Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 33 سالہ بھارتی شہزادی کو دی گئی متحدہ عرب امارات میں پھانسی

    33 سالہ بھارتی شہزادی کو دی گئی متحدہ عرب امارات میں پھانسی

    بھارتی وزارت خارجہ نے دہلی ہائی کورٹ میں بیان دیا ہے کہ کہ متحدہ عرب امارات میں موت کی سزا پانے والی ہندوستانی خاتون، شہزادی خان کو پھانسی دے دی گئی ہے اور اس کی آخری رسومات 5 مارچ کو ادا کی جائیں گی۔

    شہزادی خان کے والد نے یکم مارچ 2025 کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا اور وزارت خارجہ سمیت متعلقہ حکام سے درخواست کی تھی کہ ان کی بیٹی کی موجودہ قانونی حیثیت اور خیریت کے بارے میں تفصیل سے معلومات فراہم کی جائیں۔

    شہزادی خان کا تعلق بھارت کے یوپی کے باندہ ضلع سے تھا اور وہ متحدہ عرب امارات کے ابوظہبی شہر میں مقیم تھی۔ 33 سالہ شہزادی خان کو ابوظہبی میں ایک بچے کے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ شہزادی خان ابوظہبی کی الوثبہ جیل میں قید تھی، جہاں اس نے ایک چائلڈ کیئر ورکر کے طور پر کام کیا تھا۔شہزادی خان نے دسمبر 2021 میں ویزے پر ابوظہبی سفر کیا تھا اور اگست 2022 میں ایک خاندان کے لیے چائلڈ کیئر ورکر کے طور پر کام پر لگائی گئی تھی۔ 7 دسمبر 2022 کو اس بچے کو ویکسین دی گئی تھی، مگر اسی دن بچے کی موت ہو گئی۔ پوسٹ مارٹم کی سفارش کی گئی تھی، مگر بچے کے والدین نے اس کی مخالفت کی اور تفتیش روکنے کے لیے رضامندی کے فارم پر دستخط کر دیے تھے۔فروری 2023 میں شہزادی خان کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا جس میں وہ بچے کو قتل کرنے کا اعتراف کرتی نظر آئی۔ تاہم، شہزادی خان کے والدین نے دعویٰ کیا کہ یہ اعترافی بیان تشدد اور دباؤ میں لیا گیا۔ 10 فروری 2023 کو شہزادی خان کو پولیس نے گرفتار کیا اور 31 جولائی 2023 کو اسے سزائے موت سنائی گئی۔ اس کے خلاف ستمبر 2023 میں اپیل دائر کی گئی تھی، جو مسترد کر دی گئی۔ 28 فروری 2024 کو عدالت نے اس کی سزائے موت کی سزا کو برقرار رکھا۔

    وزارت خارجہ نے دہلی ہائی کورٹ کو بتایا کہ شہزادی خان کو 15 فروری 2025 کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ اس کے بعد عدالت نے درخواست کو نمٹا دیا اور کیس کا اختتام کیا۔اب، 5 مارچ کو شہزادی خان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی۔

  • لاہور کا اسٹریٹ آرٹسٹ بھیک مانگنے کے جرم میں گرفتار

    لاہور کا اسٹریٹ آرٹسٹ بھیک مانگنے کے جرم میں گرفتار

    لاہور کے علاقے گلبرگ میں ایک اسٹریٹ آرٹسٹ محمد کو ٹریفک پولیس نے گرفتار کر لیا، جس پر الزام تھا کہ وہ بھیک مانگ رہا تھا۔

    محمد کا کہنا تھا کہ وہ بھیک نہیں مانگتا بلکہ اپنے جسم اور کپڑوں پر گولڈن رنگ کر کے مجسمے کی طرح کھڑا ہوتا ہے تاکہ لوگ اس کے کام کی تعریف کریں اور پیسے دیں۔، محمد جو کہ بند روڈ کا رہائشی اور دو بچوں کا باپ ہے، گلبرگ کے علاقے میں سڑک کے کنارے کھڑا ہو کر اپنی پرفارمنس دیتا تھا۔ اس کی پرفارمنس لوگوں کو محظوظ کرتی تھی اور کئی لوگ اپنی خوشی سے اسے پیسے دے دیتے تھے۔ محمد نے پولیس کے سامنے کہا کہ وہ بھیک نہیں مانگتا بلکہ یہ ایک آرٹ ہے جو دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔پولیس کے مطابق محمد کو ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے پکڑا گیا۔ ٹریفک وارڈن کا کہنا تھا کہ یہ اعلیٰ افسران کے احکامات کے تحت عمل کیا گیا۔ محمد نے پولیس کے دعوے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی قسم کی ٹریفک کی رکاوٹ پیدا نہیں کرتا۔محمد کا کہنا تھا کہ یہ اس کا روزگار ہے اور وہ اس کو اپنے بچوں کی پرورش کے لیے کرتا ہے۔ وہ اس فن کو ایک پیشہ سمجھتا ہے اور اسے کسی بھی قسم کی بھیک نہیں سمجھتا۔

  • زیادہ سے زیادہ اور جلد بچے پیدا کریں، وزیراعلیٰ کی اپیل

    زیادہ سے زیادہ اور جلد بچے پیدا کریں، وزیراعلیٰ کی اپیل

    بھارت میں وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بچے زیادہ سے زیادہ اور جلد پیدا کریں

    تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ریاستی عوام سے ایک غیر متوقع اور حساس اپیل کی ہے جس میں انھوں نے فوری طور پر بچے پیدا کرنے کی درخواست کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اپیل تمل ناڈو کی سیاسی، معاشی اور پارلیمانی مستقبل کے لئے انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ آبادی کے لحاظ سے پارلیمانی سیٹوں کی حد بندی میں ممکنہ تبدیلیوں کا اثر تمل ناڈو کی نمائندگی پر پڑ سکتا ہے، اور اس سے ریاست کو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔وزیر اعلیٰ اسٹالن نے اپنی بات میں اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر ملک بھر میں پارلیمانی سیٹوں کی حد بندی آبادی کی بنیاد پر کی جاتی ہے، تو اس سے تمل ناڈو کو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔ اسٹالن کا کہنا ہے کہ ریاست میں آبادی کی شرح نمو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کم ہے، جس کا اثر پارلیمنٹ میں اس کی نمائندگی پر پڑ سکتا ہے۔ انھوں نے مزید وضاحت کی کہ اگر حد بندی کا عمل آبادی کے تناسب پر مبنی ہوتا ہے تو تمل ناڈو کی لوک سبھا کی سیٹوں کی تعداد میں کمی آ سکتی ہے، جس سے ریاست کی پارلیمنٹ میں نمائندگی میں کمی ہوگی۔

    ایم کے اسٹالن نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ ماضی میں ریاستی حکومتیں اور عوام بچوں کی پیدائش کے بارے میں زیادہ حساس نہیں تھے اور بچوں کے پیدا کرنے پر زور نہیں دیا جاتا تھا۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں اور وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ اب ضروری ہے کہ ریاستی عوام فوراً بچے پیدا کریں تاکہ مستقبل میں تمل ناڈو کی نمائندگی میں کمی نہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ پہلے ہم لوگوں سے کہتے تھے کہ آرام سے بچے پیدا کریں، لیکن اب ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ فوراً بچے پیدا کریں تاکہ پارلیمنٹ میں ریاست کی طاقت کو برقرار رکھا جا سکے۔

    اسٹالن نے کہا کہ اس معاملے پر غور کرنے کے لیے 5 مارچ کو ایک کل جماعتی میٹنگ طلب کی گئی ہے۔ اس میٹنگ میں تمام سیاسی جماعتوں کو شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ مل کر اس مسئلے کا حل تلاش کر سکیں۔ وزیر اعلیٰ نے اپیل کی کہ تمام جماعتیں اپنے سیاسی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اس معاملے پر اتحاد کا مظاہرہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ تمل ناڈو کے مستقبل کے لیے بہت اہم ہے اور ریاست کی پارلیمانی نمائندگی کے لیے اس کا حل نکالنا ضروری ہے۔

  • اسرائیلی وزیراعظم کی حماس کو سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیلی وزیراعظم کی حماس کو سنگین نتائج کی دھمکی

    اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو سخت خبردار کیا ہے کہ اگر غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا گیا، تو حماس کو اس کے سنگین اور ناقابل تصور نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو نے پیر کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ میں خطاب کرتے ہوئے حماس سے کہا کہ "اگر تم نے ہمارے یرغمالیوں کو رہا نہ کیا، تو تمہیں ایسے نتائج بھگتنا ہوں گے جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔”نیتن یاہو نے اس دوران غزہ پٹی میں جنگ کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ اسرائیل اس کے اگلے مرحلے کے لیے تیار ہو رہا ہے۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسرائیل جنگ کے آئندہ مرحلے میں پیش قدمی کے لیے تمام ضروری تیاریاں کر رہا ہے اور یہ جنگ رکنے والی نہیں ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دور اندیشی کی بھی حمایت کی، خاص طور پر غزہ پٹی کے بارے میں۔

    اس خطاب کے دوران اسرائیلی پارلیمنٹ میں یرغمالیوں کے لواحقین نے شدید احتجاج کیا اور وزیر اعظم کے خلاف نعرے بازی کی۔ اس دوران سکیورٹی اہلکاروں اور یرغمالیوں کے لواحقین کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

    یاد رہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام ہفتے کو ہوا تھا، جس کے بعد اسرائیل نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں عارضی توسیع کا اعلان کیا تھا، لیکن اس شرط پر کہ حماس جنگ بندی کا دوسرا مرحلہ شروع کرنے سے قبل مزید یرغمالیوں کو رہا کرے۔ تاہم حماس نے اسرائیل کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں توسیع سے انکار کر دیا۔

    حماس کے سینیئر عہدیداروں نے کہا کہ حماس نے پہلے ہی طے شدہ معاہدے کے تحت اسرائیلی یرغمالیوں کو مرحلہ وار رہا کرنے کی بات کی ہے، اور اس میں کسی بھی قسم کی توسیع پر وہ راضی نہیں ہیں۔

    اسرائیل کی جانب سے حماس کے انکار کے بعد، اسرائیل نے غزہ میں کھانے پینے اور دیگر سامان کی ترسیل روک دی ہے۔ اس حوالے سے اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں حماس نے 25 یرغمالیوں اور 8 لاشوں کو اسرائیل کے حوالے کیا، جس کے بدلے اسرائیل نے تقریباً 1800 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا۔

    رپورٹس کے مطابق حماس نے 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 251 افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ ان میں سے 58 افراد اب بھی غزہ میں موجود ہیں، جن میں 34 افراد وہ ہیں جنہیں اسرائیلی فوج مردہ قرار دے چکی ہے۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق، وزیر اعظم نیتن یاہو نے حماس پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے تاکہ وہ جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں اسرائیلی شرائط کے مطابق توسیع قبول کرے۔

  • خون دے کر دو لاکھ سے زائد بچوں کی جان بچانےوالےجیمز ہیریسن کی وفات

    خون دے کر دو لاکھ سے زائد بچوں کی جان بچانےوالےجیمز ہیریسن کی وفات

    جیمز ہیریسن، ایک مشہور آسٹریلوی خون کے عطیہ دہندہ جنہیں دو لاکھ سے زائد بچوں کی جان بچانے کا اعزاز حاصل تھا، 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    ہیریسن کے پلازما میں ایک نایاب اور قیمتی اینٹی باڈی، Anti-D، موجود تھی، جو کہ خون کے عطیات میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس اینٹی باڈی کی موجودگی کی بدولت ہیریسن نے ایک ہزار ایک سو سے زائد بار خون کا عطیہ دیا۔ آسٹریلین ریڈ کراس لائف بلڈ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں ان کے انتقال کی تصدیق کی۔

    "گولڈن آرم والے انسان” کے طور پر معروف ہیریسن کی 17 فروری کو سڈنی کے شمال میں واقع ایک نرسنگ ہوم میں موت ہوئی،ہیریسن کی انسان دوستی کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب انہیں 14 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کی سرجری کے بعد متعدد خون کی منتقلیاں کرنی پڑیں۔ انہوں نے 18 سال کی عمر میں پلازما عطیہ کرنا شروع کیا اور 81 سال کی عمر تک، جو آسٹریلیا میں خون کے عطیات دینے کی سب سے بڑی عمر ہے، ہر دو ہفتے میں خون کا عطیہ دیتے رہے۔آسٹریلین ریڈ کراس لائف بلڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹیفن کارنیلیسن نے ہیریسن کی نیک نیتی کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا، "جیمز ایک بے مثال، انسان دوست اور سخاوت سے بھرپور شخصیت کے مالک تھے، جو اپنے پورے زندگی کے دوران دوسروں کی مدد کے لیے مصروف رہے۔ انہوں نے دنیا بھر میں بے شمار لوگوں کے دل جیتے۔”

    ہیریسن کی بیٹی، ٹریسی میلشپ نے کہا، "میرے والد ایک حقیقی انسان دوست تھے۔” انہوں نے مزید کہا، "میں خود بھی Anti-D کا وصول کنندہ ہوں، اور ان کی قیمتی عطیات کی بدولت ہماری فیملی کا وجود ممکن ہوا، جس کے بغیر ہم موجود نہ ہوتے۔”

    Anti-D وہ دوا ہے جو حاملہ خواتین کو دی جاتی ہے جن کے خون میں ریسس بیماری (Rhesus Disease) کا خطرہ ہوتا ہے۔ یہ بیماری اس وقت پیدا ہوتی ہے جب حاملہ خاتون کا خون ریسس نیگیٹو ہوتا ہے اور اس کے بچے کا خون ریسس پازیٹو ہوتا ہے۔ اگر ماں میں ریسس پازیٹو خون سے حساسیت پیدا ہو جائے، تو وہ اینٹی باڈیز پیدا کر سکتی ہیں جو بچے کے خون کے خلیات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ اس کی بدترین صورت میں بچے دماغی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں یا مر بھی سکتے ہیں۔جیمز ہیریسن کی اینٹی باڈی سے تیار ہونے والی Anti-D دوا ان خواتین کو ریسس اینٹی باڈیز سے بچاتی ہے جو ریسس نیگیٹو خون رکھتی ہیں۔

    آسٹریلوی حکام نے ہیریسن کی اینٹی باڈی کی دریافت کو ایک انقلابی قدم قرار دیا۔ جیمما فالکنمائر، آسٹریلین ریڈ کراس بلڈ سروس کی نمائندہ نے 2015 میں سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا، "آسٹریلیا میں 1967 تک ہر سال ہزاروں بچے مر جاتے تھے اور ڈاکٹر نہیں جانتے تھے کہ کیوں۔ خواتین متعدد مرتبہ اسقاط حمل کا سامنا کر رہی تھیں اور بچے دماغی نقصان کے ساتھ پیدا ہو رہے تھے۔”

    ہیریسن کو اپنے انسان دوست کام کی بدولت کئی اعزازات اور ایوارڈز سے نوازا گیا، جن میں آسٹریلیا کے سب سے بڑے اعزازات میں سے ایک، "میڈل آف دی آرڈر آف آسٹریلیا” شامل ہے۔ ان کا انتقال آسٹریلیا کے لیے ایک بڑے نقصان کے طور پر محسوس کیا جا رہا ہے، لیکن ان کی انسان دوستی کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

  • ٹرمپ نے یوکرین کے لیے تمام فوجی امداد روک دی

    ٹرمپ نے یوکرین کے لیے تمام فوجی امداد روک دی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا اعلان وائٹ ہاؤس کے ایک عہدے دار نے کیا۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی توجہ اب یوکرین میں امن قائم کرنے پر مرکوز ہے، اور اس مقصد کے لیے امریکا کے شراکت داروں کو بھی اپنی پوزیشن واضح اور پرعزم کرنی ہوگی۔

    وائٹ ہاؤس کے عہدے دار نے مزید کہا کہ "ہم نے اپنی امداد روک دی ہے اور اس کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ہماری امداد کسی مثبت حل کا حصہ بن رہی ہے۔” اس فیصلے کے ذریعے صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلی کی طرف اشارہ کیا ہے، جو یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ کے پس منظر میں اہمیت اختیار کرتا ہے۔

    اس سے قبل پیر کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی کو ایک سخت پیغام دیا تھا۔ انہوں نے زیلنسکی کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ روس کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ نہیں کرتے تو ان کے لیے امریکا میں مزید قیام مشکل ہو جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "اگر کوئی شخص اس معاہدے پر راضی نہیں ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ وہ زیادہ دیر یہاں نہیں رہ سکے گا۔”

    امریکی صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں جنگ بندی کے حوالے سے معاہدہ جلد ہو سکتا ہے، اور یہ معاہدہ زیادہ مشکل نہیں ہونا چاہیے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر یوکرینی قیادت اس معاہدے میں شامل ہونے کو تیار نہیں ہے، تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات میں مزید مشکلات کا سامنا کریں گے۔

    جمعہ کے روز یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی واشنگٹن پہنچے تھے، جہاں ان کی ملاقات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی تھی۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کا ارادہ کیا تھا، جس کے تحت یوکرین کے وسیع معدنی وسائل کو مشترکہ طور پر استعمال کیا جانا تھا۔ یہ معاہدہ ایک امریکی ثالثی امن معاہدے کا حصہ تھا جو جنگ کے بعد کی بحالی کے منصوبے کا حصہ تھا۔لیکن، وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر اور یوکرینی صدر کے درمیان ملاقات میں گرما گرم بحث کے بعد اس معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے، اور ملاقات کو منسوخ کر دیا گیا۔ اس صورتحال نے یوکرین کے لیے امریکی پالیسی میں غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیا ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ آئندہ عالمی تعلقات میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

    امریکی صدر کا یوکرین کے لیے فوجی امداد روکنے کا فیصلہ اور یوکرینی صدر کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی عالمی سطح پر ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کر رہا ہے۔ یہ اقدام اس بات کا غماز ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین میں جاری بحران کے حل کے لیے مزید دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی یوکرین کی حکومت کے ساتھ روابط میں دراڑیں بھی دکھائی دے رہی ہیں۔

    قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز کہا کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی کو روس کی فوجی جارحیت کے خلاف امریکہ کی حمایت کا "زیادہ قدردانی” کرنی چاہیے، اس کے بعد جب دونوں کے درمیان عوامی طور پر تعلقات میں تناؤ آیا۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، "میرے خیال میں انہیں زیادہ قدردانی کرنی چاہیے، کیونکہ اس ملک نے ہر حالت میں ان کا ساتھ دیا ہے۔”جب ان سے سوال کیا گیا کہ واشنگٹن اور کیف کے درمیان معدنیات کے معاہدے، جو تنازعہ کے خاتمے کی جانب ایک قدم تھا، اب ختم ہو چکا ہے تو ٹرمپ نے جواب دیا: "نہیں، مجھے ایسا نہیں لگتا۔”ٹرمپ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا وہ یوکرین کو فوجی امداد روکنے پر غور کر رہے ہیں تو انہوں نے کہا: "میں نے ابھی تک اس پر بات نہیں کی ہے۔”انہوں نے مزید کہا: "میرے خیال میں ابھی ہمیں دیکھنا ہوگا کہ کیا ہوتا ہے۔ بہت ساری چیزیں ابھی ہو رہی ہیں۔”

    ٹرمپ نے کہا، "میں مطلب یہ ہے کہ بلکل جیسے ہم بات کر رہے ہیں، میں آپ کو ایک جواب دے سکتا ہوں اور پھر واپس اپنے دفتر — خوبصورت اوول آفس — میں جا کر پتہ چل سکتا ہے کہ وہ جواب غیر متعلق ہو چکا ہے۔”

  • عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ

    عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ

    اسلام آباد: اڈیالہ جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کے لیے پمز اسپتال کے چار ڈاکٹروں پر مشتمل ایک ٹیم اڈیالہ جیل پہنچی، جہاں انہوں نے عمران خان کا مکمل طبی معائنہ کیا۔

    جیل ذرائع کے مطابق، پمز اسپتال کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کا طبی معائنہ کرنے کے بعد انہیں کچھ دوائیاں تجویز کی ہیں تاکہ ان کی صحت بہتر ہو سکے۔ ڈاکٹروں کی ٹیم نے تقریباً آدھ گھنٹہ تک عمران خان کا معائنہ کیا۔اس دوران جیل حکام نے بتایا کہ ڈاکٹروں کی ٹیم نے عمران خان کے بارے میں تفصیل سے رپورٹ تیار کی، جس کے بعد وہ واپس روانہ ہوگئی۔

    دوسری جانب عمران خان کی جیل میں ملاقاتوں کے شیڈول کے بارے میں درخواست پر فیصلہ بھی محفوظ کر لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عدالت میں اس درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عمران خان کی ملاقاتوں کے شیڈول میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کی درخواست کی گئی تھی۔

  • حکمرانوں کی ترجیحات  وطن عزیز کی خوشحالی اور مضبوط دفاع ہونا چاہئے،حافظ طلحہ سعید

    حکمرانوں کی ترجیحات وطن عزیز کی خوشحالی اور مضبوط دفاع ہونا چاہئے،حافظ طلحہ سعید

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے کہا ہے کہ ایٹمی پاکستان عالم اسلام کا محافظ ہے.حکمرانوں کی ترجیحات اپنی جیبیں بھرنے کی بجائے وطن عزیز کی خوشحالی اور مضبوط دفاع ہونا چاہئے. نئی نسل کو قیام پاکستان کے مقاصد سے صحیح طور پر آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ پاکستان بھر میں سحر و افطار دسترخوان لگا کر لاکھوں افراد کو سحری و افطاری کروا رہی ہے.خدمت کا رمضان،خدمت کی سیاست کا سفر جاری رکھیں گے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے مقامی ہوٹل میں افطار ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا.اس موقع پر پاکستان مرکزی مسلم لیگ اسلام آباد کے صدر انعام الرحمن کمبوہ بھی موجود تھے،افطار ڈنر میں مختلف سیاسی، سماجی اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی .حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ پاکستان رب کا انعام، 27 رمضان کووجود میں آیا. قیام پاکستان کے لئے لاکھوں افراد کی قربانیاں دی گئیں. بانی پاکستان نے قیام پاکستان کے وقت جو خواب دیکھا تھا اسکی تکمیل آزادی کشمیر سے ہو گی. کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے.سیاسی جماعتیں پاکستان میں کرسی کیلئے دست و گریبان ہیں عوام کی کسی کو فکر نہیں. مرکزی مسلم لیگ پاکستان بھر میں عوام کی خدمت کر رہی ہے . خدمت کا رمضان مہم کے تحت پاکستان بھر میں ہزاروں سحر و افطار دسترخوان لگائے ہیں جن پر لاکھوں افراد سحر ی و افطاری کر رہے ہیں.

    حافظ طلحہ سعید کا مزید کہنا تھا کہ رمضان المبارک رحمتوں، برکتوں او رسعادتوں والامہینہ ہے۔ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عقائد و اعمال کی اصلاح کرے اور قرآن پاک سے اپنے تعلق کو مضبوط بنائیں۔روزے کا اصل مقصد بھوکا اور پیاسا رہنا نہیں بلکہ تقویٰ کا حصول ہے، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی والے کاموں کو ترک کیاجائے۔ زیادہ سے زیادہ توبہ و استغفارکو اپنا معمول بنایاجائے اور ملک و ملت کی سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں ومظلوم مسلمانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے۔

  • چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کا آغاز

    چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کا آغاز

    چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کا آغاز کر دیا گیا

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کے مختلف نمبر بتانے پر فری سولر پینل سکیم کی خودکار ڈیجیٹل قرعہ اندازی کی گئی،سی ایم پنجاب فری سولر پینل سکیم کے تحت سال بھر میں 94483 سولر سسٹم لگائے جائیں گے .وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے فری سولر پینل سکیم میں کامیابی حاصل کرنے والے خوش نصیب صارفین کو مبارکباد دی،وزیراعلی مریم نواز شریف نے سولر پینل انسٹالیش پراسیس جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی .فزیکل ویری فکیشن کے بعد مارچ کے آخر میں صوبہ بھر میں سولر سسٹم کی انسٹالیشن شروع ہو گی، جولائی کے آخرتک فری سولر پینل سکیم کا پہلا فیز مکمّل ہو جائے گا.

    سیکرٹری انرجی نے چیف منسٹر پنجاب فری سولر پینل سکیم کے بارے میں بریفنگ دی اور بتایا کہ صوبہ میں ماہانہ 200 یونٹ تک صرف کرنے والے صارفین کے لئے سولر سسٹم مفت انسٹال کیا جائے گا۔فری سولر پینل سکیم کے لئے 861000 صارفین نے اپلائی کیا۔ فری سولر پینل سکیم کا تمام پراسیس اینڈ ٹو اینڈ ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے مکمل کیا گیا۔0.55کلوواٹ کے 47182 اور 1.1 کلوواٹ کے 47301 سسٹم انسٹال کئے جائیں گے۔100یونٹ ماہانہ اور 200یونٹ تک ماہانہ بجلی صرف کرنے والے صارفین کو سولر سسٹم مفت دیاجائے گا۔ صارفین کے ماہانہ بل پر درج ریفرنس نمبر اور سی این آئی سی نمبر سے ویری فکیشن کی جائے گی۔فری سولر پینل حاصل کرنے والے صارفین کی معاونت او ررہنمائی کے لئے ہیلپ لائن بھی قائم کی گئی ہے۔سولر پینل اور انورٹر کو چوری سے بچانے کے لئے صارف کے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ سے منسلک کیا جائے گا۔پنجاب میں تقریباً ایک لاکھ سولر سسٹم انسٹال کرنے سے 57ہزار ٹن کاربن کااخراج کم ہوگا۔فری سولرپینل سکیم سے وفاقی حکومت پر بھی سبسڈی کا بوجھ کم ہوگا۔

  • خاتون نے سوکن کو قتل کر کے لاش بوری میں چھپا دی

    خاتون نے سوکن کو قتل کر کے لاش بوری میں چھپا دی

    لاہور کے علاقے لیاقت آباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں گھریلو تنازع کے نتیجے میں ایک خاتون نے اپنی سوکن کو قتل کر دیا۔

    پولیس کے مطابق ملزمہ نے گھریلو ناچاقی کے باعث بیلن کے وار کرکے اپنی سوکن کی جان لے لی۔ واردات کے بعد مقتولہ کی لاش کو ایک بوری میں بند کرکے گھر کی چھت پر چھپا دیا گیا۔واقعے کا انکشاف اس وقت ہوا جب علاقے میں بدبو پھیلنے لگی۔ اہلِ محلہ نے جب غیر معمولی تعفن محسوس کیا تو پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش کا آغاز کیا اور تحقیقات کے بعد خاتون کو گرفتار کر لیا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ مزید شواہد حاصل کیے جا سکیں۔ گرفتار خاتون سے مزید تفتیش جاری ہے اور اس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔

    یہ واقعہ گھریلو جھگڑوں کے بڑھتے ہوئے رجحان اور ان کے خطرناک نتائج کی نشاندہی کرتا ہے۔ پولیس اور سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ گھریلو مسائل کے حل کے لیے صبر و تحمل اور قانونی ذرائع اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ ایسے افسوسناک سانحات سے بچا جا سکے۔