Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟  مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    پیسہ زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل؟ مبشر لقمان کا یو ای ٹی میں طلبا سے خطاب

    میں پیسے سے کیوں پیار کرتا ہوں جس کی وجہ سے کامیابی کے نئے نئے راستے کھلتے ہیں، ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم 2025 میں زندگی کے مقاصد کی تکمیل میں ذہنی اصولوں پر بات کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ دنیا پیسے کی دوڑ میں مصروف ہے لیکِن ہم ایسے کاموں میں مصروف عمل ہیں کہ دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ایلیٹ کلاس آج بھی ماں کی مامتا جیسے اشتہاروں کے ذریعے لوگوں کو بلیک میل کرتے ہیں، معاشرے کو بیہودہ سکرپٹ کے ذریعے ایسا ڈرامہ دیا جا رہا ہے کہ وہاں تخلیقاتی ذہن کا تصور ہی پیدا نہیں ہوتا۔

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے طالب علموں کو زر یعنی دولت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے بتایا کہ زندگی میں پیسہ بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے تو آپ اپنی ماں کا علاج نہیں کروا سکتے، آپ خوشیاں نہیں خرید سکتے، آپ اپنے بچوں کی بہتر روزگار کی سہولیات تلاش نہیں کر سکتے، لہذا زندگی میں پیسہ ہے تو آپ کی زندگی میں سکوں کی لہر دوڑنا شروع ہو جائے گی۔

    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کی اس تقریب میں ” سنو کہانی میری زبانی ” لکھنے والی مصنفہ سعدیہ سرمد، اداکار افتخار احمد عرف افی سمیت دیگر ماڈلز موجود تھیں۔ ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم پر مستقبل کے معماروں یعنی طالب علموں نے خود سے تمام انتظامات مکمل کیے تھے۔ سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان نے طالب علموں کی اس کاوش کی تعریف کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اگر آپ کو ابھی اس پر شک ہے کہ پیسہ کیوں ضروری ہے تو اپنے اشرافیہ کو دیکھ لیں جو سب کچھ اپنی مرضی کا کرتے ہیں اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی خوبصورتی میں کوئی کمی ہے اور کوئی تم سے پیار نہیں کرے گی تو بیٹا یہ آپ کی سوچ درست نہیں آپ پیسہ اکٹھا کرنے کے قابل بن جاؤ پیار آنے والی خود کر لے گی۔

    ted
    یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کالا شاہ کاکو کیمپس میں ٹیڈ ٹاک پلیٹ فارم پر طالب علموں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ زندگی صرف ایک ہی چیز کا نام ہے اور وہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر آپ میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہے تو آپ اپنی زندگی میں ان قیمتی رنگوں سے محروم ہو جائیں گے جن کے خواب آپ نے کبھی دیکھے تھے۔

    سینئر اینکر پرسن مبشر لقمان کی تقریر کا موضوع تھا ” وائے آئی لو منی ” یعنی مجھے پیسے سے پیار کیوں ہے ؟۔ مبشر لقمان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ پیسہ ہی وہ واحد چیز ہے جس کی وجہ سے آپ کی معاشرے میں عزت کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ پیسے والوں سے سخت نفرت کرتے ہیں جو کہ غلط ہے ، جب بیمار ہوتے ہیں تو پیسے والے ملک ریاض کو ہی کال کرتے ہیں کہ میری والدہ یا والد ٹھیک نہیں ان کا علاج کروانے کیلئے مدد کریں۔ لہذا پیسے والوں پر تنقید نہیں بلکہ ان کی طرح پیسہ کمانے والے بنو۔ انہوں نے پاک کلام قرآن مجید کی آیات مبارکہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ دعا کریں کہ یا اللہ پہلے میری دنیا بہتر بنا پھر میری آخرت۔ لہذا پیسہ دنیا کو بہتر کرنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ مبشر لقمان نے اختتامی الفاظ میں حیران کن فیکٹ بتایا کہ ہم لوگ محنت کرتے کرتے مر جاتے ہیں لیکن اپنے اوپر پیسہ خرچ نہیں کرتے۔ اپنے اوپر پیسہ خرچ کرو اللّٰہ اور دے گا اس ذات پر یقین رکھو۔ انہوں نے اپنی زندگی کی کامیابی کی کہانی بھی بتائی، اور یہ بھی بتایا کہ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ میرے اخراجات یعنی خرچے بڑھا دے انہوں نے کہا میں یہ دعا اس لیے کرتا ہوں کہ اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہوا ہے لہذا جس نے خرچے بڑھانے ہیں وہ اس حساب سے مجھے یقین ہے کہ رزق بھی دے گا۔

    تین چینلز کا عمران کی رہائی کی خبر نشر کرناگہری سازش؟ مبشر لقمان کا سوال

    مبشر لقمان کی 62ویں سالگرہ، کھرا سچ اور باغی ٹی وی کی جانب سے تقریب کا انعقاد

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان نے خوبصورت واقعہ کے ذریعے طالب علموں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں رواج بن چکا ہے کہ قانون کی پرواہ کرنے والا کو یہاں لٹکایا جاتا ہے اور جو قانون پاؤں تلے مسل دیتے ہیں ان کو ہیرو کا درجہ دیا جاتا ہے

  • پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد

    پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث،78 موبائل فونز برآمد

    پاکستان کی قومی ایئر لائن پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی دبئی سے ملتان جانے والی پرواز کے عملے کے ارکان سے 78 آئی فونز برآمد کیے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ موبائل فونز پرواز پر تعینات فضائی عملے کے پانچ ارکان سے برآمد ہوئے۔

    اس اسمگلنگ میں پی آئی اے کی ائرہوسٹسز نشاط اور صدف ناصر، فلائٹ اسٹیورڈ محمد عمران اور خالد خان شامل تھے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے کے سینئر پرسنل فیصل پرویز بھی اس اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔کسٹمز حکام نے پیشگی اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے دونوں ائرہوسٹسز سے 24 آئی فونز برآمد کیے۔ 16 پرو میکس موبائل فونز برآمد ہوئے، خواتین کی نشاندہی پر حکام نے تینوں مرد میزبانوں کو ہوٹل سے واپس بلوا کر ان سے مزید 54 آئی فونز برآمد کیے۔تمام ملوث فضائی عملے کو حراست میں لے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مزید کارروائی کی جا رہی ہے اور اسمگلنگ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    کسٹمز کے عملے نے تمام آئی فون موبائل فونز کو ضبط کر لیا ہے اور ان پر مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ سینئر ایئر ہوسٹس نشاط کا تعلق پشاور سے ہے جبکہ سینئر ایئر ہوسٹس صدف نصیر کا تعلق بھی پشاور سے ہی ہے،یہ کارروائی کسٹمز کے حکام کی جانب سے کئے گئے مؤثر چیکنگ کے دوران کی گئی ہے ،یہ واقعہ پی آئی اے میں اسمگلنگ کی ایک اور شرمناک مثال بن گیا ہے جس نے ایئرلائن کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ماضی میں بھی پی آئی اے عملہ سمگلنگ میں ملوث رہا ہے اور ان کے خلاف کاروائی کی گئی ہے

  • سیف علی خان ہسپتال سے گھر منتقل،تصویر بھی سامنے آ گئی

    سیف علی خان ہسپتال سے گھر منتقل،تصویر بھی سامنے آ گئی

    بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان کو آج ممبئی کے لیلاوتی اسپتال سے چھٹی مل گئی اور وہ بخیر و عافیت اپنے گھر واپس پہنچ گئے۔

    یہ واقعہ 16 جنوری کی صبح پیش آیا تھا جب ان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔ چاقو کے حملے میں سیف علی خان شدید زخمی ہوئے تھے اور انہیں فوراً اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ اب چھٹے دن ڈاکٹروں نے ان کی حالت میں بہتری کو دیکھتے ہوئے انہیں اسپتال سے چھٹی دے دی۔آج صبح ڈاکٹروں نے سیف علی خان کی صحت کے بارے میں اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب مکمل طور پر صحتیاب ہو چکے ہیں اور انہیں اسپتال سے گھر جانے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کے بعد سیف علی خان کو گھر لے جانے کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ کرینہ کپور، جو سیف علی خان کے ساتھ اسپتال میں موجود تھیں، نے انہیں سخت سیکیورٹی کے درمیان ان کے رہائش گاہ تک پہنچایا۔سیف علی خان کی رہائش گاہ پر سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور چند اہم مقامات پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب کیے گئے ہیں تاکہ ان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔

    واضح رہے کہ 16 جنوری کی صبح سیف علی خان پر ایک حملہ آور نے چاقو سے کئی حملے کیے تھے، جس کے نتیجے میں وہ بری طرح زخمی ہو گئے تھے۔ ان کی گردن اور ریڑھ کی ہڈی میں سنگین چوٹیں آئی تھیں۔ سیف علی خان کو فوری طور پر لیلاوتی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کا آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق حملے میں سیف کو ریڑھ کی ہڈی کے علاوہ تین مقامات پر شدید چوٹیں آئی تھیں، جن میں سے دو زخم ان کے ہاتھ پر تھے اور ایک گردن کی دائیں طرف۔

    سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے سیف علی خان کی ریڑھ کی ہڈی میں پھنسی ہوئی نکیلی چیز کو نکال لیا، جسے چاقو کے اگلے حصے کے طور پر شناخت کیا گیا۔ آپریشن کے بعد سیف علی خان کو 17 جنوری کو آئی سی یو میں منتقل کیا گیا تھا اور ان کی حالت میں بتدریج بہتری آنے کے بعد انہیں نارمل وارڈ میں منتقل کیا گیا تھا۔

    میرے صوبے کے تو بارڈر کھلے،دہشتگردی کا کون ذمہ دار ہے،جسٹس مسرت ہلالی

    کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

  • وزیر کھیل سندھ  کا ٹرانس جینڈرز کیلیے  مقابلوں کا اعلان

    وزیر کھیل سندھ کا ٹرانس جینڈرز کیلیے مقابلوں کا اعلان

    وزیر کھیل سندھ سردار بخش مہر نے سندھ کی جیلوں میں قیدیوں کے لیے کھیلوں کے مقابلے کرانے اور پہلی مرتبہ ٹرانس جینڈرز کے لیے بھی کھیلوں کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔

    انہوں نے یہ بات قائداعظم بین الصوبائی گیمز میں سندھ کے کھلاڑیوں کی کامیابیوں پر ایوارڈز دینے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وزیر کھیل نے اس موقع پر کہا کہ 2025 کا نعرہ ’کھیل سب کے لیے‘ ہے، اور سندھ میں ہر طبقے کے لوگوں کو کھیلوں میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔تقریب یوتھ کلب کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں وزیر کھیل سردار بخش مہر نے سندھ کے کھلاڑیوں کو ان کی کامیابیوں پر ایوارڈز سے نوازا۔ بین الصوبائی گیمز میں سندھ نے تیسری پوزیشن حاصل کی اور مجموعی طور پر 79 میڈلز جیتے۔ ان میں 16 گولڈ، 28 سلور اور 45 برانز میڈلز شامل ہیں، جو صوبے کے کھلاڑیوں کی محنت اور لگن کا عکاس ہیں۔

    سندھ کے کھلاڑیوں کی کامیابیوں کے حوالے سے وزیر کھیل نے کہا کہ سندھ کے مرد اور خواتین کھلاڑیوں نے 15 کھیلوں کے 26 ڈسپلنز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جس پر وہ صوبے کے کھلاڑیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔تقریب کے دوران وزیر کھیل نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبے میں کھیلوں کی ترقی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کھیل سندھ نے صوبے میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے اور اس حکمت عملی میں جیلوں کے قیدیوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ وہ اپنی توانائیاں مثبت سرگرمیوں میں صرف کریں۔

    یہ پہلا موقع ہے کہ سندھ میں ٹرانس جینڈرز کے لیے کھیلوں کے مقابلے کرانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ وزیر کھیل نے کہا کہ یہ فیصلہ معاشرتی ہم آہنگی اور ٹرانس جینڈرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے اہم قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کھیلوں کے ذریعے معاشرتی برابری کو فروغ ملے گا اور ہر فرد کو اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گا۔وزیر کھیل نے کہا کہ سندھ کے کھلاڑیوں کو ان کی شاندار کارکردگی کے عوض انعامات دیے جائیں گے۔ گولڈ میڈل جیتنے والے کھلاڑیوں کو ایک لاکھ روپے، سلور میڈل حاصل کرنے والوں کو 75 ہزار روپے اور برانز میڈل جیتنے والوں کو 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ، محکمہ کھیل کی جانب سے کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے مزید اقدامات کیے جائیں گے تاکہ وہ آئندہ بھی عالمی سطح پر نمایاں پوزیشنز حاصل کر سکیں۔

    وزیر کھیل سندھ سردار بخش مہر نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کھیلوں کے شعبے میں سندھ کی پوزیشن کو مزید مستحکم کیا جائے گا اور ہر فرد کو کھیلوں میں حصہ لینے کے مساوی مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’کھیل سب کے لیے‘ کا نعرہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ ایک حقیقت بن کر سامنے آئے گا، جس سے صوبے میں کھیلوں کی ترقی اور معاشرتی ہم آہنگی کو فروغ ملے گا۔

    کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کو عہدے سے ہٹا دیاگیا

  • کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    کابینہ اجلاس،پاکستان میں موجود غیر ملکی پائلٹس کے لائسنس کی دو سال کیلئے توثیق

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا
    وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پاکستان میں کام کرنے والے بیرون ملک کے موجودہ 86 پائلٹس کے لائسنز کی توثیق میں 2 سال اور 2025 میں نئے پائلٹس کی شمولیت کی فارن ویلیڈیشن میں 3 سال کی توسیع کی منظوری دے دی- وزیراعظم کو بتایا گیا کہ گزشتہ سالوں میں کووڈ کی وبا اور پاکستانی پائلٹس پر پابندی کی وجہ سے پاکستانی ائیرلائنز کو بیرون ملک سے پائلٹس کی خدمات حاصل کرنی پڑیں۔ کابینہ ڈویژن کی مذکورہ بالا سفارش پر مکمل قانونی کارروائی کے بعد عمل درآمد کیا جائے گا۔

    وزیراعظم نے توشہ خانہ کے نظام میں مزید شفافیت لانے کے لیے توشہ خانہ ایکٹ 2024 پر نظر ثانی کے لیے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی۔وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر نیشنل سییڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور ممبران کی تعیناتی کے حوالے سے قوائد وضوابط کی منظوری دے دی-وفاقی کابینہ نے کابینہ ڈویژن کی سفارش پر پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی ذمہ داری وزارت آئی ٹی سے وزارت داخلہ کو منتقل کئے جانے کے حوالے سے رولز آف بزنس 1973 میں ترمیم کی منظوری دے دی- وفاقی کابینہ نے وزارت قانون و انصاف کی سفارش پر نشینل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی اپیلیٹ ٹریبیونل کے ممبر فنانس کے طور پر ڈاکٹر عمار حبیب خان کی تعیناتی کی منظوری دے دی-

    وزیراعظم نے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کی تعمیر نو کے عمل کو تیز کرنے، اس عمل کی مؤثر نگرانی کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی۔وزیراعظم نے کہا کہ پرائم منسٹر ریلیف پیکج مستحقین تک پہنچانے کے لیے نئی مؤثر حکمت عملی بنائی جائے۔وفاقی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے 6 جنوری 2025 اور 17 جنوری 2025 کے اجلاس میں کئے گئے فیصلوں کی توثیق کردی-

  • میرے صوبے کے تو بارڈر کھلے،دہشتگردی کا کون ذمہ دار ہے،جسٹس مسرت ہلالی

    میرے صوبے کے تو بارڈر کھلے،دہشتگردی کا کون ذمہ دار ہے،جسٹس مسرت ہلالی

    ملک میں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کی بے دخلیوں کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے درخواست نمٹا دی ،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ کی درخواست نگران حکومت کے خلاف تھی وہ ختم ہوچکی اب،موجودہ حکومت کی پالیسی سے اختلاف ہو تو نئی درخواست لا سکتے ہیں، کیا آپ چاہتے ہیں حکومت غیر قانونی مہاجرین کو نہ نکالا جائے، وکیل عمر اعجاز گیلانی نے کہا کہ یہ درخواست بنیادی حقوق کے نفاذ کیلئے ہے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ بنیادی حقوق پاکستان کے شہریوں کو آئین دیتا ہے، جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 40،40 سال سے افغان یہاں رہ رہے ہیں،بچے پیدا ہوگئے بڑے ہوگئے، کیا ان کو سمندر میں پھینک دیں، کراچی میں مختلف لوگ ہیں جنکو کوئی لینے کو تیار نہیں، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ میرے صوبے کے تو بارڈر کھلے ہیں دہشتگردی کا کون ذمہ دار ہے، وکیل عمر گیلانی نے کہا کہ پاکستان کا شہریت ایکٹ ہر پیدا ہونے والے کو شہریت دیتا ہے، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ شہریت رجسڑڈ کیلئے ہوگی نہ کہ غیر قانونی کیلئے، جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ اپنا بوجھ ہم اٹھا نہیں سکتے تو انکا کیوں اٹھائیں،
    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں چھ رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی

  • سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار   کو عہدے سے ہٹا دیاگیا

    سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار کو عہدے سے ہٹا دیاگیا

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل نذر عباس کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک اہم اعلامیے میں سامنے آیا ہے جس میں ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے کی گئی غلطی کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

    یڈیشنل رجسٹرار نذرعباس کی غلطی کی وجہ سے ایک اہم کیس آئینی بینچ کی بجائے ریگولر بینچ میں لگا دیا گیا۔ اس غلط بینچ میں کیس کا منتقل ہونا عدالتی وقت اور وسائل کا ضیاع تھا، جس پر چیف جسٹس پاکستان نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ اس غلط فیصلے کی وجہ سے عدالتی عمل میں تاخیر ہوئی۔اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو حکم دیا ہے کہ وہ مقدمات کی اسکروٹنی کا عمل جلد از جلد مکمل کریں تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسٹم ایکٹ سے متعلق درخواستیں 27 جنوری کو آئینی بینچ میں سماعت کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔

    سپریم کورٹ کا یہ اقدام عدلیہ کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور عدالتی عمل میں شفافیت لانے کی سمت میں ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔

    سیف علی خان کو اسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کو انعام

  • سیف علی خان کو اسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کو انعام

    سیف علی خان کو اسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کو انعام

    بالی ووڈ کے اداکار سیف علی خان کو زخمی حالت میں اسپتال پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور بھجن سنگھ رانا کو انعام دیا گیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سیف علی خان کو بروقت اسپتال پہنچانے پر رکشہ ڈرائیور بھجن سنگھ رانا کو 11 ہزار روپے کا انعام دیا گیا ہے۔ یہ انعام ایک سماجی ادارے کی جانب سے دیا گیا ہے۔بھجن سنگھ رانا کا کہنا تھا کہ انہیں کسی قسم کی مالی منفعت کی توقع نہیں تھی، بلکہ ان کا مقصد صرف سیف علی خان کی مدد کرنا تھا۔ انہوں نے بھارتی میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "پیسوں کا نہیں، صرف مدد کا سوچا تھا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا تھا۔

    رکشہ ڈرائیور نے اپنے تجربات کو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ جب وہ سیف علی خان کو اسپتال لے کر جا رہے تھے، ان کی کمر زخمی تھی اور وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ سیف علی خان ان کے رکشے میں بیٹھے ہیں۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ کوئی عام زخمی شخص ان کے رکشے میں سوار ہے۔بھجن سنگھ رانا نے مزید کہا کہ جب وہ اسپتال کے ایمرجنسی گیٹ پر پہنچے، تو وہاں ایک ایمبولینس نکل رہی تھی اور اسپتال کے عملے نے ہنگامہ دیکھ کر فوراً ان کی مدد کی۔ تب ہی انہیں پتہ چلا کہ ان کے رکشے میں بالی ووڈ اداکار سیف علی خان موجود ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کی جعلی تصاویر شیئر کرنے پر مزید 10 افراد کے خلاف مقدمات

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی جعلی تصاویر شیئر کرنے پر مزید 10 افراد کے خلاف مقدمات

    وزیراعلیٰ پنجاب کی جعلی تصاویر شیئر کرنے پر مزید 10 افراد کے خلاف مقدمات

    لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے بنائی گئی جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے پر مزید 10 افراد کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔

    اس سلسلے میں لاہور میں ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ اور ڈپٹی ڈائریکٹرز نے پریس کانفرنس کی اور اس معاملے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے بتایا کہ اس کارروائی میں ملزمان میں دو خواتین بھی شامل ہیں، اور اب تک مجموعی طور پر 18 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔ ان ملزمان نے وزیراعلیٰ پنجاب کی جعلی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کیں، جس پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ایف آئی اے کے حکام نے مزید کہا کہ اسٹیٹ اور معزز شخصیات کیخلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔ اس میں شامل افراد تصاویر بنانے، شیئر کرنے، اور کمنٹس کرنے والے سبھی ایف آئی اے کے زیر تفتیش ہیں۔

    انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ملزمان کی چار کیٹگریز بنائی گئی ہیں اور اس معاملے میں ملوث افراد کو 5 سے 7 سال تک کی سزا ہوسکتی ہے۔ ایف آئی اے حکام کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم قوانین کو مزید سخت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اور ملک سے باہر بیٹھ کر شر پسندی کرنے والوں کو پاکستان لانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کارروائی کے ذریعے تمام ملزمان کو گرفتار کیا جائے گا، چاہے وہ تصاویر بنانے والے ہوں، شیئر کرنے والے ہوں، یا ان پر کمنٹس کرنے والے افراد ہوں۔وزیراعلیٰ پنجاب کی جعلی تصاویر بنانے والوں کے خلاف اس کارروائی کو قانونی طور پر بہت سنگین سمجھا جا رہا ہے، اور حکام اس بات پر تاکید کر رہے ہیں کہ مستقبل میں اس طرح کے جرائم کو روکنے کے لیے سخت قوانین وضع کیے جائیں گے۔

    اس کے علاوہ، ایف آئی اے نے شہباز گل اور عادل راجہ جیسے ملزمان کو پاکستان لانے کے لیے بھی اقدامات کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری،پاکستان سے کون کون شریک ہوا

    ڈونلڈ ٹرمپ حلف برداری،پاکستان سے کون کون شریک ہوا

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں صرف وی وی آئی پیز ہی شرکت کر پائے، جبکہ کڑاکے کی سردی اور سخت سیکیورٹی نے کئی اہم شخصیات کی شرکت کی راہ میں رکاوٹ ڈالی۔ اس تقریب میں شرکت کرنے والے افراد کو خصوصی دعوت نامے جاری کیے گئے تھے، مگر ان کی شرکت بھی سیکیورٹی اور موسمی حالات کی وجہ سے محدود ہو گئی۔

    پاکستان کی نمائندگی سفیرِ پاکستان، رضوان سعید شیخ نے کی، جو ڈپلومیٹک انکلیو میں موجود تھے۔ تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی واشنگٹن میں موجود تھے اور تقریب میں شریک ہوئے یا نہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی نمائندگی وزیرِ خارجہ جے شنکر نے کی، جو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خصوصی مندوب کے طور پر وہاں موجود تھے۔ ٹرمپ کی حلف برداری میں کئی عالمی رہنما اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں ارجنٹینا کے صدر ہاویر، چین کے نائب صدر ہان زینگ، امریکا کے سابق صدور بل کلنٹن، بش اور براک اوباما شامل تھے۔ ان کے ساتھ ان کی بیویاں ہیلری کلنٹن، لارا بش اور مشعل اوباما بھی موجود نہیں تھیں۔

    اس تقریب میں سابق نائب صدور مائیک پنس اور ڈین کوائل بھی موجود تھے۔ صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ری پبلکن ووک رامسوامی اور نیویارک کے میئر ایریک ایڈمز بھی اس تقریب کا حصہ بنے۔ مزید یہ کہ کئی کاروباری شخصیات جیسے ایلون مسک، جیف بیزوس، مارک زکربرگ، اور گوگل کے سی ای او سندر پچائی بھی موجود تھے۔

    پاکستانی رہنماؤں میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی شرکت متوقع تھی، مگر انہیں حلف برداری کمیٹی کی جانب سے باضابطہ دعوت نامہ نہیں دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، بلاول کو دعوت ملنے کی خبریں میڈیا کے ذریعے غیر مصدقہ ذرائع سے آئیں، جس کے باعث پارٹی نے اس بارے میں کسی ردِ عمل کا اظہار نہیں کیا۔

    پاکستانی امریکن کمیونٹی کے افراد میں جاوید انور، جو صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں اور جنہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم میں تین ملین ڈالرز عطیہ کیے تھے، کو انڈور تقریب میں شرکت کے لیے خصوصی پاس جاری کیا گیا تھا۔ تاہم، شدید سیکیورٹی اور سردی کی وجہ سے انہوں نے شرکت سے گریز کیا، اور ان کی نمائندگی ان کے بیٹے اور بہو نے کی۔ دیگر پاکستانی امریکن رہنما جیسے ساجد تارڑ اور کاروباری شخصیت تنویر احمد بھی اس تقریب کا حصہ نہیں بن سکے۔

    جب تقریب کو آؤٹ ڈور منصوبہ بنایا گیا تھا تو پی ٹی آئی کے رہنما قاسم سوری، طاہر صادق، سجاد برکی، عاطف خان اور دیگر کو دعوت نامے جاری کیے گئے تھے، تاہم انڈور تقریب ہونے کی وجہ سے ان افراد نے شرکت نہیں کی۔ تقریب کی سیکیورٹی کے حوالے سے سخت ہدایات جاری کی گئی تھیں، جن میں سردی کے پیش نظر گرم کپڑے پہننے اور اسکریننگ کے عمل میں شرکت کی ہدایات شامل تھیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب میں سیکیورٹی کی سختیوں اور سرد موسم کے باوجود دنیا بھر سے اہم شخصیات کی شرکت نے اس ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔ مگر اس میں پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک سے محدود نمائندگی نے اس کی عالمی سیاسی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔