Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ٹرمپ کے ریزورٹ کے قریب فضائی حدود میں طیارے داخل ہونے پر ایف سولہ کی دوڑ

    ٹرمپ کے ریزورٹ کے قریب فضائی حدود میں طیارے داخل ہونے پر ایف سولہ کی دوڑ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فلوریڈا کے معروف سیاحتی مقام مارے لاگو میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کا نیا واقعہ سامنے آیا ہے۔ تین شہری طیاروں نے مارے لاگو کے قریب فضائی حدود کی خلاف ورزی کی، جس پر فوری طور پر F-16 لڑاکا طیاروں کو علاقے سے باہر نکالنے کے لیے روانہ کیا گیا۔

    یہ واقعات 3 مختلف اوقات میں پیش آئے: صبح 11:05، دوپہر 12:10 اور 12:50 پر۔ نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (NORAD) نے اس صورت حال پر فوری رد عمل ظاہر کیا اور لڑاکا طیارے بھیجے تاکہ شہری طیاروں کو محدود فضائی حدود سے نکال سکیں۔ تاہم، یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان فضائی حدود کی خلاف ورزی کا مقصد کیا تھا یا یہ حادثاتی طور پر ہوئی۔

    یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جس میں مارے لاگو کی فضائی حدود میں خلاف ورزی کی گئی ہو۔ گزشتہ چند ہفتوں میں ایسی خلاف ورزیاں اکثر رپورٹ ہو چکی ہیں۔ خاص طور پر کچھ اہم تاریخوں کے آس پاس اس قسم کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ 15 فروری کو دو مختلف خلاف ورزیوں کی اطلاع ملی، اور 17 فروری کو یوم صدارت کے دن بھی ایسی ایک خلاف ورزی ہوئی تھی۔نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ نے ان خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے ایف-16 طیاروں کے علاوہ فلیرز کا استعمال کیا۔ فلیرز عام طور پر بغیر کسی نقصان کے ہوائی جہازوں کو محدود فضائی حدود سے باہر نکالنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    یہ واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مارے لاگو جیسے حساس اور ہائی پروفائل مقامات کے ارد گرد فضائی حدود کے انتظام میں حفاظتی خدشات برقرار ہیں۔ تاہم، بار بار ہونے والی ان خلاف ورزیوں کی کوئی واضح اور سرکاری وضاحت ابھی تک نہیں دی گئی ہے۔حکام ان خلاف ورزیوں کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ واقعات حادثاتی طور پر پیش آئے یا یہ جان بوجھ کر کیے گئے تھے۔

  • یوکرین کی حمایت میں برطانیہ میں یورپی رہنماؤں کا اجلاس، فوجی امداد  پر اتفاق

    یوکرین کی حمایت میں برطانیہ میں یورپی رہنماؤں کا اجلاس، فوجی امداد پر اتفاق

    برطانیہ میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے یورپی رہنماؤں کا ایک اہم سربراہی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں شریک رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ جب تک یوکرین اور روس کے درمیان جنگ جاری ہے، یوکرین کو فوجی امداد جاری رکھی جائے گی اور روس پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔

    اس اجلاس میں یوکرینی صدر زیلنسکی کے علاوہ کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی اور دیگر یورپی ممالک کے سربراہان شامل ہوئے۔ نیٹو کے سیکرٹری جنرل اور یورپی کمیشن اور یورپین کونسل کے صدور بھی اس اجلاس کا حصہ تھے۔ اجلاس کا مقصد روس-یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں اور یورپ کی دفاعی پوزیشن کو مستحکم کرنا تھا۔ برطانوی وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر نے اجلاس کے بعد ایک پریس بریفنگ میں بتایا کہ اس اجلاس میں چار اہم نکات پر اتفاق ہوا ہے، جب تک جنگ جاری ہے، یوکرین کو فوجی امداد فراہم کی جاتی رہے گی۔ روس پر اقتصادی دباؤ میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ اس کے جنگی اقدامات کو روکنے کی کوشش کی جا سکے۔ کسی بھی امن مذاکرات کی میز پر یوکرین کو شامل ہونا چاہیے تاکہ اس کی خودمختاری اور سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔ امن معاہدے کی صورت میں یورپی رہنماؤں کا مقصد مستقبل میں روس کے کسی بھی حملے کو روکنا ہوگا۔

    برطانوی وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ برطانوی حکومت یوکرین کو 1.6 ارب پاؤنڈ کی اضافی امداد فراہم کرے گی، جس سے یوکرین 5 ہزار سے زائد ایئر ڈیفنس میزائل خرید سکے گا۔ یہ میزائل بلفاسٹ میں تیار ہوں گے، جس سے برطانیہ کے دفاعی شعبے میں نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔سرکیئر اسٹارمر نے مزید کہا کہ یورپ کی سلامتی کے لیے یہ ضروری ہے کہ یورپ اور امریکہ ایک ساتھ کھڑے ہوں اور مل کر کام کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے اور ہم ایک نئے دور کا آغاز کر رہے ہیں جہاں ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ برطانیہ، فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے یوکرین کے ساتھ مل کر جنگ روکنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ یہ منصوبہ امریکہ کے ساتھ مشاورت کے بعد آگے بڑھایا جائے گا۔

    اس اجلاس کا مقصد یوکرین کی حمایت میں عالمی سطح پر یکجہتی اور تعاون کو فروغ دینا تھا تاکہ یوکرین کی خودمختاری اور سلامتی کو برقرار رکھا جا سکے، اور روس کے جارحانہ اقدامات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

  • سزایافتہ مجرم عمران کا ٹویٹر اکاؤنٹ کیسے چل رہا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا سوال

    سزایافتہ مجرم عمران کا ٹویٹر اکاؤنٹ کیسے چل رہا؟ مبشر لقمان نے اٹھایا سوال

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے بانی پی ٹی آئی،سابق وزیراعظم عمران خان کے جیل میں قید ہونے کے باوجود بین الاقوامی میڈیا میں مضامین شائع ہونے اور ٹویٹر اکاؤنٹ کے حوالہ سے سوالات اٹھا دیئے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں مبشر لقمان نے عمران خان کے ایکس ہینڈل پر ٹائم میں شائع ہونے والے مضمون کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” وہ جو ان کی طرف سے لکھتے ہیں، وہ خود ایک صفحہ بھی نہیں لکھ سکتے۔ ہمیں اب ایک مہم شروع کرنی چاہئے”۔مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ عوام کو بتایا جائے کہ ایک سزا یافتہ شخص جس نے مختلف معاملات میں سزا پائی، وہ کیسے اپنا ٹویٹر اکاؤنٹ چلا رہا ہے؟ یہ ٹویٹر اکاؤنٹ دراصل گولڈسمتھ خاندان اور ان کے دیگر ساتھیوں کے زیرِ انتظام ہے، اور وہ اس اکاؤنٹ کو چلانے کے لیے اس شخص کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ شخص عمران خان جو جیل میں موجود ہے، وہاں سے مضامین اور خطوط لکھ رہا ہے، حالانکہ جیل کے عملے کو اس بات کا علم نہیں کہ ان خطوط اور مضامین کو کہاں سے اور کیسے لکھا جا رہا ہے۔ یہ دراصل وہی نیٹ ورک ہے جو ان کی طرف سے مضامین لکھ رہا ہے اور ان کے ذریعے پیسہ کما رہا ہے۔

    https://x.com/mubasherlucman/status/1896279854582059024

    واضح رہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو مختلف مقدمات میں سزا ہو چکی ہے اور وہ اڈیالہ جیل میں ہیں، عمران خان کے مختلف اخبارات میں مضامین شائع ہوتے رہتے ہیں،ان مضامین کا جیل سے باہر جانا اور اخبارات میں شائع ہونا جیل حکام کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان ہے.عمران خان کے جیل میں ہونے کے باوجود ان کا ٹویٹر اکاؤنٹ بھی مسلسل چل رہا ہے جس سے پاکستان اور پاکستانی اداروں کے خلاف توہین آمیز پوسٹ کی جاتی ہیں.

  • قذافی سٹیڈیم،لاہور کی پہلی بارش برداشت نہ کر سکتا،چھت سے پانی ٹپکنے لگا

    قذافی سٹیڈیم،لاہور کی پہلی بارش برداشت نہ کر سکتا،چھت سے پانی ٹپکنے لگا

    لاہور: قذافی اسٹیڈیم، جو کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی تیاری کے لئے ریکارڈ وقت میں مکمل کیا گیا تھا، کی تعمیراتی معیار کا پول بارش نے کھول دیا ہے۔

    لاہور میں ہونے والی بارش نے اس اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن کے دوران کی جانے والی جلد بازی اور تعمیراتی معیار کے حوالے سے سوالات اٹھا دیے ہیں۔آج کل لاہور میں خوشگوار موسم جاری ہے ،وقفے وقفے سےبارش بھی ہو رہی ہے۔ اسی دوران، قذافی اسٹیڈیم کے ایک وی آئی پی انکلوژر کے واش روم کی چھت سے پانی ٹپکنا شروع ہوگیا۔ لاہور میں ہونے والی پہلی موسلادھار بارش نے قذافی سٹیڈیم کی تعمیر کا پول اس وقت کھول دیا جب چیمپیئنز ٹرافی کا 10 واں میچ آسٹریلیا اور افغانستان کی ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا ، میچ کے دوران موسلادھار بارش کے باعث ایک وی آئی پی انکلوژر کی سلیب سے پانی نیچے جانا شروع ہو گیا ، وی آئی پی انکلوژر کی سیڑھیوں کے نیچے واقع باتھ روم کی چھت سے بھی پانی بہنا شروع ہو گیا ۔ تقریباً آدھ گھنٹے تک جاری رہنے والی بارش کے باعث سٹیڈیم کے اندر بڑی مقدار میں پانی کھڑا ہونے کی وجہ سے میچ منسوخ کر دیا گیا تاہم سٹیڈیم کے وی آئی پی انکلوژر کی ٹپکتی چھت کو سوشل میڈیا پر خوب ٹرول کیا جا رہا ہے ۔

    یہ منظر اس بات کا غماز تھا کہ اس اسٹیڈیم کی تعمیرات میں کچھ بنیادی خامیاں موجود ہیں، جو کہ فوراً واضح ہو گئیں۔ قذافی اسٹیڈیم کی اپ گریڈیشن میں دن رات ایک کرکے کم وقت میں اسٹیڈیم مکمل کیا گیا تھا اور اسے آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے میچز کی میزبانی کے لئے تیار کیا گیا تھا، اس منصوبے کی تکمیل میں 1500 ورکرز نے حصہ لیا تھا، جنہیں پی سی بی کے چیئرمین نے حال ہی میں ایک خصوصی ظہرانے میں مدعو کیا تھا۔

    https://x.com/ia_rajpoot/status/1896075350217777247

    پی سی بی کے چیئرمین،محسن نقوی، جو پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہیں، اس پروجیکٹ کی نگرانی کر رہے تھے، نے اس موقع پر اس بات کا اعادہ کیا کہ اسٹیڈیم کی تعمیر میں جتنی محنت کی گئی تھی، اس کا مقصد پاکستان کرکٹ کی بہتری کے لیے ایک جدید اور عالمی معیار کا اسٹیڈیم فراہم کرنا تھا۔ تاہم، بارش کے دوران اس کی تعمیراتی خامیوں کا سامنے آنا ایک سنجیدہ مسئلہ بن گیا ہے، جس پر مزید تحقیقات کی ضرورت ہوگی۔

    قذافی اسٹیڈیم کی حالیہ صورتحال سے یہ سبق ملتا ہے کہ کھیلوں کے اسٹرکچرز کی تیاری میں تیز تر کام کرنے کی بجائے معیاری کام کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل سے بچا جا سکے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ نے معاملے کا نوٹس لے لیا،
    پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کے مطابق ابھی سٹیڈیم کی چھت بننا باقی ہے جب وہ بن جائے گی تو یہ ایشو دوبارہ دیکھنے کو نہیں ملے گا، تعمیراتی کمپنی کو معاملے کو دیکھنے کی ہدایت کر دی گئی ہے، ترجمان پی سی بی کا کہنا تھا کہ اتنی شدید بارش کے باوجود بھی سٹیڈیم کے اطراف میں کوئی پانی جمع نہیں ہوا ،ماضی میں اس سے کم بارش سے قذافی سٹیڈیم کے اطراف میں بڑی مقدار میں پانی کھڑا ہو جاتا تھا۔

  • وزیراعلیٰ بلوچستان کا شاہراہیں بند کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

    وزیراعلیٰ بلوچستان کا شاہراہیں بند کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کا اعلان

    کوئٹہ: بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ وہ ایسے افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں گے جو قومی شاہراہوں کو بلا جواز طور پر بند کرتے ہیں اور سڑکوں کو کھلوانے میں نااہلی کا مظاہرہ کرنے والے ڈپٹی کمشنرز کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

    وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں مستحقین میں رمضان فوڈ پیکج کی تقسیم کے آغاز کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پی ڈی ایم اے کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ مستحقین میں راشن منصفانہ طور پر تقسیم کرے، اور ڈپٹی کمشنرز نے مستحق افراد کی شارٹ لسٹنگ بھی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ راشن کی تقسیم کا مقصد مستحقین کی خوشیوں میں اضافہ کرنا ہے، تاکہ رمضان کے مہینے میں ان کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔

    وزیراعلیٰ بگٹی نے مزید کہا کہ قومی شاہراہوں کی بندش کی وجہ سے راشن کی تقسیم میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ارکان اسمبلی کو راشن نہیں دیا گیا، وہ صرف اس تقسیم کی نگرانی کر رہے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں رہنے والے افراد کے بینک اکاؤنٹس کی معلومات بھی ضروری ہیں تاکہ کیش پیمنٹ فراہم کی جا سکے۔ اس کے علاوہ، رمضان فوڈ پیکج کے تحت صوبے بھر میں ڈھائی لاکھ مستحق خاندانوں میں راشن تقسیم کیا جائے گا۔سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے دیگر صوبوں سے مختلف حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود قومی شاہراہوں کی بندش کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اگر حکومت طاقت کا استعمال کرتی ہے تو اس پر رد عمل آنا لازمی ہے، لیکن حکومتی حکمت عملی صبر اور تحمل کے ساتھ عمل کرے گی۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈپٹی کمشنرز کو قومی شاہراہوں کی بحالی کے حوالے سے اپنی ذمہ داری نبھانے کی تاکید کی ہے اور جو ڈپٹی کمشنرز سڑکیں کھلوانے میں ناکام ہوں گے، انہیں عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔ سرفراز بگٹی نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دفعہ 144 کے تحت حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ طاقت کا استعمال کرے، اور سڑکیں بند کرنا کسی بھی صورت میں منصفانہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بعض اوقات احتجاج کرنے والے افراد اپنے ساتھ خواتین اور شیر خوار بچوں کو بھی لاتے ہیں تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے، لیکن حکومت اس معاملے میں صبر کا مظاہرہ کر رہی ہے اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حالات پیچیدہ ہیں، اور حکومت کسی صورت میں قومی شاہراہوں کی بندش کو برداشت نہیں کرے گی۔

  • سیاسی استحکام رہا تو پاکستان جلد ہی معاشی بحران سے باہر نکلے گا۔رانا ثناء اللہ

    سیاسی استحکام رہا تو پاکستان جلد ہی معاشی بحران سے باہر نکلے گا۔رانا ثناء اللہ

    وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور، رانا ثنا اللہ نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک پر دوبارہ کوئی 12 اکتوبر کی طرح کا بحران مسلط نہ ہوا تو پاکستان دو سال میں اپنے معاشی بحران سے نکل جائے گا۔

    رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات اور اقدامات کی بدولت ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، اور دو سال میں پاکستان کی معاشی حالت میں واضح بہتری دیکھنے کو ملے گی۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ حکومت نے مہنگائی کی روک تھام کے لیے بھرپور اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ حکومت کی کوششوں سے مہنگائی کی شرح 38 سے 40 فیصد سے کم ہو کر 3 سے 4 فیصد تک آ چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی رفتار کو کنٹرول میں رکھا جا رہا ہے اور حکومت اسے مزید نیچے لانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے منارٹی کارڈ اور دیگر سماجی فلاحی پروگرامز کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پروگرامز کا مقصد معاشی طور پر کمزور طبقوں کو سہارا فراہم کرنا ہے تاکہ ان کی زندگیوں میں آسانی آئے۔ حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کی مشکلات کم ہوں اور انہیں بنیادی سہولتیں میسر آئیں۔رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ جب بھی پاکستان کی خدمت کا موقع ملا ہے، حکومت نے بھرپور انداز میں اس موقع سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت میں وفاقی حکومت اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں ملک کو آگے بڑھانے کے لیے تمام ادارے متحرک ہیں اور اپنی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مخالفین حکومت کی کارکردگی کے خلاف کوئی نکتہ نہیں تلاش کر پاتے، اس لیے وہ سرکاری اشتہارات کو موضوع بنا کر اسے مسئلہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کی جانب سے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اگر ملک میں سیاسی استحکام رہا تو پاکستان جلد ہی معاشی بحران سے باہر نکلے گا۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو مہنگائی اور دیگر معاشی مسائل سے نجات دلائی جائے، اور پاکستان ایک مضبوط معیشت کے ساتھ ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔

  • گجرات، پرانی دشمنی پر فائرنگ، 6 افراد جاں بحق

    گجرات، پرانی دشمنی پر فائرنگ، 6 افراد جاں بحق

    گجرات کے علاقے ڈنگہ میں پرانی دشمنی کے باعث مخالفین نے اندھا دھند فائرنگ کر کے 6 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مقتولین کی گاڑی سڑک پر رواں دواں تھی کہ اچانک موٹرسائیکل سوار مسلح حملہ آوروں نے ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں زاہد ناظم، چوہدری اختر رندھیر اور ان کے چار سکیورٹی گارڈ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کے بعد ملزمان باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، جبکہ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ پرانی دشمنی کا شاخسانہ معلوم ہوتی ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب آئی جی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈی پی او گجرات کو ہدایت کی ہے کہ وہ ملزمان کی فوری گرفتاری کو یقینی بنائیں اور واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔ پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں جو جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر کے جلد ہی ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کریں گی۔

    علاقہ مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس ملزمان کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو فوری طور پر متعلقہ حکام کو آگاہ کیا

  • وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا  سے افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کی ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر کی ملاقات

    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا (کے پی) علی امین گنڈاپور سے افغان قونصل جنرل حافظ محب اللہ شاکر نے ایک اہم ملاقات کی، جس میں رمضان اور عیدالفطر کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کی سرحد کو جلد کھولنے پر اتفاق کیا گیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی تجارت کے فروغ اور صوبے میں مقیم افغان شہریوں کو درپیش مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی۔ وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد کو جلد کھولنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے افغان سفارتخانہ اپنا کردار ادا کرے۔علی امین گنڈاپور نے مزید کہا کہ علاقائی امن پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے، اور دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر افغان حکومت سے مذاکرات کے لیے ایک جرگہ تشکیل دیا گیا ہے، جس کی وفاقی حکومت کی طرف سے ٹی او آرز (Terms of Reference) کی منظوری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے یہ بھی بتایا کہ افغان باشندوں کو صحت اور تعلیم کی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی اداروں سے بات چیت جاری ہے، تاکہ ان کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکے اور انہیں ضروری سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات اور مسائل کے حل کی طرف ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کو فائدہ ہو گا بلکہ علاقائی استحکام بھی مضبوط ہو گا۔

  • فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن  کی معطلی ختم کر دی

    فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی معطلی ختم کر دی

    فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کی معطلی کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، فیفا نے پی ایف ایف کو اس فیصلے سے آگاہ کر دیا ہے، جس کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن کی معطلی ختم ہو گئی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی جانب سے آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد معطلی کو ختم کیا۔ پی ایف ایف کی نارملائزیشن کمیٹی کے رکن شاہد کھوکھر نے معطلی ختم ہونے کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف ایف کی کانگریس کے اجلاس میں آئینی ترامیم کی منظوری کے بعد معطلی ختم ہوئی ہے اور پاکستان فٹبال فیڈریشن کی مسلسل حمایت پر فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ فیفا نے پی ایف ایف کی معطلی اس وقت عائد کی تھی جب پی ایف ایف کی کانگریس نے انتخابی اصلاحات کے لیے آئینی ترامیم کو منظور نہیں کیا تھا۔ فیفا نے اس وقت کہا تھا کہ معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک پی ایف ایف کانگریس فیفا اور اے ایف سی کی جانب سے پیش کردہ آئینی ترامیم کی منظوری نہیں دے دیتی۔اس سے قبل، فیفا اور اے ایف سی نے پی ایف ایف کو اپنے آئین میں ترامیم کرنے کی سفارش کی تھی، خاص طور پر انتخابی عمل سے متعلق شقوں میں تبدیلی کی تجویز دی تھی۔ تاہم، پی ایف ایف کی منتخب کانگریس نے ان ترامیم کو مسترد کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں معطلی کا فیصلہ کیا گیا۔

    تاہم، گزشتہ جمعرات کو ہونے والے غیر معمولی اجلاس میں پاکستان فٹبال فیڈریشن کی نو منتخب کانگریس نے فیفا کی مجوزہ آئینی ترامیم کو بھاری اکثریت سے تسلیم کر لیا، جس کے بعد معطلی ختم ہونے کا فیصلہ کیا گیا۔

  • جاوید بٹ قتل کیس ، دونوں گروپس میں صلح ،قیصر بٹ کی ضمانت

    جاوید بٹ قتل کیس ، دونوں گروپس میں صلح ،قیصر بٹ کی ضمانت

    لاہور: جاوید بٹ قتل کیس میں دونوں گروپس کے درمیان صلح کے بعد اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ مقتول جاوید بٹ کی اہلیہ نے لاہور کی ضلعی عدالت میں ملزم قیصر بٹ کے حق میں بیان دیا۔ مقتول کی بیوہ کا کہنا تھا کہ قیصر بٹ ہمارا ملزم نہیں ہے اور ہمیں اس کی ضمانت پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اس بیان کے بعد عدالت نے قیصر بٹ کی عبوری ضمانت کنفرم کر دی۔

    ایڈیشنل سیشن جج سرفراز احمد نے عبوری ضمانت کی توثیق کرتے ہوئے ملزم قیصر بٹ کو عارضی طور پر رہا کرنے کا فیصلہ دیا۔ جاوید بٹ قتل کا مقدمہ تھانہ اچھرہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا، جس میں 302 (قتل)، 324 (جان سے مارنے کی کوشش) اور 334 (زخمی کرنے) کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے میں ملزمان میں امیر بالاج، قیصر بٹ اور دو نامعلوم افراد کا ذکر تھا۔قیصر بٹ نے چند روز قبل پولیس کے سامنے سرینڈر کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ ان کا قتل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کو اس معاملے میں مکمل طور پر مطمئن کریں گے اور اس قتل کے حوالے سے تمام حقائق واضح کریں گے۔

    اس دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ چند دن پہلے طیفی بٹ گروپ اور قیصر بٹ گروپ کے درمیان صلح ہو گئی تھی، جس کے بعد لاہور میں ایک بڑے گینگ وار کا خطرہ ٹل گیا۔ یہ صلح لاہور میں خواجہ تعریف عرف طیفی بٹ کے گھر پر ہوئی، جہاں ایک خصوصی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس تقریب میں لاہور سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر نے اہم کردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ، شفقت بگا بٹ، اسرار بٹ اور متعدد تاجر رہنما بھی اس صلح کے موقع پر موجود تھے۔

    قیصر بٹ گروپ نے امیر بالاج ٹرکاں والا گروپ سے اپنی لاتعلقی کا اعلان کیا۔ اس صلح کے بعد لاہور کے دونوں بڑے گروپوں، طیفی بٹ گروپ اور قیصر بٹ گروپ، کے درمیان برسوں سے جاری دشمنی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ دونوں فریقین نے اپنے اختلافات ختم کرنے کا اعلان کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اب امن قائم کرنا ضروری ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق، صلح کے موقع پر مقتول جاوید بٹ کے صاحبزادے حمزہ بٹ نے کہا کہ "صلح سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں، اللہ سے دعا ہے کہ یہ امن قائم رہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ صلح کے لیے کافی عرصے سے کوششیں کی جا رہی تھیں اور اس کا مقصد صرف خاندانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانا تھا۔قیصر بٹ کا کہنا تھا کہ ان کی طرف سے بھی صلح کے لیے طویل عرصے سے کوششیں جاری تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ "لاہور کے تمام گروپس میں صلح ہونی چاہیے تھی کیونکہ لڑائی جھگڑے سے کسی نے بھی کچھ حاصل نہیں کیا تھا۔” قیصر بٹ نے مقتول جاوید بٹ اور طیفی بٹ کی فیملی کا شکریہ بھی ادا کیا جنہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی۔

    واضح رہے کہ جاوید بٹ کے قتل میں نامزد بیشتر ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ قیصر بٹ کا کہنا تھا کہ اب پولیس کا کام ہے کہ وہ اس معاملے کی مزید تحقیقات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش یہی رہی گی کہ دونوں خاندان آپس میں مل کر رہیں اور کوئی تنازعہ نہ ہو۔