Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی رہا

    سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد رہا ہونے والے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    سینیٹ کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت خارجہ نے اپنے تحریری جواب میں سعودی ولی عہد کے حالیہ دورہ پاکستان کے بعد سعودی عرب کی جیلوں سے رہا کیے گئے پاکستانی قیدیوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔وزارت خارجہ کے مطابق، سعودی جیلوں سے 2019 سے 2024 تک 7 ہزار 208 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ ان قیدیوں کی رہائی کی تفصیل درج ذیل ہے

    2019 میں 545 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2020 میں 892 قیدی رہا ہوئے۔
    2021 میں 916 پاکستانی قیدیوں کو آزادی ملی۔
    2022 میں 1331 پاکستانی قیدیوں کو رہا کیا گیا۔
    2023 میں 1394 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے آزاد کیا گیا۔
    2024 میں 2130 پاکستانی قیدیوں کو سعودی جیلوں سے رہا کیا گیا۔

    مزید برآں، وزارت خارجہ کے تحریری جواب میں یہ بھی ذکر کیا گیا کہ اس وقت مختلف ممالک کی جیلوں میں 23 ہزار 456 پاکستانی قید ہیں۔ ان قیدیوں میں سب سے زیادہ پاکستانی خلیجی ممالک کی جیلوں میں قید ہیں۔ سعودی عرب میں 12 ہزار 156 پاکستانی قید ہیں، یو اے ای میں 5 ہزار 292، یونان میں 811 اور قطر میں 338 پاکستانی جیلوں میں ہیں۔

    یہ تفصیلات سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے کیے گئے اقدامات کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔

    لاہور،شیراکوٹ میں کارخاص کی فائرنگ سے پولیس اہلکارقتل

  • لاہور،شیراکوٹ میں کارخاص کی فائرنگ سے پولیس اہلکارقتل

    لاہور،شیراکوٹ میں کارخاص کی فائرنگ سے پولیس اہلکارقتل

    لاہور:شیرا کوٹ کے علاقے میں سابق ایس ایچ او تھانہ لاری اڈا کو اس کے کار خاص نے فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا ،

    شیرا کوٹ کے علاقے بابو صابر کے قریب انسپکٹر سیف اللہ نیازی رہائش پذیر تھا، انسپکٹر سیف اللہ نیازی کے گھر کے قریب ہی اس کا کار خاص عدیل بھی رہائش پذیر ہے ، پولیس حکام کے مطابق انسپکٹر سیف اللہ نیازی نے کسی بات پر کار خاص عدیل کی ڈانٹ ڈپٹ کی ، ڈانٹ ڈپٹ سے دلبر داشتہ ہو کر عدیل نے طیش میں آکر فائرنگ کر دی ، فائرنگ کی زد میں آکر سیف اللہ نیازی موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا، اطلاع ملنے پر پولیس کی بھاری نفر ی موقع پر پہنچ گئی، پولیس نے لاش تحویل میں لیکر جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے لاش مردہ خانے منتقل کر دی

    بابو صابو چیک پوسٹ کا انچارج انسپکٹر سیف اللہ نیازی قتل،ڈولفن ٹیم نے دکاندار عدیل کو حراست میں لے لیا،شیراکوٹ پولیس کے حوالے کر دیا .پولیس نے ملزم سے اسلحہ برآمد کر کے تحقیقات شروع کردی

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران موقع پر پہنچ گئے،ڈی آئی جی آپریشنز نے جائے وقوعہ کا جائزہ لیا،ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق افسوسناک واقعہ معمولی تلخ کلامی کے نتیجے میں پیش آیا، فائرنگ کرنے والا ملزم عدیل پولیس کی گرفت میں ہے، تمام شواہد اکٹھے کر کے مزید قانونی کاروائی عمل میں لائی جا رہی ہے، انسپکٹر سیف اللہ قانون پر عمل درآمد کروانے کی کوشش میں جان کی بازی ہار گیا،جاں بحق انسپکٹر کے خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں،لاہور پولیس ایک خاندان ہے، مقدمہ کی مکمل پیروی، خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں،فرض کی راہ میں پولیس ہر وقت جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کرتی ہے،شہیدوں کی امین لاہور پولیس فرض کی راہ جان کا نذرانہ پیش کرتی رہے گی

  • امریکہ اور طالبان کے مابین قیدیوں کا تبادلہ،ایک افغان،دوامریکی شہری رہا

    امریکہ اور طالبان کے مابین قیدیوں کا تبادلہ،ایک افغان،دوامریکی شہری رہا

    امریکہ اور طالبان کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

    اس معاہدے کے تحت افغانستان کے شہری خان محمد، جو تقریباً 20 سال سے امریکہ میں قید تھے، انہیں امریکی شہریوں کے بدلے رہا کر دیا گیا ہے۔خان محمد نے کیلیفورنیا کی جیل میں عمر بھر کی سزا کاٹنے کے دوران تقریباً دو دہائیاں گزاریں۔ ان کی رہائی کا عمل امریکیوں کے بدلے میں ہوا ہے،

    اس قیدیوں کے تبادلے میں امریکی شہری راین کوربیٹ اور ولیم میک کینٹی کو طالبان کے قید سے آزاد کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت طالبان کے رکن خان محمد کو دوحہ، قطر منتقل کیا گیا۔قطر نے اس معاملے میں ایک اہم کردار ادا کیا، کیونکہ اس نے مذاکرات کی میزبانی کی اور کابل سے امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے لاجسٹک معاونت فراہم کی۔

    اس قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے سے دونوں فریقین کے تعلقات میں ایک نئی نوعیت کی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے،

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی، سابق جج کی بدولت ڈیرہ نواب کالج کیسے تباہ ہوا؟

  • محسن نقوی کی واشنگٹن میں خصوصی عشائیہ میں شرکت

    محسن نقوی کی واشنگٹن میں خصوصی عشائیہ میں شرکت

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے واشنگٹن میں منعقد ہونے والے لنکن لبرٹی بال میں ایک خصوصی عشائیہ کی تقریب میں شرکت کی، جہاں انہوں نے امریکہ اور پاکستان کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی کا واشنگٹن میں لنکن لبرٹی بال میں منعقدہ عشائیہ میں پرتپاک خیرمقدم کیا گیا،وزیر داخلہ محسن نقوی نے عشائیہ میں امریکی سینیٹرز، ممبرز کانگریس اور اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں،محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ "آج امریکی عوام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کو زبردست طریقے سے منایا ہے اور یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔”امریکی عوام ٹرمپ سے محبت کرتے ہیں، میں شاہد ہوں امریکی عوام نے ٹرمپ کی صدارت کو زبردست طریقے سے منایا، محسن نقوی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے دور میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کا نیا باب شروع ہوگا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری اور مضبوطی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ تعاون کو مزید مستحکم کرنے کے لیے مختلف اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس موقع پر محسن نقوی نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون عالمی سطح پر اہم کردار ادا کرے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان عالمی امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور امریکہ کے ساتھ مل کر خطے میں استحکام کی کوششیں تیز کرے گا۔

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

  • پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں،اکبر ایس بابر کی الیکشن کمیشن سے استدعا

    پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ سب لوگ بانی پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں، عمران خان ہی ہماری پارٹی کا نشان ہیں۔

    الیکشن کمیشن آفس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آئین وقانون کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن کرائے، ابھی تک الیکشن کمیشن کی طرف سے ہمیں سرٹیفکیٹ نہیں ملا، ہم نے الیکشن کمیشن کے آئینی وقانونی سوالات کا جواب دے دیا تھا، پارٹی سرٹیفکیٹ ہمارا آئینی وقانونی حق ہے، پارٹی دفتر پر چھاپے کے دوران ایف آئی اے دستاویزات لے گئی تھی، ہمیں امید ہے اگلی سماعت پر پی ٹی آئی کو سرٹیفکیٹ مل جائے گا، پی ٹی آئی دنیا کی بڑی سیاسی پارٹیوں میں سے ہے، پاکستان میں سب سے بڑی سیاسی جماعت پی ٹی آئی ہے، ممبران صاحبان اور چیف الیکشن کمشنر کیلئے وہی طریقہ کار ہے جو آئین میں درج ہے، پارلیمنٹری کمیٹی بننے پر ہی یہ پراسیس جلد مکمل ہوگا۔

    بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سے ایک ہی مُلاقات ہوئی، وہ بھی خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال سے متعلق تھی، اِس کے علاوہ کچھ نہیں، میں نے اڈیالہ جیل کے نہ اندر، نہ باہر کسی سے صحافی سے بات نہیں کی، ہماری ایک ہی میٹنگ ہوئی، لوگ اس کو بیک ڈور کہتے، ہماری ایک ہی ملاقات ہوئی یہ بارہا کہہ چکا ہوں،26 ویں آئینی ترمیم چیلنج ہو چکی ہے سپریم کورٹ میں پٹیشن ہے پینڈنگ ہے اس میں جب جوڈیشل کمیشن کی سماعت تھی تو جج صاحبان نے بھی پوائنٹ آؤٹ اٹھا لیا تھا کہ ہم ججز کو پوائنٹ کریں گے۔

    پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کس طرح غیرقانونی قیادت چلا رہی؟ اکبر ایس بابر
    دوسری جانب اکبر ایس بابر کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی مختلف گزارشات میں کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی اس وقت جوآرگرنازیشن سٹرکچر اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ۔ یعنی پی ٹی آئی کا لکھ کر بھی ان کو دیا ہے کہ موجودہ آرگنائزیشن سٹرکچر جب تک قانونی انٹرا پارٹی الیکشن نہیں ہوجاتے نہیں ہے،یہ پی ٹی آئی میں جو عہدوں کے دعوے کرتے یہ غیر قانونی ہیں، ہم نے آج الیکشن کمیشن کو کہا کہ پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس کس طرح غیرقانونی قیادت چلا رہی ہے، ایک ارب کے لگ بھگ روپیہ بانٹا گیا ہے، جب تک پی ٹی آئی کی قانونی حیثیت بحال نہیں ہوتی پی ٹی آئی کے اکاؤنٹ سیز کئے جائیں،یہ بہروپیے ہیں، ایسے لوگ جن کا پی ٹی آئی سے دور دور تک تعلق نہیں وہ پی ٹی آئی پر قابض ہیں، ابھی جو 190 ملین پاؤنڈ فیصلہ آیا ،میں پی ٹی آئی کا بانی ممبر ہوں، مجھے تشویش ہوئی ،

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس،بیرسٹر گوہر کو مہلت مل گئی
    قبل ازیں پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخاب کیس کی سماعت الیکشن کمیشن میں ہوئی،چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں 3 رکنی کمیشن نے سماعت کی، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، چیف الیکشن کمشنر نے چیئرمین پی ٹی آئی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بیرسٹر صاحب یہ کیس 30 اپریل 2024 سے چل رہا ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے تاحال تحریری جواب جمع نہیں کروایا گیا،چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ نے پانچ درخواستوں اور نوٹس پر جواب جمع کروانا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ نوٹس کا جواب ہم دے چکے ہیں، درخواست گزاروں کی گزارشات کا جواب آئندہ سماعت پر جمع کروا دیں گے،اس موقع پر اکبر ایس بابر نے کہا کہ کیس کا فیصلہ ہونے تک پی ٹی آئی کے اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں، ا لیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو آئندہ سماعت تک جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 11 فروری تک ملتوی کردی۔

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

  • ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    ٹرمپ کے حلف اٹھاتے ہی عالمی ادارہ صحت کو بڑا دھچکا

    امریکا نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں۔

    اس نئے حکم کے مطابق امریکی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت سے اپنے روابط ختم کرے اور اس کی رکنیت سے دستبردار ہو جائے۔ اس اقدام کے بعد عالمی ادارہ صحت کو امریکا کی طرف سے عالمی امداد کی سب سے بڑی فنڈنگ سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا صدر دفتر جنیوا میں واقع ہے اور یہ عالمی سطح پر صحت کے مسائل کو حل کرنے میں ایک اہم ادارہ سمجھا جاتا ہے۔ اس ادارے کا کردار متعدی بیماریوں، انسانی بحرانوں اور دائمی بیماریوں جیسے کینسر اور دل کی بیماریوں کے خلاف جنگ میں انتہائی اہم رہا ہے۔ ڈبلیو ایچ او عالمی سطح پر صحت کے بحرانوں سے نمٹنے اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے متعدد پروگرامز اور اقدامات کرتا رہا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کے 2024-25 کے بجٹ سائیکل میں امریکا کا تعاون 662 ملین ڈالر رہا، جو کہ ایجنسی کی کل آمدنی کا تقریباً 19 فیصد بنتا ہے۔ اس رقم کی کمی سے عالمی ادارہ صحت کو مالی مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب وہ دنیا بھر میں صحت کے بڑے بحرانوں جیسے ہیضہ، ڈینگی، ایم پی اوکس، اور ماربرگ وائرس سے لڑ رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارت کے اختتام پر بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت پر سخت تنقید کی تھی اور چین کو فائدہ پہنچانے کے الزامات لگائے تھے۔ اسی وجہ سے انھوں نے عالمی ادارہ صحت سے دستبردار ہونے کی کوشش کی تھی، مگر اس وقت یہ فیصلہ مکمل طور پر عمل میں نہ آ سکا تھا۔2020 کی کانگریشنل ریسرچ سروس کی رپورٹ کے مطابق، یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کیا امریکی صدر کو کانگریس کی منظوری کے بغیر عالمی ادارہ صحت سے نکلنے کا اختیار حاصل ہے۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ریپبلکن کنٹرول والی کانگریس شاید ٹرمپ کے اس اقدام کو روکنے کی کوشش کرے گی۔

    عالمی ادارہ صحت نے دنیا بھر میں چیچک کے خاتمے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ایچ آئی وی، پولیو، ہیضہ، اور دیگر متعدی بیماریوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ یہ ادارہ آج بھی دنیا بھر میں صحت کے بحرانوں پر قابو پانے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، اور امریکا کے اخراج سے اس کی کارکردگی پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔امریکا کی جانب سے عالمی ادارہ صحت سے دستبرداری کا فیصلہ عالمی سطح پر صحت کے مسائل کو حل کرنے کی کوششوں میں بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ امریکا کی فنڈنگ کا فقدان ڈبلیو ایچ او کی کارکردگی پر منفی اثر ڈالے گا اور عالمی صحت کے بحرانوں پر قابو پانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

  • تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    تقریب حلف برداری،ٹرمپ ہار گئے،میلانیا کوکوشش کے باوجود "بوسہ” نہ دے سکے

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری بار بطور امریکی صدر عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے،

    ٹرمپ کی تقریب حلف برداری میں فوٹوگرافروں کے کیمرے ایک ایک سیکنڈ میں اس تاریخی لمحے کو محفوظ کر رہے تھے، اور اسی دوران ایک دلچسپ اور غیر متوقع منظر نے دنیا بھر کی توجہ حاصل کی ہے،ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا کے درمیان یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔ نو منتخب صدر امریکا، ڈونلڈ ٹرمپ، جب کیپیٹل کی عمارت میں حاضرین کے سامنے اپنی اہلیہ میلانیا کو بوسہ دینے کی کوشش کر رہے تھے، تو ایک ہنسی مذاق کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کے لیے جب ان کی جانب بڑھنے کی کوشش کی، تو میلانیا کے سر پر موجود ہیٹ نے انہیں بوسہ دینے میں رکاوٹ ڈالی۔ اس وقت ان کے ارد گرد ان کے بچے بھی موجود تھے، جنہوں نے کامیابی اور فتح کی خوشی میں ٹرمپ کا ساتھ دیا تھا۔

    لیکن جب ٹرمپ نے اپنی اہلیہ کے گال پر بوسہ دینے کی کوشش کی، تو ہیٹ کی موجودگی کی وجہ سے وہ یہ نہ کر پائے۔ اس پر ٹرمپ نے فوراً صورتحال کو سنبھالا اور خود کو شرمندگی سے بچاتے ہوئے اپنی اہلیہ کو ہوا میں بوسہ (Flying Kiss) دے کر مطمئن ہو گئے۔یہ منظر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور صارفین نے اس "ادھورے بوسے” پر دلچسپ تبصرے کیے۔ سوشل میڈیا پر لوگوں نے اس منظر پر قہقہے لگائے اور اس کو ایک منفرد اور غیر متوقع واقعہ قرار دیا۔

    یہ لمحہ نہ صرف ہال میں موجود افراد کے لیے یادگار بن گیا، بلکہ سوشل میڈیا پر بھی اس نے اپنی جگہ بنا لی، جہاں پر صارفین نے اس کو مختلف انداز میں شیئر کیا۔ ٹرمپ کی شخصیت اور اس منفرد لمحے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر اپنی دھاک بٹھا لی۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • سپیکرپنجاب اسمبلی سے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے وفد کی ملاقات

    سپیکرپنجاب اسمبلی سے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کے وفد کی ملاقات

    لاہور: ایران کی پارلیمنٹ کے رکن محمد میرزائی کی قیادت میں ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد پنجاب اسمبلی کے اسپیکر ملک محمد احمد خان سے ملاقات کے لیے اسمبلی چیمبر پہنچا۔

    ملاقات میں ایران کے پارلیمانی وفد میں علی اکبر علی زادہ بورمی، امیر حسین ثابتی مونفرد، اور علی معروفی شامل تھے۔ اس موقع پر قونصل جنرل ایران لاہور مہران موحدفر، مسٹر حسینی اور علی اصغر مسعودی بھی موجود تھے۔ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان پارلیمانی اور اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے پر تفصیل سے بات چیت کی گئی۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان مذہبی اور ثقافتی تعلقات کی گہرائی دونوں ممالک کے عوام کے درمیان محبت اور احترام کا نشان ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمانی رابطے دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔سپیکر ملک احمد خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان دوستانہ تعلقات نہ صرف دوطرفہ ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ علاقائی امن و استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تاریخی تعلقات کو تجارتی تعلقات میں تبدیل کرنا باہمی ترقی کے لیے ضروری ہے۔

    ایرانی رکن پارلیمنٹ محمد میرزائی نے سپیکر ملک محمد احمد خان کو ایران کے دورے کی دعوت دی، جسے سپیکر نے خوشی سے قبول کیا اور اس دعوت کا خیرمقدم کیا۔

    ملاقات کے دوران سپیکر ملک محمد احمد خان نے ایران کے وفد کو پنجاب اسمبلی کے نئے ایوان کا دورہ بھی کروایا اور اسمبلی کی سرگرمیوں اور اس کے کردار پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ اس دوران سیکرٹری جنرل پنجاب اسمبلی چودھری عامر حبیب، ایڈوائزر اسامہ خاور، ملک تیمور، سٹاف آفیسر عماد حسین بھلی اور ترجمان پنجاب اسمبلی راؤ ماجدعلی بھی ملاقات میں موجود تھے۔یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک اہم کوشش تھی، جس میں دونوں طرف سے مزید تعاون کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔

    غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

  • غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے  وارنٹ گرفتاری برقرار

    غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کیس، علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری برقرار

    اسلام آباد: غیر قانونی اسلحہ و شراب برآمدگی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسلام آباد کے سینئر سول جج مبشر حسن چشتی نے علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کو برقرار رکھتے ہوئے اس کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔

    تھانہ بہارہ کہو میں درج غیر قانونی اسلحہ اور شراب برآمدگی کے مقدمے میں علی امین گنڈاپور کی گرفتاری کے لیے عدالت نے وارنٹ جاری کیے تھے، تاہم ابھی تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔ عدالت نے اس کیس کے حوالے سے پولیس کے عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز سے وضاحت طلب کی ہے کہ وہ عدالت کے احکامات پر عملدرآمد میں کیوں ناکام رہے۔سینئر سول جج اسلام آباد، مبشر حسن چشتی نے دوران سماعت کہا کہ علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری کا معاملہ سنجیدہ ہے اور اس پر فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈی آئی جی آپریشنز سے پوچھا کہ وہ عدالت کے حکم پر عمل کیوں نہیں کر پا رہے اور اس کے حوالے سے اپنی وضاحت پیش کریں۔

    مقدمہ میں غیر قانونی اسلحہ اور شراب کی برآمدگی کے الزامات ہیں، جن پر عدالت نے متعلقہ حکام سے مزید معلومات اور کارروائی کی تفصیل طلب کی۔عدالت کی طرف سے یہ واضح کیا گیا کہ آئندہ سماعت 29 جنوری کو ہوگی، جس میں علی امین گنڈاپور کی گرفتاری اور دیگر قانونی پہلوؤں پر مزید فیصلے کیے جائیں گے۔

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

  • ٹرمپ کی سعودی  اسرائیل  تعلقات میں بہتری  کی امید

    ٹرمپ کی سعودی اسرائیل تعلقات میں بہتری کی امید

    امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ابراہام معاہدے میں شمولیت کے امکان کا اظہار کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدرات سنبھالنے کے بعد وائٹ ہاؤس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ سعودی عرب بالآخر ابراہام معاہدے میں شامل ہو جائے گا۔ اس معاہدے کا مقصد اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مستحکم کرنا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری آنے کی امید ہے، جس سے مشرق وسطی میں امن اور استحکام کی راہیں ہموار ہوں گی۔

    پیر کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا اور اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ اب امریکا ترقی کرے گا اور وہ اپنے دور میں امریکا کو "پہلے رکھوں گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکا بہت جلد ایک مضبوط، عظیم، اور پہلے سے زیادہ کامیاب ملک بنے گا۔اپنے خطاب میں ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ان کی اولین ترجیح ایک ایسا ملک قائم کرنا ہے جو آزاد اور مضبوط ہو۔ انہوں نے اپنی صدارت کے دوران درپیش مشکلات کا ذکر کیا اور کہا کہ انھیں جن مشکلات کا سامنا ہوا وہ امریکی تاریخ میں کسی اور کو نہیں ہوئیں۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ امریکا کو پھر سے عظیم بنانے کے لیے کام کریں گے اور یہ دن امریکی شہریوں کی آزادی کا دن ہے۔ انہوں نے سیاہ فام اور لاطینی امریکی کمیونٹیز کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ ان کے مسائل کو سن کر ان کے لیے کام کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے مارٹن لوتھر کنگ ڈے کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا اور اس دن کے موقع پر سیاہ فام کمیونٹی کے حقوق کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط