Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران خان کے خط میں اہم ایشوز،کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،چیف جسٹس

    عمران خان کے خط میں اہم ایشوز،کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی صحافیوں سے ملاقات ہوئی ہے

    صحافیوں سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف وفد کی ملاقات پر بریفنگ کروں گا، بانی پی ٹی آئی کے خط پر بات کروں گا، نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی پر بھی بات کروں گا، میں نے آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، میں نے وفد کو بتایا یہ ہمارا کام نہیں ہے آپکو ساری تفصیل بتائیں، میں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، میں نے وفد کو بتایا ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں،وفد نے کہا معاہدوں کی پاسداری، اور پراپرٹی حقوق بارے ہم جاننا چاہتے ہیں،میں نے جواب دیا اس پر اصلاحات کر رہے ہیں،عمران خان کے خط میں اہم ایشوز ہیں میں نے خط پڑھا ہے، عمران خان کے خط کو کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،

    نیشنل جوڈیشل پالیسی کے لئے میں نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو دعوت دی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے لئے میں نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کودعوت دی ہے،مجھے وزیراعظم کا خط بھی آیا،وزیراعظم کو اٹارنی جنرل کے ذریعے سلام کا جواب بھجوایا، وزیراعظم کو پیغام دیا کہ انکے خط کا جواب نہیں دوں گا،اپوزیشن لیڈر سے بھی رابطہ کیا ہے،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو سپریم کورٹ مدعو کیا ہے ہم نےحکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کیلئے ایجنڈا مانگا ہے،پاکستان ہم سب کا ملک ہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کابھی خط آیا ہے،عمران خان ہم سے جو چاہتے ہیں، وہ آرٹیکل 184 کی شق تین سے متعلق ہیں،میں نے کمیٹی سے کہا اس خط کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں،تحریک انصاف کے بانی کا خط ججز آئینی کمیٹی کوبھجوایا ہے، وہ طے کریں گے، یہ معاملہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت آتا ہے، اسے آئینی بنچ نے ہی دیکھنا ہے۔

    خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں،انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا،چیف جسٹس
    صحافی نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خط کو ججز آئینی کمیٹی کو بھیجنے کیلئے کن وجوہات یا اصولوں کو مدنظر رکھا گیا؟عدلیہ میں اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کیا اقدامات کریں گے؟چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں،انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا،پرانی چیزیں ہیں آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔میں نے ججز سے کہا سسٹم کو چلنے دیں، سسٹم کو نہ روکیں،میں نے کہا مجھے ججز لانے دیں،میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ لانے کا حامی ہوں۔

    قبل ازیں ذرائع کا کہناتھا کہ چیف جسٹس پاکستان سے آئی ایم ایف وفد نے ملاقات کی۔ چیف جسٹس سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی، چیف جسٹس نے عدالتی نظام، اصلاحات سے متعلق وفد کو آگاہ کیا، ملاقات میں ججز تقرری اور آئینی ترمیم پر بھی بات چیت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے بعد آئی ایم ایف کا وفد سپریم کورٹ سے روانہ ہو گیا۔

    اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام بھی آئی ایم ایف وفد کے ہمراہ تھے۔

  • وزیراعظم سے   سلطان احمد بن سلیم، گروپ چیئرمین اور سی ای او، ڈی پی ورلڈ کی ملاقات

    وزیراعظم سے سلطان احمد بن سلیم، گروپ چیئرمین اور سی ای او، ڈی پی ورلڈ کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلیم کی دبئی میں ملاقات ہوئی۔

    وزیر اعظم نے ڈی پی ورلڈ کے وفد کے پاکستان کے حالیہ کامیاب دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ڈی پی ورلڈ کے درمیان بامعنی سرمایہ کاری کے اشتراک کا باعث بنا، جو خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی سرگرمیوں و تعاون سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں ڈی پی ورلڈ کی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے تجارت اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں ان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے ڈی پی ورلڈ کے ساتھ دستخط کیے گئے بین الحکومتی معاہدوں (IGAs) کے تحت منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے پاکستان نے سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو مزید سہل، شفافیت کو فروغ اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنایا ہے، جس سے پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بن گیا ہے۔

    وزیراعظم نے ڈی پی ورلڈ کے وژن اور کاروباری حکمت عملی کو سراہا، جو پاکستان کی معاشی امنگوں سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع ڈی پی ورلڈ کے لیے اپنے آپریشنز کو بڑھانے اور پاکستان میں جبل علی بندرگاہ جیسے کامیاب منصوبوں کی تقلید کا ایک مثالی موقع فراہم کرتا ہے۔

    ڈی پی ورلڈ گروپ کے چیئرمین نے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے میں حکومت پاکستان کی مسلسل حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ڈی پی ورلڈ کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ پاکستانی مصنوعات کی متحدہ عرب امارت میں برآمدات کے فروغ کیلئے ڈی پی ورلڈ نے ایک خصوصی نمائشی ہال مختص کیا ہے جس کی بدولت اماراتی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور انکی تشہیر کے مواقع میسر ہونگے. وزیرِ اعظم نے ڈی پی ورلڈ کے اس اقدام کو سراہا.

    وزیراعظم پاکستان کی بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کی چیئرپرسن برائے صدارت سے ملاقات
    وزیراعظم محمد شہبازشریف اور بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کی چیئرپرسن برائے صدارت Željka Cvijanović کی دبئی، متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک کے مابین تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات کو باہمی طور پر مفید تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر مبنی ایک مضبوط و وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی پاکستان کی خواہش اظہار کیا۔ بوسنیا اور ہرزیگوینا کے لیے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ بوسنیا اور ہرزیگوینا کی بطور علاقائی روابط کے مرکز کی بے پناہ صلاحیت اور مستقبل میں یورپی یونین کی رکنیت بوسنیا اور ہرزیگوینا کے راستے پاکستانی اشیاء کے بلقان اور مشرقی یورپی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرے گی۔

    بوسنیا اور ہرزیگوینا کی چیئرپرسن برائے صدارت نے پاکستان کی جانب سے نیک خواہشات پر وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بوسنیا اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں بالخصوص تجارت و سرمایہ کاری میں فروغ کی خواہش کا اظہار کیا. دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ کے لیے مل کر کام کرنے روابط کی مضبوطی پر اتفاق کیا۔

  • ڈرل مشین چلا کر بچوں کو خوفزدہ کر کے مدرسہ معلم کی طلبا سے بدفعلی

    ڈرل مشین چلا کر بچوں کو خوفزدہ کر کے مدرسہ معلم کی طلبا سے بدفعلی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، مدرسے کے اساتذہ نے 9 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کی، بچے کو ڈرانے کے لئے ڈرل مشین چلا کر دکھاتے رہے اور ڈرا کر بار بار بدفعلی کا نشانہ بناتے رہے.

    واقعہ لاہور میں فیکٹری ایریا کے علاقے میں پیش آیا مدرسے کے اساتذہ نے 9 سالہ بچے کے ساتھ کئی بار بدفعلی کی،قاری احسن اور قاری نعمان ڈرِل مشین چلا کر بچے کو ڈرا کر بدفعلی کا نشانہ بناتے رہے،بچے نے گھر بتایا تو والدشہباز علی تھانے پہنچے اور مقدمہ درج کروایا. پولیس نے مدرسہ معلم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا.

    دوسری جانب لاہور میں اچھرہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے معلم کی جانب سے 10 سالہ طالب علم کو ورغلا کر زیادتی کی کوشش میں گرفتار کیا ہے،10 سالہ ریحان شاہ جمال مدرسے میں پڑھنے جاتا تھا، جس سے معلم رمضان نے زیادتی کی کوشش کی۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے جینڈر سیل کے حوالے کردیا تھا۔

  • کرم:  امن معاہدے پر عملدرآمد، مزید 25 بنکرز گرا دیے گئے

    کرم: امن معاہدے پر عملدرآمد، مزید 25 بنکرز گرا دیے گئے

    ضلع کرم میں امن معاہدے کے تحت ضلعی انتظامیہ نے مزید 25 بنکرز کو گرا دیا ہے، جس کے بعد ان بنکرز کی مجموعی تعداد 80 ہو گئی ہے۔

    یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے ایک حصے کے طور پر اٹھائے گئے ہیں، جس کا مقصد علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہے۔ بنکرز کا گرا دیا جانا ایک اہم قدم ہے جس سے دہشت گردوں کے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور علاقے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

    لوئر کرم کے 14 شہداء کے ورثا میں 10 لاکھ روپے فی کس کے امدادی چیک بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ یہ امدادی چیک ان خاندانوں کے لئے دیے گئے ہیں جن کے افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہو گئے تھے۔ اس اقدام کا مقصد شہداء کے اہل خانہ کی مالی مدد کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ہے۔ اب تک دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں میں 6 کروڑ روپے سے زائد کی امداد فراہم کی جا چکی ہے، جس سے ان خاندانوں کی زندگیوں میں قدرے سکون آیا ہے۔

    یہ اقدامات کرم میں امن و خوشحالی کے قیام کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مزید اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ علاقے میں امن کو مستحکم کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔

  • سیف علی خان کا سیکورٹی لینے سے انکار

    سیف علی خان کا سیکورٹی لینے سے انکار

    ممبئی: بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے گزشتہ ماہ اپنے اپارٹمنٹ میں ہونے والی ڈکیتی کے بعد سکیورٹی کی فراہمی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    سیف علی خان کے باندرہ واقع اپارٹمنٹ میں جب گزشتہ ماہ ڈکیتی کی کوشش کی گئی تھی، تو اداکار نے بہادری سے مزاحمت کی اور چوروں کے ارادے کو ناکام بنا دیا تھا، تاہم اس دوران وہ زخمی بھی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد، بھارتی میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ بالی وڈ اداکار رونت رائے کی سکیورٹی ایجنسی سیف علی خان کو سکیورٹی فراہم کرے گی اور اس مقصد کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔

    ان اطلاعات کے بعد، سیف علی خان نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سکیورٹی نہ لینے کی وجہ بتائی۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے کبھی بھی سکیورٹی پر یقین نہیں کیا، میں کبھی بھی سکیورٹی گارڈز کے ساتھ نہیں چلنا چاہتا۔” سیف علی خان کا کہنا تھا کہ "مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوگا اور میں اب بھی نہیں چلوں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ مجھ پر حملہ ہے اور میں کسی بھی خطرے میں نہیں ہوں۔ یہ ایک غلطی ہے جو ہوئی ہے۔”

    اداکار نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس وقت کسی قسم کے خطرے میں نہیں ہیں اور ان کے لیے سکیورٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ سیف علی خان کے گھر پر ڈکیتی کرنے والا شخص بنگلادیشی شہری ہے، جو کہ قومی سطح کا کبڈی کھلاڑی ہے اور فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔یہ واقعہ نہ صرف سیف علی خان کے لیے، بلکہ بالی وڈ کی دنیا کے لیے بھی حیرانی کا سبب بن گیا ہے۔ سیف علی خان کی جانب سے سکیورٹی لینے سے انکار نے ان کے پرستاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا سکیورٹی کی ضرورت واقعی ہے یا یہ صرف ایک ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

  • لیبیا کشتی حادثہ، سات پاکستانیوں کی موت کی تصدیق

    لیبیا کشتی حادثہ، سات پاکستانیوں کی موت کی تصدیق

    لیبیا میں پاکستانیوں سمیت 65 تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک اور کشتی کو گزشتہ روز ایک ہولناک حادثہ پیش آیا ہے جس میں 7 پاکستانیوں کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق، جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے، جن میں 6 افراد ضلع کرم اور 1 شخص کا تعلق باجوڑ سے ہے۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت ان کے پاسپورٹس کی مدد سے کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس حادثے میں 16 پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ طرابلس میں پاکستان کے سفارت خانے نے مطلع کیا ہے کہ ایک بحری جہاز، جس میں تقریباً 65 مسافر سوار تھے، لیبیا کے زاویہ شہر کے شمال مغرب میں واقع مارسا ڈیلا کی بندرگاہ کے قریب الٹ گیا۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستانی سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ٹیم زاویہ اسپتال روانہ کی ہے تاکہ مرنے والوں کی شناخت کے عمل میں مقامی حکام کی مدد کی جا سکے۔اس حادثے نے ایک بار پھر تارکینِ وطن کی حالتِ زار اور غیر قانونی راستوں پر سفر کرنے والے افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔

    امریکا، دو چھوٹے طیارے آپس میں ٹکرا گئے،ایک شخص ہلاک

    انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں.وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لیبیا کے ساحل پر کشتی کے حادثے اور اس میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،وزیراعظم نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی ء درجات کی دعاء کی،وزیراعظم نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی،وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ،وزیراعظم نے وزارت خارجہ حکام کو جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت جلد از جلد مکمل کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی ہدایت کی اور کہا کہ انسانی اسمگلنگ جیسے مکروہ عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی ماس حوالے سے کسی بھی قسم کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ، انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں.

  • امریکا، دو چھوٹے طیارے آپس میں ٹکرا گئے،ایک شخص ہلاک

    امریکا، دو چھوٹے طیارے آپس میں ٹکرا گئے،ایک شخص ہلاک

    امریکا میں فضائی حادثات کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ صرف 12 دنوں کے اندر چوتھا فضائی حادثہ رونما ہوگیا، اور اس بار ایریزونا کے اسکاٹسڈیل ایئرپورٹ پر دو طیارے آپس میں ٹکرا گئے جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک ہوگیا۔

    یہ حادثہ اسکاٹسڈیل ایئرپورٹ پر پیش آیا، جہاں ایک نجی جیٹ طیارہ رن وے پر کھڑے ایک طیارے سے ٹکرا گیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق، حادثے میں جیٹ طیارے کا پائلٹ ہلاک ہوگیا، اور طیارے کی مالکن شدید زخمی ہو گئی۔ایئرپورٹ کی فضائی منصوبہ بندی اور رابطہ کار کیلی کیوسٹر کے مطابق، یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک کاروباری طیارہ جس کا سائز درمیانہ تھا، کھڑے ہوئے طیارے سے جا ٹکرایا۔ کیوسٹر نے مزید کہا کہ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ جیٹ طیارے کا پرائمری لینڈنگ گیئر کام نہیں کر رہا تھا، جس کی وجہ سے طیارہ اپنا توازن برقرار نہیں رکھ سکا اور کھڑے طیارے سے ٹکرا گیا۔

    یہ جیٹ طیارہ ٹیکساس سے آرہا تھا اور اس میں چار افراد سوار تھے، جبکہ پارک شدہ طیارے میں ایک شخص موجود تھا۔ ایئرپورٹ کے رن وے کو حادثے کے فوراً بعد بند کر دیا گیا، اور ایمرجنسی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔اسکاٹسڈیل فائر ڈیپارٹمنٹ کے کیپٹن ڈیو فالیو نے بتایا کہ زخمی ہونے والے دو افراد کو قریبی ٹراما سینٹر منتقل کیا گیا ہے، جن میں سے ایک کی حالت مستحکم ہے، جبکہ حکام ہلاک ہونے والے شخص کی لاش کی تلاش کر رہے ہیں۔

    امریکا میں گزشتہ ماہ میں تین بڑے فضائی حادثات بھی ہوئے، جن میں سے ایک 3 فروری کو ہیوسٹن سے نیویارک جانے والی یونائیٹڈ ایئرلائنز کی پرواز کا انجن آگ لگنے سے متعلق تھا، جس کے نتیجے میں پرواز کو فوراً خالی کرایا گیا،یکم فروری کو فلڈیلفیا میں روزویلٹ مال کے قریب ایک لیر جیٹ 55 طیارہ گر کر تباہ ہوگیا، جس کا مقصد اسپرنگ فیلڈ برینسن نیشنل ایئرپورٹ پہنچنا تھا،سب سے بھیانک حادثہ 30 جنوری کو پیش آیا، جب واشنگٹن ڈی سی میں ریگن نیشنل ایئرپورٹ کے قریب امریکی ایئرلائنز کے طیارے اور ایک ہیلی کاپٹر کے درمیان تصادم ہوا۔ اس حادثے کے نتیجے میں دونوں طیارے فضا میں ٹکرا کر دریامیں جا گرے، اور اس میں سوار تمام 67 افراد ہلاک ہوگئے،یہ فضائی حادثات امریکا میں ایئر ٹریفک کے حوالے سے تشویش کو جنم دے رہے ہیں اور حکام کی جانب سے فضائی حفاظت کے معیار کو مزید سخت کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

    گزشتہ روز عدالت نہ پہنچنے پر سلمان اکرم راجہ کی آئینی بینچ سے معذرت

    غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا،ٹرمپ کی دھمکی

  • گزشتہ روز عدالت نہ پہنچنے پر سلمان اکرم راجہ کی آئینی بینچ سے معذرت

    گزشتہ روز عدالت نہ پہنچنے پر سلمان اکرم راجہ کی آئینی بینچ سے معذرت

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی، ملٹری کورٹ سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل کنندہ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے گزشتہ روز عدالت نہ آنے کے حوالے سے کہا کہ کل کے لیے معذرت، ٹریفک میں پھنسنے کے باعث سپریم کورٹ نہیں پہنچ سکا تھا۔جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس نے عدالت پہنچنا تھا وہ تو پہنچ گیا تھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل سلمان اکرم راجہ کو ہدایت کی کہ کوشش کریں آج دلائل مکمل کر لیں،وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میں کل تک دلائل مکمل کر لوں گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز وکلاء کی عدم حاضری کے باعث بغیر کارروائی کے سماعت ملتوی کر دی گئی تھی، سلمان اکرم راجہ ٹریفک میں پھنس جانے کی وجہ سے عدالت نہ پہنچ سکے تھے.

    جلاؤ گھیراؤ، توڑپھوڑ فیشن بن چکا ہے،ایک گھر میں گھس کر ٹی وی سکرینوں پر ڈنڈے مارے گئے،بنگلہ دیش میں بھی یہی کچھ ہوا، جسٹس حسن اظہر رضوی
    وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ مرکزی فیصلے میں کہا گیا آرٹیکل 175کی شق 3سے باہر عدالتیں قائم نہیں ہو سکتیں،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سروس معاملات میں ابتدائی سماعت محکمانہ کی جاتی ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ9مئی واقعات کی فوٹیج ٹی وی چینلز پر بھی چلائی گئی،کور کمانڈر ہاؤسز میں گھس کر توڑ پھوڑ کی گئی،آج کل جلاؤ گھیراؤ، توڑپھوڑ فیشن بن چکا ہے،ایک گھر میں گھس کر ٹی وی سکرینوں پر ڈنڈے مارے گئے،بنگلہ دیش میں بھی یہی کچھ ہوا، شام میں بھی لوٹ مار کی گئی، یہ کلچر بن چکا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ کسی شہری کے گھر میں گھسنا بھی جرم ہے،سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آرمی آفیسرز پر بھی آرٹیکل 175 کی شق تین کا اطلاق ہونا چاہیے۔

    جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیتےہوئے کہا کہ ملک میں 1973 کا آئین بنا،18ویں ترمیم میں مارشل لاء ادوار کے تمام قوانین کا جائزہ لیا گیا،وہ کام جو پارلیمنٹ کے کرنے کا ہے، وہ سپریم کورٹ سے کیوں کروانا چاہتے ہیں اگر کوئی ملٹری آفیسر آیا تو اس سوال کا جائزہ لیں گے،آپ کیس کے اختیار سماعت سے باہر نہ نکلیں،بھارت کی مثال دے رہے ہیں وہاں پارلیمنٹ کے ذریعے قانون میں تبدیلی کی گئی،جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیئے کہ کیا دنیا میں کبھی کہیں کور کمانڈرز ہاؤسز پر حملے ہوئے،سلمان اکرم راجہ نے کہاکہ جی ہوئے ہیں اسکی مثالیں بھی دون گا۔

  • آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا سرکاری افسران کے اثاثوں کی تفصیلات ظاہر کرنے کا مطالبہ

    پاکستان کی حکومت کو فروری 2025 کے آخر تک آئی ایم ایف کے ساختیاتی معیارات (اسٹرکچرل بینچ مارک کے تقاضے) کی تعمیل کے لیے سول سرونٹس ایکٹ میں ضروری ترامیم کرنی ہوں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری افسران کے اثاثے شفاف طریقے سے ظاہر کیے جا سکیں۔ اس کے تحت، گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری عہدیداروں کے اثاثے ڈیجیٹل طور پر فائل کیے جائیں گے اور عوامی سطح پر ان تک رسائی فراہم کی جائے گی، جس کے لیے پارلیمنٹ سے منظور شدہ قانونی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔

    آئی ایم ایف نے اپنے گورننس اور کرپشن ڈائیگنوسٹک اسیسمنٹ میں کہا ہے کہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی میں کرپشن، سرخ فیتہ (بیوروکریٹک رکاوٹیں) اور کمزور کاروباری ماحول بنیادی مسائل ہیں۔ یہ رپورٹ ایک تکنیکی مشن کی شکل میں آئی ایم ایف نے پاکستانی حکام سے پیر کے روز فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ ورچوئل ملاقات میں تیار کی۔ آئی ایم ایف نے پاکستان میں کرپشن اور گورننس کی بہتری کے لیے مزید اصلاحات کی تجویز پیش کی۔حکومت نے آئی ایم ایف سے اتفاق کیا ہے کہ سول سرونٹس ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی تاکہ اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں کی فائلنگ اور عوامی رسائی کی بہتر سسٹم بنایا جا سکے۔ ایف بی آر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ان اثاثوں کی معلومات رازداری کے تحفظات کے ساتھ ڈیجیٹل فارم میں رکھی جائیں۔ یہ معلومات سرکاری عہدیداروں اور ان کے اہل خانہ کے اثاثوں پر محیط ہوں گی۔مزید برآں، حکومت نے اقوام متحدہ کے کنونشن اگینسٹ کرپشن (UNCAC) کے تحت اپنی تعمیل کی رپورٹ ستمبر 2024 کے آخر تک جاری کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

    حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر نیب کے اختیارات میں مزید بہتری کے لیے ضروری ترامیم پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کی آزادانہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی ہے۔ اسی طرح، صوبائی اینٹی کرپشن اداروں کو بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات کے لیے اختیارات دیے جائیں گے، تاکہ منی لانڈرنگ اور مالیاتی کرائمز کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جا سکیں۔

    ایف بی آر کے ذریعے ایک نیا ڈیجیٹل پورٹل ستمبر 2024 کے آخر تک لانچ کیا جائے گا جس کے ذریعے بینکوں کی درخواستوں پر بروقت کارروائی کی جا سکے گی۔ اس کے علاوہ، بینکوں کو اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے اثاثوں تک رسائی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے قوانین پر عمل کر سکیں۔

    پاکستانی حکام نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ملک میں شفافیت، احتساب اور کرپشن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے حکومت کی کوشش ہے کہ کاروباری و سرمایہ کاری کے لیے ایک بہتر اور شفاف ماحول فراہم کیا جا سکے، تاکہ اقتصادی ترقی کو مزید تقویت مل سکے۔

    غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا،ٹرمپ کی دھمکی

    2025 کیلئے دنیا کے طاقتورترین ممالک کی فہرست جاری

  • غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا،ٹرمپ کی دھمکی

    غزہ جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا،ٹرمپ کی دھمکی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی، غزہ جنگ بندی معاہدے کی صورتحال خطرے میں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی یرغمالیوں کو ہفتے کے دن 12 بجے تک رہا نہ کیا گیا، تو غزہ میں جنگ بندی معاہدہ ختم کر دیا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر حماس نے اس وقت تک یرغمالیوں کو رہا نہیں کیا، تو وہ اس جنگ بندی معاہدے کو منسوخ کرنے کا اعلان کر دیں گے۔

    ٹرمپ نے پیر کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر یرغمالیوں کی رہائی میں مزید تاخیر کی گئی تو "صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس صورت میں غزہ میں سیز فائر کا معاہدہ ہفتے کے دن ختم ہو جائے گا۔امریکی صدر نے اردن اور مصر کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ دونوں ممالک پناہ گزینوں کو اپنے ہاں نہیں آنے دیتے، تو امریکہ ان ممالک کی مالی امداد بند کر سکتا ہے۔ ٹرمپ کا خیال تھا کہ اردن پناہ گزینوں کو لینے کے لیے تیار ہو جائے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو دونوں ممالک کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    پیر کو اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کو غیر معینہ مدت تک ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ حماس کے عسکری ونگ "القسام بریگیڈز” کے ترجمان ابو عبیدہ نے اس بات کا اعلان کیا کہ اس فیصلے کا مقصد اسرائیل کی خلاف ورزیوں کے جواب میں ہے۔

    گزشتہ ماہ قطر، امریکا اور مصر کی ثالثی میں حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد غزہ میں 15 ماہ سے جاری جنگ رک گئی تھی۔ تاہم، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کے اعلان اور اسرائیل کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد اب جنگ بندی معاہدہ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے غزہ منصوبے کے حوالے سے ایک اور اہم اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو غزہ واپس آنے کا حق نہیں دیا جائے گا کیونکہ غزہ میں رہائش کے لیے حالات مناسب نہیں ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ غزہ کے باہر فلسطینیوں کے لیے چھ مختلف جگہوں پر نئے رہائشی علاقے بنائے جائیں گے، جو محفوظ اور جدید ہوں گے۔ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ اگر فلسطینیوں کو غزہ واپس بھی آنا ہو، تو اس میں کئی سال لگیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے خطے میں استحکام آئے گا اور فلسطینیوں کے لیے زیادہ محفوظ اور بہتر زندگی کے مواقع فراہم ہوں گے۔

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ جنگ کے اختتام کے بعد غزہ کی پٹی اسرائیل کے ذریعے امریکا کے حوالے کر دی جائے گی۔ ٹرمپ کے مطابق، فلسطینیوں کے لیے اس خطے میں نئے اور بہتر گھروں کے ساتھ نئے کمیونٹیز بنائی جائیں گی، اور اس کے لیے امریکی فوج کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد غزہ کی صورتحال نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس وقت فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کی بقا خطرے میں ہے، اور اس تمام معاملے میں امریکی صدر کی پالیسیوں کے نتائج خطے میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔