Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں کشمیر پر خصوصی پالیسی دستاویز جاری

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں کشمیر پر خصوصی پالیسی دستاویز جاری

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں کشمیر پر خصوصی پالیسی دستاویز جاری کر دی گئی

    نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز، ریسرچ اینڈ اینالیسس نے 4 فروری 2025 کو اپنا اسٹریٹجی پیپر جاری کیا ، دستاویز کا عنوان "کشمیر پر اسٹریٹجک راستوں کی تلاش” ہے،یہ تحقیق معروف قانون دان جمال عزیز نے تحریر کی ہے، جو ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لا کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور این ڈی یو میں سینٹر آف ایکسیلینس فار انٹرنیشنل لا کے ڈائریکٹر ہیں،اس پالیسی دستاویز میں کشمیر کے بدلتے ہوئے اسٹریٹجک منظرنامے کا تجزیہ کیا گیا ہے، دستاویز میں پاکستان کے لیے پالیسی سفارشات بھی پیش کی گئی ہیں،تقریبِ رونمائی این ڈی یو میں منعقد ہوئی،سینیٹر مشاہد حسین سید نے بطور مہمانِ خصوصی تقریب ِ رونمائی میں شرکت کی

    تقریب کا آغاز ISSRA کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل محمد رضا اعزاز (ہلال امتیاز)، کی تقریر سے ہوا، جس کے بعد جمال عزیز نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی،تقریب میں ڈسکشن پینل بھی شامل تھا، جس کا موضوع "مستقبل کی تشکیل: پاکستان کی کشمیر پالیسی کے لیے اسٹریٹجک ترجیحات” تھا،یہ مباحثہ جمال عزیز نے ماڈریٹ کیا، جبکہ پینل میں لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عامر ریاض، محترمہ فرزانہ یعقوب، مشرف زیدی اور اسد رحیم خان شامل تھے،پینل کے ممبران نے پاکستان کی کشمیر پالیسی کے اسٹریٹجک ترجیحات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا،تقریب میں سیاستدانوں، سرکاری عہدیداران، سینئر فوجی افسران، تھنک ٹینکس اور دفاعی اداروں کے نمائندگان، میڈیا ماہرین، وکلاء، ماہرین تعلیم، اور این ڈی یو کے سابق طلباء سمیت ایک ممتاز اجتماع شریک تھا،اس کے علاوہ، صدر این ڈی یو، لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار (ہلال امتیاز) نے بھی تقریب میں شرکت کی

    یہ ISSRA اسٹریٹجی پیپر پاکستان کی کشمیر پالیسی کے درمیانی اور طویل مدتی آپشنز کا تجزیہ اور مستقبل کے لیے ایک اسٹریٹجک سمت تجویز کرتا ہے،یہ تحقیق ایک سال کی محنت کا نتیجہ ہے، جس میں وسیع مشاورت، متعدد مرحلوں پر نظرثانی، اور گہری تجزیاتی جانچ شامل ہے،تحقیق میں کشمیر کی متنازع حیثیت کو بین الاقوامی قانون کے تحت برقرار رکھنے، بھارت کے یکطرفہ اقدامات کا مؤثر جواب دینے اور عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کی پوزیشن کو مضبوط کرنے پر زور دیا گیا ہے

    مباحثے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ؛” پاکستان کو کشمیر کے حل میں مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے”مسئلہ کشمیر کا ایسا حل تلاش کرنا ہوگا جو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ، سیاسی طور پر قابلِ عمل، اور پاکستان کے اسٹریٹجک مفادات اور کشمیری عوام کی امنگوں سے ہم آہنگ ہو،

    یہ اسٹریٹجی پیپر ایک عملی اور قابلِ عمل پالیسی دستاویز کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جو بدلتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی حالات میں پاکستان کی سفارتی، اسٹریٹجک، اور قانونی حکمتِ عملی کی راہ متعین کرے گا

  • اینکرز ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ  کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

    اینکرز ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا

    پاکستان میں میڈیا کی آزادی کے حوالے سے ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے، جب اینکرز ایسوسی ایشن نے پیکا ایکٹ میں حالیہ ترمیم کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

    سینئر اینکر پرسنز حامد میر، نسیم زہرہ، عدنان حیدر اور امیر عباس نے اس درخواست پر دستخط کیے ہیں، جس میں پیکا ایکٹ کی اس ترمیم کو غیر آئینی قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔یہ درخواست صدر اسلام آباد ہائی کورٹ بار ریاست علی آزاد اور عمرآن شفیق ایڈوکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ پیکا ایکٹ میں کی گئی ترمیم میڈیا کی آزادی پر قدغن لگاتی ہے اور یہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔اس درخواست کو مستند بنانے کے لیے سینئر اینکرز نے بائیو میٹرک تصدیق بھی کروا لی ہے، جو قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ضروری تھی۔ ان اینکرز کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے میڈیا کی آزادی پر غیر ضروری پابندیاں عائد ہو رہی ہیں، جو پاکستان کے آئین کے مطابق نہیں ہیں۔

    اس درخواست کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس سے میڈیا کی آزادی اور صحافت کے آئینی حقوق پر ایک بڑی بحث شروع ہو سکتی ہے۔اینکرز ایسوسی ایشن نے اس قدم کو ایک اہم نوعیت کا اقدام قرار دیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ میڈیا کی آزادی کے تحفظ کے لیے تمام قانونی حربے استعمال کریں گے۔

    پی ایف یو جے نے پیکا ترمیمی ایکٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    لاہور ہائیکورٹ،پیکا ترمیمی ایکٹ کیخلاف درخواست پر نوٹس جاری

    پیکا قانون کے تحت مقدمات درج، ایک شخص گرفتار

    حکومتی نمائندوں کا پیکا قانون سازی پر جلد بازی کا اعتراف

  • کراچی،شادی کیلئے آئی امریکی خاتون کی قانونی مشکلات میں اضافہ

    کراچی،شادی کیلئے آئی امریکی خاتون کی قانونی مشکلات میں اضافہ

    کراچی میں ایک امریکی خاتون کے لئے قانونی پیچیدگیاں بڑھ گئی ہیں۔ اونیجا اینڈریو رابنسن، جو نیویارک کی رہائشی ہیں، نے 11 اکتوبر 2024 کو کراچی اپنے پاکستانی دوست کی محبت میں ایک ماہ کے سیاحتی ویزے پر سفر کیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ پاکستانی ویزے کی میعاد ختم ہونے کے باوجود کراچی میں مقیم رہی ہیں۔ خاتون کو 10 نومبر تک پاکستان چھوڑ دینا تھا مگر انہوں نے واپس جانے سے انکار کر دیا اور کئی ماہ کراچی میں رہیں۔

    خاتون کا پاکستانی ویزا اور ریٹرن ٹکٹ بھی ختم ہوگیا تھا، اور جب انہوں نے جنوری کے وسط میں کراچی ایئرپورٹ پر داخل ہونے کی کوشش کی تو سکیورٹی نے انہیں روک لیا۔ اے ایس ایف نے خاتون کو ایئرپورٹ پولیس کے حوالے کر دیا تھا، جس کے بعد گورنر سندھ کی مداخلت پر 27 جنوری کو 15 دن کا ایگزٹ پرمٹ جاری کیا گیا تھا۔ ایک فلاحی ادارے نے خاتون کے امریکی ریٹرن ٹکٹ کا بندوبست کیا، تاہم 29 جنوری کو جب خاتون کو واپس بھیجا گیا تو انہوں نے اچانک سفر سے انکار کر دیا۔خاتون نے ایئرپورٹ پر تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد ایئر لائن اسٹاف سے شکایت کی کہ وہ انہیں زبردستی واپس بھیج رہے ہیں، جس کے بعد ایئر لائن نے خاتون کو آف لوڈ کر دیا۔ اس کے بعد خاتون نے ایک ٹیکسی لے کر کراچی کے گارڈن علاقے میں نوجوان کے اپارٹمنٹ کے قریب رہنا شروع کیا اور کئی روز تک وہیں قیام کیا۔

    بعد ازاں پولیس نے خاتون کو ایک فلاحی ادارے کے حوالے کیا جہاں اس کی طبیعت ناساز ہوئی اور اسے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ اس وقت خاتون سخت سکیورٹی میں جناح اسپتال میں زیر علاج ہے۔

    ایف آئی اے امیگریشن حکام نے گزشتہ روز جناح اسپتال میں خاتون سے ملاقات کی اور انہیں قانونی پیچیدگیوں سے آگاہ کیا۔ حکام کے مطابق خاتون کا 15 دن کا ایگزٹ پرمٹ 11 فروری 2025 کو ختم ہو جائے گا۔ اگر خاتون 11 فروری تک پاکستان واپس نہیں گئی تو اس کے خلاف فارن ایکٹ 1946 کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اس صورت میں خاتون کو غیر قانونی قیام کی پاداش میں گرفتار کیا جا سکتا ہے اور عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ خاتون کو پاکستان سے ڈی پورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ تاہم، اگر حکومت چاہے تو خاتون کے ایگزٹ پرمٹ میں مزید توثیق کی جا سکتی ہے اور اسے واپس جانے کا ایک اور رضاکارانہ موقع دیا جا سکتا ہے۔

    کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین پر قبضہ ،نیب کا نوٹس،تحقیقات

    امریکی صدر نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

  • کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین پر قبضہ ،نیب کا نوٹس،تحقیقات

    کراچی پورٹ ٹرسٹ کی زمین پر قبضہ ،نیب کا نوٹس،تحقیقات

    قومی احتساب بیورو (نیب) نے ’کراچی بندرگاہ کی اربوں کی اراضی پر قبضہ‘ کا نوٹس لیا ہے، جس میں کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی 1448 ایکڑ اور پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) کی 30 ایکڑ اراضی پر تجاوزات قائم ہونے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس اراضی کی مالیت اربوں روپے بتائی گئی ہے۔

    نیب کے ایک سینئر اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بیورو پہلے ہی کراچی میں سرکاری اراضی پر قبضوں کے معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قبل سندھ میں جنگلات کی اراضی پر ہونے والے غیر قانونی قبضے کو واگزار کرایا گیا تھا، جس کی مالیت تین ہزار ارب روپے تھی۔ نیب کراچی نے اس مسئلے پر باضابطہ انکوائری کے لئے اس نمائندے سے مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق، کراچی کی ساحلی پٹی پر موجود مہنگی زمینوں پر بھی تجاوزات قائم کی گئی ہیں، جن میں سے ایک بڑے حصے پر حکومتی جماعتوں کے سیاستدان قابض ہیں، جبکہ 350 ایکڑ اراضی خود سندھ حکومت کے زیر قبضہ ہے۔ وزارت دفاع کے ذرائع کے مطابق، یہ مسئلہ پاکستان کے میری ٹائم سیکٹر کے وسیع تر منصوبے کے تحت وزیراعظم شہباز شریف کی توجہ میں لایا گیا تھا۔ تجاوزات سے نہ صرف وفاقی حکومت کی آمدنی متاثر ہو رہی ہے، بلکہ پورٹ آپریشنز اور متعلقہ کاروبار کی ترقی میں بھی رکاوٹیں آ رہی ہیں۔اس رپورٹ کے بعد، رینجرز اور دیگر حکام کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ قبضہ شدہ اراضی کو واگزار کرائیں اور بندرگاہوں کے متعلقہ سرگرمیوں کے لیے ان کا استعمال یقینی بنائیں۔ یہ اقدام نہ صرف ملک کی معیشت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، بلکہ اس سے قومی خزانے میں خاطر خواہ آمدنی کی توقع کی جا رہی ہے۔

    نیب کا اس کیس میں دلچسپی لینا کراچی میں اراضی پر قبضے کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے، جس کے دوران اہم ریکوری کی جا چکی ہے، جیسے کہ جنگلات کی تین ہزار ارب روپے مالیت کی اراضی کو واگزار کرانا۔ کے پی ٹی اور پی کیو اے کی زمینوں پر تجاوزات کا معاملہ ایک اور اہم مسئلہ بن چکا ہے، جس کے حل کے لیے فوری توجہ کی ضرورت ہے۔نیب کراچی نے اس کیس میں تفصیلات کی تصدیق کے بعد ان زمینوں پر غیر قانونی قبضے میں ملوث افراد اور اداروں کی نشاندہی کے لیے باضابطہ تحقیقات کا آغاز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران سیاستدانوں اور سرکاری اہلکاروں کے کردار کو بھی واضح کیا جائے گا، جو ان تجاوزات میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ یہ قبضے قیمتی سرکاری اثاثوں کے غلط استعمال کی واضح مثال ہیں، جس سے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔

  • سہ ملکی سیریز،چمپئینر ٹرافی ،جوئے کے اڈوں  میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا تنگ

    سہ ملکی سیریز،چمپئینر ٹرافی ،جوئے کے اڈوں میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا تنگ

    لاہور پولیس نے سہ ملکی کرکٹ سیریز اور چمپئینر ٹرافی کے دوران جوئے کے اڈوں اور آن لائن گیمبلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

    پولیس کی حالیہ کوششوں کے دوران، 446 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ 118 مقدمات بھی درج کئے گئے ہیں۔ترجمان لاہور پولیس کے مطابق، گرفتار ملزمان سے 29 لاکھ روپے سے زائد کی رقم برآمد کی گئی ہے، جو جوئے کے اڈوں اور آن لائن گیمبلنگ میں ملوث افراد کی سرگرمیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ مختلف علاقوں میں کارروائیاں کی گئیں جن میں سٹی ڈویژن میں 152، کینٹ میں 126، سول لائنز میں 18، صدر میں 31، اقبال ٹاؤن میں 80 اور ماڈل ٹاؤن میں 39 ملزمان گرفتار کئے گئے۔

    سی سی پی او لاہور، بلال صدیق کمیانہ نے کہا کہ کرکٹ میچز کے دوران جوئے کے اڈوں کے ساتھ ساتھ آن لائن گیمبلنگ کے خاتمے کیلئے بھرپور کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے پولیس افسران کو جوئے کے اڈوں اور آن لائن گیمبلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ آن لائن گیمبلنگ میں ملوث عناصر کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے گا۔ اس ضمن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد لی جائے گی تاکہ سوشل میڈیا پر جوئے کی ترغیب دینے والے اکاونٹس اور ایپلیکیشنز پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔

    بلال صدیق کمیانہ نے مزید کہا کہ جواء ایک سماجی لعنت ہے اور والدین کو اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنی چاہیے تاکہ وہ اس برائی سے بچ سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جوئے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

    پاکستان اور امریکا کے عوامی رابطے مزید مستحکم کیے جانے چاہیے۔بلاول

  • پاکستان اور امریکا کے عوامی رابطے مزید مستحکم کیے جانے چاہیے۔بلاول

    پاکستان اور امریکا کے عوامی رابطے مزید مستحکم کیے جانے چاہیے۔بلاول

    پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے عوامی رابطے مزید مستحکم کیے جانے چاہیے۔

    انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں ہونے والی قومی دعائیہ ناشتے کی تقریب کے دوران پاکستانی میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس موقع پر بتایا کہ انہوں نے امریکی حکام سمیت دنیا بھر کے رہنماؤں سے اہم ملاقاتیں کیں۔ نیشنل پریئر بریک فاسٹ کی تقریب میں دنیا بھر سے اہم ترین شخصیات شریک ہوئیں، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اختتامی خطاب بھی کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اس موقع پر مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بات چیت ہوئی اور مذہب کو تقسیم کرنے کی بجائے ایک قوتِ متحدہ کے طور پر استعمال کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

    بلاول بھٹو زرداری نے خطاب کے دوران کہا کہ یہ بریک فاسٹ بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک شاندار موقع ہے اور اس کے ذریعے دنیا بھر کے مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان تعاون اور سمجھ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ برابری کی سطح پر سلوک کرنا چاہیے، اور ہر مسلمان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عزت کرتا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ انہوں نے امریکی کانگریس کے اراکین سے بھی ملاقاتیں کیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ اب وزیر خارجہ نہیں ہیں اور ان تمام ملاقاتوں کو ذاتی حیثیت میں انجام دیا۔اس تقریب کے دوران، دنیا بھر سے اہم شخصیات نے شرکت کی، اور امریکی صدر ٹرمپ نے اختتام پر خطاب کیا۔

    امریکی صدر نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

    سحر کامران کا پی ٹی وی کے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار

  • امریکی صدر  نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی صدر نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دیں

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی فوجداری عدالت کے حکام، ملازمین اور ان کے اہلخانہ کے اثاثے منجمد کر دیے گئے ہیں اور ان پر سفری پابندیاں بھی عائد کی گئی ہیں۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت نے امریکا اور اسرائیل کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنایا ہے اور اس نے دونوں ممالک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ جاری کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا ہے۔

    وائٹ ہاؤس کے مطابق، امریکی صدر نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کے لیے صدارتی حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کو ایک اہم اقدام سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے عالمی سطح پر امریکی پالیسی اور عالمی عدالت کے ساتھ تعلقات پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی بھرپور حمایت میں کئی اقدامات کیے ہیں اور اس فیصلے کے ذریعے انہوں نے عالمی فوجداری عدالت کی کارروائیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی عدلیہ جو امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک کے خلاف کارروائی کرے، اس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔

    امریکی پابندیوں پر عالمی فوجداری عدالت،اقوام متحدہ کا ردعمل
    اقوام متحدہ نے امریکا سے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے تو وہیں عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے امریکی پابندیوں کے خلاف تمام 125 ممبران ریاستوں کو متحد ہونے کی اپیل کردی ہے۔عالمی فوجداری عدالت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد پابندیوں کی مذمت بھی کی ہے۔
    میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی فوجداری عدالت نے انصاف کی فراہمی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے عملے کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔

    خیبرپختونخوا میں پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی سیاسی اجتماع میں شرکت پر پابندی

  • خیبرپختونخوا میں پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی سیاسی اجتماع میں شرکت پر پابندی

    خیبرپختونخوا میں پولیس اور سرکاری اہلکاروں کی سیاسی اجتماع میں شرکت پر پابندی

    خیبرپختونخوا حکومت نے پولیس اور دیگر سرکاری اہلکاروں کی سیاسی اجتماع اور جلسوں میں شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی متعدد اضلاع اور مختلف محکموں کی انتظامیہ کی جانب سے نوٹی فکیشن کے ذریعے نافذ کی گئی ہے۔

    نوٹی فکیشن سوات، ملاکنڈ، دیر، بونیر سمیت دیگر مختلف اضلاع کے حکام کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں۔ ان نوٹی فکیشنز میں سرکاری اہلکاروں کو سیاسی سرگرمیوں سے دور رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ان کے اختیارات اور ذمہ داریوں پر اثر نہ پڑے۔ اس کے علاوہ، صوبے کی مختلف جامعات نے بھی اپنے طلبہ اور فیکلٹی ممبران کو کسی سیاسی اجتماع میں شرکت سے روکنے کے لیے اپنے الگ نوٹی فکیشن جاری کیے ہیں۔صوبے کی پولیس کو خاص طور پر جلسوں اور جلوسوں میں شرکت سے منع کیا گیا ہے، اور انہیں اس بات کی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیاسی اجتماعات میں کسی قسم کی سہولت فراہم کرنے سے گریز کریں۔

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے کور کمیٹی کے متعدد ارکان نے خیبرپختونخوا حکومت اور مختلف محکموں کے اس فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی ان کے سیاسی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس سے جمہوری عمل پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

    اس بارے میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ، علی امین گنڈاپور کا کہنا ہے کہ یہ اطلاعات بے بنیاد ہیں اور ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی گئی۔ انہوں نے اس بات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ کی طرح جلسوں کی قیادت کریں گے اور اس میں بھرپور شرکت کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ سب باتیں بے حقیقت ہیں اور حقیقت میں ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔یہ صورتحال سیاسی حلقوں میں کافی بحث کا باعث بن چکی ہے اور آئندہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • اسرائیلی وزیراعظم کا سنہری پیجر کا ٹرمپ کو تحفہ

    اسرائیلی وزیراعظم کا سنہری پیجر کا ٹرمپ کو تحفہ

    اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے منگل کے روز واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک سنہری پیجر تحفے میں دیا۔ یہ خبر اسرائیلی سیاسی ذرائع نے سی این این کو دی۔

    یہ تحفہ لبنان میں اسرائیل کے ایک مہلک ستمبر آپریشن کی طرف اشارہ تھا، جس میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے ارکان کے پیجرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ 17 ستمبر کو ہزاروں دھماکوں نے حزب اللہ کے ارکان کو نشانہ بنایا، جنہوں نے اپنے پیجرز اور ایک دن بعد واکی ٹاکی کے ذریعے بات چیت کی تھی۔ان دھماکوں میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہوئے، جن میں کچھ بچے بھی شامل تھے، اور تقریباً 3,000 افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے، جیسا کہ لبنانی صحت حکام نے بتایا۔

    جواب میں، ٹرمپ نے نیتن یاہو کو ان دونوں کی ایک دستخط شدہ تصویر تحفے میں دی۔ تصویر پر ٹرمپ نے دستخط کیے، ” ایک عظیم رہنما!” جیسا کہ ان کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے انسٹاگرام پر پوسٹ کی گئی تصویر میں دکھایا۔

    علاوہ ازیں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ کو "قبضے” میں لینے کے منصوبے کی حمایت کی ہے، جب کہ اسرائیلی فوج کو فلسطینیوں کی بڑی تعداد کو علاقے سے نکلنے کے لیے منصوبے تیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ٹرمپ کے اس منصوبے پر شدید تنقید کی گئی ہے، جس میں مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کے رہنماؤں نے اسے ناقابل عمل اور غیر قانونی قرار دیا ہے۔ تاہم، نیتن یاہو نے کہا کہ یہ منصوبہ، جس میں ٹرمپ نے غزہ کے رہائشیوں کو ہمسایہ ممالک میں بھیجنے اور "طویل مدتی ملکیت” لینے کا ذکر کیا، ایک "شاندار خیال” ہے۔

    نیتن یاہو نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "اس منصوبے کا اصل خیال یہ ہے کہ جو غزہ کے لوگ نکلنا چاہتے ہیں، انہیں نکلنے دیا جائے، اس میں کیا غلط ہے؟” انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ علاقے سے جائیں گے وہ واپس آ سکتے ہیں۔

    ٹرمپ نے اس منصوبے کا اعلان منگل کو وائٹ ہاؤس میں نیتن یاہو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا، جس کے بعد حقوق کے گروپوں نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ غزہ میں نسلی صفایا کرنے کے مترادف ہوگا۔امریکہ کے مغربی اتحادیوں نے غزہ سے لوگوں کو نکالنے کے خیال کو مسترد کیا، جب کہ مشرق وسطیٰ کے رہنماؤں، بشمول غزہ کے حکام نے فلسطینی ریاست کے حق میں اپنی پوزیشن کو دوبارہ مستحکم کیا۔ قطر کے وزارت خارجہ کے ترجمان مجید الانصاری نے کہا کہ عرب ممالک غزہ کی تعمیر نو کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں، جبکہ اردن کے بادشاہ عبد اللہ نے برطانیہ اور امریکہ کا دورہ کیا اور ان کا ملک اس منصوبے کی سخت مخالفت کرتا ہے۔

    غزہ کی بیشتر زمین کو 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملوں کے بعد اسرائیلی بمباری میں تباہ کردیا گیا تھا۔یہ تجویز سوال اٹھاتی ہے کہ آیا فلسطینیوں کو زبردستی اپنے گھروں سے نکالنا ممکن ہوگا، اور یہ امریکی خارجہ پالیسی کے کئی دہائیوں پرانے موقف سے انحراف ہے، جس میں اسرائیل اور فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کی گئی ہے۔وائٹ ہاؤس کے عہدیداروں نے اس منصوبے کے بیشتر نکات پر وضاحت دینے کی کوشش کی ہے، کیونکہ ناقدین نے اشارہ کیا ہے کہ ٹرمپ کا منصوبہ ایک بار پھر امریکی فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کے مرکز میں لے آئے گا۔

    جمعرات کو، ٹرمپ نے اپنے "ٹروتھ سوشل” نیٹ ورک پر لکھا کہ غزہ "اسرائیل کے ساتھ جنگ کے اختتام پر امریکہ کو منتقل کر دیا جائے گا” اور اس میں کوئی امریکی فوجی نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس منصوبے کے عملی اطلاق کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو اسرائیلی فوج کو یہ منصوبہ تیار کرنے کی ہدایت کی کہ وہ غزہ کے رہائشیوں کو "خود مختار طور پر نکلنے” کی اجازت دے سکیں۔

  • سحر کامران کا پی ٹی وی کے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار

    سحر کامران کا پی ٹی وی کے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار

    پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیئر رہنما سحر کامران نے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کو خط لکھا ہے جس میں
    سحر کامران نے وزارت اطلاعات و نشریات اور پی ٹی وی کے معاملات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    سحر کامران نے کہا کہ وزارت نے کمیٹی کو نامکمل معلومات فراہم کی ہیں، جو شفافیت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ انہوں نے وزارت کی کارکردگی پر سوال اٹھایا اور کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد نہ ہونے کو بھی وزارت کی کارکردگی میں ناکامی قرار دیا۔سحر کامران نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی وی میں کی جانے والی بھرتیوں، برطرفیوں اور دوبارہ بھرتیوں کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں تاکہ اس عمل میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پی بی سی پراپرٹیز کے کرایوں کی نظر ثانی کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ کرایہ کی شرح مارکیٹ کے حقائق سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، کرایہ داروں کی تفصیلات اور کرایہ داری کے دورانیہ کی وضاحت طلب کی گئی ہے۔

    سحر کامران نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے لیے مجوزہ رقم غیر معقول ہے، اور اس حوالے سے مزید وضاحت کی ضرورت ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ جاری اسکیموں کے لیے ایڈمنسٹریٹیو اپرُوول میں تاخیر کی وجوہات واضح کی جائیں تاکہ ان مسائل کو حل کیا جا سکے۔سحر کامران نے کہا کہ پی ٹی وی پارلیمنٹ چینل کے قیام کے لیے 1.6 بلین روپے مختص کرنا سمجھ سے بالاتر ہے، اور اس فیصلے پر مزید بحث کی ضرورت ہے۔سحر کامران نے ان تمام نکات کو سامنے رکھتے ہوئے، وزارت اور پی ٹی وی کے معاملات میں فوری اصلاحات اور شفافیت کی ضرورت پر زور دیا۔

    پی آئی اے کی ناکام نجکاری،اخراجات کا ذمہ دار کون ہے ، سحر کامران

    بینظیر بھٹو ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، ان کی روح کو سلام،سحر کامران

    کرسمس کا تہوار محبت، اخوت اور امن کا پیغام دیتا ہے،سحر کامران