Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • طالبہ کو ہراساں کرنے والاگرفتار

    طالبہ کو ہراساں کرنے والاگرفتار

    لاہور پولیس نے طالبہ کو ہراساں کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا۔

    پولیس کے مطابق طالبہ نے 15 پر کال کی جس پر لٹن روڈ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو موقع پر گرفتار کرلیا،ملزم حیب شمسی نے طالبہ کو ہراساں کرنے کے لیے تصاویر بنائیں تھیں۔ پولیس نے ملزم کا موبائل فون تحویل میں لے کر طالبہ کی تصاویر ڈیلیٹ کردیں۔ ملزم کے خلاف تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

    ایس پی سول لائنز ڈاکٹر عبدالحنان نے ایس ایچ او تھانہ لٹن روڈ رانا وقاص اشرف اور پولیس ٹیم کو بروقت کارروائی کرنے پر شاباش دی۔ ایس پی سول لائنز کا کہنا تھا کہ خواتین کو ہراساں اور تشدد کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی ہے۔

  • میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عباسی شہید اسپتال کی لفٹ میں پھنس گئے

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب عباسی شہید اسپتال کی لفٹ میں پھنس گئے

    کراچی: کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب عباسی شہید اسپتال کی لفٹ میں پھنس گئے، تاہم خوش قسمتی سے اس حادثے میں میئر اور دیگر تمام افراد محفوظ رہے۔ اسپتال حکام کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب لفٹ چوتھی منزل سے تیزی سے پہلی منزل پر آ کر پھنس گئی۔

    معلوم ہوا ہے کہ لفٹ میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، ڈپٹی میئر کراچی اور دیگر 15 سے زائد افراد موجود تھے۔ یہ لوگ ہیموفیلیا سوسائٹی ٹریٹمنٹ سینٹر کے افتتاح کے لیے عباسی شہید اسپتال پہنچے تھے۔اسپتال حکام نے بتایا کہ لفٹ میں پھنسے ہوئے تمام افراد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا، اور وہ 5 سے 10 منٹ تک لفٹ میں پھنسے رہے۔ بعد ازاں امدادی کارروائی کے ذریعے لفٹ کو بحال کیا گیا اور تمام افراد کو باہر نکال لیا گیا۔اس حادثے کے باوجود میئر کراچی نے اسپتال کے عملے کی بروقت کارروائی کو سراہا اور اپنے دورے کو مکمل کیا۔

  • ڈاکٹر کا اغوا،بھتہ خوری کے الزام میں پولیس اہلکار گرفتار

    ڈاکٹر کا اغوا،بھتہ خوری کے الزام میں پولیس اہلکار گرفتار

    لاہور میں پولیس نے تھانہ ماڈل ٹاؤن کے تین اہلکاروں کو بھتہ خوری کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔ پولیس کے مطابق، ان اہلکاروں پر ایک ڈاکٹر کو اغوا کرنے اور 5 لاکھ روپے کا بھتہ وصول کرنے کا الزام ہے، جس پر تینوں ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گرفتار ہونے والوں میں کانسٹیبل وقاص، نفیس اور کانسٹیبل آصف شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، دو مزید ملزمان رانا قربان اور عدنان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ گرفتار اہلکاروں کو شناخت پریڈ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔فیصل کامران کے مطابق، ملزمان نے 9 فروری کو ڈاکٹر مختار کو اغوا کیا اور اس سے 5 لاکھ روپے کا تاوان وصول کیا تھا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ 11 ماہ کے دوران 330 سے زائد پولیس اہلکاروں کا محکمانہ احتساب بھی کیا جا چکا ہے۔

    یہ گرفتاری پولیس کی جانب سے بھتہ خوری کے مقدمات کی روک تھام اور ادارے کی ساکھ کو بچانے کے لیے ایک اہم اقدام سمجھی جارہی ہے۔

  • لاہور ہائیکورٹ، کیس ہارنے پر متاثرہ شخص نے خود کو آگ لگا لی

    لاہور ہائیکورٹ، کیس ہارنے پر متاثرہ شخص نے خود کو آگ لگا لی

    لاہور ہائیکورٹ، کیس ہارنے پر متاثرہ شخص نے خود کو آگ لگا لی

    لاہور ہائیکورٹ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے،لاہور ہائیکورٹ میں ایک شحص نے کیس ہارنے کی وجہ سے دل برداشتہ ہو کر خود کو آگ لگا لی ، آصف جاوید نامی شحص کا کیس لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شجاعت علی خان کی عدالت میں زیر سماعت تھا،آصف جاوید خانیوال کا رہائشی ہے، عدالت سے کیس ہارا تو خود کو آگ لگالی، ریسکیو ٹیموں نے آصف کو فوری ہسپتال منتقل کر دیا. آصف جاوید نے نوکری کی برطرفی کے خلاف اپیل دائر کر رکھی تھی،واقعہ کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں پولیس اہلکار اور شہری آگ بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں

  • قوم کے جذبات کا "خون” کرنے والی ٹیم "خاموشی” سے گھر پہنچ گئی

    قوم کے جذبات کا "خون” کرنے والی ٹیم "خاموشی” سے گھر پہنچ گئی

    آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد قومی کرکٹ ٹیم خاموشی سے دبئی سے اسلام آباد پہنچ گئی۔ دبئی سے قومی ٹیم کا جہاز پہلے لاہور پہنچا، جہاں پی سی بی کے چیئرمین سید محسن رضا نقوی اور بورڈ کے دیگر عہدیداروں نے جہاز چھوڑا، پھر اس جہاز نے دوبارہ اڑان بھری اور اسلام آباد کی جانب روانہ ہوا، جہاں قومی ٹیم اتری۔ اس دوران جہاز میں غیر معمولی خاموشی چھائی ہوئی تھی، اور کھلاڑی آپس میں بات چیت نہیں کر رہے تھے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دبئی میں بھارت کے خلاف یکطرفہ شکست کے بعد سب کے چہرے مرجھائے ہوئے تھے اور سر جھکے ہوئے تھے۔ چیئرمین پی سی بی سید محسن رضا نقوی، جو اس سے قبل کراچی سے دبئی خصوصی طیارے میں سفر کر کے ٹیم کے ہمراہ پہنچے تھے، اس سفر میں خاصی گہماگہمی تھی۔ قہقہے اور شور تھے، لیکن اس بار صورتحال مختلف تھی۔چیئرمین نے دبئی میں کھلاڑیوں کو عشائیے پر بھی مدعو کیا تھا اور بھارت کے میچ سے ایک رات پہلے اسٹیڈیم میں جا کر کھلاڑیوں کا حوصلہ بھی بڑھایا تھا۔ لیکن واپسی پر شکست کے بعد سب کچھ بدل چکا تھا۔ نہ وہ گرمجوشی تھی اور نہ ہی چہروں پر وہ مسکراہٹ تھی جو پہلے تھی۔

    واضح رہے کہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں پہلے نیوزی لینڈ اور پھر بھارت کے ہاتھوں شکست کے بعد پاکستان کی ٹیم ایونٹ سے باہر ہو چکی ہے۔ تاہم پاکستان کرکٹ ٹیم کو اپنا آخری گروپ میچ 27 فروری کو بنگلہ دیش کے خلاف راولپنڈی میں کھیلنا ہے۔ گروپ اے سے بھارت اور نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر لیا ہے۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے جج سے اختیارات واپس

    مصطفیٰ عامر قتل کیس،ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے جج سے اختیارات واپس

    سندھ ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کا ریمانڈ نہ دینے والے منتظم جج سے انتظامی اختیارات واپس لے لیے گئے

    سندھ ہائی کورٹ نے مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرنے والے منتظم جج سے انتظامی اختیارات واپس لے لیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں پراسیکیوشن کی جانب سے اے ٹی سی کے منتظم جج کے خلاف دائر کی جانے والی 4 درخواستوں پر سماعت ہوئی۔

    جسٹس ظفر راجپوت کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے اس اہم کیس پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ درخواست میں پراسیکیوشن نے اپنا مؤقف اختیار کیا کہ اے ٹی سی کے منتظم جج نے ملزم ارمغان کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست کو مسترد کر دیا، جس سے قانونی نظام پر سوالات اٹھنے لگے۔قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ جج کے فیصلے کے بعد ریکارڈ ٹمپرنگ کے الزامات بھی سامنے آئے، جس کے نتیجے میں جج سے اختیارات واپس لینے کی سفارش کی گئی تھی۔

    یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے عدلیہ کی خود مختاری اور انصاف کے نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ایک اہم کوشش ہے۔

  • سندھ ہائیکورٹ، سانحۂ بلدیہ فیکٹری کے مفرور ملزم کی گرفتاری  کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ، سانحۂ بلدیہ فیکٹری کے مفرور ملزم کی گرفتاری کا حکم

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سانحۂ بلدیہ فیکٹری کے مفرور ملزم حماد صدیقی کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رجوع کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ حکم قتل کیس میں نامزد دبئی فرار ملزمان کی پاکستان حوالگی کے کیس کی سماعت کے دوران دیا گیا۔

    سماعت کے دوران محکمۂ داخلہ اور خارجہ نے اپنی رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروا دی، جس میں بتایا گیا کہ انٹرپول کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے درخواست ارسال کر دی گئی ہے۔عدالت نے مفرور ملزم خرم نثار سے متعلق محکمۂ داخلہ کے فوکل پرسن کو بھی طلب کیا ہے تاکہ اس کیس کی مزید تفصیلات اور پیشرفت پر غور کیا جا سکے۔عدالت نے اس درخواست پر سماعت 22 اپریل تک ملتوی کر دی۔ اس وقت تک ملزمان کی گرفتاری کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔مقدمے میں ملزمان تقی حیدر، حماد صدیقی اور خرم نثار مفرور ہیں۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ تقی حیدر سے متعلق کاغذات متحدہ عرب امارات کو بھیج دیے گئے ہیں تاکہ اس کی گرفتاری کی کارروائی کی جا سکے۔

    یاد رہے کہ ماہم امجد نے اپنے والد کے مبینہ قاتل تقی حیدر کی پاکستان منتقلی کے لیے درخواست دائر کی تھی تاکہ انصاف حاصل کیا جا سکے۔

  • ایوب خان کے دور میں لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟جسٹس مسرت ہلالی

    ایوب خان کے دور میں لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی.

    دورانِ سماعت جسٹس مسرت ہلالی نے وکیل سے سوال کیا کہ 1962ء کے آئین کے وقت ایوب خان کا دور تھا، کیا ایوب خان کے دور میں لوگوں کو بنیادی حقوق میسر تھے؟عمران خان کے وکیل عذیر بھنڈاری نے جواب دیا کہ اس وقت بھی بنیادی حقوق دستیاب نہیں تھے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ فوجی تنصیبات پر حملہ ہوا، ان کی سیکیورٹی کسی آرمی پرسنل کے کنٹرول میں ہو گی، جہاں ملٹری کی شمولیت ہو وہاں ملٹری کورٹ شامل ہو گی،وکیل عذیر بھنڈاری نے بتایا کہ 103 افراد ایسے ہیں جن کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہو رہا ہے،جسٹس حسن اظہر رضوی نے وکیل سے کہا کہ میڈیا پر ہم نے فوٹیجز دیکھی ہیں۔

    وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اس کیس میں عدالت نے طے کرنا ہے کہ قانون کو کس حد تک وسعت دی جا سکتی ہے؟ 21 ویں آئینی ترمیم کے باوجود عدالت نے قرار دیا کہ مخصوص حالات کے سبب ترمیم لائی گئی، آرمی ایکٹ کا سویلین پر اطلاق کرنے کے لیے آئینی تحفظ دینا پڑے گا۔

  • سابق کپتان  کی فاسٹ بولرز پر کڑی تنقید

    سابق کپتان کی فاسٹ بولرز پر کڑی تنقید

    پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان محمد حفیظ نے اتوار کے روز دبئی میں بھارت کے خلاف قومی ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد تینوں فاسٹ بولرز شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ حفیظ نے ایک ٹی وی پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان تینوں بولرز نے 2023 کے ایشیا کپ کے بعد مسلسل مایوس کن کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

    حفیظ کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف تینوں ہی اہم ٹورنامنٹس جیسے کہ 2023 کا ایشیا کپ، ون ڈے ورلڈ کپ، ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اور اب چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان کے لیے توقعات کے مطابق کارکردگی پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ تسلیم کرنے کا وقت آ چکا ہے کہ ان تینوں بولرز نے خود کو بڑی فتوحات کے لیے ثابت نہیں کیا۔ حفیظ نے کہا کہ اب وقت آ چکا ہے کہ ہم نئے بولرز کو موقع دیں، جیسے محمد علی، خرم شہزاد، محمد وسیم جونیئر، عاکف جاوید اور میر حمزہ۔ ان کھلاڑیوں کو موقع ملنا چاہیے کیونکہ وہ بھی پاکستانی ہیں اور اپنے مواقع کے مستحق ہیں۔حفیظ نے کہا کہ ان کھلاڑیوں کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے اور یہ اپنے ملک کے لیے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    بابر 10 سالوں سے کھیل رہا، بھارت سے ایک میچ نہیں جتوا سکا، حفیظ برس پڑے
    دوسری جانب، حفیظ نے بابراعظم کے حوالے سے بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ بابر اعظم گزشتہ 10 سالوں سے پاکستان کے لیے کھیل رہے ہیں لیکن وہ بھارت کے خلاف ایک بھی فتح دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ حفیظ کا خیال ہے کہ بابر اعظم کو اب مستقل طور پر نمبر تین پر کھیلنا چاہیے تاکہ پاکستان کا مڈل آرڈر مضبوط ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بابر، رضوان اور سلمان علی آغا ایک مضبوط مڈل آرڈر تشکیل دے سکتے ہیں جو ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا۔

    حفیظ کی یہ تنقید اور مشورے قومی کرکٹ ٹیم کے مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتے ہیں اور شائقین کرکٹ میں اس پر بحث جاری ہے۔

  • سانحہ 9 مئی، پر تشدد واقعات،پرویز الہیٰ، شاہ محمود قریشی کے نام رپورٹ سے غائب

    سانحہ 9 مئی، پر تشدد واقعات،پرویز الہیٰ، شاہ محمود قریشی کے نام رپورٹ سے غائب

    9 مئی 2023 کو پاکستان میں ہونے والے تشدد کے واقعات کے حوالے سے نگران حکومت کی جانب سے تیار کی گئی کابینہ کمیٹی کی رپورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے دو اہم رہنماؤں، چوہدری پرویز الٰہی اور شاہ محمود قریشی کے نام شامل نہیں ہیں، حالانکہ ان دونوں رہنماؤں پر ان واقعات میں ملوث ہونے کا الزام لگایا گیا ہے۔

    جنگ میں شائع خبر ،رپورٹ کے مطابق، فوجی تنصیبات پر حملوں میں پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کے مبینہ کردار کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ رپورٹ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا ہے، جن پر 9 مئی کے تشدد کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ تاہم، پرویز الٰہی اور شاہ محمود قریشی کے نام اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں، جو ایک اہم سوال اٹھاتا ہے۔رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے درجنوں رہنماؤں نے مبینہ طور پر تشدد کی ترغیب دی اور اسے ریاستی اداروں پر ایک غیر معمولی حملہ قرار دیا ہے۔

    نگران حکومت کی رپورٹ میں جن دیگر افراد کو 9 مئی کے واقعات میں ملوث قرار دیا گیا ہے ان میں حماد اظہر، زرتاج، مراد سعید، فرخ حبیب، علی امین گنڈاپور، علی زیدی، انعم شیخ، شاندانہ گلزار خان، کنول شوزب، سینیٹر اعجاز چوہدری، فیصل جاوید اور شہریار آفریدی شامل ہیں۔اس کے علاوہ، عمر ملک، ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید، جمشید اقبال چیمہ، زبیر نیازی، عمر چیمہ، حسان نیازی، عائشہ اقبال، عالیہ حمزہ، منزہ حسن، مسرت چیمہ، علیمہ خان، نوشین حامد، صداقت عباسی، واثق قیوم، عمر بٹ، جہانگیر بٹ، راجہ عثمان، عاطف قریشی، مسلم خان، ذیشان ممتاز، قیصر خان، زکی بٹ، ملک عابد، سیمابیہ طاہر، آصف محمود، طیبہ ابراہیم، شبانہ فیاض اور اظہر میر کے نام بھی شامل ہیں۔

    اس کے علاوہ، حسیب نقوی، جمال چیمہ، بائو اکرام، شبیر مہر، علی اشرف مغل، مہر صادق، رضوان بٹ، عمر اشرف، انصار نت، نجف شیرازی، رانا زکاء اللہ، اسد اللہ پپّا، امجد علی خان، ملک احمد خان بچار، سلیم گل خان، امیر خان سوانسی، عالم خان، امین اللہ خان، خالد وزیر، عامر مغل، چوہدری جہانگیر، وجاہت سمیع، خالد خان، راجہ شاہد نواز، ملک عامر ڈوگر، سلیم اختر لبار، ندیم قریشی، خالد جاوید وڑائچ، خرم لیاقت اور زین قریشی کے نام بھی اس رپورٹ میں شامل ہیں۔

    یہ رپورٹ اس وقت منظرِ عام پر آئی ہے جب پرویز الٰہی اور شاہ محمود قریشی 8 مئی سے منسلک قانونی لڑائیوں میں الجھے ہوئے ہیں، جس کی وجہ سے ان دونوں رہنماؤں کی عدم شمولیت نے سوالات کو جنم دیا ہے۔