعہ کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے اور ملزمان کے دیگر جرائم اور ان کے نیٹ ورک کی چھان بین کی جا رہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی علاقے میں جرائم کی روک تھام کے لیے ضروری تھی اور اس میں پولیس کی فوری کارروائی نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔

  • 136 ملین ڈالر  پاکستان کودیئے مگر اسکول بنے ہی نہیں،اسکاٹ پیری

    136 ملین ڈالر پاکستان کودیئے مگر اسکول بنے ہی نہیں،اسکاٹ پیری

    امریکی ری پبلکن رکن کانگریس اسکاٹ پیری نے کہا ہے کہ امریکا نے پاکستان کو اسکول بنانے کی مد میں 136 ملین ڈالر دیے تھے، جو کبھی تعمیر نہیں کیے گئے۔ یہ بیان اسکاٹ پیری نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کی بریفنگ کے دوران دیا۔

    اسکاٹ پیری نے مزید کہا کہ یو ایس ایڈ نے پچھلے 20 سالوں کے دوران پاکستان کے تعلیمی پروگراموں پر تقریباً 840 ملین ڈالر خرچ کیے ہیں، جن میں سے 136 ملین ڈالر پاکستان میں 120 اسکولوں کی تعمیر کے لیے مختص کیے گئے تھے۔ لیکن، پیری کا کہنا تھا کہ یہ اسکول کبھی نہیں بنے۔رپورٹس کے مطابق، اسکاٹ پیری نے اس دعوے کے حوالے سے ایوان میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا، جس پر مختلف حلقوں میں سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ الزام عائد کیا کہ پاکستان میں تعلیمی شعبے میں کی جانے والی امریکی امداد کا مقصد صحیح طور پر استعمال نہیں کیا گیا۔

    اس بیان نے پاکستان میں امریکی امداد کی افادیت اور اس کے استعمال پر دوبارہ بحث کا آغاز کر دیا ہےپاکستانی حکام نے اس پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا، تاہم امریکی امداد کے حوالے سے ماضی میں بھی اس قسم کی شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ امدادی رقم کا صحیح استعمال نہیں ہو پاتا۔یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ دنیا بھر میں امدادی فنڈز کے استعمال پر نظر رکھنے کی اہمیت اور ضرورت بڑھ گئی ہے تاکہ امداد کا فائدہ مستحق افراد تک پہنچ سکے۔

  • قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    قلات خود کش حملہ،خاتون کیسے بمبار بنی؟

    بلوچستان کے ضلع قلات میں ہونے والے حالیہ خودکش حملے میں ملوث لڑکی کی شناخت گنجاتون عرف بارمش کے طور پر ہوئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، وہ گوادر کے رہائشی میران بخش کی بیٹی تھی اور چھ بھائیوں اور تین بہنوں کے ساتھ ایک بڑے اور معاشی طور پر کمزور خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کا والد مزدور تھا، لیکن نشے کا عادی ہونے کے بعد اس نے اپنے گھر اور بچوں پر توجہ دینا چھوڑ دی، جس کی وجہ سے خاندان شدید غربت کا شکار ہو گیا۔

    گنجاتون کی کہانی شہری بلوچ، ماہل بلوچ اور عدیلہ بلوچ سے مختلف نہیں ہے۔مشکل حالات کے باوجود، گنجاتون نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور کالج میں اچھے نمبر حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ اس کے بعد اس نے گوادر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، جہاں اس کی ملاقات کامران ولد حسن سے ہوئی، جو کہ تعلیم کے شعبے کا طالب علم تھا اور مبینہ طور پر بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) سے بھی وابستہ تھا۔یونیورسٹی میں دونوں کے درمیان دوستی بڑھی، اور وہ اکثر کلاسز سے غیر حاضر رہنے لگے۔ نتیجتاً، گنجاتون نے پہلے ہی سمسٹر میں تعلیمی مسائل کا سامنا کیا اور آخرکار یونیورسٹی چھوڑ دی، جبکہ کامران نے بھی تیسرے سمسٹر میں تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔

    کامران نے گنجاتون کی کئی ذاتی ویڈیوز خفیہ طور پر ریکارڈ کیں اور بعد میں اسے بلیک میل کرنا شروع کر دیا۔ اس دباؤ کے نتیجے میں، گنجاتون کو مجبور کیا گیا کہ وہ بلوچ یکجہتی کونسل (BYC) کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہو۔ وہ جلد ہی بلوچ یکجہتی تحریک کا حصہ بن گئی اور مبینہ طور پر اس کے نظریاتی اثر میں آ گئی۔ذرائع کے مطابق، کامران کی بلیک میلنگ کا سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوا۔ بعد میں اس نے گنجاتون کو BLA کے ایک کمانڈر کے حوالے کر دیا، جس نے مبینہ طور پر اس کا جنسی استحصال کیا۔ اطلاعات کے مطابق، کامران کو اس "سہولت کاری” کے عوض 1 لاکھ روپے کی رقم دی گئی۔بار بار بلیک میلنگ اور استحصال کے باعث گنجاتون شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو گئی۔ اس ذہنی کیفیت میں، اسے شدت پسند تنظیم کی طرف سے خودکش حملہ آور بننے کی ترغیب دی گئی۔ مبینہ طور پر، اسے یقین دلایا گیا کہ یہ راستہ اس کی نجات کا ذریعہ بن سکتا ہے اور وہ اپنی زندگی کو ایک "قومی مقصد” کے لیے قربان کر کے عزت حاصل کر سکتی ہے۔

    آخرکار، گنجاتون نے شدت پسند تنظیم کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے قلات میں خودکش حملہ کیا، جس میں متعدد جانیں ضائع ہوئیں۔ یہ واقعہ بلوچستان میں جاری عسکریت پسندی، شدت پسندی اور نوجوانوں کے استحصال کے ایک اور تاریک پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔

    قلات خود کُش بمبار کا نام گنجاتون ولد میراں بخش ہے۔ گوادر کی رہنے والی ہے۔ باپ نشے کا عادی، فیملی بڑی اور ایک قومیت پسند لڑکے سے "دوستی”۔ پھر وہی سٹوری: نا زیبا ویڈیوز، جنسی بلیک میل، بلوچ یکجہتی کے راجی مچی میں ذہن سازی اور پھر کمانڈر کے ہاتھوں جنسی استحصال۔ آخر میں وطن پر قربانی میں نجات کی بہانہ!

    balochistan

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،آن لائن جوا پر پابندی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ،آن لائن جوا پر پابندی کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کے تحت شہری کی جانب سے آن لائن جوا پر پابندی اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس راجا انعام امین منہاس نے دائر درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر عمران رشید عدالت میں پیش ہوئے، درخواست پر سماعت کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت، پی ٹی اے، ایف آئی اے، اسٹیٹ بینک، اور پیمرا کو نوٹس جاری کر دیا.دوران سماعت بیرسٹر عمران رشید نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ کیسے جوا کے ایپس ڈیجیٹل والیٹس کا استعمال کر کے بینکاری قوانین کو نظر انداز کرتے ہیں، جس کے ذریعے منی لانڈرنگ اور مالی دھوکہ دہی کی جاتی ہے۔عمران رشید نے آئینی، قانونی اور اسلامی ممانعتوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے درخواست کی کہ ان ایپس کو بند کر دیا جائے، ان کے سوشل میڈیا پر اشتہارات کو روکا جائے اور سخت مالی کنٹرولز نافذ کیے جائیں۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ غیر قانونی جوئے کے کاروبار میں ڈیجیٹل ادائیگیوں میں سہولت فراہم کرنے والوں کے کام میں بھی مداخلت کریں، آن لائن گیمبلنگ ایپس ادائیگیوں کے پراسیس کے لیے بلاواسطہ طریقے استعمال کرتی ہیں، گیمبلنگ اکاؤنٹ میں رقم لگانے کے لیے ایپس نامعلوم تھرڈ پارٹی کامقامی اکاؤنٹ نمبر دیتی ہیں، گیمبلنگ ایپس رقم وصولی کے بعد اسے صارف کے اکاؤنٹ میں کریڈٹ کرتی ہیں تاکہ وہ جوا کھیل سکے،جوئے کی رقم جیتنے پر بھی اسی طریقے سے صارف کے اکاؤنٹ میں ادائیگی کر دی جاتی ہے، یہ سارا عمل بینکنگ کی پابندیوں اور لیگل سکروٹنی سے بچ کر منی لانڈرنگ اور ٹیکس چوری میں بھی مدد کرتا ہے، پیکا ایکٹ کی سیکشن 37 پی ٹی اے کو غیر قانونی گیمبلنگ پلیٹ فارمز کو بلاک کرنے کا اختیار دیتا ہے، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی اس متعلق اپنی اتھارٹی منوانے میں ناکام رہی ہے، اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ غیر قانونی ٹرانزیکشنز کی سہولت فراہم کرنے والوں پر بھاری جرمانے عائد کرتا ہے اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان فنانشل ایکو سسٹم کو ریگولیٹ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

    اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ آن لائن گیمبلنگ ایپس اور ان کی ایڈورٹائزمنٹ پر پاکستان میں پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو گیمبلنگ ٹرانزیکشنز روکنے کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر فنانشل کنٹرول کا حکم دیا جائے،درخواست میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے کو تمام گیمبلنگ ویب سائٹس، ایپس اور پاکستان میں ڈیجیٹل ایڈورٹائزمنٹ کی پروموشن روکنے اور ایف آئی اے کو گیمبلنگ ٹرانزیکشنز میں ملوث افراد اور کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا حکم دیا جائے۔
    11_WP_806-2025_638766146774562305

  • ڈمپر ڈرائیور کو لوٹنے کی کوشش ناکام،ٹکر سے ایک ڈاکو ہلاک

    ڈمپر ڈرائیور کو لوٹنے کی کوشش ناکام،ٹکر سے ایک ڈاکو ہلاک

    کراچی میں ڈاکوؤں کو ڈمپر کے ڈرائیور کو لوٹنا مہنگا پڑگیا

    کراچی کے علاقے منگھوپیر میں ڈاکوؤں کو ایک ڈمپر کے ڈرائیور کو لوٹنا مہنگا پڑگیا۔ ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق، یہ واقعہ منگھوپیر کے علاقے میں پیش آیا جہاں موٹرسائیکل پر سوار آٹھ ملزمان نے ڈمپر ڈرائیور کو لوٹنے کی کوشش کی۔ایس ایس پی ویسٹ نے مزید بتایا کہ ملزمان نے ڈمپر کو روکنے کی کوشش کی لیکن ڈرائیور نے مزاحمت کی اور گاڑی کی ٹکر مار کر ایک ملزم کو ہلاک کر دیا۔ پولیس کے مطابق، اس واقعہ کے بعد دیگر ملزمان موقع سے فرار ہو گئے ہیں۔پولیس حکام نے بتایا کہ فرار ہونے والے ملزمان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اور ملزمان کی شناخت کے لیے تفتیش کا عمل تیز کردیا گیا ہے۔

    یہ واقعہ کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں ڈاکو عوامی جگہوں پر بڑھتی ہوئی وارداتوں میں ملوث ہیں۔ پولیس کی جانب سے ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

  • ترجمان ہر محکمہ کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لائیں، شرجیل میمن

    ترجمان ہر محکمہ کی کارکردگی کو عوام کے سامنے لائیں، شرجیل میمن

    کراچی: حکومت سندھ کے ترجمانوں کا ایک اہم اجلاس سینئر وزیر اطلاعات و نشریات شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں صوبے کے مختلف ترجمانوں اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔

    اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں بشمول ہیر سوہو، نادر نبیل گبول، سمعتا افضال سید، سعدیہ جاوید، بلند خان جونیجو، سکھدیو آسارداس ہمنانی، مخدوم فخر زمان، عبدالواحد ہالیپوٹو اور تحسین عابدی نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، ڈائریکٹر اطلاعات محمد یوسف کابورو اور سارنگ لطیف چانڈیو بھی موجود تھے۔اجلاس میں سندھ حکومت کے مختلف اہم منصوبوں کی تشہیر پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ ان منصوبوں میں پیپلز ہاؤسنگ اسکیم، این آئی وی وی ڈی، ایس آئی یو ٹی، پیپلز بس سروس، پنک بس سروس، شاہراہ بھٹو، آٹزم سینٹرز اور دیگر حکومت سندھ کے فلاحی منصوبے شامل ہیں۔

    اجلاس کے دوران سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں عوام کی صحت اور بنیادی سہولیات پر سب سے زیادہ کام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ کی جانب سے اس وقت 21 لاکھ لوگوں کو گھر بنا کر دیئے جا رہے ہیں، جو ایک بڑا فلاحی اقدام ہے۔شرجیل انعام میمن نے یہ بھی بتایا کہ بجلی کا بل ادا کرنے کی سکت نہ رکھنے والوں کو حکومت سندھ کی جانب سے سولر سسٹم فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو توانائی کے بحران سے بچایا جا سکے۔سینئر وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سندھ چاہتی ہے کہ ہر محکمہ کی کارکردگی اور فلاحی منصوبوں کی تفصیل عوام کے سامنے لائی جائے تاکہ عوام کو حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی خدمات اور سہولتوں کا بہتر انداز میں علم ہو۔انہوں نے تمام ترجمانوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنے متعلقہ محکموں کے منصوبوں کی بھرپور تشہیر کریں تاکہ عوام کو ان کی اہمیت اور فوائد کا پتا چل سکے۔

    اجلاس کے اختتام پر شرجیل انعام میمن نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ حکومت سندھ اپنی عوام کی فلاح کے لیے ہمیشہ کام کر رہی ہے اور ترجمانوں کی مدد سے ان منصوبوں کی کامیابی کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔