Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خود کو پیغمبر کہنے،گھر میں جعلی کعبہ بنانے،خواتین کو جنت کی خوشخبری سنانے والا جعلی پیرگرفتار

    خود کو پیغمبر کہنے،گھر میں جعلی کعبہ بنانے،خواتین کو جنت کی خوشخبری سنانے والا جعلی پیرگرفتار

    جموں و کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں ایک جعلی پیر بابا عبد الرزاق کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس پر الزام ہے کہ وہ لوگوں کو دھوکہ دے رہا تھا، خاص طور پر مسلم خواتین کو "جنت کا راستہ” دکھانے کے بہانے سے فریب دے رہا تھا۔ عبد الرزاق نے اپنے جھوٹے دعووں اور دھوکہ دہی کے ذریعے علاقے میں کئی افراد کو اپنے جال میں پھانس لیا تھا۔

    عبد الرزاق نے مقامی لوگوں کے درمیان یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ نعوذ بااللہ، اللہ کے پیغمبر ہیں اور ان کے پاس خدائی طاقتیں ہیں۔ اس نے خود کو صوفی بزرگ نور الدین نورانی کا دوبارہ جنم قرار دیا تھا، اور کہا تھا کہ اس کے ذریعے لوگوں کی روحانی رہنمائی کی جا سکتی ہے۔ اس دعوے کے تحت، اس نے بڑی تعداد میں مسلم خواتین کو اپنی طرف مائل کر لیا تھا۔عبد الرزاق نے بارہمولہ میں اپنے مکان پر نعوذ بااللہ خانہ کعبہ بھی بنایا تھا، اس کا دعویٰ تھا کہ اللہ کے حکم سے وہ یہ کعبہ غریب مسلمانوں کے لیے بنا رہا ہے تاکہ وہ جو مکہ نہیں جا سکتے، وہاں عبادت کر سکیں۔ اس کے دعووں نے کئی لوگوں کو گمراہ کر لیا تھا اور ان کے دلوں میں اس کے بارے میں عقیدت پیدا کر دی تھی۔

    مقامی افراد کے مطابق، عبد الرزاق اپنے گھرمیں چرس اور گانجے کا استعمال کرتا تھا اور وہاں بیٹھ کر خواتین کو روحانی رہنمائی دینے کا دعویٰ کرتا تھا۔ اس نے ان خواتین کوتعویذدینے کا عمل شروع کیا تھا اور یہ کہا تھا کہ ان تعویذوں سے شفا ملتی ہے، عبد الرزاق کے ان تمام دعووں نے اسے علاقے میں ایک عارضی شہرت دے دی تھی، اور کئی خواتین اس سے مشورے لینے آتی تھیں۔اس کی حقیقت تب سامنے آئی جب صحافیوں نے اس کے منصوبے کا انکشاف کیا۔ کچھ صحافیوں نے اس سے مل کر اس کے بارے میں معلومات حاصل کیں، اور اس کا پردہ فاش کیا۔ ایک سوشل میڈیا ویڈیو میں صحافیوں نے عبد الرزاق کے جھوٹے دعووں کو بے نقاب کیا۔ ویڈیو کے بعد، مقامی لوگ اس جعلی پیئر بابا کے بارے میں مزید آگاہ ہو گئے۔

    ویڈیوز اور صحافیوں کی رپورٹ کے بعد، بارہمولہ کے مقامی گاؤں والوں نے اس کے گھر حملہ کر دیا اور اس کو نذر آتش کر دیا۔ گاؤں والے شدید غصے میں تھے اور انہوں نے اس جعلی پیئر بابا کے خلاف اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔ پولیس کو فوری طور پر اطلاع دی گئی اور عبد الرزاق کو گرفتار کر لیا گیا۔گاؤں کے بعض افراد نے عبد الرزاق کو ذہنی طور پر بیمار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کسی نفسیاتی بیماری کا شکار ہے اور اس کی ذہنی حالت غیر مستحکم ہے۔ کشمیر کے مولانا حضرات نے بھی اس معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عبد الرزاق کا بنائی گئی جعلی مسجد اور اس کے روحانی دعوے اسلام کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے دھوکہ دہی کے اقدامات اسلامی قوانین کے تحت ممنوع ہیں اور اسے کسی صورت بھی تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔

  • سندھ میں ثقافت ،سیاحت کے فروغ کیلیے ڈیزرٹ سفاری ٹرین عمر کوٹ پہنچ گئی

    سندھ میں ثقافت ،سیاحت کے فروغ کیلیے ڈیزرٹ سفاری ٹرین عمر کوٹ پہنچ گئی

    سندھ میں ثقافت اور سیاحت کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے ایک نئی کوشش کے طور پر "ڈیزرٹ سفاری ٹرین” کراچی سے روانہ ہو کر عمر کوٹ کے چھور ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی۔ اس تاریخی موقع پر صوبائی وزیر سید ذوالفقار علی شاہ نے ٹرین کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

    صوبائی وزیر نےخود بھی ٹرین میں سوار ہو کر اس منفرد سفر کا آغاز کیا۔ اس سفر میں مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیات بھی ٹرین میں موجود ہیں، جنہوں نے اس دورے کی اہمیت اور فوائد پر روشنی ڈالی۔چھور ریلوے اسٹیشن پر پہنچنے پر روایتی ملبوسات میں ملبوس بچوں نے ٹرین میں سوار مہمانوں کا گرمجوشی سے استقبال کیا، جس سے ٹرین کے سفر کی خوشی دوگنی ہو گئی۔کل صحرائے تھر کے مختلف اہم مقامات کی سیر کرائی جائے گی، جہاں مہمانوں کو سندھ کی ثقافت، تاریخ اور قدرتی خوبصورتی سے روشناس کرایا جائے گا۔ یہ ٹرین سفر سندھ کی ثقافت کو دنیا بھر میں متعارف کرانے اور سیاحت کے شعبے کو بڑھاوا دینے کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔

    یہ ٹرین سفر سندھ کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، اور امید کی جا رہی ہے کہ اس اقدام سے سندھ کے سیاحتی مقامات کی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو گی۔

  • صوابی جلسہ،شیر افضل مروت کی انٹری،پی ٹی آئی کارکنان کا بھرپور استقبال

    صوابی جلسہ،شیر افضل مروت کی انٹری،پی ٹی آئی کارکنان کا بھرپور استقبال

    پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے مابین اختلافات کی جھلک صوابی جلسے میں ایک بار پھر سامنے آئی۔ جلسے میں پارٹی کے اہم رہنماؤں کی موجودگی کے باوجود، کچھ واقعات نے پارٹی کے اندرونی اختلافات کو عیاں کر دیا۔

    سب سے پہلا واقعہ سابق وفاقی وزیر اعظم سواتی کا تھا، جو کہ جلسے میں شریک نہ ہوئے، اعظم سواتی چند روز قبل جیل سے رہا ہوئے تاہم جلسہ گاہ نہ پہنچے ان کی غیرموجودگی نے اس بات کی غمازی کی کہ پارٹی میں کچھ مسائل موجود ہیں، جو اس کی قیادت کے درمیان تذبذب پیدا کر رہے ہیں۔اس کے علاوہ، شیر افضل مروت جنہیں پی ٹی آئی قیادت عمران خان کے حکم پر شوکاز نوٹس جاری کر چکی ہے کو اسٹیج پر بیٹھنے کی جگہ ملنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ جب وہ جلسے میں داخل ہوئے، کارکنوں نے ان کا جوش و خروش سے استقبال کیا،بعد ازاں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اپنی تقریر سے قبل شیر افضل مروت کو اسٹیج پر لے آئے۔ وزیر اعلیٰ نے خطاب سے پہلے مائیک شیر افضل مروت کو دے دیا، جس پر انہوں نے مختصر خطاب کیا اور کہا کہ "ہم برے لوگ ہیں، برے وقت میں کام آتے ہیں، لیکن اچھے وقت میں ہمیں خاموش کروایا جاتا ہے۔”شیر افضل مروت کو وزیراعلیٰ نے اپنے ہمراہ کرسی پر بٹھایا

    شیر افضل مروت کی جلسہ گاہ آمد پر کئی پی ٹی آئی رہنما نالاں بھی نظر آئے اس ضمن میں سوشل میڈیا پر شیر افضل مروت کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنان مہم بھی چلا رہے ہیں کہ جب پارٹی نے شوکاز نوٹس جاری کیا ہوا تو وہ جلسے میں کیا کرنے گئے اور وزیراعلیٰ گنڈا پور نے شیر افضل مروت کو اتنا پروٹوکول کیوں دیاتاہم کئی کارکنان شیر افضل مروت کی جلسہ گاہ آمد کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ جب پارٹی مشکل میں تھی اور شیر افضل مروت کے علاوہ پارٹی کے لئے کوئی کھڑا نہیں ہو رہا تھا، شیر افضل مروت کی پارٹی کے لیے قربانیاں ہیں ،وہ پارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے ہیں اور انہیں جلسوں میں آنے کا حق ہے

    صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

  • یاسر عرفات  سہ ملکی سیریز کیلیے جنوبی افریقا کے سپورٹ اسٹاف میں شامل

    یاسر عرفات سہ ملکی سیریز کیلیے جنوبی افریقا کے سپورٹ اسٹاف میں شامل

    سابق پاکستانی آل راؤنڈر یاسر عرفات کو پاکستان میں ہونے والی سہ ملکی کرکٹ سیریز کے لیے جنوبی افریقا کے سپورٹ اسٹاف میں شامل کرلیا گیا ہے۔

    یاسر عرفات کو جنوبی افریقا کے بولنگ کنسلٹنٹ کے طور پر سپورٹ اسٹاف میں شامل کیا گیا ہے، جہاں وہ اپنی کرکٹ کی مہارت کو جنوبی افریقی ٹیم کے کھلاڑیوں کے ساتھ شیئر کریں گے۔یاسر عرفات نے لندن سے لاہور پہنچ کر جنوبی افریقی ٹیم کو جوائن کرلیا ہے اور قذافی اسٹیڈیم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقی ٹیم کے ساتھ کام کرنا میرے لیے ایک بہت اچھا موقع ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ سہ ملکی سیریز کے دوران مقامی کنڈیشنز سے اچھی طرح واقف ہیں، جس کی وجہ سے انہیں یہ موقع ملا ہے۔یاسر عرفات کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی لیگ اور کھلاڑیوں کی انجری کے باعث کچھ کھلاڑی دستیاب نہیں ہیں، لیکن نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ ایک بہترین موقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تجربہ کار کھلاڑیوں کا نہ ہونا فرق تو ڈالتا ہے لیکن نوجوان کھلاڑی بھی انتہائی ٹیلنٹڈ ہیں اور وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

    انہوں نے جنوبی افریقہ کے ڈریسنگ روم کی ایک خاص بات بھی شیئر کی، جس کے مطابق وہاں کا ماحول بہت ہی ریلیکس اور دوستانہ ہوتا ہے، جس کی بدولت کھلاڑیوں کو بہترین کرکٹ کھیلنے کا موقع ملتا ہے۔ یاسر عرفات نے کہا کہ سہ ملکی سیریز کے دوران چیمپئنز ٹرافی کی تیاریوں کے لیے یہ ایک بھرپور موقع ثابت ہوگا۔یاسر عرفات کا یہ کہنا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ تجربہ بھرپور فائدے کا باعث بنے گا، اس سے جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے لیے نئی توانائی اور جوش پیدا ہو گا۔

    صوابی احتجاج اور پی ٹی آئی کی رسوائی. تحریر: حنا سرور

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا سعودی عرب میں فلسطینی ریاست بنانے کا بیان

  • سیکورٹی اداروں کی کاروائی،خضدار سے اغوا ہونیوالی لڑکی بازیاب

    سیکورٹی اداروں کی کاروائی،خضدار سے اغوا ہونیوالی لڑکی بازیاب

    بلوچستان کے خضدار شہر میں اغوا ہونے والی نوجوان لڑکی عاصمہ جتک کو بلوچستان انتظامیہ اور خفیہ اداروں کی انتھک محنت کے نتیجے میں بازیاب کروا لیا گیا۔ اس کامیاب کارروائی میں ڈی سی خضدار یاسر اقبال دشتی، ڈی آئی جی سہیل خالد، ایس ایس پی خضدار جاوید زہری، اور اسسٹنٹ کمشنر خضدار عبدالحفیظ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور تفصیلات فراہم کیں۔

    سرکاری افسران نے بتایا کہ وزیر اعلی بلوچستان میرسرفراز بگٹی کی سخت نگرانی اور ہدایات کے تحت خضدار اور سوراب کی پولیس اور لیویز فورس نے دو راتوں کے دوران ایک کامیاب آپریشن کیا، جس میں 16 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا۔ آپریشن کے دوران چھاپہ مار ٹیم کو تمام تکنیکی سہولتیں فراہم کی گئیں تاکہ کاروائی میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ آئے۔آپریشن کے دوران، عاصمہ جتک کو زہری شہر سے 4 بجے کے قریب بازیاب کر لیا گیا۔ حکومت بلوچستان کے افسران نے اس بات کا یقین دلایا کہ جب تک مرکزی ملزم گرفتار نہیں ہوتا، انتظامیہ چین سے نہیں بیٹھے گی۔ عاصمہ جتک کو پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تاکہ لوگوں کو اس کارروائی کی کامیابی کا علم ہو سکے۔

    واضح رہے کہ خضدار میں این 25 شاہراہ سے متصل شہزاد سٹی میں واقعہ پیش آیا، جہاں 6 جنوری کو مسلح افراد نے عنایت اللہ جتک کے گھر پر حملہ کر کے ان کی بیٹی عاصمہ کو اغوا کر لیا۔ اغوا کے بعد، متاثرہ خاندان نے خضدار میں احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے تھے اور این 25 شاہراہ کو دو مقامات پر بند کر دیا تھا۔ پولیس نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی، مگر مذاکرات ناکام ہو گئے۔بعد میں، اغوا ہونے والی عاصمہ جتک اور مرکزی ملزم ظہور احمد کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں عاصمہ نے کہا کہ اسے اغوا نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی مرضی سے ظہور احمد کے ساتھ گئی تھی۔ اس ویڈیو میں ظہور احمد نے بھی یہی بیان دیا کہ عاصمہ نے خود اسے بلایا تھا اور وہ اپنی مرضی سے اس کے ساتھ گئی۔ تاہم، عاصمہ کی بہن نے اس ویڈیو کے جواب میں ایک اور ویڈیو جاری کی، جس میں اس نے ملزم کے بیانات کو مسترد کیا اور حکومت و انتظامیہ پر تنقید کی۔

    بلوچستان حکومت اور انتظامیہ نے اس معاملے میں مزید کارروائیاں کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور یہ واضح کیا ہے کہ جب تک ملزمان کی گرفتاری نہیں ہو جاتی، وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ اس سلسلے میں مزید چھاپے مارے جائیں گے تاکہ تمام ملزمان کو گرفتار کیا جا سکے اور انصاف کا عمل مکمل ہو سکے۔

    یہ واقعہ بلوچستان میں عوامی تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے حوالے سے انتظامیہ کی کامیاب حکمت عملی کا غماز ہے اور عاصمہ جتک کی بازیابی سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ بلوچستان انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔

    پنجاب اسمبلی میں منعقدہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس اختتام پذیر

    ہتھیار کو ہمارے اوپر استعمال کرو گے تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں،گنڈاپور کی دھمکی

  • پنجاب اسمبلی میں منعقدہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس اختتام پذیر

    پنجاب اسمبلی میں منعقدہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی کانفرنس اختتام پذیر

    پنجاب اسمبلی میں منعقدہ دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (CPA) کی ایشیا ءاور جنوب مشرقی ایشیا ءکی 2 روزہ کانفرنس اختتام پذیر ہو گئی، جس کے اختتام پر چارٹر آف لاہور کی منظوری دی گئی۔

    قائمقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔کانفرنس میں جمہوری روایات، آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی، موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے، خواتین، نوجوانوں اور اقلیتوں کے لیے مؤثر قانون سازی، آرٹیفیشل انٹیلی جنس اور سوشل میڈیا کے ضابطے کے لیے مشترکہ تعاون پر زور دیا گیا۔پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی پہلی مشترکہ ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیا ءکی علاقائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے سماجی و اقتصادی اثرات، جدید پالیسی سازی، پارلیمانی سفارت کاری، علاقائی تعاون اور مقامی حکمرانی کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔ غلط معلومات، نفرت انگیز تقاریر اور ڈیجیٹل بدعنوانی کے خاتمے کے لیے متحد کوششیں درکار ہیں۔سپیکر نے جمہوری اصولوں، آئینی اقدار، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور احتساب کے نظام کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی اہمیت اجاگر کی۔

    اس موقع پر ملک محمد احمد خان نے دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (CPA) کی پہلی مشترکہ ایشیا ءاور جنوب مشرقی ایشیاء کی علاقائی کانفرنس میں ” چارٹر آف لاہور ”پیش کیا، جسے متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔انہوں نے کہاکہ ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ پارلیمان جامع طرز حکمرانی، احتساب، اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے اور ہمیں مشتر کہ قانون سازی، جدید پالیسی سازی، اور بین الپارلیمانی تعاون کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی، سماجی و اقتصادی عدم مساوات، اور تکنیکی ترقی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا ہے۔ چارٹر آف لاہور میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ پارلیمانی سفارت کاری، علاقائی تعاون، اور پائیدار امن کو فروغ دیا جائے گا، مقامی حکمرانی کے ڈھانچے کو با اختیار بنایا جائے گا۔ تا کہ مساوی ترقی یقینی بنائی جا سکے، غلط معلومات، نفرت انگیز تقریر، اور ڈیجیٹل بد عنوانی کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے صحت تعلیم، اور پائیدار ترقی کے اہداف پر قانون سازی کو فروغ دیا جائے گا، خواتین نو جوانوں، معذور افراد، اور اقلیتوں کی پارلیمانی عمل میں مساوی شرکت یقینی بنائی جائے گی، ماحولیاتی تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور سرحد پار تعاون کو فروغ دیا جائے گا، مصنوعی ذہانت (AI) اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے اخلاقی اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنایا جائے گا، پارلیمانی اداروں کو مستحکم کرنے کے لیے استعداد کار میں اضافے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

    پنجاب اسمبلی کے سپیکر ملک محمد احمد خان نے دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (CPA) ایشیا ریجن کے اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے معزز سپیکرز کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان دونوں علاقائی اسمبلیوں کو CPA ایشیا کے مشاہدہ کار کے طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ آزاد جموں و کشمیر کے دیرینہ مسئلے کے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونے کے بعد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی حقیقی نمائندہ اسمبلیاں دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گی۔سپیکر پنجاب اسمبلی نے اس موقع پر اس پیشرفت کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ دونوں اسمبلیاں جلد مکمل رکنیت حاصل کریں تاکہ وہ عالمی پارلیمانی برادری میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

    دولت مشتر کہ پارلیمانی ایسوسی ایشن (CPA) کی پہلی مشتر کہ ایشیاء اور جنوب مشرقی ایشیا ءکی علاقائی کا نفرنس کے اختتام پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل سی پی اے جاروس ماتیا (Jarvis Matiya) نے کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر ووٹ آف تھینکس پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس بین الاقوامی پارلیمانی تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی ہے۔ تمام مندوبین کی فعال شرکت اور گہری وابستگی نے اس اجتماع کو کامیاب بنایا۔ سری لنکا کے ممبر آف پارلیمنٹ محمد ملا فرمحمد منیر نے بھی کا نفرنس کے انعقاد پر اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ” یہ اجلاس خطے کے قانون سازوں کو ایک دوسرے کے تجربات سے سیکھنے اور باہمی تعاون کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ پاکستان کی میز بانی اور اس ایونٹ کے بہترین انتظامات پر میں تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔

    ”پاہنگ اسٹیٹ قانون ساز اسمبلی ملائیشیا کے سپیکر دا تو سری حاجی موحد شر کار بن حاجی شمس الدین نے بھی اپنے خطاب میں کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ” یہ اجتماع ہماری مشتر کہ جمہوری اقتدار کوفروغ دینے اور پارلیمانی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ اس پلیٹ فارم نے ہمیں عالمی مسائل پر گفتگو کا موقع دیا، جو ہمارے عوام کے بہتر مستقبل کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس موقع پر دا تو سری حاجی موحد شر کار بن حاجی شمس الدین نے کانفرنس میں شریک سپیکرز کا تعارف بھی کروایا اور ان کی شرکت کو بین الاقوامی پارلیمانی سفارت کاری کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دیا۔

    ووٹ آف تھینکس کے دوران مندوبین نے اس بات پر زور دیا کہ پارلیمانی تعاون، قانون سازی کے تجربات کا تبادلہ، اور مشتر کہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے علاقائی و عالمی سطح پر رابطے کو مزید فروغ دینا نا گزیر ہے۔ تقریب کے اختتام پر غیر ملکی مندوبین نے کامیاب کانفرنس کے انعقاد پر سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان کا شکریہ ادا کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ دولت مشترکہ ممالک کے مسائل کے حل کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔

    قبل ازیں کانفرنس دوسرے روز بلدیاتی نظام کے حوالے سے قانون سازی، موسمیاتی تبدیلیوں اور ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے قانون سازی، پارلیمانی اصلاحات, مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل تعاون اور سوشل میڈیا گورننس،صحت اور تعلیم: جامع سماجی ترقی کے حوالے سے الگ الگ اجلاس ہوئے جن میں ڈپٹی سپیکر برطانوی ہاؤس آف کامنز نصرت غنی، سینیٹر انوشا رحمان، سینیٹر رانا محمود الحسن، سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان،سپیکر کے پی کے بابر سلیم،سپیکر گلگت بلتستان نزیراحمد، سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب،صوبائی وزراء ذیشان رفیق، خواجہ سلمان رفیق، صوبائی وزیر سکول ایجوکین رانا سکندر حیات،ممبر زقومی اسمبلی خواجہ اظہار الحسن، سردار اویس دریشک،منزہ حسین، سید نوید قمر، رکن بلوچستان اسمبلی فرح عظیم، رکن سندھ اسمبلی مخدوم فرخ زمان، اراکین پنجاب اسمبلی احمد اقبال، ذوالفقار علی شاہ، نوشین عدنان،سابق وفاقی وزیر خرم دستگیر اور دیگر نے خیالات کا اظہار کیا۔

  • اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا سعودی عرب میں فلسطینی ریاست بنانے کا بیان

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا سعودی عرب میں فلسطینی ریاست بنانے کا بیان

    اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے دورہ امریکہ کے دوران اسرائیلی میڈیا کو ایک انٹرویو میں فلسطینی ریاست کے قیام کے بارے میں غیر روایتی اور متنازعہ بیان دیا ہے۔

    نیتن یاہو نے کہا کہ 2 ریاستی حل فلسطین کے مسئلے کا حل نہیں ہے، بلکہ یہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، سعودی عرب کے پاس وسیع اراضی موجود ہیں، اور وہ وہاں فلسطینی ریاست قائم کر سکتے ہیں۔نیتن یاہو نے اپنے موقف میں مزید کہا کہ فلسطینیوں کے پاس پہلے ایک ریاست تھی جسے غزہ کہا جاتا ہے، جو کہ حماس کے زیر قبضہ ہے، اور 7 اکتوبر کو وہاں کیا ہوا، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ فلسطینی ریاست اسرائیل کے لیے خطرناک ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات کے بارے میں کہا کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان امن جلد قائم ہو جائے گا۔

    اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان پر مصر نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ مصر نے کہا ہے کہ یہ اسرائیلی بیان سعودی عرب کی خودمختاری کے خلاف ہے اور سعودی عرب کی سلامتی مصر کی "ریڈ لائن” ہے۔ مصر کے مطابق سعودی عرب کا موقف فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول پر لانے کا نہیں ہے۔

    سعودی وزارت خارجہ نے بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے معمول پر آنے کے بارے میں اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر سعودی عرب اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کرے گا۔ سعودی عرب کا موقف ہمیشہ مضبوط اور غیر متزلزل رہا ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام اس کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے۔

    قبل ازیں امریکی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا غزہ کی پٹی پر قبضہ کرلے گا، جس سے علاقے میں استحکام لانے اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی امید ہے۔ اس بیان پر عالمی برادری میں غم و غصہ پایا گیا، اور اقوام متحدہ سمیت مختلف ممالک نے اس کی مخالفت کی۔

    سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے ٹرمپ کے بیان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ کو ایک خط لکھا جس میں کہا کہ فلسطینی عوام غیر قانونی تارکین وطن نہیں ہیں، جنہیں بے دخل کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر فلسطینیوں کو غزہ سے منتقل کرنا ہے تو انہیں ان کے آبا اجداد کے علاقوں میں بھیجا جائے جہاں وہ پہلے آباد تھے، جیسے جافا، حیفہ اور دیگر علاقے۔شہزادہ ترکی الفیصل نے خط میں مزید کہا کہ فلسطینیوں کے حقوق اور ان کی زمینیں ان کے حق میں ہیں، اور وہ دوبارہ اپنی تباہ شدہ جائیدادوں کو تعمیر کر سکتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غزہ کے بیشتر لوگ پناہ گزین ہیں جنہیں 1948 اور 1967 کی جنگوں میں اسرائیل نے بے دخل کیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینیوں کو ان کا حق خود ارادیت اور ریاست دینے کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے۔

    اس وقت فلسطین اور اسرائیل کے تعلقات میں شدید کشیدگی ہے، اور عالمی سطح پر اس معاملے کے حل کے لیے مختلف تجاویز سامنے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال میں سعودی عرب کا موقف اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ اس کا کردار فلسطین کے معاملے میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

  • سہ ملکی سیریز،پہلا میچ،نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے دی

    سہ ملکی سیریز،پہلا میچ،نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دے دی

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان سہ ملکی سیریز کے پہلے میچ میں نیوزی لینڈ نے پاکستان کو 78 رنز سے شکست دی۔ لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلے گئے اس میچ میں نیوزی لینڈ نے 331 رنز کا ہدف دیا، جس کے جواب میں پاکستان کی پوری ٹیم 48 اوورز میں 252 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔

    نیوزی لینڈ کی اننگز: نیوزی لینڈ کے کپتان مچل سینٹنر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ ول ینگ اور رچن رویندرا نے اننگز کا آغاز کیا، تاہم شاہین آفریدی نے ابتدائی اوورز میں ہی ول ینگ کو آؤٹ کر کے پاکستان کو پہلی کامیابی دلا دی۔ اس کے بعد 39 رنز کے مجموعی اسکور پر ابرار احمد نے رچن رویندرا کو آؤٹ کر کے پاکستان کی پوزیشن مزید مستحکم کی۔

    کین ولیمسن اور ڈیرل مچل نے ذمہ دارانہ بیٹنگ کی اور اسکور کو آگے بڑھایا، لیکن 134 رنز پر شاہین آفریدی نے کین ولیمسن کو 58 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد ٹوم لیتھن بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹ گئے۔اس کے بعد ڈیرل مچل اور گلین فلپس نے شاندار بیٹنگ کا مظاہرہ کیا اور نیوزی لینڈ کو 50 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 330 رنز تک پہنچایا۔ گلین فلپس نے 72 گیندوں پر 106 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی، جبکہ ڈیرل مچل نے 81 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔

    پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی نے 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ابرار احمد نے 2 اور حارث رؤف نے 1 کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔ حارث رؤف اپنے ساتویں اوور کے دوران درد کی شکایت کے باعث میدان سے باہر چلے گئے۔

    پاکستان کی اننگز: 331 رنز کے ہدف کے تعاقب میں فخر زمان نے جارحانہ آغاز کیا، لیکن اس کے بعد بابر اعظم (10)، کامران (18) اور محمد رضوان (3) جلد ہی پویلین لوٹ گئے۔ فخر زمان نے 69 گیندوں پر 84 رنز کی دلکش اننگز کھیلی، لیکن اس کے بعد ان کا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا۔سلمان آغا 40 اور طیب طاہر 30 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، لیکن پاکستان کی ٹیم 252 رنز پر آل آؤٹ ہو گئی۔ حارث رؤف بیٹنگ کے لیے نہ آ سکے، اور یوں پاکستان کو 78 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

    نیوزی لینڈ کی بولنگ: نیوزی لینڈ کی طرف سے میٹ ہینری اور مچل سینٹنر نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3، 3 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ بریسویل نے 2 وکٹیں حاصل کیں۔

    اب اس سہ ملکی سیریز کا اگلا میچ نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقا کے درمیان پیر کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔

  • ہتھیار کو ہمارے اوپر استعمال کرو گے تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں،گنڈاپور کی دھمکی

    ہتھیار کو ہمارے اوپر استعمال کرو گے تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں،گنڈاپور کی دھمکی

    صوابی: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے تحریک انصاف کے یومِ سیاہ کے موقع پر ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر ہم نے بدلہ لینے کا سوچ لیا تو وہ تم لوگ برداشت نہیں کر سکو گے۔ اگر نفرتوں کو بڑھایا گیا تو اس کا پاکستان کو شدید نقصان ہوگا۔

    آج تحریک انصاف کے کارکنوں نے عام انتخابات کا ایک سال مکمل ہونے پر صوابی میں ایک جلسہ کیا۔ جلسے کا مقصد گزشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کا مینڈیٹ چوری کرنے کے حوالے سے احتجاج کرنا تھا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کا کہنا تھا کہ عمران خان کی قیادت میں ہم آگے بڑھیں گے اور جیتیں گے، عمران خان جیل میں بیٹھ کر جیت گیا ہے۔ چھوڑ دو ان مینڈیٹ چوروں کا ساتھ، آؤ پاکستان کے لیے پاکستان کے عوام کی آواز سنو۔ ہم حق مانگتے ہیں، آئین کا تحفظ مانگتے ہیں،اگر تم بات چیت کے لیے تیار نہیں تو جواب دینا ہمیں بھی آتا۔ اگر تم ہمارے ہی دیے گئے ٹیکس کے پیسوں سے لیے گئے ہتھیار کو ہمارے اوپر استعمال کرو گے تو ہتھیار ہمارے پاس بھی ہیں،

    جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ 8 فروری کو عوام نے تحریک انصاف کے بانی کو اکثریت دلائی تھی، مگر بدقسمتی سے رات کی تاریکی میں ہمارے مینڈیٹ کو چوری کر لیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے حق کو سلب کرنا غیر جمہوری عمل ہے اور تحریک انصاف اس ظلم کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

    پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صوبائی صدرجنید اکبر نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ حکومت دلوں پر راج نہیں کرتی۔ انھوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کی جدوجہد اداروں کو مضبوط بنانے اور قانون کی حکمرانی کے لیے جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ادارے مضبوط نہیں ہوں گے، ملک ترقی نہیں کر سکتا۔

    پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے کہا کہ وہ موجودہ حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے جعلی حکومت قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کی ترقی کے لیے حقیقی جمہوریت اور سچے حکمرانوں کی ضرورت ہے۔

    مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ علامہ راجا ناصر عباس نے بھی اس جلسے میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا مینڈیٹ چھینا گیا اور اس کے خلاف احتجاج ضروری تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی اور جمہوریت کے لیے تمام جماعتوں کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا اور ہم سب کو آئین کی بالادستی کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی۔

    اس موقع پر پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان میں آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی مضبوطی کے لیے ہر فرد کو اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین کی پاسداری ملک کی ترقی اور عوام کے حقوق کی ضمانت ہے۔

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن لاہور کی تقریب حلف برداری

  • پاکستان ملی لیبر فیڈریشن لاہور کی تقریب حلف برداری

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن لاہور کی تقریب حلف برداری

    پاکستان ملی لیبر فیڈریشن لاہور کی تقریب حلف برداری کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستان ملی لیبر فیڈریشن ڈسٹرکٹ و ڈویژن لاہور کے علاوہ، ملی کار ٹرانسپورٹرز اینڈ ڈرائیور فیڈریشن لاہور، ملی کار ڈیلر فیڈریشن لاہور، اور ملی کار رینٹ اے کار فیڈریشن لاہور کے عہدیدار وں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھایا۔

    مرکزی سیکرٹریٹ چوبرجی میں ہونے والی تقریب میں پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے صدر میاں غلام مصطفی نے نومنتخب عہدیداروں سے حلف لیا ۔حلف اٹھانے والوں میں پاکستان ملی لیبر فیڈریشن پنجاب کے صدر عبدالمجید سالک، لاہور ڈویژن کے چیف کوآرڈینیٹر محمد اسلم خان، صدر چوہدری ابوہریرہ، ضلع لاہور کے چیئرمین میاں ریاض، جنرل سیکرٹری محبوب عالم سندھو، ملی کار ٹرانسپورٹرز اینڈ ڈرائیورز فیڈریشن لاہور کے صدر ابودردا سلیم، ملی کارڈیلر لاہور کے سرپرست اعلیٰ محمد آصف بٹ، چیئرمین میاں شفیق، صدر اویس سلیم، جنرل سیکرٹری چوہدری ابرار، ملی کار رینٹ اے کار فیڈریشن لاہور کے صدر عامر بٹ کے علاوہ دیگر عہدیداران بھی شامل تھے۔ اس موقع پر پاکستان ملی لیبر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری رانا جبران،ٹرانسپورٹرز، کارڈیلرز اور سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی کثیر تعداد موجود تھی۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے میاں غلام مصطفی نے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور کہا کہ ملی لیبر فیڈریشن لاہور کے نومنتخب عہدیداران کو ملازمین و محنت کش طبقے کے حقوق کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کا اپنے حقوق کے لیے پرامن احتجاج کرنا ان کا آئینی و قانونی حق ہے، جسے کسی بھی صورت میں ختم نہیں جا سکتا۔ انہوں نے چیف سیکرٹری کے سرکاری ملازمین کے احتجاج کو روکنے کے لیے دیے گئے حکم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف سیکرٹری نے احتجاج روکنے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے تو اس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری خودچیف سیکرٹری پر ہوگی۔

    رانا جبران نے کہا کہ ملی لیبر فیڈریشن ملازمین و محنت کش طبقہ کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہے گی اور اس کے لیے تمام تر آئینی و قانونی راستوں کو اپنایا جائے گا۔ ان کے حقوق اور فلاح و بہبود کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور ہر سطح پر ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے سرکاری ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات نہ کیے تو فیڈریشن اس مسئلے پر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کرے گی۔ملی لیبر فیڈریشن ہر ڈیپارٹمنٹ میں لیبر کے لیے فلاح و بہبود کا کام جاری رکھے گی۔