Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بلوچستان کے طلبا کیلئے متحدہ عرب امارات کا اسکالرشپ پروگرام

    بلوچستان کے طلبا کیلئے متحدہ عرب امارات کا اسکالرشپ پروگرام

    متحدہ عرب امارات نے بلوچستان کے طالب علموں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک اہم سکالرشپ پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت بلوچستان کے مختلف اضلاع سے منتخب کیے گئے 25 طالب علموں کو متحدہ عرب امارات کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے اسکالرشپ فراہم کی جائے گی۔ ان منتخب طالب علموں میں پانچ طالبات بھی شامل ہیں، جو اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھائیں گی۔

    یہ سکالرشپ پروگرام بلوچستان کے طلباء کو عالمی سطح پر تعلیم حاصل کرنے کے نئے دروازے کھولنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ منتخب طلباء مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کریں گے اور انہیں متحدہ عرب امارات کے معروف تعلیمی اداروں میں بہترین تدریسی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔اس سکالرشپ کا مقصد پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے نوجوانوں کو عالمی معیار کی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے ملک اور صوبے کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکیں۔

    سکالرشپ حاصل کرنے والے طلباء اور طلبات نے اس موقع پر حکومت پاکستان، متحدہ عرب امارات اور پاک فوج کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سکالرشپ ان کے تعلیمی سفر میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور انہیں اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے۔ منتخب طلباء کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا کر اپنے ملک اور صوبے کا فخر بنیں گے اور اپنے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کریں گے۔یہ پروگرام نہ صرف بلوچستان کے نوجوانوں کی تعلیم کے لیے اہم ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو بھی مزید مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

  • جعلی پاکستانی کرنسی کے کاروبار میں ملوث گروہ کا سرغنہ گرفتار

    جعلی پاکستانی کرنسی کے کاروبار میں ملوث گروہ کا سرغنہ گرفتار

    کوئٹہ: کرائمز برانچ نے کوئٹہ کے جوائنٹ روڈ پر کارروائی کرتے ہوئے جعلی پاکستانی کرنسی کے کاروبار میں ملوث گروہ کے سرغنہ سمیع اللہ کو گرفتار کر لیا۔ پولیس حکام کے مطابق ملزم سمیع اللہ کے قبضے سے جعلی نوٹوں کی بڑی مقدار برآمد ہوئی ہے، جس میں ایک ہزار روپے کے جعلی نوٹوں کے تین پیکٹ شامل ہیں، جن کی مجموعی مالیت تین لاکھ روپے بتائی جاتی ہے۔

    پولیس نے بتایا کہ سمیع اللہ نے اپنے اعترافی بیان میں یہ انکشاف کیا کہ جعلی نوٹوں کی چھپائی میں مزید افراد بھی ملوث ہیں۔ ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کے نام بھی پولیس کے سامنے پیش کیے ہیں، جن کی گرفتاری کے لئے مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔یہ کارروائی پولیس کی جانب سے کوئٹہ میں جعلی کرنسی کے کاروبار کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری سے علاقے میں جعلی کرنسی کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں مدد ملے گی اور اس مافیا کو لگام دینے میں کامیابی حاصل کی جائے گی۔

    اس سے قبل لاہور میں بھی جعلی کرنسی بنانے والے گینگ کی گرفتاری عمل میں آئی تھی، جس سے ثابت ہوا کہ ملک بھر میں اس قسم کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے تدارک کے لئے پولیس کو مزید تیز اقدامات کی ضرورت ہے۔

  • چیمپئنز ٹرافی میں شرمناک کارکردگی،ٹیم بارے اہم فیصلے متوقع

    چیمپئنز ٹرافی میں شرمناک کارکردگی،ٹیم بارے اہم فیصلے متوقع

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی شرمناک کارکردگی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) حکام مستقبل کے لائحہ عمل پر گہری سوچ بچار میں مصروف ہیں۔ اس ناکامی کے بعد کئی اہم سوالات اُٹھ رہے ہیں، خاص طور پر سینئر کھلاڑیوں کی کارکردگی اور ان کے مستقبل کے حوالے سے۔

    پاکستانی ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں جیسے بابر اعظم، شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، اور حارث رؤف کے لئے اب ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ان کھلاڑیوں کی مسلسل ناکامی کے باوجود ٹیم میں ان کا حصہ برقرار رکھنے کی وجوہات پر سوالات اُٹھنے لگے ہیں۔ اس کے علاوہ مڈل آرڈر بیٹر طیب طاہر کا مستقبل بھی شدید خطرات سے دوچار نظر آ رہا ہے۔ماہرین کرکٹ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ گزشتہ تین سالوں میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چار چیئرمین، آٹھ کوچز، اور 26 سلیکٹرز کے تبدیل ہونے کے باوجود سینئر کھلاڑیوں کی مسلسل ناکامی پر انہیں ٹیم میں کیوں شامل رکھا جا رہا ہے۔

    پاکستان کرکٹ بورڈ اور چیئرمین محسن نقوی کے لیے سب سے بڑا چیلنج ٹیم میں موجود مخصوص گروپ کا خاتمہ کرنا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سات سے آٹھ کھلاڑیوں کا ایک گروپ کئی مواقع پر بلیک میلنگ کے ذریعے اپنے مفادات کو منوانے کی کوشش کرتا ہے، جس سے بورڈ کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس گروپ کی مضبوط لابنگ بورڈ کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔چیمپئنز ٹرافی کے لیے پاکستان کی پندرہ رکنی ٹیم کا اعلان ہونے کے بعد پی سی بی نے سلیکشن کمیٹی کو دو بار اسکواڈ پر نظر ثانی کرنے کی تجویز دی تھی، لیکن سلیکٹرز اور کپتان محمد رضوان نے اس پر توجہ نہیں دی۔ سلیکٹرز نے بعض معاملات پر سخت موقف اختیار کیا اور قومی اکیڈمی میں منعقد ہونے والی میٹنگ میں کوئی پیشرفت نہ ہو سکی۔ چیئرمین محسن نقوی نے سلیکٹرز کو مشورہ دیا تھا کہ دو سے تین کھلاڑیوں کو تبدیل کر کے ایک اضافی اسپنر کو شامل کیا جائے، مگر اس پر بھی عمل نہ ہو سکا۔

    پاکستانی کرکٹ ٹیم میں فوری طور پر اکھاڑ پچھاڑ ممکن نہیں ہے، تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹیم میں تبدیلیاں ناگزیر ہیں۔ سلیکشن کمیٹی اور دیگر اہم عہدوں پر تبدیلی کا فیصلہ نیوزی لینڈ کے دورے کے بعد متوقع ہے۔پاکستان کرکٹ کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید قومی اکیڈمی میں ڈائریکٹر کے عہدے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ دوسری طرف، موجودہ ڈائریکٹر اکیڈمی ندیم خان اگلے ماہ ایک پی ایس ایل فرنچائز کو جوائن کر لیں گے، جس کے بعد قومی اکیڈمی کے حوالے سے بھی اہم فیصلے متوقع ہیں۔

    پاکستان کرکٹ ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی کے بعد وائٹ بال سیریز کے لیے نیوزی لینڈ جانا ہے۔ پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ 16 مارچ کو کرائسٹ چرچ میں کھیلا جائے گا۔ چیئرمین محسن نقوی کی توجہ اس وقت چیمپئنز ٹرافی اور نیوزی لینڈ کے دورے پر مرکوز ہے، جس کے بعد ٹیم میں ممکنہ تبدیلیوں اور سلیکشن کمیٹی کی تشکیل نو کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔اس دوران، بورڈ حکام کی کوشش ہوگی کہ موجودہ کھلاڑیوں کی کارکردگی پر نظرثانی کی جائے اور ٹیم کو بہتر بنانے کے لیے نئے فیصلے کیے جائیں تاکہ عالمی سطح پر پاکستان کرکٹ کا معیار بلند کیا جا سکے۔

  • مسلسل بارش، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کا میچ منسوخ

    مسلسل بارش، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کا میچ منسوخ

    راولپنڈی میں مسلسل بارشوں کے باعث چیمپئنز ٹرافی کے آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان ہونے والا اہم میچ منسوخ کردیا گیا ہے۔ اس میچ کے لیے ٹاس 1:30 بجے اور کھیل کا آغاز 2 بجے ہونا تھا، مگر بارش کی وجہ سے نہ صرف ٹاس ممکن نہیں ہو سکا، بلکہ میچ بھی شروع نہیں ہو سکا۔

    پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں مسلسل بارشوں کی وجہ سے میدان گیلا ہوگیا تھا، جس کی وجہ سے کھیل جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ میچ کے آفیشلز نے اس بات کی تصدیق کی کہ گراؤنڈ کی حالت کے پیش نظر میچ کا انعقاد نہیں ہو سکا۔ اس صورتحال میں دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹ دے دیا گیا ہے۔گروپ بی میں جنوبی افریقا اور آسٹریلیا دونوں ٹیمیں تین تین پوائنٹس کے ساتھ پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود ہیں۔

    راولپنڈی میں بارشوں کی وجہ سے چیمپئنز ٹرافی کے شیڈول پر مزید اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کرکٹ ٹیم کا آج شام شیڈول کیا گیا پریکٹس سیشن بھی منسوخ کر دیا گیا ہے، جو بارش کی وجہ سے ممکن نہ ہو سکا۔

  • سپریم کورٹ کے جج کی بیٹی  شانزے ملک مقدمہ سے بری

    سپریم کورٹ کے جج کی بیٹی شانزے ملک مقدمہ سے بری

    اسلام آباد: سپریم کورٹ کے جج شہزاد ملک کی بیٹی شانزے ملک کے خلاف گاڑی کی ٹکر سے شہری کو مارنے کے الزام میں مقدمہ زیر سماعت تھا، جس میں عدالت نے ان کی بریت کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔

    تفصیلات کے مطابق، جوڈیشل مجسٹریٹ جج عدنان یوسف نے شانزے ملک کی بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ جج عدنان یوسف نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزمہ شانزے ملک کے خلاف گاڑی کی ٹکر سے شہری کو مارنے کا الزام ثابت نہیں ہوسکا اور اس بناء پر انھیں مقدمہ سے بری کر دیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ شانزے ملک پر یہ الزام تھا کہ انھوں نے اپنے گاڑی سے ایک شہری کو ٹکر مار کر اس کی جان لی تھی، جس کے بعد پولیس نے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔یہ کیس بہت سنسنی خیز رہا، کیونکہ ملزمہ کی حیثیت اور کیس کی حساس نوعیت کے باعث اس پر میڈیا اور عوام کی نظر تھی۔ تاہم عدالت نے تمام گواہیوں اور شواہد کا بغور جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا اور شانزے ملک کو مقدمہ سے بری کر دیا۔

    واضح رہے کہ 2022 میں مبینہ طور پر لاہور ہائی کورٹ کے جج کی بیٹی کی اسپورٹس گاڑی کی ٹکر سے ایکسپریس وے پر سوہان پل کے قریب شکیل تنولی اور اس کا دوست علی حسنین جاں بحق ہوگئے تھے، واقعہ آدھی رات کو تیزی رفتاری کے باعث پیش آیا جس کے بعد سے کیس کی تفتیش تعطل کا شکار تھی،شکیل کے والد رفاقت تنولی نے کارروائی کیلئے درخواست دی تو دوران تفتیش معلوم ہوا کہ گاڑی لاہور ہائیکورٹ کے جج کے زیر استعمال تھی

  • خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج عدالت پیش، آئندہ سماعت پر سرکاری گواہ طلب

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج عدالت پیش، آئندہ سماعت پر سرکاری گواہ طلب

    انسداد دہشت گردی عدالت میں معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے اس مقدمہ کی مزید سماعت کے لیے اضافی سرکاری گواہوں کو طلب کر لیا ہے۔

    اس مقدمہ کی سماعت کے دوران آمنہ عروج، حسن شاہ اور دیگر 12 ملزمان کو جیل سے عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے دوران چار سرکاری گواہوں نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے، جن پر ملزموں کے وکلاء نے جرح کی۔عدالت میں مجموعی طور پر اب تک 10 گواہوں کے بیانات ریکارڈ ہوچکے ہیں، اور وکلاء نے گواہوں کے بیانات پر تفصیل سے جرح مکمل کی ہے۔ جج ارشد جاوید نے مقدمہ کی مزید سماعت 28 فروری تک ملتوی کر دی۔

    اس کیس میں آمنہ عروج اور حسن شاہ سمیت دیگر ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان کو اغوا کرکے تاوان کی رقم طلب کی تھی۔ لاہور ہائیکورٹ نے مقدمہ کا فیصلہ ایک ماہ کے اندر کرنے کا حکم دیا ہے، جس کی پیروی کرنے کے لیے سماعت جاری ہے۔

    مقدمہ کی سماعت میں سرکاری گواہوں کے بیانات کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور ملزموں کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان  براہِ راست تجارت کا آغاز  تاریخی قدم ہے.سیف اللہ خالد

    پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان براہِ راست تجارت کا آغاز تاریخی قدم ہے.سیف اللہ خالد

    مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ خالد نے کہا ہے کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دہائیوں بعد پہلی بار براہِ راست تجارت کا آغاز ایک خوش آئند اور تاریخی قدم ہے. یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی مضبوطی کی ایک اہم علامت ہے۔ مرکزی مسلم لیگ اس اقدام کی تحسین کرتی ہے.بھارتی سازشیں ناکام ہوئیں اور کلمے نے پاکستان و بنگلہ دیش کو پھر جوڑ دیا.

    سیف اللہ خالدکا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد، پاکستان اور بنگلہ دیش عملی طور پر ایک دوسرے کے قریب آ چکے ہیں۔ اس براہِ راست تجارت کے آغاز سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں اضافہ ہوگا اور یہ ایک نیا دور شروع کرے گا جس سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔ دو قومی نظریئے کو خلیج بنگال میں بہانے کے دعوے کرنے والے آج پاکستان و بنگلہ دیش کے مابین تعلقات کی بہتری کو دیکھ کر مایوسی ان کے چہروں سے واضح ہے.بنگلہ دیش و پاکستان یک جان،یک قلب ہیں اور رہیں گے.

    سیف اللہ خالد کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت کےاقدام کی مکمل حمایت کرتی ہے اور سمجھتی ہے کہ یہ پاکستان کی اقتصادی پالیسی کی کامیابی کا ایک نیا باب ہے۔

  • جعلی خبروں کا پھیلاؤ  معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے، شرجیل میمن

    جعلی خبروں کا پھیلاؤ معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے، شرجیل میمن

    حکومت سندھ اور کاروباری تنظیموں نےجعلی خبروں کے روک تھام کے لئے فیکٹ چیکنگ کے نظام کو مضبوط کرنے پر اتفاق کر لیا

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت بزنس فیسلٹیشن اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی (BFCC) کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کاروباری برادری کو درپیش میڈیا سے متعلقہ مسائل پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں مختلف کاروباری شخصیات نے شرکت کی، جن میں مرزا اختیار بیگ، فیصل معیز (این کاٹی)، جنید نقی (کاٹی) اور ضیاءالعارفین (کے سی سی آئی) شامل تھے۔اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، سیکریٹری آئی ٹی نور احمد سومرو، اور ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی اطلاعات معیز پیرزادہ بھی شریک ہوئے۔

    اجلاس میں جعلی خبروں کے پھیلاؤ کے کاروبار اور معیشت پر اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور اس کے روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی ترتیب دینے پر زور دیا گیا۔ شرجیل انعام میمن نے اس بات پر زور دیا کہ جعلی خبروں کا پھیلاؤ کاروبار اور معیشت پر سنگین اثرات مرتب کر سکتا ہے، جس کے سبب کاروباری برادری کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ جعلی خبروں کے اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے اور کاروباری برادری کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے مؤثر اقدامات اٹھائے گی۔

    شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ جعلی خبروں اور غلط معلومات سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ صحافت اور متعلقہ فریقین کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کاروباری برادری اور محکمہ اطلاعات کے درمیان روابط کو مزید مستحکم کرنا ضروری ہے تاکہ غلط معلومات کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے اور سوشل میڈیا کے ذریعے کاروبار پر منفی اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

    یہ اجلاس حکومت سندھ کی طرف سے کاروباری برادری کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرنے کے لیے ایک مثبت قدم ہے اور یہ یقین دہانی کراتا ہے کہ حکومت کاروباری مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور تعاون فراہم کرے گی۔

  • آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 سال مکمل ہونے پر  نغمہ "دشمناسُن” ریلیز

    آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے 6 سال مکمل ہونے پر نغمہ "دشمناسُن” ریلیز

    پاکستان کے قومی دفاع میں 27 فروری 2019 کا دن ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن کو یادگار بنانے کے لئے آئی ایس پی آر نے آپریشن سوئفٹ ریٹارٹ کے چھ سال مکمل ہونے پر ایک نیا نغمہ "دشمناسُن” ریلیز کیا ہے۔ اس نغمے میں وطن کے جانباز سپوتوں کی جانب سے ملکی دفاع کیلئے عہد و پیمان کا اظہار کیا گیا ہے۔

    27 فروری 2019 کو پاکستان کی مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کا بھرپور مظاہرہ کیا تھا۔ پاک فضائیہ نے اس دن سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے بھارتی فضائیہ کے دو لڑاکا طیاروں کو مار گرایا۔ اس کارروائی کے دوران ایک بھارتی پائلٹ، ابھی نندن کو گرفتار کیا گیا جس نے پاکستان کے بہادری اور عزم کو عالمی سطح پر اجاگر کیا۔آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کیا گیا نغمہ "دشمناسُن” پاکستان کے دشمنوں کے لیے ایک سخت پیغام ہے۔ یہ نغمہ ملکی خودمختاری کے دفاع میں پاکستان کے عزم کی تجدید کا ایک مظہر ہے، جس میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ نغمے میں وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے سپاہیوں کے عزم و حوصلے کی تصویر کشی کی گئی ہے، جو اپنے ملک کی سالمیت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے۔

    "دشمناسُن” نغمے کی شاعری احمد عظیم نے تحریر کی ہے جبکہ اس نغمے کو کامران اللہ خان نے نہ صرف گایا بلکہ کمپوز بھی کیا ہے۔ اس نغمے کی تخلیق میں ہر لفظ میں حب الوطنی کی گونج اور دشمن کے خلاف پاکستان کی طاقت کا اظہار کیا گیا ہے۔یہ نغمہ نہ صرف پاک فضائیہ کی کامیابیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ پاکستانی عوام کو بھی یہ یاد دلاتا ہے کہ وطن کی حفاظت کے لیے ہر پاکستانی کا عزم و ہمت بلند ہے اور ملکی دفاع میں سب کا کردار اہم ہے۔

    27 فروری کا دن پاکستان کی تاریخ میں ایک روشن باب ہے، اور "دشمناسُن” نغمہ اس دن کی اہمیت کو مزید بڑھاتا ہے۔

  • مصطفیٰ اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات میں مزید انکشافات

    مصطفیٰ اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات میں مزید انکشافات

    کراچی: مصطفیٰ اغوا اور قتل کیس کی تحقیقات میں مزید اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ تفتیشی حکام کے مطابق، مبینہ طور پر ارمغان کی سہولت کاری ایک پولیس اہلکار نے کی، جو گزری تھانے میں تعینات تھا۔ اس اہلکار کو تفتیش کے لیے بلایا گیا تھا اور اس کی موجودگی میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔

    حکام کے مطابق، پولیس اہلکار کا ارمغان کے ساتھ کال ڈیٹا ریکارڈ ملا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے درمیان رابطہ تھا۔ مزید انکشافات میں یہ بات سامنے آئی کہ ارمغان نے مصطفیٰ سے پہلے ایک لڑکی کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا، اور اس لڑکی پر تشدد کے معاملے میں بھی پولیس اہلکار ملوث تھا، جس نے ارمغان کے خلاف کارروائی نہیں کی۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے اس بات کی تصدیق کی کہ مبینہ طور پر ملوث پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی ندیم کو اے وی سی سی نے حراست میں نہیں لیا، کیونکہ وہ واقعے کے وقت گزری تھانے میں ڈیوٹی افسر تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس اہلکار کے بارے میں انکوائری کے لیے ایس پی کو ہدایت دی گئی ہے، اور انکوائری مکمل ہونے کے بعد اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔