Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس، تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ طلب

    مصطفیٰ عامر قتل کیس، تفتیشی افسر سے پیش رفت رپورٹ طلب

    مصطفیٰ عامر کے اغواء اور قتل کے کیس میں محکمۂ پراسیکیوشن نے تفتیشی افسر سے کیس کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی ہے۔ اس رپورٹ میں ملزمان کے خلاف کی جانے والی تفتیش، گواہوں کے بیانات اور دیگر ضروری معلومات شامل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ ملزم ارمغان کے دو ملازمین کے 164 کے مکمل بیانات کی تفصیل منظر عام پر آئی ہے۔ ان بیانات میں کیس کے حوالے سے اہم معلومات شامل ہیں، جو تحقیقات کے لیے سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں۔ محکمۂ پراسیکیوشن نے تفتیشی افسر کو ہدایت دی ہے کہ ان بیانات کی تفصیل رپورٹ میں شامل کی جائے۔محکمۂ پراسیکیوشن نے یہ بھی کہا ہے کہ ارمغان کے خلاف درج 4 مقدمات میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے، اس کی تفصیل بھی فراہم کی جائے۔ اس کے علاوہ محکمۂ پراسیکیوشن نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ بھی بتایا جائے کہ کیس میں ابھی تک ملزمان کے خلاف کتنی تفتیش کی گئی ہے اور ان سے متعلق کیا نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔

    محکمۂ پراسیکیوشن نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ بتایا جائے کہ اس کیس میں کتنے گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں اور ان میں سے کسی گواہ کا بیان کیس کے سلسلے میں اہمیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمۂ پراسیکیوشن نے یہ بھی پوچھا ہے کہ کیس میں ڈی این اے اور فنگر پرنٹس جیسے فرانزک تجزیے شروع ہوئے ہیں یا نہیں۔ یہ تمام معلومات کیس کی تفتیش میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔محکمۂ پراسیکیوشن کی طرف سے تفتیشی افسر کو یہ رپورٹ جلد از جلد جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ کیس کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے اور مزید قانونی کارروائی کی جا سکے۔

  • عمران خان کی بشری  سے ملاقات نہ کروانے پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل  طلب

    عمران خان کی بشری سے ملاقات نہ کروانے پر سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل طلب

    سلام آباد ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی بشری بی بی سے ملاقات نہ کروانے پر اڈیالہ جیل کے سپریٹنڈنٹ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ عدالت نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 4 مارچ 2025 کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ہے۔

    قائم مقام چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے اس کیس کا تحریری حکمنامہ جاری کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو وضاحت دینی ہوگی کہ کیوں عدالتی احکامات کے باوجود عمران خان کی بشری بی بی سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔اس معاملے میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ 28 جنوری 2025 کو عدالت نے عمران خان کی بشری بی بی سے ملاقات کا حکم دیا تھا، مگر یہ حکم تاحال نافذ نہیں کیا گیا۔ اس فیصلے کے مطابق، ملاقات نہ کروانا عدالت کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے، جس کی بنا پر توہین عدالت کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو 4 مارچ تک جواب جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے اس کیس کی آئندہ سماعت بھی 4 مارچ کو مقرر کر دی۔ عدالت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ کیس پی ٹی آئی کے رہنما عمران خان کے لئے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ ان کے وکیل کی جانب سے کہا گیا کہ بشری بی بی سے ملاقات نہ کروانے کی وجہ سے ان کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، جو ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے خلاف ہے۔

    28 جنوری 2025 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایک حکم جاری کیا تھا جس میں عمران خان کو اپنی بیوی بشری بی بی سے ملاقات کی اجازت دی گئی تھی، تاہم اس حکم کے باوجود اڈیالہ جیل کی انتظامیہ نے ملاقات کو روک دیا تھا، جس پر وکیل نے عدالت سے رجوع کیا اور توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست کی۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے واضح کیا کہ عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ عدالت کے حکم کو کیوں نظر انداز کیا گیا۔ اس کیس کی مزید سماعت 4 مارچ 2025 کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی جہاں سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کو عدالت میں پیش ہو کر اپنی وضاحت دینا ہوگی۔

  • سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،منموہن سنگھ سمیت 20 دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائیاں،منموہن سنگھ سمیت 20 دہشت گرد گرفتار

    پنجاب کے شہر لاہور میں دہشت گردی کے خطرے کو ناکام بناتے ہوئے، سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ) نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں سے 20 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا۔ ان دہشت گردوں میں دو انتہائی خطرناک فتنہ الخوارج بھی شامل ہیں۔

    سی ٹی ڈی پنجاب نے مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران لاہور اور پنجاب کے دیگر مختلف شہروں میں کامیاب کارروائیاں کیں۔ سی ٹی ڈی کے ترجمان کے مطابق، یہ کارروائیاں پنجاب کے 162 مختلف علاقوں میں کی گئیں، جن میں لاہور، فیصل آباد، خانیوال، بہاول نگر، راولپنڈی، چنیوٹ، میانوالی، ساہیوال، شیخوپورہ، سیالکوٹ، بہاولپور اور حافظ آباد شامل ہیں۔ ترجمان سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ لاہور سے فتنہ الخوارج کے دو ارکان کو گرفتار کیا گیا، جن کا تعلق انتہائی خطرناک دہشت گرد تنظیم سے تھا۔ علاوہ ازیں، راولپنڈی سے ایک اور دہشت گرد منموہن سنگھ کو گرفتار کیا گیا، جس کا تعلق رحیم یار خان سے ہے۔

    سی ٹی ڈی نے کارروائی کے دوران دہشت گردوں سے مختلف اقسام کا اسلحہ اور مواد برآمد کیا، جس میں دھماکہ خیز مواد، 3 آئی ای ڈی بم، 23 ڈیٹونیٹرز، 61 فٹ حفاظتی فیوز تار، متنازعہ پمفلٹس، نقدی اور موبائل فون شامل ہیں۔ ہشت گردوں کی شناخت صالح رضا، محمد ریاض، ابوبکر، بوال خان، محمد یونس، عثمان اور منموہن سنگھ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ سی ٹی ڈی کی جانب سے رواں ہفتے میں 2231 کومبنگ آپریشنز بھی کیے گئے، جن کے دوران 495 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان آپریشنز میں 87 ہزار 565 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی، جن میں سے متعدد افراد کا تعلق دہشت گردی کے نیٹ ورک سے تھا۔

    یہ کارروائیاں پنجاب بھر میں دہشت گردی کے خطرات کو روکنے اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ سی ٹی ڈی کی اس کامیاب کارروائی نے لاہور کو ایک بڑی تباہی سے بچا لیا اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ایک بڑا دھچکا پہنچایا۔

  • وزیراعلیٰ مریم نوا زنے دیہاتی خواتین کی ٹرانسپوٹیشن کیلئے جامع پلان طلب کر لیا

    وزیراعلیٰ مریم نوا زنے دیہاتی خواتین کی ٹرانسپوٹیشن کیلئے جامع پلان طلب کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے دیہی خواتین کے لیے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے تاریخ میں پہلی بار دیہی علاقوں کے لیے خصوصی بسوں کی سروس شروع کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ہر دیہی تحصیل سے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر تک بس سروس فراہم کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اس اقدام سے دیہی خواتین کو نقل و حمل کی سہولت ملے گی۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف نے دیہی خواتین کی ٹرانسپورٹیشن کے حوالے سے ایک جامع پلان طلب کیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انٹر ویلج ٹرانسپورٹ پلان بھی ترتیب دینے کی ہدایت دی ہے۔ اس نئے ماس ٹرانزٹ سسٹم کے تحت دور دراز اضلاع میں 25 بسوں پر مشتمل ایک مرحلہ وار منصوبہ شروع کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔مریم نوازشریف نے اس بات پر زور دیا کہ ماس ٹرانزٹ سسٹم میں خواتین مسافروں کے لیے سبسڈی فراہم کی جائے تاکہ ان کے لیے آمد و رفت کی سہولتوں کو بہتر بنایا جا سکے۔ انہوں نے فوری طور پر اقدامات کرنے کی ہدایت دی ہے تاکہ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ پنجاب میں جدید ٹرانسپورٹ سسٹم دیہات میں رہنے والی خواتین کا حق ہے اور یہ ضروری ہے کہ انہیں جدید سہولتیں فراہم کی جائیں تاکہ ان کی زندگی میں آسانیاں آئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیہی علاقوں میں ٹرانسپورٹ کا نظام نہ ہونا خواتین کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے اور اس کا خاتمہ ضروری ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جدید ٹرانسپورٹ سسٹم کی فراہمی سے دیہاتی خواتین کا اعتماد بڑھے گا اور اس کے ساتھ ساتھ طالبات اور مریض خواتین کو اپنے مقصد تک پہنچنے میں بھی سہولت ہو گی۔

    وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کا یہ اقدام دیہی خواتین کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہو گا، جس سے ان کی زندگی میں نمایاں تبدیلی آئے گی اور ان کے روزمرہ کے مسائل حل ہوں گے۔

  • ایوان صدر نے حکومت سے کارکردگی رپورٹ مانگ لی

    ایوان صدر نے حکومت سے کارکردگی رپورٹ مانگ لی

    اسلام آباد: ذرائع کے مطابق، ایوانِ صدر نے حکومت سے ایک سالہ کارکردگی کی رپورٹ طلب کرلی ہے۔ یہ رپورٹ صدرِ مملکت آصف زرداری کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب سے قبل حکومت سے مانگی گئی ہے۔

    صدر آصف زرداری اپنے خطاب میں حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کے اہم پہلوؤں کو اجاگر کریں گے، جس میں خاص طور پر حکومت کے اہم معاشی اقدامات اور ان کے نتائج کا ذکر کیا جائے گا۔ صدر کا خطاب حکومت کی کارکردگی کا ایک تفصیلی جائزہ فراہم کرے گا، جس میں معاشی ترقی، داخلی اور خارجی پالیسیوں کی کامیابیاں اور چیلنجز شامل ہوں گے۔ذرائع کے مطابق، صدر آصف زرداری اپنے خطاب میں کشمیر اور فلسطین جیسے اہم علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی اظہار خیال کریں گے۔ ان کے خطاب میں عالمی سطح پر پاکستان کے موقف اور مسائل کے حل کے لیے حکومت کے اقدامات پر بھی روشنی ڈالی جائے گی۔

    جہاں ایک طرف صدر کے خطاب کی تیاری ہو رہی ہے، وہیں اپوزیشن کی جانب سے احتجاج کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر صدر کا خطاب مختصر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کا دورانیہ 20 سے 25 منٹ کے درمیان ہو گا۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 10 مارچ کو بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے دوسرے پارلیمانی سال کا آغاز ہو گا۔ اسپیکر قومی اسمبلی اس اجلاس کی صدارت کریں گے۔ اس اجلاس میں عسکری قیادت، گورنرز، وزرائے اعلیٰ اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کو بھی مدعو کیا جائے گا۔اس اجلاس میں پاکستان کی سیاسی، معاشی اور عالمی پالیسیوں پر روشنی ڈالی جائے گی اور حکومت کی ایک سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔

  • 20 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اجرا،وزیراعظم  کی تقریب میں شرکت

    20 ارب روپے کے رمضان ریلیف پیکج کا اجرا،وزیراعظم کی تقریب میں شرکت

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 2025 کے رمضان ریلیف پیکج کا باقاعدہ افتتاح کردیا، جس کے تحت 20 ارب روپے کی امداد مستحق خاندانوں میں تقسیم کی جائے گی۔

    اس تقریب میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، عطاء اللہ تارڑ اور علی پرویز ملک نے بھی شرکت کی، جبکہ وفاقی وزراء احسن اقبال، شزافاطمہ خواجہ اور گورنر اسٹیٹ بینک بھی موجود تھے۔تقریب میں رمضان پیکج 2025 کے حوالے سے ایک خصوصی دستاویزی فلم پیش کی گئی جس میں پیکج کی تفصیلات اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ اس کے علاوہ، وزارت اطلاعات و نشریات کی طرف سے رمضان پیکج کے حوالے سے ایک تعارفی ویڈیو بھی دکھائی گئی، جس میں اس پیکج کے فوائد اور اس کے تحت دی جانے والی امداد کی تفصیل بیان کی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بار رمضان پیکج میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا اور 40 لاکھ مستحق خاندانوں کو ڈیجیٹل والٹ کے ذریعے پانچ ہزار روپے دیے جائیں گے، جس سے تقریباً 2 کروڑ افراد مستفید ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال کے 7 ارب روپے کے رمضان پیکج کے مقابلے میں اس بار اس پیکج کو تین گنا بڑھایا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ خاندان اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔وزیراعظم نے کہا کہ اس بار رمضان پیکج کو انتہائی آسان بنایا گیا ہے، تاکہ لوگوں کو لمبی قطاروں میں کھڑا نہ ہونا پڑے۔ اس کے علاوہ، پیکج سے پورے پاکستان کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مستحق خاندان مستفید ہوں گے۔

    ہمیں دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا ،وزیراعظم
    وزیراعظم نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ملک میں محصولات میں اضافے اور معاشی بہتری کے لیے مختلف اقدامات جاری ہیں اور گزشتہ رمضان کے مقابلے میں اس بار مہنگائی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے نوشہرہ میں ہونے والی دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی مذمت کی اور خیبرپختونخوا حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردوں کو فوراً قانون کے کٹہرے میں لائے۔وزیراعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ماضی میں بھی قربانیاں دی ہیں اور اس جنگ میں 80 ہزار پاکستانیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کے ناسور کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنا ہوگا اور اس کے خاتمے کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

    وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کرپشن کے خلاف بھی سخت موقف اختیار کیا اور کہا کہ ماضی میں کرپشن کے ذریعے غریب عوام کا پیسہ لوٹا گیا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتوں سے سٹے آرڈرز لے کر ٹیکس مقدمات کو التواء میں ڈالا گیا، لیکن اب سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے سے 23 ارب روپے کی وصولی ممکن ہوئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت یوٹیلیٹی اسٹورز کی نجکاری کر رہی ہے تاکہ عوام کے پیسے کی شفاف تقسیم کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان سے غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے اور ہم ہمت اور عزم کے ساتھ اس مقصد کو حاصل کریں گے۔

    وزیراعظم نے اپنے خطاب کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ حقداروں کو ان کا حق پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم عوام کے پیسے کی شفاف تقسیم کے لیے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا روشن مستقبل کرپشن کے خاتمے اور معاشی ترقی کے حصول میں ہی ہے۔

  • اکوڑہ خٹک میں مولانا حامد الحق کی نماز جنازہ ادا

    اکوڑہ خٹک میں مولانا حامد الحق کی نماز جنازہ ادا

    گزشتہ روز دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں ہونے والے دہشت گردی کے حملے کے نتیجے میں شہید ہونے والے معروف عالم دین مولانا حامد الحق کی نماز جنازہ آج ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں علاقے کی سیاسی، مذہبی، اور سماجی شخصیات سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مولانا حامد الحق کے جنازے کے ساتھ ساتھ دیگر شہداء کی تدفین بھی کی گئی۔

    گزشتہ روز جامع مسجد میں نماز جمعہ کے دوران ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں مولانا حامد الحق سمیت 4 افراد شہید ہوگئے تھے اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ دھماکہ دارالعلوم حقانیہ کے اندر ہوا تھا، جس کے فوراً بعد مولانا حامد الحق اور دیگر زخمیوں کو علاج کے لیے نوشہرہ اور پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔ تاہم، مولانا حامد الحق اپنے شدید زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے۔مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ایک ٹارگٹ کلنگ کی صورت میں کیا گیا تھا اور اس میں مولانا حامد الحق کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، دھماکہ جامعہ کے ملحقہ احاطے میں کیا گیا، جہاں مولانا حامد الحق موجود تھے۔

    شہادت کے بعد، اکوڑہ خٹک اور اردگرد کے علاقے میں سوگ کی فضا ہے اور عوامی سطح پر مولانا حامد الحق کی خدمات اور ان کی علم و عمل کو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔اس دہشت گردی کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں، اور پولیس حکام نے اس حملے میں ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں۔

    مقامی عوام اور مذہبی حلقے اس دھماکے کی شدید مذمت کر رہے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایسے حملوں میں ملوث افراد کو جلد از جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے۔

  • ٹرمپ کی  یوکرینی صدر ڈانٹ ڈپٹ ،روس کا ردعمل بھی آ گیا

    ٹرمپ کی یوکرینی صدر ڈانٹ ڈپٹ ،روس کا ردعمل بھی آ گیا

    جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کی جانب سے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کو سخت الفاظ میں ڈانٹ دینے کے بعد ایک غیر معمولی منظر پیش آیا۔ یہ واقعہ وائٹ ہاؤس میں اس وقت پیش آیا جب امریکی صدر اور نائب صدر نے یوکرینی صدر کے ساتھ تیز گفتگو کی اور انہیں ایک سخت لہجے میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ دونوں رہنماؤں نے یوکرینی صدر کو متعدد بار ان کی پوزیشن اور امریکا کے ساتھ تعلقات کے بارے میں سخت مشورے دیے، جس کی ویڈیوز میڈیا میں وائرل ہو گئیں۔

    ٹرمپ نے یوکرینی صدر سے کہا کہ "آپ اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ امریکا کو احکامات دیں” اور "آپ بہت زیادہ بولتے ہیں، یہ جنگ آپ کی وجہ سے جاری ہے۔” امریکی صدر نے مزید کہا کہ "آپ تیسری عالمی جنگ کے لیے جوا کھیل رہے ہیں، اور اگر میں صدر ہوتا تو روس اور یوکرین کے درمیان یہ جنگ کبھی نہ ہوتی۔”

    نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی زیلنسکی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ "اب تک آپ نے صدر ٹرمپ کا شکریہ کیوں نہیں ادا کیا؟” تاہم، یوکرینی صدر نے بار بار اس گفتگو میں جواب دینے کی کوشش کی، لیکن امریکی صدر نے انہیں بولنے کا موقع نہ دیا۔ اس سخت بات چیت کے بعد، دونوں ممالک کے صدور کی مشترکہ پریس کانفرنس اور معدنی ڈیل پر دستخط کی تقریب بھی منسوخ کردی گئی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرینی صدر کو وائٹ ہاؤس سے روانہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور بعد میں ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ "جب زیلنسکی امن کے لیے تیار ہوں گے تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔”

    روس کی جانب سے اس معاملے پر بھی ردعمل سامنے آیا، جہاں روسی قومی سلامتی کے ڈپٹی چیئرمین دیمتری میدویدیف نے کہا کہ "زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس میں زوردار تھپڑ مارا گیا۔” روسی وزارت خارجہ نے اس بات کو "معجزہ” قرار دیا کہ امریکی رہنماؤں نے اتنی تحمل سے کام لیا۔ دوسری جانب جرمن چانسلر اولاف شولز نے یوکرینی صدر کی حمایت کی اور کہا کہ یوکرین جرمنی اور یورپ پر انحصار کر سکتا ہے۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ میں مدد کے لیے یورپ کے کردار کو اہم قرار دیا۔

    ویڈیو میں ایک اور دلچسپ منظر بھی دیکھنے کو آیا جب امریکی صحافی برین گلین نے زیلنسکی سے سوال کیا کہ "آپ نے وائٹ ہاؤس آنے پر مناسب سوٹ کیوں نہیں پہنا؟” زیلنسکی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ "میں اس وقت سوٹ پہنتا جب جنگ ختم ہو جائے گی، اور پھر جو پہنوں گا، وہ وقت بتائے گا۔”

    اس ملاقات کے بعد یہ واضح ہوگیا کہ یوکرینی صدر اور امریکی رہنماؤں کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں، اور دونوں ممالک کے بیچ جنگ کے حوالے سے مختلف موقف اور ترجیحات ہیں۔

  • امریکا کی اسرائیل کو 3 ارب ڈالر کا اسلحہ ، بلڈوزرز فروخت کرنے کی منظوری

    امریکا کی اسرائیل کو 3 ارب ڈالر کا اسلحہ ، بلڈوزرز فروخت کرنے کی منظوری

    واشنگٹن: امریکا نے اسرائیل کو 3 ارب ڈالر مالیت کے اسلحہ، بلڈوزرز اور دیگر فوجی ساز و سامان فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس میں غزہ پر استعمال ہونے والے امریکی ساختہ اسلحہ بھی شامل ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کے روز کیا۔ امریکی وزارت دفاع کی سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی (DSCA) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کو 2.4 ارب ڈالر کے بموں اور دیگر جنگی ہتھیاروں کی فروخت پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس کے علاوہ، 675.7 ملین ڈالر کے بموں، کٹس اور 295 ملین ڈالر کے بلڈوزرز سمیت دیگر سامان کی فروخت کا معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو اس اضافی اسلحہ کی فروخت امریکہ کے قومی مفاد میں ہے، اور اس سے اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ امریکی وزارت خارجہ نے اس معاہدے کو اسرائیلی حکومت کی فوری ضروریات کے مطابق قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کے دفاع کے لیے امریکی معاونت امریکا کی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہے۔

    امریکی ایجنسی کے مطابق، امریکا کا عزم ہے کہ اسرائیل کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کیا جائے تاکہ وہ اپنے علاقے میں زیادہ مؤثر طریقے سے اپنے دفاع کا انتظام کر سکے۔ مزید برآں، واشنگٹن نے اسرائیل کو اس سے قبل بھی 7.4 ارب ڈالر مالیت کے بم اور دیگر فوجی ساز و سامان کی فراہمی کی منظوری دی تھی۔اس فیصلے کے بعد اسرائیل کو مزید اسلحہ فراہم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، جس سے امریکی حکام اسرائیل کی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے اور مشرق وسطیٰ میں استحکام کے قیام کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔

  • دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کا مقدمہ درج

    دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں خودکش دھماکے کا مقدمہ درج

    نوشہرہ: دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ہونے والے خود کش دھماکے کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ دھماکا مسجد کے خارجی راستے پر ہوا جس میں معروف عالم دین مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید اور 17 سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔

    دارالعلوم حقانیہ میں خود کش حملے کا مقدمہ مولانا حامد الحق حقانی کے بیٹے عبدالحق ثانی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ یہ مقدمہ سی ٹی ڈی (کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ) مردان میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں انسدادِ دہشت گردی، قتل سمیت دیگر دفعات شامل کی گئی ہیں۔سی ٹی ڈی نے خود کش بمبار کی شناخت کے لیے عوام سے مدد کی اپیل کی ہے اور اطلاع دینے والے کے لیے 5 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا ہے۔

    واضح رہے کہ جمعہ کے روز دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ہونے والے خود کش دھماکے میں جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا حامد الحق حقانی سمیت 8 افراد شہید ہوئے۔ اس دھماکے میں 17 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جنہیں قریبی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دھماکا نماز جمعہ کے بعد اس وقت ہوا جب نمازی مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ حکام کے مطابق، دھماکا ایک خود کش بمبار نے کیا جو دھماکے سے قبل خود کو دھماکے سے اڑا لے گیا۔ ابھی تک دھماکے کی نوعیت اور اس میں ملوث افراد کے بارے میں مکمل تحقیقات جاری ہیں۔

    جے یو آئی (س) سمیت مختلف مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور اس واقعے کو دہشت گردوں کی سازش قرار دیا ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔ اس دھماکے کے بعد عوام میں دہشت گردی کے خلاف بھرپور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔سی ٹی ڈی کی تحقیقاتی ٹیمیں دھماکے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔ انہوں نے دھماکے کے مقام سے اہم شواہد اکٹھا کیے ہیں اور ملزمان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔