Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • گورنمنٹ گرلز ملی دارالاطفال ہائی سکول راجگڑھ میں کلچرل فیسٹیول کا انعقاد

    گورنمنٹ گرلز ملی دارالاطفال ہائی سکول راجگڑھ میں کلچرل فیسٹیول کا انعقاد

    گورنمنٹ گرلز ملی دارالاطفال ہائی سکول راجگڑھ میں تہذیبی و ثقافتی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے کلچرل فیسٹیول کا کامیابی کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔ اس فیسٹیول کا مقصد طالبات میں ثقافت، زبان، اور اپنے روایات سے محبت کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔ تقریب کی سرپرستی سکول کی پرنسپل ڈاکٹر شوکت نے کی اور اس میں طالبات کو مختلف ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا موقع فراہم کیا گیا۔

    تقریب کا آغاز طالبات کی جانب سے رنگین لباس میں شرکت سے ہوا، جس میں انہوں نے پاکستانی کلچر اور ثقافت کو اپنے لباس اور انداز سے نمایاں کیا۔ اس موقع پر کھانے کے اسٹالز بھی لگائے گئے، اور ثقافتی ٹیبلوز بھی پیش کیے گئے، جن میں ہماری ثقافت اور روایات کی جھلک دکھائی گئی۔

    ڈاکٹر شوکت نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "یہ کلچرل فیسٹیول ہمارے تعلیمی ادارے کا ایک اہم حصہ ہے اور آئندہ بھی اس طرح کی ثقافتی اور صحت مندانہ سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کی زبان و ادب، یہاں کے رسم و رواج اور رہن سہن کے منفرد انداز صدیوں پرانے ہیں اور یہ ہماری ثقافت کا قیمتی حصہ ہیں۔ یہاں کے لوک گیت باہمی پیار و محبت اور یگانگت کے فروغ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔
    school
    پرنسپل ڈاکٹر شوکت نے کلچر ڈے منانے کے مقصد کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری کوشش ہے کہ نئی نسل کو اپنی ثقافت سے روشناس کرایا جائے اور اپنے کلچر، ادب، علاقے اور وطن سے محبت کے جذبات کو اجاگر کیا جائے۔” اس فیسٹیول کے ذریعے طالبات نے نہ صرف اپنے ثقافتی ورثے کا جشن منایا بلکہ اپنے اندر چھپے ہوئے ہنر و صلاحیتوں کو بھی منظر عام پر لایا۔

    تقریب کے دوران طالبات کا جوش و جذبہ قابل دید تھا اور ان کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں کو ہر طرف سراہا گیا۔ اس دن کا ہر لمحہ یادگار رہا اور اسکول کی کمیونٹی نے اسے ایک کامیاب کلچرل ایونٹ کے طور پر یاد رکھا۔

    Cultural festival held at Government Girls Milli Darul Atfal High School Rajgarh

    Cultural festival held at Government Girls Milli Darul Atfal High School Rajgarh

  • وسیم اکرم کا نام طلاق یافتہ افراد کی فہرست میں، شنیرا  کا ردعمل

    وسیم اکرم کا نام طلاق یافتہ افراد کی فہرست میں، شنیرا کا ردعمل

    دُنیا بھر میں سوئنگ کے سلطان کے لقب سے مشہور قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کی اہلیہ شنیرا اکرم نے اپنے شوہر کا نام طلاق یافتہ افراد کی فہرست میں شامل ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک سوشل میڈیا پیج نے دنیا بھر کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 12 کھلاڑیوں کی فہرست جاری کی تھی، جس میں ان کی طلاق ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم اور بھارتی کھلاڑی انیل کمبلے کے نام بھی شامل تھے، حالانکہ حقیقت میں ان دونوں کھلاڑیوں کی طلاق نہیں ہوئی ہے۔سوشل میڈیا کی اس پوسٹ نے فوراً شنیرا اکرم کی توجہ حاصل کی، جنہوں نے جھوٹی معلومات پھیلانے والے سوشل میڈیا پیج کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ شنیرا اکرم نے اس پوسٹ کو ری شیئر کرتے ہوئے کہا کہ "بلاشبہ آپ لوگ ہر بات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لکھتے ہیں اور آپ کے پاس درست اور قابلِ اعتماد معلومات نہیں ہیں۔”انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کی خبریں شیئر کرنے سے پہلے ان کی تصدیق ضروری ہے تاکہ حقیقت کا پتہ چل سکے۔

    واضح رہے کہ وسیم اکرم نے شنیرا سے پہلے ہما مفتی سے 12 اکتوبر 1993ء کو پسند کی شادی کی تھی۔ ہما مفتی ایک ماہرِ نفسیات تھیں اور انگلش لٹریچر اور سائیکالوجی میں ماسٹر کی ڈگری رکھتی تھیں۔ وہ کچھ عرصہ شوکت خانم میموریل اسپتال میں بھی کام کر چکی تھیں۔ تاہم، ہما اکرم 2009ء میں 42 سال کی عمر میں علالت کے باعث انتقال کر گئیں۔بعد ازاں، وسیم اکرم نے 2013ء میں آسٹریلوی نژاد شنیرا اکرم سے شادی کی، جن سے ان کی ایک بیٹی عائلہ ہے، جو 2014ء میں پیدا ہوئی۔

    دوسری جانب، بھارتی کھلاڑی انیل کمبلے نے 1999ء میں طلاق یافتہ چیتنا رامتیرتھا سے پسند کی شادی کی تھی۔ اس جوڑی کے دو بچے ہیں، بیٹا مایاس کمبلے اور بیٹی سواستی کمبلے، اور انیل کمبلے نے سوتیلی بیٹی ارونی کو بھی گود لیا ہے۔

  • یوکرین معدنیات کے معاہدے پر دستخط کیلئے تیار ہے، ٹرمپ

    یوکرین معدنیات کے معاہدے پر دستخط کیلئے تیار ہے، ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین کے صدر ولودو میر زیلنسکی معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق، ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور یوکرین ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جس کے تحت یوکرین کے زمینی معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل تک امریکی رسائی ممکن ہو سکے گی۔

    یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب یوکرین، روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کی بحالی اور مزید امداد کی امید کر رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ معاہدہ دونوں ملکوں کے لیے اقتصادی اور اسٹریٹجک لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یوکرین کے صدر زیلنسکی واشنگٹن آ کر اس معاہدے پر دستخط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ معاہدہ ایک ٹریلین ڈالر کا ہو سکتا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم واپس ملے گی۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ نے روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں، جو ان کے مطابق کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس میں یوکرین کو 350 بلین ڈالر کی امداد فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ امریکہ پہلے ہی یوکرین کو بڑی رقم فراہم کر چکا ہے، جس میں فوجی ساز و سامان بھی شامل ہے۔

    یوکرین دنیا کے اہم خام مال کے ذخائر میں سے ایک بڑا حصہ رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق، دنیا کے خام مال کا تقریباً 5 فیصد یوکرین میں پایا جاتا ہے۔ یوکرین میں گریفائٹ کے 19 ملین ٹن ثابت شدہ ذخائر موجود ہیں جو خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کی بیٹریاں بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ، یوکرین میں دیگر معدنیات جیسے یورینیم، لوہا، اور مینگنیز بھی دستیاب ہیں، جو عالمی مارکیٹ میں بہت قیمتی سمجھی جاتی ہیں۔

    یہ معاہدہ نہ صرف امریکہ اور یوکرین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا باعث بنے گا بلکہ یوکرین کے قدرتی وسائل کا عالمی سطح پر فائدہ اٹھانے کی راہ بھی ہموار کرے گا۔ ساتھ ہی، امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کی واپسی کی گارنٹی بھی اس معاہدے کی کامیابی کی اہم شرط ہوگی۔

  • مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کا گھر خالی کروانے کے لیے پڑوسیوں کا خط

    مصطفیٰ قتل کیس: ملزم ارمغان کا گھر خالی کروانے کے لیے پڑوسیوں کا خط

    کراچی: مصطفیٰ قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کے خلاف ایک اور محاذ کھل گیا، پڑوسیوں نے متعلقہ حکام کو خط لکھ کر ملزم کے گھر کو خالی کروانے کا مطالبہ کر دیا۔

    پڑوسیوں کی جانب سے بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ارمغان اور اس کے والد کامران اصغر قریشی کے گھر میں غیر قانونی سرگرمیاں جاری ہیں، جو رہائشیوں کے لیے شدید مشکلات کا سبب بن رہی ہیں۔خط کے مطابق کامران قریشی اور ان کے اہلِ خانہ نے متعلقہ اتھارٹی کے ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ 2023ء سے 2024ء کے دوران کامران قریشی نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے گھر میں تین شیر پال رکھے تھے۔ اس کے علاوہ، گھر میں ہر رات اونچی آواز میں موسیقی بجائی جاتی ہے، جس سے رہائشیوں کا سکون غارت ہو چکا ہے۔ خط میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ مصطفیٰ قتل کیس کے ملزم ارمغان نے 100 سے زائد نجی سیکیورٹی گارڈز رکھے ہوئے ہیں، جو پڑوسیوں کو ہراساں کرتے ہیں۔ خاص طور پر خواتین اور گھریلو ملازمین کو خوف و ہراس کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ 8 فروری کو پولیس نے کامران اصغر قریشی کے گھر پر چھاپہ مارا، جس کے دوران شدید فائرنگ کی گئی۔ اس کارروائی کے دوران غیر قانونی ہتھیار بھی برآمد کیے گئے۔پڑوسیوں نے خط میں مزید کہا کہ علاقے میں بے امنی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے پیشِ نظر وہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ متعدد مواقع پر انہیں اپنے گھروں میں محصور ہونا پڑا ہے، جس کے باعث روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔خط میں متعلقہ حکام سے اپیل کی گئی ہے کہ کامران اصغر قریشی اور ان کے اہل خانہ کو اس گھر سے بے دخل کیا جائے، اور اس گھر کے اصل مالک کی شناخت کرکے اس کی ملکیت بحال کی جائے۔

    اس حوالے سے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ مذکورہ گھر کا مالک دبئی میں مقیم ہے۔ پولیس نے قونصل جنرل یو اے ای کو خط لکھ کر مالک کی درخواست وصولی کی کارروائی شروع کر دی ہے۔ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ جیسے ہی مالک سے رابطہ ہوگا، ہم نہ صرف ارمغان کے پڑوسیوں کے تحفظات اور پولیس چھاپے کی تفصیلات ان سے شیئر کریں گے بلکہ ان کی منظوری کے بعد گھر خالی کرانے کے لیے مزید قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

  • محبت اندھی ہوتی ہے لیکن اب میری آنکھیں کھل رہی ہیں،سنیتا آہوجا

    محبت اندھی ہوتی ہے لیکن اب میری آنکھیں کھل رہی ہیں،سنیتا آہوجا

    بھارتی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ بالی وڈ کے معروف سپر اسٹار گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان شادی کے 37 سال بعد طلاق کی افواہیں ہیں۔ یہ افواہیں اس وقت زیادہ زور پکڑ گئیں جب گووندا کے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ ان کا تعلق ایک 30 سالہ مراٹھی اداکارہ سے ہے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔

    گزشتہ ماہ بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سنیتا آہوجا نے بھی گووندا کے ساتھ اپنے تعلقات میں اختلافات کا اعتراف کیا۔ سنیتا نے کہا کہ "محبت اندھی ہوتی ہے لیکن اب میری آنکھیں کھل رہی ہیں”، اور اس بات کا بھی اظہار کیا کہ وہ اگلے جنم میں گووندا کو اپنے شوہر کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتیں۔ سنیتا نے مزید کہا کہ "یہ بات میں گووندا کو بھی کہہ چکی ہوں۔”

    سنیتا آہوجا نے اپنے شوہر گووندا کے ساتھ اپنی ناخوشی کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ "وہ چھٹیوں پر نہیں جاتے، میں ایک ایسی انسان ہوں جو اپنے شوہر کے ساتھ سڑکوں پر پانی پوری کھانا چاہتی ہوں، لیکن گووندا نے خود کو کام میں بہت مصروف کیا ہوا ہے۔ ہم کبھی ایک ساتھ فلم دیکھنے باہر بھی نہیں گئے۔”سنیتا آہوجا نے کہا کہ انہیں اگلے جنم میں ایسا جیون ساتھی چاہیے جو ان کے ساتھ وہ خوشیاں گزار سکے جو انہوں نے گووندا کے ساتھ نہیں محسوس کی۔ سنیتا نے گووندا کے حوالے سے مزید کہا کہ "مجھے دل پر پتھر رکھنا پڑتا ہے کیونکہ گووندا کام میں اتنے مصروف ہوتے تھے کہ ان کے کسی افیئر کا وقت نہیں تھا۔ لیکن چونکہ وہ اب کام نہیں کرتے، تو اب میں غیر محفوظ ہوں کہ وہ افیئر نہ بنالے، کیونکہ 60 کے بعد لوگ سٹھیا جاتے ہیں۔”

    اس انٹرویو کے دوران سنیتا آہوجا نے عورتوں کو مشورہ دیا کہ مردوں پر حد سے زیادہ بھروسہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ مرد گرگٹ کی طرح ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "عورت کو ایک خاص عمر کے بعد کسی پر انحصار کرنے کے بعد اپنے لیے وقت نکالنا چاہیے۔”

    گووندا اور سنیتا آہوجا کی شادی کو 37 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ دونوں نے 1987 میں شادی کی تھی، جب گووندا بالی وڈ میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس جوڑے کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی بھی ہے، اور ان کی شادی کا یہ طویل سفر اب ایک نئے موڑ پر پہنچ چکا ہے۔گووندا اور سنیتا آہوجا کے درمیان طلاق کی افواہیں تو آچکی ہیں، لیکن اس بارے میں مزید تفصیلات یا تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

  • دبئی کے تاجر کا  بیٹی کی یاد میں 3 ارب درہم کینسر ہسپتال کو عطیہ کرنے کا اعلان

    دبئی کے تاجر کا بیٹی کی یاد میں 3 ارب درہم کینسر ہسپتال کو عطیہ کرنے کا اعلان

    دبئی: دبئی کے معروف تاجر مرویس عزیزی نے اپنی بیٹی فرشتہ عزیزی کی یاد میں 3 ارب درہم (تقریباً 2 کھرب 28 ارب 30 کروڑ پاکستانی روپے) کا عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ عطیہ متحدہ عرب امارات میں نجی شعبے کی جانب سے انسانیت کے لیے کی جانے والی سب سے بڑی انفرادی امداد قرار دی جا رہی ہے۔

    مرویس عزیزی کا کہنا ہے کہ یہ عطیہ اپنی بیٹی فرشتہ کی یاد میں کیا گیا ہے، جو کینسر کے مرض میں مبتلا ہونے کے بعد انتقال کر گئی تھیں۔ عطیہ کی رقم دبئی میں ایک جدید اور غیر منافع بخش اسپتال کی تعمیر کے لیے استعمال ہوگی، جو کینسر کے مریضوں کو مفت اور سستی طبی سہولتیں فراہم کرے گا۔ مرویس عزیزی نے اس بات کا بھی اعلان کیا ہے کہ دبئی میں اس اسپتال کی تعمیر رواں سال کے آخر تک شروع کر دی جائے گی، اور اسی طرح کے اسپتال دنیا کے دیگر ممالک میں بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس عظیم اقدام سے فائدہ اٹھا سکیں۔

    فرشتہ عزیزی نے چند سال قبل کینسر کا سامنا کیا تھا اور ابتدائی علاج کے بعد صحتیاب ہو گئی تھیں۔ تاہم، تقریباً سات ماہ قبل ان کا کینسر دوبارہ واپس آ گیا تھا، اور 29 اکتوبر 2024 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

    مرویس عزیزی نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بھی ایک اور اہم اقدام کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے وہاں ایک کھرب 40 ارب روپے (500 ملین ڈالر) کے عطیے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت "فرشتہ عزیزی میڈیکل سٹی” تعمیر کی جائے گی۔ یہ میڈیکل سٹی کینسر کے مریضوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کرے گی۔

    یہ اقدام انسانیت کے لیے ایک عظیم مثال ہے، جس سے نہ صرف کینسر کے مریضوں کی زندگیوں میں بہتری آئے گی، بلکہ اس عطیے کے ذریعے مرویس عزیزی نے اپنے ذاتی نقصان کو دنیا کے فائدے میں تبدیل کر دیا ہے۔

  • پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 73 سے اپیلیں آجاتیں۔سپریم کورٹ

    پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 73 سے اپیلیں آجاتیں۔سپریم کورٹ

    سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کی۔ دورانِ سماعت سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ فوجی عدالتوں کے خلاف 5 رکنی بینچ کا ایک نہیں 3 فیصلے ہیں، جسٹس عائشہ ملک، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی نے اپنے فیصلے لکھے، تمام ججز کا ایک دوسرے کے فیصلے سے اتفاق تھا، فیصلے یکساں اور وجوہات مختلف ہوں تو تمام وجوہات فیصلہ کا حصہ تصور ہوتی ہیں۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ججز نے اضافی نوٹ نہیں بلکہ فیصلے لکھے تھے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ تمام 5 ججز متفق تھے کہ سویلینز کا ملٹری ٹرائل نہیں ہو سکتا۔

    وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عذیر بھنڈاری نے انٹرا کورٹ اپیل کا دائرہ اختیار محدود ہونے کا مؤقف اپنایا، ان کے مؤقف سے اتفاق نہیں کرتا، عذیر بھنڈاری کا انحصار پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس میں جسٹس منصور کے نوٹ پر تھا۔جسٹس محمد علی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر فیصلے میں ماضی سے اپیل کا حق مل جاتا تو 73 سے اپیلیں آجاتیں۔وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ اپیل کا دائرہ محدود کر دیا تو ہماری کئی اپیلیں بھی خارج ہو جائیں گی۔جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ فیصلہ دینے والا بینچ ہی نظرِ ثانی اپیل سنتا ہے جبکہ انٹرا کورٹ اپیل لارجر بینچ سنتا ہے، لارجر بینچ مقدمہ پہلی بار سن رہا ہوتا ہے اس لیے پہلے فیصلے کا پابند نہیں ہوتا۔

  • وزیراعظم شہبازشریف کو تاشقند میں گارڈ آف آنر پیش

    وزیراعظم شہبازشریف کو تاشقند میں گارڈ آف آنر پیش

    تاشقند: پاکستان کے وزیراعظم محمد شہبازشریف ازبکستان کے سرکاری دورے پر تاشقند پہنچے، جہاں ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف نے ان کا بھرپور اور پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم شہبازشریف کی آمد کے موقع پر کانگرس سینٹر میں ایک خصوصی استقبال کی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان خوشگوار ملاقات اور خیرسگالی کے جذبات کا تبادلہ ہوا۔

    کانگرس سینٹر میں وزیراعظم شہبازشریف اور صدر شوکت مرزایوف کے درمیان گرم جوشی سے مصافحہ کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ بات چیت کی اور باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، اور دونوں ملکوں کے قومی ترانے بجائے گئے۔

    اس کے بعد وزیراعظم شہبازشریف کے اعزاز میں ایک باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ چاق و چوبند دستے نے وزیراعظم شہبازشریف کو سلامی دی اور ان کی آمد کو ایک باوقار تقریب میں تبدیل کیا۔

    وزیراعظم محمد شہبازشریف نے اپنی کابینہ کا تعارف کرایا، جس کے بعد ازبکستان کی کابینہ نے بھی اپنے ارکان کا تعارف کرایا۔ اس موقع پر دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام کی موجودگی میں، پاکستان اور ازبکستان کے درمیان مزید اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے مختلف اہم موضوعات پر بات چیت ہوئی۔

    وزیراعظم کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے، اور یہ ملاقات ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے، جس میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط میں مزید بہتری آئے گی۔

  • گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان طلاق کی افواہیں

    گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان طلاق کی افواہیں

    بالی وڈ کے معروف اداکار گووندا اور ان کی اہلیہ سنیتا آہوجا کے درمیان شادی کے 37 سال بعد طلاق کی افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، گووندا اپنی اہلیہ سے طلاق کی افواہوں کی وجہ سے ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔

    منگل کی صبح سوشل میڈیا پر ایک دعویٰ سامنے آیا کہ گووندا اور سنیتا آہوجا کے درمیان مبینہ طور پر طلاق کا معاملہ آخری مراحل میں ہے۔ اس حوالے سے یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ گووندا کے 30 سالہ مراٹھی اداکارہ کے ساتھ تعلقات ان کی شادی میں کشیدگی کا سبب بنے ہیں، تاہم اس بارے میں اب تک گووندا اور سنیتا کی جانب سے کوئی تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی۔

    گووندا کے بھانجے، اداکار کرشنا ابھیشیک کا بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ جب کرشنا سے گووندا اور سنیتا کی طلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے افواہوں کی سختی سے تردید کی اور کہا کہ یہ سب بے بنیاد ہے اور ان کی طلاق کا کوئی سوال نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "یہ ممکن نہیں ہے، طلاق نہیں ہوگی۔”

    دوسری جانب، ایک انٹرٹینمنٹ پورٹل کی رپورٹ کے مطابق گووندا کے منیجر نے کچھ مسائل کی تصدیق کی ہے جو جوڑے کے درمیان پیدا ہوئے ہیں۔ منیجر نے کہا کہ "کچھ خاندانی افراد کے بیانات کی وجہ سے جوڑے کے درمیان کچھ مسائل سامنے آئے ہیں، مگر اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ہم اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور گووندا اس وقت اپنی ایک نئی فلم کی تیاری کر رہے ہیں۔”

    یاد رہے کہ گووندا اور سنیتا کی شادی کو 37 سال کا طویل عرصہ ہو چکا ہے، اور ان کے دو بچے ہیں—ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔ یہ جوڑا 1987 میں اس وقت شادی کے بندھن میں بندھ گیا تھا جب گووندا بالی وڈ میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔فی الحال، گووندا اور سنیتا کی طلاق کی افواہیں ایک طرف ہیں، اور ان کے مداح ان کے درمیان محبت اور ہم آہنگی کی امید رکھتے ہیں۔

  • نوشکی گولڈن ڈیزرٹ جیپ ریلی، ایڈونچر، ثقافت اور سیاحت کا امتزاج

    نوشکی گولڈن ڈیزرٹ جیپ ریلی، ایڈونچر، ثقافت اور سیاحت کا امتزاج

    نوشکی: بلوچستان کے شہر نوشکی میں ایف سی بلوچستان (نارتھ) اور سول انتظامیہ کے تعاون سے ایک شاندار جیپ ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے موٹر اسپورٹس کے ماہرین اور شائقین نے بھرپور شرکت کی۔ یہ ایونٹ نہ صرف ایک مہم جوئی کا موقع تھا بلکہ اس میں بلوچستان کی ثقافت اور سیاحت کو بھی اجاگر کرنے کی کوشش کی گئی۔

    ریلی کے دوران مختلف ثقافتی اور کھیلوں کے مقابلے بھی شامل کیے گئے جن میں کیمل ریس، نیزہ بازی، بلوچی چاپ اور بچوں کے لیے تفریحی مقابلے شامل تھے۔ ان سرگرمیوں نے ایونٹ کو مزید رنگین اور دلچسپ بنایا۔ اس شاندار ایونٹ کا افتتاح بلوچستان اسمبلی کے ممبر، ایم پی اے روی پاھوجھا نے کیا، جنہوں نے ریلی کے آغاز کے وقت کیرئیر اور اس کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ریلی میں عسکری اور سول حکام، قبائلی عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ایونٹ کے دوران، ماہر جیپ ڈرائیورز نے صحرائی راستوں پر اپنی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا، جس سے نہ صرف مقامی نوجوانوں کو موٹر اسپورٹس میں دلچسپی بڑھانے کا موقع ملا، بلکہ بلوچستان کے قدرتی حسن اور قدرتی راستوں کا بھی بھرپور تذکرہ ہوا۔

    اس ایونٹ کا مقصد بلوچستان میں سیاحت کو فروغ دینا، کھیلوں کے ذریعے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنا اور صوبے کے امن و استحکام کو دنیا کے سامنے لانا تھا۔ ریلی کے اختتام پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ریسرز کو انعامات سے نوازا گیا۔ شرکاء نے اس ایونٹ کے انعقاد کی تعریف کی اور مزید ایسے مقابلوں کے انعقاد کی خواہش ظاہر کی۔نوشکی گولڈن ڈیزرٹ جیپ ریلی بلوچستان کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی، جس نے نہ صرف اس علاقے کی سیاحتی اہمیت کو اجاگر کیا بلکہ کھیلوں کے شعبے میں بھی بلوچستان کے نوجوانوں کو ایک نیا راستہ دکھایا۔