Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • چین کا جوابی وار، امریکی درآمدات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    چین کا جوابی وار، امریکی درآمدات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی درآمدات پر اضافی ٹیرف لگانے کے اعلان کے بعد چین نے بھی جوابی طور پر امریکی درآمدات پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق چین امریکی زرعی مصنوعات پر نئی اضافی ڈیوٹیاں عائد کرے گا تاکہ امریکا کے اقدامات کا جواب دیا جا سکے۔

    چین کی وزارت خزانہ کے مطابق، امریکی درآمدات پر ٹیکس میں اضافہ کرنے کی سب سے بڑی وجہ امریکا کی جانب سے چینی درآمدات پر لگائے گئے اضافی ٹیرف ہیں۔ چین نے اعلان کیا ہے کہ امریکا سے درآمد ہونے والی مرغی، گندم، مکئی اور کپاس پر 15 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، جوار، سویا بین، گائے کا گوشت، آبی مصنوعات، پھل، سبزیاں اور ڈیری مصنوعات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جائے گا۔

    چینی حکام نے کہا ہے کہ یہ اضافی ٹیرف 10 مارچ سے نافذ العمل ہوں گے اور یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر پہلے سے عائد کیے گئے 10 فیصد ٹیرف کو 20 فیصد تک بڑھانے کے ردعمل میں کیا گیا ہے۔

    چین کی وزارت خزانہ نے امریکی اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کو یکطرفہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام عالمی تجارت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ چین نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھتا ہے، مگر اس کے لیے امریکا کو اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کرنی ہوگی۔

    یہ تجارتی جنگ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات پر سنگین اثرات مرتب کر رہی ہے، اور عالمی مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا رہی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کے ریمانڈ میں چھ دن کی توسیع

    مصطفیٰ عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کے ریمانڈ میں چھ دن کی توسیع

    کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے مصطفی عامر قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں 6 دن کی توسیع کردی جبکہ ملزم شیراز کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اغوا کے بعد قتل ہونے والے مصطفیٰ عامر کیس میں گرفتار ملزمان ارمغان اور شیراز کے جسمانی ریمانڈ کی مدت ختم ہونے کے بعد دونوں کو انسداد دہشت گردی میں پیش کیا گیا،ملزم ارمغان نے کہا کہ 15 دن سے یہی کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ میڈیکل کروایا ہے۔میڈیکل آئی اونے کہا کہ جی کروایا ہے۔وکیل ملزمان نے کہا کہ پہلے دن تشدد کیا تھا،15 دن ہوچکے تفتیش مکمل ہو گئی ہے،اب ان کے پاس ریمارنڈ کا کوئی جواز نہیں۔ملزم ارمغان نے کہا کہ مجھ سے زبردستی انگوٹھا لگوایا ہے۔

    سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم نے آلہ قتل سے دیگر کو بھی زخمی کیا ریکور کروانا ہے،آلہ قتل بر آمد کرواکر کراچی سے باہر گیا اس کے شواہد لینا ہے،جدید اسلحہ برآمد ہوا ہے۔ پورے ملک میں لنک پھیل گیا ہے۔جو چیزیں رہ گئی وہ مکمل کرنا چاہیے ہیں۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کتنی ایف آئی آر ہیں۔سرکاری وکیل نے کہا کہ ہمارے پاس 4 ہیں دیگر اداروں کی بھی ہیں۔وکیل ملزم نے کہا کہ ملزم کے خلاف کوئی اور ایف آئی تو نہیں ہیں ۔17 دن سے ان کے پاس ہے۔ جیل بھیج دیا جائے اور میڈیکل کروایا جائے۔15 دن میں چالان پیش کرنا چاہیے 17 دن تو ان کے پاس ہوگئے۔عدالت نے استفسار کیا کہ چالان کب دیں گے؟،سرکاری وکیل نے کہا کہ سر تفتیش مکمل تو ہوجائے 13 دن سے ہمارے پاس ہے۔وکیل ملزم نے کہا کہ ہمیں میڈیکل کرانے دیا جائے یہ تو آئی او نے کیا ہے۔

    تفتیشی افسر کی جانب سے ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں 6 روز کی توسیع کی استدعا کی گئی۔بعد ازاں عدالت نے ملزم کو 6 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کو تحویل میں دے دیا۔عدالت نے ملزم شیراز کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا

    دوسری جانب عدالت نے استفسار کیا کہ شیراز آپ کا وکیل کون ہے؟ملزم شیراز کے وکیل نے کہا کہ گواہ کو ملزم بنادیا ہے۔شیراز کو ڈرا دھمکایا جارہا ہے۔ عدالت نے آئی او سے استفسار کیا کہ یہ کیس کس کے دائرہ اختیار میں ہے؟۔جس پر آئی او نے بتایا کہ اسپیشل کیس ہے کورٹ آرڈر کے تحت آپ کے پاس ہے۔تفتیشی افسر نے کہا کہ ملزم شیراز کو اعترافی بیان کے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا تھا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ اعترافی بیان کے بعد ملزم کو جیل بھیجنا چاہیے تھا اعتراف کرنے یا نا کرے ۔سرکاری وکیل نے کہا کہ ملزم شیراز کے بیان کی کیا اہمیت ہے ہمیں ابھی تک سمجھ نہیں آیا ہے۔ بعدازاں عدالت نے ملزم شیراز کو عدالتی تحویل میں جیل بھیج دیا جبکہ ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ میں 6 دن کی توسیع کردی۔

  • پی ٹی وی کی تباہی میں ساری سیاسی جماعتیں شامل ہیں ،عطاتارڑ

    پی ٹی وی کی تباہی میں ساری سیاسی جماعتیں شامل ہیں ،عطاتارڑ

    اسلام آباد: قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس آج پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا جس میں وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اہم خطاب کیا۔ اجلاس کے دوران وزیر اطلاعات نے پی ٹی وی کی موجودہ صورتحال اور آئندہ کے اقدامات کے حوالے سے تفصیل سے گفتگو کی۔

    عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پی ٹی وی پر اپوزیشن کو حکومت کے برابر وقت دیا جاتا ہے تاکہ عوام کو تمام سیاسی جماعتوں کے نظریات اور موقف کا صحیح ادراک ہو سکے۔ وزیر اطلاعات نے پی ٹی وی کو ملک کا قومی نشریاتی ادارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی وی کی تباہی میں تمام سیاسی جماعتوں کا حصہ ہے کیونکہ ماضی میں ہر حکومت نے پی ٹی وی کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا۔ پی ٹی وی میں اصلاحات لانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ اسے ایک معتبر اور عوامی اعتماد کا حامل ادارہ بنایا جا سکے۔ عطاء اللہ تارڈ نے پی ٹی وی کے موجودہ اینکرز کی سکرین پر آنے والی بہتری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے اینکرز کی آمد سے ادارے کی سکرین کی صورت حال میں بہتری آئی ہے اور مارکیٹ سے بہتر اینکرز کو پی ٹی وی میں لایا گیا ہے۔

    وزیر اطلاعات نے قائمہ کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی ٹی وی میں جاری اصلاحات کا مقصد نہ صرف اس کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے بلکہ عوام کے لیے معیاری اور غیر جانبدار پروگرامنگ کو یقینی بنانا بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پی ٹی وی کو ایک تعمیری اور پیشہ ورانہ ادارہ بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا عہد کیا ہے۔

  • دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ  خودکش دھماکے کی تحقیقات ،نادرا میں ریکارڈ نہ ملا

    دارالعلوم حقانیہ نوشہرہ خودکش دھماکے کی تحقیقات ،نادرا میں ریکارڈ نہ ملا

    نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں 28 فروری کو ہونے والے خودکش دھماکے کی تحقیقات تیزی سے جاری ہیں، جس میں مولانا حامد الحق سمیت 8 نمازی شہید اور 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم نے مختلف زاویوں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم اب تک نادرا کے ریکارڈ میں خودکش حملہ آور کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دائرے کو افغان مہاجر کیمپوں تک وسیع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ دھماکے کے پس پردہ عوامل کا پتا چلایا جا سکے اور اس دہشت گردانہ کارروائی کے اصل محرکات تک پہنچا جا سکے۔

    مولانا حامد الحق پر ہونے والا یہ حملہ نہ صرف ایک دہشت گردانہ کارروائی کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ملک بھر میں مذہبی رہنماؤں کی حفاظت کے حوالے سے بھی سوالات اٹھاتا ہے۔پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے اس دھماکے کی تحقیقات میں مصروف ہیں اور ملزمان کو جلد پکڑنے کے لیے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ اس حملے کے پیچھے چھپے افراد اور گروپوں تک پہنچا جا سکے تاکہ ملک میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    28 فروری کو دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت 8 افراد شہید ہو گئے تھے، جبکہ 18 افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا اور فوراً پولیس و رینجرز کی نفری موقع پر پہنچ گئی تھی۔تحقیقات کا دائرہ وسیع کرنے اور مختلف زاویوں سے تفتیش جاری رکھنے کے باوجود یہ بات واضح نہیں ہو سکی کہ اس حملے کے پیچھے کون سی قوتیں کارفرما ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تمام ممکنہ شواہد کی چھان بین کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان اب کبھی سفارتی تنہائی کاشکار نہیں ہوگا،اسحاق ڈار

    پاکستان اب کبھی سفارتی تنہائی کاشکار نہیں ہوگا،اسحاق ڈار

    نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار نے حالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آنے والے دور میں اقتصادی چیلنجز کا بہتر انداز میں مقابلہ کریں گے اور نوجوانوں کو اپنے بھرپور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے ترغیب دیں گے تاکہ ملک کی معیشت کی بہتری کی راہ ہموار ہو سکے۔

    اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ کارپوریٹ قانون میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، اور اس حوالے سے کارپوریٹ اتھارٹی کو خودمختار ادارہ بنانے کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے مسابقتی کمیشن کی اہمیت پر زور دیا، جو صارفین کے حقوق کے تحفظ کا ذمہ دار ہے۔نائب وزیراعظم نے کہا کہ ملک کی ترقی اور معیشت کی بہتری سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور ہمیں مل کر پاکستان کو آگے لے کر جانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تمام سٹاک مارکیٹوں کے انضمام کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج آج بلندیوں کو چھو رہا ہے، جو معیشت کی مثبت سمت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستانی معیشت میں بے پناہ مواقع موجود ہیں اور ہمیں ان مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی قرضوں سے نجات حاصل کرنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم مستقبل میں ایک مضبوط معیشت کی بنیاد رکھ سکیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم معاشی خودانحصاری کی طرف بڑھیں تاکہ پاکستان کی معیشت مزید مستحکم ہو سکے۔نائب وزیراعظم نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم ملک کی ترقی کے لیے دن رات کوشاں ہیں اور انہوں نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس لا کر ایک نئی سمت دی ہے۔ اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ ہم نے معیشت کو بچایا ہے، جسے بعض عناصر ہضم نہیں کر پا رہے ہیں۔

    اس موقع پر انہوں نے یاد دلایا کہ 27 سال بعد پاکستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کا انعقاد کیا گیا، جو پاکستان کے عالمی سطح پر کردار کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اب کبھی سفارتی تنہائی کا شکار نہیں ہوگا اور ایسے عناصر جو پاکستان کو ڈیفالٹ دیکھنا چاہتے ہیں، وہ ناکام ہوں گے۔اسحاق ڈار نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ہمیں پاکستان کو ایک مضبوط اور خودانحصار معیشت کی طرف لے کر جانا ہے اور اس کے لیے ہم سب کو مل کر محنت کرنی ہوگی۔

  • آذری صدر کا آئندہ ماہ متوقع دورہ پاکستان ،وزیراعظم کی اہم ہدایات

    آذری صدر کا آئندہ ماہ متوقع دورہ پاکستان ،وزیراعظم کی اہم ہدایات

    وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ دورہ آذربائیجان پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں آذربائیجان کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو جلد عملی جامہ پہنانے کی ہدایت دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اس اجلاس میں وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین موجودہ تجارت کے حجم کو دو ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر آذربائیجان کے صدر کی جانب سے پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کے بارے میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیر نگرانی ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کمیٹی کو توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں معاہدوں کے لیے تیاری کرنے کی ذمہ داری دی گئی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے آذربائیجان کے صدر کے آئندہ ماہ متوقع دورہ پاکستان سے قبل تمام تر تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ اس دورے کو کامیاب بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے آذربائیجان سمیت ان تمام ممالک میں جہاں پاکستان کے ساتھ تجارت کی وسیع استعداد موجود ہے، وہاں ٹریڈ افسران کی تعیناتی کی ضرورت پر زور دیا۔

    پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو دہائیوں پر محیط ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیرِ اعظم کو باکو میں منعقدہ مشترکہ بزنس فورم کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، جس میں 83 پاکستانی اور 101 آذربائیجان کی کمپنیوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے 13 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔اس اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، جام کمال خان، عبدالعلیم خان، ڈاکٹر مصدق ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اس اجلاس کی تفصیلات نے واضح طور پر یہ ظاہر کیا کہ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔

  • جرم کیا تو سزا ہونی،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں کیا فرق پڑتا،سپریم کورٹ

    جرم کیا تو سزا ہونی،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں کیا فرق پڑتا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بنچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بنچ کا حصہ ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ سے کتنے لوگ رہا ہوئے؟،سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ 105 کل ملزمان تھے جس میں سے 20 ملزمان رہا ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 20 پہلے ہوئے تھے پھر 19 رہا ہوئے اس وقت جیلوں میں 66 ملزمان ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ امریکا میں رواج ہے کہ دلائل کے اختتام پر دونوں پارٹیز کو پروپوز ججمنٹ کا حق دیا جاتا ہے، اگر یہ کہتے ہیں کہ کورٹ مارشل کرنا ہے اس کا بھی متبادل ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو سزا تو ہونی چاہیے،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو کیا فرق پڑتا ہے۔فیصل صدیقی نے کہا کہ ٹرائل میں زمین آسمان کا فرق ہے، ایک ٹرائل آزاد ہے اور دوسرا ملٹری میں ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سارے فورم موجود ہیں اور سارے فورمز قابل احترام ہیں۔فیصل صدیقی نے کہا کہ 8 تھری اے میں ایف بی علی نے کہا تھا آپ قانون کو چیلنج نہیں کر سکتے، جہاں دفاع پاکستان کو خطرہ ہو وہاں سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے، 9 مئی واقعات میں کیسز توڑ پھوڑ کے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کیے تو سابق سپریم کورٹ بار عہدیداران اور درخواستگزار بشریٰ قمر کے وکیل عابد زبیر ی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی تھی، شفاف کا حق ملے گا۔فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔درخواست گزار بشری قمر کے وکیل عابد زبیری دلائل جاری رکھیں گے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے دی   ٹورازم اینڈ ہیرٹیج اتھارٹی کی اصولی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب نے دی ٹورازم اینڈ ہیرٹیج اتھارٹی کی اصولی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں صوبے کے 170سیاحتی مقامات اور ٹریلز کی تعمیر ومرمت اور بحالی کی اصولی منظوری دی گئی ۔ٹورازم پلان کے تحت پنجاب بھر میں مذہبی تاریخی ،قدیمی ورثہ ،آثار قدیمہ اور ایکٹو ٹورازم کو فروغ دیا جائے گا ۔

    اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب کی پہلی ٹورازم اینڈ ہیرٹیج اتھارٹی کی بھی اصولی منظوری دی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عالمی سیاحت کے فروغ کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور تمام مقامات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائےگا ۔وزیراعلی مریم نواز نے کہا کہ ٹیکسلا کو مکمل ٹورسٹ سائیٹ بنایا جائے گا اور وہاں 5سٹار ہوٹل بھی قائم ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کو سیاحتی ہب بنائیں گے ۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پنجاب کی پہلی مکمل ٹورازم میگنیفیشنٹ ایپ تیار کرلی گئی ہے جس کا جلد آغاز کیا جائے گا ۔میگنیفیشنٹ ایپ کے ذریعے 170سیاحتی مقامات کی روچوئل سیر کی جاسکے گی ۔میگنیفیشنٹ ایپ کے ذریعے ٹریول وزٹ اور ہوٹل بکنگ کی سہولت حاصل کرنے کے علاوہ فوڈ پانڈا اور دیگر سروسز بھی حاصل کی جاسکیں گی ۔پنجاب میں پہلی مرتبہ قائم کی جانے والی ٹورازم ٹریل میں ڈسٹرکٹ مال روڈ ،وال سٹی آف لاہور ،سکھ سائٹس ،جی ٹی روڈ کی مغل یاد گاریں شامل ہونگی ۔سالٹ رینج ،بھاٹی گیٹ ،ٹیکسالی گیٹ ،گوجرانوالہ ،ایمن آبادسکھ ٹورازم ٹریل بھی قائم کی جائے گی ۔گندھارا تہذیب سے متعلق گندھارا ٹریل میں ٹیکسلا میوزیم ،دھرماراچیکا ،جولیاں ،سرکیپ اور گری قلعہ شامل ہیں ۔اُچ شریف میں زائرین کی سہولت کیلئے خصوصی ٹریل ڈویلپ کی جائے گی ۔

  • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت بارش کے بعد پھر ٹپک پڑی

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت بارش کے بعد پھر ٹپک پڑی

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں حالیہ موسلادھار بارش نے ایک بار پھر نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت کی خستہ حالی کو بے نقاب کر دیا۔

    جڑواں شہروں میں ہونے والی شدید بارش کے دوران نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہو گیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایئرپورٹ انتظامیہ نے فوراً ٹپکتی چھت کے نیچے بالٹیاں رکھ کر عارضی طور پر پانی جمع کرنے کی کوشش کی، تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ایئرپورٹ کے بین الاقوامی اور ڈومیسٹک آمد کے لاؤنجز میں موجود مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسافروں کے لیے ایئرپورٹ کے اندر موجود پانی نے اس کی سروسز کو متاثر کیا، اور ایئرپورٹ پر سفر کرنے والے افراد نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر میں اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی تھی، اور اس کی چھت کی مرمت بھی چند سال قبل کی گئی تھی۔ تاہم، بارش کے موسم میں چھت سے پانی ٹپکنے کے واقعات ایک بار پھر انتظامیہ کے دعووں پر سوالیہ نشان ہیں۔ اس واقعے نے ایئرپورٹ کی موجودہ حالت اور اس کی دیکھ بھال کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔مسافروں اور عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایئرپورٹ کی عمارت کی مرمت کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

  • 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری

    7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری

    پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر مذاکرات کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات تقریباً مکمل ہوگئے ہیں، جس کے بعد اب پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا سیشن وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ جبکہ دوسرا سیشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔ اس دوران دونوں فریقین نے مالیاتی پالیسوں اور بجٹ کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔اب پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے، جن کی قیادت پاکستان کی وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف کے ناتھن پورٹر کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر بھی شریک ہیں۔

    یہ مذاکرات پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض کے پروگرام پر ہو رہے ہیں، جو تقریباً دو ہفتے تک جاری رہیں گے۔ اس دوران پاکستان نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرض کے پروگرام کی شرائط میں نرمی کرے، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے۔ان مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف جائزہ مشن اپنی سفارشات ایگزیکٹو بورڈ کو بھیجے گا، جو اس ماہ کے آخر یا اپریل کے ابتدائی دنوں میں فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کی جائے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف یہ فیصلہ بھی کرے گا کہ آیا بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے یا نہیں۔

    پاکستان کے لئے یہ مذاکرات اس لئے اہم ہیں کہ ان کے کامیاب ہونے سے نہ صرف قرض کی اگلی قسط جاری ہوگی بلکہ ملک کی معیشت کو استحکام حاصل کرنے کی بھی امید ہے۔