Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لانڈھی ڈسٹرکٹ جیل سے 22 بھارتی ماہی گیروں کی رہائی

    لانڈھی ڈسٹرکٹ جیل سے 22 بھارتی ماہی گیروں کی رہائی

    کراچی: لانڈھی ڈسٹرکٹ جیل سے 22 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کردیا گیا ہے، جنہیں پاکستانی حکام نے غیر قانونی طور پر سمندری حدود میں مچھلیوں کے شکار پر گرفتار کیا تھا۔ رہائی پانے والے ماہی گیروں میں 3 مسلمان اور 19 ہندو شامل ہیں۔

    یہ ماہی گیر پاکستانی سمندری حدود میں گزشتہ 3 سے ڈھائی سال کے دوران غیر قانونی طور پر مچھلیوں کے شکار پر گرفتار ہوئے تھے اور ان پر مقامی عدالتوں نے جرم کی سزا سنائی تھی، جسے انہوں نے مکمل کرلیا ہے۔ جیل سے رہائی کے بعد انہیں سرکاری ادارے کی نگرانی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے انتظامات پر لاہور منتقل کیا جا رہا ہے۔ وہاں سے وہ واہگہ بارڈر کے راستے اپنے وطن بھارت واپس جائیں گے۔ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ لانڈھی جیل ارشد شاہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ رہائی پانے والے ماہی گیروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا گیا ہے اور انہیں وطن روانہ کیا جا رہا ہے۔ رہائی کے وقت ان ماہی گیروں کو اخراجات کی معقول رقم اور تحائف بھی دیے گئے ہیں تاکہ ان کے سفر میں سہولت ہو۔

    ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل ارشد شاہ نے مزید بتایا کہ ڈسٹرکٹ جیل ملیر میں ابھی 198 بھارتی ماہی گیر سزا کاٹ رہے ہیں اور انہیں بھی جلد رہائی ملنے کی توقع ہے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اس طرح کی رہائیاں ایک دوسرے کے شہریوں کے حقوق کی اہم مثال ہیں، جو دونوں ملکوں کے درمیان انسانیت کے احترام اور تعاون کی راہ کو مزید بہتر بنانے کی کوششیں ہیں۔

  • امریکی امداد کی معطلی، افغانستان معاشی بحران کا شکار

    امریکی امداد کی معطلی، افغانستان معاشی بحران کا شکار

    افغانستان دنیا کے ان 8 ممالک میں شامل ہے جو اپنی معیشت کا بڑا حصہ امریکی امداد پر انحصار کرتے ہیں۔ سینٹر فار گلوبل ڈیولپمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، افغانستان کی 35 فیصد غیر ملکی امداد امریکہ کے ادارے یو ایس ایڈ (USAID) کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے۔ تاہم، حالیہ دنوں میں امریکی امداد کی معطلی نے افغانستان کی معیشت کو سنگین بحران میں مبتلا کر دیا ہے۔

    رپورٹ کے مطابق، امریکی امداد کی معطلی سے افغانستان کی اقتصادی ترقی میں 7 فیصد تک کمی متوقع ہے۔ گزشتہ تین سالوں میں امریکہ نے افغانستان کو 3 ارب ڈالر سے زائد مالی امداد فراہم کی، اور وہ افغانستان کا سب سے بڑا مالی معاونت فراہم کرنے والا ملک تھا۔2021 میں افغان زر مبادلہ کے ذخائر 9.4 بلین ڈالر تھے، جنہیں طالبان کے قبضے کے بعد عالمی اداروں نے منجمد کر دیا۔ اس کے نتیجے میں افغان کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آئی۔ گزشتہ ہفتے میں افغان کرنسی کی قدر امریکی ڈالر کے مقابلے میں 11 فیصد کم ہو گئی، جو کہ مزید معاشی مشکلات کا سبب بنے گی۔اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں بیروزگاری کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، اور گزشتہ دو ماہ کے دوران ایک امریکی ڈالر کی قیمت 64 افغان کرنسی سے بڑھ کر 71 افغان کرنسی تک پہنچ چکی ہے۔ جنوری 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا جس کے تحت امریکہ نے افغانستان کو فراہم کی جانے والی تمام غیر ملکی امداد فوری طور پر روک دی۔افغان عوام نے ملک میں بڑھتے اقتصادی چیلنجز اور بیروزگاری پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ افغانستان میں گزشتہ سال بے روزگاری کی شرح 14.39 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے معاشی حالت مزید بگڑ گئی ہے۔

    افغان وزارت اقتصادیات کا کہنا ہے کہ امریکی امداد کی معطلی سے افغانستان کے عوام کی زندگی پر فوری منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ امداد کی کمی سے افغانستان کی معیشت بدتر ہو چکی ہے، اور افغان حکومت کو دہشت گردی کی بجائے عوامی فلاح و بہبود اور اقتصادی ترقی پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک میں اقتصادی اور معاشی ترقی کے بجائے دہشت گردی اور دہشت گردوں کی حمایت کی، جس کے باعث افغان عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ دہشت گردی کو ختم کرنے اور عوام کی فلاح کے لیے عملی اقدامات کرے تاکہ ملک میں امن اور خوشحالی کا آغاز ہو سکے۔

  • وزیراعلی مریم نواز  کا پنجاب کو تاریخ، تہذیب اور سیاحت کا علاقائی ،عالمی مرکز بنانے کا فیصلہ

    وزیراعلی مریم نواز کا پنجاب کو تاریخ، تہذیب اور سیاحت کا علاقائی ،عالمی مرکز بنانے کا فیصلہ

    وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب کو تاریخ، تہذیب اور سیاحت کا علاقائی ،عالمی مرکز بنانے کا فیصلہ کیا ہے

    شاندار پنجاب کے نام سے میگا ٹورسٹ منصوبے کا آغاز کر دیا گیا،پنجاب کے 170 تاریخی مقامات کو عالمی معیار کے سیاحتی مراکزمیں تبدیل کرنے کی میپنگ مکمل کر لی گئی،میپنگ مکمل ہونے والی تاریخی عمارتوں میں 101 گردوارے اور 53 گرجا گھر بھی شامل ہیں،تاریخ، ورثہ اور سیاحت سے متعلق تمام ادارے پنجاب ٹورازم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی کے ماتحت ہونگے،جامع ٹورسٹ پالیسی تیار ، پہلی بار پنجاب ٹورازم اینڈ ہیریٹیج اتھارٹی ایکٹ 2024 لاگو ہو گا،

    وزیراعلی مریم نواز نے پنجاب کے تاریخی مقامات کی تین مراحل میں بحال کرنیکا منصوبہ بنا لیا، پہلا مرحلہ جون میں جبکہ دیگر تاریخی مقامات کی بحالی دوسرے اور تیسرے مرحلے میں مکمل ہوگی ،16سیا حتی منصوبوں کے پی سی وَن کی فوری تیاری،بانسرا گلی، ٹورسٹ ویلیج اور پارکس کی تعمیر شامل ہیں.تاریخی شہر ٹیکسلا کو انٹرنیشنل "ٹورسٹ سٹی” بنانے کا اعلان کیا گیا. ٹیکسلا میوزیم کی اپ گریڈیشن ، جدیدٹیکنالوجی سے ڈسپلے سینٹرزبنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا.ٹیکسلا میں بدھ پیروکاروں کی سہولت کیلئےعبادت گاہیں،سدھارتا کے نام سے گیلریز تعمیر ہوگی.سکھ برادری کی سہولت کے لئے 46 غیرفعال گردوارے بحال کرنے کی بھی منظوری دی گئی،اقلیتی برادری کے مذہبی و تاریخی مقامات کی حفاظت کا جامع نظام بنانے کی ہدایت کی گئی،سیاحت کے فروغ کے لئے بہترین سڑکیں ، انفراسٹرکچر اپ گریڈیشن اور جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی.دلکش لاہور منصوبے کے لئے 400 ملین روپے جاری کر دیئے گئے،مال روڈ لاہورکی تاریخ محفوظ اور فوری مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی. پنجاب کو تاریخی اور سیاحتی مقامات کے لحاظ سے 9 حصوں میں تقسیم کر دیا گیا

    بھارتی نژاد امریکی کیش پٹیل ایف بی آئی کا نیا ڈائریکٹر مقرر

  • بھارتی نژاد امریکی کیش پٹیل ایف بی آئی کا نیا ڈائریکٹر مقرر

    بھارتی نژاد امریکی کیش پٹیل ایف بی آئی کا نیا ڈائریکٹر مقرر

    بھارتی نژاد امریکی کیش پٹیل ایف بی آئی کا نیا ڈائریکٹر مقرر کر دیا گیا

    امریکی سینیٹ نے جمعرات کو 51 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے کیش پٹیل کی توثیق کر دی، اور وہ ایف بی آئی کے نویں ڈائریکٹر بن گئے ہیں۔ پٹیل کی توثیق کے باوجود ڈیموکریٹس میں بعض شکوک و شبہات موجود رہے، تاہم وہ ملک کی سب سے بڑی وفاقی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی کے سربراہ بن گئے ہیں۔کیش پٹیل بھارتی نژاد امریکی ہیں اور ان کا پورا نام کشیپ پرمود ونود پٹیل ہے۔ سینیٹ سے توثیق کے بعد پٹیل نہ صرف ایف بی آئی کے پہلے بھارتی نژاد بلکہ پہلے ایشیائی نژاد ڈائریکٹر بھی بن گئے ہیں۔ ان کا تعلق نیویارک سے ہے اور انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز اٹارنی کی حیثیت سے کیا تھا، جہاں انہوں نے کئی پیچیدہ قانونی مقدمات کی پیروی کی۔

    پٹیل، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے دوران، ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس اور امریکی وزیر دفاع کے چیف آف اسٹاف کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ ایف بی آئی کے خفیہ معلومات جمع کرنے کے اختیارات کو محدود کرنے کے حامی ہیں۔ اس کے علاوہ، پٹیل نے نیشنل سکیورٹی کونسل میں انسداد دہشتگردی کے سینئر ڈائریکٹر کے طور پر بھی کام کیا ہے۔صدر ٹرمپ کی پہلی مدت میں کیش پٹیل اہم ترجیحات کے تحت کارروائیاں کرنے والی ٹیم کا حصہ رہے، جن میں داعش کے رہنما ابو بکر البغدادی اور القاعدہ کے رہنما قاسم الریمی کا خاتمہ شامل تھا۔ انہوں نے نیشنل سکیورٹی کونسل اور ایوان کی سیلیکٹ کمیٹی آن انٹیلی جنس میں بھی خدمات انجام دی ہیں، جہاں انہوں نے 2016 کے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی تحقیقات کی قیادت کی تھی۔

    ایف بی آئی کے نئے ڈائریکٹر کا عزم
    کیش پٹیل نے اپنی توثیق کے بعد ایک شفاف اور جوابدہ ایجنسی کی تشکیل کا عزم ظاہر کیا ہے، جو انصاف کے اصولوں پر کاربند ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی کا مشن امریکیوں کو نقصان پہنچانے والوں کو دنیا کے ہر کونے میں تلاش کرنا ہے۔ پٹیل نے اپنے تصدیق کے موقع پر صدر ٹرمپ اور اٹارنی جنرل بوندی کا شکریہ ادا کیا۔

    ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کا عہدہ انتہائی طاقتور اور اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس عہدے کی معیاد 10 سال ہوتی ہے، تاکہ ڈائریکٹر کو سیاسی اثر و رسوخ سے آزاد رکھا جا سکے۔ پٹیل کو نومبر میں کرسٹوفر رے کی جگہ نامزد کیا گیا تھا، جو کہ 2017 میں صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد ایف بی آئی کے ڈائریکٹر منتخب ہوئے تھے اور سات سال تک اس عہدے پر کام کیا تھا۔

  • تل ابیب کے جنوب میں تین بسوں میں دھماکے

    تل ابیب کے جنوب میں تین بسوں میں دھماکے

    اسرائیل کے شہر تل ابیب کے جنوب میں واقع بیت یام کے علاقے میں تین بسوں میں دھماکے ہوئے ہیں، جسے اسرائیلی پولیس نے دہشت گرد حملہ قرار دیا ہے۔

    پولیس کے مطابق، دو دیگر بسوں میں نصب دھماکہ خیز آلات پھٹنے میں ناکام ہو گئے، جس سے بڑی تباہی بچ گئی۔پولیس نے فوری طور پر بڑی فورس کو جائے وقوعہ پر بھیجا اور مشتبہ افراد کی تلاش شروع کر دی ہے۔ اس دوران، وزیر ٹرانسپورٹ میری ریجیو نے ملک میں تمام بسوں، ٹرینوں اور لائٹ ریل ٹرینوں کو روکنے کا حکم دیا ہے تاکہ دھماکہ خیز آلات کی جانچ کی جا سکے۔ سوشل میڈیا پر جاری فوٹیج میں ایک بس کو پارکنگ لاٹ میں جلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پولیس کے ترجمان آریہ ڈورون نے بتایا کہ ابھی تک کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے، اور افسران تل ابیب میں مزید بموں کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے عوام کو متنبہ کیا کہ وہ ہر مشتبہ بیگ یا چیز سے ہوشیار رہیں۔

    مقامی میڈیا کے مطابق، ایک دھماکہ خیز آلہ میں پیغام درج تھا کہ یہ "تلکرم کا بدلہ” ہے، جو مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے حالیہ آپریشن کا حوالہ ہے۔ اسرائیل نے دھماکوں کا الزام ایران پر عائد کیا ہے، اور سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کہنا ہے کہ یہ حملے حماس کے تعاون سے کیے گئے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی ایجنسی شن باتھ نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے سامریہ میں دہشت گردوں کو حملوں کے لیے تربیت فراہم کی، دھماکہ خیز آلات کی سپلائی کی، اور سلیپر سیلز کو بھاری رقوم منتقل کیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ایران کی حمایت سے ہی یہ حملے ممکن ہوئے۔

    اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ انھوں نے فوج کو مغربی کنارے میں پناہ گزین کیمپوں میں اپنی کارروائیاں بڑھانے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر نے بھی اس معاملے پر بیان جاری کیا ہے کہ انھیں صورتحال سے آگاہ کیا جا رہا ہے اور مناسب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    آرمی چیف کا برطانیہ میں مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ

  • آرمی چیف کا برطانیہ میں مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ

    آرمی چیف کا برطانیہ میں مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ

    پاکستان کے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے حال ہی میں برطانیہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ سسٹمز سمیت جدید ٹیکنالوجیز کا مشاہدہ کیا۔ ان کا یہ دورہ برطانیہ کے جنرل رولینڈ واکر کی دعوت پر ہوا۔

    دورے کے دوران، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے وار منسٹر اور لارک ہل گیریژنز کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں انہیں برطانوی فوج کی جدید ٹیکنالوجیز اور اسٹرائیک بریگیڈ کی ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی گئی۔ یہ بریفنگ خاص طور پر برطانوی فوج کے ڈیپ ریکی اسٹرائیک بریگیڈ اور ان کے جدید حربی طریقوں کے حوالے سے تھی۔

    انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ تصاویر اور بیان کے مطابق، اس موقع پر آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کو برطانوی فوج کے جدید حربی آلات اور سسٹمز کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔ اس میں مصنوعی ذہانت (AI) اور بغیر پائلٹ فضائی سسٹمز (Unmanned Aerial Systems) جیسے جدید ٹیکنالوجیز شامل تھیں، جو موجودہ دور کی جنگی حکمت عملیوں میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

    اس دورے سے قبل وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات، عطا تارڑ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ آرمی چیف کا یہ دورہ پاکستان کے لیے بہت اہم ہے، جہاں انہیں برطانیہ میں بھرپور پذیرائی ملی۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے سے پاکستان کی عزت اور وقار میں اضافہ ہوا ہے اور پوری دنیا پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا معترف ہے۔

    یہ دورہ نہ صرف پاکستان اور برطانیہ کے دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، بلکہ دونوں ملکوں کے درمیان جدید جنگی ٹیکنالوجیز پر تبادلہ خیال کے لیے بھی اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان قریشی کا جعلی شناختی کارڈ

    مصطفیٰ عامر قتل کیس، ملزم ارمغان قریشی کا جعلی شناختی کارڈ

    مصطفیٰ عامر کے قتل کے مرکزی ملزم ارمغان قریشی کا ایک جعلی شناختی کارڈ پکڑا گیا ہے جس میں اس کے اصل شناختی کارڈ کی تفصیلات شامل تھیں۔

    ملزم ارمغان قریشی کا اصلی شناختی کارڈ مختلف کیسز میں اشتہاری ہونے کی وجہ سے بلاک کر دیا گیا تھا۔ تفتیشی حکام کے مطابق، ارمغان نے اپنے جعلی شناختی کارڈ کو ثاقب ولد سلمان علی کے نام سے تیار کرایا تھا، اور اس پر ارمغان کے اصلی شناختی کارڈ کی تمام تفصیلات درج کی گئیں۔تفتیشی حکام کے مطابق یہ جعلی کارڈ نادرا کے ریکارڈ میں نہیں ہے کیونکہ یہ خود ڈیزائن کر کے پرنٹنگ کی دکان سے بنوایا گیا تھا۔ ملزم نے اس جعلی شناختی کارڈ کی کلر فوٹو کاپی بھی حاصل کی تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کارڈ کسی پرنٹنگ شاپ سے نکلوایا گیا تھا۔

    یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم ارمغان قریشی مختلف مقدمات میں اشتہاری تھا، جس کی وجہ سے اس کا قومی شناختی کارڈ بلاک تھا۔ اس صورتحال میں، ملزم ارمغان اپنے شریک ملزم شیراز کا شناختی کارڈ استعمال کرتا تھا تاکہ وہ قانونی طور پر چھپ سکے۔تفتیش کے دوران یہ بھی پتا چلا کہ جب ارمغان قریشی نے مصطفیٰ کو قتل کرنے کے بعد کراچی سے اسلام آباد اور اسکردو کا سفر کیا، تو اس دوران بھی وہ شیراز کا شناختی کارڈ استعمال کرتا رہا تھا۔ یہ تفتیشی انکشافات مزید پیچیدگیاں پیدا کر رہے ہیں اور پولیس کی جانب سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

    اس کیس میں ملزم ارمغان کے خلاف منشیات کی فروخت اور قتل کے دیگر الزامات کی تفتیش بھی کی جا رہی ہے، اور پولیس نے اس کے مزید سنسنی خیز انکشافات کا انتظار کیا ہے۔

  • کئی مخصوص سیکٹرز قومی خزانے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے،آئی ایم ایف

    کئی مخصوص سیکٹرز قومی خزانے میں اپنا حصہ نہیں ڈال رہے،آئی ایم ایف

    پاکستان میں آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ چیف ماہیر بنجی نے قرضوں کے بوجھ کو پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔

    پاکستان ریٹیل بزنس کونسل کی جانب سے منعقد کی گئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ماہیر بنجی نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو جن سنگین مسائل کا سامنا ہے، ان میں سب سے اہم قرضوں کا بوجھ ہے۔ ان کے مطابق، قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکس اکٹھا کرنے کی صلاحیت میں کمی اور ملکی آمدنی میں ناکامی ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹیکسوں کا دباؤ زیادہ تر روایتی شعبوں پر ہے، اور یہ بھی کہا کہ رسمی شعبے پر مالی بوجھ کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کئی اہم سیکٹرز قومی خزانے میں اپنے حصے کی ادائیگی نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرضوں کے بوجھ میں اضافے کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے تمام شعبے ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں۔

    اس موقع پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب مزید بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور انہوں نے رائٹ سائزنگ کے منصوبے کو مکمل کرنے کی بات کی۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ 19 فیصد ہے، لیکن ٹیکسوں میں اس کا حصہ صرف ایک فیصد ہے، جو کہ بہت کم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مصنوعی ذہانت کا استعمال کرکے ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ مینو فیکچرنگ، خدمات اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسوں کا بوجھ غیر متناسب ہے اور تمام شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنا ہوگا۔ زراعت، رئیل اسٹیٹ، اور ریٹیل کے شعبوں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ حکومت 9400 ارب روپے کی نقد رقم کو دستاویزی شکل دینے پر کام کر رہی ہے، اور قومی ائیر لائن کی نجکاری کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 30 جون تک تمام اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل مکمل کر لیا جائے گا۔

    آخر میں وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں جا رہی ہے۔ اصلاحات کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے اور حکومت اپنے معاشی اہداف کے لیے پُرعزم ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس دو ماہ کی درآمدات کے لیے زرمبادلہ موجود ہے، اور کائیبور (بینکوں کے درمیان سود کی شرح) جو 23 فیصد تک پہنچ چکا تھا، اب 11 فیصد کی سطح پر آ گیا ہے۔

    ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام عمران خان کے نام پر رکھنے پر احتجاج

  • ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام عمران خان کے نام پر رکھنے پر احتجاج

    ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام عمران خان کے نام پر رکھنے پر احتجاج

    پشاور کے تاریخی ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا معاملہ ایک نیا تنازعہ بن چکا ہے۔

    خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اس اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرکے "عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم” رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ شاہی باغ میں واقع اس اسٹیڈیم کے حوالے سے لیا گیا، جس کے بعد اب خیبرپختونخوا کی کابینہ آج (جمعہ) کو اس فیصلے کی باضابطہ منظوری دے گی۔

    اس نام کی تبدیلی کے معاملے پر اب کئی حلقوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ارباب نیاز کے صاحبزادے، ارباب شہزاد، جو سابق چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا اور سابق مشیر عمران خان بھی رہ چکے ہیں، اس فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ایک ناکام کوشش ہے جس کے ذریعے دادا کے نام کو تبدیل کر کے عمران خان کو خوش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ارباب شہزاد نے اس بات کی وضاحت کی کہ ان کے والد کی خدمات کے اعتراف میں پشاور میونسپل کمیٹی نے ان کی وفات کے بعد اس اسٹیڈیم کا نام رکھا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا صوبائی حکومت نے عمران خان سے اس نام کی تبدیلی کے لیے اجازت لی ہے، کیونکہ عمران خان ہمیشہ زندہ لوگوں کے نام پر سڑکوں یا عمارتوں کا نام رکھنے کے سخت مخالف رہے ہیں۔

    ارباب شہزاد نے مزید کہا کہ عمران خان کی ہدایات کے مطابق، 2013 میں صوبائی کابینہ نے ان کی موجودگی میں یہ فیصلہ کیا تھا کہ کسی بھی زندہ شخص کے نام پر کوئی عمارت یا سڑک منسوب نہیں کی جائے گی۔ ان کے مطابق، اسٹیڈیم کا نام تبدیل کرنے کا یہ فیصلہ نہ صرف اصولوں کے خلاف ہے بلکہ ایک متنازعہ اقدام بھی ہے جو عوامی سطح پر سخت تنقید کا باعث بن رہا ہے۔

    اس کے علاوہ، غیر مصدقہ اطلاعات یہ ہیں کہ پی ایس ایل کے میچز پشاور میں نہیں ہوں گے کیونکہ فرنچائزز نے شہر میں کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ خبر اس وقت آئی ہے جب پشاور کے کرکٹ شائقین اسٹیڈیم میں بڑے میچز کی میزبانی کے لیے پرجوش تھے، تاہم اس نئی تبدیلی کے باعث شہر کی کرکٹ سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

  • کراچی ایئر پورٹ، 24 گھنٹوں میں مزید 36 مسافر پروازوں سے آف لوڈ

    کراچی ایئر پورٹ، 24 گھنٹوں میں مزید 36 مسافر پروازوں سے آف لوڈ

    کراچی ائیرپورٹ پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں امیگریشن حکام نے مختلف وجوہات کی بنا پر 13 ممالک کے 36 مسافروں کو پروازوں سے آف لوڈ کردیا۔ ان مسافروں کا تعلق ترکیہ، رومانیہ، سنگاپور، سعودیہ سمیت مختلف ممالک سے تھا۔

    سعودی عرب جانے والے 13 عمرہ زائرین کو ایڈوانس ہوٹل بکنگ اور اخراجات کے لیے مناسب رقم نہ ہونے کی وجہ سے روکا گیا۔ یہ مسافر سعودیہ کے لیے روانہ ہو رہے تھے، لیکن ان کی ضروریات پوری نہ ہونے پر انہیں آف لوڈ کر دیا گیا۔امیگریشن ذرائع کے مطابق ایران، تھائی لینڈ، ترکی، سنگاپور، جارجیا، صومالی لینڈ، امارات اور فجی کے 11 مسافر وزٹ ویزے پر سفر کر رہے تھے، جنہیں متعلقہ پروازوں سے آف لوڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ یونان کے رہائشی کارڈ کے حامل ایک مسافر کو بھی اسی وجہ سے آف لوڈ کیا گیا۔اس کے علاوہ سعودی عرب، جنوبی افریقہ، تنزانیہ اور رومانیہ کے ورک ویزا رکھنے والے 7 مسافروں کو مختلف دستاویزات مکمل نہ ہونے کی بنیاد پر پروازوں سے آف لوڈ کیا گیا۔

    امیگریشن حکام نے بتایا کہ یہ اقدامات مسافروں کی جانب سے سفر کے دوران درکار تمام ضروری دستاویزات کی تکمیل نہ ہونے کی وجہ سے اٹھائے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غیر قانونی یا مشتبہ سرگرمیوں کو روکا جا سکے۔