Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مرکزی مسلم لیگ کا بنوں میں دہشت گردی کی کاروائی ناکام بنانے پر سیکورٹی فورسزکو خراج تحسین

    مرکزی مسلم لیگ کا بنوں میں دہشت گردی کی کاروائی ناکام بنانے پر سیکورٹی فورسزکو خراج تحسین

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے بنوں کینٹ میں سیکورٹی فورسز کی جانب سے دہشت گردوں کی کارروائی کو ناکام بنانے پر انہیں زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز نے جرات اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا، جو کہ ایک بڑی کامیابی ہے۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر نے اس افسوسناک واقعے میں دھماکے کے نتیجے میں ایک گھر کی چھت گرنے سے جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا تفریق سخت اور بھرپور کارروائی ہونی چاہیے تاکہ ملک میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔

    خالد مسعود سندھو نے مزید کہا کہ پاکستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے تمام محب وطن قوتوں کو یکجا ہونا ہوگا . انہوں نے سیکورٹی فورسز کے بہادر جوانوں کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ملک و قوم کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جانی چاہئیں تاکہ پاکستان کو ایک محفوظ اور مستحکم ملک بنایا جا سکے

  • بنوں کینٹ پر  فتنہ الخوارج کا دہشت گردی کا حملہ ناکام

    بنوں کینٹ پر فتنہ الخوارج کا دہشت گردی کا حملہ ناکام

    بنوں کینٹ پر فتنہ الخوارج کا دہشت گردی کا حملہ ناکام بنا دیا گیا

    آج افطار کے بعد دہشتگردوں نے نے بنوں کینٹ میں داخل ہونے کی ناکام کوشش کی، سیکیورٹی ذرائع کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خارجیوں کے بنوں کینٹ میں داخلے کی کوشش ناکام بنا دی، سیکیورٹی فورسز کی بر وقت کاروائی سے بنوں کینٹ کے باہر گھبراہٹ میں دہشت گردوں نے دو بارود سے لدی ہوئی گاڑیاں بنوں کینٹ کی دیوار سے ٹکرا دی، چھ خوارج کومختلف انٹری پوائنٹس پر موجود چوکس سکیورٹی عملہ نے جہنم واصل کر دیا اور باقی ماندا دہشت گردوں کو محصور کر لیا گیا ہے ، دہشت گردوں کی بارود سے بھری گاڑیوں کے دھماکے سے قریبی مسجد کو بھی نقصان پہنچا اور قریب گھر کی چھت منہمد ہونے سے معصوم لوگوں کے زخمی اور شہادتوں کی بھی اطلاعات ہیں، سیکیورٹی فورسز کا تمام خارجیوں کے صفایا تک کلیرنیس آپریشن جاری رہے گا،

  • چیمپئنز ٹرافی، بھارت نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی

    چیمپئنز ٹرافی، بھارت نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی

    دبئی: چیمپئنز ٹرافی 2025 کے پہلے سیمی فائنل میں بھارت نے آسٹریلیا کو 4 وکٹوں سے شکست دے کر فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ دبئی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا گیا یہ میچ ایک سنسنی خیز مقابلہ بن گیا۔

    آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور اپنی اننگز کا آغاز کیا۔ آسٹریلوی ٹیم نے اننگز کے آخری اوور میں 264 رنز کا مجموعہ تشکیل دیا، جس کے بعد بھارت کے سامنے 265 رنز کا ہدف تھا۔ بھارت نے اس ہدف کو 49 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر مکمل کرلیا اور فائنل میں جگہ بنائی۔آسٹریلوی ٹیم کی جانب سے کپتان اسٹیو اسمتھ نے شاندار 73 رنز کی اننگز کھیلی، جبکہ ایلکس کیری نے 61 رنز اسکور کیے۔ اوپنر ٹریوس ہیڈ 39 رنز پر رن آؤٹ ہوئے اور باقی کھلاڑی بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔بھارت کے باؤلرز نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ محمد شامی نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ جدیجا اور ورون چکرورتھی نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

    جواب میں بھارت نے 265 رنز کا ہدف 49 ویں اوور میں 6 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔ ویرات کوہلی نے شاندار 84 رنز کی اننگز کھیلی اور مین آف دی میچ قرار پائے۔ ان کے علاوہ شریاس ایئر نے 45 رنز اسکور کیے، جبکہ ہاردیک پانڈیا اور روہت شرما نے 28، 28 رنز بنائے۔ اکشر پٹیل نے 27 رنز بنائے اور شبمن گل 8 رنز کے سکور پر آؤٹ ہوئے۔آسٹریلیا کے باؤلرز ایڈم زمپا اور ناتھن ایلس نے 2، 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن وہ بھارت کے اس مجموعے کو روکنے میں ناکام رہے۔

    بھارت کے لیے یہ پانچویں بار چیمپئنز ٹرافی کے سیمی فائنل میں پہنچنے کا موقع تھا۔ 2002 اور 2013 میں بھارت چیمپئنز ٹرافی کا فاتح رہا، جبکہ 2000 اور 2017 میں اسے فائنل میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کا دوسرا سیمی فائنل کل لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان کھیلا جائے گا۔ فائنل اتوار 9 مارچ کو دبئی میں کھیلا جائے گا، جہاں بھارت کے حریف کا فیصلہ ہوگا۔

  • پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے زرعی خسارے کا سامنا کیوں کر رہا؟ قائمہ کمیٹی میں سوال

    پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے زرعی خسارے کا سامنا کیوں کر رہا؟ قائمہ کمیٹی میں سوال

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید مسرور احسن کی زیر صدارت منعقد ہوا۔کمیٹی اجلاس میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ان کے زرعی و خوراک کے شعبے پر مرتب ہونے والے ممکنہ اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    سینیٹر سید مسرور احسن نے کمیٹی اجلاس میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کی خوراک کی صنعت کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ نجی شعبہ بارہا ان خطرات پر اپنے تحفظات کا اظہار کر رہا ہے، لیکن حکومت تاحال ان اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئی مؤثر پالیسی بنانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے اس امر پر بھی روشنی ڈالی کہ فصلوں کی پیداوار میں مسلسل کمی ایک تشویشناک رجحان ہے، اور اس کے تدارک کے لیے جدید زرعی تحقیق اور مؤثر حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر قابو پانے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے نئے اور مؤثر اقدامات خوراک کی صنعت کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔

    چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک زرعی پیداوار میں نمایاں برتری رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے زرعی خسارے کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوراک کی پیداوار میں کم از کم خودکفالت کو یقینی بنانے کے لیے بیجوں کے معیار میں بہتری ناگزیر ہے۔

    سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی نے اجلاس کو ترقیاتی منصوبہ جات (PSDP 2024-25) کے حوالے سے تفصیلات فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت کے تحت اس وقت 26 منصوبے زیر عمل ہیں، جن میں سے 11 پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (PARC) سے متعلق ہیں۔ ان منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 9.9 بلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ منصوبوں کی مجموعی لاگت 201 بلین روپے تک متوقع ہے۔

    سیکرٹری نے مزید بتایا کہ وزارت مستقبل میں زرعی شعبے میں آئی ٹی اور تکنیکی جدت کو فروغ دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ اس ضمن میں، کسانوں کو بجلی کی لاگت میں کمی کے لیے ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ تاہم، انہوں نے تسلیم کیا کہ ان منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار سست روی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے۔ اس کے باوجود، وزارت نے عزم ظاہر کیا کہ جون 2025 تک اپنے اہداف مکمل کر لیے جائیں گے۔کمیٹی اجلاس میں آگاہ کیا گیا کہ پنڈ دادن خان میں ایک ماڈل فارم قائم کیا جا چکا ہے، جبکہ بیجوں کی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید سیڈ ہیچری کے قیام کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔مالی سال 2025-26 کے بجٹ تجاویز پر تبادلہ خیال کے دوران، حکام نے بتایا کہ آئندہ سال کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ کرنا، برآمدات کو فروغ دینا اور زرعی شعبے میں نجی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔

    سینیٹر سید مسرور احسن نے پھلوں اور سبزیوں کی صنعت سے متعلق نئی اتھارٹی کے قیام پر نجی شعبے کے خدشات کو اجاگر کیا۔ اس پر وزارت نے وضاحت کی کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے ذریعے اس اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا، جو کہ اس شعبے کی ترقی کے لیے ایک اہم اقدام ثابت ہوگا۔کمیٹی اجلاس میں سینیٹرز دانش کمار، پونجو بھیل، عبدالواسع، دوست محمد خان، سیکرٹری نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ وسیم اجمل، ایم ڈی پاسکو سرفراز درانی، چیئرمین پی اے آر سی غلام محمد علی سمیت متعلقہ محکموں کے دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  • بیٹا خود مغوی بن کر والد سے تاوان مانگنے لگا،پولیس کی کاروائی،گرفتار

    بیٹا خود مغوی بن کر والد سے تاوان مانگنے لگا،پولیس کی کاروائی،گرفتار

    لاہور پولیس نے ایک پیچیدہ اغوا برائے تاوان کیس کو محض 12 گھنٹوں میں حل کر کے اصل ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    پولیس کو شہری عبدالرحمان کی جانب سے بیٹے کے اغواء کی درخواست موصول ہوئی، جس پر ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے فوری طور پر نوٹس لیا اور ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی۔خصوصی ٹیم نے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے فوری مقدمہ درج کیا اور ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔ چند ہی گھنٹوں میں پولیس نے کامیابی حاصل کرتے ہوئے اغوا کے اس معاملے کا ڈراپ سین کر دیا۔تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ شہری کے بیٹے نے خود ہی اپنے اغوا کا ڈرامہ رچایا تھا۔ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق مغوی نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر گھر والوں سے دو کروڑ روپے ہتھیانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ملزمان نے گھر والوں سے مغوی کی بازیابی کے لیے دو کروڑ روپے کا مطالبہ کیا۔ تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا اور دونوں کو گرفتار کر لیا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے اصل ملزمان کو گرفتار کیا اور انہیں انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے ایس پی صدر ڈاکٹر غیور احمد، ڈی ایس پی ٹاؤن شب کاشف گجر، ایس ایچ او قائداعظم انڈسٹریل ایریا اور پوری ٹیم کی شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے ان کی تعریف کی۔

    یہ کاروائی لاہور پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور جدید ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کا واضح ثبوت ہے، جس کی بدولت محض چند گھنٹوں میں کیس حل کر لیا.

  • بھارت کا پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے کیلیے  انکت سریواستو  کا جال بےنقاب

    بھارت کا پاکستان کیخلاف پروپیگنڈے کیلیے انکت سریواستو کا جال بےنقاب

    بھارتی حکومت بلا شک و شبہ مختلف ممالک میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے، اور اس حوالے سے ماضی میں متعدد رپورٹس سامنے آ چکی ہیں۔ ان رپورٹس میں کینیڈا میں سکھ رہنما کے قتل سے لے کر امریکا میں قتل کی سازش تک شامل ہیں۔ ان تمام واقعات نے بھارتی حکومت کے غیر قانونی اقدامات کو بے نقاب کیا ہے۔

    گلوبل نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی کاروباری گروپ "سریواستو گروپ” کا ہیڈکوارٹر کینیڈا میں واقع ہے۔ یہ گروپ نئی دہلی کے ایک خاندان کے زیر انتظام ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ اس کے دفاتر بیلجیم، سوئٹزرلینڈ اور کینیڈا میں ہیں۔ سریواستو گروپ بنیادی طور پر اخباروں اور تیل و گیس کی صنعت کے کاروبار سے منسلک ہے۔کینیڈین قومی سلامتی کے حکام کے مطابق، سریواستو گروپ اور اس کے سینئر عہدیدار خفیہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ 2009 میں بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سریواستو گروپ کے نائب چیئرمین انکت سریواستو کو کینیڈا کے سیاستدانوں پر اثر انداز ہونے کی ہدایت دی تھی۔ کینیڈین سیکیورٹی انٹیلی جنس سروس (سی ایس آئی ایس) کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی خفیہ ایجنسی "را” نے انکت سریواستو کو کینیڈا کے سیاستدانوں کو مالی امداد اور پروپیگنڈا مواد فراہم کرنے کی ہدایت دی تھی تاکہ وہ بھارت کے حق میں ان کی حمایت حاصل کر سکیں۔

    سی ایس آئی ایس کی 2015 کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سریواستو گروپ پر الزام تھا کہ وہ جعلی ویب سائٹس چلا رہا ہے جو نیوز آؤٹ لیٹس کی طرح نظر آتی ہیں۔ ان ویب سائٹس کا مقصد بھارت کے حق میں مواد شائع کرنا اور پاکستان کے خلاف مواد پھیلانا تھا۔ کینیڈا کے امیگریشن حکام نے تشویش ظاہر کی کہ انکت سریواستو کو کینیڈا آنے سے روکنا ضروری ہے، کیونکہ اسے "کینیڈا کے لیے سنگین خطرہ” قرار دیا گیا تھا۔کینیڈین حکام کے مطابق، سریواستو گروپ کی ویب سائٹس جعلی خبریں پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہی تھیں۔ ان ویب سائٹس کا مقصد کینیڈا کی عوامی رائے اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونا تھا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب کینیڈا بھارتی حکومت کی جانب سے غیر ملکی مداخلت اور انفارمیشن جنگ کے الزامات کا سامنا کر رہا تھا۔سی ایس آئی ایس اور کینیڈا کے دیگر حکام کا کہنا ہے کہ سریواستو گروپ نے یورپ میں بھی بھارت کے حق میں مہمات چلائیں۔ کینیڈا میں سریواستو گروپ کے خلاف الزامات سامنے آنے کے بعد اس کی ویب سائٹ بند ہو گئی اور اس کے دفاتر بھی خالی ہو گئے۔ انکت سریواستو کو کینیڈا کے حکام نے کینیڈا میں مستقل رہائش دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انکت سریواستو کی غیر قانونی سرگرمیاں دوسرے ممالک میں بھارتی حکومت کی کھلی مداخلت کو ظاہر کرتی ہیں۔ ان سرگرمیوں کے شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی باشندے غیر ملکی سرزمین پر غیر قانونی کاموں میں ملوث ہیں، جو کہ بھارتی حکومت کی جانب سے کی جانے والی مداخلت کا حصہ ہیں۔

    یہ تمام واقعات اور رپورٹس بھارتی حکومت کی غیر قانونی سرگرمیوں کو ظاہر کرتے ہیں اور عالمی سطح پر بھارتی مداخلت کے شواہد فراہم کرتے ہیں۔ بھارت کی جانب سے دوسرے ممالک میں کی جانے والی یہ سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور ان کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔

  • ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، سب مل کر کام کریں، وزیراعظم

    ایک دوسرے کی ٹانگیں نہ کھینچیں، سب مل کر کام کریں، وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 2029ء تک ملکی برآمدات 60 ارب ڈالر تک بڑھانے، 2035ء کے وژن کے تحت ملک کو ایک ٹریلین کی معیشت بنانے اور قرضوں سے جان چھڑانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم 9 مئی والے نہیں 28 مئی والے ہیں، ملک سے ضد، نفرت، گالم گلوچ اور احتجاج کی سیاست کو دفن کرنا ہو گا، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ملکی ترقی کیلئے کام کرنا ہو گا، موجودہ حکومت کی ایک سالہ مدت میں برآمدات، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مہنگائی کی شرح 28 فیصد سے 1.6 فیصد پر آ گئی ہے، حکومت کے خلاف کرپشن کا ایک بھی کیس بھی سامنے نہیں آیا، مثبت معاشی اشاریوں کا عالمی ادارے بھی اعتراف کر رہے ہیں، رمضان پیکیج کے تحت 40 لاکھ خاندانوں میں پانچ، پانچ ہزار روپے تقسیم کئے جائیں گے، غزہ میں جنگ بندی کے باوجود امداد اور خوراک کو بند کرنے سے بڑا کوئی ظلم ہو نہیں سکتا، دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر جاری نہیں رہ سکتا، پاکستان کو اقوام عالم میں کھویا ہوا مقام دلائیں گے اور اپنے قائد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو حکومت کے ایک سال مکمل ہونے پر وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ کابینہ کے خصوصی اجلاس کی کارروائی نشر اور کابینہ کی ایک سال کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کی گئی۔ اجلاس میں متعلقہ وزراء نے اپنی اپنی وزارت اور دیگر شعبوں کی ایک سالہ کارکردگی پر رپورٹ پیش کی۔ خصوصی اجلاس میں زندگی کے مختلف شعبوں بشمول کاروباری حضرات، چیمبرز کے نمائندگان، صحافیوں، خواتین، طالب علموں اور دیگر شعبوں سے شہریوں کو مدعو کیا گیا تاکہ وہ اجلاس کا خود مشاہدہ کریں اور پچھلے ایک سال میں حکومتی اقدامات اور مستقبل کے لائحہ عمل سے آگاہ ہوں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا یہ خصوصی اجلاس ہے، تمام شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہیں، موجودہ حکومت کو برسر اقتدار آئے ایک سال ہو گیا ہے، 4 مارچ 2024ء کو ہم نے حکومت سنبھالی تھی، امید ہے کہ نئے وزراء کی شمولیت سے مجھے، حکومت اور پاکستان کے عوام کو ان کی محنت، لگن اور جذبے سے فائدہ پہنچے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے کی برکات سے ہم فیض یاب ہو رہے ہیں، یہ مہینہ ہمیں اپنے آپ کو انسانیت کی خدمت اور مفلوک الحال لوگوں کیلئے وقف کرنے کا درس دیتا ہے، اسی جذبہ کے تحت گذشتہ سال رمضان المبارک میں سات ارب روپے کا پیکیج دیا گیا تھا جسے بڑھا کر رواں سال 20 ارب روپے کر دیا گیا ہے، چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 40 لاکھ خاندانوں میں ڈیجیٹل والٹ سے پانچ، پانچ ہزار روپے شفاف طریقہ سے تقسیم کئے جائیں گے، اس ڈیجیٹل نظام کی وجہ سے نہ تو لائنیں لگیں گی اور نہ یوٹیلٹی سٹورز کے بارے میں غلط خبریں آئیں گی، نہ خوردبرد اور اشیاء کے معیار کے بارے میں خبریں اخبارات کی زینت بنیں گی۔

    وزیراعظم نے کہا کہ یہ ماہ مقدس اس بات کا بھی متقاضی ہے کہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا جائے، غزہ میں 50 ہزار سے زائد افراد شہید کئے جا چکے ہیں، کشمیر کی وادی کشمیریوں کے خون سے سرخ ہو چکی ہے، آج غزہ میں جنگ بندی کے باوجود رمضان المبارک میں امداد اور خوراک کو بند کرنے سے بڑا کوئی ظلم ہو نہیں سکتا، اس پر بھرپور آواز اٹھانے کی ضرورت ہے، انشاء اﷲ رمضان المبارک کی برکات سے کشمیری اور فلسطینی عوام کو ان کا حق جلد ملے گا۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال پہلے ہماری معیشت ہچکولے کھا رہی تھی اور ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکی تھی، ہم نے بروقت اقدامات سے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، جب آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ہو رہے تھے تو آئی ایم ایف کو خطوط لکھے جا رہے تھے کہ پاکستان کیلئے پروگرام منظور نہ کیا جائے، اس سے بڑی ملک دشمنی کوئی نہیں ہو سکتی، آج ہم نہ صرف ڈیفالٹ سے نکل آئے ہیں بلکہ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور تمام عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے میکرو اقتصادی اشاریے استحکام کی سمت میں گامزن ہیں اور اب معیشت کی ترقی کا سفر جاری ہے، ہم نے یکسوئی کے ساتھ محنت کرنی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ حکومت ملک و قوم کیلئے بہتری کیلئے کوشاں ہے، اپنے قائد میاں محمد نواز شریف اور پی ڈی ایم کے دور کے اپنے اتحادیوں کے بھی شکرگزار ہیں۔ اس کے علاوہ موجودہ اتحادیوں صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری سالک حسین، ایم کیو ایم، باب پارٹی، ڈاکٹر عبدالمالک کی جماعت اور استحکام پاکستان پارٹی کے سربراہ عبدالعلیم خان کی ہمیں بھرپور حمایت حاصل ہے، ان کے تعاون سے ہم نے مشکل ترین مراحل عبور کئے ہیں، ہر مشکل میں ساتھ دینے پر اتحادیوں کے مشکور ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہماری کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے اور یہ وفاقی وزرا ، وزراء مملکت، معاونین خصوصی اور سیکرٹریز کی دن رات کاوش کا نتیجہ ہے، ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مکمل یکسوئی کے ساتھ کسی ذاتی ایجنڈا سے بالاتر ہو کر تمام ادارے متحد ہو کر ملکی ترقی کیلئے کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کو مکمل کرنے کیلئے وفاقی وزراء اور سرکاری افسران نے دن رات محنت کی ہے، آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت پانچ ارب ڈالر کے انتظام کیلئے دوست ممالک نے ہمارے ساتھ بھرپور تعاون کیا ہے، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے بھی معاشی بہتری کیلئے بھرپور کردار ادا کیا ہے اور ہم نے اس سلسلہ میں دوست ممالک کے دورے بھی کئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ کچھ دن پہلے ہی سعودی عرب نے ہماری 1.2 ارب ڈالر کی تیل کی سہولت میں توسیع کی ہے، یو اے ای کے صدر محمد بن زید النہیان نے بھی 2 ارب ڈالر رول اوور کر دیئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2018ء میں اسحاق ڈار جب وزیر خزانہ تھے تو اس وقت افراط زر کی شرح 3.1 فیصد تھی، اب وہ نائب وزیراعظم ہیں اور افراط زر کی شرح 1.6 فیصد پر آ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھرپور محنت اور ٹیم ورک ہی وہ فارمولا ہے جس سے ہم ملک کو ترقی کے راستے پر ڈال سکتے ہیں، ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی بجائے ملکی ترقی کیلئے مل کر کام کرنا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر جو ایک سال پہلے چار ارب ڈالر تھے اب 12 ارب ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، ایک سال پہلے مہنگائی کی شرح 28 فیصد تھی جو اب کم ہو کر 1.6 فیصد پر آ گئی ہے، اسی طرح پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آ گیا ہے، اس میں مزید کمی کی گنجائش ہے، برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے، مہنگائی کم ہو رہی ہے، آئی ٹی برآمدات اور ترسیلات زر میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ ایک سال میں اپوزیشن کوئی جھوٹا سکینڈل بھی حکومت کے خلاف سامنے نہیں لا سکی، اس سے بڑی ہماری اور کامیابی کیا ہو سکتی ہے، ایک سال میں حکومت کے خلاف کرپشن کا ایک کیس بھی سامنے نہیں آیا، اس پر اﷲ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کریں وہ کام ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر میں اب مزید تیزی آئے گی، تبھی اڑان پاکستان بنے گا جب ملک سے خوارج کا مکمل خاتمہ ہو گا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوان قیام امن کیلئے ناقابل فراموش قربانیاں دے رہے ہیں، ہمارے جوان اور افسران ہر روز جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں دہشت گردی کا خاتمہ ختم ہو گیا تھا، سب جانتے ہیں کہ دہشت گردی نے دوبارہ کیسے سر اٹھایا، کس نے دہشت گردوں کو واپس آنے کی اجازت دی، وہ کون تھا جو دہشت گردوں کو واپس لے کر آیا، سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور جوان جانیں ہتھیلی پر رکھ کر دہشت گردوں کا صفایا کر رہے ہیں، وہ اپنے بچوں کو تو یتیم کر جاتے ہیں لیکن لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا لیتے ہیں، یہ قربانیوں کی ایک لازوال داستان ہے، دہشت گردی کا خاتمہ کئے بغیر ترقی و خوشحالی کا سفر جاری نہیں رہ سکتا، دہشت گردی کا خاتمہ ہو گا تو ملک میں سرمایہ کاری آئے گی، پاکستان اقوام عالم میں کھویا ہوا مقام حاصل کرکے رہے گا، یہ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں، ہمیں دن رات محنت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی آمدنی بڑھانا ہو گی، سرمایہ کاری ملک میں لانا ہو گی اور قرضوں سے جان چھڑانا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی پاکستان کی ترقی، عزت اور وقار کو آگے لے کر جائے گی، دہشت گردی کے ساتھ گالم گلوچ کا جو کلچر پیدا کر دیا گیا ہے اس زہر کو بھی ختم کرنا انتہائی ضروری ہے، سابق وزیراعظم نواز شریف نے جس طرح 2018 ء میں پاکستان کو ایک ابھرتی ہوئی معیشت بنا دیا تھا انہی کی قیادت میں پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا، پورے نظام کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے، ای گورننس کو فروغ دیا جا رہا ہے، ایف بی آر کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کرنے کے لئے دن رات کام ہو رہا ہے، کرپشن میں کمی لانے کے لئے ہم بھرپور کام کر رہے ہیں، صنعتکاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے، کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنے کے لئے بھی کاوشیں جاری ہیں، اگر ملک کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنا ہے تو بہانے اور جادو ٹونے نہیں چلیں گے، صرف اور صرف کام کرنا ہو گا، اسی طرح آئی ٹی اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں ترقی کر سکتے ہیں، 9 مئی کے حملوں کے حصے دار ہم نہیں، ہم 28 مئی والے ہیں، جب قائد نواز شریف نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا تھا، چین کی شراکت داری سے پہلا خلاء باز خلاء میں جائے گا، یہ لمبا اور کٹھن سفر ہے لیکن گھبرانے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں میں محصولات کے چار ہزار ارب روپے کے کیسز زیر التواء ہیں، انہیں نمٹانے کے لئے تیزی کے ساتھ کام جاری ہے، سندھ ہائی کورٹ نے ایک حکم امتناعی خارج کیا ہے، اسی دن 23 ارب روپے خزانے میں جمع ہو گئے، اسی طرح سرکاری ملکیتی اداروں میں سالانہ 850 ارب روپے ڈوب رہے ہیں، اس سوراخ کو بھی بند کرنا ہوگا، بجلی کے شعبے میں گردشی قرضے کو کم کرنے کی ضرورت ہے، خسارے کے شکار اداروں کا خسارہ ختم کئے بغیر ترقی کا خواب ادھورا رہے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2029 ء میں جب موجودہ حکومت کی پانچ سالہ مدت پوری ہو گی تو پاکستان اپنے پائوں پر بڑی مضبوطی سے کھڑا ہو چکا ہو گا، ہم نے 2029 ء تک ملکی برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک بڑھانا ہے اور 2035ء کے وژن کے تحت پاکستان کو ایک ٹریلین اکانومی کا حامل ملک بنانا ہے، آئی ٹی کو برآمدات میں سرفہرست لانا ہو گا اور سب سے بڑھ کر ضد، نفرت اور احتجاج کو دفن کرنا ہو گا اور مفاہمت، پیار اور محبت کو فروغ دینا ہو گا، اسی میں ہماری بقاء ہے۔

    وزیراعظم نے کہا کہ اقوام عالم میں پاکستان کو اس کا کھویا ہوا مقام دوبارہ دلائیں گے، پاکستان ایک عظیم ملک بنے گا اور اپنے قائد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کو ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔

    اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا تو کئی چیلنجز درپیش تھے، اپریل 2022ء میں ملکی معیشت عالمی درجہ بندی میں 47 ویں پوزیشن پر آ گئی تھی، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان نے کامیابیاں حاصل کیں ، ایس سی او کا کامیاب انعقاد پاکستان کی بڑی کامیابی ہے، بچیوں کی تعلیم سے متعلق اسلام آباد میں کانفرنس منعقد ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے اقدامات کر رہا ہے جبکہ ملک معدنیات سےمالامال، استفادہ کے لئے خصوصی کمیٹی کام کر رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ ضرب عضب کی طرح عزم استحکام پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان غزہ کے مظلوم بہن بھائیوں کو انسانی ہمدردی امداد فراہم کر رہا ہے جو جاری رہے گی۔

    وفاقی وزیرخزانہ ومحصولات سینیٹرمحمداورنگزیب نے کہاہے کہ ملکی معیشت مستحکم ہوچکی ہے،استحکام کے ساتھ ساتھ مطلوبہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات پرعملدرآمد ہورہاہے، رائٹ سائزنگ کے حوالہ سے 43وزارتوں اور 400منسلکہ اداروں میں اقدامات کاسلسلہ جاری ہے، 10وزارتوں پرتجاویز آچکی ہیں جن کی کابینہ نے توثیق بھی کرلی ہے، مالی سال کے اختتام تک تمام وزارتوں اورمنسلکہ اداروں سے متعلق فیصلے کئے جائیں گے، دسمبرکے اختتام تک جی ڈی پی کے تناسب سے محصولات کی شرح کے حوالہ سے آئی ایم ایف کے مقررہ ہدف سے زیادہ ہدف حاصل کرلیں گے ، اگلے چاربرسوں میں جی ڈی پی کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح کو13.5فیصدکی سطح پرلے جائیں گے۔

    وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ہم نے مشکل حالات میں حکومت سنبھالی، حکومتی اقدامات سے تمام اداروں میں ترقی کا عمل جاری ہے، مثبت تنقید کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں انتشار پھیلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر قسم کی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ اڑان پاکستان منصوبے پر پوری دلچسپی سے کام کیا جا رہا ہے، سی پیک منصوبہ کی وجہ سے ملک میں بیرونی سرمایہ کاری آئی، سی پیک کے دوسرا مرحلے پر کام شروع ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ احسن اقبال نے کہا کہ 2018 میں سی پیک کے منصوبے کو شدید نقصان پہنچایا گیا، 2018 میں اگر ہمیں نہ روکا جاتا تو آج ہم بڑی معیشتوں میں شامل ہوتے۔

    وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ عوام کو سستی بجلی کی فراہمی ترجیح ہے، توانائی کے شعبہ میں اصلاحات کی جا رہی ہیں، درآمدی کوئلہ کی بجائے ملکی کوئلہ سے بجلی پیدا کی جائے گی ، بجلی چوری کو کم کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے نقصان میں کمی لائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ صنعتی اور زرعی شعبہ کو سستی بجلی کی فراہمی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ نے کہا کہ دور دراز علاقوں میں آئی ٹی کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے، ملک میں آئی ٹی کی برآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا، انٹرنیٹ کی سپیڈ کو بہتر بنانے کیلئے تین سب میرین کیبلز بچھائی گئی ہیں، ہمارا مستقبل آئی ٹی سے وابستہ ہے۔

  • بشریٰ بی بی نے مشال یوسفزئی کو ترجمانی سے ہٹا دیا

    بشریٰ بی بی نے مشال یوسفزئی کو ترجمانی سے ہٹا دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل تابش فاروق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کی مرکزی رہنما بشریٰ بی بی نے مشال یوسفزئی کو ترجمان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے۔

    اڈیالہ جیل کے باہر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تابش فاروق نے بتایا کہ بشریٰ بی بی نے پارٹی امور کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے اپنے چار فوکل پرسنز مقرر کیے ہیں۔ ان فوکل پرسنز میں نعیم پنجوتھا، مبشر اعوان، خالد یوسف، اور رائے سلمان شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی قیادت، بشریٰ بی بی اور پی ٹی آئی کے بانی رہنما کی ملاقات کے دوران، بشریٰ بی بی نے واضح طور پر کہا کہ مشال یوسفزئی اب پی ٹی آئی کی ترجمانی نہیں کریں گی۔یہ فیصلہ پارٹی کی حکمت عملی کے مطابق لیا گیا ہے اور اب فوکل پرسنز کی ایک نئی ٹیم کو اس ذمہ داری کا سامنا ہو گا۔

    واضح رہے کہ مشال یوسفزئی بشریٰ کی ترجمان اور قریبی سمجھی جاتی تھیں تا ہم اب ان کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے

  • مذہبی انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں تشدد اور جبر کا سامنا کرنا پڑا، عورت مارچ کا وزیراعظم کو خط

    مذہبی انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں تشدد اور جبر کا سامنا کرنا پڑا، عورت مارچ کا وزیراعظم کو خط

    عورت مارچ کی انتظامیہ نے وزیرِ اعظم پاکستان شہباز شریف کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں 8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر اسلام آباد میں عورت مارچ کے انعقاد کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد کی انتظامیہ کو 8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر عورت مارچ کے لیے این او سی جاری کرنے کی ہدایت دی جائے۔

    خط میں عورت مارچ کی انتظامیہ نے وضاحت کی کہ عالمی یومِ خواتین ایک اہم موقع ہے جو ہر سال دنیا بھر میں منایا جاتا ہے، اور اسلام آباد کی خواتین بھی اس دن کو اسلام آباد پریس کلب کے باہر منانے کے لیے جمع ہونے جا رہی ہیں۔ انتظامیہ نے مزید کہا کہ پچھلے چھ سال سے این او سی کے حصول کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں، لیکن بے شمار کوششوں کے باوجود انہیں احتجاج کے حق اور تحفظ سے محروم رکھا گیا ہے۔خط میں عورت مارچ کی انتظامیہ نے اپنی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں مذہبی انتہا پسند گروپوں، پولیس اور اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے تشدد اور جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال کے سبب عالمی برادری کو پاکستان میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے منفی پیغام گیا ہے۔

    انتظامیہ نے وزیرِ اعظم سے درخواست کی کہ وہ خواتین کے اجتماع کے حق کو تسلیم کریں اور 8 مارچ کو عورت مارچ کو بغیر کسی غیر ضروری رکاوٹ کے منانے کی اجازت دیں۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مارچ کے دوران کوئی غیر ضروری رکاوٹ پیش نہ آئے تاکہ خواتین کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کا پورا موقع مل سکے۔

  • مولانا حامد الحق حقانی پر حملہ کے ذمہ داران کا  گرفتار نہ ہونا المیہ ہے،سیف اللہ قصوری

    مولانا حامد الحق حقانی پر حملہ کے ذمہ داران کا گرفتار نہ ہونا المیہ ہے،سیف اللہ قصوری

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ قصوری نے کہا ہے کہ مولانا حامد الحق حقانی پر حملہ کے ذمہ داران کا پانچ روز گزرنے کے باوجود گرفتار نہ ہونا المیہ ہے.خیبر پختونخوا میں مذہبی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بڑھ رہے ہیں. علما کرام پاکستان میں امن کے داعی ہیں.حکومت علما کرام کو تحفظ فراہم کرے.

    ان خیالات کا اظہار سیف اللہ قصوری نے جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مولانا حامد الحق حقانی کی دھماکے میں شہادت کے بعد لواحقین سے اظہار تعریت کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کیا.سیف اللہ قصوری نے مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں واصف بصیر، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک کا دورہ کیا اور مولانا حامد الحق حقانی کے بیٹے عبدالحق ثانی سے ان کے والد کی خود کش دھماکے میں موت پر اظہار تعزیت کی . سیف اللہ قصوری نے جمعیت علماء اسلام س کے مرکزی رہنما مولانا یوسف شاہ اور دیگر علماء کرام سے بھی ملاقات کی .

    سیف اللہ قصوری کا کہنا تھا کہ مولانا حامد الحق حقانی کی خدمات اتحاد امت اور قیام امن کے لیے ناقابل فراموش ہیں اور ان کی دینی و قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ مدارس، مساجد اور عبادتگاہوں پر حملے کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں۔ مولانا حامد الحق پر حملے کے ذمہ داروں کو جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔مشکل کی اس گھڑی میں مرکزی مسلم لیگ کی قیادت جمعیت علماء اسلام س کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔اللہ تعالیٰ مولانا حامد الحق حقانی کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے.آمین