Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • آذری صدر کا آئندہ ماہ متوقع دورہ پاکستان ،وزیراعظم کی اہم ہدایات

    آذری صدر کا آئندہ ماہ متوقع دورہ پاکستان ،وزیراعظم کی اہم ہدایات

    وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف کی زیر صدارت حالیہ دورہ آذربائیجان پر ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں آذربائیجان کے ساتھ ہونے والے مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو جلد عملی جامہ پہنانے کی ہدایت دی گئی۔ وزیرِ اعظم نے اس اجلاس میں وزارت تجارت کو ہدایت کی کہ پاکستان اور آذربائیجان کے مابین موجودہ تجارت کے حجم کو دو ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے۔

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر آذربائیجان کے صدر کی جانب سے پاکستان میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے اعلان کے بارے میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی زیر نگرانی ایک کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کمیٹی کو توانائی اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں معاہدوں کے لیے تیاری کرنے کی ذمہ داری دی گئی تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔وزیرِ اعظم نے آذربائیجان کے صدر کے آئندہ ماہ متوقع دورہ پاکستان سے قبل تمام تر تیاریاں مکمل کرنے کی ہدایت دی تاکہ اس دورے کو کامیاب بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے آذربائیجان سمیت ان تمام ممالک میں جہاں پاکستان کے ساتھ تجارت کی وسیع استعداد موجود ہے، وہاں ٹریڈ افسران کی تعیناتی کی ضرورت پر زور دیا۔

    پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات ہیں جو دہائیوں پر محیط ہیں۔ وزیرِ اعظم نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں کے مابین تجارت اور سرمایہ کاری کی وسیع استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیرِ اعظم کو باکو میں منعقدہ مشترکہ بزنس فورم کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا، جس میں 83 پاکستانی اور 101 آذربائیجان کی کمپنیوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیرِ اعظم کے حالیہ دورے کے دوران پاکستان اور آذربائیجان کے مابین دو طرفہ تعاون کے فروغ کے حوالے سے 13 مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے گئے تھے۔اس اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء احد خان چیمہ، جام کمال خان، عبدالعلیم خان، ڈاکٹر مصدق ملک، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی۔

    اس اجلاس کی تفصیلات نے واضح طور پر یہ ظاہر کیا کہ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پرعزم ہے۔

  • جرم کیا تو سزا ہونی،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں کیا فرق پڑتا،سپریم کورٹ

    جرم کیا تو سزا ہونی،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں کیا فرق پڑتا،سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں سویلینز کے ملٹری ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ جسٹس جمال مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس حسن اظہر رضوی بنچ میں شامل ہیں جبکہ جسٹس مسرت ہلالی ، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس شاہد بلال حسن بھی بنچ کا حصہ ہیں۔جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ سے کتنے لوگ رہا ہوئے؟،سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے بتایا کہ 105 کل ملزمان تھے جس میں سے 20 ملزمان رہا ہوئے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ 20 پہلے ہوئے تھے پھر 19 رہا ہوئے اس وقت جیلوں میں 66 ملزمان ہیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ امریکا میں رواج ہے کہ دلائل کے اختتام پر دونوں پارٹیز کو پروپوز ججمنٹ کا حق دیا جاتا ہے، اگر یہ کہتے ہیں کہ کورٹ مارشل کرنا ہے اس کا بھی متبادل ہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ جرم کسی نے بھی کیا ہو سزا تو ہونی چاہیے،ٹرائل یہاں ہو یا وہاں ہو کیا فرق پڑتا ہے۔فیصل صدیقی نے کہا کہ ٹرائل میں زمین آسمان کا فرق ہے، ایک ٹرائل آزاد ہے اور دوسرا ملٹری میں ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ سارے فورم موجود ہیں اور سارے فورمز قابل احترام ہیں۔فیصل صدیقی نے کہا کہ 8 تھری اے میں ایف بی علی نے کہا تھا آپ قانون کو چیلنج نہیں کر سکتے، جہاں دفاع پاکستان کو خطرہ ہو وہاں سویلین کا ملٹری کورٹس میں ٹرائل ہو سکتا ہے، 9 مئی واقعات میں کیسز توڑ پھوڑ کے ہیں۔

    فیصل صدیقی نے دلائل مکمل کیے تو سابق سپریم کورٹ بار عہدیداران اور درخواستگزار بشریٰ قمر کے وکیل عابد زبیر ی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل نے یقین دہانی کرائی تھی، شفاف کا حق ملے گا۔فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کردی گئی۔درخواست گزار بشری قمر کے وکیل عابد زبیری دلائل جاری رکھیں گے۔

  • وزیراعلیٰ پنجاب نے دی   ٹورازم اینڈ ہیرٹیج اتھارٹی کی اصولی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب نے دی ٹورازم اینڈ ہیرٹیج اتھارٹی کی اصولی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں صوبے کے 170سیاحتی مقامات اور ٹریلز کی تعمیر ومرمت اور بحالی کی اصولی منظوری دی گئی ۔ٹورازم پلان کے تحت پنجاب بھر میں مذہبی تاریخی ،قدیمی ورثہ ،آثار قدیمہ اور ایکٹو ٹورازم کو فروغ دیا جائے گا ۔

    اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے پنجاب کی پہلی ٹورازم اینڈ ہیرٹیج اتھارٹی کی بھی اصولی منظوری دی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں عالمی سیاحت کے فروغ کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور تمام مقامات کو عالمی معیار کے مطابق بنایا جائےگا ۔وزیراعلی مریم نواز نے کہا کہ ٹیکسلا کو مکمل ٹورسٹ سائیٹ بنایا جائے گا اور وہاں 5سٹار ہوٹل بھی قائم ہونگے ۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کو سیاحتی ہب بنائیں گے ۔اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پنجاب کی پہلی مکمل ٹورازم میگنیفیشنٹ ایپ تیار کرلی گئی ہے جس کا جلد آغاز کیا جائے گا ۔میگنیفیشنٹ ایپ کے ذریعے 170سیاحتی مقامات کی روچوئل سیر کی جاسکے گی ۔میگنیفیشنٹ ایپ کے ذریعے ٹریول وزٹ اور ہوٹل بکنگ کی سہولت حاصل کرنے کے علاوہ فوڈ پانڈا اور دیگر سروسز بھی حاصل کی جاسکیں گی ۔پنجاب میں پہلی مرتبہ قائم کی جانے والی ٹورازم ٹریل میں ڈسٹرکٹ مال روڈ ،وال سٹی آف لاہور ،سکھ سائٹس ،جی ٹی روڈ کی مغل یاد گاریں شامل ہونگی ۔سالٹ رینج ،بھاٹی گیٹ ،ٹیکسالی گیٹ ،گوجرانوالہ ،ایمن آبادسکھ ٹورازم ٹریل بھی قائم کی جائے گی ۔گندھارا تہذیب سے متعلق گندھارا ٹریل میں ٹیکسلا میوزیم ،دھرماراچیکا ،جولیاں ،سرکیپ اور گری قلعہ شامل ہیں ۔اُچ شریف میں زائرین کی سہولت کیلئے خصوصی ٹریل ڈویلپ کی جائے گی ۔

  • اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت بارش کے بعد پھر ٹپک پڑی

    اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت بارش کے بعد پھر ٹپک پڑی

    راولپنڈی اور اسلام آباد میں حالیہ موسلادھار بارش نے ایک بار پھر نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت کی خستہ حالی کو بے نقاب کر دیا۔

    جڑواں شہروں میں ہونے والی شدید بارش کے دوران نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہو گیا۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایئرپورٹ انتظامیہ نے فوراً ٹپکتی چھت کے نیچے بالٹیاں رکھ کر عارضی طور پر پانی جمع کرنے کی کوشش کی، تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ایئرپورٹ کے بین الاقوامی اور ڈومیسٹک آمد کے لاؤنجز میں موجود مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسافروں کے لیے ایئرپورٹ کے اندر موجود پانی نے اس کی سروسز کو متاثر کیا، اور ایئرپورٹ پر سفر کرنے والے افراد نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔

    یہ بات قابل ذکر ہے کہ نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کی تعمیر میں اربوں روپے کی خطیر رقم خرچ کی گئی تھی، اور اس کی چھت کی مرمت بھی چند سال قبل کی گئی تھی۔ تاہم، بارش کے موسم میں چھت سے پانی ٹپکنے کے واقعات ایک بار پھر انتظامیہ کے دعووں پر سوالیہ نشان ہیں۔ اس واقعے نے ایئرپورٹ کی موجودہ حالت اور اس کی دیکھ بھال کے حوالے سے سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔مسافروں اور عوام کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایئرپورٹ کی عمارت کی مرمت کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات سے بچا جا سکے اور عوام کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔

  • 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری

    7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات جاری

    پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض پروگرام پر مذاکرات کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ گزشتہ دنوں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات تقریباً مکمل ہوگئے ہیں، جس کے بعد اب پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے۔

    پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا پہلا سیشن وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ جبکہ دوسرا سیشن فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے۔ اس دوران دونوں فریقین نے مالیاتی پالیسوں اور بجٹ کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کیا۔اب پالیسی سطح کے مذاکرات کا آغاز ہوچکا ہے، جن کی قیادت پاکستان کی وزیر خزانہ، محمد اورنگزیب اور آئی ایم ایف کے ناتھن پورٹر کر رہے ہیں۔ ان مذاکرات میں پاکستان کی جانب سے سیکرٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر بھی شریک ہیں۔

    یہ مذاکرات پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان 7 ارب ڈالر کے قرض کے پروگرام پر ہو رہے ہیں، جو تقریباً دو ہفتے تک جاری رہیں گے۔ اس دوران پاکستان نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قرض کے پروگرام کی شرائط میں نرمی کرے، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور دیگر مالیاتی اصلاحات کے حوالے سے۔ان مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف جائزہ مشن اپنی سفارشات ایگزیکٹو بورڈ کو بھیجے گا، جو اس ماہ کے آخر یا اپریل کے ابتدائی دنوں میں فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کو 1.1 ارب ڈالر کی اگلی قسط جاری کی جائے یا نہیں۔ اس کے علاوہ، آئی ایم ایف یہ فیصلہ بھی کرے گا کہ آیا بجلی کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے یا نہیں۔

    پاکستان کے لئے یہ مذاکرات اس لئے اہم ہیں کہ ان کے کامیاب ہونے سے نہ صرف قرض کی اگلی قسط جاری ہوگی بلکہ ملک کی معیشت کو استحکام حاصل کرنے کی بھی امید ہے۔

  • الیکشن کمیشن،  پی ٹی آئی  انٹرا پارٹی کیس  کی سماعت 8 اپریل تک ملتوی

    الیکشن کمیشن، پی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس کی سماعت 8 اپریل تک ملتوی

    الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی کیس کی سماعت ہوئی

    ممبر سندھ نثار درانی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی،بیرسٹر گوہر ،اکبر ایس بابر اور دیگر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب آپ سرٹیفیکیٹ دیں گے تو پھر معاملہ حل ہو گا ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ ہائیکورٹ سے حکم امتناعی ختم کرائیں ،بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس کیس کی کاروائی کے حوالے سے کوئی حکم امتناع نہیں ،ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ یہ کیس ٹرائل تو ہے نہیں ،ممبر کے پی نے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ اس پر فیصلہ محفوظ کر کے عدالتی فیصلے کا انتظار کریں،جو دستاویزات آپ نے دی ہیں وہ مکمل نہیں،

    اکبر ایس بابر نے کہا کہ ممبر کے پی کے کا بیرسٹر گوہر سے تقاضا یہ عوامی اہمیت کا معاملہ ہے ،الیکشن کمیشن نے بھی سپریم کورٹ میں انٹرا پارٹی الیکشن کومتنازعہ قرار دیا ہے،ہم چاہتے ہیں کہ الیکشن کمیشن آج ہی اس پر فیصلہ سنائے،الیکشن کمیشن کی جانب سے کیس کی سماعت 8اپریل تک ملتوی کر دی گئی

  • سحرو افطار میں عمران ،بشریٰ کو کچھ نہیں دیا جا رہا، بیرسٹر سیف کا دعویٰ

    سحرو افطار میں عمران ،بشریٰ کو کچھ نہیں دیا جا رہا، بیرسٹر سیف کا دعویٰ

    پشاور: خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نہار منہ روزہ رکھ رہے ہیں۔

    بیرسٹر سیف نے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کرنا کارکنوں کے لئے اذیت کا سبب بن رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں پر پابندی لگانا عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کا مقصد صرف سیاسی مقاصد کو حاصل کرنا ہے۔مشیر اطلاعات نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سحری اور افطار کے دوران کچھ فراہم نہیں کیا جا رہا جس کی وجہ سے دونوں کو مجبوراً نہار منہ روزہ رکھنا پڑ رہا ہے۔

    انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی وجہ سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے اور اس کا اثر عوامی جذبات پر پڑ رہا ہے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ایسے غیر جمہوری اقدامات سے گریز کرے اور انسانی حقوق کی پامالی سے اجتناب کرے۔

    واضح رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور اپنی سزا کاٹ رہے ہیں.

  • اسرائیلی افواج کی شام میں غیر قانونی پیش قدمی، سرحد سے 13 کلومیٹر اندر تک قبضہ

    اسرائیلی افواج کی شام میں غیر قانونی پیش قدمی، سرحد سے 13 کلومیٹر اندر تک قبضہ

    اسرائیلی افواج نے شام کی سرحد سے 13 کلومیٹر اندر تک غیر اعلانیہ قبضہ کرلیا ہے، جس سے خطے کی صورتحال میں مزید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی شامی علاقوں میں غیر قانونی پیش قدمی کا سلسلہ جاری ہے، اور اس نے مسحرہ پر قبضہ کرنے کے بعد تل المال کے پہاڑوں تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی افواج کی جانب سے ڈرونز اور ہیلی کاپٹروں کی پروازیں مسلسل جاری ہیں، جس سے علاقے میں مزید فوجی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ اس کے علاوہ، بلڈوزرز کے ساتھ فوجی کمک بھی علاقے میں پہنچ چکی ہے، جس سے مزید تعمیرات اور ممکنہ دفاعی سیٹ اپ کی تعمیر کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    علاقہ تل المال اس حوالے سے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں سابق صدر بشار الاسد کی حکومت کی فوج کی چوکی واقع تھی۔ تل المال کا علاقہ درعا صوبے میں واقع ہے، جو شام کی سرحد سے متصل ہے، اور یہاں پر اسرائیلی افواج کی غیر قانونی کارروائیاں شام کی علاقائی خودمختاری کے خلاف ہیں۔

    اسرائیلی افواج کی اس پیش قدمی پر شام اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے شدید ردعمل کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدام خطے میں مزید تنازعہ اور کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے، خصوصاً اس وقت جب شام میں سیاسی و فوجی صورتحال پیچیدہ ہو۔اب تک اس پیش قدمی کے نتائج اور اس سے متعلق عالمی سطح پر ردعمل سامنے آنا باقی ہے، تاہم شامی حکام نے اسرائیلی افواج کی کارروائی کی شدید مذمت کی ہے اور اس کے خلاف عالمی برادری سے فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس،نیو ایئر نائٹ پارٹی کے عینی شاہد کا بیان آ گیا

    مصطفیٰ عامر قتل کیس،نیو ایئر نائٹ پارٹی کے عینی شاہد کا بیان آ گیا

    مصطفیٰ عامر قتل کیس،نیو ایئر نائٹ پارٹی کا عینی شاہد سامنے آ گیا

    صطفیٰ عامر کے قتل کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے، جب نیو ایئر نائٹ پارٹی کا ایک عینی شاہد سامنے آیا۔ عینی شاہد نے (نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر) انکشاف کیا کہ وہ ارمغان کو 2016 سے جانتا ہے اور وہ دونوں اچھے دوست تھے۔ عینی شاہد کے مطابق ارمغان اکثر اپنے پیسوں سے دوستوں کو نشہ فراہم کرتا تھا۔عینی شاہد کا کہنا تھا کہ نیو ایئر پارٹی کے دوران مصطفیٰ عامر کو بہت بلایا گیا، لیکن وہ پارٹی میں نہیں آیا۔ مصطفیٰ نے خود نیو ایئر کی پارٹی ہاکس بے پر کی تھی۔ عینی شاہد نے مزید بتایا کہ نیو ایئر پارٹی میں شیراز بھی موجود تھا، جس پر مصطفیٰ نے یہ بات کہی تھی کہ ارمغان اسے گھر بلاتا ہے، لیکن وہ وہاں نہیں جائے گا۔عینی شاہد کے مطابق مصطفیٰ اور ارمغان کے درمیان لڑائی 2.5 لاکھ روپے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ مصطفیٰ نے ارمغان سے وہ چیزیں واپس لینی تھیں جو ارمغان استعمال کرتا تھا، لیکن ارمغان نے پیسے دینے سے انکار کر دیا تھا، جس پر مصطفیٰ نے پیسے ایک بہانے سے لے لیے تھے۔عینی شاہد نے مزید کہا کہ اسے یہ معلوم نہیں کہ مصطفیٰ ارمغان کے گھر کیوں گیا، مگر یہ بات یقینی ہے کہ دونوں "جنگل بوائے” نامی ویڈ استعمال کرتے تھے، اور مصطفیٰ نے کہا تھا کہ وہ یہ ویڈ کہاں سے منگواتا ہے، اسے اس کا علم نہیں تھا۔

    عینی شاہد کے مطابق ویڈ کی پیکنگ پر اگر اسکریچ کیا جائے تو پن لوکیشن معلوم کی جا سکتی ہے، جس سے یہ پتہ چلتا تھا کہ وہ پیکٹ کہاں کھولا گیا تھا۔ عینی شاہد نے یہ بھی بتایا کہ مصطفیٰ، جو ارمغان کو مال بیچتا تھا، خود بھی وہیں بیٹھ کر ویڈ استعمال کرتا تھا۔

    دوسری جانب ملزم شیراز نے مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں مزید بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ مصطفیٰ کا واحد گواہ تھا اور اب اسے قتل کے کیس میں ملوث ہونے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ شیراز نے اعتراف کیا کہ اس پر اعترافی بیان دینے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس کے مطابق، مصطفیٰ کی قتل کے پیچھے جو بھی عوامل تھے، اس پر ایک گہری سازش کا حصہ بننے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔

  • نوعمر لڑکیوں کو ‘تازہ گوشت’ کہہ کر "زیادتی” کرنے والےدو ملزمان "مجرم”قرار

    نوعمر لڑکیوں کو ‘تازہ گوشت’ کہہ کر "زیادتی” کرنے والےدو ملزمان "مجرم”قرار

    شیفیلڈ کراؤن کورٹ میں تین مردوں کو دو نوعمر لڑکیوں کے ساتھ سلسلہ وار جنسی جرائم میں مجرم قرار دیا گیا ہے۔ ان لڑکیوں کو ان جرائم میں ملوث گروہ "تازہ گوشت” کہتا تھا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ جنوبی یارکشائر کے قصبے روتھرہم میں 10 سال سے زائد عرصہ قبل ان لڑکیوں کو چھ ماہ تک ہفتے میں کئی بار جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ استغاثہ نے نوعمر لڑکیوں کو "بڑے اور زیادہ پختہ افراد کے ان اقدامات کو روکنے سے قاصر” قرار دیا جو انہیں جنسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر تلے ہوئے تھے۔پیر کے روز، 37 سالہ رومولڈ سٹیفن ہوفوئٹ اور 41 سالہ ایبسولم سگیو کو ریپ سمیت متعدد جرائم کا مجرم پایا گیا۔ تیسرے ملزم، 35 سالہ جیک برزوزوسکی کو جنسی سرگرمی میں ملوث ہونے کے لیے بچے کو اکسانے کے الزام سے بری کر دیا گیا، لیکن اس نے ایک بچے کے ساتھ جنسی سرگرمی میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔

    پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے کے دوران، استغاثہ گورڈن سٹیبلز نے جیوری کو بتایا کہ دونوں شکایت کنندگان بچوں کے گھر میں رہ رہی تھیں جب روتھرہم شہر کے مرکز میں ملزمان "اور دیگر ساتھیوں” نے ان سے دوستی کی۔ مسٹر سٹیبلز نے کہا کہ مرد جانتے تھے کہ ان کی شکار لڑکیاں رضامندی کی عمر سے کم ہیں اور انہوں نے "گھر کی پارٹیوں میں شراب پلا کر اور سگریٹ دے کر اور انہیں چھیڑ چھاڑ کی توجہ دے کر لڑکیوں کا اعتماد حاصل کیا۔”انہوں نے کہا: "دونوں لڑکیاں باقاعدگی سے جنسی تعلقات قائم کرنے کی عادی ہو گئیں۔ "نفسیاتی طور پر، لڑکیوں کو یہ محسوس کرایا گیا کہ انہیں شراب اور سگریٹ دی جاتی ہے تو اسکے بدلے میں ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے، "”تاہم، جب مرد جنسی طور پر مطمئن ہو جاتے تھے، تو لڑکیوں کو اپنا مقصد پورا کرنے کے طور پر سمجھا جاتا تھا – پھر اکثر انہیں نظر انداز کر دیا جاتا تھا اور ان سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ اپنے طور پر گھر جائیں۔”جنسی زیادتی کرنے والے ملزمان لڑکیوں کو تازہ گوشت کہتے تھے.

    آئیوری کوسٹ کے شہری ہوفوئٹ، جو شیفیلڈ کے برنگریو میں رہتے ہیں، اور زمبابوے کے شہری سگیو، جو روتھرہم کے کیٹکلف میں رہتے ہیں، کو بدھ کے روز سزا سنائی جائے گی۔ پولینڈ کے شہری برزوزوسکی، جو روتھرہم کے راومارش میں رہتے ہیں، کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے اور انہیں 14 اپریل کو سزا سنائی جائے گی۔

    سینئر تفتیشی افسر کیتھ بلین نے کہا: "یہ ان انتہائی دلخراش معاملات میں سے ایک ہے جس کی میں نے تحقیقات کی ہیں۔ سگیو اور ہوفوئٹ نے دو کمزور لڑکیوں کو پارٹیوں میں پھنسایا جہاں انہوں نے بچوں کو نشے میں رکھا تاکہ وہ ان کے ساتھ بدترین طریقوں سے زیادتی کر سکیں۔””برزوزوسکی نے ان کی تکلیف میں حصہ ڈالا، بشمول ایک لڑکی کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنا جسے وہ جانتا تھا کہ وہ ایک بچہ اور کمزور ہے۔ متاثرین نے اپنی زیادتی کی اطلاع دینے میں غیر معمولی بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔”

    یہ سزائیں نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کی تحقیقات، جسے آپریشن اسٹووڈ کہا جاتا ہے، کے بعد تازہ ترین ہیں۔ اس آپریشن میں 1997 اور 2013 کے درمیان روتھرہم میں بچوں کے جنسی استحصال کے 1,100 سے زائد متاثرین کی شناخت کی گئی ہے۔ یہ تحقیقات لینڈ مارک جے رپورٹ کے بعد قائم کی گئی تھی، جس میں یہ پایا گیا تھا کہ قصبے میں بنیادی طور پر پاکستانی مردوں کے گروہوں نے سیکڑوں لڑکیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔کراؤن پراسیکیوشن سروس کے ماہر پراسیکیوٹر مارٹن میک روب نے کہا: "اس معاملے میں متاثرین اب بالغ ہیں، لیکن انہیں اپنی جوانی میں ان کے خلاف کیے گئے گھناؤنے اور سنگین جنسی جرائم سے پیدا ہونے والے صدمے کے ساتھ جینا پڑا ہے۔”