Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پیکا پر عمل ہوگیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے،وکیل کا عدالت میں بیان

    پیکا پر عمل ہوگیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے،وکیل کا عدالت میں بیان

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیکا ایکٹ کی سماعت کے دوران جسٹس امین منہاس نے کہا کہ فیک نیوز مسئلہ تو ہے، کیا فیک نیوز کی کی پبلیکیشن رکنی چاہیے یا نہیں؟

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس امین منہاس نے پیکا ایکٹ کے خلاف پی ایف یو جے اور اینکرز کی درخواست پر سماعت کی جس دوران صحافتی تنظیموں کے عہدیدار اور وکیل عمران شفیق ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،دوران سماعت عمران شفیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ پیکا کا قانون اتنی جلد بازی میں بنایا گیاکہ شقوں کے نمبر بھی درست درج نہیں، قانون میں اتنی غلطیاں ہیں کہ درخواست دہندہ کی 2 تعریفیں کردی گئیں جو ایک دوسرے سے متصادم ہیں،پیکاکےتحت بنائی گئی کمپلیننٹ اتھارٹی وہی ہے جوپہلے سے پیمرا قانون میں موجود ہے۔

    صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار ریاست علی آزاد نے کہا کہ یہ قانون آرٹیکل 19 اور 19 اے کی خلاف ورزی میں بنایا گیا،جسٹس انعام منہاس نے سوال کیا، آپ کیا کہتے ہیں فیک نیوز کی پبلیکیشن رکنی چاہیے یا نہیں؟ فیک نیوز کا مسئلہ تو ہے۔ ریاست علی آزاد نے جواب دیا صحافی کو لوگ فائل دکھاتے ہیں کہ یہ دیکھ لیں کرپشن ہورہی ہےاور خبر دے دیں، صحافی اپنی خبر کا سورس کبھی نہیں بتاتا، پیکا پر عمل ہوگیا تو پھر صحافی صرف موسم کا حال ہی بتا سکیں گے۔ صدر پی ایف یو جے افضل بٹ نے کہا ایسا نہیں کہ ہم فیک نیوز کو سپورٹ کرنا چاہتے ہیں، ہم مادرپدر آزادی کے خلاف ہیں اور ہم رولز اینڈریگولیشن کے بھی خلاف نہیں ہیں مگر رولز اینڈریگولیشن آئینی اورانسانی حقوق سے متصادم نہیں ہونا چاہیے۔

    دوران سماعت درخواست گزار نے پیکا ایکٹ کو معطل کرنے کی استدعا کی جب کہ درخواست گزار وکلا نے عدالت سے ایکٹ پر عملدرآمد روکنے کی بار بار استدعا کی اس پر عدالت نے کہا کہ اگر کوئی مسئلہ ہو تو بتائیں ہم یہیں بیٹھے ہیں، آپ ضرورت محسوس کریں تو متفرق درخواست دائر کر سکتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سماعت کی آئندہ تاریخ رجسٹرار آفس جاری کرے گا۔

  • بلوچستان محتاج نہیں لیکن  مسائل کی اصل وجہ پربھی توجہ دینی ہو گی ،فرح عظیم شاہ

    بلوچستان محتاج نہیں لیکن مسائل کی اصل وجہ پربھی توجہ دینی ہو گی ،فرح عظیم شاہ

    لاہورپریس کلب کے پروگرام میٹ دی پریس میں سابق ترجمان بلوچستان حکومت وممبر صوبائی اسمبلی بلوچستا ن فرح عظیم شاہ نے خصوصی شرکت کی ۔ لاہورپریس کلب کے صدر ارشد انصاری ، سیکرٹری زاہد عابد، ممبر گورننگ باڈی راناشہزاد ، محبوب چوہدری نے معزز مہمانوں کو کلب آمد پرخوش آمدید کہا۔اس موقع پر کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے ایگزیکٹو ممبرڈاکٹر کرسٹوفرنے خصوصی شرکت کی ۔

    میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے فرح عظیم شاہ نے کہا کہ پورے بلوچستان میں سیکیورٹی کے مسائل نہیں، محض چند حصوں میں شورش ہے جن کی واحد وجہ دہشتگرد ہیں جن کا نہ تو کئی مذہب ہے نہ انکا پاکستان سے کو ئی تعلق ہے،ایسے لوگوں کیساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا، بلوچستان کوئی محتاج نہیں لیکن ان مسائل کی اصل وجہ پربھی توجہ دینی ہو گی ، ہر مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہو سکتا۔انھو ں نے کہاکہ ہنر مند بلوچستان بنائیں گے۔ فرح عظیم شاہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں منفی کی بجائے بہت ساری مثبت چیزیں ہو رہی ہیں جنہیں زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن کے حوالے سے مختلف پارلیمنٹیرین سے بات ہوئی تو انھوں نے بڑی خواہش کا اظہار کیا کہ وہ پاکستان بالکل وزٹ کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی علاقہ میں وہاں کی عوام کے حقوق یا وسائل کی وجہ سے مسائل جنم لیتے ہیں اور دنیا بھر میں ایسی مثالیں موجود ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ عوام کی ترقی اور فلاح کیلئے بہت سارے اقدام کئے جارہے ہیں ان میں سب سے بڑھ کر ایمان پاکستان تحریک شروع کی گئی جس کی وجہ سے لوگوں میں نفرتیں کافی حد تک کم ہوئی ہیں۔

    فرح عظیم شاہ کا کہناتھا کہ چند مٹھی بھر لوگوں نے منفرد جذبے کی مدد سے پاکستان کوحاصل کیا اور اب تو کروڑوں ٹیلنٹڈ لوگوں کی فراوانی ہے بس 1947والے جذبے کی ضرورت ہے اور ایمان پاکستان تحریک شروع کرنے کا مقصد بھی یہی ہے اور صوبہ کے کچھ حصوں میں محض ایک ماہ کے اندر لڑکیوں کیلئے تین ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز قائم کر دیئے گئے ہیں،ہم اپنے بلوچستان کومحتاج نہیں، ہنر مند بلوچستان بنائیں گے اور ہم لوگوں کی سپورٹ لینے کی بجائے ان کو سپورٹ فراہم کرینگے۔اس حوالے سے ترکی کے ساتھ جلد معاہدے کئے جائیں گے جس کے بعد ہنرمند افراد کو وہاں بھیجا جائیگا، اپنی یوتھ کو سکالرشپ پر وہاں بھیجا جائیگا،کاروباری خواتین کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جائیگی،اپنے فنکاروں کو متعارف کروایا جائیگا۔ممبر صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ میڈیا ورکرز پاکستان کے سفیر ہیں اور ایمان پاکستان تحریک کیلئے بھی میڈیا کی اشد ضرورت ہے،انہوں نے کہا کہ منفی کی بجائے مثبت چیزیں دنیا کے سامنے رکھنی ہونگی کیونکہ جو کام بندوق کے زور پر نہیں کیا جاسکتا وہ کام اخلا ق سے کیا جا سکتاہے۔سب کو پتہ کہ بہت ساری عالمی قوتیں ہیں جو پاکستان کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں اور یہ قوتیں بوچستان میں کام کر رہی ہیں اور کچھ لوگ انہیں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں لیکن ایک بات واضح ہے کہ معدنی وسائی اور ٹرانزٹ روٹ کی وجہ سے بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے۔

    ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جوممالک پاکستانیوں پر ویزے کی پابندیاں لگا رہے ہیں ان کو چاہئے کہ پابندی کی بجائے وہاں جا کر بھیک مانگنے اور چوری کرنیوالوں کو ہمارے حوالے کریں ہم سخت سزا دیں گے۔

    اس موقع پر صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے ایمان پاکستان تحریک کیلئے میڈیا کے بھرپور ساتھ کی یقین دہانی کروائی۔

    اس موقع پرڈاکٹر کرسٹوفر، ایگزیکٹو ممبر کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن نے موسمیاتی تبدیلیوں اور اسکے اثرات پر گفتگو کی اور کہا کہ پنجاب اسمبلی میں ہونیوالے اجلاس میں بھی اس پر بات ہوئی ہے اور اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات زائل کرنے کیلئے مشترکہ کوششیں کی جائینگی۔انھوں نے پاکستانی عوام،وزیراعظم محمد شہباز شریف، سپیکر پنجاب اسمبلی، سیکرٹری پنجاب اسمبلی کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان کی مہمان نوازی کو سراہا۔آخر میں صدر پریس کلب ارشد انصاری، سیکرٹری زاہد عابد کی طرف سے مہمانان کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔

  • جبری فیصلوں کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان

    جبری فیصلوں کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان

    جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے قبائلی مسائل کے حل کے لیے اسلام آباد مارچ کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور آئین کے وفادار ہیں، لیکن جبری فیصلوں کو ہرگز تسلیم نہیں کریں گے۔

    پشاور میں ایک قبائلی جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ مشران نے جرگہ بلایا ہے، جو ان کے لیے ایک احسان ہے، اور وہ ہمیشہ جرگوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ مسلسل قبائلی جرگوں میں شریک ہو رہے ہیں، اور فاٹا کے انضمام کے وقت بھی وہ جرگوں میں شریک تھے۔ تاہم، ان کا موقف یہ تھا کہ فاٹا کے انضمام کا فیصلہ قبائلی عوام کی مشاورت کے بغیر نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

    مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ انضمام سے پہلے ایک جرگہ میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ قبائلی عوام کی رضامندی کے بغیر انضمام کا عمل نہیں ہونا چاہیے۔ قبائلی عوام ایف سی آر کے نظام کو چاہتے ہیں، وہ ایک الگ صوبہ چاہتے ہیں یا صوبے میں انضمام کی حمایت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے جرگہ نے ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا تاکہ قبائل کی رائے کو مدنظر رکھا جا سکے۔

    سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ قبائل سے جو وعدہ کیا گیا تھا وہ امن کا تھا۔ ان کے مطابق، امن کے قیام کے ساتھ ہی ہر شخص کی عزت و آبرو محفوظ ہو گی، انسانی حقوق کا تحفظ ہوگا، بے روزگاری کا خاتمہ ہوگا اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں امن کی کمی ہے۔

    مولانا فضل الرحمان نے اس موقع پر کہا کہ اسلام کا پیغام امن ہے، اور وہ ہمیشہ امن کی بات کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارلیمنٹ میں اسلامی نظام کا قیام ایک سخت مطالبہ ہے اور آئین کے مطابق اسلامی نظام کے قیام کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسلامی قانون کے مطابق ہی فیصلے ہونے چاہئیں۔ ان کے مطابق، آئین کہتا ہے کہ نظام اسلامی ہوگا اور اسلام کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔

    مولانا نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران امریکہ کے وفادار نظر آتے ہیں، اور انہوں نے افغانستان میں جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا تھا۔ حکمران مسلمانوں کے بجائے امریکہ کے اتحادی بن گئے ہیں۔

    انہوں نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عرب میں اسرائیلیوں کو بسانے کی بات کر رہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ آج امریکا پھر افغانستان میں جنگ کا سوچ رہا ہے، اور اگر جرگہ نے حکم دیا تو وہ اس پر عمل کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں کے مشران پر بھی جرگہ بلایا جائے گا اور یہ کہ جو صوبہ جس کا حق ہے، وہاں کے عوام کو وہ حق دیا جائے۔

    آخر میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر ان جرگوں کے ذریعے قبائلی مسائل کا حل نہیں نکلتا، تو وہ اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر دینی مدارس کے لیے اسلام آباد مارچ کیا جا سکتا ہے تو قبائل کے مسائل کے حل کے لیے بھی اسلام آباد مارچ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی پاکستان اور آئین کے وفادار ہے، لیکن جبری فیصلے ہرگز قبول نہیں کیے جائیں گے۔

  • کرائسٹ چرچ حملے کی طرز پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا گرفتار

    کرائسٹ چرچ حملے کی طرز پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والا گرفتار

    سنگاپور میں کرائسٹ چرچ حملے کی طرز پر مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا

    حکام نے سنگاپور میں ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، جس کا طریقہ کار نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ حملے سے مشابہت رکھتا تھا۔ یہ حملہ 2019 میں نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ شہر کی دو مساجد پر برینٹن ٹیرنٹ کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں 51 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

    غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ملزم کی شناخت 18 سالہ نِک لی کے طور پر ہوئی ہے، جو کہ سفید فام بالادستی کے حامی برینٹن ٹیرنٹ کے پیروکار کے طور پر سامنے آیا۔ حکام کے مطابق نِک لی نے ایک ویڈیو گیم کے ذریعے حملے کی تربیت حاصل کی، جو 2019 کے کرائسٹ چرچ حملے کے مماثل تھا۔نِک لی نے ایک منصوبہ تیار کیا تھا جس میں دیسی ساختہ بندوقوں، چاقو، اور پیٹرول بموں کے ذریعے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی تفصیلات شامل تھیں۔ اس کا ارادہ تھا کہ وہ اس حملے کو براہ راست نشر کرے گا، بالکل ویسا ہی جیسے برینٹن ٹیرنٹ نے اپنے حملے کو نشر کیا تھا۔

    سکیورٹی حکام نے بتایا کہ نِک لی نے 2023 میں سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مواد دیکھنا شروع کیا تھا، جس کے بعد اس نے مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت پیدا کی۔ اس نے برینٹن ٹیرنٹ کے حملے کی ویڈیوز دیکھیں اور ان سے متاثر ہو کر ایک پرتشدد آن لائن گیم میں خود کو ٹیرنٹ کے کردار میں ڈھال لیا۔

    مزید یہ کہ نِک لی نے مختلف ویڈیو گیمز میں خصوصی موڈیفکیشنز ڈاؤن لوڈ کیے تاکہ وہ اپنے آپ کو کرائسٹ چرچ حملے میں شامل محسوس کر سکے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ نِک لی نے خود کو مشرقی ایشیائی بالادستی کے نظریے کا حامی قرار دیا تھا، اور وہ چینی، کورین اور جاپانی نسلوں کو دیگر قوموں سے برتر سمجھتا تھا۔سنگاپور کے داخلی سکیورٹی ادارے نے دسمبر 2024 میں نِک لی کے خلاف انٹرنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت کارروائی کی اور اسے حراست میں لیا۔ اس قانون کے تحت حکام کسی بھی مشتبہ شخص کو مقدمہ چلائے بغیر گرفتار کر سکتے ہیں۔

    یہ واقعہ سنگاپور میں تشویش کا باعث بن گیا ہے کیونکہ یہ نفرت انگیز نظریات اور انتہا پسندی کی طرف بڑھتے ہوئے رجحانات کو ظاہر کرتا ہے۔ حکام نے کہا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔

  • دوسوتیلے بھائیوں کی ہلاکت، ایس ایس پی کا جائے وقوعہ کا دورہ

    دوسوتیلے بھائیوں کی ہلاکت، ایس ایس پی کا جائے وقوعہ کا دورہ

    لاہور: باٹا پور کے علاقے میں فائرنگ کے نتیجے میں 2 سوتیلے بھائیوں کی ہلاکت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے ایس ایس پی انویسٹی گیشن لاہور محمد نوید نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کا معائنہ کیا۔

    ایس ایس پی محمد نوید نے ایس پی کینٹ کو واقعہ کی فوری انکوائری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔ تفتیش کے مطابق، ہلاک ہونے والے سوتیلے بھائیوں میں سیف اسلم اور ارسلان شامل ہیں، جبکہ ایک اور شخص مرسلین شدید زخمی ہے۔ ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے ابتدائی تفتیش کے حوالے سے بتایا کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان جائیداد کے تنازعہ پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔فرانزک ٹیموں نے جائے وقوعہ سے تمام ضروری شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، اور واقعہ کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔ ایس ایس پی محمد نوید نے یقین دلایا کہ اس ڈبل مرڈر کے واقعہ میں ملوث دیگر ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس کی تفتیش میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد نوید کا کہنا تھا کہ واقعہ کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی تفتیش کو جلد مکمل کر لیا جائے گا اور ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • قاری محمد یعقوب شیخ کی حافظ خالد نیک سے ملاقات،دی مبارکباد

    قاری محمد یعقوب شیخ کی حافظ خالد نیک سے ملاقات،دی مبارکباد

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری قاری محمد یعقوب شیخ نے پارٹی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری حافظ خالد نیک گجر کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور انہیں ڈپٹی جنرل سیکرٹری مقرر ہونے پر مبارکباد پیش کی۔

    اس موقع پر قاری محمد یعقوب شیخ نے حافظ خالد نیک گجر کو گلدستہ پیش کیا اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کو مزید فعال اور متحرک بنانے کے لیے پارٹی قیادت کی بہترین حکمت عملی جاری رہے گی۔ اس موقع پر جماعتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔حافظ خالد نیک گجر نے قیادت کے اعتماد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ جماعت کے نظریے کی ترویج اور کارکنان کو متحرک کرنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

    ملاقات میں دیگر پارٹی رہنماؤں اور کارکنان نے بھی شرکت کی اور نئی ذمہ داریوں پر حافظ خالد نیک گجر کو مبارکباد دی۔

  • پاکستانی کرکٹر خواجہ محمد نافع بنگلہ دیش میں پھنس گئے

    پاکستانی کرکٹر خواجہ محمد نافع بنگلہ دیش میں پھنس گئے

    محمد حارث کے بعد پاکستانی کرکٹر خواجہ محمد نافع بھی بنگلادیش پریمیئر لیگ (بی پی ایل) کھیلنے کے لیے بنگلادیش گئے تھے، لیکن وہ بھی اسی پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ خواجہ نافع اس وقت بنگلادیش میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے واپس پاکستان جانے کے انتظامات میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    ذرائع کے مطابق، بی پی ایل کی فرنچائز نے ابھی تک خواجہ نافع کو ان کی مکمل رقم ادا نہیں کی۔ مزید برآں، انہیں جو واپسی کا ٹکٹ فراہم کیا گیا تھا وہ جعلی نکلا، جس کی وجہ سے وہ ڈھاکا ائیرپورٹ پر پھنس گئے ہیں۔ خواجہ نافع نے اس معاملے پر فرنچائز سے کئی بار رابطہ کیا، لیکن انہیں مناسب جواب نہیں مل رہا۔ فرنچائز کی جانب سے انہیں نہ تو رقم کی ادائیگی کی گئی ہے اور نہ ہی ان کے واپسی کے سفر کے لئے کسی درست ٹکٹ کا انتظام کیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل محمد حارث بھی بنگلادیش میں ایسی ہی مشکلات کا سامنا کر چکے ہیں۔ ان کی ٹیم دربار راج شاہی نے کھلاڑیوں کو گھر واپسی کے ٹکٹ فراہم نہیں کیے تھے اور ٹیم انتظامیہ نے کھلاڑیوں کو معاوضے کی ادائیگی بھی نہیں کی تھی۔ حارث نے اس صورتحال کو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے سامنے اٹھایا تھا، جس کے بعد پی سی بی نے بنگلادیش کرکٹ بورڈ سے رابطہ کر کے مسئلہ حل کروا دیا تھا۔

    اب سوال یہ ہے کہ کیا پی سی بی اور بنگلادیش کرکٹ بورڈ خواجہ نافع کی صورتحال کو بھی حل کر پائیں گے اور انہیں ان کے حقوق ملیں گے یا نہیں؟

  • عمران خان ثاقب نثار  کے گٹھ جوڑ کو عوام آج تک نہیں بھولی۔شرجیل میمن

    عمران خان ثاقب نثار کے گٹھ جوڑ کو عوام آج تک نہیں بھولی۔شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے آرمی چیف کو لکھے گئے خط پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام آئینی ترامیم جمہوری عمل سے گزرتی ہیں، اور ان ترامیم کو جمہوریت کے اصولوں کے مطابق ہی لاگو کیا جاتا ہے۔ منتخب ججوں کے حوالے سے عمران خان کے الزامات گمراہ کن ہیں اور حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان خود 2018 میں الیکٹورل انجینئرنگ کے الزامات کے دوران برسراقتدار آئے تھے، اور ان الزامات کی حقیقت عوام کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے دور اقتدار میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا تھا، جو ایک افسوسناک بات ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے عمران خان کے لیے ایک کارکن کے طور پر کام کیا، اور عوام آج تک اس گٹھ جوڑ کو نہیں بھولے۔ شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ عمران خان عوامی حمایت کھونے کے بعد جمہوری عمل کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جو کہ ایک افسوسناک اور غیر جمہوری عمل ہے۔

    شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ اس وقت ملک میں جمہوریت کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے اور تمام آئینی اور قانونی تبدیلیاں جمہوری طریقے سے کی جانی چاہئیں، تاکہ ملک میں آئین کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی یقینی بن سکے۔

  • سہ ملکی سیریز، نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو 6 وکٹ سے دی شکست

    سہ ملکی سیریز، نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو 6 وکٹ سے دی شکست

    قذافی اسٹیڈیم لاہور میں سہ ملکی کرکٹ سیریز کے دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ نے جنوبی افریقا کو 304 رنز کا ہدف 8 گیندوں پہلے ہی حاصل کر کے فائنل میں اپنی جگہ پکی کرلی۔ نیوزی لینڈ نے 4 وکٹوں پر 308 رنز بنائے اور یہ میچ 6 وکٹوں سے جیت لیا۔

    میچ کی خاص بات نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیم سن کی شاندار سنچری تھی، جنہوں نے ناقابل شکست رہتے ہوئے 133 رنز کی باری کھیلی۔ ان کے ساتھ ساتھ ڈیوان کانوے نے 97 رنز بنائے، جبکہ مچل 10، لیتھم صفر اور ینگ 19 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

    اس سے قبل جنوبی افریقا نے اپنے مقررہ 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 304 رنز بنائے۔ جنوبی افریقا کے بیٹر میتھیو بریٹز نے اپنے ڈیبیو پر شاندار سنچری اسکور کی، اور 150 رنز کی اننگز کھیلی، جس نے ٹیم کو ایک مضبوط اسکور دینے میں مدد کی۔

    سہ ملکی سیریز کے اس میچ میں نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کا فیصلہ کیا۔ نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے ٹاس کے دوران کہا کہ ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، راچن رویندرا کی جگہ کونوے کو شامل کیا گیا ہے۔

    جنوبی افریقا کے کپتان ٹیمبا باووما نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ٹاس جیتتے تو وہ بھی پہلے فیلڈنگ ہی کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ٹیم میں نئے کھلاڑی ہیں اور وہ کھیلنے کے لیے بے حد پرجوش ہیں۔

    سیریز کی موجودہ صورتحال

    سہ ملکی سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دی تھی۔ نیوزی لینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان کو 331 رنز کا ہدف دیا تھا، تاہم قومی ٹیم 252 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی تھی۔

    اب نیوزی لینڈ فائنل میں پہنچ چکا ہے، اور دوسرے فائنلسٹ کا فیصلہ 12 فروری کو پاکستان اور جنوبی افریقا کے میچ کے بعد ہوگا۔

  • بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل میں پولیس کے سامنے”ہتھیار” ڈال دیئے

    بشریٰ بی بی نے اڈیالہ جیل میں پولیس کے سامنے”ہتھیار” ڈال دیئے

    بشری بی بی کے خلاف 24 سے 26 نومبر کے احتجاج پر درج 31 مقدمات کا معاملہ،بشری بی بی راولپنڈی کے 10 مقدمات میں شامل تفتیش ہو گئی،

    بشری بی بی نے تحریری جواب پولیس کے تفتیشی افسران کو دے دیئے،بشری بی بی نے بیان وکلاء سلمان صفدر،فیصل ملک،حسنین سنبل کی موجودگی میں دیئے،بشریٰ بی بی کا کہنا تھا کہ میرے خلاف سیاسی انتقامی کارروائی کی جا رہی ہے،بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے منصوبہ بندی کے تحت ہمارے خلاف کارروائی جاری ہے،کسی منصوبہ بندی،توڑ پھوڑ،جلاو گھیراو میں ملوث نہیں تھی،میرٹ پر تفتیش کرکے حقائق سامنے لائے جائیں،ہمیں انتقام کا نشانہ نہ بنایا جائے،

    ضلع راولپنڈی میں 10 مقدمات کے تفتیشی افسران اڈیالہ جیل پہنچے تھے،تفتیشی افسران میں انسپکٹر راجہ افتخار، محمد افضل، راشد کیانی، حسنین، یعقوب شاہ، ممتاز، انسپکٹر علی شامل تھے،گزشتہ سماعت پر بشری بی بی نے شامل تفتیش ہونے کیلئے بانی پی ٹی آئی اور وکیل سے ملنے کی استدعا کی تھی،بشری بی بی نے عدالت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ملاقات کے بعد شامل تفتیش ہونے کے لئے تیار ہوں،عدالت نے بشری بی بی کی استدعا پر ایس او پی کے تحت جیل انتظامیہ کو ملاقات کا حکم دیا تھا