Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ

    مالی سال کی پہلی ششماہی میں پاکستان کی برآمدات میں اضافہ

    حکومت نے رواں مالی سال 2024 کی پہلی ششماہی جولائی تا دسمبر میں تمام شعبوں کی برآمدات میں قابل ذکر اضافہ حاصل کیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق اس دوران مختلف شعبوں کی برآمدات میں مجموعی طور پر اضافہ دیکھا گیا، جو ملکی معیشت کے لیے خوش آئند ہے۔

    جولائی تا دسمبر 2024 میں ٹیکسائل اور لیدر کی برآمدات میں 10 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ سالانہ بنیاد پر دیکھا گیا، جو ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے۔ ٹیکسائل کی صنعت پاکستان کی معیشت کا اہم ستون ہے اور اس میں اضافے کا مطلب ہے کہ ملک کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے۔اسی مدت میں ایگرو اور فوڈ سیکٹر میں بھی برآمدات میں 6 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک مثبت رجحان ہے جو زرعی شعبے کی بہتری کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ پاکستان کا زرعی شعبہ دنیا کے کئی حصوں میں اپنی مصنوعات کی برآمدات میں کامیاب رہا ہے۔

    مالی سال کی پہلی ششماہی میں دیگر مینوفیکچرنگ مصنوعات کی برآمدات میں 11 فیصد، میٹلز اور جیمز کی برآمدات میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، منرلز اور پیٹرولیم کی برآمدات میں 48 فیصد، جبکہ کیمیکلز، فرٹیلائزرز اور فارما کی برآمدات میں 25 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافے ملک کی صنعتی ترقی اور پیداوار کے معیار کی عکاسی کرتے ہیں۔پہلی ششماہی میں ٹیکسائل اور لیدر کی برآمدات کا حجم 9 ارب 62 کروڑ 46 لاکھ ڈالرز تک پہنچا، جب کہ ایگرو اور فوڈ سیکٹر کی برآمدات 4 ارب 13 کروڑ ڈالرز رہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر مینوفیکچرنگ مصنوعات کی برآمدات کا حجم ایک ارب 28 کروڑ ڈالر تھا، اور میٹلز اینڈ جیمز کی برآمدات کا حجم 61 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا۔ منرلز اور پیٹرولیم کی برآمدات 61 کروڑ 25 لاکھ ڈالر تک پہنچیں، جب کہ کیمیکلز، فرٹیلائزرز اور فارما سیکٹر کی برآمدات کا حجم 24 کروڑ 22 لاکھ ڈالر رہا۔

    پاکستان کی برآمدات میں یہ اضافہ ملک کی معیشت کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔ حکومت کے اقدامات سے نہ صرف ملکی صنعتوں کی بہتری ہو رہی ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستانی مصنوعات کی مانگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو پاکستان کی معیشت میں مزید بہتری کی توقع کی جا سکتی ہے

    بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال

    سپیشل افراد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی اقدامات

  • بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال

    بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال

    پاک فوج اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے بلوچستان کے ضلع آواران میں پہلا گرلز انٹر کالج فعال کر دیا گیا۔ اس اہم اقدام سے آواران میں تعلیمی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی اور یہاں کی بچیوں کو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بہترین مواقع ملیں گے۔

    آواران میں گورنمنٹ گرلز انٹر کالج کا قیام ایک سنگ میل ثابت ہوگا، جو خطے کی طالبات کے لیے علم کے دروازے کھولے گا۔ یہ کالج نہ صرف تعلیمی ترقی کے لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے بلکہ اس کے ذریعے بلوچستان کی بیٹیوں کو تعلیمی میدان میں مزید مواقع ملیں گے اور وہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں گی۔

    کالج کے افتتاح کے موقع پر ایک تعلیمی سیمینار منعقد کیا گیا جس میں مختلف اہم شخصیات نے شرکت کی۔ سیمینار میں ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری، عسکری حکام، مقامی عمائدین اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد موجود تھے۔ سیمینار کا مقصد تعلیمِ نسواں کی اہمیت پر روشنی ڈالنا تھا۔ اس دوران طالبات کو کتابوں کا تحفہ بھی پیش کیا گیا، تاکہ ان کی تعلیمی ترغیب بڑھ سکے۔اس تاریخی اقدام سے آواران میں تعلیمی انقلاب کا آغاز ہو رہا ہے، اور یہ بلوچستان کے عوام کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اب آواران کی طالبات کو اپنی تعلیم جاری رکھنے کے لیے کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، اور وہ اپنے مستقبل کے لیے ایک بہتر اور روشن راہ منتخب کر سکیں گی۔

    سپیشل افراد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی اقدامات

    صدر مملکت آصف زرداری کی پرتگال میں ترک صدر سے ملاقات

  • سپیشل افراد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی اقدامات

    سپیشل افراد کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کے خصوصی اقدامات

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے سپیشل افراد کی زندگیوں کو آسان بنانے کے لیے ایک اہم اقدام اٹھایا ہے۔ ان کی ہدایت پر ایک نیا منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت سپیشل افراد کو معاون آلات فراہم کیے جائیں گے۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے اپنے منفرد پروگرام کے ذریعے سپیشل افراد کے لیے معاون آلات کی فراہمی کا آغاز کیا ہے۔ ان آلات میں ویل چیئر اور آلہ سماعت شامل ہیں۔ اس اقدام سے سپیشل افراد کو روزمرہ کی زندگی میں آسانی ہوگی اور ان کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا ہوگی۔پنجاب بھر میں نقل و حمل کی صلاحیت سے محروم سپیشل افراد کو ویل چیئرز مفت فراہم کی جائیں گی۔ ویل چیئر کی فراہمی سے ان افراد کی نقل و حرکت میں آسانی ہوگی، جس سے ان کے لیے اپنے ارد گرد کی دنیا سے جڑنا اور روزانہ کے کاموں کو انجام دینا ممکن ہوگا۔

    سماعت سے محروم افراد کے لیے خصوصی آلہ سماعت بھی فراہم کیا جائے گا۔ اس آلے کی فراہمی سے ان افراد کی قوت سماعت میں بہتری آئے گی اور ان کی قوت گویائی بھی بہتر ہو سکے گی، جس سے ان کی زندگی میں بڑی تبدیلی آئے گی۔ سپیشل افراد معاون آلات کے لیے آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت نے ایک پورٹل https://adwc.punjab.gov.pk متعارف کرایا ہے جہاں سپیشل افراد گھر بیٹھے درخواست دے سکتے ہیں۔

    سپیشل افراد کو درخواست دینے کے لیے اپنے معذوری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوگی۔ معذور افراد کا شناختی کارڈ، بے فارم اور ڈسٹرکٹ ڈس ایبلٹی اسسمنٹ بورڈ سے جاری کردہ معذوری سرٹیفکیٹ درکار ہوگا۔سپیشل افراد یا ان کے خاندان والے معلومات کے لیے خصوصی ہیلپ لائن 1312 پر کال کر سکتے ہیں۔ اس ہیلپ لائن کے ذریعے انہیں معاون آلات اور دیگر متعلقہ خدمات کی معلومات فراہم کی جائے گی۔ سپیشل افراد اور ان کے خاندانوں کو مزید رہنمائی کے لیے متعلقہ اضلاع میں سوشل ویلفیئر کے ضلعی دفاتر سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف کا پیغام
    مریم نوازشریف نے کہا ہے کہ "سپیشل افراد بہت سپیشل اور قابل قدر ہوتے ہیں۔ ان کی بحالی اور بہتری کے لیے ہم اپنا عہد ضرور پورا کریں گے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "پاکستان کا پہلا سرکاری آٹزم سنٹر پراجیکٹ بھی جلد مکمل ہوگا، جس سے سپیشل افراد کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے گی۔”

    مریم نوازشریف نے یہ بھی بتایا کہ "ہمت کارڈ کا اجرا سپیشل افراد کو معاشی خود انحصاری کی طرف گامزن کرنے کے لیے کیا گیا ہے، تاکہ وہ اپنے حقوق اور مواقع کا بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔”یہ منصوبہ پنجاب میں سپیشل افراد کی فلاح و بہبود کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوگا اور ان کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لائے گا۔

    صدر مملکت آصف زرداری کی پرتگال میں ترک صدر سے ملاقات

  • صدر مملکت آصف  زرداری کی پرتگال میں ترک صدر   سے ملاقات

    صدر مملکت آصف زرداری کی پرتگال میں ترک صدر سے ملاقات

    پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے اپنے پرتگال کے دورے کے دوران ترکیہ میں مختصر قیام کیا، جہاں انہوں نے استنبول ایئرپورٹ پر ترکی کے صدر رجب طیب اردگان سے ملاقات کی۔

    ترک صدر رجب طیب اردگان نے صدر زرداری کا استنبول ایئرپورٹ پر شاندار استقبال کیا، جس دوران ترکیہ کے وزیر خارجہ حاکان فدان بھی موجود تھے۔ یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔ملاقات کے دوران، دونوں صدور نے دوطرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر زرداری اور ترک صدر اردگان نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر زور دیا۔

    صدر مملکت آصف علی زرداری اس وقت پرتگال کے دورے پر ہیں جہاں وہ پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرنے کے لیے وہاں موجود ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے پرنس آغا خان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔یہ قیام دونوں ممالک کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات کی عکاسی کرتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں مزید استحکام کا باعث بنے گا۔

    واضح رہے کہ چند روز قبل اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان 88 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے،برطانوی میڈیا کے مطابق پرنس کریم آغا خان کا انتقال پرتگال کے دارلحکومت لزبن میں 4 فروری کو ہوا تھا، پرنس شاہ کریم الحسینی اسماعیلی کمیونٹی کے 49ویں امام تھے

  • فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات،سلمان اکرم راجہ نہ پہنچے ،سماعت ملتوی

    فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات،سلمان اکرم راجہ نہ پہنچے ،سماعت ملتوی

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے مقدمات سے متعلق کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی۔

    جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کی،فوجی عدالت سے سزا یافتہ ملزمان کے وکیل سلمان اکرم راجہ سپریم کورٹ نہ پہنچ سکے،دورانِ سماعت وکیل رانا وقار نے کہا کہ سلمان اکرم راجہ ٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آج معلوم تھا راستے بند ہیں تو ٹائم پر نکل آتے، شاید سلمان اکرم راجہ چاہتے ہیں کہ ملزمان جیلوں میں سڑتے رہیں، اگر کیس نہیں چلانا چاہتے تو ان کی مرضی ہے۔

    جسٹس امین الدین نے سوال کیا کہ کیا دوسرے کسی بھی فریق کا کوئی وکیل ہے؟ عدالتی عملے نے ججز کو جواب دیا کہ کسی فریق کا کوئی وکیل نہیں پہنچ سکا،جسٹس مندوخیل نے کہا کہ رانا صاحب آپ بھی تو پہنچ گئے ہیں تو راجہ صاحب بھی پہنچ سکتے تھے، جسٹس امین الدین نے کہا کہ کیس سماعت کے لیے پکارا گیا، سلمان اکرم راجہ عدالت میں موجود نہیں تھے، فریق مقدمہ کے وکلاء میں سے کوئی دلائل دینا چاہے تو دے سکتا ہے، کیا ویڈیو لنک پر کوئی فریق مقدمہ کا وکیل ہے تو دلائل دے سکتا ہے۔ عدالتی عملے نے بتایا کہ ویڈیو لنک پر بھی کوئی وکیل موجود نہیں ہے،جس کے بعد جسٹس امین الدین نے کہا کہ ٹھیک ہے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دیتے ہیں۔

  • جوڈیشل کمیشن رکن سینیٹر علی ظفر  کا چیف جسٹس کو خط

    جوڈیشل کمیشن رکن سینیٹر علی ظفر کا چیف جسٹس کو خط

    سپریم کورٹ ججز کے بعد جوڈیشل کمیشن کے ایک اور رکن کا خط سامنے آ گیا

    جوڈیشل کمیشن رکن سینیٹر علی ظفر نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ دیا،سنیٹر علی ظفر نے جوڈیشل کمیشن اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کر دیا ، سینیٹر علی ظفر نے کہا کہ جب تک اسلام آباد ہائی کورٹ ججز سینارٹی کا معاملہ حل نہ ہو جائے اجلاس موخر کیا جائے،ججز کی ٹرانسفر سے اسلام آباد ہائی کورٹ کی سنیارٹی لسٹ تبدیل ہو گئی، ججز کے تبادلے سے تاثر ہے کہ سارا انتظام بانی پی ٹی آئی اور بشری بی بی کی اپیلوں کیلئے بندوبست کیا گیا ہے، مناسب ہوگا کہ ججز کی سنیارٹی کا مسئلہ حل ہونے تک کمیشن اجلاس موخر کیا جائے،کمیشن نے اگر اجلاس کرنا ہی ہے تو ٹرانسفر شدہ ججز کو زیرغور نہ لایا جائے،

  • وزیراعظم  کامتحدہ عرب امارات میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شرکت کا اعلان

    وزیراعظم کامتحدہ عرب امارات میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شرکت کا اعلان

    وزیراعظم پاکستان، شہباز شریف، 10 فروری 2025 کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے دو روزہ دورے پر روانہ ہوں گے جہاں وہ دبئی میں ہونے والے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ اس سمٹ میں عالمی رہنما، پالیسی ساز، اور ماہرین شرکت کریں گے۔

    وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام بھی ہوں گے۔ وزیراعظم اس سمٹ میں اہم خطاب کریں گے جس میں وہ پاکستان کی معیشت، ڈیجیٹل ترقی، اور حکومتی اصلاحات پر روشنی ڈالیں گے۔ وزیراعظم کے دورے کے دوران یو اے ای کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی طے ہیں، جن میں پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے مابین موجودہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ اس دورے میں وزیراعظم عالمی رہنماؤں، ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سی ای اوز سے بھی ملاقات کریں گے، جس سے دو طرفہ تعلقات میں مزید بہتری کی توقع ہے۔

    دفتر خارجہ نے اس دورے کو پاکستان اور یو اے ای کے درمیان موجودہ اقتصادی تعاون کے فروغ کے عزم کا ایک مظہر قرار دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد، بھائی چارے اور تعاون پر مبنی تعلقات ہیں۔

    وزیراعظم کا یہ دورہ یو اے ای کا دوسرا دورہ ہوگا، اور اس کا مقصد پاکستان اور یو اے ای کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ ترجمان نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور یو اے ای کی شراکت داری مضبوط اور کامیاب ہے، اور اس دورے کے دوران مزید اہم معاہدے اور تعاون کے امکانات پر بات چیت ہوگی۔وزیراعظم کے اس دورے سے دونوں ممالک کے درمیان مستقبل میں اقتصادی ترقی اور باہمی فائدے کے نئے راستے کھلنے کی توقع ہے۔

  • امریکی صدر  کے میڈیا آؤٹ لیٹس پر مقدمے

    امریکی صدر کے میڈیا آؤٹ لیٹس پر مقدمے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میڈیا آؤٹ لیٹس پر مقدمات کا سلسلہ مسلسل جاری ہے جس کی وجہ سے امریکہ میں آزادی صحافت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کے خلاف مختلف میڈیا کمپنیوں اور صحافتی اداروں نے مقدمات دائر کر رکھے ہیں، جن میں ہتک عزت کے کیسز اور دیگر قانونی مسائل شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مقدمات کامیاب ہو گئے تو اس سے آزادی صحافت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور یہ میڈیا کے کام کرنے کی آزادی کو محدود کر سکتا ہے۔ماہرین نے خبردار کیا کہ یہ مقدمات صرف میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش نہیں ہیں، بلکہ ان کا مقصد میڈیا کی جانب سے حقائق پر مبنی خبریں دینے میں رکاوٹ ڈالنا بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے میڈیا کا معیار متاثر ہونے کا امکان ہے اور صحافیوں کو خوف کی حالت میں کام کرنا پڑے گا۔

    دسمبر میں، ABC نیوز نے ہتک عزت کے کیس میں 16 ملین ڈالر کی ادائیگی کی تھی، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ٹرمپ کی قانونی ٹیم میڈیا اداروں کو دباؤ میں لانے کے لیے مقدمات کا استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ، CBS نیوز دوسری بڑی میڈیا کمپنی ہے جس کا ٹرمپ کے ساتھ مقدمہ چل رہا ہے۔

    ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ اگر یہ صورتحال اسی طرح جاری رہی تو اس سے امریکی میڈیا کی آزادی پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان مقدمات کے ذریعے میڈیا کو دباؤ میں لانے کی کوششیں نہ صرف صحافت کے معیار کو متاثر کریں گی بلکہ عوامی مفاد میں چلنے والی خبریں بھی مشکوک ہو سکتی ہیں۔یہ مقدمات آزادی صحافت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں اور امریکہ میں صحافت کے معیار اور آزاد رپورٹنگ کی حفاظت کے لیے اس مسئلے کا حل نکالنا ضروری ہو گیا ہے۔

  • نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا.تحریر:ملک شہباز

    بتاریخ 8 فروری 2025 بروزہفتہ ایکسپوسنٹر لاہور کتاب میلے میں محبت کرنے والوں کی طرف سے دعوت پر ڈاکٹر عمران مشتاق کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں شرکت کا موقع میسر آیا جہاں بچوں کے اکثر ادیبوں میں یہ نعرہ زبان زدعام نظر آیا ” نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” جس کا مفہوم و مطلب یہ بنتا ہے کہ کسی کام، خدمت یا مشن کو سراہے جانے یا اعزاز و اجرت ملنے کے بغیر خدمات کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے لیکن میری نظر میں یہاں معاملہ ذرا مختلف ہے۔
    ہمارے یہاں ہر کسی کے کام کو سراہا بھی جاتا ہے، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں نوازا بھی جاتا ہے اور محبت و الفت کے نذرانے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ اب گزشتہ روز کی تقریب کو ہی دیکھ لیا جائے تو راقم خود گواہی دے سکتا ہے کہ اس تقریب میں بہت سے اہلیان قلم کو ایوارڈز، شیلڈز و نقدی سے نوازا بھی گیا، ان کے کام کو سراہا بھی گیا حتی کہ جو خواتین و حضرات کسی مجبوری کے باعث تقریب میں شرکت کرنے سے قاصر تھے ان کا انعام و اعزاز، ایوارڈ و نقدی کی صورت میں کسی دوسرے ساتھی کو اس پابندی کے ساتھ تھمایا گیا کہ متلعقہ قلم کار تک امانت لازما پہنچ جائے۔

    اس کے باوجود اگر پھر بھی یہی کہا جائے کہ کوئی پذیرائی نہیں ہورہی، سراہا نہیں جارہا تو سراسر غلط ہے۔ جناب آپ کو تو ستائش و صلے کی ضرورت ہی نہیں تو پھر کیوں اعتراض کرتے ہیں کہ پذیرائی نہیں مل رہی۔بلکہ آپ کو تو ملنے والا ایوارڈ و نقدی بھی یہ کہہ کر واپس کردینی چاہیے کہ "نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا” لیکن اگر آپ وصولی بھی ڈال لیتے ہیں اور ڈھنڈورا بھی پیٹتے ہیں تو یہ آپ اپنے اس نعرے کے بھی الٹ سمعت میں جارہے ہیں اور جو لوگ محبت میں آپ کی پذیرائی کررہے ہیں، ایوارڈز و نقدی کی صورت میں آپ کے کام کی قدر کررہے ہیں اور کھڑے ہو کر آپ کو ویلکم کرکے آپ کی عزت افزائی کررہے ہیں ان کے ساتھ بھی سراسر زیادتی ہے۔

    آج اس دور میں جو وقت نکال کر دور دراز کا سفر کرکے آپ کی محبت میں پہنچ جائےکوئی کم تو نہیں۔ بھئی جتنا آپ کو سراہا جا رہا ہے اس پر اللہ کا شکر ادا کریں اور اپنا کام جاری و ساری رکھیں۔۔۔اور اگر آپ اپنے کام کے عوض تنخواہ چاہتے ہیں تو کوئی ملازمت اختیار کرلیں یا کوئی بزنس کرلیں۔۔۔۔۔اور دوسری بات کتابوں کے حوالے سے کہ آج کتاب کی قیمت پر بھی ذرا غور کریں۔۔۔۔آپ کتاب کو خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں یا کاروبار کےلیے؟ اکثر رائٹرز و پبلشرز نے تو کتاب کی قیمت اس قدر زیادہ رکھی ہوئی ہوتی ہے کہ کتاب قاری کی پہنچ سے ہی دور ہوچکی ہے۔ اگر آپ خدمت کےلیے لکھ رہے ہیں تو کتاب پر معقول مارجن رکھیں۔۔۔۔اڑھائی سو کی قیمت میں تیار ہونے والی کتاب کی قیمت اڑھائی ہزار لکھ کر آپ خدمت نہیں کاروبار کررہے ہیں۔ تھوڑا نہیں پورا سوچیے !
    اور سب سے اہم بات کہ یہ میری ذاتی رائے ہے ہر کسی کا متفق ہونا ضروری نہیں اختلاف کیا جاسکتا ہے مختلف لوگوں کی آراء مختلف ہوسکتی ہیں۔کوئی لفظ ناگوار گزرے تو شمع کیجئے گا۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو! آمین

  • لبنان، غزہ اور شام کے متاثرین کے لیے 22ویں امدادی کھیپ روانہ

    لبنان، غزہ اور شام کے متاثرین کے لیے 22ویں امدادی کھیپ روانہ

    وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی جانب سے لبنان، غزہ اور شام کے جنگ زدہ علاقوں میں متاثرین کی امداد کے لیے سامان کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ امدادی کھیپ کی روانگی کے بعد، جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ کراچی سے 23ویں کھیپ روانہ کی گئی ہے۔

    اس امدادی کھیپ میں 50 ٹن سامان شامل ہے، جس میں ڈبہ پیک گوشت، خشک دودھ، کمبل، کپڑے، خیمے اور گرم بستروں کا بڑا ذخیرہ شامل ہے۔ یہ امدادی سامان فلسطین کے متاثرین کے لیے روانہ کیا گیا ہے، جو غزہ میں جنگ کی شدت سے متاثر ہیں۔این ڈی ایم اے نے اب تک لبنان، غزہ اور شام کے لیے مجموعی طور پر 1 ہزار 803 ٹن امدادی سامان روانہ کیا ہے۔ یہ سامان انسانی ضروریات کو پورا کرنے اور متاثرہ افراد کی مدد کرنے کے لیے فراہم کیا جا رہا ہے۔

    حکومت پاکستان نے اپنے بین الاقوامی انسانی امداد کے پروگرام کو مزید بڑھانے اور جنگ زدہ عوام کی ضروریات کے مطابق امداد فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔ اس سلسلے میں امدادی سامان کی فراہمی کا عمل مسلسل جاری رکھا جائے گا، تاکہ لبنان، غزہ اور شام کے عوام کی حالت زار میں بہتری لائی جا سکے۔