Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • لیبیا  کشتی حادثہ: 73 افراد میں سے 63 پاکستانی، 7   کی ہلاکت کی تصدیق

    لیبیا کشتی حادثہ: 73 افراد میں سے 63 پاکستانی، 7 کی ہلاکت کی تصدیق

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور میں منگل کو وزارت خارجہ کے حکام نے لیبیا میں حالیہ کشتی حادثے کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں، جس میں 73 افراد سوار تھے، جن میں سے 63 کا تعلق پاکستان سے ہے۔

    وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق، یہ 63 پاکستانی زیادہ تر خیبرپختونخوا کے علاقوں کرم اور باجوڑ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اس کشتی میں 10 بنگلہ دیشی بھی سوار تھے۔دفتر خارجہ کے ڈی جی کرائسز مینجمنٹ شہزاد حسین نے اجلاس میں کہا کہ لیبیا میں کشتی ڈوبنے کے اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حادثے میں بچ جانے والے تین پاکستانیوں نے پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے، اور ان سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

    اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی شناخت بھی سامنے آ گئی ہے۔ امیگریشن ذرائع کے مطابق، ان میں سے چھ مسافر مختلف پاکستانی ایئرپورٹس سے سعودی عرب، مصر، اور متحدہ عرب امارات کی طرف روانہ ہوئے تھے، جبکہ ایک مسافر تافتان بارڈر سے ایران گیا تھا۔

    جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کے نام:
    ثقلین حیدر – کراچی ایئرپورٹ سے 9 فروری 2024ء کو سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔
    عابد حسین – 25 نومبر 2024ء کو کوئٹہ ایئرپورٹ سے مصر روانہ ہوئے تھے۔
    سراج الدین – 31 دسمبر 2022ء کو پشاور ایئرپورٹ سے سعودی عرب گئے تھے۔
    سید شہزاد حسین – 25 دسمبر 2024ء کو اسلام آباد ایئرپورٹ سے سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔
    شعیب علی – 19 نومبر 2024ء کو فیصل آباد ایئرپورٹ سے سعودی عرب روانہ ہوئے تھے۔
    مسرت حسین – 20 ستمبر 2024ء کو کوئٹہ ایئرپورٹ سے متحدہ عرب امارات روانہ ہوئے تھے۔
    شعیب حسین – 10 جنوری 2025ء کو تافتان بارڈر سے ایران روانہ ہوئے تھے۔
    واضح رہے کہ یہ تمام افراد اس کشتی میں سوار تھے جو حالیہ دنوں میں لیبیا میں حادثے کا شکار ہوئی۔ اس حادثے کی وجہ سے پاکستانی حکام نے اپنے شہریوں کے تحفظ اور ان کی فوری امداد کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔

  • اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق بل منظور

    اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق بل منظور

    قومی اسمبلی میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے سے متعلق بل منظور کر لیا گیا۔ یہ بل رومینہ خورشید عالم کی طرف سے پیش کیا گیا جس میں اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہیں اور دیگر مراعات بڑھانے کی تجویز دی گئی تھی۔

    اجلاس کے دوران اپوزیشن کی طرف سے شدید شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن ارکان نے بل کے متن پر سوالات اٹھائے اور اسے عوامی مفاد کے خلاف قرار دیا۔ ان کا موقف تھا کہ جب عوام اقتصادی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے وقت میں پارلیمنٹ کے اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ مناسب نہیں ہے۔

    دریں اثنا، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن شاہد خٹک نے اجلاس کے دوران کورم کی نشاندہی کی، جس کی وجہ سے اجلاس میں وقفہ کر دیا گیا۔ شاہد خٹک نے کہا کہ جب تک تمام اراکین ایوان میں موجود نہیں ہوتے، اجلاس کی کارروائی آگے نہیں بڑھنی چاہیے۔

    دوسری جانب، عوامی حلقوں میں اس بل پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ افراد اسے پارلیمنٹ کے اراکین کی فلاح کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، جبکہ دیگر اس کو عوامی پیسوں کا غلط استعمال قرار دے رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کے تقرر سے متعلق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے خطوط لکھ دیئے ہیں ، ایاز صادق کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور حکومت سے پارلیمانی کمیٹی کے لیے نام مانگے ہیں، پتہ چلا ہے آج کسی جج نے پارلیمان کی تباہی جیسے ریمارکس دیئےہیں ،کسی کو بھی پارلیمان سے متعلق ایسی بات کرنے کا اختیار نہیں،ان کے مطابق 2013 میں بھی جعلی پارلیمان تھا ،2018میں پارلیمان ٹھیک تھا اور2024 میں پھر جعلی ہو گیا.

  • عدلیہ سمیت تمام ادارے ہوا میں ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی

    عدلیہ سمیت تمام ادارے ہوا میں ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی

    اسلام آباد ہائیکورٹ ،سی ایس ایس 2024کے نتائج جاری کرنے سے پہلے نئے امتحانات روکنے کی درخواست پرسماعت ہوئی،

    چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن اختر نواز ستی عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے چیئرمین ایف پی ایس سی سے استفسار کیا کہ آپ کا کیا نام ہے؟ اور آپ کب ایف پی ایس سی کے چیئرمین بنے،چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کہا کہ میرا نام اختر نواز ستی ہے اور میں 9 اکتوبر 2024 کو میں ایف پی ایس سی کا چیئرمین بنا،عدالت نے ریمارکس دیئے کہ طلبا کو سی ایس ایس امتحانات کا فیصلہ کرنے سے پہلے نیا امتحان لینے پر تحفظات ہیں اور معاملہ ایف پی ایس سی کے پاس بھیجا تھا لیکن وہ آپ نے مسترد کر دیا،اختر نواز ستی نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے کمیشن کو جوائن کرنے سے پہلے سی ایس ایس 2025 کا اعلان کیا جا چکا تھا اور اگر سال 2025 کا امتحان ملتوی کیا جاتا ہے تو کئی سالوں کا شیڈول متاثر ہو گا۔ یہ ملتوی ہوا تو آئندہ سالوں میں امتحانات میں حصہ لینے والے طلبا متاثر ہوں گے جبکہ اس مرتبہ اسپیشل سی ایس ایس امتحان لیا گیا اس لیے نتائج چند ماہ تاخیر کا شکار ہوئے،انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ درخواست مسترد کر دی جائے تاکہ ہم امتحان لے سکیں۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کبھی ایسا ہوا کہ سی ایس ایس کے آئندہ امتحان کے بعد پچھلے نتائج نکالے گئے ہوں؟ سی ایس ایس کے ایک امتحان کا خرچہ کیا آتا ہے؟چیئرمین ایف پی ایس سی نے کہا کہ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا اور کوئی مخصوص اعداد و شمار میرے پاس نہیں ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 15 فروری سے امتحانات کا آغاز ہونے جا رہا ہے اور قانون ایف پی ایس سی کو اجازت دیتا ہے کہ اگر پچھلا نتیجہ نہ آئے تو اگلا امتحان لیا جا سکتا ہے۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ رزلٹ نہ آئے تو امتحان دیتے رہیں اور 2026 میں بھی دیدیں، 2027 میں بھی دے دیں اگر 15 دن پہلے بھی نتائج کا اعلان کر دیا جاتا تو یہ طلبا یہاں نہ کھڑے ہوتے اور طلبا نے تو یہ بھی دیکھنا تھا کہ کس سبجیکٹ میں کمزور ہیں، وہ تبدیل کر لیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ طلبا کو تو پھر سبجیکٹ چُننے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا اور میں نے چیئرمین کو طلب کیا تو لگ رہا تھا کہ کہہ دینگے کل نتائج کا اعلان کر رہے ہیں۔ اختیار اتھارٹی کے پاس ہوتا ہے اس لیے معاملہ کمیشن کو بھیجا تھا اور طلبا کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں اس معاملے کو کوئی نہیں دیکھ رہا۔ مجھے امید تھی کہ آپ آ کر کہتے کہ ہم آج رات نتائج کا اعلان کر رہے ہیں۔

    چیئرمین ایف پی ایس سی نے مؤقف اختیار کیا کہ میں اگر کر سکتا ہوتا تو میں کر دیتا لیکن یہ ممکن نہیں ہے، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ پھر جو آپ کے پاس اختیار تھا وہ آپ کو بھیجا تھا وہ کر لیتے،اختر نواز ستی نے کہا کہ کمیشن نے بیٹھ کر وسیع مفاد میں فیصلہ کیا کہ امتحان وقت پر لیا جائےاور سی ایس ایس 2024 کے نتائج کا اعلان اپریل کے آخری ہفتے میں کر دیا جائے گا۔ تاہم ہم کوشش کریں گے کہ اگر اس سے بھی کچھ پہلے ہو سکا تو کر لیں گے۔

    عدالت نے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں ان درخواست گزاروں کو پروٹیکشن کیسے دے رہے ہیں؟۔آپ نے عدالت میں نتائج سے متعلق ایک لفظ نہیں بولا۔چیئرمین فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے کہا کہ 2024 کے امتحانات کے نتائج کا اعلان اپریل 2025 میں کیا جائے گا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ اگر آپ آج کہتے کہ ہم نتائج کا اعلان کر رہے ہیں ہم درخواست نمٹا دیتے۔

    چیئرمین ایف پی ایس سی نے کہا کہ سی ایس ایس سمیت ایف پی ایس سی ایک سال میں 9 امتحانات لے رہا ہے،ایف پی ایس سی میں 10 سے 15 فیصد امتحانات سی ایس ایس کے باقی 85 فیصد دوسرے امتحانات ہیں۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ آج جو درخواست گزار ہیں شائد 2027 میں وہ نہ ہوں۔رزلٹس لینا آپ کا حق ہے اور ایف پی ایس سی اسکو روک نہیں سکتی۔عدالت نے وکیل درخواست گزار سے استفسار کیا کہ رزلٹس کے ٹائم لائن لینا کونسا حق ہے؟ درخواست گزار ہی ملک کے مستقبل کو سنبھالیں گے،45 سال سے زیادہ عمر والا ہر شخص میری طرح ایگزاسٹ کر چکا ہے،پارلیمنٹ ، جوڈیشری اور ایگزیکٹو سب کلیپس کر چکے ہیں۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ عدلیہ ریاست کا چوتھا ستون ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کا ستون تو ہوا میں لٹک رہاہے،عدلیہ سمیت تمام ادارے ہوا میں ہیں۔موجودہ صورتحال کے باوجود پھر بھی مایوس نہیں ہیں۔

    بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ایس ایس امتحانات کے نتائج سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا،

  • ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پر سیشن انڈیکس 2024 کی رپورٹ جاری

    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پر سیشن انڈیکس 2024 کی رپورٹ جاری

    ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے کرپشن پر سیشن انڈیکس 2024 کی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس کے مطابق پاکستان دنیا کا 46واں کرپٹ ترین ملک بن گیا ہے۔ 180 ممالک کی درجہ بندی میں پاکستان کا 135واں نمبر ہے، جو کہ گزشتہ سال 2023 میں 133واں تھا۔

    رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں 2024 کے دوران کرپشن میں مزید اضافہ ہوا ہے اور اس کی درجہ بندی میں 2 درجے مزید تنزلی آئی ہے۔ پاکستان کا اسکور 100 میں سے 27 ہو گیا ہے، جو کہ گزشتہ سال 2023 میں 28 تھا۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عالمی رینک میں کمی آئی ہے، اور اس کی کرپشن کی سطح مزید بڑھ گئی ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ کرپشن پر سیشن انڈیکس کے ڈیٹا جمع کرنے کے لیے 8 مختلف ذرائع استعمال کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں ورائٹیر آف ڈیموکریسی پروجیکٹ، اکنامکس انٹیلی جنس یونٹ، اور ورلڈ اکنامک سروے کے ڈیٹا کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں پاکستان کی تنزلی دیکھی گئی ہے۔ خاص طور پر اکنامکس انٹیلی جنس یونٹ کا اسکور 20 سے کم ہو کر 18 ہو گیا ہے، جبکہ ورلڈ اکنامک سروے میں بھی پاکستان کی کارکردگی میں بڑی کمی آئی ہے۔

    سب سے کم کرپٹ ممالک: ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ سب سے کم کرپشن والے ممالک میں ڈنمارک سرفہرست ہے، اس کے بعد فن لینڈ اور سنگاپور کا نمبر آتا ہے۔ بھارت کرپٹ ممالک کی فہرست میں 96ویں نمبر پر ہے، جو کہ پاکستان سے 39 درجہ بہتر ہے۔

    سب سے زیادہ کرپٹ ممالک: اس فہرست میں سب سے کم کرپشن والے ممالک کے ساتھ ساتھ جنوبی سوڈان، صومالیہ اور وینزویلا کو سرفہرست رکھا گیا ہے۔ ایران، عراق اور روس میں بھی کرپشن میں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث روس 154ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ افغانستان 165ویں، جبکہ بنگلہ دیش 151ویں نمبر پر ہے۔

    پاکستان کے لیے چیلنجز: یہ رپورٹ پاکستان کے لیے ایک اور وارننگ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی تنزلی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کرپشن کے خلاف حکومتی پالیسیوں اور اقدامات میں کامیابی حاصل کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔

  • عمران خان کے خط میں اہم ایشوز،کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،چیف جسٹس

    عمران خان کے خط میں اہم ایشوز،کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،چیف جسٹس

    چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی صحافیوں سے ملاقات ہوئی ہے

    صحافیوں سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف وفد کی ملاقات پر بریفنگ کروں گا، بانی پی ٹی آئی کے خط پر بات کروں گا، نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی پر بھی بات کروں گا، میں نے آئی ایم ایف وفد کو جواب دیا ہم نے آئین کے تحت عدلیہ کی آزادی کا حلف اٹھا رکھا ہے، میں نے وفد کو بتایا یہ ہمارا کام نہیں ہے آپکو ساری تفصیل بتائیں، میں نے وفد کو نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے ایجنڈے کا بتایا، میں نے وفد کو بتایا ماتحت عدلیہ کی نگرانی ہائیکورٹس کرتی ہیں،وفد نے کہا معاہدوں کی پاسداری، اور پراپرٹی حقوق بارے ہم جاننا چاہتے ہیں،میں نے جواب دیا اس پر اصلاحات کر رہے ہیں،عمران خان کے خط میں اہم ایشوز ہیں میں نے خط پڑھا ہے، عمران خان کے خط کو کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا،

    نیشنل جوڈیشل پالیسی کے لئے میں نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو دعوت دی ہے،چیف جسٹس
    چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا مزید کہنا تھا کہ نیشنل جوڈیشل پالیسی کے لئے میں نے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کودعوت دی ہے،مجھے وزیراعظم کا خط بھی آیا،وزیراعظم کو اٹارنی جنرل کے ذریعے سلام کا جواب بھجوایا، وزیراعظم کو پیغام دیا کہ انکے خط کا جواب نہیں دوں گا،اپوزیشن لیڈر سے بھی رابطہ کیا ہے،وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کو سپریم کورٹ مدعو کیا ہے ہم نےحکومت اور اپوزیشن دونوں سے عدالتی اصلاحات کیلئے ایجنڈا مانگا ہے،پاکستان ہم سب کا ملک ہے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کابھی خط آیا ہے،عمران خان ہم سے جو چاہتے ہیں، وہ آرٹیکل 184 کی شق تین سے متعلق ہیں،میں نے کمیٹی سے کہا اس خط کا جائزہ لیکر فیصلہ کریں،تحریک انصاف کے بانی کا خط ججز آئینی کمیٹی کوبھجوایا ہے، وہ طے کریں گے، یہ معاملہ آرٹیکل 184 کی شق تین کے تحت آتا ہے، اسے آئینی بنچ نے ہی دیکھنا ہے۔

    خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں،انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا،چیف جسٹس
    صحافی نے سوال کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خط کو ججز آئینی کمیٹی کو بھیجنے کیلئے کن وجوہات یا اصولوں کو مدنظر رکھا گیا؟عدلیہ میں اختلافات کو ختم کرنے کیلئے کیا اقدامات کریں گے؟چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ خط لکھنے والی ججز کی پرانی چیزیں چل رہی ہیں،انھیں ٹھیک ہونے میں ٹائم لگے گا،پرانی چیزیں ہیں آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔میں نے ججز سے کہا سسٹم کو چلنے دیں، سسٹم کو نہ روکیں،میں نے کہا مجھے ججز لانے دیں،میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کو سپریم کورٹ لانے کا حامی ہوں۔

    قبل ازیں ذرائع کا کہناتھا کہ چیف جسٹس پاکستان سے آئی ایم ایف وفد نے ملاقات کی۔ چیف جسٹس سے آئی ایم ایف وفد کی ملاقات ایک گھنٹہ جاری رہی، چیف جسٹس نے عدالتی نظام، اصلاحات سے متعلق وفد کو آگاہ کیا، ملاقات میں ججز تقرری اور آئینی ترمیم پر بھی بات چیت ہوئی،چیف جسٹس پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے بعد آئی ایم ایف کا وفد سپریم کورٹ سے روانہ ہو گیا۔

    اس سے قبل ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے حکام بھی آئی ایم ایف وفد کے ہمراہ تھے۔

  • وزیراعظم سے   سلطان احمد بن سلیم، گروپ چیئرمین اور سی ای او، ڈی پی ورلڈ کی ملاقات

    وزیراعظم سے سلطان احمد بن سلیم، گروپ چیئرمین اور سی ای او، ڈی پی ورلڈ کی ملاقات

    وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف سے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ڈی پی ورلڈ کے گروپ چیئرمین اور سی ای او سلطان احمد بن سلیم کی دبئی میں ملاقات ہوئی۔

    وزیر اعظم نے ڈی پی ورلڈ کے وفد کے پاکستان کے حالیہ کامیاب دورے کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دورہ پاکستان اور ڈی پی ورلڈ کے درمیان بامعنی سرمایہ کاری کے اشتراک کا باعث بنا، جو خوش آئند امر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی سرگرمیوں و تعاون سے پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تجارتی تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان میں ڈی پی ورلڈ کی سرمایہ کاری کو سراہتے ہوئے تجارت اور لاجسٹک انفراسٹرکچر کو بڑھانے میں ان کے کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے ڈی پی ورلڈ کے ساتھ دستخط کیے گئے بین الحکومتی معاہدوں (IGAs) کے تحت منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے پاکستان نے سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو مزید سہل، شفافیت کو فروغ اور مجموعی کاروباری ماحول کو بہتر بنایا ہے، جس سے پاکستان عالمی سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش مقام بن گیا ہے۔

    وزیراعظم نے ڈی پی ورلڈ کے وژن اور کاروباری حکمت عملی کو سراہا، جو پاکستان کی معاشی امنگوں سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا اسٹریٹجک محل وقوع ڈی پی ورلڈ کے لیے اپنے آپریشنز کو بڑھانے اور پاکستان میں جبل علی بندرگاہ جیسے کامیاب منصوبوں کی تقلید کا ایک مثالی موقع فراہم کرتا ہے۔

    ڈی پی ورلڈ گروپ کے چیئرمین نے باہمی تعاون کو آگے بڑھانے میں حکومت پاکستان کی مسلسل حمایت پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ڈی پی ورلڈ کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے اور تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ملاقات میں ڈی پی ورلڈ کے چیئرمین نے وزیرِ اعظم کو بتایا کہ پاکستانی مصنوعات کی متحدہ عرب امارت میں برآمدات کے فروغ کیلئے ڈی پی ورلڈ نے ایک خصوصی نمائشی ہال مختص کیا ہے جس کی بدولت اماراتی مارکیٹ تک پاکستانی مصنوعات کی رسائی اور انکی تشہیر کے مواقع میسر ہونگے. وزیرِ اعظم نے ڈی پی ورلڈ کے اس اقدام کو سراہا.

    وزیراعظم پاکستان کی بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کی چیئرپرسن برائے صدارت سے ملاقات
    وزیراعظم محمد شہبازشریف اور بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کی چیئرپرسن برائے صدارت Željka Cvijanović کی دبئی، متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والی ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کے موقع پر ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم نے بوسنیا اور ہرزیگووینا کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک کے مابین تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے دوطرفہ تعلقات کو باہمی طور پر مفید تجارتی اور اقتصادی تعلقات پر مبنی ایک مضبوط و وسیع البنیاد شراکت داری میں تبدیل کرنے کی پاکستان کی خواہش اظہار کیا۔ بوسنیا اور ہرزیگوینا کے لیے یورپی یونین کی رکنیت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے، وزیراعظم نے کہا کہ بوسنیا اور ہرزیگوینا کی بطور علاقائی روابط کے مرکز کی بے پناہ صلاحیت اور مستقبل میں یورپی یونین کی رکنیت بوسنیا اور ہرزیگوینا کے راستے پاکستانی اشیاء کے بلقان اور مشرقی یورپی منڈیوں تک رسائی کے مواقع فراہم کرے گی۔

    بوسنیا اور ہرزیگوینا کی چیئرپرسن برائے صدارت نے پاکستان کی جانب سے نیک خواہشات پر وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بوسنیا اور پاکستان کے مابین مختلف شعبوں بالخصوص تجارت و سرمایہ کاری میں فروغ کی خواہش کا اظہار کیا. دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور بوسنیا اینڈ ہرزیگووینا کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ کے لیے مل کر کام کرنے روابط کی مضبوطی پر اتفاق کیا۔

  • ڈرل مشین چلا کر بچوں کو خوفزدہ کر کے مدرسہ معلم کی طلبا سے بدفعلی

    ڈرل مشین چلا کر بچوں کو خوفزدہ کر کے مدرسہ معلم کی طلبا سے بدفعلی

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، مدرسے کے اساتذہ نے 9 سالہ بچے کے ساتھ بدفعلی کی، بچے کو ڈرانے کے لئے ڈرل مشین چلا کر دکھاتے رہے اور ڈرا کر بار بار بدفعلی کا نشانہ بناتے رہے.

    واقعہ لاہور میں فیکٹری ایریا کے علاقے میں پیش آیا مدرسے کے اساتذہ نے 9 سالہ بچے کے ساتھ کئی بار بدفعلی کی،قاری احسن اور قاری نعمان ڈرِل مشین چلا کر بچے کو ڈرا کر بدفعلی کا نشانہ بناتے رہے،بچے نے گھر بتایا تو والدشہباز علی تھانے پہنچے اور مقدمہ درج کروایا. پولیس نے مدرسہ معلم کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے گا.

    دوسری جانب لاہور میں اچھرہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے معلم کی جانب سے 10 سالہ طالب علم کو ورغلا کر زیادتی کی کوشش میں گرفتار کیا ہے،10 سالہ ریحان شاہ جمال مدرسے میں پڑھنے جاتا تھا، جس سے معلم رمضان نے زیادتی کی کوشش کی۔ پولیس نے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرکے اسے جینڈر سیل کے حوالے کردیا تھا۔

  • کرم:  امن معاہدے پر عملدرآمد، مزید 25 بنکرز گرا دیے گئے

    کرم: امن معاہدے پر عملدرآمد، مزید 25 بنکرز گرا دیے گئے

    ضلع کرم میں امن معاہدے کے تحت ضلعی انتظامیہ نے مزید 25 بنکرز کو گرا دیا ہے، جس کے بعد ان بنکرز کی مجموعی تعداد 80 ہو گئی ہے۔

    یہ اقدامات دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کے ایک حصے کے طور پر اٹھائے گئے ہیں، جس کا مقصد علاقے میں امن و امان کو برقرار رکھنا اور دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنا ہے۔ بنکرز کا گرا دیا جانا ایک اہم قدم ہے جس سے دہشت گردوں کے غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور علاقے میں امن قائم کرنے میں مدد ملے گی۔

    لوئر کرم کے 14 شہداء کے ورثا میں 10 لاکھ روپے فی کس کے امدادی چیک بھی تقسیم کیے گئے ہیں۔ یہ امدادی چیک ان خاندانوں کے لئے دیے گئے ہیں جن کے افراد دہشت گردی کی کارروائیوں میں شہید ہو گئے تھے۔ اس اقدام کا مقصد شہداء کے اہل خانہ کی مالی مدد کرنا اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا ہے۔ اب تک دہشت گردی سے متاثرہ خاندانوں میں 6 کروڑ روپے سے زائد کی امداد فراہم کی جا چکی ہے، جس سے ان خاندانوں کی زندگیوں میں قدرے سکون آیا ہے۔

    یہ اقدامات کرم میں امن و خوشحالی کے قیام کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں اور مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس طرح کے مزید اقدامات مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ علاقے میں امن کو مستحکم کیا جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کی جا سکے۔

  • سیف علی خان کا سیکورٹی لینے سے انکار

    سیف علی خان کا سیکورٹی لینے سے انکار

    ممبئی: بالی وڈ کے معروف اداکار سیف علی خان نے گزشتہ ماہ اپنے اپارٹمنٹ میں ہونے والی ڈکیتی کے بعد سکیورٹی کی فراہمی کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔

    سیف علی خان کے باندرہ واقع اپارٹمنٹ میں جب گزشتہ ماہ ڈکیتی کی کوشش کی گئی تھی، تو اداکار نے بہادری سے مزاحمت کی اور چوروں کے ارادے کو ناکام بنا دیا تھا، تاہم اس دوران وہ زخمی بھی ہو گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد، بھارتی میڈیا میں خبریں آئی تھیں کہ بالی وڈ اداکار رونت رائے کی سکیورٹی ایجنسی سیف علی خان کو سکیورٹی فراہم کرے گی اور اس مقصد کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے جائیں گے۔

    ان اطلاعات کے بعد، سیف علی خان نے بھارتی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سکیورٹی نہ لینے کی وجہ بتائی۔ انہوں نے کہا کہ "میں نے کبھی بھی سکیورٹی پر یقین نہیں کیا، میں کبھی بھی سکیورٹی گارڈز کے ساتھ نہیں چلنا چاہتا۔” سیف علی خان کا کہنا تھا کہ "مجھے لگتا ہے کہ یہ میرے لیے ایک ڈراؤنا خواب ہوگا اور میں اب بھی نہیں چلوں گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ مجھ پر حملہ ہے اور میں کسی بھی خطرے میں نہیں ہوں۔ یہ ایک غلطی ہے جو ہوئی ہے۔”

    اداکار نے واضح طور پر کہا کہ وہ اس وقت کسی قسم کے خطرے میں نہیں ہیں اور ان کے لیے سکیورٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ سیف علی خان کے گھر پر ڈکیتی کرنے والا شخص بنگلادیشی شہری ہے، جو کہ قومی سطح کا کبڈی کھلاڑی ہے اور فی الحال پولیس کی حراست میں ہے۔یہ واقعہ نہ صرف سیف علی خان کے لیے، بلکہ بالی وڈ کی دنیا کے لیے بھی حیرانی کا سبب بن گیا ہے۔ سیف علی خان کی جانب سے سکیورٹی لینے سے انکار نے ان کے پرستاروں کو بھی سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ آیا سکیورٹی کی ضرورت واقعی ہے یا یہ صرف ایک ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

  • لیبیا کشتی حادثہ، سات پاکستانیوں کی موت کی تصدیق

    لیبیا کشتی حادثہ، سات پاکستانیوں کی موت کی تصدیق

    لیبیا میں پاکستانیوں سمیت 65 تارکینِ وطن کو لے جانے والی ایک اور کشتی کو گزشتہ روز ایک ہولناک حادثہ پیش آیا ہے جس میں 7 پاکستانیوں کی موت کی تصدیق ہو گئی ہے۔

    وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے مطابق، جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کا تعلق خیبر پختون خوا سے ہے، جن میں 6 افراد ضلع کرم اور 1 شخص کا تعلق باجوڑ سے ہے۔ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت ان کے پاسپورٹس کی مدد سے کی گئی ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، اس حادثے میں 16 پاکستانی جاں بحق ہوئے ہیں۔

    دفترِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پیر کے روز جاری کیے گئے بیان میں بتایا گیا کہ طرابلس میں پاکستان کے سفارت خانے نے مطلع کیا ہے کہ ایک بحری جہاز، جس میں تقریباً 65 مسافر سوار تھے، لیبیا کے زاویہ شہر کے شمال مغرب میں واقع مارسا ڈیلا کی بندرگاہ کے قریب الٹ گیا۔ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستانی سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ٹیم زاویہ اسپتال روانہ کی ہے تاکہ مرنے والوں کی شناخت کے عمل میں مقامی حکام کی مدد کی جا سکے۔اس حادثے نے ایک بار پھر تارکینِ وطن کی حالتِ زار اور غیر قانونی راستوں پر سفر کرنے والے افراد کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والی حقیقت کو اجاگر کیا ہے۔

    امریکا، دو چھوٹے طیارے آپس میں ٹکرا گئے،ایک شخص ہلاک

    انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں.وزیراعظم
    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے لیبیا کے ساحل پر کشتی کے حادثے اور اس میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا،وزیراعظم نے حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی ء درجات کی دعاء کی،وزیراعظم نے جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت کی،وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ،وزیراعظم نے وزارت خارجہ حکام کو جاں بحق پاکستانیوں کی شناخت جلد از جلد مکمل کرنے اور متاثرہ افراد کو ہر ممکن امداد فراہم کی ہدایت کی اور کہا کہ انسانی اسمگلنگ جیسے مکروہ عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی ماس حوالے سے کسی بھی قسم کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی ، انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات اٹھا رہے ہیں.