Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    وزیرِ اعظم سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات

    اسلام آباد: وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات ہوئی، جس میں ملک کی موجودہ سیاسی، معاشی اور میڈیا کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    اس ملاقات میں وزیرِ اعظم نے حکومت اور میڈیا کے درمیان باہمی اعتماد کے رشتہ کو مستحکم کرنے کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ حکومت کی پالیسیوں پر میڈیا کی تعمیری تنقید گورننس کی بہتری کے لیے نہایت ضروری ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حکومت میڈیا کی تعمیری تنقید کا خیرمقدم کرتی ہے اور ملک میں اظہارِ رائے کی مکمل آزادی ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ حکومت میڈیا کو ریاست کا چوتھا ستون مانتی ہے اور اس کے حقوق کا مکمل احترام کرتی ہے۔ وزیرِ اعظم نے اس موقع پر اڑان پاکستان کے منصوبے کا بھی ذکر کیا، جو مقامی طور پر تیار کردہ ملک کی ترقی کا ایک اہم منصوبہ ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کی کامیابی کے لیے میڈیا اور تمام اسٹیک ہولڈرز کے تعاون کو ضروری قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے اپنی گفتگو میں پاکستان کی حالیہ اقتصادی ترقی اور استحکام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کی ترقی کی رفتار دوبارہ شروع ہو چکی ہے، جو 2018 میں رک گئی تھی۔ وزیرِ اعظم نے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معاشی استحکام کے دوران ترقی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی ان کی قیادت میں پاکستان معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب گامزن ہے۔وزیرِ اعظم نے دوست اور برادر ممالک کا شکریہ ادا کیا جن کے تعاون سے پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے سے واپس آ کر معاشی ترقی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کی شرح اور شرحِ سود میں کمی کا سہرا حکومت کی محنتی معاشی ٹیم کے سر ہے، اور برآمدات میں اضافے، صنعتی اور زرعی شعبے کی ترقی حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔

    مزید برآں، وزیرِ اعظم نے ایف بی آر میں اصلاحات کے نفاذ اور مکمل ڈیجیٹائزیشن کے عمل پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کسٹمز کے نظام میں بہتری کے لیے فیس لیس اسیسمنٹ کے نظام کا ذکر کیا اور کہا کہ اس نظام سے شفافیت میں اضافہ، کرپشن کا خاتمہ اور محصولات میں اضافہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات، چینی، کھاد اور آٹے کی اسمگلنگ کی روک تھام سے قومی خزانے کو فائدہ پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیرِ اعظم نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ترسیلات زر میں اضافے کو حکومتی پالیسوں پر ان کے اعتماد کا عکاس قرار دیا۔

    وزیرِ اعظم نے سی پیک کے منصوبوں کے جلد تکمیل کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک کے ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں اور میاں محمد نواز شریف اور چینی صدر شی جن پنگ کا پاکستان اور خطے کی ترقی کا خواب حقیقت کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معاشی استحکام کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر کو شکست دینے کے لیے حکومت ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔وزیرِ اعظم نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ اس کی باصلاحیت نوجوان افرادی قوت ہے، اور حکومت نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی تعلیم و تربیت فراہم کرنے کے لیے سرگرم ہے۔

    ملاقات کے دوران وفد کے شرکاء نے وزیرِ اعظم کی حکومتی پالیسیوں اور اقتصادی اقدامات کو سراہا، خاص طور پر بجلی کی قیمتوں میں کمی اور آئی پی پیز کے ساتھ حکومتی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کے حوالے سے ان کی کاوشوں کو تحسین کا نشانہ بنایا۔ وفد کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، اور حکومت کو اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

    اس ملاقات میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وزارتِ اطلاعات کے اعلی افسران، چیئرمین پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن میاں عامر محمود، میر ابراہیم، ناز آفرین سہگل، سلطان لاکھانی، سلمان اقبال، شکیل مسعود، ندیم ملک اور کاظم خان بھی شریک تھے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

  • رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیل اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش

    اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ میں پی ٹی آئی ترجمان رؤف حسن پر درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

    سماعت کے دوران وزارت داخلہ نے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی، جس میں بتایا گیا کہ اسلام آباد میں رؤف حسن پر مجموعی طور پر 6 مقدمات درج ہیں۔ ان میں سے ایک مقدمہ وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) میں بھی درج ہے۔اس دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی رپورٹ نہیں آئی،گنڈاپور ہر بار اسلام آباد آتے ہیں اور لوگ یہاں سے گرفتار ہو جاتے ہیں،خیبرپختونخوا میں تو آپکو تفصیلات جلد مل جانی چاہیے،

    رؤف حسن کی جانب سے وکیل عائشہ خالد عدالت میں پیش ہوئیں،عدالت نے بلوچستان، خیبرپختونخوا اور نیب سے مقدمات کی تفصیلات طلب کر لیں،اس مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ جلد از جلد رپورٹ پیش کریں تاکہ کیس کی مزید کارروائی کی جا سکے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    نومئی مقدمہ،عمر ایوب کے وارنٹ گرفتاری جاری

    9 مئی کو میانوالی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے معاملے میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے تحریک انصاف کے سینئر رہنما عمر ایوب خان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔

    عمر ایوب خان عدالت میں پیش نہیں ہوئے جس کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہو سکی۔ عدالت میں ان کی غیر حاضری کے باعث سماعت آگے بڑھا دی گئی۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمے کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کر دی۔پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر احمد خان بچھر، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، ایم این اے بلال اعجاز سمیت تحریک انصاف کے درجنوں کارکن عدالت میں پیش ہوئے۔ وکیل نے عدالت میں عمر ایوب خان کی غیر حاضری کی وجہ بیان کرتے ہوئے ان کی میڈیکل رپورٹ پیش کی۔

    اس موقع پر عدالت کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے تاکہ کسی بھی قسم کے ناخوشگوار واقعہ سے بچا جا سکے۔ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج محمد نعیم شیخ نے مقدمے کی سماعت کی۔

    9 مئی کو میانوالی میں حساس قومی املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مختلف افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے مزید کارروائی اور پیش رفت کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

  • ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ میں بینچز کے اختیارات کے کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کے کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ نذر عباس نے شوکاز نوٹس کا جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

    بینچز کے اختیارات کا کیس سماعت کے لیے مقرر نہ کرنے پر توہینِ عدالت کیس کی سماعت جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل بینچ نے کی، ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے عدالت سے شوکاز نوٹس واپس لینے کی استدعا کر دی،ایڈیشنل رجسٹرار نذر عباس نے کہا ہے کہ عدالتی حکم کی نافرمانی نہیں کی، عدالتی حکم پر بینچ بنانے کے معاملے پر نوٹ بنا کر پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو بھجوا دیا تھا،عدالت نے کہا کہ ہمارے سامنے بنیادی سوال یہ ہے کہ جوڈیشل آرڈر کی موجودگی میں ججز کمیٹی کیس واپس لے سکتی تھی؟عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ کچھ ججز کو کم اختیارات ملنا اور کچھ کو زیادہ، ایسا نہیں ہو سکتا۔

    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ سوال الگ ہے، اگر ہم آرٹیکل 191 اے کی تشریح کا کیس سنتے تو یہ سوال اٹھایا جا سکتا تھا، ہمارے سامنے کیس ججز کمیٹی کے واپس لینے سے متعلق ہے، چیف جسٹس پاکستان اور جسٹس امین الدین خان ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، بادی النظر میں دو رکنی ججز کمیٹی نے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کیا، اگر ججز کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کریں تو معاملہ فل کورٹ میں جا سکتا ہے، اس سوال پر معاونت دیں،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے اس معاملے پر کنفیوژن تو ہے، جسٹس عقیل عباسی نے حامد خان سے سوال کیا کہ آپ آرٹیکل 191 اے کو کیسے دیکھتے ہیں؟ ماضی میں بینچز ایسے بنے جیسے معاملات پر رولز بنانا سپریم کورٹ کا اختیار تھا، اب سپریم کورٹ کے کچھ اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں، 26ویں آئینی ترمیم کا سوال آجائے گا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیا کسی ملک میں بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بناتا ہے؟ کوئی ایک مثال ہو؟وکیل حامد خان نے کہا کہ بینچز عدلیہ کے بجائے ایگزیکٹو بنائے ایسا کہیں نہیں ہوتا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ 191 اے کے تحت آئینی بینچ جوڈیشل کمیشن بنائے گا۔جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ 191 اے کو سامنے رکھیں تو کیا یہ اوور لیپنگ نہیں ہے؟

    وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے اختیارات کو کمزور نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر کمیٹی جوڈیشل آرڈر فالو نہیں کرتی تو پھر کیا ہو گا؟ عدالتی معاون وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے پاس آئینی بینچ کے کیسز مقرر کرنے کا اختیار ہے۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ راجہ عامر کیس میں بھی فل کورٹ بنا تھا۔حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ قانون سازی سے سپریم کورٹ کے علاوہ ہر عدالت کے دائرہ اختیار کا فیصلہ کر سکتی ہے، پارلیمنٹ سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار کو کم نہیں کر سکتی۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آرٹیکل 2 اے کے تحت پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں؟ کیا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کر سکتی ہے؟ وکیل حامد خان نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کے جوڈیشل آرڈر کو نظر انداز کرنے والی صورتِ حال نہیں ہونی چاہیے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ رولز 1980ء کے تحت فل کورٹ چیف جسٹس بنائیں گے یا پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی؟ کیا جوڈیشل آرڈر سے فل کورٹ کی تشکیل کے لیے معاملہ ججز کمیٹی کو بھجوایا جاسکتا ہے؟،وکیل حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی، آرٹیکل 191 اے میں آئینی بینچز کا ذکر ہے، سپریم کورٹ میں ایک آئینی بینچ کا ذکر نہیں، کم از کم 5 ججز پر مشتمل ایک آئینی بینچ ہو سکتا ہے، اس صورتِ حال میں 3 آئینی بینچز بن سکتے ہیں، جو سینئر ہو گا وہی بینچ کا سربراہ ہو گا، آرٹیکل 191 اے ججز کمیٹی کے سیکشن 2 اے سے ہم آہنگ نہیں اس لیے خلاف آئین ہے۔

    فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ
    سپریم کورٹ میں جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا،جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا میں شکر گزار ہوں آپ ایک دن کے نوٹس پر تشریف لائے،احسن بھون بولے جناب کا حکم تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آپ کا شکریہ آپ تو ہمارا حکم مانتے ہیں ،جس پر عدالت میں قہقے لگ گئے،احسن بھون نے کہا کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجھے امید ہے آپ کوئی آئین کے منافی فیصلہ نہیں کریں گے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ فیصلہ تو آئینی بینچ کرتا ہے ہم تو یہاں گپ شپ کے لئے بیٹھے ہیں ہم کونسا آئینی بنچ ہیں۔ عدالت میں دوبارہ قہقے لگ گئے،

    عدالتی معاونین شاہد جمیل،ایڈووکیٹ حامد خان اور منیر اے ملک نے فل کورٹ بنانے کی حمایت کر دی،حامد خان نے کہا کہ پارلیمنٹ عدلیہ کے اختیارات بڑھا سکتی ہے، کم نہیں کر سکتی،

    جسٹس منصور علی شاہ اور احسن بھون کے درمیان دلچسپ مکالمہ ہوا، احسن بھون نے کہا کہ آپ ججز کمیٹی کا حصہ ہیں، آپ بیٹھیں یا نہ بیٹھیں یہ الگ بات ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ میں تو جوڈیشل کمیشن کا بھی ممبر ہوں، احسن بھون نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن اجلاس میں ججز بھی لگائے جا رہے ہیں، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم جو ججز نامزد کرتے ہیں انھیں تو ایک ہی ووٹ ملتا ہے وہ بھی ہمارا ہی ہوتا ہے،باقیوں کو گیارہ گیارہ ووٹ پڑ جاتے ہیں،

    کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے،جسٹس منصور علی شاہ
    بیرسٹر صلاح الدین نے فل کورٹ بنانے کے حوالے سے عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا تو جسٹس منصور علی شاہ نے کہا مجھے یہ بھی بتادیں کہ ان فیصلوں پر عمل ہوا تھا؟کیا فل کورٹ بنائی گئی تھی تو صلاح الدین بولے بلکل ہوا تھا۔ جسٹس منصور علی شاہ بولے ہم فل کورٹ کا فیصلہ دے کر بیٹھ جائیں فیصلہ کہیں ادھر ادھر پڑا رہے عمل درآمد ہو نہ اس پر تو فائدہ،کمیٹی کے پاس کیس واپس لینے کا اختیار کدھر سے آگیا۔کیس ہمارے سامنے کمیٹی نے لگایا۔اس طرح سے کیس واپس ہونے لگے تو یہ عدلیہ کے آزادی کے منافی ہے،اگر ہم کوئی فیصلہ دیتے تو نظر ثانی میں بڑا بینچ بنا دیتے۔

    سپریم کورٹ، بینچز اختیارات کیس، توہین عدالت کیس کا فیصلہ محفوظ
    بینچز اختیارات کیس میں ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا گیا،عدالتی معاون وکیل احسن بھون نے کہا کہ چیف جسٹس کمیٹی کے سامنے معاملہ رکھیں، پارلیمنٹ کا اختیار دو تہائی اکثریت کے ساتھ وفاق میں قانون سازی کرناہے، کمیٹی بینچ کے سامنے ٹھیک کیسز مقرر کرتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس پھر کیاکریں؟ یعنی آپ کہہ رہےہیں کمیٹی نےٹھیک کیا؟ مسئلہ کمیٹی کے سامنے رکھیں؟ احسن بھون نے جواب دیا فل کورٹ جوڈیشل آرڈر کےتحت نہیں ہوسکتا ورنہ فساد ہوجائےگا، یہاں ادارے کوتباہ کرنے میں لوگ لگے ہوئے ہیں، ہرکوئی اپنی پارلیمنٹ،اپنے ججز، اپنی سپریم کورٹ چاہتا ہے، اس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ ہم ادارے کو بچانے کے لیے ہی لگے ہوئے ہیں۔

    سماعت میں اٹارنی جنرل منصور اعوان نے کہا کہ توہین عدالت کے لیے موجودہ بینچ درست طور پر تشکیل نہیں دیا گیا، سپریم کورٹ رولز کے تحت توہین عدالت کا بینچ تشکیل دینے کے لیے چیف جسٹس فیصلہ کریں گے، اس بینچ کے پاس توہین عدالت کی سماعت کا اختیار نہیں، یہ معاملہ دیوانی یا فوجداری توہین کے دائرے میں آتا ہے، توہین عدالت کا پورا پروسیجر دیا گیا ہے جو چیف جسٹس کے اختیار میں ہے۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس میں فیصلہ محفوظ کرلیا جو بعد میں سنایا جائیگا۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

  • بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    بائیڈن کے اہم حکم منسوخ،ٹرمپ نے فوج میں ٹرانس جینڈر بھرتی پر لگائی پابندی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بائیڈن دور کے ایک اہم حکم کو منسوخ کرتے ہوئے امریکی فوج میں ٹرانس جینڈرز کی بھرتی پر پابندی لگا دی ہے۔

    ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام ملک کی فوجی حکمت عملی اور قومی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً 9 ہزار سے 14 ہزار ٹرانس جینڈرز امریکی فوج کا حصہ ہیں۔بدھ کے روز، ٹرمپ نے بائیڈن کے دور میں جاری کردہ حکمنامہ کو ختم کرنے کا اعلان کیا، جس کے تحت ٹرانس جینڈرز کو امریکی فوج میں بھرتی کی اجازت دی گئی تھی۔ اس پابندی کے نتیجے میں ٹرانس جینڈرز افراد کی فوج میں ملازمت کرنے کی راہ بند ہو گئی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا تھا کہ امریکہ میں صرف دو جنسوں کو تسلیم کیا جائے گا، یعنی مرد اور عورت۔

    اسی دوران، ٹرمپ انتظامیہ نے محکمہ خارجہ کے ذریعے امریکی سفارتخانوں میں پرائیڈ اور بلیک لائیوز میٹر پرچم لہرانے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ اب صرف امریکی پرچم لہرایا جا سکے گا، جبکہ دیگر کسی بھی نوعیت کے پرچم کی اجازت نہیں ہو گی۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے امریکی کوسٹ گارڈ کی پہلی خاتون کمانڈنٹ، ایڈمرل لنڈا فیگن کو بھی برطرف کر دیا۔ ایڈمرل فیگن کوسٹ گارڈ کی قیادت کرنے والی پہلی خاتون تھیں اور ان کی برطرفی پر مختلف حلقوں میں مختلف ردعمل سامنے آ رہا ہے۔

    ٹرمپ نے اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کا آغاز کرتے ہوئے میکسیکو بارڈر پر اضافی فوجی اور ہیلی کاپٹر بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ پینٹاگون کے مطابق 1500 اضافی فوجیوں کو میکسیکو بارڈر پر تعینات کیا جائے گا، اور ان کے ساتھ ہیلی کاپٹرز اور انٹیلی جنس تجزیہ کار بھی روانہ کیے جا رہے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنا ہے۔مزید برآں، ٹرمپ انتظامیہ نے بارڈر پر گراؤنڈ فورسز کی تعداد میں 60 فیصد تک اضافہ کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، اور پینٹاگون نے کیلی فورنیا اور ٹیکساس سے 5 ہزار غیر قانونی تارکین کو بے دخل کرنے کے لیے طیارے فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ، میکسیکو بارڈر پر باڑ لگانے کے لیے بھی پینٹاگون معاونت فراہم کرے گا۔

    یہ تمام اقدامات اس بات کا غماز ہیں کہ ٹرمپ نے امریکی سیاست میں اپنے جارحانہ ایجنڈے کو آگے بڑھانا شروع کر دیا ہے، اور ان کے فیصلے ان کے سیاسی نظریات کی عکاسی کرتے ہیں۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    ٹک ٹاک سے پابندی ہٹاؤ نہیں تو پاکستان چلی جاؤں گی،راکھی ساونت کا مودی کو پیغام

  • سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ،600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد کا ٹرمپ سے رابطہ،600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا فیصلہ

    سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ایک اہم ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ اس ملاقات میں سعودی ولی عہد نے امریکی صدر کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    ٹیلی فونک گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد اور امریکی صدر نے باہمی سرمایہ کاری، دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور مشرق وسطیٰ میں قیام امن اور سلامتی پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خطے میں امن و امان قائم کرنے کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔

    قبل ازیں گزشتہ روز سعودی ولی عہد کی زیر صدارت سعودی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہونے والی تازہ ترین پیش رفت پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آئینی حلف اٹھانے اور ریاستہائے متحدہ کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دی گئی۔ سعودی کابینہ نے امید ظاہر کی کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کا معاہدہ اسرائیلی جنگ کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے حصول میں مددگار ثابت ہوگا۔کابینہ نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق، خاص طور پر مشرقی یروشلم اور 1967 کی سرحدوں کے ساتھ ایک آزاد ریاست کے قیام کا حق ملنا ضروری ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں مستقل امن قائم کیا جا سکے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اس بات کا اظہار کیا کہ سعودی عرب امریکہ کے ساتھ اگلے چار سالوں میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے۔ روئٹرز کے مطابق، ولی عہد نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ ان کی انتظامیہ کی متوقع اقتصادی اصلاحات سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان بے مثال اقتصادی خوشحالی کا باعث بن سکتی ہیں۔شہزادہ محمد بن سلمان نے اس بات پر زور دیا کہ اگر مزید مواقع پیدا ہوئے تو یہ سرمایہ کاری مزید بڑھ سکتی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات میں مزید استحکام آئے گا۔ یہ قدم سعودی عرب کی ترقیاتی پالیسی اور امریکہ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان یہ ٹیلی فونک رابطہ دونوں ممالک کے تعلقات میں نئے باب کا آغاز کر سکتا ہے، جس سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام اور عالمی اقتصادی تعلقات میں مزید بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

  • جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

    جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ،عوام پھٹ پڑی

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا ،علی امین گنڈاپور کا افغانستان کے ساتھ مذاکرات کے لیے قبائلی عمائدین کا جرگہ بھیجنے کے اعلان پر خیبرپختونخوا کے عوام کا سخت ردعمل سامنے آیا ہے

    خیبر پختونخوا کی عوام کا کہنا ہے کہ جب سے موجودہ حکومت خیبر پختونخوا میں آئی ہے صوبہ تباہ ہو گیا ہے،خیبر پختونخوا حکومت وہ کام کرے جو ان کے اختیار میں ہوں، وفاق کے اختیار میں جو کام ہوں وہ نہ کریں کیونکہ وہ کر بھی نہیں سکتے۔حکومت کرنا جرگہ نہیں ہوتا، اور جرگہ کرنا حکومت کا کام نہیں ہے حکومت کو چاہیے کہ اپنے عوام کے لیے ٹھوس اقدامات کریں،ہم وزیر اعلی خیبر پختونخوا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ سب سے پہلے اپنے لوگوں، خصوصاً قبائلی عوام کے بارے میں سوچیں،اگر یہ اقدامات نہ کیے گئے تو لوگ صوبے سے باہر نکلنے پر مجبور ہو جائیں گے،ہم روزگار کے سلسلے میں اکثر خلیجی ممالک جاتے ہیں۔ ہم وزیرِ اعلیٰ سے گزارش کرتے ہیں کہ جو مذاکرات افغانستان کے ساتھ ہو رہے ہیں،وہ جس کا کام ہے ان کو وہی کرنے دیں۔آپ کا کام صحت، روزگار اور تعلیم فراہم کرنا ہے اور اپ یہ اپنے عوام کو دیں۔ہم کبھی ایک جگہ اور کبھی دوسری جگہ کام تلاش کرتے ہیں،لیکن اگر اپنے صوبے میں روزگار ہوتا تو ہم یہاں رہ کر اپنا روزگار کماتے۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد

  • ٹک ٹاک سے پابندی ہٹاؤ نہیں تو پاکستان چلی جاؤں گی،راکھی ساونت کا مودی کو پیغام

    ٹک ٹاک سے پابندی ہٹاؤ نہیں تو پاکستان چلی جاؤں گی،راکھی ساونت کا مودی کو پیغام

    بھارتی اداکارہ راکھی ساونت نے ایک بار پھر اپنے بیانات سے میڈیا کی توجہ حاصل کی ہے۔ اس مرتبہ انہوں نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو پاکستان جانے کی دھمکی دے دی ہے۔

    راکھی ساونت نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ سوٹ کیس پکڑے ہوئے ائیرپورٹ پر موجود ہیں۔ ویڈیو میں راکھی نے واضح طور پر کہا کہ "وزیراعظم مودی جی، اگر بھارت میں ٹک ٹاک پر عائد پابندی نہیں ہٹائی گئی، تو میں پاکستان چلی جاؤں گی۔ وہاں جا کر شادی کروں گی اور حلوہ پوری کھاؤں گی۔”راکھی ساونت نے مزید کہا کہ "دنیا بھر میں لوگ ٹک ٹاک سے پیسہ کما رہے ہیں، لیکن بھارت میں لوگ بے روزگار بیٹھے ہیں۔ مودی جی، آپ بھی ٹرمپ کی طرح ٹک ٹاک پر پابندی ہٹائیں تاکہ لوگ بھی کما سکیں۔”ویڈیو میں انہوں نے پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامر، دیدار اور نرگس سے ملاقات کی خواہش کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ وہ ان سے مل کر خوش ہوں گی۔

    یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 2020 میں نریندر مودی کی حکومت نے قومی سلامتی اور ڈیٹا سکیورٹی کے خدشات کے پیش نظر ٹک ٹاک سمیت 58 چینی ملکیتی ایپس پر پابندی عائد کر دی تھی۔

    راکھی ساونت نے پاکستان کی معروف اداکاراؤں کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ "پاکستان سے ہانیہ عامر، دیدار اور نرگس کو لے آئیں، میں ان سب کو ہرا دوں گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ "میں بالی وڈ کی آئٹم گرل ہوں اور رئیلیٹی شو کی ملکہ ہوں، چاہے کوئی ڈانس ہو یا کوئی رئیلیٹی شو، سب میں میں ہی جیتوں گی۔”

    اس کے علاوہ، ایک اور ویڈیو میں راکھی ساونت نے پاکستانی لڑکوں کے بارے میں بھی بات کی اور سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کے لیے اپنی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ "میں دوسری شادی کرنے کی خواہش رکھتی ہوں اور میری خواہش ہے کہ اس بار میں دبئی میں کسی پاکستانی لڑکے سے شادی کروں۔”راکھی ساونت کی ان غیر روایتی باتوں اور چیلنجز نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے اور ان کی ویڈیوز وائرل ہو چکی ہیں۔

    ایلون مسک پاکستان مخالف،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

  • ایلون مسک پاکستان مخالف،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    ایلون مسک پاکستان مخالف،قائمہ کمیٹی میں اراکین پھٹ پڑے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے سینیٹ کمیٹی میں کہا ہے کہ ابھی وزارت داخلہ کی طرف سے ایلون مسک کی کمپنی اسٹار لنک کی کلیئرنس نہیں آئی، انہیں تحفطات سے آگاہ کیا تو انہوں نے حکومت کی پالیسی سے اتفاق کیاہے۔

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا سینیٹر پلوشہ خان کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پاکستان میں اسٹار لنک کی لانچ پر بریفنگ دی گئی۔چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے قائمہ کمیٹی اجلاس میں بتایا کہ پاکستان میں قومی اسپیس پالیسی 2023 میں آئی جس پر 2024 میں رولز بنے پھر اسپیس کے حوالے سے پاکستان اسپیس ریگولیٹری بورڈ قائم کیا گیا، یہ باڈی نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے ماتحت ہو گی، حکومت نے سوچا ہو گا کہ سپارکو کو کمرشل تحفظ دیں، اس لیے ریگولیٹری باڈی قائم کی گئی، کوئی سیٹیلائٹ پاکستان میں سروس دینا چاہے تو وہ پہلے ای ای سی پی کے پاس رجسٹر ہو گی پھر ریگولیٹری بورڈ کے پاس رجسٹر ہو گی پھر پی ٹی اے کے پاس لائسنس کیلئے آئیں گے۔

    انوشہ رحمان نے استفسار کیا کہ نگراں حکومت کے دور میں کیسے پالیسی بنی؟ چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ اسٹار لنک نے فروری 2022 میں لائسنس کیلئے اپلائی کیا جو وزارت داخلہ کےپاس سکیورٹی کلیئرنس کے لیے گیا، وزارت داخلہ کی طرف سے اسٹار لنک کی کلیئرنس نہیں آئی،لنک ریمورٹ علاقوں میں بزنس والے لوگوں کو سپورٹ کرے گا، اسٹار لنک نئے ریگولیٹری بورڈ کےساتھ رجسٹر ہوگی تو پی ٹی اے لائسنس جاری کر دیں گے، ایک چینی کمپنی ٹرپل ایس ڈی بھی پاکستان آرہی ہے۔ کوئی سیٹلائٹ بھی پاکستان آ سکتی ہے۔

    ڈاکٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ ایلون مسک نے پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی جس میں پاکستانیوں پر الزام لگائے گئے جو بھی فیصلہ کریں ایلون مسک نے جو کہا ہے اس کو نظر میں رکھیں۔،پلوشہ خان نے کہا کہ ایلون مسک پاکستان مخالف ہے، اس کی وجہ سے ہماری عالمی بدنامی ہوئی ہم اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں،انوشہ رحمان نے کہا کہ ہم انٹرنیٹ کی بندش بھی دیکھ رہے ہیں، اب ایسی سیٹلائٹ لا رہے ہیں جو ایلون مسک جیسے جارحانہ رویے کے حامل شخص کے ماتحت ہے، صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں غیرا خلاقی نوعیت یا عملدرآمد کے مسائل آئیں گے، اسے ہینڈل کرنے کا کیا لائحہ عمل ہو گا؟ جو مواد چلے گا اس کیلئے ریگولیٹری باڈی کون ہوگی؟

    چئیرمین پی ٹی اے نے کہا کہ ریگولیٹری باڈی ان سب باتوں کو دیکھ کر ہی لائسنس دینے کا فیصلہ کرے گی، یہ وہ براہ راست سیٹلائٹ سے سیٹلائٹ میں نہیں چلے گا، اسٹار لنک گراؤنڈ پر آئے گا، گیٹ وے کے ذریعے چلے گا،اتھارٹی نے اپنے تحفظات انھیں دیے ہیں، اسٹار لنک نے حکومتی پالیسی سے اتفاق کیا ہے، وہ سسٹم کو بائی پاس نہیں کریں گے، جب حکومت کہے گی ڈیٹا بلاک کرے تو وہ بلاک کریں گے، ایلون مسک کی ٹوئٹ کی وجہ سے اسٹارلنک کی پاکستان رجسٹریشن کا معاملہ دوبارہ اٹھا۔

    ایڈیشنل سیکریٹری آئی ٹی نے کہا کہ اسپیس کی ریگولیشن ٹیکنیکل ہے، اسے سپارکو دیکھتا ہے۔ ا نوشہ رحمان نے کہا کہ یہ کام تو پی ٹی اے کو کرنا چاہے تھا، ابھی وزارت آئی ٹی نے پیکا کی ذمہ داری وزرات داخلہ کو دے،کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں سپارکو اور ریگولیٹری اتھارٹی کو طلب کر لیا۔

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

  • توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    توشہ خانہ ٹو،عمران ،بشریٰ بریت کی درخواست پر ایف آئی اے کو نوٹس جاری

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ 2 کیس میں عمران خان اوربشریٰ بی بی کی بریت کی درخواستوں پر ایف آئی اے سے جواب طلب کرلیا۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس راجہ انعام منہاس نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی توشہ خانہ کیس ٹو میں بریت کی درخواستوں پر سماعت کی،دوران سماعت عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے توشہ خانہ کیس 2 کے ٹرائل پر حکمِ امتناع کی استدعا کی جس پر جسٹس راجہ انعام نے کہا کہ کرمنل کارروائی کو اس موقع پر اسٹے کرنےکی کوئی عدالتی نظیر نہیں، ہم آپ کی درخواست پرنوٹس کرکے دوسرے فریق کوبھی سن لیتے ہیں۔

    وکیل سلمان صفدر نے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس گل حسن اورنگزیب اس کیس سے متعلق 5 درخواستیں سن چکے ہیں، مناسب ہو گاکہ یہ عدالت بریت کی درخواستیں بھی اسی عدالت میں بھیج دے، جس پر جسٹس راجہ انعام نے درخواست گزار کے وکیل کی جانب سے بینچ تبدیل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ضمانت کی درخواستیں تھیں، یہ الگ معاملہ ہے، یہ عدالت کیس سُنے گی، آپ کیس کے میرٹس پر دلائل دیں،عمران خان کے وکیل نے کہا کہ دو درخواستوں کےآرڈر بھی ہیں، ٹرائل کورٹ کو سماعت روکنے کا حکم دیاجائے، اس پر جج نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں فرد جرم عائد ہوچکی،گواہان کے بیانات ہورہے ہیں، ابھی ایسا کرنا درست نہیں ہوگا، اس میں نوٹس کرتے ہیں، لمبی تاریخ نہیں دیں گے، عدالت نے ایف آئی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 28 جنوری تک ملتوی کردی۔

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد