Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نومئی ،جناح ہاؤس کیس، عمران خان کی بہنیں بے قصور قرار

    نومئی ،جناح ہاؤس کیس، عمران خان کی بہنیں بے قصور قرار

    لاہور کی انسداد دہشتگردی عدالت میں 9 مئی کے واقعات کے سلسلے میں علیمہ خانم اور عظمی خان کے خلاف مقدمات میں عبوری ضمانتوں پر سماعت ہوئی۔ اس سماعت میں پولیس نے دونوں خواتین کو جناح ہاؤس حملہ کیس میں بے قصور قرار دے دیا۔

    تفتیشی افسر نے عدالت میں پیش ہو کر کہا کہ علیمہ خان اور عظمی خان کے خلاف تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور وہ جناح ہاؤس کیس میں بے قصور ہیں۔ تفتیشی افسر کے اس بیان کے بعد، جناح ہاؤس کیس میں عمران خان کی بہنوں نے اپنی عبوری ضمانتیں واپس لے لی۔

    عدالت نے پولیس کی رپورٹ اور تفتیشی افسر کے بیان کے بعد کیس کی مزید کارروائی کی ضرورت محسوس نہیں کی۔یہ کیس 9 مئی کو جناح ہاؤس پر حملے کے حوالے سے درج کیا گیا تھا، جس میں مختلف افراد پر دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔نومئی کے مقدمات میں ملزمان گرفتار ہیں تو کئی ضمانتوں پر ہیں.

  • وزیراعظم کی دبئی میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات

    وزیراعظم کی دبئی میں آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے ملاقات

    وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی گزشتہ روز ورلڈ گورنمنٹس سمٹ (WGS) 2025 کے موقع پر دبئی میں ملاقات ہوئی۔ ملاقات میں پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام اور حکومتی اصلاحات کے ذریعے حاصل ہونے والے میکرو اکنامک استحکام پر گفتگو کی گئی۔

    بات چیت میں ادارہ جاتی اصلاحات کے نفاذ اور مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے عزم کو اجاگر کیا گیا، جو کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی بحالی اور ملک میں پائیدار ترقی و مستقبل کیلئے کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت (EEF) کے تحت ہونے والی پیش رفت کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس نے پاکستان کی معیشت کو مستحکم اور اسے طویل مدتی بحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    وزیر اعظم شہباز شریف نے اصلاحات کی رفتار بالخصوص ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے کی بہتر کارکردگی اور نجی شعبے کی ترقی جیسے اہم شعبوں میں پیش رفت کو برقرار رکھنے کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کو پاکستان کے معاشی استحکام کے لائحہ عمل، مؤثر کارکردگی اور منصوبہ بندی کی پائیداری کیلئے حکومت کے عزم کا یقین دلایا جو پاکستان میں جامع اور پائیدار ترقی کے حصول کیلئے اہم اجزاء ہیں۔

    مینجنگ ڈائیریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے آئی ایم ایف کے تعاون سے چلنے والے پروگرام کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں حکومتِ پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت استحکام کے بعد ترقی کی سمت میں گامزن ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں افراط زر میں کمی کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ پاکستان معاشی بحالی کے حصول کے بعد ترقی کی راہ پر گامزن ہے. آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے ملک کے اصلاحاتی ایجنڈے پر عملدرآمد کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت اور ذاتی عزم کی بھی تعریف کی، جنہوں نے پاکستان کے معاشی استحکام اور ترقی کے حصول میں اہم کردار ادا کیا۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے طویل مدتی معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل مالیاتی نظم و ضبط، ادارہ جاتی اصلاحات اور موثر گورننس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کے لیے آئی ایم ایف کے عزم کا اعادہ کیا۔

  • کراچی:  بنگلے سے 2 قیمتی کتے چوری،مقدمہ درج

    کراچی: بنگلے سے 2 قیمتی کتے چوری،مقدمہ درج

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک بنگلے سے دو قیمتی کتے چوری ہونے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس پر مقدمہ درخشان تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ اس مقدمے کی مدعیت کتوں کے ٹرینر نیلسن نے کی ہے۔

    مقدمے میں مدعی کا کہنا ہے کہ اس کے دوست نے کچھ دن قبل ان کتوں کو مانوس کیا تھا۔ 4 فروری کو اس دوست نے بہانے سے کتوں کو بنگلے سے نکال کر انہیں چوری کر لیا اور اس کے بعد رفو چکر ہو گیا۔پولیس حکام نے فوری طور پر تحقیقات کا آغاز کردیا ہے اور وہ اس واقعہ میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں تحقیقات تیز رفتار ہیں اور چوروں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پولیس کی طرف سے عوام کو بھی محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اگر کسی کو اس بارے میں کوئی معلومات ہو تو وہ فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔اب تک پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی اس چوری کا سراغ لگایا جائے گا۔

  • اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات

    اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات

    اردن کے بادشاہ شاہ عبداللٰہ دوم نے واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، جن میں مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات پر زور دیا گیا۔

    ملاقات کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ "ہم غزہ کو خریدنے نہیں جا رہے، بلکہ ہم غزہ کو امریکی انتظامیہ کے ماتحت لے کر آئیں گے۔” صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اسرائیل سے مغربی کنارے کا الحاق بھی کیا جائے گا، اور اس ضمن میں اردن اور مصر میں زمین کے کچھ حصوں پر فلسطینیوں کو تحفظ فراہم کیا جائے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ "نناوے فیصد امکان ہے کہ ہم مصر کے ساتھ مل کر اس مسئلے کا حل نکال سکیں گے۔” اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اردن اور مصر کے ساتھ تعاون کرنے کا خواہاں ہے۔

    اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک خطے میں امن اور خوشحالی کے قیام کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اردن کی پالیسیاں اس مقصد کے حصول کے لیے معاون ثابت ہوں۔شاہ عبداللہ دوم نے یہ بھی کہا کہ "ہمیں وہ کرنا ہے جو ہمارے اور تمام فریقوں کے مفاد میں ہو۔ ہمیں اس وقت مصر کی طرف سے آنے والے منصوبے کا انتظار کرنا چاہیے۔” ان کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اردن مصر کے مشوروں اور منصوبوں کو اہمیت دیتا ہے اور ان کے ساتھ مل کر مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے عملی اقدامات اٹھانے کی امید رکھتا ہے۔

    یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں دیرپا امن قائم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو سکتی ہے۔

  • تھائی لینڈ،یو ایس ایڈ بند،بیمار بچوں کیلیے کوئی ڈاکٹر نہیں،حاملہ خواتین پریشان

    تھائی لینڈ،یو ایس ایڈ بند،بیمار بچوں کیلیے کوئی ڈاکٹر نہیں،حاملہ خواتین پریشان

    تھائی لینڈ کے دور دراز شمالی سرحدی علاقوں میں پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والے ایک بچے روزیلا کی حالت انتہائی خراب ہے۔ اس کی ناک سے پلاسٹک کی نلکیاں جڑ کر ایک آکسیجن ٹینک سے جڑی ہوئی ہیں جو خود اس سے بڑی ہے، جب کہ وہ اپنی ڈرائنگ کی کتاب کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہے: ایک پھول، ایک گھر، اور ایک مرغی۔

    ۹ سالہ روزیلا ایک پیدائشی ہڈی کی بیماری کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کے پسلیاں اس کے پھیپھڑوں پر زور ڈال رہی ہیں، جن میں سے ایک درست طریقے سے کام نہیں کر رہا۔ اس کی والدہ، ریبیکا، ۲۷ سال کی عمر میں بتاتی ہیں کہ روزیلا کو مسلسل آکسیجن کی ضرورت ہے، لیکن وہ نہیں جانتی کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہ پائے گا۔روزیلہ اور اس کی والدہ ایک پناہ گزین کیمپ میں رہتے ہیں جو تھائی لینڈ اور میانمار کی سرحد پر واقع ہے۔ ان کیمپوں میں تقریبا ۱۰۰,۰۰۰ افراد رہتے ہیں، جنہوں نے میانمار کے فوجی حکومت اور نسلی اقلیتی باغی گروپوں کے درمیان دہائیوں تک چلنے والی جنگوں سے بچنے کے لیے یہاں پناہ لی تھی۔ حالیہ برسوں میں میانمار کی فوجی بغاوت اور جاری خانہ جنگی نے ان کی حالت کو مزید خراب کر دیا ہے۔

    مے لا کیمپ، جو ان میں سب سے بڑا ہے، میں امریکی امداد سے چلنے والا ہسپتال ہے جو ۳۷,۰۰۰ افراد کے لیے واحد صحت کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ لیکن جب ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی امداد کی فراہمی میں ۹۰ دنوں کے لیے روک لگا دی تو اس ہسپتال کو بند کرنا پڑا جس سے پناہ گزین کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ٹرمپ کی امداد کی منجمدی کے نتیجے میں نہ صرف پناہ گزینوں کے لیے صحت کی سہولتیں رک گئیں بلکہ زندگی بچانے والی خدمات بھی مفلوج ہو گئیں۔ بین الاقوامی امدادی ادارے اور مقامی امدادی کارکنان اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ان کی مالی مدد میں کمی واقع ہو گئی ہے اور وہ چند ماہ تک ہی خوراک اور دیگر ضروری سامان فراہم کرنے کے قابل ہیں۔

    تھائی لینڈ کے سرحدی علاقوں میں کام کرنے والے ایک امدادی کارکن پِم کِرد ساوانگ نے کہا کہ "کارن خاندانوں نے دوائیں اور آکسیجن ٹینک فراہم کیے ہیں، مگر یہ ناکافی ہیں۔” ان پناہ گزینوں کے لیے علاج کی سہولتیں دن بدن کم ہوتی جا رہی ہیں اور ان کا مستقبل غیر یقینی بن چکا ہے۔ٹرمپ کی امداد کی منجمدی کی وجہ سے صرف صحت کی سہولتیں متاثر نہیں ہوئیں بلکہ تعلیم، ویکسین، اور دیگر سماجی خدمات بھی متاثر ہو چکی ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کا موقف ہے کہ وہ زندگی بچانے والی امداد جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن ان پناہ گزینوں کی حالت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ امدادی پروگرامز میں دراصل شدید خلل آ چکا ہے۔

    روزیلہ اور اس کی والدہ کے لیے موجودہ حالات انتہائی پیچیدہ ہیں۔ اس کی والدہ پانچ ماہ کی حاملہ ہیں اور انہیں اس وقت کے دوران کسی بھی ڈاکٹر یا صحت کی سہولت تک رسائی حاصل نہیں ہے۔”ہمیں نہیں پتا کہ اب کیا کریں، کیونکہ اب یہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہیں،” ریبیکا نے کہا۔ "میں اپنی بیٹی اور اس حمل کے بارے میں بہت فکر مند ہوں، اور سب کے لیے پریشان ہوں۔”اس صورتحال نے ان پناہ گزینوں کے لیے زندگی گزارنا اور بھی مشکل بنا دیا ہے جو پہلے ہی جنگ اور قدرتی آفات سے متاثر ہو چکے ہیں۔

  • مزنگ میں وکلا کے تشدد سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی موت

    مزنگ میں وکلا کے تشدد سے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کی موت

    لاہور: ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید نے مزنگ کے علاقے میں وکلا کے تشدد کے نتیجے میں شہید ہونے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹر محمد شاہد کے حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایس ایس پی محمد نوید نے جائے وقوعہ اور ڈیڈ ہاؤس کا دورہ کیا اور وہاں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے ڈیڈ ہاؤس میں اے ایس آئی محمد شاہد کی نعش کا ملاحظہ کیا اور اس موقع پر ایس پی سول لائنز کو واقعہ کی فوری انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی۔یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہید ASI محمد شاہد، ایف آئی اے کورٹ کے باہر اشتہاری ملزم عدیل کو گرفتار کر کے لے جا رہے تھے۔ اس دوران 7 سے 8 وکلا کے ایک گروہ نے اشتہاری ملزم کو چھڑانے کے لیے پولیس پارٹی پر حملہ کر دیا۔ ایس ایس پی محمد نوید نے بتایا کہ وکلا کے گروہ نے اسسٹنٹ سب انسپکٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہ شہید ہوگئے۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید نے بتایا کہ وکلا کا گروہ اشتہاری ملزم کو چھڑوا کر فرار ہو گیا۔ فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور شہید ASI محمد شاہد کی نعش کو ڈیڈ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے کہا کہ واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور شہید ASI محمد شاہد کو شہید کرنے والے تمام وکلا کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید نے یقین دہانی کرائی کہ اس مقدمے میں کسی بھی ملوث فرد کو قانون سے بچنے نہیں دیا جائے گا اور تمام ملزمان کو جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

  • اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کی اہم بیٹھک، سیاسی حکمت عملی پر مشاورت

    اسلام آباد میں اپوزیشن اتحاد کی اہم بیٹھک، سیاسی حکمت عملی پر مشاورت

    اسلام آباد: اپوزیشن اتحاد کے سربراہ محمود خان اچکزئی کی رہائشگاہ پر حزب اختلاف کی قیادت کی ایک اہم ملاقات ہوئی جس میں مختلف اپوزیشن رہنما شریک ہوئے۔ یہ بیٹھک ایک عشائیے کی صورت میں ہوئی، جس میں اپوزیشن کے اہم رہنماؤں اور کوآرڈینیشن کمیٹی کے ارکان کو مدعو کیا گیا۔

    عشائیے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمر ایوب، شبلی فراز، اسد قیصر، راجا ناصر عباس، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور دیگر اہم رہنما شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ اجلاس میں جنید اکبر اور شہرام تراکئی بھی موجود تھے۔اجلاس کے دوران اپوزیشن اتحاد کے لیے مجوزہ مسودے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ،اپوزیشن اتحاد کے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پر بھی بات چیت کی گئی، جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی سیاسی حکمت عملی، عام انتخابات کے حوالے سے مشترکہ پالیسی، اور الیکشن کمیشن کے ساتھ رابطہ اور حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

    اس اجلاس میں تمام رہنماؤں نے یکجہتی اور متفقہ حکمت عملی کے تحت اگلے انتخابات کے لیے تیاریوں کو مزید تیز کرنے پر زور دیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اپوزیشن کے اندرونی تعلقات اور تنظیمی سطح پر مضبوط روابط کے ذریعے عوامی مسائل اور حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔

    اجلاس کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں کیا گیا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے ملک میں جاری بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کی مزمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عمران خان سمیت تمام سیاسی اسیران کو فوری طور پر رہا کیا جائے،اپوزیشن رہنماؤں نے اپنی پہلی میٹنگ کے بعد کہے گئے مطالبہ کو دوہرایا کہ ملک میں فوری طور پر شفاف اور آزادانہ انتخابات کراے جائیں، الیکشن کمیشن فوری طور مستعفی ہو اور ایک آزادانہ کمیشن کا قیام عمل میں لایا جائے۔اپوزیشن رہنماؤں نے خیبر پختونخواہ ، بلوچستان سمیت ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وفاقی حکومت لوگوں کے جان و مال کو محفوظ بنانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ اجلاس میں اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ یہ وقت سیاست کا نہیں بلکہ ملک کی بقا کا ہے ۔ ہمیں سیاست سے بالاتر ہو کے ملکی سالمیت کو ترجیح دینا ہو گی،اپوزیشن رہنماؤں نے آئی ایم ایف مشن کے وفد کی چیف جسٹس سے ملاقات پر کہا کہ اس سے قبل اسکی مثال نہیں ملتی۔ اپوزیشن رہنماؤں نے ملک کی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جہاں قانون کی حکمرانی اور عدل کا نظام نہ ہو وہاں معیشت کیسے بہتر ہو سکتی ہے۔ ہمیں مشکلات سے نکلنے کے لیے سب سے پہلے اپنے گھر کو ٹھیک کرنا ہو گا۔

  • لاہور ہائیکورٹ بار  انتخابات،مرکزی مسلم لیگ کا امیدواروں کی حمایت کا اعلان

    لاہور ہائیکورٹ بار انتخابات،مرکزی مسلم لیگ کا امیدواروں کی حمایت کا اعلان

    نائب صدر کیلئے عبدالرحمان رانجھا، سیکرٹری کی سیٹ پر فرخ الیاس چیمہ کی حمایت کا اعلان
    صدر پاکستان مرکزی مسلم لیگ ایڈووکیٹ سپریم کورٹ خالد مسعود سندھو کی زیر صدارت اجلاس میں فیصلہ

    لاہور( ) پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے وکلا ونگ پاک لائرز فورم نےلاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں امیدواروں کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدر، ایڈووکیٹ سپریم کورٹ خالد مسعود سندھو کی زیر صدارت اجلاس ہوا، اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کے نائب صدر حافظ طلحہ سعید، ترجمان تابش قیوم، پنجاب کے صدر محمد سرور چوہدری، سیکرٹری جنرل لاہور مزمل اقبال ہاشمی و دیگر موجود تھے.اجلاس میں لاہور، چونیاں، اوکاڑہ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، کوٹ رادھاکشن سے پاک کشمیر لائرز فورم کے ضلعی و جنرل سیکرٹریزنے شرکت کی، اجلاس میں پاک کشمیر لائرز فورم کے صدر رانا عبدالحفيظ، صدر پنجاب احسن ورک ،جنرل سیکرٹری کامران نصیر عباسی، صدر پاک لائرز فورم ہائیکورٹ مہر عبدالشکور و دیگر نے شرکت کی. اس موقع پر مرکزی مسلم لیگ کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ثاقب اکرم گوندل کی حمایت کا اعلان کیا گیا. پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے لائرز ونگ پاک لائرز فورم نے نائب صدر کیلئے عبدالرحمان رانجھا، سیکرٹری کی سیٹ پر فرخ الیاس چیمہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے،اجلاس میں فیصلہ کیا گیا وکالت کردار کے ساتھ کے سلوگن سے امیدواروں کی بھر پور انتخابی مہم چلائی جائے گی.

    لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے امیدواروں نے انتخابات میں حمایت پر صدر مرکزی مسلم لیگ خالد مسعود سندھو اور پاک لائرز فورم کا شکریہ ادا کیا، خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ مرکزی مسلم لیگ لاہور ہائیکورٹ بار کے انتخابات میں پاک لائرز فورم کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کامیابی کے لئے بھر پور کردار ادا کرے گی.خالد مسعود سندھو نے وکلا سے خطاب کے دوران غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ غزہ فلسطینیوں کا ہے اور اسرائیل سیز فائر کی بار بار خلاف ورزی کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں محض گیدڑ بھبھکیاں ہیں،مرکزی مسلم لیگ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے.امریکی دھمکیوں پر امت مسلمہ خاموش رہنے کی بجائےاتحادو یکجہتی کا مظاہرہ کرے.مغربی ممالک اسرائیل کی پشت پناہی کر کے صرف مشر ق وسطیٰ ہی نہیں پوری دنیا کے امن کو شدید خطرات سے دو چار کر رہے ہیں.پاکستان کی وکلا برادری غزہ کے مظلوم مسلمانوں کا ساتھ ہے.

  • امریکی دھمکیوں پر امت مسلمہ خاموش رہنے کی بجائےاتحادو یکجہتی کا مظاہرہ کرے.خالد مسعود سندھو

    امریکی دھمکیوں پر امت مسلمہ خاموش رہنے کی بجائےاتحادو یکجہتی کا مظاہرہ کرے.خالد مسعود سندھو

    مرکزی مسلم لیگ کے رہنماؤں نے غزہ کی موجودہ صورتحال،ٹرمپ کی دھمکیوں، اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزیوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ فلسطینیوں کا ہے اور اسرائیل سیز فائر کی بار بار خلاف ورزی کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں محض گیدڑ بھبھکیاں ہیں،مرکزی مسلم لیگ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑی ہے.امریکی دھمکیوں پر امت مسلمہ خاموش رہنے کی بجائےاتحادو یکجہتی کا مظاہرہ کرے.مغربی ممالک اسرائیل کی پشت پناہی کر کے صرف مشر ق وسطیٰ ہی نہیں پوری دنیا کے امن کو شدید خطرات سے دو چار کر رہے ہیں

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو، سیکرٹری جنرل سیف اللہ خالد، نائب صدور حافظ طلحہ سعید، عظیم چوہدری اور عظمیٰ گل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ فلسطینیوں نے اپنی آزادی کے لئے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور ان قربانیوں کو تاریخ میں ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا،اسرائیل کی جانب سے سیز فائر کی خلاف ورزی ٹرمپ کی شہہ کی وجہ سے ہے،ٹرمپ کا غزہ پر قبضے کا خواب اور پھر فلسطینیوں کو غزہ میں بسنے سے روکنے کا بیان قابل مذمت ہے، فلسطینیوں کو اپنی سرزمین سے کوئی نہیں نکال سکتا، ڈیڑھ برس تک اسرائیل نے ہر حربہ اختیار کر لیا تھالیکن اپنے قیدی حماس سے نہیں چھڑوا سکا تھا.اب ٹرمپ نیتن یاہو گٹھ جوڑ کے بعد بھی فلسطینیوں کی تحریک آزادی مزید مضبوط ہو گی. فلسطینیوں کو غزہ سے نکالنے کا اسرائیل اور امریکہ کا منصوبہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔

    مرکزی مسلم لیگ کے صدر خالد مسعود سندھو کا کہنا تھا کہ امریکہ کو غزہ کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل افغانستان میں اپنی شکست کو سامنے رکھنا چاہیے۔ فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنا تمام اسلامی ممالک کا فرض ہے اور ان ممالک کو اس حوالے سے بھرپور ردعمل ظاہر کرنا چاہیے تاکہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو فلسطینیوں کی سرزمین سے بے دخل کرنے کے تمام منصوبے ناکام ہوں۔

  • وزیراعظم پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے صدر کا دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے صدر کا دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کا ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے استقبال کیا۔ ملاقات میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر بھی شریک تھے وزیر اعظم ورلڈ گورنمنٹس سمٹ 2025 میں شرکت کے لیے متحدہ عرب امارات کا دورہ کر رہے ہیں۔ یہ سربراہی اجلاس آج سے دبئی میں شروع ہے جس کا موضوع ‘شیپنگ فیوچر گورنمنٹس’ ہے۔

    ابوظہبی میں قصر الشاطی میں ملاقات کے دوران، وزیر اعظم شہباز شریف اور متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا اور باہمی مفادات کی تکمیل کے لائحہ عمل و تعلقات کی مضبوطی پر گفتگو کی۔ ملاقات میں اقتصادی، تجارتی اور ترقی و دیگر شعبوں میں دونوں ممالک کے مابین موجود اشتراک و تعاون پر گفتگو کی گئی جو پائیدار اقتصادی ترقی اور خوشحالی کے لیے دونوں ممالک کے ویژن سے ہم آہنگ ہیں۔

    ملاقات میں گورننس میں عالمی رجحانات کی نشاندہی اور عالمی تبدیلیوں کے چیلینجز سے نمٹنے کیلئے حکومتی تیاریوں کی قابل عمل حکمت عملی پر ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ ملاقات میں ترقیکی رفتار میں اضافے اور سب کے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے ان تبدیلیوں سے استفادہ حاصل کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔

    مزید برآں، دونوں فریقین نے مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیش رفت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے باہمی دلچسپی کے متعدد علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے علاقائی سلامتی، استحکام اور امن کو برقرار رکھنے کے لیے دو ریاستی حل پر مبنی جامع اور دیرپا امن کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔