Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • دعوت نہ ملی تو جلسوں میں نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت

    دعوت نہ ملی تو جلسوں میں نہیں جاؤں گا، شیر افضل مروت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شیر افضل مروت نے پارٹی جلسوں میں بلائے بغیر شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ وہ اب کسی بھی جلسے میں اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک انہیں قیادت کی طرف سے باقاعدہ طور پر دعوت نہ دی جائے۔شیر افضل مروت نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ پی ٹی آئی کے حق میں بات کی ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کی وجہ سے پارٹی قیادت کو کسی قسم کی تکلیف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ ان کے اسٹیج پر تقریر کرنے کے مخالف ہیں اور وہ اس صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا، "اگر قیادت صوابی کے جلسے میں میرے آنے پر ناخوش تھی تو وہ مجھے پہلے ہی بتا دیتی۔” یہ بات انہوں نے اس پس منظر میں کہی جب حال ہی میں پی ٹی آئی کے صوابی جلسے میں انہیں اسٹیج پر جگہ نہیں دی گئی اور نہ ہی خطاب کا موقع دیا گیا تھا۔شیر افضل مروت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ ان کا صوابی جلسے میں شرکت کا مقصد صرف اور صرف پارٹی کے بانی کی وجہ سے تھا۔ اگر قیادت کو ان کی جلسوں میں شرکت سے کوئی مسئلہ ہے، تو وہ اس بابت واضح طور پر آگاہ کر دے۔

    اس صورتحال کے بعد، یہ واضح ہو گیا ہے کہ شیر افضل مروت پارٹی کے اندرونی معاملات اور قیادت کے فیصلوں سے خوش نہیں ہیں اور اب وہ پارٹی کی طرف سے کسی دعوت کے بغیر کسی جلسے میں شرکت نہیں کریں گے۔

  • تعلیمی نصاب اور سہولتوں کی فراہمی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی،گورنر خیبر پختونخوا

    تعلیمی نصاب اور سہولتوں کی فراہمی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی،گورنر خیبر پختونخوا

    پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امن اور مذہب قوموں کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان دونوں کی مضبوط بنیاد پر ہی معاشرتی ترقی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں روایتی تعلیم سے ہٹ کر آگے بڑھنا ہوگا۔

    فیصل کریم کنڈی نے خیبرپختونخوا میں تعلیمی نظام کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بنیادی تعلیم کا نظام انتہائی دگرگوں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں تعلیمی نصاب اور سہولتوں کی فراہمی پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی، جس کے باعث بہت سے بچے سکولوں سے باہر ہیں۔گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ خیبرپختونخوا کو پرامن اور خوشحال بنانے کے لیے نظام تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا تاکہ تمام بچوں کو یکساں تعلیم کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

    فیصل کریم کنڈی نے تعلیم کے فروغ میں نجی شعبے کے تعلیمی اداروں کے اہم کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان اداروں نے تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم خدمات انجام دی ہیں اور ان کی شراکت داری سے ہی ہم اپنی تعلیمی نظام میں اصلاحات لا سکتے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعلیم کے شعبے میں مزید سرمایہ کاری کی جائے اور تعلیمی اداروں کو جدید وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ آنے والی نسل کو بہتر مواقع مل سکیں۔

  • معافی مانگ کر تنویر الیاس نے نااہلی ختم کروا لی

    معافی مانگ کر تنویر الیاس نے نااہلی ختم کروا لی

    آزاد کشمیر سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کی نااہلی ختم کر دی،

    آزاد کشمیر ہائیکورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیے جانے والے سابق وزیر اعظم آزادکشمیر سردار تنویر الیاس نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ سے معافی مانگ لی،سپریم کورٹ آزادکشمیر میں سابق وزیر اعظم سردار تنویر الیاس کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ختم کر دی گئی.سپریم کورٹ نے سردار تنویر الیاس کے خلاف آزادکشمیر ہائی کورٹ سے نا اہلی کے خلاف اپیل بھی نمٹا دی.

    2023 میں آزاد کشمیر ہائیکورٹ نے سردار تنویر الیاس کو دو سال کے لیے نااہل قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی حکومت بھی ختم ہو گئی تھی۔ تاہم، انہوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔

    سابق وزیراعظم آزاد کشمیر تنویر الیاس کا بیٹا شراب کیس میں گرفتار

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    تنویر الیاس مشکل میں پھنس گئے،سیکرٹ فنڈز کا غیر قانونی استعمال، انکوائری شروع

    ڈپلومیٹک پاسپورٹ کا غیرقانونی استعمال،تنویر الیاس کا جسمانی ریمانڈ منظور

  • سندھ کی سرزمین قدیم تاریخ، وسیع ثقافتوں اور بے پناہ صلاحیتوں سے مالامال ہے، مراد علی شاہ

    سندھ کی سرزمین قدیم تاریخ، وسیع ثقافتوں اور بے پناہ صلاحیتوں سے مالامال ہے، مراد علی شاہ

    پاکستان لیڈرشپ کنورسیشن 2025 کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کی سرزمین قدیم تاریخ، وسیع ثقافتوں اور بے پناہ صلاحیتوں سے مالامال ہے۔ ہم ان چیلنجوں کو نظر انداز نہیں کر سکتے جو ہماری ترقی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت ان تمام چیلنجز پر قابو پانے اور صوبے کو آگے بڑھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ معیاری تعلیم تک رسائی کو بہتر بنانے کے لیے مختلف تنظیموں کے ساتھ سندھ حکومت نے شراکت داری کی ہے۔انہوں نے غربت کے خاتمے کے لیے تعلیم کے کلیدی کردار کو اجاگر کیا اور کہا کہ سندھ کے ہر بچے کو سیکھنے اور بڑھنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شعبہ صحت کی بہتری کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا اور بتایا کہ بچوں کی اموات میں کمی لانے اور غذائی قلت کا مقابلہ کرنا سندھ حکومت کی اولین ترجیحات ہیں۔مراد علی شاہ نے زرعی شعبے میں بہتری لانے کے لیے جدید آبپاشی تکنیکوں کو فروغ دینے پر بھی زور دیا اور کہا کہ "پانی فقط ہماری ضرورت نہیں بلکہ یہ ہمارے کسانوں کی بقا کا معاملہ ہے۔”

    کراچی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کا دل ہے اور یہاں جدید اور پائیدار ٹرانسپورٹیشن کا قیام انتہائی ضروری ہے۔ وزیراعلیٰ نے اس بات کا انکشاف کیا کہ سندھ حکومت نے کراچی کے پبلک ٹرانسپورٹ سیکٹر کو تبدیل کرنے کے لیے 500 الیکٹرک بسیں چلائی ہیں، جس کے نتیجے میں ٹریفک کے بہاؤ اور شہری فضائی آلودگی میں کمی آئی ہے۔مراد علی شاہ نے مزید بتایا کہ ہم 8000 الیکٹرک بسوں کا جامع منصوبہ شروع کرنے جا رہے ہیں، جو تین مراحل میں ماس ٹرانزٹ سسٹم میں شامل کی جائیں گی۔

    انہوں نے سی پیک کے نئے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک دوئم سندھ کے لیے اقتصادی ترقی کے ایک نئے دور کا آغاز ہے، جس میں صنعت کاری اور زرعی ترقی پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "بنیادی اسٹرکچر کی ترقی اور توانائی کا بحران ہماری ترقی میں رکاوٹ ہیں،” اور اس منصوبے سے روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے معاشی استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی۔

    وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے فنڈز اور وسائل کا حصول ضروری ہے۔انہوں نے سندھ کی افرادی قوت کی مہارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی افرادی قوت ہنر مند ہے اور مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار ہے۔ مراد علی شاہ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ صوبے کی بنیادی اسٹرکچر کی تعمیر نو اور جدید بنانے کے لیے پرعزم ہیں، اور ہر شعبے میں پائیدار طریقوں کو فروغ دینے کے لیے تیار ہیں۔اختتام پر انہوں نے کہا کہ "ہم سب مل کر پائیدار اور خوشحال سندھ بنائیں گے۔”

  • کوئی فرد گھر بیٹھے جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    کوئی فرد گھر بیٹھے جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا؟جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیلوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ اگر بنیادی حقوق دستیاب نہ ہوں اور کسی ایکٹ کے ساتھ ملا لیں تو کیا حقوق متاثر ہوں گے؟ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزا پر اپیل کنندہ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی ایکٹ ایک بلیک ہول ہے، کوئی بھی ترمیم ہوئی تو بنیادی حقوق ختم ہوجائیں گے، قانون کے مطابق جرم کا تعلق آرمی ایکٹ سے ہونا ضروری ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ آرمڈ فورسز کا کوئی فرد گھر بیٹھے جرم کرتا ہے تو کیا اس پر بھی آرمی ایکٹ کا اطلاق ہوگا؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پنجاب میں پتنگ اڑانا منع ہے، پنجاب میں کوئی پتنگ اڑائے تو وہ ملٹری کورٹ نہیں جائے گا، اس پر شہری قانون لگے گا، کیس میں 2 مسائل ہیں، ایک آرٹیکل 175 کا بھی مسئلہ ہے، جہاں تک بات بنیادی حقوق کی ہے تو دروازے بند نہیں ہوں گے۔

    جسٹس نعیم اختر کا سلمان راجہ سے سماعت کے دوران دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس نعیم اختر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا ہوں، بُرا نہ مانیے گا، آپ کی ایک سیاسی جماعت کے ساتھ آج کل سیاسی وابستگی بھی ہے، آپ کی سیاسی جماعت کے دور میں آرمی ایکٹ میں ایک ترمیم کی گئی تھی، آپ کی سیاسی جماعت نے پارلیمنٹ نے بڑی گرمجوشی سے آرمی ایکٹ سے متعلق قانون سازی کی۔ وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں اس وقت تحریک انصاف کا حصہ نہیں تھا، میں ہمیشہ اپوزیشن میں رہا ہوں، 1975ء میں ایف بی علی کیس میں پہلی دفعہ ٹو ون ڈی ون کا ذکر ہوا۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سے سوال کیا کہ اگر کسی فوجی جوان کا گھریلو مسئلہ ہے، اگر پہلی بیوی کی مرضی کے بغیر دوسری شادی کر لی جائے، تو کیا دوسری شادی والے کو ملٹری کورٹ بھیجا جائے گا؟جسٹس محمد علی مظہر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے سوال کیا کہ آرٹیکل ٹو ون ڈی کو ہر مرتبہ سپریم کورٹ کیوں دیکھے؟وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ لیگل فریم ورک تبدیل ہو جائے تو جوڈیشل ریویو کیا جاسکتا ہے، آرٹیکل آٹھ 3 کا استثنیٰ ٹو ون ڈی کے لیے دستیاب نہیں۔

    جسٹس نعیم اختر نے وکیل سلمان اکرم راجہ سے کہا کہ ٹو ون ڈی کے لیے 1967ء میں آرڈیننس لایا گیا جس کی ایک معیاد ہوتی ہے، کہیں ایسا تو نہیں آرڈیننس معیاد ختم ہونے پر متروک ہوگیا ہو؟ 1967ء میں آرڈیننس کے ذریعے آرمی ایکٹ میں ٹو ون ڈی ٹو آیا، 1973ء کے آئین میں تو آرڈیننس کی معیاد 120 دن ہے، جسے 120 دن مزید توسیع ملتی ہے، چیک کریں اس وقت کے آئین میں آرڈیننس کی معیاد کیا تھی، اس وقت کے حالات بھی مدنظر رکھیں، اس وقت ایک جنگ ہوئی جس کے بعد سیاستدانوں نے تحریک شروع کی، کہیں ایسا تو نہیں اس وقت اپنی رجیم برقرار رکھنے کے لیے آرڈیننس لایا گیا ہو، اگر میں غلط ہوں تو اس کی تصحیح کریں، آپ اس نکتے کی طرف کیوں نہیں آ رہے۔

    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اس وقت ون مین شو تھا،جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل سے کہا کہ آپ سوالات نوٹ کر لیں، وقفے کے بعد جواب دے دیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں عدالتی وقفہ کے دوران چیک کر لیتا ہوں۔

  • بنگلہ دیش کی ویمنز ٹیم کی اسپنر   پر میچ فکسنگ کے الزام میں  پابندی عائد

    بنگلہ دیش کی ویمنز ٹیم کی اسپنر پر میچ فکسنگ کے الزام میں پابندی عائد

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے بنگلہ دیش کی ویمنز کرکٹ ٹیم کی اسپنر سہیلی اختر پر میچ فکسنگ کے الزامات کے تحت کرکٹ کے تمام فارمیٹس میں پانچ سال کی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی 2023 کے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران ہونے والی تحقیقات کے بعد لگائی گئی ہے۔

    سہیلی اختر، جو کہ 36 سال کی ہیں، نے میچ فکسنگ کے الزامات کو تسلیم کیا اور آئی سی سی کے اینٹی کرپشن کوڈ کی پانچ مختلف شقوں کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا۔ اس اعتراف کے بعد آئی سی سی نے انہیں کرکٹ کی دنیا سے 5 سال کے لیے معطل کر دیا۔ سہیلی اختر پر عائد پابندی 10 فروری 2025 سے شروع ہو چکی ہے۔

    2023 میں ایک معروف نیوز چینل نے ڈھاکا سے ایک آڈیو ریکارڈنگ جاری کی تھی، جس میں دو کرکٹرز کے درمیان مبینہ طور پر میچ فکسنگ کی گفتگو کی گئی تھی۔ اس آڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جنوبی افریقہ میں ہونے والے ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران لتا مونڈل نے سہیلی اختر سے رابطہ کیا تھا، تاہم سہیلی اختر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک غلط فہمی قرار دیا تھا۔سہیلی اختر ایک آف اسپنر ہیں اور انہوں نے بنگلہ دیش ویمنز کرکٹ ٹیم کی جانب سے 2 ون ڈے اور 13 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ کھیلے ہیں۔ اس پابندی کے بعد وہ کسی بھی کرکٹ کے فارمیٹ میں حصہ نہیں لے سکیں گی۔

    آئی سی سی کی جانب سے یہ فیصلہ میچ فکسنگ کے خلاف اس کی سخت پالیسی کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ کرکٹ میں شفافیت اور ایمانداری کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • بیوی کے ساتھ غیر فطری تعلق، خواہ رضامندی نہ بھی ہو، جرم نہیں،عدالت

    بیوی کے ساتھ غیر فطری تعلق، خواہ رضامندی نہ بھی ہو، جرم نہیں،عدالت

    بیوی کے ساتھ غیر فطری تعلق، خواہ رضامندی نہ بھی ہو، جرم نہیں،عدالت نے فیصلہ سنا دیا

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کی ہائی کورٹ نے حالیہ فیصلے میں کہا ہے کہ ایک مرد اور اس کی بالغ بیوی کے درمیان غیر فطری جنسی تعلقات سزا کے قابل نہیں ہیں۔ یہ کیس ایک ایسے مرد کا ہے جس کی بیوی اسپتال میں غیر فطری تعلقات کے بعد انتقال کر گئی تھی۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی موت کی وجہ پیریٹونائٹس (پیٹ کا انفیکشن) اور ریکٹل پرفوریشن (مستقیم آنت میں سوراخ) تھی۔

    بھارت میں شادی شدہ خواتین کے ساتھ زنا (مارٹل ریپ) کو قانون کے تحت جرم نہیں سمجھا جاتا۔ اب ہائی کورٹ کے فیصلے نے غیر فطری تعلقات کو بھی سزا کے دائرے سے باہر کر دیا ہے۔مرد کو غیر فطری تعلقات اور قتل کی کوشش کے الزام میں ٹرائل کورٹ نے مجرم قرار دیا تھا، لیکن ہائی کورٹ سے اس نے راحت حاصل کی ہے،فیصلے میں کہا گیا کہ اگر بیوی کی عمر 15 سال سے زیادہ ہو تو "کسی بھی جنسی تعلق” یا جنسی عمل کو شوہر کے لیے زنا کے طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے نتیجے میں بیوی کی غیر فطری عمل کے لیے رضامندی کی عدم موجودگی کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔اس فیصلے کے مطابق، IPC کی دفعہ 376 اور 377 کے تحت مقدمہ درج نہیں کیا جا سکتا۔

    "شوہر اور بیوی کے درمیان جرم کی کوئی نوعیت نہیں بنتی جیسا کہ دفعہ 375 IPC میں ترمیم کے بعد اور دونوں دفعات کے مابین تضاد کی وجہ سے” فیصلے میں لکھا گیا۔

    مذکورہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا جہاں شادی کے دوران بیوی کی رضامندی کے بغیر جنسی تعلقات کو مجرمانہ قرار دینے کی درخواستیں دائر کی گئی تھیں۔ تاہم، سماعت اس وقت معطل ہو گئی جب چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندراچود ریٹائر ہونے والے تھے۔ایک نیا بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گا۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ شادی کے ادارے کی حفاظت ضروری ہے اور شادی کے اندر بیوی کی رضامندی کو مجرمانہ نہ بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ پارلیمنٹ نے شادی شدہ خواتین کی رضامندی کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔

  • سراج الحق کی صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو و دیگر رہنماؤں سے ملاقات

    سراج الحق کی صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو و دیگر رہنماؤں سے ملاقات

    سابق امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ کا دورہ کیا،جہاں انہوں نے صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو ، جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ، نائب صدر حافظ طلحہ سعید ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ خالد نیک گجر اور سیکرٹری اطلاعات تابش قیوم سے ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال، قومی یکجہتی اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس موقع پر قاری محمد یعقوب شیخ نے جماعت اسلامی کے رہنما کو پاکستان مرکزی مسلم لیگ کی جدوجہد اور اہداف سے آگاہ کیا۔دونوں رہنماؤں نے ملک میں مثبت سیاسی روایات کے فروغ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کوششوں پر بات چیت کی۔ملاقات میں دیگر اہم امور پر بھی گفتگو ہوئی اور ملکی استحکام کے لیے تمام محب وطن قوتوں کو متحد ہونے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا.

    اس موقع پر صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ ہم میدان سیاست میں اس پاکستان کے لئے اترے جس کے ماتھے کا جھومر لاالہ الااللہ ہے۔ آئین میں قر آن و سنت کو بالا قانون کہا گیا ہے۔ہم ملک میں73کے آئین کے تحت قانون کی عملداری اور صوبائیت،لسانیت،عصبیت کے جھگڑے اور مفادات و معرکہ آرائی کی سیاست ختم کر کے اخوت اوررواداری کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ہم قومی و ملی وحدت کو پروان چڑھائیں گے۔

  • عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کی درخواست عدالت نے نمٹا دی

    عمران خان سے ملاقات نہ کروانے کی درخواست عدالت نے نمٹا دی

    اسلام آباد ہائی کورٹ: عدالتی حکم کے باوجود علی امین گنڈا پور کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کروانے پر توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی

    سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کے بیان پر عدالت نے درخواست ہدایت کے ساتھ نمٹادی،اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے سماعت کی،سپریٹنڈنٹ اڈیالہ جیل غفور انجم اور دیگر عدالت پیش ہوئے، اور کہا کہ معمول کے مطابق ملاقاتیں کرائی جارہی ہیں،فیملی کے بعد علی امین گنڈاپور کی ہی ملاقاتیں کرائی گئیں،تین ملاقاتیں ہوئیں،فوکل پرسن کے ذریعے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتیں کرائی جاتی ہیں،

    عدالت نے کہا کہ فوکل پرسن کے ذریعے علی امین گنڈاپور کا نام بھی بھجوایاجائے، عدالت نے کہا کہ اگر بانی پی ٹی آئی ملاقات کرنا چاہیں تو ملاقات بھی کرائی جائے

    علی امین گنڈا پور نے 24 جنوری کو ملاقات نہ کروانے پر عدالت سے رجوع کیا تھا،عدالت نے علی امین گنڈاپور کی درخواست ہدایت کے ساتھ نمٹادی۔

  • زرتاج گل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    زرتاج گل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما زرتاج گل کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ یہ وارنٹس سول جج مبشر حسن نے جاری کیے، جو کہ اس معاملے کی سماعت کر رہے تھے۔

    دورانِ سماعت جج مبشر حسن نے ریمارکس دیے کہ زرتاج گل متعدد بار عدالت کی طرف سے طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہیں ہوئیں، جس پر عدالت نے ان کے خلاف وارنٹِ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ جج نے مزید کہا کہ زرتاج گل کے غیر حاضر رہنے کی بنا پر ان کے خلاف کارروائی ضروری تھی۔یہ مقدمہ تھانہ بارہ کہو میں درج کیا گیا تھا، جہاں زرتاج گل کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ اس معاملے میں پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اور پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی پہلے ہی بری ہو چکے ہیں، لیکن زرتاج گل کا کیس ابھی تک چل رہا ہے۔

    زرتاج گل کی عدم پیشی کے باعث عدالت نے سخت کارروائی کی، اور ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اس کے نتیجے میں اب ان کی گرفتاری کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    ہر سطح پر انتہاپسندی اور عدم برداشت کی حوصلہ شکنی کریں گے ،وزیراعلیٰ پنجاب