Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ تواتر سے جاری

    افغانستان سے پاکستان میں دراندازی کا سلسلہ تواتر سے جاری

    اسلام آباد: پاکستان میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں افغان دہشتگردوں کے ملوث ہونے میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق، افغانستان کی سرزمین دہشتگردوں کے لیے محفوظ جنت بن چکی ہے جہاں سے یہ اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    28 فروری 2025 کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے غلام خان کلے میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران 14 دہشتگردوں کو جہنم واصل کیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ان میں افغان دہشتگرد بھی شامل تھے۔ ان ہلاک دہشتگردوں میں ایک افغان دہشتگرد کی شناخت منظر عام پر آئی ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق، ہلاک افغان دہشتگرد کی شناخت مجیب الرحمان عرف منصور ولد مرزا خان کے نام سے ہوئی ہے۔ وہ افغانستان کے ضلع چک، صوبہ میدان وردک کا رہائشی تھا۔ مزید برآں، وہ افغانستان کی حضرت معاذ بن جبل نیشنل ملٹری اکیڈمی کی تیسری بٹالین کا کمانڈر تھا۔

    اس سے قبل بھی افغان دہشتگرد مارے جا چکے ہیں،30 جنوری 2025 کو بھی پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ایک اور افغان دہشتگرد بدرالدین ولد مولوی غلام محمد کو ڈی آئی خان میں ایک آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، بدرالدین افغان فوج میں لیفٹیننٹ تھا اور وہ صوبہ باغدیس کے ڈپٹی گورنر کا بیٹا تھا۔

    سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان شہریوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں علاج یا تعلیم کے نام پر آتی ہے، لیکن وہ فتنہ الخوارج کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کئی افغان دہشتگرد اپنی مرضی سے بھی اس تنظیم میں شامل ہو رہے ہیں۔

    دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان عبوری حکومت کے کئی اہلکار بشمول تحریک طالبان افغانستان کے سابق کمانڈرز، دہشتگرد تنظیموں بشمول فتنہ الخوارج سے گہرے روابط رکھتے ہیں۔ فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں کے پاس جدید ہتھیاروں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے درمیان مضبوط گٹھ جوڑ ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق، افغانستان ہر قسم کے دہشتگردوں کی افزائش گاہ بن چکا ہے۔ افغان عبوری حکومت کے اہلکار پاکستان میں دہشتگردانہ حملوں کے لیے فتنہ الخوارج کی مکمل سہولت کاری کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث ہونے کے بجائے افغان عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے، خاص طور پر صحت اور تعلیم کے شعبے میں، کیونکہ افغان عوام گزشتہ تین سالوں سے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق، فتنہ الخوارج کے ساتھ پاکستان میں گھسنے والے زیادہ تر افغان شہری یا تو مارے جاتے ہیں یا پکڑے جاتے ہیں۔ افغان عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو فتنہ الخوارج کی دہشتگردانہ سرگرمیوں سے دور رکھیں تاکہ وہ ایک بہتر اور محفوظ مستقبل کی طرف بڑھ سکیں.

  • کرکٹ میں مسلسل ہار… بابر اعظم پیڈل ٹینس کھیلنے لگے

    کرکٹ میں مسلسل ہار… بابر اعظم پیڈل ٹینس کھیلنے لگے

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان بابر اعظم نے حالیہ عرصے میں اپنی کارکردگی کے حوالے سے تنقید کا سامنا کیا ہے اور مسلسل آؤٹ آف فارم رہنے کے بعد اب انہوں نے پیڈل ٹینس کھیلنا شروع کر دیا ہے۔

    بابر اعظم نے اپنے دوستوں امام الحق، عثمان قادر اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ پیڈل ٹینس کی کھیل کا لطف اٹھایا۔ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کی ٹیم کو باہر ہونے کے بعد کھلاڑی اپنے گھروں کو واپس پہنچ چکے ہیں۔ بابر اعظم نے اس فارغ وقت کو پیڈل ٹینس کھیل کر گزارا۔بابر اعظم کی اس موقع پر تصویر سامنے آئی ہے جس پر شائقین کرکٹ کا کہنا ہے کہ بابر اعظم نے کرکٹ میں جو کیا اب ان کو پیڈل ٹینس ہی کھیلنا چاہئے،

    پاکستان کرکٹ ٹیم کی اگلی اہم اسائنمنٹ نیوزی لینڈ کا دورہ ہے، جس میں قومی کھلاڑیوں کی تیاری جاری ہے۔ تاہم، ذرائع کے مطابق بابر اعظم کی ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں شمولیت کا امکان بہت کم ہے۔ ٹیم مینجمنٹ کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

    اس کے علاوہ، بابر اعظم کی ون ڈے اسکواڈ میں شمولیت کے بارے میں بھی ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس دورے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو ٹی ٹونٹی اسکواڈ میں شامل کیا جائے گا تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ تجربہ حاصل ہو۔

  • سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا ہے کہ سوال یہ نہیں کہ 105 ملزمان کو ملٹری ٹرائل کے لیے منتخب کیسے کیا، معاملہ یہ ہے کیا قانون ملٹری ٹرائل کی اجازت دیتا ہے؟جسٹس امین الدین نے وکیل سے کہا کہ ملزمان کی حوالگی رکارڈ کامعاملہ ہے، کیا آپ نے آرمی ایکٹ کے سیکشن 94 کو چیلنج کیا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کے وقت جرم کا تعین نہیں ہوا تھا، سیکشن 94 کی لامحدود صوابدیدی اختیار کو بھی چیلنج کیا ہے، ملزمان کی ملٹری حوالگی کا فیصلہ کرنے والے افسر کے اختیارات لامحدود ہیں، پاکستان میں وزیرِ اعظم کا اختیار لامحدود نہیں، ملزمان کی حوالگی کے اختیارات کا اسٹرکچر ہونا چاہیے۔

    جسٹس حسن اظہر نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا پولیس کی تفتیش آہستہ اور ملٹری کی تیز تھی؟ کیا ملزمان کی حوالگی کے وقت مواد موجود تھا،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ مواد کا ریکارڈ پر ہونا نہ ہونا مسئلہ نہیں، ساری جڑ ملزمان کی حوالگی کا لامحدود اختیار ہے، کمانڈنگ افسر سیکشن 94 کے تحت حوالگی کی درخواست دیتا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا انسداد دہشت گردی کی عدالت حوالگی کی درخواست مسترد کر سکتی ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت کو ملزمان کی حوالگی کی درخواست مسترد کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس امین الدین نے کہا کہ یہ دفاع تو ملزمان کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی عدالت یا اپیل میں اپنایا جا سکتا تھا۔جسٹس محمد علی نے سوال کیا کہ کیا عدالت نے ملزمان کو نوٹس کیے بغیر کمانڈنگ افسر کی درخواست پر فیصلہ کر دیا تھا،جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے کہا کہ سیکشن 94 کا اطلاق ان ملزمان پر ہو گا جو آرمی ایکٹ کے تابع ہیں، اے ٹی سی فیصلے کے بعد ملزمان آرمی ایکٹ کے تابع ہو گئے، اے ٹی سی کمانڈنگ افسر کی درخواست کو مسترد بھی کر سکتی تھی۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ ملزمان کی حوالگی سے قبل ہونا تھا، اگر کورٹ مارشل کا فیصلہ نہیں ہوا تو ملزمان کی حوالگی کیسے ہو سکتی ہے؟جسٹس حسن اظہر نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا کمانڈنگ افسر کی درخواست میں حوالگی کی وجوہات بتائی گئیں؟وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ کمانڈنگ افسر کی درخواست میں کوئی وجہ بیان نہیں کی گئی۔جسٹس نعیم اختر نے کہا کہ ملزمان کی حوالگی کی درخواست میں وجوہات بتائی گئیں، درخواست میں بتایا گیا کہ ملزمان پر آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے جرائم ہیں۔

  • فلم ’انورا‘ نے 5 آسکر ایوارڈز اپنے نام کر لیے

    فلم ’انورا‘ نے 5 آسکر ایوارڈز اپنے نام کر لیے

    ہالی ووڈ کی رومینٹک کامیڈی ڈرامہ فلم ’انورا‘ نے 97 ویں آسکر ایوارڈز کی تقریب میں شاندار کامیابی حاصل کرتے ہوئے 5 آسکر ایوارڈز اپنے نام کر لیے۔ یہ تقریب اتوار کو امریکی شہر لاس اینجلس کے مشہور ڈولبی تھیٹر میں منعقد ہوئی۔

    آسکر ایوارڈز کی اس سال کی تقریب میں 23 مختلف کیٹیگریز میں مقابلے ہوئے، جن میں سب سے زیادہ ایوارڈز حاصل کرنے والی فلم ’انورا‘ رہی، جس نے 5 ایوارڈز جیتے۔ فلم ’انورا‘ کو بہترین فلم، بہترین ہدایت کار، بہترین اداکارہ، بہترین ایڈیٹنگ، اور بہترین اوریجنل اسکرین پلے کی کیٹیگریز میں ایوارڈز دیے گئے۔فلم ’انورا‘ کی کامیابی کے ساتھ ہی دوسری فلمیں بھی نمایاں رہیں، جن میں ’دی بروٹلِسٹ‘ نے 3 ایوارڈز حاصل کیے جبکہ ’وکڈ، امیلیا پیرز‘ اور ’ڈیون پارٹ ٹو‘ نے 2، 2 ایوارڈز جیتے۔سب سے زیادہ ایوارڈز جیتنے والی فلم ’انورا‘ کے ہدایت کار سین بیکر نے بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ جیتا۔ اس کے علاوہ، فلم ’انورا‘ کی اداکارہ میکی میڈیسن نے بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا، جو کہ ایک شاندار کامیابی تھی۔فلم ’دی بروٹلِسٹ‘ کے اداکار ایڈرین بروڈی کو بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا، جو ان کی شاندار پرفارمنس کا عکاس ہے۔

    آسکر ایوارڈز کی یہ تقریب ہالی ووڈ کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی، جہاں فلم انڈسٹری کے بہترین فنکاروں اور تخلیق کاروں کو ان کی محنت کا صلہ ملا۔

  • اسرائیل نے غزہ میں امدادی ٹرکوں کا داخلہ روک دیا

    اسرائیل نے غزہ میں امدادی ٹرکوں کا داخلہ روک دیا

    اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں امدادی ٹرکوں کا داخلہ روک دیا ہے جس کے باعث جنگ بندی کے معاہدے پر نیا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ حماس نے اس صورتحال میں مصر اور قطر سے ثالثی کی درخواست کی ہے تاکہ موجودہ جنگ بندی معاہدے کو برقرار رکھا جا سکے۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف کی تجویز کو اپنایا ہے، جس کے تحت رمضان اور پاس اوور کے دوران جنگ بندی کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم، اسرائیل کا مطالبہ یہ ہے کہ حماس پہلے مرحلے میں زندہ اور مردہ یرغمالیوں کا نصف رہا کرے، اور باقی افراد کو جنگ بندی کے مستقل معاہدے کے بعد رہا کیا جائے۔حماس نے اسرائیلی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اصل جنگ بندی معاہدے پر قائم ہے، جس کے مطابق مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں مستقل جنگ بندی پر غور کیا جانا تھا۔ حماس کے مطابق 42 دن کی عارضی جنگ بندی میں توسیع ناقابل قبول ہے۔

    غزہ میں امدادی سامان کی بندش کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ مقامی حکام اور انسانی حقوق کے ادارے مطالبہ کر رہے ہیں کہ امدادی ٹرکوں کو فوراً داخل ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ خوراک، پانی اور ادویات کی کمی پوری کی جا سکے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ کے فلسطینیوں کے لیے تمام قسم کی امداد لے جانے پر پابندی عائد کرنے کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر دی ہے۔

    عرب میڈیا کے مطابق 5 غیر سرکاری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے درخواستیں دائر کی ہیں جس میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت غزہ میں امدادی سامان کے داخلے پر پابندی کے فیصلے کو روکنے کے لیے عبوری حکم جاری کرے۔ان درخواستوں میں شامل انسانی حقوق کی تنظیم "گیشا” نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل ایک بار پھر غزہ کی تمام کراسنگز پر اپنا کنٹرول استعمال کر رہا ہے اور جنگی ہتھیار کے طور پر امدادی سامان کی رسائی روک رہا ہے، جس میں خوراک، ادویات اور دیگر ضروری سامان شامل ہیں۔گیشا کی جانب سے مزید کہا گیا کہ غزہ کی پٹی میں 20 لاکھ افراد مقیم ہیں جن میں نصف بچے ہیں اور ان کی امداد روکنا جنگی جرم کے مترادف ہے۔

    غزہ میں جنگ بندی کے پہلے مرحلے کا اختتام ہفتے کو ہوا تھا، اور اس کے بعد اسرائیل نے یکطرفہ طور پر جنگ بندی میں عارضی توسیع کا اعلان کیا تھا۔ اس شرط پر کہ حماس جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز کرے بغیر مزید یرغمالیوں کو رہا کرے۔ حماس کے انکار کے بعد اسرائیل نے گزشتہ روز غزہ میں امدادی سامان کا داخلہ روک دیا، جس کے باعث انسانی بحران مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس،   اسلحہ کی تحقیقات سی ٹی ڈی سے کروانے کا فیصلہ

    مصطفیٰ عامر قتل کیس، اسلحہ کی تحقیقات سی ٹی ڈی سے کروانے کا فیصلہ

    مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں گرفتار ملزم ارمغان کے قبضے سے ملنے والے اسلحہ کی تحقیقات سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ) سے کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تفتیشی ذرائع کے مطابق، سی ٹی ڈی ملزم ارمغان کے پاس موجود غیر قانونی اسلحہ کی منبع اور اس کے حصول کے طریقے کی تحقیقات کرے گا۔

    سی ٹی ڈی اس بارے میں بھی تحقیقات کرے گا کہ ارمغان کے پاس یہ ممنوعہ اسلحہ کیسے پہنچا اور یہ کہاں سے آیا۔ اس کے علاوہ، ماضی میں اس طرح کے اسلحے کی سمگلنگ میں ملوث گرفتار ملزمان سے بھی تحقیقات کی جائیں گی تاکہ اس معاملے کی مزید تفصیلات حاصل کی جا سکیں۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ارمغان کے گھر سے چھاپے کے دوران امریکی ساختہ سنائپر گن، ایم پی گن اور رائفل برآمد کی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ، ملزم کے قبضے سے نائن ایم ایم کی 2700 سے زائد گولیاں بھی برآمد کی گئی تھیں، جو تحقیقات کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں۔سی ٹی ڈی کی تحقیقات کا مقصد اس اسلحے کی سمگلنگ، استعمال اور قتل کیس میں اس کے ممکنہ کردار کو واضح کرنا ہے تاکہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جا سکے اور ملزم کے دیگر ممکنہ روابط اور سرگرمیوں کا پتا چل سکے۔

  • خیبر پختونخوا کی عوام کا فتنہ الخوارج  کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کی عوام کا فتنہ الخوارج کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

    خیبر پختونخوا کے عوام نے فتنہ الخوارج دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔

    خیبر پختونخوا کے شہریوں نے دارالعلوم حقانیہ پر خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ الخوارج نہ صرف مساجد اور مدرسوں پر حملے کرتے ہیں بلکہ جب سکیورٹی فورسز ان کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو یہ دہشت گرد مساجد کو اپنی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ شہریوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست کو اب فتنہ الخوارج کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید تیز کرنی چاہیے کیونکہ ان دہشت گردوں سے عوام، علمائے کرام، اور حتیٰ کہ ریاست بھی محفوظ نہیں رہ سکے ہیں۔عوام نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا کے لوگ خوارج کے خلاف آپریشنز میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہیں اور ہر قدم پر ان کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ دہشت گرد عورتوں اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ اپنے مذموم مقاصد کو آگے بڑھا سکیں۔ ان کا مقصد پاکستان کے بچوں اور نوجوانوں کو علم سے محروم رکھنا ہے، اور اسی وجہ سے یہ دہشت گرد اسکولوں، مساجد اور مدرسوں پر حملے کرتے ہیں۔

    شہریوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فتنہ الخوارج مساجد کا تقدس پامال کرتے ہیں اور انہیں دہشت گردی کے مراکز میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ عوام کا کہنا تھا کہ یہ دہشت گرد کبھی مسجد میں دھماکہ کرتے ہیں، کبھی بازار میں، اور ان دھماکوں کی وجہ سے معصوم بچے، خواتین، اور بزرگ شہید ہو جاتے ہیں۔عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دارالعلوم حقانیہ پر دہشت گردی کے اس افسوسناک واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ پاکستان کو ایک پرامن ملک بنایا جا سکے۔

    یہ مطالبہ عوام کی طرف سے اس یقین کے ساتھ کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کی بھرپور حمایت کی جانی چاہیے اور اس ضمن میں حکومت کو اپنے اقدامات مزید سخت اور موثر بنانا ہوں گے۔

  • 26 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی کے 56 کارکنان کی ضمانت منظور

    26 نومبر احتجاج، پی ٹی آئی کے 56 کارکنان کی ضمانت منظور

    اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران درج مقدمات میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 56 کارکنوں کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔

    عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے ان درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے ملزمان کو پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض رہا کرنے کا حکم دیا۔یہ مقدمات تھانہ ترنول اور تھانہ کوہسار میں درج کیے گئے تھے، جن میں پی ٹی آئی کارکنوں کو چھبیس نومبر کے احتجاج کے دوران مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی کارکنوں پر الزام تھا کہ انہوں نے احتجاج کے دوران عوامی امن و امان کو متاثر کیا اور قانون کی خلاف ورزی کی۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج نے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزاروں کی ضمانت کے مقدمات میں قانون کے مطابق کارروائی کی گئی ہے اور انہیں رہائی دی جائے گی، بشرطیکہ وہ پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکے عدالت میں جمع کرائیں۔

    اس فیصلے سے پی ٹی آئی کارکنوں کے خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، جو اپنے پیاروں کی رہائی کے منتظر تھے۔

  • کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کو نو سال مکمل

    کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کو نو سال مکمل

    بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی بلوچستان سے گرفتاری کو نو سال مکمل ہوگئے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کو پاکستان میں ’حسین مبارک پٹیل‘ کے نام سے دہشت گردی کے نیٹ ورک کو چلانے کا الزام ہے۔ یہ گرفتاری دو ہزار سولہ میں پاکستان کی ایجنسیوں نے کی تھی، جب کلبھوشن کو بلوچستان کے علاقے ماشخیل سے حراست میں لیا گیا تھا۔

    کلبھوشن یادیو، جو بھارتی نیوی کا کمانڈر رینک کا حاضر سروس آفیسر تھا، نے اپنی گرفتاری کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس نے بتایا کہ اس کا مقصد پاکستان کے اہم منصوبوں، خاص طور پرسی پیک اور گوادر بندرگاہ کو نشانہ بنانا تھا۔ اس کے علاوہ، اس نے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کو تقویت دینے اور وہاں کی علاقائی سلامتی کو متاثر کرنے کی کوشش کی تھی۔

    پاکستان نے کلبھوشن یادیو کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور ریاستی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے الزامات پر گرفتار کیا تھا۔ اس کے اعترافات کے بعد بھارت کے ساتھ کلبھوشن کے معاملے پر عالمی سطح پر تنازعہ بڑھ گیا، جس میں بھارت نے پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کلبھوشن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔کلبھوشن یادیو کا کیس عالمی عدالتِ انصاف تک پہنچا تھا، جہاں بھارت نے پاکستان کے خلاف کلبھوشن کے حقوق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔ تاہم، پاکستان نے اس معاملے پر اپنی پوزیشن کو مضبوطی سے پیش کیا، اور عالمی عدالت نے بھی کلبھوشن یادیو کے کیس کی قانونی تشریح کی۔

    یہ واقعہ بھارت کی طرف سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایک اور ثبوت ہے، جس کا مقصد پاکستان کی داخلی سلامتی کو نقصان پہنچانا تھا۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے اور اس سے بھارت کی دہشت گردی میں ملوث ہونے کے شواہد فراہم ہوئے ہیں۔

  • مفت یا کم کرائے پررہائش چاہئے تو جنسی تعلق قائم کریں،خواتین کو پیشکش

    مفت یا کم کرائے پررہائش چاہئے تو جنسی تعلق قائم کریں،خواتین کو پیشکش

    آئرلینڈ میں خواتین کو رہائش کے بدلے جنسی تعلقات کی پیشکش کیے جانے کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کا سب سے زیادہ شکار بین الاقوامی طلبہ ہو رہے ہیں۔ کئی نوجوان خواتین نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ انہیں رہائش کے بدلے حیران کن اور نامناسب پیشکشیں موصول ہوئیں۔

    آئرلینڈ یورپی یونین میں واحد انگریزی بولنے والا ملک ہے، جو انگریزی سیکھنے کے خواہشمند طلبہ کے لیے ایک مقبول مقام ہے۔ اس وقت تقریباً 40,000 طلبہ وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم، ملک میں برسوں سے جاری ہاؤسنگ بحران کی وجہ سے طلبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نجی فیس بک گروپس میں دستیاب اشتہارات پر انحصار کر رہے ہیں۔برازیل سے تعلق رکھنے والی آنا پاؤلا ویانا 2022 میں انگریزی زبان سیکھنے اور ماسٹرز کرنے کے لیے ڈبلن آئیں۔ انہوں نے فیس بک پر دستیاب رہائشی اشتہارات دیکھنے کے بعد ایک شخص سے رابطہ کیا۔آنا نے بتایا، "جب میں نے اس سے کرایے کی قیمت پوچھی تو اس نے کہا کہ اگر میں ہفتے میں چند بار اس کے ساتھ سوتی ہوں تو کرایہ ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔”انہوں نے کہا کہ وہ اس پیشکش پر حیران رہ گئیں اور اس معاملے کو نظر انداز کر کے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا کیونکہ انہیں فوری طور پر رہائش درکار تھی۔ تاہم، بعد میں انہیں احساس ہوا کہ انہیں اس واقعے کی رپورٹ کرنی چاہیے تھی۔

    آئرش کونسل فار انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس (ICOS) کے مطابق، رہائش کے بدلے جنسی تعلقات کی پیشکش کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، ہر 20 میں سے ایک طالب علم کو اس طرح کی پیشکش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ICOS کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر لورا ہارمن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری قانون سازی کرے۔پچھلے سال، آئرلینڈ کی پارلیمنٹ کے تحلیل ہونے کے باعث سیکس کے بدلے کرایہ کے خلاف دو مجوزہ قوانین منسوخ ہو گئے۔ تاہم، ملک کے نئے وزیر انصاف، جم او کیلاگھن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت اس عمل کو خاص طور پر غیر قانونی قرار دینے کے لیے قانون سازی کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، وزارت انصاف اور اٹارنی جنرل اس سلسلے میں ایک مناسب قانونی مسودے پر کام کر رہے ہیں۔

    آنا پاؤلا نے اسکائی نیوز کو بتایا کہ حکومت کو جلد از جلد اس مسئلے پر قانون سازی کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا، "خصوصاً لاطینی امریکہ اور جنوبی امریکہ کی خواتین کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ مرد ہمیں حد سے زیادہ جنسی طور پر نمایاں کرتے ہیں اور اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہیں کہ ہم غیر ملکی ہیں اور یہاں کسی بھی قیمت پر رہائش حاصل کرنا چاہتے ہیں۔”

    بولیویا سے تعلق رکھنے والی طالبہ ڈارلنگ ڈوران نے بتایا کہ انہوں نے ایک آن لائن اشتہار کا جواب دیا، جس میں ایک بیڈ روم اپارٹمنٹ کا کرایہ 700 یورو (تقریباً 578 پاؤنڈ) بتایا گیا تھا۔ تاہم، جب وہ مالک مکان سے رابطے میں آئیں تو انہیں غیر متوقع پیشکش ملی۔انہوں نے بتایا، "مالک نے کہا کہ وہ رات میں کام کرتا ہے، اس لیے بستر خالی رہے گا اور میں اس میں سو سکتی ہوں۔ لیکن کبھی کبھار وہ بھی وہیں موجود ہوگا۔”ڈارلنگ نے جب اس پیشکش کو مسترد کیا تو مالک مکان نے بار بار انہیں ملاقات کے لیے بلانے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا، "یہ کوئی مذاق کی بات نہیں۔ اس لمحے میں خود کو بے حد غیر محفوظ اور پریشان محسوس کر رہی تھی۔ کسی کو بھی اس قسم کی صورت حال کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔”

    ڈبلن میں کرایے کی اوسط قیمت 2,500 یورو (تقریباً 2,064 پاؤنڈ) تک پہنچ چکی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد زیادہ ہے۔ رہائش کے محدود مواقع کے باعث بین الاقوامی طلبہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کرایے کی تلاش پر مجبور ہیں۔جب تک حکومت اس مسئلے کو روکنے کے لیے مخصوص قوانین متعارف نہیں کراتی، یہ خدشہ موجود ہے کہ بین الاقوامی طلبہ کو ایسے افراد کا سامنا کرنا پڑتا رہے گا جو ہاؤسنگ بحران کا فائدہ اٹھا کر جنسی تعلقات کی ڈیمانڈ کرتے ہیں.