Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • میں ابھی کوئی کنگ نہیں ہوں، بابر اعظم

    میں ابھی کوئی کنگ نہیں ہوں، بابر اعظم

    کراچی: پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹر بابر اعظم نے حالیہ ایک ون ڈے انٹرنیشنل میچ کے بعد اپنی پرفارمنس اور ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔

    بابر اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں "کنگ” کہہ کر پکارنا بند کیا جائے کیونکہ وہ ابھی خود کو "کنگ” نہیں مانتے۔ بابر نے کہا، "میں ابھی کوئی کنگ نہیں ہوں، جب کرکٹ چھوڑوں گا تب دیکھیں گے کہ کیا حاصل کیا ہے۔”پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کراچی میں ہونے والے میچ کے بعد بابر اعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر بار جب بھی بیٹنگ کے لئے میدان میں جاتا ہوں، میری کوشش ہوتی ہے کہ اچھا اسکور بناؤں اور ٹیم کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں۔بابر اعظم نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے وہ اننگز کو ختم نہیں کر پا رہے ہیں، حالانکہ جب اننگز چلتی ہیں تو وہ خود کو گیم اور پچ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اوپننگ کرنا ان کے لئے ایک نیا رول ہے، اور یہ ذمہ داری ٹیم کی ڈیمانڈ پر انہیں دی گئی ہے۔

    بابر نے اپنی گفتگو میں ٹیم کے کھلاڑیوں، خاص طور پر رضوان اور سلمان کی تعریف کی، جنہوں نے اچھی پرفارمنس دی اور اس سے ٹیم میں اعتماد بڑھا۔ بابر کا کہنا تھا کہ ٹیم کی کامیاب کارکردگی کا اثر ان کے رویے پر بھی پڑتا ہے اور اس سے پوری ٹیم کا مورال بلند ہوتا ہے۔

    بابر نے اپنی پرفارمنس پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ بہتر کھیل پیش کریں، مگر اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ وہ سیٹ ہونے کے بعد لمبی اننگز نہیں کھیل پا رہے ہیں۔ "جو کچھ میں نے ماضی میں کیا ہے، وہ اب صرف ماضی کی بات ہے۔ اگر میں پچھلی پرفارمنس میں پھنسا رہوں گا تو آگے کچھ نہیں کر پاؤں گا۔ ہر دن ایک نیا دن ہوتا ہے اور ہر دن کا نیا پلان ہوتا ہے۔” بابر اعظم نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اپنی پرفارمنس پر کام کرتے رہیں گے اور ٹیم کی کامیابی کے لئے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھیں گے۔

  • حافظ آباد میں فائرنگ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما  جاں بحق

    حافظ آباد میں فائرنگ سے پی ٹی آئی کے مقامی رہنما جاں بحق

    حافظ آباد کے علاقے کوٹ نکہ میں فائرنگ کے ایک افسوسناک واقعہ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنما قمر جاوید ایڈووکیٹ جاں بحق ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق، قمر جاوید ایڈووکیٹ نماز فجر کے لیے مسجد جا رہے تھے کہ نامعلوم ملزمان نے ان پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں قمر جاوید ایڈووکیٹ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمان فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہو گئے اور ان کی تلاش جاری ہے۔پولیس حکام کے مطابق قمر جاوید ایڈووکیٹ گزشتہ انتخابات میں پی ٹی آئی کے صوبائی امیدوار کے طور پر حصہ لے چکے تھے اور سیاسی طور پر بھی متحرک رہ چکے تھے۔

    مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قمر جاوید کی ہلاکت سیاسی طور پر کسی دشمنی کا نتیجہ ہو سکتی ہے، لیکن پولیس اس واقعہ کی مختلف زاویوں سے تحقیقات کر رہی ہے۔اس واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور پی ٹی آئی کے کارکنان سمیت مقامی افراد نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے۔ پولیس کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد مزید تفصیلات منظر عام پر آئیں گی۔

    پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط پاکستان کی معاشی خودمختاری پر براہ راست حملہ

    مصر اور اردن فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو پر متفق

  • پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو  خط  پاکستان کی معاشی خودمختاری پر  براہ راست حملہ

    پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط پاکستان کی معاشی خودمختاری پر براہ راست حملہ

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی حنیف عباسی نے پی ٹی آئی کی جانب سے آئی ایم ایف کو ڈوزیئر جمع کرانے کے اقدام کو پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچانے کی ایک مذموم کوشش قرار دیا ہے۔

    حنیف عباسی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو لکھا گیا خط نہ صرف ایک سیاسی چال ہے بلکہ یہ پاکستان کی معاشی خودمختاری پر ایک براہ راست حملہ ہے۔ پی ٹی آئی کا یہ عمل ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد پاکستان کی معیشت کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا وقت کوئی اتفاق نہیں بلکہ اس کا مقصد ملک کی موجودہ معاشی حالت کو متاثر کرنا ہے، جسے پاکستان کی معاشی بحالی کی طرف بڑھنے کی ایک اہم کوشش سمجھا جا رہا تھا۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا یہ اقدام اس کے مسلسل ریاست مخالف رویے کی عکاسی کرتا ہے اور یہ کوشش اس کے سیاسی مفادات کے لئے کی جا رہی ہے۔ حنیف عباسی نے اس بات پر زور دیا کہ جب بھی پاکستان معاشی بحالی کی طرف قدم بڑھاتا ہے، پی ٹی آئی غیر ملکی مداخلت اور سازشوں کا سہارا لے کر ملکی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ محب وطن سیاسی جماعتیں کبھی بھی اپنے ملک کے خلاف بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں لابنگ نہیں کرتیں، اور پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کے ساتھ اس طرح کا رابطہ پاکستان کے مفادات کے برخلاف ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے سابقہ اقدامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی نے پہلے بھی آئی ایم ایف کی ڈیل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی، جس کا واضح ثبوت آئی ایم ایف ہیڈ کوارٹرز کے باہر احتجاج اور سابق وزرائے خزانہ کی لیک شدہ گفتگو ہے۔

    رہنما مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی جب اقتدار میں تھی تو معیشت کو بری طرح چلایا اور اب اپوزیشن میں آ کر ملک میں معاشی بحران پیدا کرنے کی مذموم کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مفادات قومی مفادات سے متصادم ہیں اور اس کے غیر ملکی مداخلت کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ملک کی بہتری کی بجائے اپنے سیاسی مفادات کے پیچھے ہے۔

    حنیف عباسی نے کہا کہ پاکستان اس وقت اسٹریٹجک شراکت داری، تجارتی معاہدوں اور پالیسی اصلاحات کے ذریعے معاشی بحالی کی راہ پر گامزن ہے اور پی ٹی آئی اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی ذمہ دار سیاسی جماعت معاشی چیلنجز کو سیاسی فائدے کے لئے ہتھیار نہیں بناتی، مگر پی ٹی آئی قومی بحرانوں سے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کرتی ہے۔

    آخر میں حنیف عباسی نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اقدامات کسی سیاسی مخالف کو نہیں بلکہ پاکستان کے عوام، معیشت اور مستقبل کو نقصان پہنچانے والے ہیں۔ انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ وہ پی ٹی آئی کے اس تخریبی طرز عمل کو پہچانیں اور اس کے اثرات سے بچنے کی کوشش کریں۔

  • بھارت میں نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ

    بھارت میں نفرت انگیز تقاریر میں اضافہ

    بھارت میں گزشتہ سال کے دوران مذہبی اقلیتی گروپوں کے خلاف نفرت انگیز تقریر میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس میں وزیراعظم نریندر مودی کی حکومتی ہندو قوم پرست پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کی طرف سے بھی نفرت انگیز زبان استعمال کی گئی۔

    واشنگٹن میں قائم تحقیقی ادارہ "انڈیا ہیٹ لیب” کی رپورٹ کے مطابق، 2024 میں مسلمانوں اور عیسائی اقلیتی گروپوں کے خلاف نفرت انگیز تقریروں کے واقعات کی تعداد 1,165 تک پہنچ گئی، جو کہ گزشتہ سال 668 تھی، یعنی 74 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات میں سے تقریباً 98 فیصد مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا،رپورٹ میں کہا گیا کہ "2024 میں بھارت میں نفرت انگیز تقریر ایک خطرناک راستے پر چلی، جو حکومتی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور وسیع تر ہندو قوم پرست تحریک کے نظریاتی عزائم سے جڑی ہوئی ہے۔”

    وزیراعظم مودی، جو گزشتہ سال انتخابات میں تیسری مدت کے لیے منتخب ہوئے، پر طویل عرصے سے الزام ہے کہ انہوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتی گروپوں کے خلاف تشویش ناک فرقہ واریت کو بڑھاوا دیا ہے اور تشدد کے واقعات کو ہوا دی ہے۔ ان کی ہندو قوم پرست پارٹی بھارت کو ایک ہندو راشٹر بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے، جو کہ آئینی طور پر ایک سیکولر ملک ہے، اور ان کی جماعت پر یہ الزام ہے کہ وہ اقلیتی مذاہب کے پیروکاروں کے حقوق کو نظر انداز کر رہی ہے۔مودی اور ان کی بی جے پی نے بار بار کہا ہے کہ وہ اقلیتی گروپوں کے خلاف تفریق نہیں کرتے۔

    رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سال نفرت انگیز تقریروں نے "ہندو قوم پرستی کے دیرینہ تصورات” کو مزید تقویت دی، جیسے کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو "غیر ملکی” اور "حملہ آور” کے طور پر پیش کیا گیا، جو بھارت میں اپنی موجودگی کا کوئی جائز حق نہیں رکھتے۔رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ بی جے پی نے گزشتہ سال نفرت انگیز تقریروں کے تقریباً 30 فیصد واقعات کی تنظیم کی، جو پچھلے سال کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ ہے، اور پارٹی کے رہنماؤں نے 452 نفرت انگیز تقریریں کیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 350 فیصد اضافہ تھا۔ ان تقریروں کا بیشتر حصہ عام انتخابات کی مہم کے دوران ریکارڈ کیا گیا۔مودی پر ماضی میں انتخابی مہموں کے دوران اسلام مخالف بیانات دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے، "یہ اعلیٰ سطح کی نفرت انگیز تقریریں (مودی اور طاقتور علاقائی رہنماؤں کی طرف سے) مزید مقامی بی جے پی رہنماؤں، ہندو دائیں بازو کی تنظیموں اور مذہبی شخصیات کی طرف سے بڑھاوا دی گئیں، جو ایسی ہی تقریریں کمیونٹی اور عوامی سطح پر پھیلاتے ہیں۔”

    مودی کے تحت ہندو قوم پرستوں کو حکومت کے اہم اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا گیا ہے، جس سے انہیں وہ طاقت حاصل ہوئی ہے کہ وہ قانون سازی میں ایسے تبدیلیاں کریں جو حقوق گروپوں کے مطابق مسلمانوں کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بناتی ہیں۔ بھارت کی سابقہ اسلامی حکمرانوں کی تاریخ کو بدلنے کے لیے نصاب کو دوبارہ لکھا گیا، مغل دور کے ناموں والے شہروں اور سڑکوں کو دوبارہ نام دیا گیا اور مسلمانوں کی جائیدادوں کو حکام کی طرف سے حکومت کی اراضی پر غیر قانونی قبضہ کے الزام میں مسمار کر دیا گیا۔

    2019 میں، مودی نے جموں و کشمیر کی خصوصی خودمختاری ختم کر دی – جو بھارت کی واحد مسلم اکثریتی ریاست ہے – اور اسے دہلی کے براہ راست کنٹرول میں لے لیا۔ اسی سال، ان کی حکومت نے ایک متنازعہ شہریت قانون منظور کیا، جس میں مسلم پناہ گزینوں کو شامل نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے خونریز فسادات ہوئے۔بھارت میں نفرت انگیز تقریر کو کئی دفعات کے تحت قانوناً ممنوع قرار دیا گیا ہے،تاہم کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں نفرت انگیز تقریر میں اضافہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ عدلیہ اس بارے میں کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتی ہے، حالانکہ مختلف قوانین کے تحت اس کی واضح طور پر ممانعت کی گئی ہے۔

    اناس تنویر، ایک وکیل اور انڈین سول لبرٹیز یونین کے بانی نے کہا، "عدلیہ نے نفرت انگیز تقریر کے خلاف واضح ممانعت کے باوجود کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی ہے۔”

    انڈیا ہیٹ لیب، جو واشنگٹن ڈی سی میں قائم تھنک ٹینک سنٹر فار اسٹڈیز آف آرگنائزڈ ہیٹ (CSOH) کا ایک منصوبہ ہے، دنیا کی سب سے بڑی جموکری میں نفرت انگیز تقریر کے بارے میں سالانہ ڈیٹا فراہم کرتا ہے۔ یہ ادارہ اقوام متحدہ کے فریم ورک کے مطابق نفرت انگیز تقریر کی تعریف کرتا ہے، جو کسی بھی قسم کی تقریر، تحریر یا رویے کو ظاہر کرتا ہے جو کسی شخص کے مذہب کی بنیاد پر حملہ آور یا امتیازی زبان استعمال کرتا ہو۔

  • سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تقریب حلف برداری ملتوی

    سپریم کورٹ میں نئے ججز کی تقریب حلف برداری ملتوی

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں نئے ججز کی حلف برداری کی تقریب ملتوی کر دی گئی ہے، جس کی وجہ ججز کے نوٹیفکیشن میں تاخیر بتائی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق نئے ججز کی حلف برداری کی تقریب آج ہونا تھی لیکن اب یہ تقریب جمعہ کو ہوگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تقریب میں چھ مستقل ججز اور ایک عارضی جج شامل تھے، جن کی حلف برداری آج متوقع تھی۔ تاہم وزارت قانون کی جانب سے نئے ججز کے تقرر کا نوٹیفکیشن رات گئے جاری کیا گیا، جس کی وجہ سے حلف برداری کی تقریب ملتوی کی گئی۔

    اس کے علاوہ چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ کی کازلسٹ بھی منسوخ کر دی گئی۔ جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں بینچ ٹو اب بینچ ون میں کیسز کی سماعت کرے گا۔چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد وحید پر مشتمل بینچ کے سامنے 40 مقدمات سماعت کے لیے مقرر تھے، جن کی سماعت اب اس نئے ترتیب سے کی جائے گی۔

    پیکا ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاج،بھوک ہڑتالی کیمپ

    پی ٹی آئی کے متنازعہ اقدامات، عوامی مفاد یا پاکستان دشمنی؟

  • پیکا ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاج،بھوک ہڑتالی کیمپ

    پیکا ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کا احتجاج،بھوک ہڑتالی کیمپ

    پاکستان میں متنازع پیکا ترمیمی بل کے خلاف صحافیوں کا احتجاج جاری ہے۔ مختلف شہروں میں صحافیوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور بھوک ہڑتال کیمپ بھی قائم کیے ہیں۔

    اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر پی ایف یو جے (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس) اور آر آئی یو جے (راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس) نے بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا۔ پی ایف یو جے کے صدر، افضل بٹ نے اس موقع پر کہا کہ "ہم فیک نیوز اور ریگولیشن کے خلاف نہیں ہیں، لیکن اگر حکومت کی نیت درست تھی تو پھر اس نے مشاورت کیوں نہیں کی؟” ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے صحافیوں کو نظرانداز کیا ہے اور ان کی آواز دبا دی ہے۔

    لاہور پریس کلب میں بھی صحافیوں نے پیکا ترمیمی بل کے خلاف احتجاج کیا اور بھوک ہڑتال کا سلسلہ جاری رکھا۔ پریس کلب کے صدر ارشد انصاری نے اعلان کیا کہ 14 فروری کو ایک نیا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا اور اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ "سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں آکر اس مسئلے کو چیمپئن بناتی ہیں، لیکن جب حکومت میں آتی ہیں تو یہی قوانین نافذ کر دیتی ہیں۔”

    کراچی پریس کلب میں بھی بھوک ہڑتال کا کیمپ قائم کیا گیا، جہاں مظاہرین نے پیکا کے نفاذ کو آزادی صحافت اور آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا۔ پشاور پریس کلب کے باہر صحافیوں نے اپنے احتجاج میں کہا کہ "پیکا جیسا کالا قانون کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔”

    کوئٹہ میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس نے علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ لگایا اور صوبہ بھر میں اس بل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ اسی طرح حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ، ٹھٹہ، نواب شاہ، ملتان، بہاولپور، گوجرانوالہ، نصیر آباد، جعفرآباد، جھل مگسی، اوستہ محمد، صحبت پور، سبی اور اسکردو سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔

    پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدرافضل بٹ نے کہا ہے کہ فیک نیوز کی آڑ میں آزادی اظہار کو روکنے کی کوشش ہو رہی ہے ،حکومت کی بدنیتی نہیں تھی تو پھر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت میں کیا حرج تھی جبکہ آر آئی یو جے کے صدر طارق علی ورک نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی آمروں کا مقابلہ کیا ہے آج بھی ہم اس کالے قانون کے خلاف میدان میں ہیں ،پیکا ایکٹ بل کی واپسی تک جدوجہد جاری رکھیں گے۔

    اسلام آباد راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام نیشنل پریس کلب کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ کا انعقاد کیا گیا،پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ سمیت صحافیوں کی بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر سابق سیکرٹری جزل پی ایف یو جے ناصر زیدی صدر آر آئی یو جے طارق علی ورک سیکرٹری آصف بشیرچوہدری سیکرٹری فنانس سیکرٹری نیشنل پریس کلب نیر علی ندیم چوہدری سینئر ناہب صدر راجہ بشیر عثمانی سابق صدر آراءیوجے عامر سجاد سید اقبال خٹک عامر بٹ اظہار خان نیازی مجاہد نقوی توصیف عباسی رانا فرحان اسلم غفران چشتی اسد شیر جہانگیر منہاس شیراز گردیزی شفیق بٹ جہانگیر بلوچ صابر نقوی آفتاب عالم گل قیصر نے شرکت کی ۔

    صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے بھوک ہڑتالی کیمپ سے خطاب کرتے ہوے کہا کہ آزادی صحافت کی تحریک کو آگے بڑھانے کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ لگانے پر آج ملک بھر کے صحافیوں کا مشکور ہوں، ہم آئین و قانون کے پابند ہیں ،ہم فیک نیوز کے مخالف ہیں ہم خود فیک نیوز سے متاثر ہورہے ہیں ،فیک نیوز کی آڑ میں آزادی اظہار کو روکنے کی کوشش ہورہی ہے اگر حکومت کی بدنیتی نہیں تھی تو پھر سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کرنے میں کیا حرج تھی،آئین و قانون بھی ہمیں کہتا ہے کہ کسی قانون کو لانے سے پہلے سٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جاے ہم مادر پدر آزادی کے مخالف ہیں، ہم بے لگام سوشل میڈیا کے خلاف ہیں ہم حکومت کو کہتے رہے کہ ہم سے مشاورت کرکے قانون لایا جاے لیکن حکومت نے ہماری باتوں پر توجہ نہیں دی پی ایف یو جے کی تاریخ جدوجہد کی تاریخ ہے پریس فریڈم کی تحریک شروع ہوچکی ہے ۔ پی ایف یو جے نے آزادی اظہارکیلئے کوڑے کھانے خود گرفتاریاں پیش کی ہیں آج بھی پورے عزم کے ساتھ ہم میدان میں ہیں دہشت اور خوف پھیلانے کیلئے کوڑے لگائے گے تاکہ صحافی ڈر جاہیں اور کسی تحریک کا حصہ نہ بنیں ہماری تاریخ قربانیوں کی تاریخ ہے ہم نے مشرف کے دور میں بہتر روز تک احتجاجی کیمپ لگایا ہے ہم اپنی جنگ عدالت کے اندر بھی لڑ رہے ہیں اگر حکومت نے ہمارے مطالبات نہ مانے تو پھر ہم پارلیمنٹ کے سامنے جانے پر مجبور ہوں گے پریس فریڈم موومنٹ آزادی اظہار راے کی تحریک ہے جب پاکستان کے عام شہری سے اس سے جاننے کا حق چھینا جاتا ہے پاکستان کے عام شہری کو گونگا رکھنا ہے یہ پالیسی اب نہیں چلے گی۔

    صدر آر آئی یوجے طارق علی ورک نے احتجاجی کیمپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آزادی اظہار کو دبانے کی ہردور میں کوشش ہوتی رہی ہے لیکن ہم نے ہر دور میں حکومتوں کے اوچھے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا ، کالے قوانین کے ذریعے صحافیوں کا گلا گھونٹا جارہا ہے ،حکومت نے بہت جلد بازی میں یہ بل منظور کروایا ہے، ہم نے پہلے بھی آمروں کا مقابلہ کیا ہے آج بھی ہم اس کالے قانون کے خلاف میدان میں ہیں ہماری جدوجہد منزل کے حصول تک جاری رہے گی بل کی واپسی تک ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے ۔

    سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے ناصر زیدی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ اس قانون کے نفاذ سے اظہار راے کی آزادی ہم سے چھین لی گی ہے اس قانون کے نفاذ سے پوری دنیا میں ہمارا امیج بری طرح خراب ہوا ہے پاکستان ہر صحافی باشعور ہوچکا ہے اسے اپنی آزادی کا پتہ ہے اپنے حقوق کا پتہ ہے ہماری آوازوں کو کوءقید نہیں کرسکتا ورکرز کے حقوق کا تحفظ پریس کی آزادی کا تحفظ پی ایف یو جے کے دو مقاصد تھے پی ایف یو جے نے ہر دور میں پابندیوں کے خلاف آواز اٹھائی ہے حکمران لالے قانون کو لاکر یہ سمجھتے ہیں کہ پریس کی آزادی کو دبا دیں گے یہ حکمرانوں کی غلط فہمی ہے ہم نے ہر امر کے غیر قانونی و غیر آئینی اقدامات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے ہم آج بھی ازدی اظہار راے کےلیے کھڑے ہیں آج کا صحافی جدوجہد کرنے والا صحافی ہے حکمران اپنا قبلہ درست کریں خلق خدا کی آواز کو سمجھیں ۔

    سیکرٹری آصف بشیر چوہدری نے کہا کہ حکمران اپنی شکل کے خدو خال درست کریں نہ کہ اس کا غصہ آہینہ توڑ کر کریں پیکا جیسے کالے قانون کی منظوری ایک جمہوریت پر بدنما داغ ہے اس کالے قانون کو بہت عجلت میں منظور کروایا گیا ہے،پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے لوگوں نے اس کالے قانون کو اس طرح منظور کرکے جمہوریت کے منہ پر دھبہ لگایا ہے.

    صدر نیشنل پریس کلب اظہر جتوئی نے کہا کہ پیکا ایکٹ ایک ظالمانہ جابرانہ ایکٹ ہے جسے ہم نہیں مانتے ایک جمہوری ملک میں ایسے کالے قانون کی منظوری قابل مذمت ہے آج پھر ایک مرتبہ ملکی حالات خراب کیے جارہے ہیں آزادی اظہار راے ریاست کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے صدر پی ایف یو جے حکم کریں پورے ملک سے صحافی برادری نکلے گی اور ایوانوں کا گھیراو کریں گے عامر سجاد سید نے کہا کہ پی ایف یو جے کی تاریخ جدوجہد کی تاریخ ہے پی ایف یو جے کی کال پر ملک بھر میں بھوک ہڑتالی کیمپ جاری ہیں.

    راجہ بشیر عثمانی نے کہا کہ ہم پیکا جیسے کالے قانون کو مسترد کرتے ہیں اس قانون کے خاتمے تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی جہانگیر منہاس نے کہا کہ پیکا کالا قانون ہے جسے ہم کسی طور قبول نہیں کرتے ہماری جدوجہد جارہی رہے گی تحریک ہم نے شروع کی ہے یہ تحریک منزل کے حصول تک جاری رہے گی مجاہد نقوی نے کہا کہ ہم نے اس کالے قانون کے خلاف جدوجہد کا آغاز کردیا ہے اس جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے چوہدری خادم نے کہا کہ ہم آزادی اظہار راے پر عاہد قدغنوں کی مذمت کرتے ہیں شیراز گردیزی نے کہا کہ پاکستان میں جب بھی آزادی اظہار راے پر پابندیاں لگائی گی ہیں تو پی ایف یو جے نے اس پر بھرپور آواز اٹھاءہے ہماری جدوجہد کے نتیجے میں یہ کالا قانون ضرور ختم ہوگا محمد شکیل نے کہا کہ جمہوریت اور صحافت آپس میں جڑے ہوے ہیں پیکا کالا قانون ہے ہم اسے کسی طور قبول نہیں کریں گے یہ صرف صحافیوں کا مسلہ نہیں پورے ملک کے عوام کا مسلہ ہے جہانگیر بلوچ نے کہا کہ آزادی اظہار راے کےلیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی ہماری آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے حکمرانوں کے یہ اقدامات قبول نہیں کریں گے اقبال خٹک نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ یہ کالا قانون نہ صرف صحافیوں کے خلاف ہے بلکہ پورے ملک کے عوام کے خلاف ہے بانی پاکستان قاہد اعظم نے نظریے کے خلاف ہے ان کالے قانون کے خلاف متحدہ فرنٹ بنانے کی ضرورت ہے جسے پی ایف یو جے لیڈ کرے عدنان شمسی نے کہا کہ ار آءیوجے کو اس کالے قانون کے خلاف آواز اٹھانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں ہر دور میں صحافیوں کی آواز دبانے کی کوشش کی گی ہے صابر نقوی نے کہا کہ ہم ار آءیوجے کی جدوجہد کے ساتھ ہیں

    آفتاب عالم نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ ارادہ کی طرف سے ہم آج کے بھول ہڑتالی کیمپ سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں ہم اس کالے قانون کو نہیں مانتے یہ قانون ہمیں 1960 میں دوبارہ لےگیا ہے آزادی اظہار کو ہم سے چھین لیا گیا ہے پیکا کے قانون میں عدلیہ سے اختیار لے کر انتظامیہ کو دے دیا گیا ہے مبہم تعریفوں میں الجھا دیا گیا ہے اس کی تعریف بھی انتظامیہ کرے گی اپیل کا حق چھین لیا گیا ہے یہ قانون کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہے اس کالے قانون کو مکمل طور پر ہٹانے کی ضرورت ہے اگر کسی قانون کی ضرورت ہے تو پھر تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے قانون لایا جاے سلطان احمد نے کہا کہ حکومت کی نیت میں کھوٹ ہے حکومت کو اپنا قبلہ درست کرے

    افشاں قریشی نے کہا کہ ار آئی یوجے کے اس بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک تمام شرکا کے مشکور ہیں سہیل مہدی نے کہا کہ طاقتور ہمیشہ آزادی کی آواز کو دباتے ہیں صحافیوں پر پابندی طلباءیونین پر پابندی لگاءگی تھی یہ عام آدمی کی آزادی کی لڑاءہے سحریش قریشی نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ یہ فسطائی حکومت کالے قانون کے ذریعے آزادی اظہار کا راستہ روکنے کی سازش ہے. جی بی کے سپیکر محمد کاظم سابق صدر ٓار آئی یو جے مبارک زیب اعجاز عباسی بشیر راجہ جعفر بلتی شاہ محمد نزیر چرن سدھیر کیانی ممبران ایگزیکٹو باڈی آر آئی یو جے علی اختر نوابزادہ شاہ علی صوبیہ مشرف شاہد اجمل ملک راشد خرم ملک طاہر شاہ خواجہ کاشف میر مدثر چوہدری منصور ظفر راجہ شوکت کمال ملک سہیل خالد گردیزی سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔

  • عمران خان کی سندھ میں پارٹی قیادت تبدیل کرنے کی ہدایت

    عمران خان کی سندھ میں پارٹی قیادت تبدیل کرنے کی ہدایت

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے سندھ میں پارٹی قیادت میں تبدیلی کے حوالے سے اہم فیصلہ کیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق، عمران خان نے علی امین گنڈاپور اور جنید اکبر کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کے لیے بلایا، جس کی تصدیق وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ حکام کی جانب سے بھی کی گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے سندھ کی پارٹی قیادت میں تبدیلی کی ہدایت دی ہے، کراچی میں عالمگیر خان کو پی ٹی آئی کی اہم ذمہ داری سونپے جانے کا امکان ہے۔ عالمگیر خان کو پارٹی کے معاملات میں نیا کردار ادا کرنے کی توقع ہے۔اس کے علاوہ، عمران خان نے کنول شوذب اور عالیہ حمزہ کو پارٹی کی سیاسی کمیٹی میں شامل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ یہ فیصلہ پارٹی کے اندر تنظیمی تبدیلیوں کا حصہ ہے جس کے ذریعے پی ٹی آئی اپنی سیاسی حکمت عملی کو مزید مستحکم اور مؤثر بنانا چاہتی ہے۔

    پارٹی ذرائع کے مطابق، یہ تبدیلیاں پی ٹی آئی کی تنظیمی سطح پر نیا جوش و جذبہ پیدا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں، تاکہ پارٹی سندھ میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر سکے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز عمران خان کی ہدایت پر شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکال دیا گیا ہے،تو وہیں بیرسٹر سیف سے پارٹی ترجمانی کا عہدہ بھی واپس لیا گیا ہے

  • مصر اور اردن فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو پر متفق

    مصر اور اردن فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی تعمیر نو پر متفق

    مصر اور اردن نے غزہ کی تعمیر نو کے حوالے سے اہم معاہدہ کیا ہے جس میں دونوں ممالک نے فلسطینیوں کی بے دخلی کے بغیر غزہ کی دوبارہ تعمیر پر اتفاق کیا ہے۔ یہ فیصلہ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور اردن کے شاہ عبداللہ کے درمیان ہونے والی ایک ٹیلیفونک گفتگو میں کیا گیا۔

    مصری صدارتی دفتر نے اس بات کی تصدیق کی کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ غزہ کی تعمیر نو کے عمل میں فلسطینیوں کی بے دخلی کسی صورت نہیں ہونی چاہیے۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ غزہ کے علاقے میں فلسطینیوں کی موجودگی کے بغیر تعمیر نو کا عمل نہیں کیا جا سکتا۔اس ٹیلیفونک رابطے میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے تعاون کی خواہش بھی ظاہر کی۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کی بے دخلی سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔

    اردن، مصر اور سعودی عرب پہلے ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں جس میں فلسطینیوں کی غزہ سے بے دخلی کا ذکر تھا۔ اس حوالے سے اردن کے شاہ عبداللہ نے گزشتہ دنوں امریکی صدر سے ملاقات کے بعد بھی اس بات کا اعادہ کیا کہ غزہ سے فلسطینیوں کی نقل مکانی کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے دو ریاستی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کے حقوق اور ان کی سرزمین کا تحفظ اہم ہے۔

    یہ اقدام مصر اور اردن کی طرف سے فلسطینی عوام کے حقوق کے دفاع کے عزم کا مظہر ہے اور اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی نظر میں مشرق وسطیٰ کے امن کا راستہ فلسطینیوں کے حقوق کے احترام میں مضمر ہے۔

  • یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئےفوری مذاکرات ہوں گے،ٹرمپ

    یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئےفوری مذاکرات ہوں گے،ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کی جنگ کو ختم کرنے کے لیے مذاکرات "فوری طور پر” شروع ہوں گے، یہ اعلان انھوں نے بدھ کی صبح روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ ایک "طویل اور انتہائی نتیجہ خیز” ٹیلی فون کال کے بعد کیا۔

    یہ کال، جو ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد دونوں صدور کے درمیان پہلی معروف بات چیت تھی، اس وقت ہوئی جب ٹرمپ اپنے مشیروں کو یہ واضح کر رہے تھے کہ وہ یوکرین کے تنازعے کو جلدی سے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ منگل کو ایک قیدیوں کے تبادلے کا عمل اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے لیے نئی کوششیں کی جا سکتی ہیں، جو اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہونے والی ہے۔

    اب جب کہ دونوں رہنما طویل خاموشی کے بعد ایک دوسرے سے بات چیت دوبارہ شروع کر رہے ہیں، ٹرمپ کے امن منصوبے کے خاکے کی تفصیلات زیادہ واضح ہوتی جا رہی ہیں۔ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس بات چیت کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا، "ہم نے یوکرین، مشرق وسطیٰ، توانائی، مصنوعی ذہانت، ڈالر کی طاقت اور دیگر مختلف موضوعات پر بات کی۔””ہم نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، اور ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی۔ ہم نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ ہمارے متعلقہ ٹیمیں فوراً مذاکرات شروع کریں گی، اور ہم یوکرین کے صدر زیلنسکی کو فون کر کے انہیں اس بات چیت سے آگاہ کریں گے، جو میں ابھی کر رہا ہوں۔” ٹرمپ نے لکھا۔

    واشنگٹن اور ماسکو نے اس کال کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان ہم آہنگی کا تاثر دیا۔کریملن نے کہا کہ ٹرمپ اور پیوٹن کے درمیان تقریبا 90 منٹ تک بات چیت ہوئی۔

    ٹرمپ نے کئی ہفتوں سے یہ اشارہ دیا تھا کہ وہ پیوٹن سے بات کرنا چاہتے ہیں تاکہ یوکرین کے تنازعہ کو حل کیا جا سکے۔

    اسی دوران، امریکی حکام اس ہفتے یورپ میں موجود ہیں اور انہوں نے یوکرین کی جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اپنے موقف کو واضح کرنا شروع کر دیا ہے۔ برسلز میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دفاعی سکریٹری پیٹ ہیگسیٹھ نے کہا کہ یوکرین کا نیٹو میں شمولیت غیر حقیقت پسندانہ ہے اور امریکی انتظامیہ اب یورپی اور یوکرینی سلامتی کو ترجیح نہیں دے گی، کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنا دھیان امریکی سرحدوں کو محفوظ بنانے اور چین کے ساتھ جنگ کو روکنے پر مرکوز کرے گی۔

    اس کے علاوہ، ٹرمپ نے یوکرین کے صدر زیلنسکی کے ساتھ ایک معاہدے پر بات کی تھی جس کے تحت امریکہ یوکرین کے قیمتی معدنیات تک رسائی حاصل کرے گا، بدلے میں امریکہ یوکرین کو اپنی امداد جاری رکھے گا۔ٹرمپ نے پیوٹن سے بات کرنے کے فوراً بعد زیلنسکی کے ساتھ بھی بات کی۔

    ان کے پیشرو، صدر جو بائیڈن نے گزشتہ تین سالوں میں اپنے روسی ہم منصب سے بات نہیں کی تھی، کیونکہ وہ اس بات کو سمجھتے تھے کہ ایک جنگی مجرم سمجھے جانے والے رہنما سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    روس کا دورہ کرنے والے آخری امریکی صدر براک اوباما تھے، جو 2013 میں G20 سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے روس گئے تھے۔ پیوٹن نے آخری بار 2015 میں امریکہ کا دورہ کیا تھا، جب وہ اقوام متحدہ کی بات چیت کے لیے وہاں آئے تھے۔

    اس دوران، اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے ٹرمپ کی ٹیم کے ایک رکن اسٹیو وٹکوف نے بدھ کو پیوٹن سے ملاقات کے دوران کہا کہ امریکی قیدی مارک فوگل کی رہائی ایک اشارہ ہے کہ روسی جنگ کے مستقبل میں کیا ممکنہ امکانات ہو سکتے ہیں۔

    ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    شیر افضل مروت کو پی ٹی آئی سے نکال دیا گیا، نوٹیفکیشن جاری

  • ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    ترک صدر پاکستان پہنچ گئے، صدر، وزیراعظم نے کیا استقبال

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے دو روزہ دورے پر پہنچ گئے

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔پاکستانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے کے مطابق، صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے ترکی کے صدر کا نور خان ایئر بیس پر شاندار استقبال کیا۔ اس موقع پر ترکی کے صدر کے اعزاز میں 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جو ایک روایتی فوجی اعزاز ہے۔ اس کے علاوہ، اسکول کے بچوں نے روایتی لباس میں ملبوس ہو کر ترک صدر کا خیرمقدم کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

    ترکی کے صدر کا استقبال کرنے کے لیے ملٹری بینڈ بھی موجود تھا جس نے روایتی انداز میں موسیقی پیش کی۔ اسی دوران، پاکستان کی فضائی حدود میں پاک فضائیہ کے طیاروں نے ترک صدر کے جہاز کا فضائی استقبال کیا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاک فضائیہ کے جے ایف 17 طیاروں نے ترک صدر کے طیارے کو اپنی حصار میں لے کر اسلام آباد پہنچایا، جس سے ان کے استقبال کو مزید منفرد اور باوقار بنا دیا۔

    ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے اس دورے کو دونوں ممالک کے مابین اقتصادی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران مختلف معاہدوں پر دستخط کی توقع ہے، جو پاکستان اور ترکی کے درمیان مزید تعاون کی راہیں کھولیں گے۔اردوان کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے، اور اس سے دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان دوستانہ تعلقات میں مزید بہتری کی امید کی جا رہی ہے۔