Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیراعلیٰ پنجاب   کی جانب سے  دیگر صوبوں کیلئےہونہار سکالر شپ سکیم کی منظوری

    وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے دیگر صوبوں کیلئےہونہار سکالر شپ سکیم کی منظوری

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے پنجاب کی طرح ہونہار سکالرشپ سکیم کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سکیم ملک بھر کے طلبہ کو یکساں مواقع فراہم کرے گی، تاکہ تعلیم کے میدان میں قابلیت کی بنیاد پر انہیں آگے بڑھنے کا موقع ملے۔

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ دیگر صوبوں کے طلبہ کے لیے بھی پنجاب میں رائج اہلیت کا یکساں معیار رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے پنجاب میں طلبہ کے لیے لیپ ٹاپ کی تعداد کو بڑھا کر ایک لاکھ 10 ہزار کر دینے کا اعلان کیا۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پنجاب میں سیکنڈ ایئر، تھرڈ ایئر اور فورٹھ ایئر کے طلبہ کے لیے ہونہار سکالرشپ کی باضابطہ منظوری بھی دی۔ اس سکیم کا مقصد ہر بچے کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔مریم نواز شریف نے کہا کہ ان سکیموں میں حصہ لینے والے طلبہ کے لیے خصوصی ہیلپ لائن قائم کی جائے گی تاکہ انہیں کسی بھی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ اس کے علاوہ، انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لیپ ٹاپ حاصل کرنے کے لیے کم از کم 65 فیصد اہلیت کا معیار رکھا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہونہار سکالرشپ اور لیپ ٹاپ ہر بچے کا حق ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ طلبہ کی تعلیم کے لیے ہر ممکن کوشش کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ "تعلیم اور یوتھ قوم کی حقیقی انویسٹمنٹ ہے”، اور انہیں دل سے یہ خواہش ہے کہ ہر بچے کو لیپ ٹاپ ملے تاکہ وہ اپنی تعلیم میں مزید کامیاب ہو سکیں۔مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ "لیپ ٹاپ اور ہونہار سکالرشپ دیگر صوبوں کے طلبہ کا بھی حق ہے۔ آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سمیت دیگر صوبوں کے طلبہ بھی ہمارے بچے ہیں اور انہیں بھی یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔”انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ میرٹ پر آنے والا ہر بچہ اچھے کالج میں اپلائی کرے، اور حکومت اس کی فیس ادا کرے گی۔ "میں ماں کی طرح سوچتی ہوں، اور دل چاہتا ہے کہ ہر بچے کی قسمت بدل جائے۔”

    وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ہائر ایجوکیشن کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔ اس اجلاس میں پنجاب میں ایک روزہ وی سی کانفرنس اور ٹیک ایکسپو کی منظوری بھی دی گئی۔مریم نواز شریف نے اس بات کی بھی ضمانت دی کہ طلبہ کے لیے کسی بھی سکیم میں فنڈز کی فراہمی میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی جائے گی تاکہ ان کی تعلیم میں کوئی خلل نہ آئے۔

  • پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکونوشی پر پابندی خوش آئندقرار

    پنجاب کے تعلیمی اداروں میں تمباکونوشی پر پابندی خوش آئندقرار

    پنجاب حکومت نے طلبا وطالبات کی صحت کے تحفظ کے لئے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں سگریٹ، ویپ، ہیٹڈ ٹوبیکو پروڈکٹس اور نکوٹین پاؤچز سمیت تمام تمباکو اور نکوٹین مصنوعات پر فوری اور مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔

    حکومت پنجاب کا یہ تاریخی اقدام تمباکو سے پاک تعلیمی ماحول کی فراہمی کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس اہم مسئلے کو اجاگر کرنے اور حکومت سے مؤثر اقدامات کروانے میں کرومیٹک کا کردار قابل ستائش ہے، کرومیٹک نے طلباء و طالبات کی صحت کے حوالے سے اس اہم معاملے کو پنجاب حکومت کے سامنے پیش کیا۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹفیکیشن میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ تمباکو مصنوعات پر تعلیمی اداروں میں پابندی کے حکمنامے کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کا یہ فیصلہ طلبا و طالبات کو تمباکو اور نکوٹین کے مضر اثرات سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔وزیرتعلیم پنجاب رانا سکندر حیات، ایم پی اے آمنہ حسن شیخ اور پارلیمانی سیکرٹری سلطان باجوہ نے وزیراعلی مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت کے اس اہم فیصلے کی پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا، تمباکو نوشی سے پاک ماحول کے لئے ان کی کوششیں، عوامی صحت کے تحفظ کے لئے مؤثر اقدامات میں مددگار ثابت ہوئی ہیں۔

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں پنجاب حکومت کا یہ جرات مندانہ اقدام نوجوان نسل کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، اور کرومیٹک کی صحت مند، تمباکو فری تعلیمی ماحول کے لئے کوششیں قابل تعریف ہیں

  • پی ایف یو جے نے پیکا ترمیمی ایکٹ  اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پی ایف یو جے نے پیکا ترمیمی ایکٹ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پی ایف یو جے نے پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا

    پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ نے عمران شفیق ایڈووکیٹ کے ذریعے درخواست دائر کی،پی ایف یو جے کی اسلام آبا دہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ پیکا ترمیمی ایکٹ آزادی صحافت پر حملہ ہے،پیکا ترمیمی ایکٹ غیرآئینی اور غیرقانونی ہے، عدالتی جائزہ لیا جائے، پی ای سی اے قانون آزادیِ اظہار پر قدغن، حکومتی کنٹرول میں اضافہ ہے،آزادی صحافت کے خلاف قانون پی ای سی اے 2025 معطل کیا جائے، پیکا ترمیمی ایکٹ 2025 آئین کے آرٹیکل 19 اور 19 اے کے خلاف ہے،پیکا ترمیمی قانون حکومتی سنسرشپ کو غیر محدود اختیارات دیتا ہے،بغیر قانونی عمل کے جعلی خبروں کو جرم قرار دینا غیرآئینی اور آزادی صحافت پر قدغن ہے،پیکا ترمیمی ایکٹ عالمی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، پیکا ترمیمی ایکٹ پاکستان میں ڈیجیٹل حقوق کی بدترین خلاف ورزی ہے، پیکا کے تحت ریگولیٹری اتھارٹی کی کوئی آئینی حیثیت نہیں،

  • قائمقام صدر مملکت  سے پاکستان کی نوجوان کراٹے چیمپئن فاطمہ  کی ملاقات

    قائمقام صدر مملکت سے پاکستان کی نوجوان کراٹے چیمپئن فاطمہ کی ملاقات

    قائمقام صدر مملکت سید یوسف رضا گیلانی نے پاکستان کی نوجوان کراٹے چیمپئن فاطمہ احمد خان سے ملاقات کی، جس میں انہوں نے فاطمہ کی کم عمری میں کراٹے کے بین الاقوامی مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی محنت کو سراہا۔

    قائمقام صدر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی خواتین میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں، اور ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو بھرپور مواقع فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے ملک کا نام دنیا بھر میں روشن کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو بہترین تربیت اور مناسب مواقع دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔قائمقام صدر سید یوسف رضا گیلانی نے فاطمہ احمد خان کو ان کی کامیابیوں کے اعتراف میں ایک تعریفی سند بھی پیش کی۔ فاطمہ احمد خان نے جاپان اور ایران میں منعقد ہونے والے مختلف کراٹے ٹورنامنٹس میں شرکت کی ہے اور اپنی شاندار پرفارمنس سے اپنے ملک کا نام بلند کیا ہے۔

    فاطمہ احمد خان، جو کہ 10 ویں جماعت کی طالبہ ہیں، اپنے کھیل کی مہارت کے ساتھ ساتھ اپنے تعلیمی معاملات میں بھی نمایاں ہیں، اور ان کا عزم و حوصلہ پاکستان کی نوجوان نسل کے لیے ایک مثال ہے۔

  • رمضان شوگر ملز ریفرنس،شہباز شریف  ، حمزہ شہباز بری

    رمضان شوگر ملز ریفرنس،شہباز شریف ، حمزہ شہباز بری

    اینٹی کرپشن کورٹ نے رمضان شوگر ملز ریفرنس میں وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کو بری کر دیا ہے۔

    اس فیصلے کا اعلان عدالت کے جج سردار اقبال ڈوگر نے کیا، جنہوں نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا اور عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی بریت کی درخواستیں منظور کر لیں۔شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر الزام تھا کہ انہوں نے قومی خزانے سے رمضان شوگر ملز کے لیے نالے بنانے کے لیے فنڈز حاصل کیے تھے۔ تاہم، اس مقدمے کی سماعت کے دوران مدعی نے اپنے بیان سے منحرف ہو گیا تھا جس کی وجہ سے کیس کے حق میں فیصلہ آیا۔یہ ریفرنس نیب قانون میں ترمیم کے بعد اینٹی کرپشن کورٹ میں منتقل کر دیا گیا تھا۔ اینٹی کرپشن کورٹ نے رمضان شوگر ملز کیس کا فیصلہ 3 فروری 2025 کو محفوظ کیا تھا اور اس کے بعد آج 6 جنوری کو فیصلہ سنایا،

    گزشتہ سماعت پر وکیل امجد پرویز نے دلائل میں کہا کہ نالے کی تعمیر کا حکم سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے نہیں دیا، بلکہ اس کی منظوری پنجاب کی کابینہ نے دی تھی۔ وکیل نے مزید کہا کہ نالہ علاقے کی بہتری کے لیے بنایا گیا تھا اور صرف رمضان شوگر ملز کے فائدے کے لیے نہیں تھا، بلکہ اس نالے سے 10 گاؤں بھی فائدہ اٹھا رہے ہیں۔وکیل نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ یہ مقدمہ سیاسی بنیادوں پر بنایا گیا ہے اور اس کے خلاف دائر کیا گیا ریفرنس صرف ایک مضحکہ خیز سروے پر مبنی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ مقدمہ ایک غیر منصفانہ تحقیقات کا نتیجہ ہے اور اس کا مقصد صرف سیاسی انتقام لینا ہے۔

    سماعت کے دوران شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی جانب سے تمام قانونی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا.

  • صدر مملکت کی چینی وزیراعظم سے ملاقات،مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط

    صدر مملکت کی چینی وزیراعظم سے ملاقات،مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط

    بیجنگ: پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری کی چین کے وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ دونوں رہنماؤں نے باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خاص طور پر قابل تجدید توانائی، سائنس و ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، اور زرعی شعبے میں تعاون کے مزید مواقع تلاش کرنے پر بات کی۔ ان شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لئے مشترکہ حکمت عملی پر بھی غور کیا گیا۔ اس کے علاوہ، اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے پر بھی گفتگو کی گئی، جسے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    صدر آصف علی زرداری نے چین کی حکومت کی جانب سے پاکستان کے ترقیاتی ایجنڈے کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ مستحکم اور مثالی رہے ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے پاک چین دوستی کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی نئی راہیں کھولنے کے لئے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان روابط میں نئی روح پھونکی گئی اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کی نئی راہیں روشن ہوئیں۔

    بیجنگ میں پاکستان اور چین کے مابین مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کی ایک اہم تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے شرکت کی۔اس موقع پر متعدد اہم معاہدوں اور یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں سب سے اہم ٹھٹہ سیمنٹ کمپنی اور چین کے چنگ گانگ کنسٹرکشن گروپ کے مابین ایک ایم او یو تھا۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان میں سیمنٹ کی پیداوار میں 5 ہزار ٹن یومیہ اضافے کے لیے ایک نئی پروڈکشن لائن لگائی جائے گی، جو سیمنٹ کی صنعت کی ترقی اور مقامی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گی۔

    اسی دوران محکمۂ توانائی سندھ اور چین کی منگ یانگ قابلِ تجدید توانائی کمپنی کے درمیان بھی ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان میں قابلِ تجدید توانائی کے مختلف منصوبوں پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھایا جائے گا، جس سے پاکستان کی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد ملے گی اور ماحول دوست توانائی کے ذرائع کو فروغ ملے گا۔اس کے علاوہ حکومتِ سندھ اور چینی کمپنی کے درمیان کوئلے کی گیسیفکیشن اور یوریا پلانٹ کے قیام کے حوالے سے بھی ایک یادداشت پر دستخط ہوئے، جس کا مقصد پاکستان کی زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا ہے۔

    یہ مفاہمت کی یادداشتیں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تکنیکی تعاون کو مزید مستحکم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہیں، اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید بہتری کی توقع ہے۔

  • ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا پاکستان کے خلاف سیریز کے شیڈول کا اعلان

    ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کا پاکستان کے خلاف سیریز کے شیڈول کا اعلان

    ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کے خلاف آئندہ سیریز کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ سیریز جولائی اور اگست میں منعقد ہو گی اور اس میں ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے میچز شامل ہوں گے۔

    سیریز میں کل 6 میچز کھیلے جائیں گے، جن میں 3 ٹی ٹوئنٹی اور 3 ون ڈے میچز شامل ہیں۔تین ٹی ٹوئنٹی میچز امریکہ میں کھیلے جائیں گے، جو کہ بروورڈ کاؤنٹی، فلوریڈا میں ہوں گے۔ یہ میچز 31 جولائی، 2 اگست اور 3 اگست کو کھیلے جائیں گے۔جبکہ تین ون ڈے میچز ٹرینیڈاڈ کے برائن لارا کرکٹ اکیڈمی میں کھیلے جائیں گے۔ یہ میچز 8، 10 اور 12 اگست کو شیڈول کیے گئے ہیں۔

    اس سیریز کی تنظیم ویسٹ انڈیز کرکٹ بورڈ کی جانب سے کی جا رہی ہے، جس کا مقصد دونوں ٹیموں کے درمیان کرکٹ کے معیاری مقابلوں کو فروغ دینا ہے اور دونوں ممالک کے کرکٹ شائقین کو شاندار کرکٹ دیکھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔

  • کشتی حادثے میں جاں بحق   4 پاکستانیوں کی لاشیں پہنچا دی گئیں

    کشتی حادثے میں جاں بحق 4 پاکستانیوں کی لاشیں پہنچا دی گئیں

    مراکش کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 4 پاکستانیوں کی لاشیں وطن پہنچا دی گئی ہیں۔ ان افراد کی میتیں بدھ کی رات پرواز ایس وی 726 کے ذریعے اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچائیں گئیں۔ ان افراد میں محمد ارسلان، علی سجاد، حامد شبیر اور اقبال وقاص شامل ہیں۔ یہ میتیں جدہ سے پاکستان لائی گئیں۔

    ذرائع کے مطابق، ان میں سے دو میتوں کا تعلق منڈی بہاء الدین سے ہے، جبکہ ایک میت شیخوپورہ سے تعلق رکھتی ہے۔ وفاقی وزیر سمندر پار پاکستانیز، چوہدری سالک حسین، اس موقع پر اسلام آباد ایئرپورٹ پر موجود تھے اور انہوں نے مرحومین کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار تعزیت کیا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مراکش کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والی 13 لاشوں کی شناخت کا عمل مکمل کیا جا چکا تھا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ان 13 لاشوں کی شناخت پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے طور پر کی گئی ہے۔یاد رہے کہ 16 جنوری کو مراکش کی بندرگاہ ڈھاکلہ کے قریب ایک کشتی جس میں متعدد پاکستانی سوار تھے، الٹ گئی تھی، جس میں کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

    ایف آئی اے کی کارروائی میں دو انسانی اسمگلرز کی گرفتاری
    وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے گوجرانوالہ اور نارووال میں کارروائی کرتے ہوئے دو انسانی اسمگلرز کو گرفتار کیا ہے۔ ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق، دونوں اسمگلروں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔گرفتار ہونے والے ملزم عنصر محمود کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کی وجہ سے ایک شہری یونان میں کشتی حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ عنصر محمود نے اس شہری سے 45 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔دوسری جانب دوسرے گرفتار ملزم اویس کے بارے میں بتایا گیا کہ اس نے ایک شہری سے کینیڈا بھجوانے کے لیے 51 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ شہری بھی کشتی حادثے میں جاں بحق ہو گیا تھا۔

    ایف آئی اے کی کارروائی سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے ادارہ بھرپور کوششیں کر رہا ہے تاکہ اس جیسے واقعات کی مزید روک تھام کی جا سکے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے۔

  • پشین،  ڈی سی کملیکس کے باہر خودساختہ بم برآمد

    پشین، ڈی سی کملیکس کے باہر خودساختہ بم برآمد

    پشین شہر میں ڈی سی کملیکس کے باہر ایک خودساختہ بم برآمد ہونے کی اطلاع ملی۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ (بی ڈی ایس) نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر بم کو ناکارہ بنانے کا عمل شروع کیا۔ خودساختہ بم سیمنٹ کے بلاک میں نصب کیا گیا تھا، جسے انتہائی مہارت سے ناکارہ بنایا گیا۔

    مقامی حکام کے مطابق، یہ بم خطرناک طریقے سے اس مقام پر نصب کیا گیا تھا، لیکن بروقت اطلاع اور بم ڈسپوزل اسکواڈ کی کوششوں سے کسی بھی قسم کا جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔ بم کی موجودگی سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا، مگر فوراً کارروائی کرکے خطرے کو ٹال دیا گیا۔حکام نے اس واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاکہ بم نصب کرنے والوں کی شناخت اور ان کے مقاصد کا پتا چلایا جا سکے۔ بلوچستان میں اس نوعیت کے واقعات میں اضافے کے پیش نظر، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے علاقے میں سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے اور عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پشین پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں نے اس کارروائی میں حصہ لیا، اور سیکیورٹی کی صورتحال کو مزید مستحکم کرنے کے لیے گلی گلی میں سرچ آپریشنز بھی شروع کر دیے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

  • وفاقی وزیر جام کمال نے جدہ میں پہلی ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ نمائش کا افتتاح کر دیا

    وفاقی وزیر جام کمال نے جدہ میں پہلی ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ نمائش کا افتتاح کر دیا

    جدہ: وفاقی وزیر برائے تجارت، جام کمال خان نے سعودی عرب کے شہر جدہ میں پہلی ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ نمائش کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ اس نمائش کا مقصد پاکستانی مصنوعات کو عالمی مارکیٹ میں متعارف کرانا اور پاکستان کے معاشی شعبے میں بہتری لانے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    جام کمال خان نے اپنے خطاب میں پاک سعودی تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت دینے کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، اور اس نمائش کا انعقاد دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا۔

    ’’میڈ اِن پاکستان‘‘ نمائش میں پاکستان کی 137 کمپنیوں نے شرکت کی، جن میں ٹیکسٹائل، کھیلوں کا سامان، خوراک، اور تعمیراتی مواد کی مصنوعات شامل ہیں۔ وزیرِ تجارت نے ان مصنوعات کی عالمی معیار کی اہمیت کو اجاگر کیا اور سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔

    جام کمال خان نے سعودی عرب میں پاکستانی نوجوانوں کی مہارت بڑھانے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعاون سے پاکستانی نوجوانوں کو نئی مہارتیں سیکھنے کا موقع ملے گا، جس سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچے گا۔وزیرِ تجارت نے اس موقع پر پاکستانی فٹبال مینوفیکچرنگ انڈسٹری کا بھی تعارف کرایا۔ انہوں نے سعودی عرب کو 2034 فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی جیتنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستانی فٹبالز اپنے معیار کی بدولت فیفا ورلڈ کپ 2034 میں بھی اپنی شناخت برقرار رکھیں گے۔جام کمال خان نے سعودی عرب میں مقیم 27 لاکھ پاکستانی تارکین وطن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی، جو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان روابط اور دو طرفہ تعلقات کا اہم ستون ہیں۔

    وزیرِ تجارت نے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس نمائش کے انعقاد میں بھرپور تعاون کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ تجارتی تعلقات کی استحکام کے لیے یہ نمائش ایک اہم قدم ہے، جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا۔جام کمال خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستانی مصنوعات عالمی معیار کی ہیں اور ان کا عالمی مارکیٹ میں ایک اہم مقام ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو سراہا اور کہا کہ یہ نمائش دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کے مزید فروغ کا باعث بنے گی۔جام کمال خان نے سعودی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ سعودی سرمایہ کار پاکستانی مارکیٹ میں سرمایہ کاری کر کے دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔