Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایڈووکیٹ اختر حسین  جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی

    ایڈووکیٹ اختر حسین جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے مستعفی

    ایڈووکیٹ اختر حسین نے جوڈیشل کمیشن کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے

    سینئر ایڈووکیٹ اختر حسین نے اپنے استعفے کے خط میں کہا کہ پاکستان بار کونسل نے انہیں آئین پاکستان 1973 کے آرٹیکل 175 (A) (2) (vi) کے تحت تین مرتبہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کا رکن نامزد کیا۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں ہمیشہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق انجام دی ہیں۔

    اختر حسین نے مزید کہا کہ حالیہ عدالتی تقرریوں سے متعلق پیدا ہونے والے تنازعات کی بنا پر وہ مزید اس عہدے پر کام جاری نہیں رکھ سکتے ہیں۔ اس لیے وہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رکنیت سے مستعفی ہو رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے استعفے کی نقل پاکستان بار کونسل کو ارسال کرنے کا بھی اعلان کیا تاکہ آئین کے مطابق ان کی جگہ پر نیا نامزد رکن مقرر کیا جا سکے۔یہ فیصلہ پاکستان میں عدالتی تقرریوں کے حوالے سے جاری تنازعات کے درمیان سامنے آیا ہے اور اس پر قانونی حلقوں میں مختلف آراء پائی جا رہی ہیں۔

  • ایسا کوئی بہادر وزیراعظم نہیں آیا جس نے 5 سال مکمل کیے ہوں،جسٹس مسرت ہلالی

    ایسا کوئی بہادر وزیراعظم نہیں آیا جس نے 5 سال مکمل کیے ہوں،جسٹس مسرت ہلالی

    سپریم کورٹ، فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل کیس میں آئینی بینچ کے جج جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرمی ایکٹ بنانے کامقصد کیا تھا یہ سمجھ آجائے تو آدھا مسئلہ حل ہوجائے گا۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی جس دوران بانی پی ٹی آئی کے وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیے۔وکیل عزیر بھنڈاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرمی ایکٹ کالعدم ہوگیا تو بھی انسداد دہشتگردی کا قانون موجود ہے، ایک سے زائد فورمز موجود ہوں تو دیکھنا ہوگا کہ ملزم کے بنیادی حقوق کاتحفظ کہاں یقینی ہوگا، آئین کا آرٹیکل 245 فوج کو عدالتی اختیارات نہیں دیتا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا، کیا کورٹ مارشل عدالتی کارروائی نہیں ہوتا ؟ عزیر بھنڈاری نے جواب دیاکورٹ مارشل عدالتی اختیار ہوتا ہے لیکن صرف فوجی اہلکاروں کے لیے سویلینز کے لیے نہیں۔

    جسٹس امین الدین نے کہا کہ سویلینز کی ایک کیٹیگری بھی آرمی ایکٹ کے زمرے میں آتی ہے، یہ تفریق کیسےہوگی کہ کونسا سویلین آرمی ایکٹ میں آتا ہے اور کون نہیں؟جسٹس مندوخیل نے ریمارکس دیے آئین میں فوج کو دو طرح کے اختیارات دیے گئے ہیں، ایک اختیار دفاع کا ہے اور دوسرا سول حکومت کی مدد کرنے کا۔جسٹس امین الدین نے کہا آرٹیکل 245 والی دلیل مان لیں تو فوج اپنے اداروں کا دفاع کیسے کرے گی ؟ جی ایچ کیو پر حملہ ہو تو کیا آرٹیکل245 کےنوٹیفیکیشن کا انتظار کیا جائے گا ؟عمران خان کے وکیل نے جواب دیا کوئی گولیاں چلا رہا ہو تو دفاع کے لیے کسی کی اجازت نہیں لینا پڑتی، جب حملہ ہو تو پولیس اور فوج سمیت تمام ادارے حرکت میں آتے ہیں، سپریم کورٹ ماضی میں لیاقت حسین کیس میں یہ نکتہ طے کرچکی ہے، عدالت قرار دے چکی فوج اگرکسی حملہ آورکوگرفتار کرےگی تو سول حکام کےحوالے کیاجائے گا، فوج پکڑے گئے بندے کے حوالے سے سول حکام کی معاونت ضرور کرسکتی ہے۔

    جسٹس نعیم افغان نے سوال کیا اگر فوجی اورسویلین مل کر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کریں توٹرائل کہاں ہوگا؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ ایسی صورت میں ٹرائل انسداد دہشتگردی عدالت میں ہی ہوگا۔ جسٹس مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ بنانے کا مقصد کیا تھا یہ سمجھ آجائے تو آدھا مسئلہ حل ہوجائے گا، آئین میں اس کو واضح لکھا ہے کہ آرمڈ فورسز سے متعلقہ قانون، ہے، سویلین آفیسر کے خلاف تادیبی کارروائی میں سزا کا اختیار نہیں دیا گیا، ملٹری کورٹ میں سزا کا اختیار دیا گیا ہے، آرمی آفیسر چھٹی پر جرم سرزد کرے تو ٹرائل کہاں ہوگا؟ کیا ملٹری کورٹ کا اختیار بہت وسیع ہے یا محدود ہے؟ کراچی میں رینجرز اہلکاروں کاٹرائل سول کورٹ میں ہوا۔
    جسٹس مندوخیل ریمارکس دیے کہ آئین پارلیمنٹ بناتی ہے،قانون سازی آئین کے مطابق ہی ہو سکتی ہے، کوئی قانون جو آئین سے مطابقت نہ رکھے نہیں بنایا جاسکتا، ہمارا المیہ یہی ہےکہ قانون کو سیاست کی نذر کردیا جاتاہے۔

    جسٹس مندوخیل نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ نے بھارت میں کورٹ مارشل کے لیے الگ فورم کی بات کی تھی، اس پر جسٹس علی مظہر نے کہا کہ میری نظرمیں سلمان اکرم راجہ کا موقف مختلف تھا، جسٹس مندوخیل نے کہا عدالت دلائل کی پابند نہیں، آئین کے مطابق خود بھی فیصلہ کرسکتی ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کیا پارلیمنٹ پر حملہ ہوتو پارلیمنٹ ٹرائل کے لیے الگ عدالت بنائے گی؟ ایگزیکٹو اور عدلیہ کو آئین میں الگ الگ رکھا گیا ہے، ملٹری ٹرائل میں شکایت کنندہ خود ایگزیکٹو ہوتی ہے، کیا شکایت کنندہ اپنے معاملے کا جج ہو سکتا ہے۔ عزیر بھنڈاری نے کہا کہ اگر آرمی ایکٹ میں سویلین کےملٹری ٹرائل کی اجازت دی گئی توکل مزید جرائم آرمی ایکٹ میں شامل ہوجائیں گے، جسٹس امین الدین نے کہا آپ آرٹیکل 245 کی دلیل دے رہے ہیں، وہ معاملہ ہی الگ ہے، جسٹس علی مظہر نے کہا آرٹیکل 245کےتحت فوج بلانے کا مطلب یہ ہرگزنہیں کہ عدالتیں چلانےکا اختیار بھی دے دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کیا پرائم منسٹرکے آرڈر کو ہم کالعدم قرار دے سکتے ہیں؟ وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا عدالت ایسا کرسکتی ہے۔جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے ویسے آج تک کسی وزیراعظم نے 5 سال مکمل نہیں کیے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا ایسا کوئی بہادر وزیراعظم نہیں آیا جس نے 5 سال مکمل کیے ہوں، جسٹس مندوخیل نے کہا ہم نے فوجی آمروں کو توثیق بھی دی۔ سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں میں سیویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت تاحال جاری ہے۔

  • خاندانی اور مفادات کی سیاست کرنے والوں کو قوم مسترد کر رہی ہے.حافظ طلحہ سعید

    خاندانی اور مفادات کی سیاست کرنے والوں کو قوم مسترد کر رہی ہے.حافظ طلحہ سعید

    حکومت و اپوزیشن آپس میں دست و گریبان ہونے کی بجائے ملکی مفاد میں آگے بڑھیں.نائب صدر مرکزی مسلم لیگ

    لاہور( )مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید نے کہا ہے کہ خاندانی اور مفادات کی سیاست کرنے والوں کو قوم مسترد کر رہی ہے.مرکزی مسلم لیگ پاکستان میں حقیقی تبدیلی لانا چاہتی ہے.حکومت و اپوزیشن آپس میں دست و گریبان ہونے کی بجائے ملکی مفاد میں آگے بڑھیں. مرکزی مسلم لیگ متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے ۔ ہم نے تعمیر وطن میں اپنا کردار ادا کر کے تکمیل پاکستان کرنی ہے اورطن عزیز پاکستان کو صحیح معنوں میں ایک مضبوط اور خوشحال ریاست بنانا ہے.

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ن لیگی سیاسی خاندان کی مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت کے اعلان کے موقع پر کیا،چک نمر 6 ج ب تحصیل صدر فیصل آباد کے معروف چٹھ خاندان کی سیاسی شخصیت ،مسلم لیگ ن کے سرگرم کارکن ،چوہدری اشفاق احمد چٹھ نے ساتھیوں سمیت نائب صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ پروفیسر حافظ طلحہ سعید ،جنرل سیکرٹری پاکستان مرکزی مسلم لیگ ضلع فیصل آباد چوہدری احسن تارڑ سے ملاقات کی اور مسلم لیگ ن کو خیرباد کہتے ہوئے مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا.

    اس موقع پر حافظ طلحہ سعید کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ کے دروازے ہمیشہ ان لوگوں کے لیے کھلے ہیں جو ملک کی ترقی، عوام کی فلاح اور سیاست میں اخلاقی قدروں کو اہمیت دیتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ چٹھ خاندان نے مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی،چٹھ خاندان کی مرکزی مسلم لیگ میں شمولیت سے پارٹی مزید مضبوط ہو گی. مرکزی مسلم لیگ کی سیاست کا مقصد پاکستان کے عوام کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے . ہم ایک ایسی جماعت کے طور پر کام کر رہے ہیں جو عوامی خدمت کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے.ایوانوں میں جانے والے آپس میں الجھنے کی بجائے عوام کے حقوق کی ترجمانی کریں اور پاکستانی قوم کو غربت، مہنگائی، بے روزگاری سے نکالیں.

  • چیمپئنز ٹرافی: صدر مرکزی مسلم لیگ کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    چیمپئنز ٹرافی: صدر مرکزی مسلم لیگ کا قومی ٹیم کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو نے چیمپئنز ٹرافی کے سلسلے میں بھارت کے خلاف میچ کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کو نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ایک روایتی حریف ہے، تاہم پاکستانی ٹیم کو اپنے کھیل کے مکمل اعتماد اور حوصلے کے ساتھ میدان میں اترنا چاہیے۔

    خالد مسعود سندھو نے مزید کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر انہیں پورا بھروسہ ہے، اور وہ یقین رکھتے ہیں کہ قومی ٹیم اپنے بہترین کھیل کا مظاہرہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ "آج پاکستانی ٹیم دنیا بھر میں قوم کا سر فخر سے بلند کرے گی”۔انہوں نے قومی ٹیم کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ "ہماری دعائیں قومی ٹیم کے ساتھ ہیں، اور ہمیں یقین ہے کہ یہ ٹیم قوم کی توقعات پر پورا اترے گی اور کامیاب ہو گی”۔خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم بھارت کے خلاف اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرے گی، اور ہمیں اپنی ٹیم کی کامیابی کی مکمل امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کی کامیاب کارکردگی نہ صرف کرکٹ کے میدان میں بلکہ قوم کے دلوں میں بھی خوشی کا باعث بنے گی۔

  • اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    اپووا وفد کی مبشر لقمان سے ملاقات،ایم ایم علی کو سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کے موقع پر ایک مختصر تقریب کا انعقاد باغی ٹی وی کے آفس میں کیا گیا جس میں بانی اپووا ایم ایم علی کو ان کی ادبی خدمات پر خصوصی سرٹیفکیٹ سے نوازا گیا۔

    تقریب میں سنئیر صحافی و تجزیہ نگار اور سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان اور سنئیر تجزیہ نگار پی جے میر نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر باغی ٹی وی کے ایڈیٹر ممتاز اعوان اور اپووا کے دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔مبشر لقمان نے اس موقع پر اپووا کو ایک بہترین ادبی تنظیم قرار دیا اور کہا کہ "جس جانفشانی سے آپ لوگ فروغ ادب کے لیے کام کر رہے ہیں وہ قابل تحسین ہے”۔ انہوں نے اپووا کے سیالکوٹ میں منعقدہ شاندار کانفرنس کی بھی تعریف کی اور کہا کہ وہ اس کامیاب ایونٹ پر اپووا کے وفد کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ مبشر لقمان نے سوال کیا کہ "اب آگے کا کیا پلان ہے؟ آپ لوگ اگلی کانفرنس کہاں منعقد کریں گے؟” جس پر بانی اپووا ایم ایم علی نے جواب دیا کہ "ہمارا ارادہ ہے کہ اگلی کانفرنس پشاور میں ہو۔”

    مبشر لقمان کے ساتھ اس طویل نشست میں مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو بھی ہوئی، جس میں انہوں نے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیے۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے ہائی ٹی کا بھی انتظام کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں اپووا کے مختلف عہدیداران نے شرکت کی، جن میں اپووا کی لیگل ایڈوئزر سعدیہ ہما شیخ، جنرل سیکرٹری مدیحہ کنول، کنونیر ساجدہ اصغر، پریس سیکرٹری نبیلہ اکبر، کینیڈا سے آئی ہوئی اپووا کی ممبر مبشرہ، اور اپووا کے دیگر عہدیداران شامل تھے جن میں اظہر حسین بھٹی، حافظ محمد معاویہ، اویس چوہدری، نادر فہمی، سجاد علی بھنڈر، احمد خان، طلال صدیقی اور دیگر نے بھی شرکت کی۔

    اس محفل میں ادبی خدمات کو سراہا گیا اور آئندہ کے منصوبوں پر بھی گفتگو کی گئی۔ اس تقریب کا مقصد اپووا کے عہدیداروں کی محنت اور ادب کے فروغ میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنا تھا۔

    باغی ٹی وی کی نمائندگی ،قصور میں دفتر کا افتتاح،ایک یادگار سفر.تحریر: طارق نوید سندھو

    قصور میں باغی ٹی وی کے دفتر کا مبشر لقمان نے کیا افتتاح

    ننکانہ صاحب: باغی ٹی وی کے نمائندے کو بابا گورو نانک یونیورسٹی کی جانب سے ایوارڈ

    باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ، نمایاں صحافتی خدمات پر سرٹیفکیٹ تقسیم

    باغی ٹی وی کی 13 ویں سالگرہ، لاہور میں کیک کاٹنے کی تقریب

  • معروف مذہبی و سماجی رہنما محمد یحییٰ مجاہد کی اہلیہ محترمہ کی وفات،نماز جنازہ ادا

    معروف مذہبی و سماجی رہنما محمد یحییٰ مجاہد کی اہلیہ محترمہ کی وفات،نماز جنازہ ادا

    معروف مذہبی و سماجی رہنما محمد یحییٰ مجاہد کی اہلیہ محترمہ کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی. نماز جنازہ جامع مسجد القادسیہ چوبرجی میں مفتی محمد یوسف طیبی نے پڑھائی. نماز جنازہ میں محمد یحییٰ مجاہد،انکے صاحبزادوں، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سمیت مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، ترجمان تابش قیوم، مرکزی مسلم لیگ پنجاب کے صدر چوہدری محمد سرور، لاہور کے سیکرٹری جنرل مزمل اقبال ہاشمی، شیخ محمد فیاض،رانا جبران سمیت کارکنان نے بھی کثیر تعداد میں شرکت کی.

    محمد یحییٰ مجاہد کی اہلیہ محترمہ کافی عرصے سے علیل تھیں اور زیر علاج تھیں .محمد یحییٰ مجاہد کی اہلیہ محترمہ کی وفات پر مرکزی مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل سیف اللہ خالد، حافظ طلحہ سعید ، حافظ خالد نیک، قاری محمد یعقوب شیخ و دیگر نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے، آمین

  • ایف بی آر کا نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپ

    ایف بی آر کا نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپ

    نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ فیکٹری پر کارروائی، اربوں روپے کی ٹیکس چوری پکڑی

    فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے خفیہ اداروں کی رپورٹ پر بہاولنگر میں ایک نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ بنانے والی فیکٹری پر چھاپہ مارا اور سگریٹ سیکٹر میں ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس چوری کا پتہ چلایا ہے۔ اس کارروائی کے دوران ایف بی آر نے دو ارب 56 کروڑ روپے کی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی چوری کو بے نقاب کرتے ہوئے 10 ارب روپے سے زائد مالیت کے نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ ضبط کرلیے۔یہ کارروائی ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال کی ہدایت پر کی گئی، جس کی قیادت چیف کمشنر آر ٹی او بہاولپور صاحبزادہ عبدالمتین اور دیگر اعلیٰ افسران نے کی۔ اس ٹیم میں کمشنر آر ٹی او ممتاز احمد، ڈپٹی کمشنر عمران یوسف، اور آڈٹ افسر محمد کامران شامل تھے۔

    ذرائع کے مطابق، چھاپے کے دوران پکڑے گئے نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ اور سگریٹ سازی کے سامان پر ٹیکس چوری کی جانے والی رقم 2 ارب 56 کروڑ روپے تھی۔ ایف بی آر کے اہلکاروں نے بڑی محنت سے یہ چوری پکڑتے ہوئے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان سے بچایا۔مذکورہ فیکٹری خیبر پختونخوا کی ایک بڑی بااثر شخصیت کی ملکیت بتائی جاتی ہے، لیکن ایف بی آر نے کسی قسم کے اثر و رسوخ یا دباؤ کو خاطر میں لائے بغیر کارروائی کی اور اس کا بھرپور انداز میں مقابلہ کیا۔ اس کارروائی سے ثابت ہوگیا کہ ایف بی آر نے بغیر کسی تعصب یا دباؤ کے ملکی خزانے کا تحفظ کیا ہے۔

    یہ چھاپہ ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس چوری کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، جو ملکی معیشت کی بہتری اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

  • سیکیورٹی فورسز کا ضلع کرک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 خارجی جہنم واصل

    سیکیورٹی فورسز کا ضلع کرک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 6 خارجی جہنم واصل

    پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ضلع کرک میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 6 خارجیوں کو ہلاک کر دیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ آپریشن خوارج کی موجودگی کی اطلاع ملنے پر کیا گیا۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق، آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں خارجیوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 6 خارجی ہلاک ہو گئے۔ اس وقت آپریشن جاری ہے اور اس کا مقصد علاقے میں باقی ماندہ خارجیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ملک سے دہشت گردی کی لعنت کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اپنے عزم میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیں گے۔

    وزیراعظم کا سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ضلع کرک میں کامیاب آپریشن اور 6 خارجیوں کی ہلاکت پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ "انسانیت کے دشمنوں کے مذموم عزائم کو اسی طرح خاک میں ملاتے رہیں گے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانیں قربان کرنے والے قوم کے بیٹوں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔” وزیراعظم نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ سیکیورٹی فورسز ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں اور اس میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی جائے گی۔

    اس کامیاب آپریشن نے دہشت گردوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی عزم اور صلاحیت کو ثابت کیا ہے اور ملک میں امن کے قیام کے لیے ان کی مسلسل کوششوں کو مزید مستحکم کیا ہے۔

  • بارش کے دوران بائیکر لین کے پینٹ کی خرابی پر نوٹس، انکوائری کی ہدایت

    بارش کے دوران بائیکر لین کے پینٹ کی خرابی پر نوٹس، انکوائری کی ہدایت

    لاہور: لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ڈی جی ایل ڈی اے) کے ڈائریکٹر جنرل، طاہر فاروق نے پہلی بارش کے بعد بائیکر لین کے پینٹ کے خراب ہونے پر سخت نوٹس لیتے ہوئے چیف انجینئر کو انکوائری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے میں پینٹ کمپنی کو کسی قسم کی ادائیگی نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جب کہ کنٹریکٹر کمپنی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔

    ایل ڈی اے کے ترجمان کے مطابق، ایل ڈی اے کی ٹیکنیکل کمیٹی کے چیف انجینئر، اسرار احمد اور پینٹ کمپنی کی ٹیم آپس میں رابطے میں ہیں۔ اس وقت پینٹ کمپنی کو کسی بھی قسم کی ادائیگی نہیں کی جا رہی۔ بائیکر لین کے پائلٹ پراجیکٹ پر ٹیسٹ رن کے طور پر اورنج اور گرین رنگوں کا استعمال کیا گیا تھا تاکہ وزیبلٹی اور انڈیکیشن کو بہتر بنایا جا سکے۔کنٹریکٹر کمپنی نے پائلٹ پراجیکٹ میں مقامی مینوفیکچرڈ پینٹ استعمال کیا تھا اور اس کے ساتھ ایک سال کی مینٹیننس گارنٹی بھی دی تھی۔ اس گارنٹی کے تحت مقامی کمپنی ایک سال تک پینٹ کی مرمت، بحالی اور بہتری کی ذمہ دار ہے۔

    سوشل میڈیا پر بائیکر لین کے پینٹ پر کروڑوں روپے خرچ ہونے کے بارے میں جو خبریں گردش کر رہی تھیں، ان کی تردید کی گئی ہے۔ ایل ڈی اے نے وضاحت کی کہ بائیکر لین کے پائلٹ پراجیکٹ کے لیے کم قیمت پر مقامی کمپنی کا مینوفیکچرڈ پینٹ استعمال کیا گیا تھا۔ مقامی پینٹ کی ایک سال کی فری مرمت و بحالی کی لاگت 153 روپے فی مربع فٹ ہے، جبکہ امپورٹڈ پینٹ کی لاگت 1270 روپے فی مربع فٹ ہوتی۔ اگر امپورٹڈ پینٹ استعمال کیا جاتا، تو لاگت میں 8 سے 10 گنا اضافہ ہوتا۔ کنٹریکٹر نے متاثرہ حصوں پر پینٹ کا دوبارہ کام شروع کر دیا ہے۔

    ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق نے پینٹ کے معیار کو جانچنے کے لیے ٹیکنیکل کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی کا مقصد بائیکر لین کے پائلٹ پراجیکٹ میں استعمال ہونے والے پینٹ سمیت تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لینا ہے۔ ٹیکنیکل ٹیم پینٹ کی بائنڈنگ کوالٹی اور دیگر معیارات کو بہتر بنانے کے لیے پینٹ بنانے والی کمپنی سے رابطے میں ہے۔اب تک پائلٹ پراجیکٹ کے کنٹریکٹر کمپنی کو پینٹ کی مد میں کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔ ٹیکنیکل کمیٹی کی رپورٹ اور پینٹ کے معیار کا جائزہ لینے کے بعد ہی کوئی ادائیگی کی جائے گی۔

    ڈی جی ایل ڈی اے طاہر فاروق کی قیادت میں بائیکر لین کے پینٹ کے معیار کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں، اور کنٹریکٹر کمپنی کو اس معاملے میں جوابدہ ٹھہرایا جا رہا ہے۔ پائلٹ پراجیکٹ کی جانچ کے بعد ہی مزید اقدامات کیے جائیں گے۔

  • سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن سے ای ووٹنگ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن سے ای ووٹنگ بارے رپورٹ طلب

    سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور نادرا سے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ای ووٹنگ کے لیے کیے گئے اقدامات کی پیشرفت کی رپورٹ دو ہفتوں میں طلب کر لی ہے۔ یہ حکم جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ کی جانب سے جاری کیا گیا۔

    الیکشن کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے ای ووٹنگ کا نظام غیر محفوظ ہے اور اس سے بڑے پیمانے پر ہیکنگ کا خطرہ موجود ہے۔ الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر آئی ٹی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ای ووٹنگ کی آزمائش 35 حلقوں میں کی گئی تھی جس کے دوران کئی خطرات سامنے آئے۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی ماہرین کی مدد سے اس عمل کی جانچ کی گئی تھی اور اس میں بھارت، اسرائیل اور فلپائن سے ہیکنگ کی کوششیں کی گئیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق، ای ووٹنگ کے نظام پر حملہ محض ایک سے تین گھنٹے میں کیا گیا تھا۔ اس رپورٹ کو سینٹ کی کمیٹی میں بھی پیش کیا جا چکا ہے، جس کے جائزے کے بعد سینیٹرز نے اس نظام کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے اس پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

    سپریم کورٹ نے اس معاملے پر مزید وضاحت اور رپورٹ طلب کرتے ہوئے دونوں اداروں کو حکم دیا کہ وہ ای ووٹنگ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات اور ان کے نتائج پر تفصیل سے رپورٹ پیش کریں۔

    گلف الائنس گروپ کاکروڑوں روپے کا فراڈ ،دھمکیاں

    مسلم گرلز لیگ پاکستان کے زیر اہتمام لاہور میں مفت سلائی سینٹر کا افتتاح