Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • تعویذوں کا جھانسہ،خاتون کے ساتھ زیادتی،بلیک میلنگ،ملزم کو عمرقید کی سزا

    تعویذوں کا جھانسہ،خاتون کے ساتھ زیادتی،بلیک میلنگ،ملزم کو عمرقید کی سزا

    مسٹر باسط علیم ایڈیشنل سیشن جج۔1-ٹیکسلا نےتھانہ صدر واہ کینٹ کے مشہور ریپ کیس میں سفاک درندے نامزد ملزم اشتیاق لیاقت کو عمر قید اور 7 لاکھ روپےجرمانہ کی سزا کا حکم سنا دیا۔

    ملزم اشتیاق لیاقت ولد لیاقت علی سکنہ میاں چنوں کے خلاف تھانہ صدر واہ تحصیل ٹیکسلا میں, 376٫386٫411تعزیرات پاکستان کےجرائم کےتحت ایف آئی آر نمبر 455/2024، نیو سٹی واہ کینٹ کی متاثرہ عورت کے خاوند کی مدعیت میں درج ھوا تھا۔ ملزم پر اپنے حقیقی کزن کی بیوی پر بزور اسلحہ ریپ کر کے بلیک میل کر کے تعویزوں کا جھانسہ دے کر طلائی زیورات اور پائونڈز ھتیانے کا الزام تھا۔ ملزم کے خلاف اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت قائم شدہ ایڈیشنل سیشن جج۔1 ٹیکسلا کی عدالت میں ٹرائل زیر سماعت تھا۔ مدعی کی طرف سے مقدمہ کی پیروی پر ماہر قانون دان طاہر محمود راجہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ اور ان کی لیگل ٹیم(شاز علی خان ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، راؤ طالش بدر ایڈووکیٹ،خواجہ محمد رشید ایڈووکیٹ، ماہین فاطمہ ایڈوکیٹ ہائی کورٹ’ سید عمران شاہ ایڈووکیٹ اور سحرش چغتائی ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) مامور تھے۔ جبکہ سرکار کی جانب سے ندیم سلطانی ADPP مامور تھے۔ مقدمہ کی تفتیش پر ظہیر احمد سب انسپکٹر اور مریم T/SIمامور تھے۔

    گزشتہ تاریخ پیشی پر استغاثہ کا کیس شہادتوں کے مکمل ھونے پر مدعی کے وکیل طاہر محمود راجہ ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے کہ ملزم نے ایک شادی شدہ عورت کو تعویزات کا جھانسہ دے کر طلائی زیورات اور ر قم ہتھیائی اور نازیبا وڈیو بنا کر بلیک میلنگ کر کے عصمت دری کرتا رھا۔ ایسے درندے کو انسان کہنا بھی انسانیت کی تزلیل ھے اور معاشرے کیلئے ناسور ھے۔ملزم سنگین جرم کے ارتکاب کیوجہ سے کسی رعایت کا مستحق نہیں اور ملزم کی سزا پر پر اعلیٰ عدالتی نظائر پیش کیے ۔ا ستغاثہ دوران ٹرائل اپنا کیس ٹرائل میں ثابت کر چکا ھے اور ڈی این اےرپورٹس بھی پازیٹو ھیں اور برآمد گی پاؤ نڈز اور زیورات بھی مدعی کے موقف کو ثابت کرتے ھیں اور میڈیکل شواھد سے بھی جرم ثابت ھوتا ھے۔لہذا ملزم کو عبرت ناک سزا دی جائے تاکہ معاشرے سے ایسے ناسوروں کا قلع قمع ھو سکے اور آ ئندہ کوئی درندہ حوا کی بیٹی کی عصمت دری کا تصور بھی نہ کر سکے۔جس پر اینٹی ریپ ایکٹ کی خصوصی عدالت کےجج مسڑ باسط علیم ایڈیشنل سیشن جج ٹیکسلا۔1 کی عدالت نے طاھر محمود راجہ ایڈووکیٹ ھائی کورٹ کےدلائل سے اتفاق کرتے ھوئےملزم اشتیاق لیاقت کو عمر قید اور سات لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم صادر فرما یا

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • ساہیوال،دو خواتین سے زیادتی،بنائی گئی برہنہ ویڈیو،بلیک میلنگ

    ساہیوال،دو خواتین سے زیادتی،بنائی گئی برہنہ ویڈیو،بلیک میلنگ

    ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال کی سینٹری لیڈی ورکر سے گینگ ریپ ، بر ہنہ ویڈیو بنا ڈالی،محنت کش کی نو جوان بیوی سے جبراً آبروریزی، دس لاکھ 80 ہزار روپے نقدی اور زیورات، بلیک میلنگ کے الزامات ،دو مقدمات درج کر لئے گئے

    کلثوم نامی خاتون ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بطور سینٹری ورکر کام کر رہی تھی کہ اسے مبشر نامی نوجوان نے جھانسہ دیا کہ اس کے سیاست دانوں سے اچھے مراسم ہیں اس لیے اسے اچھی سرکاری نوکری دلا سکتا ہے۔ جس پر کلثوم مبشر کی خواہش پر اس کے موٹر سائیکل پر سوار ہو گئی، ملزم مبشر خاتون کو ایک مکان میں لے گیا جہاں اس نے نا معلوم ساتھی کے ہمراہ پستول دکھا کر ز بر دستی عزت لوٹی، اس دوران ایک ملزم نے ویڈیو بنائی اور انٹرنیٹ سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کی دھمکی دے کر مبشر نے ایک دوسری خاتون پروین کے ہمراہ اس سے 65 ہزار روپے بھتہ بھی لے لیا لیکن ویڈیوڈ پیلیٹ نہ کی ۔ساہیوال پولیس ث فرید ٹاؤن نے کلثوم کی مدعیت میں مقدمہ 375 اے اور 292 سیت پ درج کر کے ایک ملزم مبشر کو گرفتار کر لیا۔

    دریں اثناء چک 3 دس ایل میں ایک محنت کش شہزاد گل کی نوجوان بیوی صباء بی بی کے گھر داخل ہو کر نعمان نومی نے جبرا آبروریزی کی اور برہنہ ویڈیو بنائی جس کے بعد ویڈیو وائرل کرنے کی دھمکی دے کر 9لاکھ 80 ہزار روپے کے زیورات اور ایک لاکھ روپے نقدی لے کر فرار ہو گیا،ساہیوال پولیس ث ہڑپہ نے خاتون کے خاوند شہز ادگل کی مدعیت میں مقدمہ 376 اور 292 ست پ درج کر لیا ہے ابھی تک ملزم گرفتار نہیں ہو سکے۔

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • جیل پر حملہ،150 قیدی خواتین سے زیادتی،زندہ جلا دیا گیا

    جیل پر حملہ،150 قیدی خواتین سے زیادتی،زندہ جلا دیا گیا

    اقوام متحدہ کے مطابق، جمہوریہ کانگو کے شہر گومہ میں جیل پر حملے کے دوران 150 سے زائد خواتین قیدیوں کو زیادتی کا شکار بنایا گیا اور انہیں زندہ جلا دیا گیا۔

    اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے ترجمان سیف میگانگو نے سی این این کو بتایا کہ 27 جنوری کو جیل کے مرد قیدیوں نے فرار ہونے کے دوران جیل میں آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں 165 خواتین قیدیوں میں سے بیشتر جنسی زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد اس آگ میں جل کر ہلاک ہو گئیں۔میگانگو نے بتایا کہ اس آگ میں 9 سے 13 خواتین قیدی بچ گئی تھیں، اور ان سب کے ساتھ بھی زیادتی کی گئی تھی۔ اقوام متحدہ نے اس عدالتی بیان کو قابلِ اعتبار سمجھا ہے، حالانکہ انہوں نے خود اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کی۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مرد قیدیوں نے، جن میں سے کچھ کو جیل کے محافظوں نے مار ڈالا تھا، گومہ میں جاری ایم 23 باغی گروپ کی حکومت مخالف جنگ کے دوران جیل سے فرار ہونے کا منصوبہ بنایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، 4,000 سے زیادہ قیدی اس دن جیل سے فرار ہو گئے تھے، اور جیل اب مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔کانگو کے وزیرِ اطلاعات پیٹرک میوایا نے بھی اس وحشیانہ جرم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس جرم کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ یہ واقعات وہ دردناک منظرنامہ ہیں جو دہرے ہوئے ہیں اور جنسی تشدد کے واقعات جمہوریہ کانگو میں دہائیوں سے جاری ہیں۔

    جمعہ کے روز اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے ایک اور رپورٹ بھی شیئر کی جس میں بتایا گیا کہ جنوبی کیوو میں کانگولین فوج اور اس کے اتحادیوں کے ہاتھوں مزید جنسی تشدد کے واقعات پیش آئے ہیں۔ اس میں 52 خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں اجتماعی زیادتی کی وارداتیں بھی شامل ہیں۔مقامی فوجی حکام سے اس الزام پر ردعمل کے لئے رابطہ کیا گیا، لیکن اس پر ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ اقوام متحدہ کے ترجمان جیریمی لارنس نے کہا "ہم کانگو کی فوج کے ہاتھوں کیے گئے ان جرائم کی تصدیق کر رہے ہیں۔”

    حکومت اور باغیوں کے درمیان لڑائی میں اب تک تقریباً تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق گوما کی سڑکوں سے دو ہزار سے زائد لاشیں اٹھائی گئی ہیں۔ ایک ہزار کے قریب لاشیں مختلف ہسپتالوں میں پڑی ہوئی ہیں۔

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن  کی رکنیت معطل کردی

    فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت معطل کردی

    فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کی رکنیت معطل کردی ہے۔

    عالمی فٹبال تنظیم نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ایف ایف کے آئین میں مجوزہ ترامیم نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کی رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔فیفا نے اپنے بیان میں مزید وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پی ایف ایف میں جمہوری عمل کے رکاوٹوں کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ فیفا کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معطلی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک پی ایف ایف کی کانگریس مجوزہ آئینی ترامیم کو منظور نہیں کر لیتی۔

    یاد رہے کہ پی ایف ایف کے آئین میں تبدیلی پر مزاحمت کا سامنا پاکستان میں موجود تھا، اور اسی مزاحمت کی وجہ سے فیفا نے معطلی کا یہ اقدام اٹھایا ہے۔یہ معطلی پاکستان میں فٹبال کے لیے ایک اہم تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور اس کا اثر قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیل کی ترقی پر پڑ سکتا ہے۔

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • شمالی وزیرستان،آپریشن میں 12 خوارج جہنم واصل،ایک نوجوان شہید

    شمالی وزیرستان،آپریشن میں 12 خوارج جہنم واصل،ایک نوجوان شہید

    پاک فوج نے شمالی وزیرستان کے علاقے حسن خیل میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 12 خوارج کو ہلاک کردیا، جبکہ اس آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں لانس نائیک محمد ابراہیم شہید ہوگئے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ لانس نائیک محمد ابراہیم نے دشمن کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، ہلاک ہونے والے خوارج کے قبضے سے اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا۔ یہ خوارج سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے۔آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ علاقے میں موجود دیگر ممکنہ خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے تاکہ سیکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہیں، اور بہادر سپاہیوں کی ایسی قربانیاں ہمارے عزم کو مزید تقویت دیتی ہیں۔یہ آپریشن پاک فوج کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے تاکہ ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو شکست دی جا سکے۔

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • عمران خان کی سیاسی ساکھ اور مستقبل دونوں خطرے میں ہیں،خواجہ آصف

    عمران خان کی سیاسی ساکھ اور مستقبل دونوں خطرے میں ہیں،خواجہ آصف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما ،وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک حالیہ بیان میں 77 سالہ پاکستانی سیاست کے مختلف ادوار کا جائزہ لیا اور عمران خان کی سیاسی حکمت عملی اور رویے پر سخت تنقید کی۔

    خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ماضی میں جب پیپلز پارٹی، مسلم لیگ یا کسی بھی دوسری سیاسی جماعت کے رہنما اقتدار سے علیحدہ ہوئے یا پارٹی کی قیادت کو قید کیا گیا، تب بھی کسی نے پاکستان کی قومی اساس یا دفاع کے اہم اداروں اور علامتوں کو نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے مثال کے طور پر بھٹو شہید کی پھانسی، نصرت بھٹو اور بے نظیر شہید کی قید اور جلاوطنی، نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کی قید کا ذکر کیا اور کہا کہ اس وقت بھی سیاسی رہنماؤں نے حدود کا احترام کیا اور قومی مفادات کو ہمیشہ مقدم رکھا۔

    خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کے برعکس، جنہوں نے بدترین حکمرانی کے بعد 9 مئی کو بغاوت کی اور ملک کی اساس کو چیلنج کیا، دفاعی اداروں اور شہداء کی یادگاروں پر حملے کیے اور فوجی اداروں کی توہین کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی ان حرکتوں سے نہ صرف ملک کا وقار مجروح ہوا بلکہ سیاسی جماعتوں کا بھی احترام کم ہوا۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی سیاسی حکمت عملی میں ملک کو دیوالیہ کرنے کی کوشش کی گئی اور انہوں نے اپنی کرپشن اور سیاسی حریفوں کو نشانہ بنایا۔ ان کی سیاست میں گالیوں کا سلسلہ مسلسل جاری رہا اور وہ اپنی سیاسی ساکھ کو خود ہی نقصان پہنچاتے رہے۔

    خواجہ آصف نے عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان سب معاملات کے باوجود عمران خان کی جانب سے مذاکرات اور معاہدوں کی امید رکھی جائے، تو یہ ایک احمقانہ سوچ ہے، کیونکہ اس طرح کی سیاست کسی بھی سنجیدہ سیاسی رہنما کے لیے مناسب نہیں۔انہوں نے کہا کہ 75 سالوں میں سیاسی رہنماؤں نے جب بھی مشکلات کا سامنا کیا، انہوں نے عزت و وقار کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا اور بیرونی طاقتوں کے سامنے جھکنے یا ان سے مدد مانگنے کی بجائے ملکی مفادات کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اپنی موجودہ سیاست کو جاری رکھتے ہیں، تو ان کی سیاسی ساکھ اور مستقبل دونوں خطرے میں ہیں۔

    پرنس کریم آغا خان کی وفات،پاکستان کا 8 فروری کو یوم سوگ کا اعلان

  • پی ٹی آئی کو مینار پاکستان جلسہ کی اجازت کی درخواست مسترد

    پی ٹی آئی کو مینار پاکستان جلسہ کی اجازت کی درخواست مسترد

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 8 فروری کو لاہور کے تاریخی مقام مینار پاکستان پر جلسہ کرنے کی اجازت نہیں مل سکی۔ لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ٹی آئی کی درخواست مسترد کر دی ہے، جس کے بعد پارٹی کی قیادت میں شدید مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کی درخواست پر لاہور میں ڈسٹرکٹ انٹیلی جنس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں مختلف سکیورٹی مسائل پر تفصیل سے گفتگو کی گئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ 8 فروری کو لاہور میں مختلف اہم ایونٹس ہو رہے ہیں، جن میں کرکٹ میچ، انٹرنیشنل اسپیکر کانفرنس اور لاہور کا مشہور ہارس اینڈ کیٹل شو شامل ہیں۔ ان ایونٹس کی وجہ سے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں۔

    دوسری جانب، لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے کہا کہ "ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے کہ ہم جلسہ کریں، ہماری لیگل ٹیم 4 بجے سے ڈی سی آفس میں موجود ہے، اور ہم نے 29 جنوری کو درخواست دی تھی، مگر ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔” انہوں نے مزید کہا کہ اگر اجازت نہ ملی تو پی ٹی آئی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

    پی ٹی آئی نے 8 فروری کو ملک بھر میں یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اس دن کو عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف احتجاج کے طور پر منائے گی، اور اس سلسلے میں لاہور میں مینار پاکستان پر ایک بڑا جلسہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ سیاسی محاذ پر مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، خاص طور پر پی ٹی آئی کے اس اقدام کے نتیجے میں جب کہ حکومت اور انتظامیہ کے درمیان متنازعہ ایشوز پہلے ہی چل رہے ہیں۔

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • پرنس کریم آغا خان کی وفات،پاکستان کا 8 فروری کو یوم سوگ کا اعلان

    پرنس کریم آغا خان کی وفات،پاکستان کا 8 فروری کو یوم سوگ کا اعلان

    پاکستان کی حکومت نے اسماعیلی برادری کے روحانی پیشوا پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر 8 فروری کو یوم سوگ کا اعلان کر دیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق، اس دن ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

    یاد رہے کہ پرنس کریم آغا خان کا انتقال گزشتہ روز پرتگال میں ہوا تھا۔ ان کی تدفین 8 فروری کو مصر کے شہر اسوان میں کی جائے گی۔پرنس کریم آغا خان اسماعیلی برادری کے 49ویں امام تھے۔ وہ 11 جولائی 1957 کو اسماعیلی کمیونٹی کے امام منتخب ہوئے تھے، اس وقت ان کی عمر صرف 20 سال تھی۔ پرنس کریم آغا خان نے اپنے بیٹے پرنس رحیم آغا خان کو اپنی وصیت کے ذریعے اسماعیلی برادری کا 50واں امام نامزد کیا تھا۔

    پرنس کریم آغا خان کے انتقال کے بعد ان کے بیٹے پرنس رحیم آغا خان اسماعیلی کمیونٹی کے 50ویں امام بن چکے ہیں۔

    وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس موقع پر پرنس رحیم آغا خان سے ٹیلی فونک گفتگو کی۔ وزیراعظم نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ آغا خان چہارم کی وفات سے ایک عظیم شخصیت ہم سے جدا ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آغا خان چہارم پاکستان کے حقیقی دوست تھے اور ان کی عالمی ترقی، تعلیم، صحت اور انسانی خدمات میں بے شمار قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔اس کے علاوہ وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان کو نئے امام کے طور پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے ساتھ اپنے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

    پاکستان میں اس دن کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ملک بھر میں قومی سوگ کا ماحول ہوگا اور پرنس کریم آغا خان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جائے گا۔

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

  • عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

    عمران ریاض کی جان کو کس سے خطرہ؟مبشرلقمان،عمران ریاض کے مابین کیا بات چیت ہوئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ آج میں نے کافی بڑا راز فاش کرنا ہے، میں دیکھ رہا ہوں ادھر ادھر سے کافی باتیں شروع ہو گئی ہیں، مختلف لوگ چیمپئن بن گئے ہیں اور بتا رہے ہیں، میرے ہاتھ میں موبائل کھلا ہوا ہے سلمان احمد جنون والے میرے دوست ہیں انکے لمبے چوڑے میسج ہیں، کئی ٹویٹس ہیں، سب کا تعلق ایک آدمی سے ہے اور وہ ہے عمران ریاض

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ وہ شک یہ کر رہے ہیں کہ عمران ریاض نے کسی انٹرویو میں کہا ہے کہ اس کی جان کو پاکستان میں خطرہ ہے، وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ شاید اس نے غلط بیانی کی، سلمان احمد پر جو لوگ شک کر رہے ہیں، انکو میں بتا دوں کہ عمران ریاض کو میں نے کہا تھا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے،میں تسلیم کر رہا ہوں ، ہو سکتا ہے اس کو کسی اور نے بھی کہا ہو کیونکہ میں اکیلا تو جاننے والا نہیں ہوں، عمران ریاض ایک مشہور آدمی ہے اور اس کے ہزار واقف ہوں گے،جنہوں نے یہ بات کہی ہو گی، میں نے ایک مخصوص وجہ کے بعد یہ بات کہی، جب ایک آڈیو کال سامنے آئی علی امین گنڈا پور اور پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما کی، جس میں وہ گالیاں دے رہے تھے، عمران ریاض کو بھی گالیاں دے رہے تھے، پھر میرے اور عمران ریاض کے ایک مشترکہ دوست ہیں، میں نے ان سے درخواست کی کہ میرے پاس عمران ریاض کا نیا نمبر نہیں ہے، ا ن سے رابطہ ہو تو کہئے گا مجھے کال کریں، انہوں نے ایک دن بعد میری عمران ریاض سےبات کروائی گئی جو بڑی لمبی بات چیت ہوئی، میرا ایک اس کے اوپر مان ہے کہ عمران ریاض اور میں نے سب سے پہلے ایکسپریس ٹی وی پر کام کیا، وہ ہمیشہ مجھے بھائی جان بھائی جان کہتے ہیں، جب کوئی اون کرتا ہے تو آپ کو بھی بڑا بن کر دکھانا ہوتا ہے، میں نے کہا کہ عمران، میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ آپ کی زندگی کو خطرہ ہے،ا س نے کہا کہ بھائی بتائیں کس سے، پہلے وہ ہنس پڑا، اور کہا کہ کب خطرہ نہیں تھا، میں نے کہا کہ پہلے نہیں تھا ، اب ہے،مجھے کہنے لگے کس سے، تو میں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے لوگوں سے، علی امین گنڈا پور سے خطرہ ہے، یہ میں نے اسکو کہا، عمران ریاض خود بھی یہ بتا سکتے ہیں، میں نے انہیں کہا کہ اپنوں سے خطرہ ہے جس پر عمران ریاض نے کہا کہ میں کیا کروں تو میں نے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ حکومت یا اداروں سے رابطہ کریں اور میں خود اس میں جو ہو سکا مدد کرتا ہوں ،ملو اور باور کرواؤ، آپ پاکستانی ہو آپ کا حق ہے، حکومت، اداروں پر حق ہے ،بڑی لمبی بات بتائی کہ کس طرح سے اس کو کتنا مشکل ہوا،میں نے کہا میری خود بات ہوئی، اور مجھے گارنٹی دی گئی ہے کہ عمران ریاض کو ہماری طرف سے کوئی مشکل نہیں ہو گی، آپ کیوں پریشان ہو رہے ہیں،لیکن میں نے کہا کہ پی ٹی آئی یا علی امین گنڈا پور کچھ کرے گا اور الزام دوسروں پر آئے گا، جیسا ارشد شریف کو ہم دیکھ چکے ہیں، اللہ ان کے درجات بلند کرے، وہ مجھ سے جونیئر تھے، چھوٹے بھائیوں کی طرح، ان کی آنکھ میں شرم تھی، اس کو بھی میں سمجھتا ہوں اپنوں نے مارا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ سال پہلے کی بات ہے مجھے الطاف حسین کی طرف سے تھریٹ تھی ،دو لوگ پکڑے بھی گئے جن کے پاس سے 30 افراد کی لسٹیں برآمد ہوئی تھیں، وہ الطاف کے پے رول پر تھے، اس میں سب سے اوپر میرا نام تھا، جب یہ ہوا اور پتہ چلا ،مجھے بتایا گیا پولیس آئی، حکومت نے مجھے پولیس، رینجرز کی نفری دے دی،میں جہاں جاتا تھا وہ ساتھ جاتے تھے، میرے گھر کے باہر بھی گارڈ آ گئے، مجھے بہت لوگوں نے کہا کہ دبا کر اس پر پروگرام کریں، الطاف حسین کی ایسی کی تیسی….میں نے کہا نہیں،یہ میں اگر کروں گا تو الطاف حسین کے بھی بڑے دشمن ہیں، میرے بھی، جب الطاف پر واویلا شروع کر دوں گا تو تیسرا بندہ مجھے مار دیتا ہے تو اس کو پتہ ہے کہ الزام الطاف پر جائے گا، یہی بات میں نے عمران ریاض کو بھی کہی اور کہا کہ جن لوگوں سے خطرہ کہہ رہے ہو اس کا مطلب ہے کئی لوگوں کو ایکٹویٹ کر رہے ہو،ہم نے پروگراموں میں کئی لوگوں کے بارے بات کی ہوتی ہے، انکو بہانہ دے رہے ہو، فرض کریں کہتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ پیچھے پڑی ہے تو گنڈا پور جس سے چڑ ہے، پشاور میں دونوں کی ان بن ہوئی،تفصیل عمران ریاض خود کسی وی لاگ میں بتا سکتے ہیں، ان کو وہاں وزیراعلیٰ ہاؤس سے نکلنا پڑا، وہاں کے کافی لوگ عمران ریاض کے خلاف ہو گئے کہ یہ پی ٹی آئی سے زیادہ مقبول ہو گیا ہے، اس کو راستے سے ہٹاؤ، ہر آدمی تو اس کی بات سن رہا ہے.

  • عمران خان علی امین گنڈا پور سے ناراض،پیغام بھجوا دیا

    عمران خان علی امین گنڈا پور سے ناراض،پیغام بھجوا دیا

    بانی پی ٹی آئی عمران خان نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے ملاقات پر ایک بار پھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

    اڈیالہ جیل میں عمران خان سے پارٹی کے اہم رہنماؤں نے ملاقات کی۔ ملاقات کرنے والوں میں سلمان اکرم راجہ، شاہ محمود قریشی، شبلی فراز اور کنول شوذب شامل تھے۔ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی نے علی امین گنڈاپور پر ایک بار پھر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ علی امین گنڈاپور کو نیا آئی جی تسلیم نہیں کرنا چاہیے تھا، اور سوال کیا کہ محسن نقوی سے علی امین اور ان کے ساتھی کیسے ملاقات کرسکتے ہیں۔مزید برآں، ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کے ذریعے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے صدر جنید اکبر کو پیغام بھجوا دیا ہے۔ اس پیغام میں عمران خان نے خیبرپختونخوا کی سیاسی صورتحال پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چند روز قبل عمران خان نے علی امین گنڈاپور سے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کی صدارت واپس لے کر رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو پارٹی کا صوبائی صدر مقرر کیا تھا۔ اس فیصلے کے بعد سے علی امین گنڈاپور کی پارٹی میں اہمیت کم ہوئی ہے، اور ان کے بارے میں عمران خان کی ناراضگی بھی مزید بڑھ گئی ہے۔یہ تمام صورتحال پی ٹی آئی کی داخلی سیاست میں پیچیدگیوں کو ظاہر کرتی ہے، اور عمران خان کی طرف سے یہ پیغام پارٹی کے اندر مختلف گروپوں کے درمیان اختلافات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔

    ٹرمپ کا عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ

    احمد تھیلیسیمیا کئیر ہسپتال کے یوم تاسیس کی تقریب،مبشر لقمان مہمان خصوصی ہوں گے