Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عمران ،بشریٰ  کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

    عمران ،بشریٰ کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں سزا کیخلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے۔

    خالد یوسف ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ نیب (قومی احتساب بیورو) نے بدنیتی سے اختیارات کا غلط استعمال کیا اور نامکمل تفتیش کی بنیاد پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنا دی۔اپیل میں کہا گیا ہے کہ نیب کی جانب سے نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) کے معاہدے کا مکمل متن حاصل نہ کرنا نیب کی ہچکچاہٹ اور بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔ اپیل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی اے کے حکام کو تفتیش میں شامل نہیں کیا گیا اور استغاثہ مکمل شواہد پیش کرنے میں ناکام رہا۔مزید برآں، اپیل میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے درخواست کی گئی ہے کہ 17 جنوری 2025 کو احتساب عدالت کی جانب سے دی گئی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے اور عمران خان اور بشریٰ بی بی کو بری کیا جائے۔

    یہ مقدمہ ایک اہم قانونی اور سیاسی محاذ پر جاری ہے، جس کے اثرات نہ صرف عمران خان اور ان کی اہلیہ کی زندگی پر پڑیں گے بلکہ پاکستان کی سیاست پر بھی اس کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس اپیل کی سماعت کے حوالے سے مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ، تحریک انصاف کی جانب سے اس فیصلے کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا گیا ہے ،حکومت کی جانب سے اس مقدمہ کو عمران، بشریٰ کی کرپشن کہا گیا ہے،

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

  • وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی ریلویز کے پرانے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کے حوالے سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریلویز کے مختلف امور پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ اجلاس میں پاکستان ریلویز کی بحالی، ترقی اور اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔

    وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کی زمین کو نجی شعبے کے تعاون سے کاروباری سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کی ہدایت دی۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ریلویز کو خطے کے دیگر ممالک خصوصاً وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دینی چاہیے تاکہ ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کو مسابقتی طور پر مسافروں کو راغب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے مسافروں کو سفر کی بہتر خدمات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ ریلویز میں پیشہ ورانہ اور باصلاحیت افرادی قوت کا استعمال کیا جائے تاکہ ادارے کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کے پرانے نظام کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق جدید ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کی ہدایت دی تاکہ خدمات میں مزید بہتری آئے اور مسافروں کے سفر کے تجربے کو آسان اور سہولت بخش بنایا جا سکے۔وزیراعظم نے پاکستان ریلویز کو ہدایت دی کہ وہ مال برداری کی خدمات کو بھی منافع بخش بنائے تاکہ ادارے کی مالی حالت کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔ اس ضمن میں وزیراعظم نے ریلویز کی کارکردگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی اور مستقبل میں مزید ترقی کے لیے ضروری اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔

    اجلاس میں وزیراعظم کو 2022 کے تباہ کن سیلابوں کے بعد پاکستان ریلویز کے اقدامات کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ بتایا گیا کہ سیلاب کے دوران پاکستان ریلویز کو 10 ارب روپے کا نقصان ہوا اور 35 دن تک پٹریاں زیر آب رہیں۔ تاہم، پاکستان ریلویز نے مختلف اقدامات کے ذریعے اپنی کارکردگی کو بہتر بنایا اور مال برداری (Freight Operations) میں ابتدائی لاگت کے برابر منافع کمایا۔ فی الحال پاکستان ریلویز ملک میں مال برداری کی مارکیٹ میں 8 فیصد حصہ رکھتا ہے۔

    پاکستان ریلویز کی رائٹ سائزنگ کے عمل میں 18 فیصد غیر ضروری عملے کو فارغ کرنے کی معلومات بھی اجلاس میں شیئر کی گئی۔ اس کے علاوہ، تھر کول کے مواصلاتی منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے ریلویز کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی۔

    اجلاس میں وفاقی وزراء ڈاکٹر احسن اقبال، محمد علیم خان، محمد اورنگزیب خان، خواجہ محمد آصف، جام کمال خان، احد خان چیمہ، سردار اویس لغاری اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔اس اجلاس کا مقصد پاکستان ریلویز کے نظام کو جدید بنانے اور اس کی کارکردگی میں مزید بہتری لانے کے لیے اقدامات کرنا تھا تاکہ ملک کی معیشت میں ریلویز کا کردار اہم اور مضبوط ہو۔

    آئینی بنچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل

    علی امین گنڈا پور سے پارٹی عہدہ کس کے کہنے پر واپس لیا گیا

  • آئینی بنچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل

    آئینی بنچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی،جسٹس جمال مندوخیل

    ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    نذر عباس نے انٹراکورٹ اپیل واپس لینے کی استدعا کردی،جسٹس جمال مندوخیل کی سربراہی میں 6 رکنی بنچ نے سماعت کی، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنا دعوی واپس لے سکتے ہیں درخواست نہیں، درخواست اب ہمارے سامنے لگ چکی ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ اپنی اپیل کیوں واپس لینا چاہتے ہیں؟ نذر عباس نے کہا کہ توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا گیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ایسا تھا تو آپ پہلے بتا دیتے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ کیا توہین عدالت کارروائی ختم ہونے کا آرڈر آچکا ہے؟ نذر عباس کے وکیل نے کہا کہ جی آرڈر آچکا ہے، نذر عباس کے وکیل نے جسٹس منصور کا فیصلہ پڑھ کر سنا دیا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آپ اپنا کلیم واپس لے سکتے ہیں لیکن اپیل واپس نہیں لی جاسکتی، جسٹس جمال خان مندوخیل نے نذر عباس کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کمرہ عدالت سے باہر جانا چاہیں تو جا سکتے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ میرے موکل کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لے لیا گیا ہے،

    جو فل کورٹ بنے گا کیا اس میں مبینہ توہین کرنے والے چار ججز بھی شامل ہونگے،جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جب توہین عدالت کی کارروائی ختم کر دی گئی تو آرڈر کیسے دیا گیا، اس فیصلے میں تو مبینہ طور پر توہین کرنے والوں میں چیف جسٹس پاکستان کو بھی شامل کیا گیا، کیا مبینہ طور پر توہین کرنے والے فل کورٹ تشکیل دیں گے، مرکزی کیس آئینی بنچ کے سامنے سماعت کیلئے مقرر ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ توہین عدالت قانون میں پورا طریقہ کار بیان کیا گیا ہے، دونوں کمیٹیوں کو توہین کرنے والے کے طور پر ہولڈ کیا گیا،طریقہ کار تو یہ ہوتا ہے پہلے نوٹس دیا جاتا ہے،ساری دنیا کیلئے آرٹیکل 10اے کے تحت شفاف ٹرائل کا حق ہے،کیا ججز کیلئے آرٹیکل 10 اے دستیاب نہیں، جو فل کورٹ بنے گا کیا اس میں مبینہ توہین کرنے والے چار ججز بھی شامل ہونگے،ہمیں نوٹس دے دیتے ہم چار ججز انکی عدالت میں پیش ہو جاتے، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا انٹراکورٹ اپیل میں وہ معاملہ جو عدالت کے سامنے ہی نہیں کیا اسے دیکھ سکتے ہیں، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ تو کیا ہم بھی فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کریں، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم اٹارنی جنرل کو سن لیتے ہیں، مناسب ہوگا ججز کراس ٹاک نہ کریں،

    عدالت میں موجود کوئی وکیل ہمیں بتائے کہ ہمارا کیا مفاد ہے ؟جسٹس جمال مندوخیل
    جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ کیا یہ مقدمہ آئینی بنیچ کو بھیجا جا سکتا تاکہ دائرہ اختیار کا تعین ہوسکے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل آئینی بینچ کو نہیں جا سکتی، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہمارے سامنے جو اپیل تھی وہ غیرموثر ہوچکی ہے، عدالت کے سامنے کوئی کیس ہی نہیں تو کارروئی کس پر چل رہی؟ جو کچھ ہو رہا ہے یہ عدلیہ کے اس ادارے کی بدقسمتی ہے، چھ ججز کے خط پر اگر سپریم کورٹ ڈٹ جاتی تو آج یہ حالات نہ ہوتے، کیا اب ہم فیصلہ سنانے والے ججز کو نوٹس جاری کریں گے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ نوٹس جاری کر سکتے ہیں لیکن کریں گے نہیں، کمیٹی کے ایک ممبر نے خط بھی لکھا جس میں ہمارے مفادات کے ٹکرائو کا ذکر ہے، کیا ہم پر اعتراض کرنے والے مقدمہ میں فریق تھے؟ اعتراض کرنے والے کو پہلے میرا مفاد اور پھر ٹکراؤ ثابت کرنا ہوگا، میرا کہیں ذاتی مفاد ہو تو کیس نہیں سنوں گا، عدالت میں موجود کوئی وکیل ہمیں بتائے کہ ہمارا کیا مفاد ہے ؟ہمارا انٹرسٹ آئین کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ہمارے سیاستدان ہوں یا عوام ماضی کی غلطیوں سے کچھ نہیں سیکھتے،

    ایڈیشنل رجسٹرار کی توہین عدالت کارروائی کیخلاف انٹراکورٹ اپیل،عدالت نے انٹرا کورٹ اپیل کی درخواست واپس لینے پر کیس نمٹا دیا ،جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس شاہد وحید نے بغیر کسی وجوہات کے کیس نمٹا دیا،عدالت نے کہا کہ بینچ کی اکثریت انٹرا کورٹ اپیل نمٹانے کی وجوہات دے گی،جسٹس جمال مندوخیل اورجسٹس محمد علی مظہروجوہات بتائیں گے،جسٹس مسرت ہلالی اورجسٹس عرفان سعادت بھی وجوہات بتائیں گے

    ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان عدالت میں پیش ہوئے،اور کہا کہ اٹارنی جنرل کسی میٹنگ میں گئے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ کا معاملے پرموقف کیا ہے؟جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ ایک مسئلہ ہے کہ یہ فیصلہ ہمارے سامنے چیلنج نہیں ہوا ، ہم تب ہی فیصلے کا جائزہ لے سکتے ہیں جب چیلنج ہوا ہو، جسٹس شاہد وحید نے کہا کہ اگر فیصلے پرسوموٹو لینا ہے تو اس کا اختیار آئینی بینچ کے پاس ہے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ خدانخواستہ اس وقت ہم سب بھی توہین عدالت تو نہیں کر رہے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اب یہ فیصلہ عدالتی پراپرٹی ہے، ایک بار اس کو دیکھ لیتےہیں،روز کا جو تماشہ لگا ہوا ہے یہ تو ختم ہو،دیکھ لیتے ہیں یہ کارروائی شروع کیسے ہوئی؟ کیا کمیٹیوں کے فیصلے اس بینچ کے سامنے چیلنج ہوئے تھے؟یہ ہمارے مفادات کا معاملہ ہے اس لیے ہم نہ بیٹھیں ؟ یہ مفادات والے معاملے پر مجھے بول لینے دیں،آئینی بینچ میں شامل کر کے ہمیں کون سی مراعات دی گئی ہیں؟ ہم دو دو بینچ روزانہ چلا رہے ہیں یہ مفادات ہیں؟ اگر آئینی بینچ میں بیٹھنا مفاد ہے تو پھر جو نہیں شامل وہ متاثرین میں آئیں گے، مفادات والے اور متاثرین دونوں یہ کیس نہیں سن سکتے،ایسی صورت میں پھر کسی ہمسایہ ملک کے ججز لانا پڑیں گے،کیا ہم خود شوق سے آئینی بینچ میں بیٹھے ہیں؟ مجھے توہین عدالت کا مرتکب قرار دیاگیا میں کمیٹی اجلاس میں نہیں جاؤں گا،توہین عدالت کے نوٹس کا سلسلہ رکے اس لیے چاہتے ہیں ایسے حکم جاری نہ ہوں، آنے والے ساتھی ججز کو توہین عدالت سے بچانا چاہتے ہیں،

    جسٹس اطہرمن اللہ نےکہا کہ آج ایک سینئر سیاستدان کا بیان چھپا ہے کہ جمہوریت نہیں ہے،6ججزکا عدلیہ میں مداخلت کا خط آیا تو سب نے نظریں ہی پھیر لیں،جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ جسٹس اطہر من اللہ تیسری مرتبہ یہ بات کر رہے ہیں، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم صرف اٹارنی جنرل کو سننا چاہتے ہیں، جس علاقے سے تعلق رکھتا ہوں وہاں روایات کا بہت خیال رکھا جاتا ہے،بدقسمتی سے اس مرتبہ روایات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے وکیل سے سوال کیا کہ کیا آپ نے دو رکنی بینچ میں فل کورٹ کی استدعا کی تھی؟وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ اس بینچ میں بھی استدعا کر رہا ہوں کہ فل کورٹ ہی اس مسئلے کو حل کرے، جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر ہم آرڈر کریں اور فل کورٹ نہ بنے تو ایک اور توہین عدالت شروع ہوجائے گی،

    جعلی عامل کا تشدد، 30 سالہ خاتون کی موت

    مراکش کشتی حادثے میں ملوث انسانی سمگلر،اہم ملزم گرفتار

  • میوزیم سے چور 2500 برس پرانا سونے کا ہیلمٹ لے اڑے

    میوزیم سے چور 2500 برس پرانا سونے کا ہیلمٹ لے اڑے

    ڈچ شہر ایسن میں واقع ڈرینٹس میوزیم میں چوروں نے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کرتے ہوئے قدیم نوادرات کو چوری کر لیا، جن میں تقریباً 2,500 سال پرانا سونے کا ہیلمیٹ بھی شامل ہے۔

    یہ واردات ہفتے کی صبح کے ابتدائی اوقات میں ہوئی، جب مقامی پولیس کو صبح 3:45 پر دھماکے کی اطلاع ملی۔پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کی جس میں چوروں کو میوزیم کے بیرونی دروازے کو کھولتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے بعد دھماکے کی آواز اور دھواں بلند ہوا۔ چوروں نے تقریباً 50 قبل مسیح کے تین سونے کے کڑے اور پانچویں صدی قبل مسیح کا "ہیلمیٹ آف کوٹوفینیستی” چرالیا، جو رومانیہ کے نیشنل ہسٹری میوزیم کی طرف سے قرض پر دیا گیا تھا۔ یہ نوادرات "ڈیشیا، ایمپائر آف گولڈ اینڈ سلور” کے عنوان سے ایک نمائش کا حصہ تھے جو جولائی سے جاری تھی .

    ڈرینٹس میوزیم نے اپنے ویب سائٹ پر ایک بیان میں کوٹوفینیستی ہیلمیٹ کو ایک "شاہکار” قرار دیا ہے، جو تقریباً سو سال قبل رومانیہ کے ایک گاؤں میں دریافت ہوا تھا۔ اس ہیلمیٹ پر ایسی میتھالوجیکل مناظر بنے ہیں، جن میں ایک جوڑی آنکھیں بھی شامل ہیں، جو جنگ میں دشمنوں کو خوفزدہ کرنے اور "بُرے نظر” سے بچانے کے لیے ڈیزائن کی گئی تھیں۔یہ نمائش اتوار کو ختم ہونے والی تھی، لیکن میوزیم چوری کے باعث پورے ہفتے کے آخر میں بند رہا۔ دھماکے سے میوزیم کی عمارت کو نقصان پہنچا، لیکن خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

    ڈچ پولیس نے اعلان کیا کہ وہ عالمی پولیس ایجنسی انٹرپول کے ساتھ مل کر تحقیقات کر رہی ہے، اور اتوار تک انہیں 50 سے زیادہ معلومات ملی ہیں۔ پولیس نے ایک چوری شدہ گاڑی کے بارے میں معلومات تلاش کرنا شروع کی جو اس سے قبل آلکمار شہر سے چوری ہوئی تھی اور چوری کے فوراً بعد تقریباً 4 میل دور ایک آگ میں جلی ہوئی حالت میں پائی گئی۔ پولیس کا خیال ہے کہ چوروں نے اس گاڑی کو چھوڑا اور ایک مختلف گاڑی میں فرار ہو گئے۔

    ڈرینٹس میوزیم کے جنرل ڈائریکٹر ہیری ٹوپان نے اس واقعے کو "یوم سیاہ” کے طور پر بیان کیا، نہ صرف اپنے ادارے کے لیے بلکہ رومانیہ کے نیشنل ہسٹری میوزیم کے لیے بھی۔ انہوں نے کہا، "ہم اس سانحے سے شدید صدمے میں ہیں۔ اس کے 170 سالہ تاریخ میں ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا۔ یہ ہمارے رومانیہ کے ساتھیوں کے لیے بھی بڑا دکھ کا باعث ہے۔”

  • علی امین گنڈا پور سے پارٹی عہدہ کس کے کہنے پر واپس لیا گیا

    علی امین گنڈا پور سے پارٹی عہدہ کس کے کہنے پر واپس لیا گیا

    پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی صدارت سے علی امین گنڈا پور کے برطرف ہونے کے بعد ایک نئے سیاسی منظرنامے نے جنم لیا ہے، جس میں پارٹی کے اندر کی دھڑے بندی اور مبینہ شکایات کا انکشاف ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق علی امین گنڈا پور کے خلاف ماضی میں ایک متحرک گروپ نے عمران خان کو شکایات لگائیں، جن میں جیل کی پیشیوں اور مختلف مقدمات کے دوران ان کے بارے میں متعدد الزامات عائد کیے گئے۔ اس گروپ میں عاطف خان، شکیل خان، جنید اکبر اور مشال یوسفزئی شامل ہیں، جبکہ قاضی انور ایڈووکیٹ اور دیگر وکلاء بھی علی امین گنڈا پور کے خلاف شکایت کرنے والوں میں شامل ہیں۔یہ بات سامنے آئی ہے کہ مذکورہ گروپ نے عمران خان سے ملاقاتوں میں علی امین گنڈا پور کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا اور ان کے انتظامی فیصلوں پر سوالات اٹھائے۔ ان افراد نے پارٹی کے اندر علی امین گنڈا پور کی کارکردگی اور ان کی قیادت پر تنقید کی، جس کے بعد عمران خان نے فیصلہ کیا کہ پارٹی کے امور میں تبدیلی کی جائے۔

    پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم نے اس حوالے سے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں کوئی دھڑے بندی نہیں ہے اور علی امین گنڈا پور نے بانی پی ٹی آئی کے فیصلے کو قبول کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ علی امین گنڈا پور پر دو عہدوں کا بوجھ تھا، لیکن اب وہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کے طور پر صوبے اور پارٹی کی خدمت جاری رکھیں گے۔

    صوبائی صدر انصاف لائرز فورم، قاضی انور ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وہ صرف بانی پی ٹی آئی کو یہ تجویز دے رہے تھے کہ احتساب کے لیے ایک طریقہ کار ہونا چاہیے، جس کے بعد احتساب کمیٹی قائم کی گئی تھی۔ قاضی انور نے مزید کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ علی امین گنڈا پور سے صوبائی صدارت کیوں واپس لے کر جنید اکبر کو دی گئی، حالانکہ علی امین گنڈا پور پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات میں بلامقابلہ منتخب ہوئے تھے۔

    یہ تمام تبدیلیاں اس وقت ہوئی ہیں جب عمران خان نے علی امین گنڈا پور سے پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کی صدارت واپس لے کر رکن قومی اسمبلی جنید اکبر کو صوبائی صدر مقرر کر دیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان نے علی امین گنڈا پور کو ہدایات دی ہیں کہ وہ اپنی توجہ خیبر پختونخوا میں گورننس اور دہشت گردی کے مسائل پر مرکوز رکھیں۔

    آزاد کشمیر کا نوجوان غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرگیا

    اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ گئی،لاکھوں فلسطینی شمالی علاقوں میں گھروں کو روانہ

  • آزاد کشمیر کا  نوجوان غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرگیا

    آزاد کشمیر کا نوجوان غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرگیا

    مظفرآباد: آزاد کشمیر کا ایک نوجوان غلطی سے لائن آف کنٹرول عبور کرگیا

    آزاد کشمیر کے علاقے تیتری نوٹ کا رہائشی نوجوان محمد یاسر فیض، جس کا ذہنی توازن درست نہیں، غلطی سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) عبور کرگیا۔ یاسر کا تعلق محلہ نوٹ سے ہے اور اسے دو روز قبل ذہنی علاج کے لیے راولاکوٹ لے جایا گیا تھا۔یاسر کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ ذہنی طور پر پریشان ہے اور اس کی حالت بہتر بنانے کے لیے اسے طبی معائنے کی غرض سے راولاکوٹ منتقل کیا گیا تھا۔ اہل خانہ نے حکام سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، کیونکہ یہ واقعہ محض ایک غلطی تھی۔

    اس معاملے پر اعلیٰ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور نوجوان کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ حکومتی ادارے جلد ہی ان کے بیٹے کو بحفاظت واپس لائیں گے۔

    یاد رہے کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) ایک حساس سرحد ہے اور اس پر کسی بھی قسم کی غیر مجاز نقل و حرکت سے سنگین نتائج کا سامنا ہو سکتا ہے، لیکن اس کیس میں یہ واضح ہے کہ نوجوان کی حرکت نادانستہ اور غیر ارادی تھی۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری

    بل گیٹس نے طلاق کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دے دیا

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاری

    جنوبی کوریا نے جیجو ایئر طیارے کے حادثے کی ابتدائی تحقیقات رپورٹ جاری کر دی

    جنوبی کوریا کے حکام نے گزشتہ ماہ کے جیجو ایئر طیارے کے حادثے کی ابتدائی تحقیقات رپورٹ اقوام متحدہ کے ایوی ایشن ادارے اور امریکہ، فرانس اور تھائی لینڈ کی حکام کے حوالے کر دی ہے، ایک عہدیدار نے پیر کے روز اس کی اطلاع دی۔جنوبی کوریا کی سرزمین پر ہونے والے اس سب سے بڑے فضائی حادثے کی تحقیقات کا عمل جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کا فوکس "پرندوں کے ٹکراؤ” کے امکان پر ہے، اور اس میں طیارے کے انجنز اور "لوکالائزر” لینڈنگ گائیڈنس اسٹرکچر کی تفصیل سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے، "یہ تمام تحقیقات کا مقصد حادثے کی اصل وجہ کا پتہ لگانا ہے۔”

    اقوام متحدہ کا ادارہ، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن ، ایوی ایشن حادثات کے تفتیش کاروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ حادثے کے 30 دن کے اندر ابتدائی رپورٹ تیار کریں، اور 12 ماہ کے اندر حتمی رپورٹ عوام کے سامنے لائیں۔

    یہ حادثہ 29 دسمبر کو پیش آیا، جب بنکاک سے روانہ ہونے والا بوئنگ 737-800 جیجو ایئر کا طیارہ، جو موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پہنچنے والا تھا، ہنگامی طور پر بیلی لینڈنگ کرتے ہوئے رن وے سے تجاوز کر گیا اور لوکالائزر اسٹرکچر سے ٹکرا گیا۔ اس حادثے میں 181 افراد اور عملے کے ارکان میں سے دو کے علاوہ تمام افراد کی موت واقع ہوگئی۔”لوکالائزر” وہ نظام ہوتا ہے جو طیارے کی رن وے پر لینڈنگ کے دوران نیویگیشن میں مدد دیتا ہے، اور موان ایئرپورٹ پر اس کے اینٹینا کے لیے بنایا گیا کنکریٹ اور مٹی کا ڈھانچہ حادثے کا ممکنہ سبب بن سکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے۔

    رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جنوبی کوریا کے تفتیش کاروں کی ابتدائی تحقیقات کے کچھ نتائج میں یہ بات شامل ہے کہ پائلٹس نے اپنی آخری لینڈنگ کے دوران پرندوں کے جھنڈ کو دیکھا تھا۔ پائلٹس کے مطابق پرندے کی ٹکراؤ کی درست وقت کی تصدیق نہیں ہو سکی، لیکن طیارے نے "پرندوں کے ٹکراؤ” کی اطلاع دیتے ہوئے ایمرجنسی ڈیکلریشن کیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا، "دونوں انجنوں کا معائنہ کیا گیا اور ہر ایک پر پرندوں کے پر اور خون کے دھبے ملے۔””حادثے کے بعد آگ اور جزوی دھماکہ بھی ہوا۔ دونوں انجن مٹی کے ڈھیر میں دفن ہو گئے اور طیارے کے اگلے حصے کا ملبہ 30 سے 200 میٹر کے فاصلے تک پھیل گیا۔”

    رپورٹ میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ حادثے کے وقت دونوں ڈیٹا ریکارڈرز نے ریکارڈنگ بند کر دی تھی، اور یہ معلومات ابھی تک تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ طیارہ اس وقت 498 فٹ کی بلندی پر 161 نوٹ کی رفتار سے پرواز کر رہا تھا جب بلیک باکسز نے ریکارڈنگ بند کر دی، رپورٹ میں کہا گیا ہے۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا ، بدترین فضائی حادثے کے بعد فضائی حفاظتی تحقیقات کا حکم

  • اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ گئی،لاکھوں فلسطینی شمالی علاقوں میں گھروں کو روانہ

    اسرائیلی فوج پیچھے ہٹ گئی،لاکھوں فلسطینی شمالی علاقوں میں گھروں کو روانہ

    غزہ کے شمالی علاقوں میں اسرائیل کی طرف سے راہداری کھولے جانے کے بعد، درجنوں ہزاروں بے گھر فلسطینیوں نے عارضی کیمپوں میں مہینوں گزارنے کے بعد واپس اپنے گھروں کی طرف سفر شروع کیا۔ یہ واقعتاً ایک تباہ کن منظر تھا جہاں لوگ اپنے سامان اور بچوں کے ساتھ چلتے ہوئے شمالی غزہ کی جانب بڑھ رہے تھے،

    جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیلی فوج نتزارم راہداری سے پیچھے ہٹ گئی ہے جس کے بعد جبری بے دخل کیے گئےلاکھوں فلسطینی شمالی غزہ واپس لوٹ رہے ہیں،اس حوالے سے اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی غزہ جانے والے نتزارم روڈ کوکھول دیا گیا ہے، فلسطینیوں کو پیدل شمالی غزہ میں اپنےگھروں کوجانے کی اجازت ہے جب کہ گاڑیوں کو تلاشی کے بعد صلاح الدین شاہراہ سےشمال کی طرف جانے کی اجازت ہوگی،یہ افراد کئی دنوں سے سڑکوں پر یا سمندر کے کنارے اپنے بستروں اور ضروری سامان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، انتظار کر رہے تھے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کے تحت یہ چیک پوائنٹ کھلے۔فادی ال سنوار، جو غزہ شہر سے تعلق رکھتے ہیں، نے اتوار کے روز کہا، "ہم اپنے گھر کو یاد کرتے ہیں۔ ہم 470 دنوں سے خیموں میں رہ رہے ہیں۔” نادیہ قاسم، جو الشاطی پناہ گزین کیمپ سے ہیں، نے سی این این کو بتایا، "ہم اس دن کا انتظار کر رہے تھے، حالانکہ کئی لوگ اپنے گھروں کی جگہ صرف ملبہ ہی پائیں گے۔”

    واپسی کا عمل 48 گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا گیا تھا، کیونکہ اسرائیل نے حماس پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا۔ تاہم، جمعرات اور ہفتے کو دونوں فریقوں نے مزید یرغمالیوں کی رہائی پر اتفاق کیا، اور اسرائیل نے شمالی غزہ میں واپس جانے کی اجازت دی۔

    اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ غزہ کو "صاف” کرنے کے اپنے منصوبے پر اردن کے بادشاہ اور مصری صدر عبدالفتح السیسی سے بات کریں گے، اور وہ چاہتے ہیں کہ اردن اور مصر فلسطینیوں کو یا تو عارضی طور پر یا طویل مدتی طور پر اپنے علاقوں میں پناہ دیں۔ ان کے اس بیان نے خطے میں مزید کشیدگی پیدا کی ہے اور فلسطینی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی کی کوشش قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔اردن اور مصر نے ٹرمپ کی اس تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کرنا ہوگا، جو فلسطینی قیادت اور عالمی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

    غزہ کے کئی علاقوں میں تباہی کا منظر ہے، جہاں اسرائیلی فوج کی بمباری نے شہر کو مکمل طور پر ملبے میں بدل دیا ہے۔ فلسطینی صدر نے اس منصوبے کو "ریڈ لائن کی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی اپنے وطن یا مقدس مقامات کو چھوڑنے کے لیے کبھی بھی تیار نہیں ہوں گے۔

    اس بات کا خوف بھی ہے کہ اگر ٹرمپ کی تجویز پر عملدرآمد کیا گیا، تو اس سے فلسطینیوں کے لیے کسی دو ریاستی حل کی امید مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ حماس اور اسلامی جہاد نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ فلسطینیوں کی شناخت اور حقوق کے خلاف ہے۔دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس تجویز کو فلسطینیوں کے لیے ایک اور مصیبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطینیوں کے انسانیت سوز علاج کی طرف ایک اور قدم ہوگا۔

    سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سیف علی خان کے علاج کیلئے25 لاکھ ، میڈیکل کلیم کی منظوری پر سوالات اٹھ گئے

  • سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ قائمہ کمیٹی سے پیکا ایکٹ ترمیمی بل منظور

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان الیکٹرانک کرائمز ایکٹ میں ترمیمی بل کو منظور کرلیا ہے، جس پر صحافتی تنظیموں کی جانب سے شدید مخالفت سامنے آئی ہے۔ کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فیصل سلیم کی صدارت میں ہوا، جس میں اس ترمیمی بل پر تفصیلی بحث کی گئی۔

    اجلاس کے دوران صحافتی تنظیموں نے بل پر اپنے اعتراضات پیش کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بل میں کئی خامیاں ہیں جو صحافت کی آزادی کو محدود کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ بل میں ’فیک نیوز‘ کی تعریف مبہم ہے اور اس سے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔ صحافتی تنظیموں نے کمیٹی سے درخواست کی کہ بل پر نظرثانی کی جائے اور اسے دوبارہ پیش کیا جائے تاکہ اس میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر فیصل سلیم نے صحافتی تنظیموں کی طرف سے اپنی تحریری سفارشات پیش نہ کرنے پر سخت سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو اپنی سفارشات تحریری طور پر کمیٹی کے سامنے پیش کرنی چاہیے تھیں تاکہ کمیٹی ان پر غور کرتی۔

    سینیٹر عرفان صدیقی نے بھی اجلاس میں حصہ لیا اور کہا کہ اس ملک میں کسی کو گرفتار کرنے کے لیے کسی خاص قانون کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ خود کرایہ داری کے قانون کے تحت گرفتار ہو چکے ہیں۔ سینیٹر عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ وزیر اطلاعات کے ساتھ صحافیوں کی ملاقات میں بعض ترامیم پر اتفاق ہوا تھا، اور وزارت داخلہ کو قومی اسمبلی میں منظور ہونے والے بل میں نئی ترامیم کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

    اینکرز ایسوسی ایشن نے بھی ترمیمی بل پر اعتراضات اٹھائے اور کہا کہ انہیں بل پر اپنی تجاویز دینے کا مناسب وقت نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ فیک نیوز کے قانون کے حامی ہیں، مگر موجودہ بل ان کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔

    کمیٹی اجلاس میں سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق، سینیٹر کامران مرتضی، سینیٹر پلوشہ خان اور سینیٹر میر دوستین حسن ڈومکی بھی شریک ہوئے۔ اجلاس کے دوران سیکرٹری داخلہ نے اس بل کو عوامی تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ یہ قانون صرف قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ہی نافذ العمل ہوگا۔

    یہ بل صحافتی آزادی، انٹرنیٹ کے استعمال، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے حوالے سے ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جس پر مزید بحث اور نظرثانی کی ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔

    امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

  • امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

    امدادی سامان کی 100 گاڑیاں ضلع کرم کے لیے روانہ

    ضلع ہنگو کے علاقے ٹل سے 100 گاڑیوں پر مشتمل ایک امدادی قافلہ ضلع کرم روانہ ہوگیا ہے، جس میں ضروری اشیاء کی ترسیل کی جارہی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر ہنگو، گوہر زمان نے بتایا کہ اس قافلے کا آغاز ٹل سے 60 گاڑیوں کے ساتھ کیا گیا، جس کے بعد مزید 40 گاڑیاں روانہ ہو چکی ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے مزید بتایا کہ اس امدادی قافلے میں آٹا، گھی، چینی، ادویات اور روزمرہ کی دیگر ضروری اشیاء شامل ہیں تاکہ کرم کے علاقے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا نہ ہو۔ قافلے کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔

    واضح رہے کہ کرم میں اس سے قبل سامان لے جانے والے قافلوں پر دو مرتبہ حملے ہو چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے کرم میں شرپسندوں کے خلاف خصوصی آپریشن شروع کر رکھا ہے تاکہ وہاں کی صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے اور عوام کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔یہ قافلہ کرم میں متاثرہ افراد تک امداد پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا، اور اس اقدام سے علاقے میں عوامی سطح پر اطمینان اور سکون کی فضا قائم کرنے میں بھی معاونت ملے گی۔

    قومی بنکرز کی مسماری کے سلسلے کو آج پھر سے شروع کیا جانے کا امکان ہے ، سرکاری ذرائع کے مطابق بگن بازار کی ٹوٹی ہوئی اور نقصان شدہ عمارتوں کی تزئین و آرائش کا کام بھی تیزی سے جاری ہے ،کرم متاثرین کو امدادی رقوم دینے کا سلسلہ بھی جاری ہے آج کے قافلے میں پیٹرول کی مصنوعات بھی شامل ہیں ، آج کے قافلے میں آٹا، چینی، پھل، سبزیاں، ادویات اور دیگر سامان شامل ہے – لوئر کرم کے مشران کوہاٹ میں 25 جنوری کو ہونے والے حکومتی جرگے میں شرکت کر چکے ہیں جبکہ اپر کرم اور پارا چنار کے مشران نے جرگے میں شمولیت سے انکار کیا تھا ۔اپر کرم اور پارا چنار کے مشران کے ساتھ حکومتی جرگہ جلد متوقع ہے ، قافلے کی حفاظت پولیس اور ضلعی انتظامیہ کر رہی ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز بھی معاونت کے لیے ہمہ وقت موجود ہیں- کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں ذمہ داران سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا –

    بل گیٹس نے طلاق کو زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دے دیا

    سیف علی خان کے علاج کیلئے25 لاکھ ، میڈیکل کلیم کی منظوری پر سوالات اٹھ گئے