Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اپوزیشن رہنماؤں کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات

    اپوزیشن رہنماؤں کی چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات

    اسلام آباد: اپوزیشن رہنماؤں نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی، جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وفد نے میڈیا سے بھی گفتگو کی۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اور سابق وزیر عمر ایوب خان نے اس ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی اور اس دوران مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی۔ عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ملاقات میں انہوں نے گزشتہ جیل ٹرائل کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس وقت پی ٹی آئی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت کے لئے چیف جسٹس سے درخواست کی تھی۔عمر ایوب خان نے اس موقع پر بتایا کہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے کیسز کے حوالے سے بھی بات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات عدالت کے حکم کے باوجود ان کیسز کی تاریخیں تبدیل ہو جاتی ہیں، جس کی وجہ سے مسائل بڑھتے ہیں۔

    عمر ایوب کا مزید کہنا تھا کہ ملاقات کے دوران یہ بھی بتایا کہ بانی پی ٹی آئی اور دیگر اہم افراد کے وکلا کو ان سے ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چیف جسٹس پاکستان کو اس حوالے سے آگاہ کیا گیا کہ اس قسم کے فیصلے سے انصاف کا عمل متاثر ہو رہا ہے ،

    بیرسٹرگوہر کا کہنا تھا کہ ہم نے چیف جسٹس سے کہا کہ عمران خان کو ایکسرسائز مشین نہیں دی جارہی، کتابیں فراہم نہیں کی جارہی، بانی چیئرمین سے فیملی ممبران کی ملاقاتیں نہ کرانے کا بھی چیف جسٹس کو کہا،ہم نے چیف جسٹس کو کہا کہ ہمارے رہنماؤں پر بیک وقت 100 سو سے زائد کیسز ہے،ہمارے رہنما بیک وقت سارے کیسز میں پیش نہیں ہوسکتے،

    سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ ہم نے چیف جسٹس کے ساتھ آئین اور قانون کی عملداری پر بات چیت کی، آئین میں دیے گئے انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے اگاہ کیا گیا،اگر پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ ان مسائل کو نہیں دیکھتی تو پھر لوگ مایوس ہونگے،پورے نظام عدل کو آلہ جرم بنا دیا گیا،عدالت دیکھے اور پوچھے کہ ایک شخص کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہےان حالات میں عدلیہ کو مداخلت کرنی چاہئےہم جو سمجھتے تھے وہ ریلیف ہمیں عدلیہ سے نہیں ملی اگر انصاف نہیں ملتا تو ملک جس طرف جائے گا اس کا عمر ایوب نے کہہ دیا ہمیں 26 ویں آئینی ترمیم پر اعتراضات ہیں،

  • استعمال شدہ اشیاء کی آڑ میں اسمگلنگ ،وزیراعظم کا روکنے کا حکم

    استعمال شدہ اشیاء کی آڑ میں اسمگلنگ ،وزیراعظم کا روکنے کا حکم

    اسلام آباد: وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کے چیئرمین زیاد بشیر کی قیادت میں ریٹیلرز کے وفد سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وزیرِاعظم نے ریٹیلرز کے مسائل کے حل کی یقین دہانی کرائی اور اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا۔

    وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ملک کی معیشت کو مضبوط بنانے اور ریٹیل سیکٹر کے مسائل کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ریٹیلرز جو پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں، ان پر ٹیکس کا مزید بوجھ نہیں ڈالا جائے گا۔ تاہم، ایسے ریٹیلرز جو ٹیکس ادا نہیں کرتے، انہیں ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔وزیرِاعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ استعمال شدہ اشیاء کی اسمگلنگ روکنے کیلئے اقدامات تیز کیے جائیں گے تاکہ ملکی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی صنعت کو جدید ٹیکنالوجی اپنانا چاہئے تاکہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں مقابلہ کر سکیں اور اپنی برآمدات بڑھا سکیں۔مزید براں، وزیرِاعظم نے ایف بی آر کی دیگر اصلاحات کے ساتھ ساتھ معیشت کو کیش لیس بنانے کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اجلاس میں شریک شرکاء نے وزیرِاعظم کے اقدامات کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ مہنگائی اور شرح سود میں کمی کی بدولت مصنوعات کی کھپت میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے پیدوار میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ ان اقدامات سے مہنگائی میں مزید کمی آئے گی اور ملک میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

    وفد کے شرکاء نے حکومت کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے دور رس مثبت اثرات معیشت پر مرتب ہوں گے۔ ریٹیلرز کے ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے سے ملک کے محصولات میں اضافہ ہوگا، اور جو ریٹیلرز پہلے سے ٹیکس نیٹ میں ہیں، ان کے مسائل کے حل کیلئے حکومت کے اقدامات کو بھی سراہا گیا۔

    اجلاس میں چیئرمین پاکستان ریٹیل بزنس کونسل زیاد بشیر، سی ای او سروس سیلز کارپوریشن شاہد حسین، سی ای او بیچ ٹری شہریار بخش، وفاقی وزراء احسن اقبال، جام کمال خان، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، وزیرِ مملکت علی پرویز ملک اور دیگر متعلقہ اعلی حکام نے بھی شرکت کی۔

  • مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کے بعد نمونے حاصل

    مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کے بعد نمونے حاصل

    کراچی: مصطفیٰ عامر، جو کہ اپنے دوست ارمغان کے ہاتھوں اغوا کے بعد قتل ہوئے، کی قبر کشائی کے عمل کے دوران نمونے حاصل کرلئے گئے ہیں۔ عدالتی احکامات کے بعد ڈاکٹر سمیہ سید کی سربراہی میں ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا جس نے مجسٹریٹ کی نگرانی میں مصطفیٰ عامر کی قبر کشائی کی۔

    تین رکنی میڈیکل بورڈ کے ممبران نے قبر کشائی کے دوران نمونے حاصل کیے، جس کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ، پولیس سرجن، اور اے وی سی سی حکام بھی موقع پر موجود تھے۔ نمونے حاصل کرنے کے بعد، لاش کو سرد خانے منتقل کر دیا گیا۔ تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد ہی لاش کو لواحقین کے حوالے کیا جائے گا۔ پولیس سرجن ڈاکٹر سمیہ سید نے بتایا کہ لاش کی حالت بہت زیادہ جلی ہوئی ہے، جس کے باعث وجہ موت کا تعین کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ ڈی این اے کے نمونے لے لیے گئے ہیں اور 3 سے 7 دن میں رپورٹ آجائے گی۔

    مصطفیٰ عامر کے نمونے حاصل کرنے کے بعد، لاش ایدھی حکام کے حوالے کردی گئی۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ایدھی حکام کو خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈی این اے رپورٹ آنے تک لاش ایدھی سرد خانے میں رہے گی۔ اگر رپورٹ مثبت آئی تو لاش کو لواحقین کے حوالے کر دیا جائے گا، لیکن اگر رپورٹ منفی ہوئی تو لاش کو دوبارہ لاوارث قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ مصطفیٰ عامر کو اپنے دوست ارمغان نے اغوا کرنے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر اس کی گاڑی میں ڈال کر حب لے جا کر جلا دیا۔ پولیس کے مطابق، ملزم ارمغان نے قتل کے واقعے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے مصطفیٰ کو حب میں گاڑی کے اندر آگ لگا کر مارا۔اس کیس کی تحقیقات جاری ہیں اور مقتول کی حقیقت کے بارے میں مزید معلومات ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد سامنے آئیں گی۔

  • عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی  تجویز قابل عمل نہیں ،حکومت

    عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی تجویز قابل عمل نہیں ،حکومت

    اسلام آباد ہائی کورٹ: ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ عافیہ صدیقی کی رہائی کے بدلے شکیل آفریدی حوالگی کی تجویز قابل عمل نہیں ، عافیہ صدیقی کے امریکی وکیل کلائیو سمتھ نے اس حوالے سے تجویز دی تھی .ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جوباییڈن نے درخواست مسترد کردی لیکن خط کا جواب نہیں دیا .، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس نے خط کا جواب ہی نہیں دیا بلکہ acknowledge بھی نہیں کیا ،ڈپلومیٹک نارمز کیا ہیں اگر کوئی ملک دوسرے کو خط لکھتا ہے تو کیا ہوتا ہے ، ایڈیشنل اٹارنی جنرل حکومت سے ہدایات لے کے بتائیں امریکہ کو عدالت میں دائر عافیہ صدیقی کی پٹیشن پر کیا اعتراض ہے ،

    عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایات لے کر اگلے جمعے تک جواب طلب کرلیا،کیس کی سماعت اگلے جمعے تک ملتوی کر دی گئی

  • توہین عدالت پر سپریم کورٹ کے وکیل کو ایک ماہ قید کی سزا،گرفتار

    توہین عدالت پر سپریم کورٹ کے وکیل کو ایک ماہ قید کی سزا،گرفتار

    لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ نے توہین عدالت کے مقدمے میں سپریم کورٹ کے سینئر وکیل فاضل صدیقی کو ایک ماہ قید کی سزا سنا دی۔ عدالت کی جانب سے سزا سنائے جانے کے فوراً بعد پولیس نے فاضل صدیقی کو حراست میں لے لیا۔

    وکیل فاضل صدیقی نے شہری عثمان کی جانب سے راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔ عدالت نے اس درخواست کو مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ قانون کے مطابق یہ درخواست دائر کرنا مناسب نہیں تھا۔ تاہم، وکیل فاضل صدیقی نے درخواست کو سماعت کے لیے مقرر کرنے پر اصرار کیا، جس پر عدالت نے ٹیکنیکل وجوہات کی بنا پر درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے سے معذرت کرلی۔

    اس کے بعد وکیل فاضل صدیقی اور جسٹس مرزا وقاص رؤف کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی، جس پر عدالت نے فاضل صدیقی کو توہین عدالت کا مرتکب قرار دیتے ہوئے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا اور ایک ماہ کی قید کی سزا سنا دی۔

    اس فیصلے کے بعد وکلا کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ وکلا رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عدالت کی جانب سے سینئر وکیل فاضل صدیقی کو دی جانے والی سزا وکلا برادری کے لیے ایک دھچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سزا صرف فاضل صدیقی کو نہیں بلکہ پورے وکلا طبقے کو دی گئی ہے۔ وکلا نے اس سزا کی بھرپور مذمت کی ہے اور سینئر وکیل فاضل صدیقی کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ "کالے کورٹ کی عزت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا”۔

  • عمران خان کے دو موبائل شہباز گل نے چوری کر کے فیض حمید کو دیئے،شیر افضل مروت

    عمران خان کے دو موبائل شہباز گل نے چوری کر کے فیض حمید کو دیئے،شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی کے سابق رہنما ، رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ عمران خان کے دو موبائل شہباز گل نے چوری کر کے فیض حمید کو دیئے

    نجی ٹی وی پروگرام میں بات کرتے ہوئے شیرافضل مروت کا کہنا تھا کہ شہباز گل جب عمران خان کے چیف آف اسٹاف تھے تو عمران خان کے دو فون جہاز میں گم ہو گئے،، خان نے تحقیقاتی ٹیم بنائی، پتا چلا کہ شہباز گل نے عمران خان کے دونوں فون جنرل فیض کو پہنچائے، اس کے بعد عمران خان نے شہباز گل کو فارغ کیا اور آج تک اپنے پاس رسائی نہیں دی۔ کبھی ملاقات نہیں کی،عمران خان کئی بار پوچھ چکے ہیں شہباز گل کو پارٹی سیاسی اور کور کمیٹی سے اب تک کیوں نہیں نکالا، سلمان اکرم راجا اور حامد رضا گواہ ہیں ان سے پوچھ لیں شہباز گل پاکستان سے الیکشن کمیشن کی ایک ہستی کی گارنٹی پر باہر نکلا، ٹیکسٹ میرے موبائل میں موجود ہیں۔شہباز گل تمام سیکرٹ بتا دیتا تھا،عمران خان ڈیڑھ ماہ قبل بھی پوچھ چکے ہیں کہ کورکمیٹی سے شہباز گل کو کیوں نہیں ہٹایا گیا.

  • رمضان میں چینی کے اسٹالز لگانے کا فیصلہ،قیمت 130 روپے فی کلو طے

    رمضان میں چینی کے اسٹالز لگانے کا فیصلہ،قیمت 130 روپے فی کلو طے

    اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار، رانا تنویر حسین کی زیر صدارت شوگر ایڈوائزری بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں رمضان المبارک کے دوران عوام کو کم قیمتوں پر چینی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے حوالے سے مختلف اقدامات پر غور کیا گیا۔رانا تنویر حسین نے اجلاس میں بتایا کہ عوام کو رمضان کے مہینے میں سستی اور معیاری چینی فراہم کرنے کے لیے صوبوں کے تعاون سے مختلف اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے تمام صوبوں کے چیف سیکرٹریز کو میونسپل سطح پر چینی کے سٹالز لگانے کی ہدایت کی تاکہ عوام کو کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔

    اعلامیہ کے مطابق، سندھ میں صوبائی حکومتوں کے تعاون سے 230 شوگر اسٹالز لگائے جائیں گے، جبکہ خیبرپختونخوا میں چینی کے سٹالز کے لیے 405 سیلنگ پوائنٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی چینی کے سٹالز قائم کیے جائیں گے تاکہ عوام کو ان کی ضرورت کے مطابق چینی دستیاب ہو سکے۔اس موقع پر رانا تنویر حسین نے کہا کہ میونسپل سطح پر سٹالز کی سیٹ اپ کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کو سونپی گئی ہے۔ ان سٹالز پر سیکورٹی، صفائی اور ہجوم کے انتظام کے لیے صوبائی حکومتیں اقدامات اٹھائیں گی۔

    وزیر صنعت و پیداوار نے مزید کہا کہ رمضان المبارک کے آخری ایام میں یعنی 27 رمضان تک ان سٹالز پر چینی کی بلاتعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔ چینی کی قیمت 130 روپے فی کلو رکھی گئی ہے تاکہ عوام کو سستی چینی فراہم کی جا سکے۔رانا تنویر حسین نے اس بات پر زور دیا کہ میونسپل سطح پر سٹالز قائم کرنے کا مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا اور ان کی مشکلات کو کم کرنا ہے۔ حکومت کسی بھی ممکنہ مسائل کے حل کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے گی تاکہ عوام کو چینی کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

  • جیل میں قید شوہر کےگینگ کو چلانے والی "لیڈی ڈان” گرفتار

    جیل میں قید شوہر کےگینگ کو چلانے والی "لیڈی ڈان” گرفتار

    بھارتی پولیس نے کئی سال کی محنت اور چھان بین کے بعد دہلی کی ’لیڈی ڈان‘ کو گرفتار کر لیا ہے۔ 33 سالہ خاتون پر 270 گرام ہیروئن رکھنے کا الزام ہے، جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں مالیت تقریباً 1 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق، خاتون طویل عرصے سے پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظر میں تھی۔ اطلاعات کے مطابق، یہ خاتون نہ صرف اپنے جرم میں ملوث تھی، بلکہ جیل میں قید اپنے شوہر کے گینگ کو بھی چلا رہی تھی۔مزید یہ کہ خاتون کے شوہر پر قتل، بھتہ خوری، اور اسلحے کی اسمگلنگ کے درجنوں مقدمات درج ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خاتون کا تعلق ایک منظم جرائم پیشہ گروہ سے ہے۔ پولیس نے خاتون کی گرفتاری کو ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے، کیونکہ یہ گینگ دہلی اور اس کے اطراف کے علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔

    اس گرفتاری سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت میں خواتین بھی جرائم کی دنیاؤں میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور پولیس کو ان کی گرفتاریوں میں مزید پیچیدگیاں پیش آتی ہیں۔

  • شرجیل میمن کی ہدایات،ان فٹ کمرشل گاڑیوں کیخلاف کریک ڈائون،   15 ڈرائیور گرفتار

    شرجیل میمن کی ہدایات،ان فٹ کمرشل گاڑیوں کیخلاف کریک ڈائون، 15 ڈرائیور گرفتار

    سندھ کے سینئر وزیر، وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کی ہدایات پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے کمرشل گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔ اس کریک ڈاؤن کے دوران 53 غیر معیاری اور ان فٹ گاڑیاں تحویل میں لے لی گئیں جبکہ 15 ڈرائیور گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔

    محکمہ ٹرانسپورٹ کی ٹیموں نے مجموعی طور پر 1,115 گاڑیوں کی جانچ کی، جن میں سے 565 گاڑیاں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کی گئیں۔ اس کے علاوہ، سڑک پر چلنے کے قابل نہ ہونے کی وجہ سے سات کمرشل گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس بھی منسوخ کر دیے گئے۔اس دوران، لاپرواہ اور غفلت برتنے والی ڈرائیونگ کرنے والے 17 ڈرائیوروں کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 279 کے تحت ایف آئی آر درج کی گئیں۔ اسی طرح ہیوی ٹریفک پر عائد وقت کی پابندی کی خلاف ورزی پر دفعہ 188 کے تحت چھ مقدمات درج کیے گئے۔موٹر وہیکل آرڈیننس کی دفعات 99 اور 113 کے تحت 15 ڈرائیوروں کو لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف یہ کریک ڈاؤن وسیع تر عوامی مفاد کا حصہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی کا مقصد سڑکوں پر نظم و ضبط قائم رکھنا اور لاپرواہی کے باعث ہونے والے حادثات کو روکنا ہے۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شہریوں کی جانوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ غیر معیاری گاڑیوں اور لاپرواہ ڈرائیوروں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائیاں باقاعدگی سے کی جائیں گی اور خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔شرجیل انعام میمن نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سڑکوں پر امن و امان اور عوام کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے محکمہ ٹرانسپورٹ کی کارروائیاں مزید بڑھائی جائیں گی۔

  • بھارتی کرکٹر کی اہلیہ سے علیحدگی کی وجوہات سامنے آگئیں

    بھارتی کرکٹر کی اہلیہ سے علیحدگی کی وجوہات سامنے آگئیں

    بھارتی کرکٹر یزویندر چہل اور ان کی اہلیہ دھنا شری ورما کے درمیان علیحدگی کے حوالے سے اہم معلومات منظر عام پر آئی ہیں۔ گزشتہ کچھ مہینوں سے ان کی طلاق کی خبریں سوشل میڈیا پر زیر گردش تھیں، تاہم دونوں میں سے کسی نے بھی اس معاملے پر کھل کر بات نہیں کی۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، دونوں باضابطہ طور پر علیحدہ ہو چکے ہیں اور اس فیصلے کے پیچھے مختلف وجوہات سامنے آئی ہیں۔

    یزویندر چہل اور دھنا شری ورما کی علیحدگی کی کارروائی کی آخری سماعت اور تمام ضروری قانونی مراحل باندرہ فیملی کورٹ میں طے پائے، جہاں دونوں افراد ذاتی طور پر موجود تھے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، جج کی ہدایت پر دونوں کے درمیان تقریباً 45 منٹ تک مشاورت کا سلسلہ جاری رہا، جس کے بعد جج کو آگاہ کیا گیا کہ دونوں فریقین باہمی رضامندی سے علیحدگی چاہتے ہیں۔ذرائع کے مطابق، چہل اور دھنا شری گزشتہ 18 ماہ سے الگ رہ رہے تھے۔ جب دونوں سے طلاق کی وجوہات پوچھی گئیں تو انہوں نے کہا کہ ان کے درمیان ہم آہنگی کے مسائل تھے، جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان رشتہ قائم رکھنا مشکل ہو گیا تھا۔

    دونوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر اپنے جذبات کا اظہار بھی کیا تھا۔ یزویندر چہل نے چند روز قبل ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا تھا، "خدا نے مجھے بے شمار بار بچایا ہے، میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کتنی بار مجھے ایسی مشکلات سے نکالا گیا ہوگا جن کا مجھے علم بھی نہیں تھا۔” اس کے ساتھ ہی دھنا شری نے بھی اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک پیغام شیئر کیا جس میں کہا، "کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ خدا کس طرح ہماری فکروں اور آزمائشوں کو برکت میں بدل سکتا ہے؟ اگر آج آپ کسی چیز کے بارے میں پریشان ہیں، تو جان لیں کہ آپ کے پاس ایک انتخاب ہے، یا تو آپ پریشان رہ سکتے ہیں یا پھر سب کچھ خدا کے سپرد کر کے ہر چیز کے لیے دعا کا انتخاب کر سکتے ہیں۔”

    یہ واقعہ دونوں کی زندگی میں ایک نیا باب شروع ہونے کی علامت ہو سکتا ہے، اور دونوں کے علیحدہ ہونے کے فیصلے نے ان کے مداحوں کو حیرانی میں ڈال دیا ہے۔