Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،26 نومبر احتجاج،پی ٹی آئی 120 سے زائد کارکنان کی ضمانت مںظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ،26 نومبر احتجاج،پی ٹی آئی 120 سے زائد کارکنان کی ضمانت مںظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے 26 نومبر کے احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والے 120 سے زائد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ورکرز کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں۔

    عدالت میں قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل بینچ نے اس درخواست پر فیصلہ سنایا۔عدالت نے گرفتار پی ٹی آئی کے کارکنان کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، تمام ورکرز کو پولیس اسٹیشن میں بیانِ حلفی دینے کی ہدایت کی گئی ہے، جس میں انہیں یہ وعدہ کرنا ہوگا کہ وہ آئندہ ایسا کوئی جرم نہیں کریں گے۔قائم مقام چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے اس موقع پر کہا کہ گرفتار افراد کو بیان حلفی دینا ہوگا کہ وہ مستقبل میں اس طرح کے احتجاج یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے۔

    عدالت نے ورکرز کی رہائی کے لیے 20 ہزار روپے کے مچلکے اور ایک شیورٹی جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔ اس فیصلے پر وکلا کی ٹیم میں علی بخاری، بابر اعوان، مرتضیٰ طوری اور دیگر وکلا بھی عدالت میں موجود تھے، جنہوں نے اپنے موکلین کی جانب سے درخواست دائر کی تھی۔

  • خط سے ریلیف ملا تو تمام قیدی پھر سزائیں معاف کروائیں گے، سحرکامران

    خط سے ریلیف ملا تو تمام قیدی پھر سزائیں معاف کروائیں گے، سحرکامران

    پیپلز پارٹی کی رہنما، رکن پارلیمنٹ سحر کامران نے کہا ہے کہ سزاؤں میں ریلیف اگر خط لکھنے سے ملنا شروع ہو جائے تو تمام قیدی خط لکھ کر سزائیں معاف کروائیں گے۔

    نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے سحرکامران کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے اور ہم پورے ملک کی ترقی پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں کسی صوبے سے مقابلے کی بات نہیں کرنی، ہم ایک مضبوط وفاق اور خوشحال ملک کی بات کر رہے ہیں۔ہم آئین کے مطابق مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کی بات کر رہے ہیں۔

    سحر کامران کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں سندھ کی ترقی اور جدید ترین مفت ہیلتھ کیئر سسٹم پر فخر ہے، آج تھرپارکر بجلی پیدا کرکے قومی گرڈ کو دے رہا ہے۔ ہم وزیر اعظم اور وفاق کو ان کی ذمہ داری یاد دلا رہے ہیں، سندھ میں نامکمل وفاقی منصوبوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ان کا مزید کسی تاخیر کےمکمل ہونا بہت ضروری ہے۔

  • کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار استعمال کرسکتی ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل

    کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار استعمال کرسکتی ہیں؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ آئینی بنچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی.

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7رکنی بنچ نےسماعت کی،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہاکہ عام ترامیم بنیادی حقوق متاثر نہیں کرسکتیں،دیکھنا یہ ہے آئین کس چیز کی اجازت دیتا ہے،ملزم کے اعتراف کیلئے سبجیکٹ کا ہونا ضروری ہے،ایف بی علی نے واضح کیا ٹوون ڈی والے 83اے میں نہیں آتے، آرمی ایکٹ کا تعلق صرف ڈسپلن سے ہے ،جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ شق سی کے مطابق جو ملازمین آتے ہیں وہ حلف نہیں لیتے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہاکہ شق سی والوں کا کورٹ مارشل نہیں کر سکتے،کورٹ مارشل آفیسرز کا ہوتا ہے،

    جسٹس امین الدین خان نے کہاکہ جرم کی نوعیت آرمڈ فورسز ممبرز بتائیں گے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہاکہ جرم کی نوعیت سے بنیادی حقوق ختم نہیں ہوتے،آئین بننے سے پہلے کے قوانین کا بھی عدالت جائزہ لے سکتی ہے،سویلینز کا ٹرائل صرف 175کے تحت ہی ہو سکتا ہے،فوجی عدالتیں 175سے باہر ہیں،فوج245کے دائرہ سے باہر نہیں جا سکتی،

    جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیتے ہوئے کہاکہ کیا (3)8کے مقصدرکیلئے بنائی گئی عدالتیں ٹرائل کر سکتی ہیں؟آئین کے تحت آرمڈ فورسز ایگزیکٹو کے ماتحت ہیں،کیا ایگزیکٹو کے ماتحت فورسز عدالتی اختیار استعمال کرسکتی ہیں؟کیا عدالتوں کو آزاد ہونا چاہیے یا نہیں؟وکیل عزیز بھنڈاری نے کہا کہ وقفہ کے بعد عدالتی سوالات کے جواب دوں گا۔

  • سپریم کورٹ،ہراسگی کیس،ملزم کی اپیل مسترد

    سپریم کورٹ،ہراسگی کیس،ملزم کی اپیل مسترد

    سپریم کورٹ نے ہراسگی کیس میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف محمد دین کی اپیل مستردکردی، ہراسگی سے متعلق فیصلہ جسٹس منصور علی شاہ نے تحریرکیا۔

    سپریم کورٹ نے ہراسگی کیس کے فیصلے میں کہاکہ ورک پلیس پر ہراسگی عالمی مسئلہ ہے، لاکھوں لوگ ورک پلیس ہراسگی سے متاثر ہوتے ہیں،مردوں کے مقابلے میں خواتین زیادہ ہراسگی کا شکار ہوتی ہیں، گلوبل جینڈر کیپ انڈکس 2024کے مطابق دنیا کے 146ممالک میں پاکستان کا 145واں نمبر ہے،امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے کہ یرغمالی ماحول بھی ہراسگی کی تعریف میں آتا ہے۔

    یاد رہے کہ ڈاکٹرسدرہ نے اپنے ڈرائیور کے خلاف ہراسگی کے معاملے پر پنجاب محتسب سے رجوع کیا تھا، محتسب نے ڈرائیور محمد دین کو جبری ریٹائرمنٹ کی سزا دی، ڈرائیور نے گورنر پنجاب کو ریپریزنٹیشن بھیجی جو مسترد ہوئی،لاہور ہائیکورٹ نے بھی جبری ریٹائرمنٹ کیخلاف درخواست مسترد کردی تھی۔

  • عورت مارچ،ماریہ بی برس پڑیں،مشی خان بھی خاموش نہ رہ سکیں

    عورت مارچ،ماریہ بی برس پڑیں،مشی خان بھی خاموش نہ رہ سکیں

    پاکستان کی فیشن انڈسٹری کی معروف شخصیت ماریہ بی نے حال ہی میں "عورت مارچ” پر تنقید کی ہے اور اسے ناکام عورتوں کا کامیاب عورتوں کے خلاف مارچ قرار دیا ہے۔ یہ بیان انہوں نے ایک ویڈیو کے ذریعے سوشل میڈیا پر جاری کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ مارچ کے منتظمین کا ایجنڈہ خاص تھا اور ان کے پیچھے فنڈنگ کی گئی ہے۔

    12 فروری 2025 کو لاہور میں ہونے والے عورت مارچ میں خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی، اور اس دوران کچھ خواتین اداکارہ، جیسے مشی خان اور فیشن ڈیزائنر ماریہ بی کے خلاف پلے کارڈز اٹھائے ہوئے نظر آئیں۔ ماریہ بی نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان پلے کارڈز سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مارچ کی تنظیم ایک مخصوص مقصد کے تحت عمل کر رہی ہے۔ماریہ بی نے مزید کہا کہ یہ مارچ ایک "ناکام عورتوں” کا تھا جس میں کامیاب خواتین پر تنقید کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ عمل اس بات کا غماز ہے کہ ان خواتین کی تربیت کس طرح کی گئی ہے۔ فیشن ڈیزائنر کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی خواتین اسلام کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے خودمختار اور کامیاب بننا چاہتی ہیں۔

    ماریہ بی کے ویڈیو بیان کے بعد، مشی خان نے کمنٹس میں ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ماریہ بی نے ان لوگوں کے منہ پر بہترین طمانچہ مارا ہے اور انہیں "دبنگ” قرار دیا۔

    واضح رہے کہ حالیہ عورت مارچ کے دوران "خواتین محاذِ عمل” نے اپنے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیے تھے، جس میں خواتین پر جنسی تشدد کے خاتمے، شادی اور طلاق کے قوانین میں تبدیلی، کام کی جگہوں پر بہتر ماحول کی فراہمی، اور دیگر اہم حقوق کے مطالبات کیے گئے تھے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ انہیں صنفی امتیاز کے خاتمے کے ساتھ ساتھ خود کا جنس تعین کرنے کا حق ملنا چاہیے، اور مذہب کی جبری تبدیلی کو روکا جائے۔

    شیر افضل مروت کو واپس لانا نہ لاناعمران خان کا فیصلہ ہو گا، سلمان اکرم راجہ

    مریم نواز کی عوامی خدمات کا مقابلہ کریں، آپ نے اپنے صوبے کو کیا دیا،عظمیٰ بخاری

  • شیر افضل مروت کو واپس لانا نہ لاناعمران خان کا فیصلہ ہو گا، سلمان اکرم راجہ

    شیر افضل مروت کو واپس لانا نہ لاناعمران خان کا فیصلہ ہو گا، سلمان اکرم راجہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے جنرل سیکریٹری، سلمان اکرم راجہ، نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالے جانے کا معاملہ ان کے ساتھ ذاتی یا نظریاتی اختلافات کی بنا پر نہیں تھا، بلکہ یہ فیصلہ پارٹی کے مختلف رہنماؤں کی شکایات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

    جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ شیر افضل مروت نے پارٹی پالیسی کے خلاف بیانات دیے، جن میں سعودی حکومت اور مذاکراتی عمل سے متعلق متنازعہ رائے شامل تھی۔سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ شیر افضل مروت کے پارٹی پالیسی کے برعکس بیانات کے باعث بانی پی ٹی آئی نے انہیں پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری نے کہا کہ ان کا نہ تو شیر افضل مروت سے کوئی ذاتی اختلاف ہے اور نہ ہی کوئی مقابلہ۔ ان کا کہنا تھا کہ شیر افضل مروت کو اگر کسی سے تنقید یا مناظرے کی ضرورت ہے تو وہ بانی پی ٹی آئی سے کریں، کیونکہ وہ خود شیر افضل مروت کے راستے میں نہیں ہیں۔

    سلمان اکرم راجہ نے مذاکرات کی ناکامی کے حوالے سے بھی اہم باتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس اختیارات کا فقدان ہے، جو شخص بانی پی ٹی آئی سے ایک ملاقات نہیں کروا سکا، وہ مذاکرات کس سے کرے گا؟ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا مطالبہ ہمیشہ یہ رہا کہ مذاکرات کا عمل ایک کھلے ماحول میں ہو اور 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات سے متعلق کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔ تاہم، ان کے مطابق، حکومت نے مذاکرات کے نام پر پی ٹی آئی کا مذاق اُڑایا اور ان کی تضحیک کی۔

    پی ٹی آئی کے جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجہ نے یہ بھی کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی شیر افضل مروت کو واپس لانا چاہتے ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہے۔ اگر وہ شیر افضل مروت کو باہر رکھنا چاہتے ہیں تو یہ بھی ان کی مرضی ہے۔ سلمان اکرم راجہ نے اس معاملے میں اپنی بے دخلی کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا اس فیصلے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ

    ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ

    اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ملک بے جا مراعات کا متحمل نہیں ہو سکتا اور ملک کی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت نے رائٹ سائزنگ کا مکمل پلان تیار کر لیا ہے۔

    وزیر خزانہ نے ان خیالات کا اظہار ایک اہم ریٹیلرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی معیشت کو درست سمت میں لے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ پالیسی ریٹ میں کمی سے کاروباری برادری اور سرمایہ کاروں کو فائدہ ہو رہا ہے، جبکہ حکومت ملک کی معیشت کے مختلف شعبوں میں بنیادی اصلاحات کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم معاشی استحکام کے لیے پُرعزم ہیں اور تمام اقدامات کی کامیابی کی راہ میں رائٹ سائزنگ کو اہمیت دی جارہی ہے۔ رائٹ سائزنگ کے لیے ایک مکمل پلان تیار کیا گیا ہے، جس میں اداروں کے تمام معاملات کا جائزہ لے کر اصلاحات کی جائیں گی۔ نجکاری کے عمل کو مزید شفاف بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ حکومت اپنے معاشی اہداف کا مکمل ادراک رکھتی ہے اور حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وہ پائیدار معاشی استحکام کے حصول کے لیے بھی مسلسل محنت کر رہے ہیں، کیونکہ ملک بے جا مراعات کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

    بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملک کی معیشت میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ 19 فیصد ہے، تاہم ٹیکسز میں ریٹیل سیکٹر کا حصہ صرف ایک فیصد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کو استعمال کر کے ٹیکس وصولیوں میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ 9.4 ٹریلین کیش کی ڈاکیومینٹیشن کرنی ہے اور قومی ائیر لائن کی نجکاری کو دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 جون تک تمام اداروں کی رائٹ سائزنگ کا عمل مکمل کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مینو فیکچرنگ، سروسز اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکسز کا موجودہ تناسب پائیدار نہیں ہے اور اسے بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

  • پاکستان کا آئین  سماجی انصاف اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے،وزیراعظم

    پاکستان کا آئین سماجی انصاف اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے،وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے سماجی انصاف کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دن دنیا بھر میں تمام لوگوں کے لیے مساوات، انصاف اور وقار کو فروغ دینے کے لیے منایا جاتا ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ دن حکومتوں، تنظیموں اور افراد کو سماجی انصاف کی اہمیت کی یاد دہانی کراتا ہے۔

    وزیراعظم نے اپنے پیغام میں غربت، صنفی امتیاز اور سماجی تفاوت جیسے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ یہ دن ہمیں ان مسائل پر قابو پانے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا آئین سب کے لیے سماجی انصاف اور مساوات کی ضمانت دیتا ہے، اور حکومت اپنے شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کروا چکی ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہماری حکومت انسانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والے تعصبات کو ختم کرنے کے لیے سخت محنت کر رہی ہے تاکہ ہر فرد کو برابر کے مواقع ملیں۔ انہوں نے اڑان پاکستان پروگرام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت مؤثر اقدامات کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ معاشرتی فرق کو کم کیا جا سکے اور ہر پاکستانی کو ترقی کے یکساں مواقع مل سکیں۔

    وزیراعظم نے اپنے پیغام میں آج دنیا کو منصفانہ اور جامع بنانے کے عزم کی تجدید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے اقدامات کے ذریعے ایک بہتر اور برابر دنیا کی تشکیل کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ہمیں ایک ایسا معاشرہ بنانے کے عہد کی یاد دلاتا ہے جہاں ہر فرد کو انصاف، مساوات اور عزت کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

  • مریم نواز کی عوامی خدمات کا مقابلہ کریں، آپ نے اپنے صوبے کو کیا دیا،عظمیٰ بخاری

    مریم نواز کی عوامی خدمات کا مقابلہ کریں، آپ نے اپنے صوبے کو کیا دیا،عظمیٰ بخاری

    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ آٹھ فروری 2025 کو ہونے والے انتخابات میں ملک اقتصادی بحران کا شکار تھا اور قوم ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ چکی تھی۔ اس وقت سیاسی غیر یقینی کی صورتحال نے ملک کی معاشی حالت کو مزید خراب کر دیا تھا، لیکن اب ایک سال گزرنے کے بعد حالات میں بہتری آئی ہے۔

    پریس کانفرنس کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ جب کچھ لوگ سازشیں کرکے ملک کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے، چھبیس فروری کو مریم نواز نے بطور وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لیا، عظمیٰ بخاری نے اس موقع پر مریم نواز کی قیادت کی تعریف کی اور کہا کہ جب ملک میں کچھ لوگ سازشوں کے ذریعے اس کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے، تب 26 فروری کو مریم نواز نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر حلف اٹھایا اور اپنی قیادت کا آغاز کیا۔ایک سال مکمل ہونے کے بعد فخر و اطمینان سے عاجزی سے کہتی ہوں، مریم نواز نے ایک سال میں جو محبتیں اور کامیابیاں سمیٹیں وہ بے مثال ہیں،

    عظمیٰ بخاری نے مریم نواز کے ایک سالہ اقتدار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مریم نواز نے اپنے پہلے سال میں بے شمار کامیابیاں حاصل کیں اور عوام کی محبتیں سمیٹیں۔ ان کی قیادت نے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی اور یہ کامیابیاں بے مثال ہیں۔مریم نواز پنجاب کی وہ حکومت ہے جس نے ایک سال میں مفروضہ غلط اور کامیابیوں کے جھنڈے گاڑھے، نارووال میں سڑکوں کا افتتاح جلسے کی شکل اختیار کر گیا، ان تجزیہ کاروں اور نام نہاد صحافیوں کے لئے سبق ہے، جو کہتے ہیں کہ ن لیگ ختم ہو گئی، یہی پیمانہ دوسری پارٹیوں کے لیے بناتے رہے، اتنا بڑا جلسہ ہوا تو وہ کامیاب ہمارا نہ ہوا تو ہم کیوں کامیاب نہیں ہوئے، مریم نواز کی نوے سے زیادہ عوامی اقدامات تاریخ ہیں، اسے کھلے ذہن سے موازنہ کریں، اگر باقی صوبوں کو ضرورت پڑے تو بطور تحفہ تین سو پینسٹھ دن کی رپورٹ بھجوا سکتی ہوں، ستھرا پنجاب نے بھی پنجاب کے عوام کے دلوں میں پہنچائے ہیں، ستھرا پنجاب منصوبہ ہر امیر غریب کے لیے ہے، عوام کو گالی گلوچ اور وفاق پر حملہ کرنا پسند نہیں، خدمت کا مقابلہ کریں، دلیل ختم ہوتی تو آواز اونچی ہوجاتی ہے،الزامات گھٹیا باتیں کہ وزیر اعلیٰ کیوں دیکھ رہی، کیسے کھڑی تھی وہ لوگ باتیں کرتے ہیں جن کی تربیت نہیں ہوتی، آئیے مریم نواز کا عوامی خدمات کا مقابلہ کریں، آپ نے اپنے صوبے کو کیا دیا، کارکردگی خدمت ن لیگ کا طرہ امتیاز ہوگا، اگلا سال بھی اس سے بہترین ہوگا

  • ٹیسلا بھارت میں فیکٹری قائم کرتی ، تو یہ امریکی مفادات کے خلاف ہوگا،ٹرمپ

    ٹیسلا بھارت میں فیکٹری قائم کرتی ، تو یہ امریکی مفادات کے خلاف ہوگا،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ٹیسلا بھارت میں اپنی فیکٹری قائم کرتی ہے تاکہ وہاں کے محصولات سے بچا جا سکے، تو یہ امریکا سے زیادتی ہوگی۔

    منگل کو فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، ٹرمپ نے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کے گزشتہ ہفتے کے امریکی دورے کے دوران بھارت کی گاڑیوں پر عائد زیادہ ڈیوٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہر ملک ہمیں محصولات کے ذریعے نقصان پہنچاتا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "بھارت میں کار بیچنا، عملی طور پر ناممکن ہے۔” اس کے علاوہ، ٹرمپ نے عالمی سطح پر امریکا کو نقصان پہنچانے والی تجارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "دنیا کے تمام ممالک ہم سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور وہ یہ فائدہ محصولات کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔”تاہم، ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے جلد تجارتی معاہدے کی سمت پر کام کرنے اور محصولات کے تنازعے کو حل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

    امریکی صدر نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ اگر ٹیسلا بھارت میں اپنی فیکٹری قائم کرتی ہے، تو یہ امریکا کے مفادات کے خلاف ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی تجارتی حکمت عملی امریکا کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر کی یہ باتیں اس وقت سامنے آئی ہیں جب بھارت نے امریکی گاڑیوں پر زیادہ ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے، جس کے باعث امریکی کار ساز کمپنیاں بھارت میں اپنی گاڑیاں بیچنے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔