Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لاؤس میں دھماکے سے 4 افراد ہلاک، 3 زخمی، چینی باشندے بھی شامل

    لاؤس میں دھماکے سے 4 افراد ہلاک، 3 زخمی، چینی باشندے بھی شامل

    جنوب مشرقی ایشیا کے ملک لاؤس کے صوبے اودا مسائے میں ایک دکان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 3 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 3 چینی باشندے شامل ہیں۔

    غیر ملکی خبر ایجنسی نے لاؤس نیشنل ریڈیو کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ ایک دکان میں ہوا جو چینی باشندوں کے زیرِ انتظام تھی۔ دھماکے کے بعد فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔چینی قونصل خانہ نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والے 3 افراد چینی شہری تھے۔ ان کے نام ابھی تک افشا نہیں کیے گئے ہیں۔ دھماکے کی وجوہات کے حوالے سے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے، تاہم تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ دھماکا کس وجہ سے ہوا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق، جس دکان میں دھماکا ہوا، وہ چینی باشندوں کی ملکیت تھی، لیکن دھماکے کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل نہیں ہو سکیں۔ لاؤس کی پولیس اور حکام واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ دھماکے کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔

  • پوپ فرانسس کی طبیعت ناساز،ہسپتال منتقل

    پوپ فرانسس کی طبیعت ناساز،ہسپتال منتقل

    روم: کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ فرانسس کو طبیعت ناساز ہونے کی وجہ سے روم کے ایک اسپتال میں داخل کر دیا گیا ہے۔ ویٹیکن کے مطابق 88 سالہ پوپ فرانسس گزشتہ کئی روز سے برونکائٹس نامی بیماری میں مبتلا ہیں جس کے باعث انہیں جمعہ کے روز ایک ملاقات کے دوران بات چیت میں دشواری کا سامنا تھا۔

    ویٹیکن نے مزید کہا کہ پوپ فرانسس کی طبیعت کی خرابی کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پوپ فرانسس کو اسپتال میں ضروری ٹیسٹ اور علاج فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی صحت میں بہتری لائی جا سکے۔رپورٹس کے مطابق، پوپ فرانسس کی اگلے تین دن کی تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ ان کے علاج پر توجہ مرکوز کی جا سکے اور وہ مکمل طور پر صحت یاب ہوں۔ویٹیکن نے پوپ فرانسس کے چاہنے والوں سے دعا کی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے مذہبی پیشوا کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہوں۔

  • حکومت سندھ کا فزیکل ان فٹ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    حکومت سندھ کا فزیکل ان فٹ گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

    حکومت سندھ نے سڑکوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فزیکل ان فٹ گاڑیوں کے خلاف ایک بڑا کریک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس حوالے سے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سندھ بھر میں موٹر وہیکل انسپیکشن (ایم وی آئی) سینٹرز کے قیام کو تیز کرنے کی ہدایات دی ہیں۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں موٹر وہیکل انسپیکشن کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، ایم ڈی سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کمال دایو، سیکریٹری پی ٹی اے اوکاش میمن اور دیگر حکام نے شرکت کی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے پہلے ہی ایم وی آئی نظام اور وہیکل رجسٹریشن کے نفاذ کے حوالے سے واضح ہدایات جاری کی ہیں۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ "سڑکوں کی حفاظت اور قواعد و ضوابط کی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ایم وی آئی نظام ایک ماہ کے اندر مکمل طور پر فعال ہونا چاہیے۔”انہوں نے مزید کہا کہ "ہیوی گاڑیوں جیسے ڈمپرز، ٹرک، بسوں اور ٹریلرز کے لیے موٹر وہیکل انسپیکشن لازمی قرار دیا گیا ہے۔” اس نظام کے نفاذ کو آسان بنانے کے لیے کراچی میں چار مقامات پر ایم وی آئی سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔کراچی کے علاوہ حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد ڈویژنز میں بھی ایم وی آئی سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔ یہ اقدام سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کے معیار کو بہتر بنانے اور ان کی فٹنس کی تصدیق کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

    فٹنس سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی
    سینئر وزیر نے اعلان کیا کہ فٹنس سرٹیفکیٹ نہ رکھنے والی گاڑیوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، جعلی فٹنس سرٹیفکیٹ رکھنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں جیل بھیجا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ "ٹرانسپورٹ کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، اور سڑک پر چلنے سے پہلے گاڑیوں کی حفاظت کے معیار کو یقینی بنایا جائے گا۔”

    کراچی، مصطفیٰ قتل کیس میں نئے انکشافات سامنے آ گئے

    ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیج دیا

  • کراچی، مصطفیٰ قتل کیس میں نئے انکشافات سامنے آ گئے

    کراچی، مصطفیٰ قتل کیس میں نئے انکشافات سامنے آ گئے

    کراچی: کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا ہونے والے نوجوان مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق، مصطفیٰ کے دوست ارمغان نے اسے بہانے سے گھر بلایا اور پھر لوہے کے راڈ سے تشدد کیا۔ تشدد کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ کو نیم بے ہوش کیا اور اس کی ہی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر لے گئے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ارمغان اور شیراز کیماڑی سے حب چوکی پہنچے، جہاں مصطفیٰ کی گاڑی میں ارمغان نے پیٹرول چھڑک کر لائٹر سے دور کھڑے ہو کر گاڑی کو آگ لگا دی۔ شیراز کے مطابق، اس کے بعد وہ حب چوکی سے تین گھنٹے پیدل چلنے کے بعد لفٹ لے کر کراچی واپس پہنچے۔

    پولیس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ 6 جنوری کو کراچی سے اغوا ہونے والے مصطفیٰ کی لاش مل گئی۔ اس قتل کی تفصیلات میں یہ بات سامنے آئی کہ مصطفیٰ کا قاتل اس کا دوست ارمغان ہی ہے۔ ڈی آئی جی سی آئی اے مقدس حیدر نے بھی اس کیس کی تصدیق کی ہے کہ مصطفیٰ کو قتل کے بعد اسی کی گاڑی میں حب کے قریب لے جاکر گاڑی سمیت جلا دیا گیا۔ پولیس نے اس کیس کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ مجرمان کو سزا دلوائی جا ئے.

    عمران خان کے کیسز پر سرکاری خزانے سے کتنا خرچ ہوا،تفصیلات کیلئے درخواست

  • عمران خان کے کیسز پر سرکاری خزانے سے کتنا خرچ ہوا،تفصیلات کیلئے درخواست

    عمران خان کے کیسز پر سرکاری خزانے سے کتنا خرچ ہوا،تفصیلات کیلئے درخواست

    تحریک انصاف کے بانی عمران خان کے وکیل، خالد یوسف چوہدری نے اپنے موکل کے مقدمات سے متعلق تفصیلات حاصل کرنے کے لیے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست دائر کردی۔

    درخواست میں عمران خان کے خلاف چلنے والے مختلف مقدمات کے بارے میں معلومات طلب کی گئی ہیں اور خاص طور پر سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والے پیسوں اور نجی وکلا کی خدمات سے متعلق سوالات کیے گئے ہیں۔عمران خان کے وکیل کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف مقدمات میں سرکاری خزانے سے کتنی رقم خرچ کی گئی؟،کتنے نجی وکلا کی خدمات حاصل کی گئیں اور انہیں کتنی فیسیں ادا کی گئیں؟،اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد اور پنجاب کتنے مقدمات میں عمران خان کے خلاف سرکاری استغاثہ کے طور پر پیش ہوئے؟،بانی پی ٹی آئی کے مقدمات میں کتنے سرکاری وکلا، کتنی عدالتوں اور کتنے گھنٹے مصروف رہے؟

    درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عمران خان کے خلاف نیب، ایف آئی اے اور دیگر اداروں کے مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ ان مقدمات کی ایف آئی آرز، انکوائری رپورٹس، اور تحقیقاتی رپورٹس سمیت دیگر متعلقہ دستاویزات کی کاپیاں طلب کی گئی ہیں۔ مزید یہ کہ جہاں اٹارنی جنرل، اسلام آباد اور پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل نے عمران خان کے مقدمات میں پیش ہونے کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

    خالد یوسف چوہدری نے درخواست میں اڈیالہ اور اٹک جیلوں میں ہونے والے ٹرائلز کے تمام اخراجات کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں، جن میں سکیورٹی، لاجسٹکس، جیل ٹرائل کرنے والے ججز اور عدالتی عملے کے سفر کے اخراجات، ایندھن کے اخراجات اور روزانہ الاؤنس شامل ہیں۔ ان جیلوں میں ٹرائلز کے دوران گزارے گئے دنوں اور گھنٹوں کی مجموعی تعداد بھی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔درخواست میں اسلام آباد ہائیکورٹ، لاہور ہائیکورٹ اور خصوصی عدالتوں میں بانی پی ٹی آئی کے خلاف ہونے والی سماعتوں کی تعداد بھی مانگی گئی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ عدالتی افسران، عملے اور لا افسران کی تخمینی تنخواہوں کے بارے میں بھی معلومات طلب کی گئی ہیں۔

    وکیل خالد یوسف چوہدری کا کہنا تھا کہ انہوں نے وفاق کے 6 اور پنجاب کے 4 مختلف اداروں سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ ان اداروں میں سیکرٹری الیکشن کمیشن، وفاقی سیکرٹری داخلہ، وفاقی سیکرٹری قانون، ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب، آئی جی اسلام آباد، پنجاب پولیس، محکمہ قانون پنجاب، محکمہ داخلہ پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات شامل ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان تفصیلات کو رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست کی گئی ہے، تاکہ عوام کو یہ معلومات فراہم کی جا سکیں کہ عمران خان کے خلاف مختلف مقدمات میں کس طرح کے اخراجات اور وسائل استعمال ہوئے ہیں۔

  • ٹیکس سسٹم کو مزید شفاف اور موثر بنایا جائے گا ،وزیراعظم

    ٹیکس سسٹم کو مزید شفاف اور موثر بنایا جائے گا ،وزیراعظم

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ورلڈ بینک کے 10 سالہ 40 ارب ڈالر کے کنٹری پارٹنر شپ فریم ورک کا خیرمقدم کیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم کرنا اور مختلف شعبوں میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنا ہے۔ یہ فریم ورک پاکستان اور ورلڈ بینک کے درمیان طے پانے والے ایک اہم معاہدے کے تحت شروع کیا گیا ہے، جس سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لئے مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن ے منیجنگ ڈائریکٹر مختار ڈیوپ نے ملاقات کی، جس دوران پاکستان میں IFC کے جاری اور ممکنہ اقدامات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیراعظم نے خاص طور پر پاکستان کے بنیادی ڈھانچے، زراعت، آئی ٹی اور صحت کے شعبوں میں IFC کے تعاون کی تعریف کی۔وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے حکومت مختلف اصلاحات کر رہی ہے، اور آئی ایف سی کے تعاون سے ان شعبوں میں مزید ترقی کی راہیں ہموار کی جا سکتی ہیں۔ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ایف بی آر (فیڈرل بورڈ آف ریونیو) کی ڈیجیٹلائزیشن کی جاری کوششوں کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاتے ہوئے ملک کے ٹیکس سسٹم کو مزید شفاف اور موثر بنایا جائے گا تاکہ حکومتی محاصل میں اضافہ ہو سکے اور معیشت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

    دوسری جانب، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن کے سربراہ مختار ڈیوپ نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مختار ڈیوپ نے کہا کہ آئی ایف سی پاکستان کی طرف سے کی جانے والی اصلاحات کو تسلیم کرتی ہے اور نجی شعبے نے وزیر خزانہ کی پالیسیوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ آئی ایف سی پاکستان میں 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا، جس سے ملک کی معیشت کو مزید تقویت ملے گی۔

    یہ ملاقاتیں پاکستان کی معیشت کے استحکام کے لئے اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہیں، اور دونوں فریقین کے درمیان تعاون پاکستان کی ترقی کے لئے ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔

  • ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیج دیا

    ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیج دیا

    ٹرمپ انتظامیہ نے غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے بھیج دیا

    ٹیکساس میں میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے بڑی تعداد میں غیر قانونی تارکین وطن کو گوانتانامو بے جیل منتقل کر دیا ہے۔ ان قیدیوں میں 100 سے زائد افراد شامل ہیں جن میں اکثریت وینزویلا کے باشندوں کی ہے۔ علاوہ ازیں، معمولی جرائم کے مرتکب تارکین وطن کو بھی گوانتانامو بے بھیجا گیا ہے، جس کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

    گوانتانامو بے ایک امریکی فوجی جیل ہے جو کیوبا میں واقع ہے اور یہاں زیادہ تر دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار افراد کو رکھا جاتا ہے۔ تاہم، اس جیل میں ان افراد کا منتقل ہونا جو معمولی جرائم میں ملوث ہیں، مختلف عالمی انسانی حقوق کے گروپوں کی طرف سے اعتراضات کا سبب بن رہا ہے۔

    دوسری جانب، ٹرمپ انتظامیہ پر تارکین وطن کے بنیادی حقوق سلب کرنے کا مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزار وکیل لی گلرنٹ نے کہا کہ قیدیوں تک پہنچنے کی کوشش کرنے والے وکلا کو بھی گوانتانامو بے میں رسائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔ وکیل گلرنٹ کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ میں کبھی بھی کسی شہری کو گرفتار کر کے گوانتانامو بے منتقل نہیں کیا گیا۔ ان کا موقف ہے کہ یہ اقدام امریکی آئین اور عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ کے اس اقدام کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، کچھ لوگ اسے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسی کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دوسرے اس پر انسانی حقوق کی پامالی کے طور پر تنقید کر رہے ہیں۔

  • وسیم اختر رامے کی پی ٹی آئی میں واپسی، عہدہ بھی مل گیا

    وسیم اختر رامے کی پی ٹی آئی میں واپسی، عہدہ بھی مل گیا

    پی ٹی آئی چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی میں شامل ہونے والے وسیم اختر رامے ایک بار پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں واپس آ گئے ہیں۔ ان کی واپسی کے ساتھ ہی پی ٹی آئی نے انہیں ایک اہم عہدہ بھی سونپ دیا ہے۔

    وسیم اختر رامے، جو کہ سانحہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کو چھوڑ کر استحکام پاکستان پارٹی کا حصہ بن گئے تھے، اب پی ٹی آئی کے سینٹرل پنجاب کا ایڈمنسٹریٹو ہیڈ مقرر کر دیے گئے ہیں۔ ان کے تقرر کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، جس کے مطابق اب وہ اس اہم عہدے پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔اس نوٹیفکیشن کو پی ٹی آئی کے چئیرمین پارٹی مینجمنٹ سیل، شیر علی ارباب نے جاری کیا ہے۔ یہ تقرر پارٹی کے اندر ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور سیاسی حلقوں میں اس فیصلے پر تبصرے جاری ہیں۔

    وسیم اختر رامے کی واپسی کے ساتھ پی ٹی آئی کے ساتھ ان کی وابستگی ایک نئی سیاسی جہت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، اور اس سے پارٹی کے اندر کی سیاست میں مزید تحریک کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • پیکا ایکٹ،صحافیوں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان

    پیکا ایکٹ،صحافیوں کا پارلیمنٹ ہاؤس کے گھیراؤ کا اعلان

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ملک گیر بھوک ہڑتالی کیمپ کے تیسرے روز لاہور میں پریس کلب کے باہر احتجاجی کیمپ لگایا گیا اور پریس کلب سے گورنر ہائوس کے گیٹ کے باہر تک ریلی نکالی گئی۔

    اس موقع پر صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف بھرپور نعرے بازی کی۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام منعقدہ کیمپ و ریلی میں پی ایف یوجے کے سیکرٹری جنرل ارشد انصاری،سینئر صحافی حسین نقی ۔ انسانی کمیشن کے وائس چیئرمین راجہ اشرف ،پی یو جے کے صدر نعیم حنیف ،جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ، پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر سمیت صحافیوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔

    اس موقع پر کیمپ و ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ارشد انصاری نے کہا کہ پیکا ایکٹ دراصل حکمرانوں کے جھوٹ کے تحفظ کا قانون ہے ۔ حکومت اور اس کے اہلکار جو مرضی اور جب جھوٹ بولیں ۔کسی پر تہمت لگائیں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں جبکہ صحافی ،شہری اور اپوزیشن سے اگر کوئی حکومت کے کردار پر انگلی اٹھائے ،سوال کرئے ان کے خلاف پیکا کا ٹیکا مقدمے کی شکل میں تیار ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر قانون اور وزیر اطلاعات اس معاملے پر مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں کہ انہوں نے اس قانون پر سٹیک ہولڈرز سے مذاکرات کیے تھے ۔ ارشد انصاری کا کہنا تھا کہ ابھی تک حکومت نے نہ پی ایف یوجے سے کوئی بات چیت کی اور نہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے کوئی مذاکرات کیے۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم اس قانون کے خلاف میدان عمل میں ہیں۔ ہم 21 فروری تا 23 فروری تک تین دن اسلام آباد میں ہیں ۔ اس قانون کے خلاف ہم پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے جبکہ اس پر ہم عدالت میں بھی جنگ لڑیں گے ۔

    احتجاجی کیمپ س خطاب کرتے ہوئے سینئر صحافی حسین نقی نے کہا کہ صحافیوں نے ہر دور میں ایسے کالے قوانین کا مقابلہ کیا ہے ۔ ہم نے کوڑے بھی کھائے اور جیلوں میں بھی گئے مگر یہ ظلم و ستم ہمارا راستہ روک نہیں سکا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی یوجے کے صدر نعیم حنیف اور جنرل سیکرٹری قمرالزمان بھٹی ہے کہا کہ اس قانون کے خلاف لاہور سے ایک بڑا قافلہ لے کر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں ۔اب ہم جب پارلیمنٹ ہائوس کا گھیرائو کریں گے تو صحافی ایوان کے اندر ہوں گے اور حکمران ایوان سے باہر ہوں گے۔ ہم ان کا پارلیمنٹ میں داخلہ بند کریں گے۔

    پنجاب اسمبلی پریس گیلری کے صدر خواجہ نصیر نے کہا کہ پیکا کا قانون حکمرانوں کے چہرے پر سیاہ دھبہ ہے بہتر ہے کہ وہ اس قانون کو ختم کر کے اس کالے دھبے کو خود دھو دیں ۔ احتجاجی کیمپ میں شفیق اعوان ، افضال طالب ، ذوالفقار علی مہتو، جاوید فاروقی، یوسف رضا عباسی ،ندیم زعیم ، ارسلان رفیق بھٹی،سینئر صحافی محمد علی، عمران شیخ، سالک نواز ، شیر علی خالطی ، الفت مغل رانا شہزاد ، مدثر تتلہ ، عامر نوید ، اعجاز حفیظ خان ،رفیق خان ، مخدوم بلال ، پرویز الطاف ،صلاح الدین بٹ ، حامد نواز ،کاشف سلمان ،،خاور بیگ عمر حفیظ ،محمد بابر ،اعجاز مقبول ، مبشر حسن ، عطیہ زیدی ، جمال احمد،جاوید ہاشمی میڈیا ورکرز ایسوسی ایشن کے رہنما اصغر خان ، محمد علی جٹ معظم بھٹی،کاشف بٹ ، حافظ نعیم سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

  • کراچی، لاپتہ نوجوان کی جلی ہوئی لاش پولیس کو مل گئی

    کراچی، لاپتہ نوجوان کی جلی ہوئی لاش پولیس کو مل گئی

    کراچی کے علاقے ڈیفنس سے 6 جنوری کو لاپتہ ہونے والے نوجوان مصطفیٰ کی لاش پولیس کو مل گئی ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق مصطفیٰ کی لاش حب چوکی سے ملی ہے، جہاں اس کی گاڑی کو ملزم ارمغان اور اس کے ساتھی نے 6 جنوری کو لے جا کر آگ لگا دی تھی۔ پولیس کے مطابق، ارمغان نے مصطفیٰ کو گاڑی میں بٹھا کر اس پر آگ لگا دی تھی، اور جلی ہوئی لاش گاڑی کے اندر سے برآمد ہوئی۔

    اس سے قبل پولیس نے ڈیفنس فیز 5 میں واقع ملزم ارمغان کے گھر پر کارروائی کی تھی۔ اس دوران خفیہ کمرے میں گولیوں کے نشانات اور خون کے دھبے ملے تھے۔ تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ مغوی مصطفیٰ کی والدہ کے ڈی این اے کے نمونے لیب بھیجے گئے تھے، جنہیں ملزم کے گھر سے ملے خون کے نمونوں سے میچ کیا جائے گا۔

    پولیس کی جانب سے کی جانے والی اس کارروائی کے دوران، ملزم ارمغان نے بھاری اسلحے سے فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔ اس کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا اور اس سے تفتیش کی گئی۔ ملزم نے ابتدا میں مصطفیٰ کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور یہ بتایا کہ اس کی لاش ملیر ندی میں پھینک دی تھی، لیکن اس کے بعد وہ اپنے ابتدائی بیان سے مکر گیا۔

    ملزم کے گھر سے بڑی تعداد میں کمپیوٹرز بھی برآمد ہوئے، جس سے یہ معلوم ہوا کہ وہ غیر قانونی کال سینٹر چلاتا تھا۔ اس کے گھر سے ممنوعہ بور کا اسلحہ اور مغوی مصطفیٰ کا موبائل فون بھی مل چکا ہے۔ اس کیس میں مزید تفتیش جاری ہے اور پولیس ملزم کے دیگر جرائم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔