Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • عِدت کیس میں بریت،خاورمانیکا کی اپیل،جسٹس اعظم خان کیس سے الگ

    عِدت کیس میں بریت،خاورمانیکا کی اپیل،جسٹس اعظم خان کیس سے الگ

    بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عِدت کیس میں بریت کے خلاف خاور مانیکا کی اپیلوں پر سماعت کرنے والے جسٹس اعظم خان نے خود کو کیس سے الگ کرلیا

    عدت نکاح کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور سابق خاتون اول بشری بی بی کی بریت کے خلاف خاور مانیکا کی اپیل پرسماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے کی۔درخواست گزار خاور مانیکا کی جانب سے زاہد آصف چوہدری، اقبال کاکڑ و دیگر عدالت پیش ہوگئے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے علی بخاری، شعیب شاہین، نیاز اللہ نیازی و دیگر عدالت پیش ہوئے۔زاہد آصف چوہدری نے کہا کہ ہم نے 13 جولائی 2024 کا ایڈیشنل سیشن جج کا بریت کا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے۔شعیب شاہین نے کہا کہ دلائل دینے سے پہلے ہم کچھ کہنا چاہ رہے ہیں،جسٹس اعظم خان پہلے اس کیس کو قابل سماعت قرار دے چکے ہیں، اس لئے اب یہ کیس کسی دوسرے بنچ کو منتقل کر دینا چاہیے۔آپ عدت کیس کو پہلے سن چکے ہیں۔

    جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیئے کہ جی میں پہلے کیس کوقابل سماعت قرار دے چکا ہوں،وکیل درخواست گزار زاہد آصف نے شعیب شاہین کے دلائل سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی کیس کا فیصلہ کوئی اور جج دے چکے،بانی پی ٹی آئی عمران خان کے وکلاء نے جسٹس اعظم خان پر اعتراض اُٹھا دیا،بعد ازاں جسٹس اعظم خان نے عمران خان کے وکلاء کا اعتراض منظور کرتے ہوئے عِدت کیس میں نیا بنچ تشکیل دینے کیلئے کیس کی فائل چیف جسٹس عامر فاروق کو بھیجوا دی۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    190 ملین پاؤنڈ کیس، عمران سرکار کی شمولیت کا پردہ فاش

    کیا عمران خان کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون اور برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے درمیان 190 ملین پاؤنڈز کی وطن واپسی کے معاملے میں کوئی مدد فراہم کی تھی؟

    اثاثہ ریکوری یونٹ (اے آر یو) کے سربراہ مرزا شہزاد اکبر کے دستخط شدہ ’’معاہدہ رازداری‘‘ (ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی) کو دیکھیں تو اس میں حکومت کی براہِ راست مدد کی نشاندہی ہوتی ہے۔ روزنامہ جنگ میں فخر درانی کی شائع رپورٹ کے مطابق معاہدے میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کے اکاؤنٹ کا ذکر ہے اور معاہدے میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت تک خفیہ رہے گا جب تک کہ قانوناً اسے افشاء کرنے کی ضرورت نہ پیش آئے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ٹائیکون کے ساتھ حکومت کے تعاون پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ جس وقت اس کیس کا تصفیہ ہو رہا تھا، اس وقت ٹائیکون اور این سی اے کے درمیان ’’فریم ورک ایگریمنٹ‘‘ ہوا تھا، اسی معاہدے کے موقع پر ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی بھی ہوئی جس میں تصفیے کی شرائط کا خاکہ، ضبط شدہ رقم کی وطن واپسی اور غیر منقولہ جائیداد کی فروخت کے متعلق باتیں شامل تھیں۔ حکومت پاکستان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ معاہدے کی تفصیلات خفیہ رکھے گی اور افشاء نہیں کرے گی۔

    شہزاد اکبر کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے میں انہوں نے اور عمران حکومت نے کوئی کردار ادا نہیں کیا لیکن رازداری کے معاہدے کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ عمران حکومت مکمل طور پر اس میں ملوث تھی، حالانکہ وہ معاہدے میں کوئی کردار ہونے کی تردید کرتی رہی ہے۔ ڈِیڈ آف کانفیڈنشلٹی کی نقل دی نیوز کے پاس موجود ہے۔ معاہدے کی شق 2.1.1 پر مرزا شہزاد اکبر کے دستخط ہیں۔ اس میں لکھا ہے کہ ڈیڈ اور فریم ورک معاہدہ دونوں کی شرائط خفیہ رہیں گی۔ شق 2.4 میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان فریقین کی رضامندی کے بغیر فریم ورک معاہدے کی کوئی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آر یو نہ صرف ڈیڈ کا حصہ تھی بلکہ اسے فریم ورک کی تفصیلات بھی معلوم تھیں۔ حالانکہ شہزاد اکبر نے ہمیشہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ معاہدہ صرف پراپرٹی ٹائیکون اور این سی اے کے درمیان ہوا ہے اور حکومت نے کوئی مدد نہیں کی۔ شق 2.4 میں لکھا ہے کہ حکومت پاکستان کسی بھی شخص کو اس ڈیڈ، فریم ورک معاہدے کے بارے میں دیگر فریقین کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر، کوئی معلومات فراہم نہیں کرے گی۔

    شق نمبر 2.6 میں لکھا ہے کہ اگر کوئی فریق چاہے تو وہ فریم ورک یا معاہدے کے حوالے سے کسی طرح کی تصیح کرنا چاہے یا درست معلومات فراہم کرنا چاہے تو حکومت پاکستان اسے ایسا کرنے کی اجازت دے گی۔ شق نمبر 2.3.4 حکومت پاکستان کو عدالتی حکم، ریگولیٹری باڈی، یا قانونی معاملات میں اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے معلومات افشاء کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اسے ایسا کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں کو مطلع کرنے اور ان سے مشورہ کرنا ہوگا۔ معاہدہ رازداری کے علاوہ، عمران خان کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون کو بار بار بیرون ملک سفر کی اجازت دی ۔ مجموعی طور پر ٹائیکون کو 20؍ مرتبہ باہر جانے کی اجازت دی گئی۔ 30 مارچ 2022 کو، عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے خان کی حکومت کا تختہ الٹنے سے چند دن پہلے، ٹائیکون کو بیرون ملک سفر کیلئے 8؍ ہفتوں کی اجازت دی گئی۔عمران حکومت کی ٹائیکون کیلئے مدد کی عکاسی شہزاد اکبر کے ٹائیکون کے ہمراہ برطانیہ کے دوروں سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔

    شہزاد اکبر نے اگست 2018ء سے دسمبر 2019ء کے درمیان 10 مرتبہ برطانیہ کا دورہ کیا، یہ وہ وقت تھا جب این سی اے ٹائیکون کے اثاثہ جات اور مالی معاملات کی تحقیقات کر رہا تھا۔ کئی مواقع پر شہزاد اکبر اور ٹائیکون ساتھ ساتھ برطانیہ میں تھے۔ یہ صورتحال حکومت کے ملوث ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔دی نیوز نے پی ڈی ایم حکومت کے دوران وزیر داخلہ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے رانا ثناء اللہ سے رابطہ کیا تاکہ اس بات کی تصدیق کی جا سکے کہ آیا شہباز شریف کی حکومت نے پراپرٹی ٹائیکون کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالا تھا۔انہوں نے کہا کہ انہیں یقین نہیں اور تصدیق کی ضرورت ہے۔ دی نیوز نے شہزاد اکبر کو ایک تفصیلی سوالنامہ بھیجا تاکہ ان سے معاہدے پر دستخط کے حوالے سے موقف لیا جا سکے، تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا، لیکن بعد میں جواب دیا کہ آپ نے اتوار کو سوالات بھیجے ہیں، میں فیملی کے ساتھ باہر ہوں، کل پڑھ کر جواب دینے کی کوشش کروں گا۔

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    سیالکوٹ: محسن مرے کالج شیخ بشارت اقبال کا تاریخی مولوی میر حسن ہال کی بحالی کا منصوبہ

  • 26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کیخلاف درخواست،معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔جسٹس محمد علی مظہر

    26 ویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امین الدین خان خان کی سربراہی میں 8 رکنی آئینی بنچ نے سماعت کی،درخواست گزاروں نےآئینی ترمیم کے خلاف فل کورٹ بینچ بنانے کی استدعا کی،جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ جوڈیشل کمشن نے جن ججز کو آئینی بنچ کے لیے نامزد کیا وہ سب اس بینچ کا حصہ ہیں۔ججز کی نامزدگی جوڈیشل کمشن کرتا ہے جبکہ کیسز کی فکسشین 3 رکنی کمیٹی کرتی ہے۔ اس کمیٹی کے سربراہ جسٹس آمین الدین خان ہیں، کمیٹی میں جسٹس محمد علی مظہر اور میں شامل ہیں۔

    جسٹس محمد علی مظہر نے وکلا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ فل کورٹ کے معاملے پر آپ خود کنفیوز ہیں،آپ اس بنچ کو ہی فل کورٹ سمجھیں۔ وکلا نے کہا کہ سپریم کورٹ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ تشکیل دیا جاۓ۔ جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں آئینی معاملہ صرف آئینی بینچ ہی سنے گا۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آئینی بنچ میں موجود تمام ججز پر فل کورٹ ہی بنایا ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ فُل کورٹ کا معاملہ چیف جسٹس کے پاس ہی جاسکتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ لگتا ہے آپ پہلے دن سے ہی لڑنے کے موڈ میں ہیں،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ ہم کسی سے لڑنا نہیں چاہیے،جسٹس امین الدین نے کہا کہ اگر کوئی فریق دلائل دینے کو تیار نہیں تو عدالت حکم جاری کرے گی۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سمجھ نہیں آرہی کہ آپ ہچکچاہٹ کا شکار کیوں ہیں؟ جو اس بینچ کے سامنے بحث نہیں کرنا چاہتا وہ پیچھے بیٹھ جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ فُل کورٹ تشکیل دینے پر پابندی تو کوئی نہیں ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم اختیارات کی تقسیم کے اصول کے خلاف ہے،وکیل عزیر بھنڈاری نے کہا کہ 26ویں ترمیم کی منظوری کے وقت ایوان نامکمل تھا،جسٹس جمال خان مندوخیل نے سوال کیا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے لیے کل ممبران پر ووٹنگ ہوئی یا دستیاب ممبران پر،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم پر دستیاب ممبران نے ووٹنگ کی۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ دستیاب ممبران ٹوٹل کیا ایوان کے دو تہائی پر پورا اترتا ہے،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ گنتی حکومت نے پوری ہی کر لی تھی، یہ مسئلہ نہیں اٹھا رہے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ کیا ایوان میں تمام صوبوں کی نمائندگی مکمل تھی،وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ خیبر پختون خوا کی سینیٹ میں نمائندگی مکمل نہیں، وہاں سینیٹ انتخابات ابھی رہتے تھے،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ اختر مینگل کی درخواست میں ترمیم کے حالات کا نقشہ کھینچا گیا ہے، ارکان اسمبلی ووٹ دینے میں کتنے آزاد تھے، اسے بھی مدِ نظر رکھا جائے،جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ مخصوص نشستوں کے فیصلے پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا،وکیل صلاح الدین نے کہا کہ درخواست میں ایک نکتہ مخصوص نشستوں کا بھی اٹھایا گیا ہے، ایوان مکمل ہی نہیں تھا تو ترمیم کیسے کر سکتا تھا،وکیل شاہد جمیل نے کہا کہ عوام کے حقیقی نمائندے ہی آئینی ترمیم کا اختیار رکھتے ہیں۔

    آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟جسٹس محمد علی مظہر
    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں انتخابات کیسز کے فیصلوں کا انتظار کریں، پھر آئینی ترمیم کیس سنیں؟ اس طرح تو آئینی ترمیم کا کیس کافی عرصہ لٹکا رہے گا۔سپریم کورٹ نے 26ویں آئینی ترمیم سے متعلق کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی

    13جنوری کو عمران کی بیٹوں سے بات کروائی،جیل حکام کا عدالت میں جواب

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

  • ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

    ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم

    سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف شوکاز نوٹس کی کارروائی ختم کر دی۔

    دورانِ سماعت جسٹس منصور علی شاہ نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا،عدالت نے کمیٹیوں کے اختیار پر فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے فائل چیف جسٹس سپریم کورٹ کو بھیج دی،سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا ہے کہ ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، نذر عباس نے جان بوجھ کر توہین عدالت نہیں کی، چیف جسٹس پاکستان اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیں،

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ججز کمیٹی اور آئینی کمیٹی نے عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی، عدالت نے کمیٹیوں کے اختیار پر فل کورٹ تشکیل دینے کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھیج دی، چیف جسٹس پاکستان اس معاملے پر فل کورٹ تشکیل دیں، پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی اور ججز آئینی کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، عدالتی وقار کے پیش نظر توہین عدالت کا نوٹس کمیٹیوں کو نہیں کر رہے، یہ اہم معاملہ ہے، چیف جسٹس ہمیشہ کے لیے اسے طے کرنے کے لیے فل کورٹ تشکیل دیں۔،ایڈیشنل رجسٹرار نذرعباس کے خلاف توہین عدالت کیس کا حکمنامہ جسٹس منصورعلی شاہ نے تحریر کیا، حکم نامہ 20 صحفات پر مشتمل ہے،سپریم کورٹ نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذرت عباس کے خلاف شوکازنوٹس کی کارروائی ختم کر دی۔

  • نائیک آصف نواز شہید کی بیوہ ثمرین کوثر ہمت و عزم کی زندہ مثال

    نائیک آصف نواز شہید کی بیوہ ثمرین کوثر ہمت و عزم کی زندہ مثال

    نائیک محمد آصف نواز شہید کی بیوہ ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کی شہادت کو اپنی طاقت، حوصلہ اور جینے کا مقصد بنا لیا ہے۔ ان کی کہانی ایک ایسی مثال ہے جس میں صبر، عزم، اور حب الوطنی کی بے مثال قربانیوں کا رنگ نمایاں ہے۔

    نائیک محمد آصف نواز شہید، جو پنجاب رجمنٹ کے دلیر سپاہی تھے، نے 22 نومبر 2017 کو سیاچن کے محاذ پر دفاع وطن میں اپنی جان دی۔ سیاچن جانے سے قبل وہ دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشنز میں حصہ لے چکے تھے، جن میں انہوں نے تین دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔ ان کی بہادری اور قربانی وطن کے دفاع کے لیے ایک لازوال مثال ہیں۔

    شہید نائیک آصف نواز کی بیوی ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کی شہادت کے بعد ایک نیا عزم اور حوصلہ پیدا کیا۔ انہوں نے اپنی زندگی کا مقصد اپنی قوم کی خدمت اور وطن کی حفاظت کو بنایا۔ ثمرین کوثر نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ایئرپورٹ سیکورٹی فورس (اے ایس ایف) کو جوائن کیا اور اپنے آپ کو اس مقصد کے لیے وقف کر دیا کہ وہ وطن کی حفاظت میں اپنا حصہ ڈالیں۔

    ثمرین کوثر کا کہنا تھا: "میرے شوہر کی شہادت نے مجھے مزید مضبوط اور پرعزم بنایا ہے۔ میں نے اپنے شوہر کے نقش قدم پر چلنے کا فیصلہ کیا تاکہ ان کی قربانی کو ہمیشہ زندہ رکھ سکوں۔ وردی پہن کر اپنے وطن کی خدمت کرنا میرا فرض ہے اور یہی میرا عزم ہے۔” ثمرین کوثر کا مزید کہنا تھا کہ شوہر کی شہادت کے بعد میرا جذبہ بلند ہوا، ملک کی حفاظت ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا، جس دن ڈیوٹی پر مامور ہوں گی اس دن خاوند کا جذبہ میرے سامنے ہو گا، میرے جذبے کو دیکھتے ہوئے پاک فوج نے میرا بہت ساتھ دیا، تہہ دل سے پاک فوج کی شکر گزار ہوں پریڈ کی تیاری اس جذبے کے ساتھ کرنا چاہتی ہوں کہ ملک کے لئے کچھ خاص کرنا چاہتی ہوں، میرے بچے بھی والد کی قربانی اور والدہ کے عزم کو دیکھتے ہوئے وطن کے لئے حاضر ہوں گے، مجھے اس بات پر فخر ہے کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں دونوں بچے، والدین شامل ہوں گے.

    پاک فوج نے ثمرین کوثر کے جذبے کو سراہا اور انہیں اے ایس ایف میں شامل ہونے کا موقع فراہم کیا۔ آج وہ اے ایس ایف اکیڈمی کراچی میں تربیت حاصل کر رہی ہیں اور ان کی پاسنگ آؤٹ تقریب قریب ہے۔ ان کی محنت اور عزم نہ صرف ان کے شوہر کی قربانی کو زندہ رکھے ہوئے ہیں بلکہ یہ پوری قوم کے لیے ایک مشعل راہ بن چکے ہیں۔

    ثمرین کوثر کی ہمت اور قربانی کی کہانی ہر پاکستانی کے لیے ایک عظیم پیغام ہے۔ ان کا جذبہ یہ ثابت کرتا ہے کہ شہداء کا خون ہمیشہ وطن کے لیے لازوال محبت کی علامت رہتا ہے۔ نائیک آصف نواز شہید اور ان کی اہلیہ ثمرین کوثر جیسے عظیم لوگ ہمیشہ قوم کا فخر رہیں گے اور ان کی جدوجہد نسلوں تک یاد رکھی جائے گی۔

    2024 میں عالمی سیاحت کی واپسی، 1.4 ارب افراد نے بین الاقوامی سفر کیا

    معاہدے کی خلاف ورزی،اسرائیل کاجنوبی لبنان میں فوج کی تعیناتی برقرار رکھنے کا اعلان

  • 2024 میں عالمی سیاحت کی واپسی، 1.4 ارب افراد نے بین الاقوامی سفر کیا

    2024 میں عالمی سیاحت کی واپسی، 1.4 ارب افراد نے بین الاقوامی سفر کیا

    عالمی سیاحت کی صنعت نے کورونا وبا کے بعد خود کو تیزی سے سنبھالا ہے اور 2024 میں بین الاقوامی سیاحت کی تعداد 1.4 ارب تک پہنچ گئی، جو 2019 کے دوران کی جانے والی سیاحت کے قریب 99% تھی۔ اس کے نتیجے میں سیاحت کی صنعت میں 1.9 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، جس کا مطلب ہے کہ ہر سیاح نے اوسطاً 1000 ڈالر سے زائد خرچ کیے۔

    دنیا بھر میں سب سے زیادہ سیاحت یورپ میں ہوئی جہاں 747 ملین سیاحوں نے 2024 میں یورپ کا سفر کیا۔ روس کے یوکرین پر حملے کے باوجود یہ تعداد خاص طور پر متاثر کن رہی۔ فرانس 2024 میں دنیا کا سب سے زیادہ سیاحت کرنے والا ملک رہا، جہاں 100 ملین سیاحوں نے قدم رکھا۔ اس کے بعد اسپین تھا جسے 98 ملین سیاحوں نے اپنی منزل بنایا۔فرانس کی سیاحت کے محکمے "اٹو فرانس” نے اس سال کو فرانس کی سیاحت کے لیے ایک غیر معمولی سال قرار دیا اور 2025 کے لیے روشن امکانات کی امید ظاہر کی۔ فرانس کی سیاحت کے لیے اہم عوامل میں 2024 کے اولمپک کھیل، پیرس کی مشہور نوٹرے ڈیم کی دوبارہ کھلنا اور نورمنڈی میں ڈی ڈے لینڈنگز کی 80 ویں سالگرہ شامل تھیں۔

    ایشیا اور بحرالکاہل میں 316 ملین سیاحوں نے 2024 میں سفر کیا، جب کہ 213 ملین افراد نے امریکہ اور 95 ملین افراد نے مشرق وسطیٰ کا سفر کیا۔ افریقہ میں 74 ملین افراد نے سیاحت کی۔ انٹرنیشنل اینٹارکٹیکا کی سیاحت کے بارے میں کوئی ڈیٹا دستیاب نہیں تھا۔

    چھوٹے ممالک میں بھی سیاحت کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ قطر نے 137% کے اضافے کے ساتھ سیاحت کے شعبے میں اہم کامیابی حاصل کی، جس کا بڑا سبب اس کی انفراسٹرکچر میں کی جانے والی سرمایہ کاری تھی۔ قطر ایئر ویز کو 2024 میں دنیا کی بہترین ایئر لائن کا درجہ ملا، جبکہ دوحہ کے حماد بین الاقوامی ہوائی اڈے نے دنیا کے بہترین ہوائی اڈے کا اعزاز حاصل کیا۔

    2024 کی سیاحت کی واپسی کے ساتھ ساتھ عالمی سیاحت میں اضافے کا رجحان جاری رہے گا۔ اسپین جیسے مقامات جہاں سیاحت بڑھ رہی ہے، وہاں مقامی عوام نے سیاحوں کے خلاف متعدد احتجاجات کیے ہیں، جیسے بارسلونا میں پانی کی پستول سے سیاحوں کو نشانہ بنانا اور سیویلے میں سیاحوں کے لیے انٹری فیس لگانے کی تجویز۔

    اٹلی میں وینس اور فلورنس جیسے شہر بڑے سیاحتی گروپوں پر پابندی لگا چکے ہیں۔ دیگر احتیاطی تدابیر میں رات کے وقت سوئمنگ پر پابندی، سیاحتی مقامات پر "ٹریفک لائٹس” کا نظام، اور ساحلوں پر بیچ کے مخصوص جگہوں کو رات سے پہلے ریزرو کرنے کی ممانعت شامل ہیں۔

    ورلڈ ٹورزم آرگنائزیشن کے ماہرین نے 2025 میں سیاحت کے توازن اور پائیداری کو اہم قرار دیا اور کم معروف مقامات کی دریافت کی ترغیب دی۔فرانس نے بھی اپنی سیاحت کی حکمت عملی کو پائیدار بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا، اور کہا کہ اس کا مقصد فرانس کو دنیا کا سب سے زیادہ پائیدار سیاحتی مقام بنانا ہے۔سیاحت کا مستقبل روشن نظر آ رہا ہے، مگر اس کی ترقی کو ماحولیاتی توازن اور پائیدار طریقوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ضروری ہوگا۔

    تصاویر:تھائی لینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی

    تصاویر:برطانیہ اور آئرلینڈ میں طوفان ایووین کی تباہی، نظام زندگی درہم برہم

  • تصاویر:تھائی لینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی

    تصاویر:تھائی لینڈ میں ہم جنس پرستوں کی شادی

    تھائی لینڈ میں سینکڑوں ہم جنس جوڑوں نے ایک دوسرے کے ساتھ ازدواجی بندھن میں بندھنے کا فیصلہ کیا ہے

    تھائی لینڈ نے ایشیا کے سب سے بڑے ملک کے طور پر ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دی، اور جنوب مشرقی ایشیا میں یہ پہلا ملک بن گیا جہاں مساوی شادی کے حقوق دیے گئے ہیں۔بنکاک کے ایک شاپنگ مال میں ایک بڑی ہم جنس پرست شادی کی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سینکڑوں لوگوں نے شادی کے رجسٹریشن کرائے۔ یہ قانون کے نفاذ کا آغاز تھا اور اس دن کو کئی سالوں کی جدوجہد اور ہم جنس شادیوں کے قانون کی منظوری کے لیے کی گئی کوششوں کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

    پورش ایپیواتسایری اور آرم پاناتکول 17 سال سے ایک ساتھ ہیں، لیکن ان کی منگنی گیارہ سال پہلے ہوئی تھی۔ پورش نے اس دن کو "تھائی لینڈ میں مساوات کی شروعات” قرار دیا اور کہا، "ذاتی طور پر، مجھے لگتا ہے کہ یہ محبت کے لئے ایک نیا باب ہے۔ یہ ایک طرح سے لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش ہے کہ محبت معمولی چیز ہے۔ ہر محبت ایک ہی جیسی ہوتی ہے، ہر محبت کے اندر ایک جیسا جذبہ ہوتا ہے۔”

    تھائی لینڈ کا ہم جنس شادی کا بل گزشتہ جون میں پارلیمنٹ سے منظور ہوا تھا، جس کے بعد تھائی لینڈ تائیوان اور نیپال کے بعد ایشیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جس نے یہ قانون منظور کیا۔تھائی لینڈ عالمی سطح پرہم جنس پرستوں کے حقوق اور عوامی رویوں میں ایک اعلیٰ مقام رکھتا ہے، جو اس کے پڑوسی ممالک سے مختلف ہے جہاں زیادہ تر ممالک ہم جنس حقوق کے مخالف ہیں۔ عوامی سروے بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تھائی عوام کی اکثریت مساوی شادی کے حق میں ہے۔تاہم، تھائی لینڈ ایک قدامت پسند بدھ مت معاشرتی ڈھانچے کا حامل ملک ہے، جس میں اکثر خاندانوں کی ساخت پدر شاہی ہے۔ پورش اور آرم دونوں کا ماننا ہے کہ مساوات کے قانون کے نفاذ کے باوجود، اس معاشرتی تبدیلی کے لئے مزید وقت درکار ہے تاکہ مکمل قبولیت اور برداشت ممکن ہو سکے۔

    "ہمیں مزید انتظار کرنا پڑے گا کیونکہ قانون نے تو یہ تسلیم کر لیا کہ محبت سب کی ایک جیسی ہوتی ہے، لیکن اب ہمیں معاشرتی قبولیت کی ضرورت ہے,” پورش نے کہا۔

    پورش اور آرم کی شادی کی تقریب ایک جدید شاپنگ سینٹر میں ہوئی، جہاں دونوں خاندانوں نے اس خصوصی لمحے کو یادگار بنایا۔ تھائی روایات کے مطابق، خاندانوں نے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہو کر مزاحیہ اور دل کو چھو جانے والی رسم ادا کی، جس میں دونوں فریق ایک دوسرے کے ساتھ بات کرتے اور محبت کا اظہار کرتے۔پورش نے کہا، "جو کچھ میں اب محسوس کرتا ہوں وہ ہے لوگوں اور خاندانوں کے درمیان قریبیت۔”آرم نے مسکرا کر کہا، "محبت بس محبت ہوتی ہے۔”

    تھائی لینڈ نے جمعرات کو ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے ہم جنس اور ٹرانسجینڈر جوڑوں کے لئے مساوی ازدواجی قانون نافذ کیا، جس کے تحت تقریباً 2,000 جوڑوں نے شادی کی۔ تھائی وزارت داخلہ کے مطابق، جمعرات کی دوپہر 4:30 بجے تک 1,754 ہم جنس جوڑوں نے ملک کے 800 سے زائد ضلعی دفاتر میں شادی کے بندھن میں بندھ چکے تھے۔ اس موقع پر خوشی کے آنسو اور گلے ملنے کا منظر تھا۔

    بینکاک کے بنگراگ ضلع دفتر میں سب سے پہلے شادی کرنے والی جوڑی میں سمالی سودسائنیٹ (64 سال) اور تھانافون چوک ہونسنگ (59 سال) شامل تھے، جنہوں نے اپنے انگوٹھیوں کے ساتھ میڈیا کے سامنے اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ "ہم بہت خوش ہیں، ہم اس دن کا 10 سالوں سے انتظار کر رہے تھے”، تھانافون نے کہا۔جوڑے کا کہنا تھا کہ ہم جنس شادی کے قانونی ہونے سے ان کی عزت نفس میں اضافہ ہوا ہے اور اب وہ بھی وہی حقوق حاصل کر سکتے ہیں جو ایک مرد اور عورت کے شادی شدہ جوڑے کو ملتے ہیں۔

    بینکاک کے سیام پیراگون مال میں ایک اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی گئی جس میں درجنوں جوڑوں نے روایتی اور جدید لباس میں شرکت کی۔ اس تقریب کا اہتمام بینکاک پرائیڈ اور شہر کی انتظامیہ نے کیا تھا۔31 سالہ ٹرانس مین کیون پہتھائی تھانونکھیت نے اپنی بیوی میپل ناتھنیچا کلنٹگاورن سے شادی کی اور کہا کہ "یہ لمحہ بہت خوشی کا ہے، دل بہت تیز دھڑک رہا ہے”۔ ان کے والد 65 سالہ فورنچائی نے کہا، "میں ہمیشہ سے اسے قبول کرتا ہوں، جو بھی ہو، میرے لیے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

    نیا ازدواجی قانون "مرد”، "عورت”، "شوہر” اور "بیوی” کے بجائے جنس نیوٹرل اصطلاحات استعمال کرتا ہے اور اس سے ٹرانسجینڈر افراد کو شادی کرنے کا حق حاصل ہے، نیز شادی شدہ جوڑوں کو اپنانے اور وراثت کے حقوق بھی دیے جاتے ہیں۔تھائی وزیر اعظم نے ایک پوسٹ میں کہا، "آج، رنگین پرچم فخر سے تھائی لینڈ پر لہر رہا ہے۔”

    تھائی لینڈ نے حالیہ برسوں میں ایل جی بی ٹی کیو کمیونٹی کے لئے اپنی رواداری کے حوالے سے بین الاقوامی شہرت حاصل کی ہے، اور مقامی میڈیا میں ہونے والے عوامی سروے بھی مساوی شادیوں کے لیے وسیع عوامی حمایت کو ظاہر کرتے ہیں۔ تاہم، تھائی معاشرے کا بیشتر حصہ روایتی اور قدامت پسند ہے، اور ایل جی بی ٹی کیو افراد ابھی بھی روزمرہ زندگی میں رکاوٹوں اور امتیاز کا سامنا کرتے ہیں۔سابق تھائی وزیر اعظم، سریتھا تھاویسن، جنہوں نے اس شادی کی تقریب میں شرکت کی، نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایک نیا تبصرہ کیا جو حال ہی میں کہہ چکے ہیں کہ دنیا میں صرف دو جنسیں ہیں۔ "حال ہی میں ایک ملک کے رہنما نے کہا کہ صرف دو جنسیں ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس سے کہیں زیادہ کھلے ذہن کے لوگ ہیں،” سریتھا نے کہا۔

  • حماس نے  فوجی وردی پہنے چار یرغمالی خواتین کو رہا کر دیا

    حماس نے فوجی وردی پہنے چار یرغمالی خواتین کو رہا کر دیا

    حماس کی جانب سے چار مزید اسرائیلی یرغمالی خواتین کو رہا کردیا گیا، حماس نے یرغمالی خواتین کو ریڈ کراس کے حوالے کیا، چاروں اسرائیلی یرغمالیوں نے فوجی وردی پہن رکھی ہے۔

    رہا کی جانے والی فوجی یرغمالی خواتین کے نام کارینا اریئیو، ڈینیئلا گلبوہ، نعما لیوی، اور لیری الباگ ہیں اور یہ سب ایک فوجی یونٹ کی رکن تھیں، 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے وقت یہ چاروں اسرائیلی فوج کی خواتین سپاہی غزہ کے قریب تعینات تھیں۔ چار اسرائیلی یرغمالیوں کی تصاویر پہلی بار سامنے آئی ہیں،یہ تمام چار خواتین فوجی یونیفارم میں ملبوس ہیں اور ان کے گرد مسلح حماس کے جنگجو ہیں۔ ان خواتین کو ریڈ کراس کے حوالے کیا گیا جو انہیں سرحدوں تک لے جائیں گی جہاں انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

    حماس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اسرائیل کی طرف سے رہا ہونے والے 200 فلسطینی قیدیوں میں سے 70 کو غزہ اور مغربی کنارے سے باہر منتقل کر دیا جائے گا۔

    آج کی یرغمالیوں کی رہائی پچھلے ہفتے تین اسرائیلی یرغمالیوں کی ان کے خاندانوں سے ملاقات کے بعد ہو رہی ہے۔ اس وقت اسرائیل نے 90 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔غزہ میں ایک ہنگامہ خیز ہجوم کے درمیان، اسرائیلی یرغمالیوں کو مسلح نقاب پوش افراد نے ریڈ کراس کے حوالے کیا، جہاں سے انہیں اسرائیلی فوج کے حوالے کر دیا گیا اور وہ جنوبی اسرائیل میں داخل ہوئے۔

    قبل ازیں گزشتہ ہفتے حماس کے ہاتھوں رہائی پانے والی تین یرغمالیوں میں سے ایک، 28 سالہ برطانوی اسرائیلی ایمیلی ڈاماری تھی، جو 7 اکتوبر کے حملے کے دوران ہاتھ پر گولی لگنے کے بعد غزہ لے جائی گئی تھی۔دوسری دو یرغمالیوں میں 31 سالہ ڈورون اسٹینبریچر شامل ہیں، جو اسرائیل کے جنوبی علاقے کے کیبوتز کفار عزا سے اغوا ہوئے تھے، اور 24 سالہ رومی گونن، جو سپرنووا میوزک فیسٹیول سے اغوا کی گئی تھیں۔یہ تینوں ابھی ہسپتال میں علاج کروا رہی ہیں۔ ایمیلی ڈاماری نے رہائی کے چند گھنٹے بعد سوشل میڈیا پر اپنے خاندان اور اپنے "دنیا کے بہترین دوستوں” کا شکریہ ادا کیا۔

    وزیرِ اعظم نے سنوکر چیمپئن محمد آصف کو دیا 25 لاکھ کا انعام

    بختاور زرداری کتنے برس کی ہو گئیں؟ سالگرہ پر مبارکباد کے پیغام

  • وزیرِ اعظم  نے سنوکر چیمپئن محمد آصف کو دیا 25 لاکھ کا انعام

    وزیرِ اعظم نے سنوکر چیمپئن محمد آصف کو دیا 25 لاکھ کا انعام

    پاکستانی نوجوان کھلاڑی اپنے عزم اور محنت سے عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف نے سنوکر کے عالمی چیمپئن محمد آصف سے ملاقات کی، جنہوں نے حال ہی میں سری لنکا میں منعقدہ سارک سنوکر چیمپئن شپ میں فتح حاصل کی۔

    وزیرِ اعظم نے محمد آصف کو اس شاندار کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ "آپ نے سنوکر کی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے اور پوری قوم آپ پر فخر کرتی ہے۔” اس کے علاوہ وزیرِ اعظم نے محمد آصف کو 25 لاکھ روپے کا انعامی چیک بھی پیش کیا۔محمد آصف، جو تین مرتبہ ورلڈ ایمیچئیور سنوکر چیمپئن شپ اور تین مرتبہ سارک سنوکر چیمپئن شپ جیت چکے ہیں، نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا کر پاکستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا ہے۔ وزیرِ اعظم نے ان کی کامیابیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا، "آپ نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور پاکستان کا نام بلند کیا ہے۔”

    وزیرِ اعظم نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ حکومت پاکستانی کھلاڑیوں کو سہولتیں فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر مزید کامیاب ہوں۔ "ہماری حکومت کھیلوں کے فروغ میں بھرپور دلچسپی رکھتی ہے اور کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہر ممکن وسائل فراہم کرے گی۔”

    محمد آصف نے وزیرِ اعظم کی جانب سے دی جانے والی قومی سطح پر پذیرائی پر شکریہ ادا کیا اور کہا، "حکومتی سرپرستی کھیلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اور میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وزیرِ اعظم نے میری کامیابی کی پذیرائی کی۔”وزیرِ اعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ محمد آصف کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان میں سنوکر کے مزید کھلاڑیوں کی تربیت کے اقدامات کیے جائیں تاکہ نوجوانوں میں اس کھیل کو مزید فروغ ملے اور مزید کامیاب کھلاڑی سامنے آئیں۔

    اس ملاقات کے دوران وزیرِ اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سنوکر سمیت دیگر کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے مناسب اقدامات کرے گی تاکہ نوجوان کھلاڑی عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن کر سکیں۔

    بختاور زرداری کتنے برس کی ہو گئیں؟ سالگرہ پر مبارکباد کے پیغام

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

  • بختاور زرداری کتنے برس کی ہو گئیں؟ سالگرہ پر مبارکباد کے پیغام

    بختاور زرداری کتنے برس کی ہو گئیں؟ سالگرہ پر مبارکباد کے پیغام

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق صدر آصف زرداری اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹوشہید کی بڑی صاحبزادی بختاور بھٹو زرداری آج 25جنوری بروزپیر کو35 برس کی ہو گئی ہیں

    بختاور زرداری کی 35 ویں سالگرہ کے موقع پر پارٹی رہنما و کارکنان بختاور کو مبارکباد دے رہے ہیں، سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیپلز پارٹی کے اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی بی بی بختاور بھٹو زرداری کو 35 ویں سالگرہ کے موقع پر مبارکباد پیش کرتی ہے۔بلاول بھٹو کی سالگرہ کی مناسبت سے پاکستان کے ٹوئٹر ٹرینڈ پینل پر ’ہیپی برتھ ڈے بی بی زیڈ‘ سرفہرست ٹرینڈز میں موجود ہے۔اس ٹرینڈ کا استعمال کرتے ہوئے صارفین، پیپلز پارٹی کے ارکان، اور بلال بھٹو کے مداح انہیں سالگرہ کی مبارکباد دے رہے ہیں اور ساتھ ہی بینظیر کی یاد بھی تازہ کر رہے ہیں۔بختاور کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا پر بھی ان کے چاہنے والوں نے انہیں خوب سراہا اور نیک تمناؤں کے پیغامات بھیجے۔ ان کے فالوئرز نے ٹوئٹر، انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر خصوصی پوسٹس شیئر کیں جن میں بختاور کو سالگرہ کی مبارکباد دی گئی۔سالگرہ کی اس خوشی کے موقع پر بختاور زرداری نے اپنے چاہنے والوں کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ مزید اچھے کاموں کے ذریعے اپنے والدین کا نام روشن کریں گی۔

    بختاور زرداری ذوالفقارعلی بھٹو اور نصرت بھٹو کی نواسی ہیں۔بختاور زرداری کے دادا حاکم علی زرداری ولد حسین زرداری اور دادی کا نام زرین آراء زرداری تھا.چھوٹی بہن آصفہ اور بھائی بلاول زرداری ھے۔بختاور زرداری نے انگریزی ادب میں ایم اے اور گریجویشن ایڈن برگ یونی ورسٹی سے پاس کیا۔بختاور زرداری سوشل میڈیا پر اپنی سیاسی اور دلچسپ سرگرمیوں کی وجہ سے خاصی متحرک ہیں،انھوں نے اپنی باکسنگ کی ٹریننگ حاصل کی ہے ، بختاور زرداری سوشل میڈیا پر دبئی کی ایک عمارت سے چھلانگ لگانے کی ویڈیو بھی شیئر کرچکی ہیں۔بختاور زرداری نے متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ڈیزرٹ وارئیر چیلنج ایونٹ میں حصہ لیا۔ یہ ایونٹ اپریل 2017 میں منعقد کیا گیا تھا۔ ایونٹ میں بختاور زرداری نے دوڑ، جمپنگ، کلائمبنگ اور کرولنگ کرتے ہوئے فائنل لائن عبور کی

    بختاور بھٹو زرداری 27 نومبر 2020 کو دبئی کے بزنس مین محمود چوہدری سے شادی کی بندھن میں بندھ گئی تھیں اور ایک سال بعد 10 اکتوبر 2021 کو اپنے پہلے بیٹے میر حاکم محمود چوہدری کا استقبال کیا۔بختاور بھٹو اور محمود کے ہاں 5 اکتوبر 2022 کو دوسرے بیٹے کی ولادت ہوئی جس کا نام میر سجاول محمود چوہدری رکھا گیا۔ بختاور کے تیسرے بیٹے کی پیدائش 20 اکتوبر 2024 کو ہوئی تھی.