Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    نماز کی مبینہ بے حرمتی کا مقدمہ،رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور

    لاہور ہائیکورٹ نے یوٹیوبر رجب علی بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کر لی۔

    یہ فیصلہ کراچی میں درج مقدمے کی وجہ سے کیا گیا،جہاں رجب بٹ پر الزام تھا کہ انہوں نے نماز کی ادائیگی کے دوران میوزک چلایا تھا۔ عدالت نے رجب بٹ کو 28 جنوری تک حفاظتی ضمانت دے دی۔جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے بنچ نے اس مقدمے کی سماعت کی، جس میں رجب بٹ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کے موکل کو حفاظتی ضمانت دی جائے۔ رجب بٹ، جو کہ ایک معروف ٹک ٹاکر اور یوٹیوبر ہیں، عدالت میں پیش ہوئے اور درخواست کی کہ انہیں کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہونے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ کیس کی پیروی کر سکیں۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ رجب بٹ کے خلاف کراچی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انہیں خدشہ ہے کہ وہ کراچی کی عدالت میں پیش ہونے سے قبل پولیس گرفتار کر لے گی۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت منظور کی جائے تاکہ وہ قانونی کارروائی میں حصہ لے سکیں۔

    عدالت نے وکیل کی استدعا کو منظور کرتے ہوئے رجب بٹ کی حفاظتی ضمانت 28 جنوری تک کے لیے منظور کر لی۔ عدالت نے حکم دیا کہ رجب بٹ اس مدت کے دوران گرفتار نہیں کیے جائیں گے اور وہ اپنے مقدمے کی پیروی کے لیے کراچی کی متعلقہ عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ کراچی کی مقامی عدالت کے حکم پر یوٹیوبر رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا،یہ مقدمہ نماز کی مبینہ بے حرمتی کے معاملے پر درج کیا گیا ہے، مقدمہ تھانہ حیدری میں پاکستان کے تعزیرات کے سیکشن 295-A کے تحت درج کیا گیا ہے۔عدالت میں مدعی کا بیان پولیس نے قلمبند کر لیا، جس کے بعد رجب بٹ کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا۔ عدالت کی جانب سے دلائل سننے کے بعد پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

    ایڈوکیٹ ریاض علی سولنگی نے اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا اگلا مقصد رجب بٹ کو گرفتار کروانا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اس دفعہ کے تحت رجب بٹ کو دس سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس مقدمے کے ذریعے یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ آئندہ کوئی بھی شخص شعائر اسلام کی توہین کرنے سے پہلے سوچے گا۔

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

  • متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    متحدہ عرب امارات پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک

    پاکستان کی وزارت تجارت نے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران آم کی برآمدات کے اعداد و شمار قومی اسمبلی میں پیش کر دیے ہیں، جس کے مطابق متحدہ عرب امارات (یو اے ای) پاکستانی آم خریدنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔

    وزارت تجارت کے مطابق، گزشتہ پانچ برسوں میں پاکستان نے یو اے ای کو 159.74 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے ہیں۔ اس دوران، پاکستان نے برطانیہ کو 131.96 ملین ڈالرز، سعودی عرب کو 29.61 ملین ڈالرز، اور قازقستان کو 93.86 ملین ڈالرز مالیت کے آم بھیجے ہیں۔اسی طرح، افغانستان کو 35.98 ملین ڈالرز، عمان کو 39.88 ملین ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے گئے۔ وزارت تجارت کے مطابق، اس عرصے کے دوران پاکستان نے مجموعی طور پر 63 کروڑ 20 لاکھ 3 ہزار ڈالرز مالیت کے آم برآمد کیے۔رواں مالی سال کے دوران پاکستان نے 30.9 ملین ڈالرز مالیت کے ترشاوہ پھل بھی برآمد کیے ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستانی آم عالمی منڈیوں میں اپنی مقبولیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط برآمدی سامان کے طور پر اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

    یہ اعدادوشمار پاکستان کی زرعی برآمدات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستانی آم دنیا بھر میں اپنی منفرد ذائقہ اور معیار کے باعث پسند کیے جا رہے ہیں۔

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

  • سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

    سیف علی خان پر حملے کا ملزم قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن نکلا

    ممبئی: بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان پر حملے کے الزام میں گرفتار بنگلادیشی ملزم محمد شہزاد کے بارے میں نیا انکشاف سامنے آیا ہے۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، ملزم محمد شہزاد جب بنگلادیش میں مقیم تھا تو وہ قومی سطح پر ریسلنگ کا چیمپئن تھا اور اسی مہارت کی بدولت اس نے سیف علی خان اور ان کے گھر کے دیگر افراد کو قابو کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ممبئی پولیس کا خیال ہے کہ ملزم کا ریسلنگ کا تجربہ ہی اس کی جسمانی طاقت کی وجہ تھی، جس کی بدولت وہ سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کے دوران ان پر حملہ کرنے میں کامیاب رہا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شہزاد نے سیف علی خان اور ان کے ملازمین کو چاقو کے ذریعے دھمکایا اور انہیں قابو کرنے کی کوشش کی۔

    رپورٹس کے مطابق، محمد شہزاد بنگلادیش سے غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوا تھا اور گزشتہ چند ماہ سے ممبئی میں مقیم تھا۔ 16 جنوری کو ممبئی کے علاقے باندرہ میں سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش کے دوران حملہ آور نے انہیں چاقو سے چھ بار وار کیا تھا، جس کے نتیجے میں سیف علی خان زخمی ہو گئے تھے۔ حملہ آور زخمی کرنے کے بعد موقع سے فرار ہو گیا تھا۔اس واقعے کے بعد ممبئی پولیس نے تحقیقات شروع کیں اور 19 جنوری کو پولیس نے چھتیس گڑھ میں ایک چلتی ٹرین سے ملزم کو گرفتار کیا۔ پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے اس سے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے، اور اس کے بارے میں مزید تفصیلات جمع کی جا رہی ہیں۔

    بھارتی پولیس کے مطابق، ملزم کا مزید ریکارڈ بھی سامنے آنے والا ہے، جس سے اس کے ماضی اور اس کے بھارت میں داخل ہونے کے طریقہ کار کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوں گی۔اس واقعے نے نہ صرف بھارتی عوام کو حیرت میں ڈال دیا بلکہ بالی ووڈ کے حلقوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے،

    سیف علی خان کیس میں نیا موڑ،کرینہ کپور ملوث؟ بیٹے نے کیسے جان بچائی

    ملزم نے قیمتی سامان کو ہاتھ تک نہ لگایا،سیف پر حملہ،کرینہ کا بیان ریکارڈ

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    سیف علی خان حملہ،20 تحقیقاتی ٹیمیں،50 گھنٹے گزر گئے،ملزم گرفتار نہ ہو سکا

    سیف علی خان پر حملے کے بعد شاہد کپور کا ردعمل

    سیف علی خان کو سابقہ اہلیہ نے دی تھیں نیند کی گولیاں

    خاموش رہو، حملہ آور نے سیف علی خان کے ملازمین کو دھمکی دی

    سیف علی خان پر حملہ،مشتبہ شخص گرفتار

    سیف علی خان برطانیہ جانے کے خواہشمند،انڈرورلڈ سے تعلق

    سیف علی خان پر حملہ،مودی کے حامی شاعر کی”تیمور”پر تنقید ،مذہبی انتہاپسندی کا عنصر

    سیف علی خان کے گھر میں گھسنے والے نے ایک کروڑ مانگا،نرس کا انکشاف

    سیف علی خان زخمی،سارہ،ابراہیم پہنچے ہسپتال ،حملہ بالی وڈ کے لیے ایک سنگین انتباہ قرار

    کئی سالوں سے سیکورٹی بڑھانے کی درخواست کر رہی تھی،سیف کی پڑوسی اداکارہ

    زخمی سیف علی خان کو بیٹے نے رکشے میں ہسپتال منتقل کیا

    بالی وڈ اداکار سیف علی خان کے گھر میں ڈکیتی کی کوشش، سیف علی خان زخمی

  • چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    چھوٹی آستینوں، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں،طلبا کیلیے ہدایات

    جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے یونیورسٹی کے طلبا کے لیے لباس سے متعلق نئی گائیڈلائنز جاری کر دی ہیں۔

    اس ضمن میں ایک نوٹفکیشن جاری کیا گیا ہے، نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی کیمپس میں طلبا کو جسم کو ظاہر کرنے والے، اشتعال انگیز یا نفرت پھیلانے والے کپڑے پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ طلبا کو صاف ستھرے اور مہذب لباس پہننا ضروری ہے، جو یونیورسٹی کے ماحول کے مطابق ہو۔ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے یہ بھی ہدایت دی ہے کہ طلبا چھوٹی آستینوں والے، ٹائٹ یا دھیان بھٹکانے والے کپڑے نہ پہنیں۔ اس کے علاوہ، قابل اعتراض پرنٹ یا گرافکس والے کپڑوں کو بھی یونیورسٹی میں پہننے کی اجازت نہیں ہوگی۔یونیورسٹی کے اس نئے ضابطہ اخلاق میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ طلبا کو عام چپلیں پہننے سے بھی منع کیا گیا ہے، تاکہ کیمپس میں ایک باوقار اور مناسب ماحول قائم رکھا جا سکے۔

    یہ اقدام جامعہ کراچی کی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کی ثقافتی اور تعلیمی اقدار کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے، تاکہ طلبا اپنے تعلیمی ماحول میں بہتر طور پر توجہ مرکوز کر سکیں اور ان کی ظاہری حالت سے کسی بھی قسم کی منفی تاثرات نہ پیدا ہوں۔یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طلبا سے اس گائیڈلائنز کی پیروی کرنے کی درخواست کی ہے تاکہ کیمپس میں ایک مثبت اور پروفیشنل ماحول قائم رکھا جا سکے۔

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کشتی حادثہ،جانوروں کی طرح برتاؤ،تاوان دینے والے رہاہوئے،بچ جانیوالوں کا انکشاف

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں نیا موڑ سامنے آیا ہے،

    مراکش کے ساحل پر تارکین وطن کی کشتی کے سانحے میں ایک نیا اور خوفناک پہلو سامنے آیا ہے، جس میں زندہ بچ جانے والوں نے انسانی اسمگلروں کے ذریعے تاوان لینے کا الزام عائد کیا ہے۔ اس سانحے میں کم از کم 44 پاکستانیوں کی جانیں گئیں، اور اب یہ سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں کہ پاکستانی حکام نے ایسے مجرمانہ آپریشنز کی حمایت کی یا ان میں ملوث رہنے کے لیے آنکھیں بند کیں۔وہ زندہ بچ جانے والے افراد جو اس خوفناک تجربے سے بچ کر مراکش میں پاکستانی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے آئے، انہوں نے اس سانحے کے حوالے سے ہولناک تفصیلات شیئر کیں۔ ان کے مطابق، 66 پاکستانیوں کو لے کر جانے والی کشتی کو اسمگلروں نے کھلے سمندر میں جان بوجھ کر روک دیا۔ اسمگلر پھر تاوان کا مطالبہ کرتے ہوئے صرف ان افراد کو رہا کرتے گئے جو ادائیگی کر سکے – جو کہ 21 افراد تھے۔ باقی تارکین وطن کو چھوڑ دیا گیا، جنہیں قدرتی آفات، بھوک اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔

    ایک زندہ بچ جانے والے نے بتایا، "انہوں نے ہمارے ساتھ جانوروں کی طرح برتاؤ کیا۔ جو لوگ پیسے نہ دے سکے، انہیں مارا پیٹا اور مرنے کے لیے چھوڑ دیا۔”

    اس انکشاف نے پاکستان میں غصہ اور غم کی لہر دوڑادی ہے، جہاں خاندان اپنے پیاروں کی موت پر سوگوار ہیں، جن میں سے بیشتر گجرات کے ضلع کے نوجوان تھے۔ عوامی غصے میں اضافے کی وجہ پاکستانی وزارتِ داخلہ کے افسران پر غفلت اور ممکنہ طور پر اسمگلروں کی حمایت کرنے کے الزامات ہیں۔ذرائع کے مطابق وزارتِ داخلہ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے افسران انسانی اسمگلنگ کے آپریشنز پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں، رشوتیں لے کر تحقیقات میں رکاوٹ ڈالتے ہیں اور مجرمانہ عناصر کی سرپرستی کرتے ہیں۔ایک وزارت کے ذرائع نے الزام لگایا، "یہ افسران اسمگلروں کا تحفظ کر رہے ہیں۔ وہ اہم شواہد دفن کرنے اور ان مجرموں کو بچانے کے لیے ماہانہ پیسے وصول کرتے ہیں۔”

    اس ممکنہ غفلت نے اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو پھلنے پھولنے کا موقع دیا ہے، جس سے سینکڑوں جانیں داؤ پر لگی ہیں۔جیسے ہی قوم اس سانحے پر غم و غصے میں ڈوبی ہوئی ہے، انصاف اور احتساب کے مطالبات بڑھتے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت پر شدید دباؤ ہے کہ وہ اس جرم میں ملوث اسمگلروں کے خلاف شفاف اور جامع تحقیقات کرے، ساتھ ہی وزارتِ داخلہ اور دیگر متعلقہ اداروں میں موجود غفلت اور کرپشن کی تحقیقات بھی کرے۔

    واضح رہے کہ 16 دسمبر کو افریقی ملک موریطانیہ سے غیرقانونی طور پر اسپین جانے والوں کی کشتی کو حادثہ پیش آیا تھا جس کے نتیجے میں 44 پاکستانیوں سمیت 50 تارکین وطن ہلاک ہوگئے،وزیراعظم شہباز شریف نے مراکش کے لیے ایک حکومتی ٹیم بھیجنے کا حکم دیا تھا جس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل نارتھ منیر مارتھ، ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سلمان چوہدری اور وزارت خارجہ اور انٹیلی جنس بیورو کے نمائندے شامل ہیں۔

    دوسری جانب موریطانیہ میں حالیہ کشتی حادثے کے متاثرہ خاندانوں کا غم بڑھتا جا رہا ہے کیونکہ وہ اب بھی اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں۔ اس حادثے میں کئی پاکستانی شہریوں کی جانیں گئی ہیں، اور ان کے اہلِ خانہ شدید پریشانی اور بے چینی کا شکار ہیں۔گوجرانوالہ کے دو سگے بھائی ہارون اور عزیر بھی اس حادثے کا شکار ہوئے ہیں۔ عزیر تو کسی طرح بچ گیا لیکن اس کے بھائی ہارون اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں۔ عزیر کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے بھائی کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن حالات اتنے زیادہ سنگین تھے کہ وہ اسے بچانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

    دوسری جانب، خیبرپختونخوا کے ایک نوجوان اجمل کا بھی موریطانیہ میں کچھ عرصہ سے کوئی پتا نہیں چل سکا۔ اس کے والدین ابھی تک نہیں جان پائے کہ ان کا بیٹا کشتی حادثے کا شکار ہوا ہے یا وہ زندہ ہے۔ اجمل کے اہلِ خانہ نے حکومتی اداروں سے درخواست کی ہے کہ ان کے بیٹے کی بازیابی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔اس کشتی حادثے میں زندہ بچ جانے والے افراد کی جانب سے حکومت سے مدد کی درخواستیں بھی سامنے آئی ہیں۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر بچ جانے والوں کی تلاش میں مدد کرے اور دیگر تمام ضروری اقدامات کرے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے۔

    انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا ایک اور ملزم گرفتار
    موریطانیہ کے کشتی حادثے کی تحقیقات میں ایک اور اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں گوجرانوالہ سے ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے جو انسانی اسمگلنگ کے عالمی گروہ کا رکن تھا۔ اس ملزم کی گرفتاری سے مزید اہم معلومات حاصل ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جو اس پورے نیٹ ورک کی شناخت میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ان تمام مسائل کے درمیان متاثرین کے خاندانوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے، اور ان کی جانب سے حکومت سے فوری اور موثر اقدامات کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ ان کے پیاروں کو بازیاب کیا جا سکے اور اس حادثے میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔

    رپورٹ. زبیر قصوری، اسلام آباد

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

  • ٹرمپ نے  حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    ٹرمپ نے حلف اٹھاتے وقت بائبل پر ہاتھ نہ رکھا

    امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کے روز اپنی صدارت کا حلف اٹھایا، جس کے ساتھ ہی وہ امریکا کے 47 ویں صدر بن گئے۔ اس موقع پر امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے صدر ٹرمپ سے عہدہ صدارت کا حلف لیا۔

    حلف برداری کی تقریب میں ایک حیران کن بات یہ تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔ جہاں ایک طرف ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ دو بائبلز تھامے کھڑی تھیں، وہیں صدر ٹرمپ نے اپنا سیدھا ہاتھ بلند کیا لیکن کسی بھی بائبل پر ہاتھ نہیں رکھا۔اگرچہ امریکی دستور کے تحت صدر کے لیے بائبل پر ہاتھ رکھنا قانونی طور پر ضروری نہیں ہے، مگر یہ ایک قدیم روایت ہے کہ امریکی صدر اپنے عہدے کا حلف ایک ہاتھ بائبل پر رکھ کر لیتا ہے۔ یہ روایت امریکا کی صدارت کی تاریخ میں صدیوں سے جاری ہے، تاہم ٹرمپ کا یہ غیر متوقع اقدام لوگوں کے لیے حیرانی کا باعث بن گیا۔

    یاد رہے کہ 20 جنوری 2017 کو اپنے پہلے دور صدارت کی حلف برداری کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دائیں ہاتھ کو دو بائبلز پر رکھا تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں کیا۔ اس عجیب و غریب صورتحال نے ملکی اور عالمی سطح پر بحث و مباحثہ کو جنم دیا ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

  • جوڈیشل آرڈر نہ مان کر    قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،تین ججز کا خط

    بینچز اختیارات کیس سے متعلق سپریم کورٹ کے تین ججز نےچیف جسٹس کو خط لکھا ہے

    آئینی بینچ کے سربرا ہ جسٹس امین الدین خان کو بھی تینوں ججزنے خط لکھا ہے، خط جسٹس منصور علی شاہ ، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی نےلکھا،تینوں ججز کی جانب سے خط میں بینچ اختیارات سے متعلق کیس کا ذکر کیا گیا،خط میں کہا گیا کہ جسٹس عقیل عباسی کو 16 جنوری کو بینچ میں شامل کیا گیا،جسٹس عقیل عباسی سندھ ہائی کورٹ میں کیس سن چکے ہیں،خط میں 20جنوری کو کیس سماعت کیلئے مقرر نہ ہونے کی شکایت کی گئی،خط میں پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی 17 جنوری اجلاس کا ذکر کیا گیا،جسٹس منصورعلی شاہ نےکمیٹی کو آگاہ کیاا ان کا نقطہ نظر ریکارڈ پر ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے کمیٹی اجلاس میں شرکت سے انکار کیاجسٹس منصورعلی شاہ نے کہا انہیں کمیٹی میں پیش ہونے کی ضرورت نہیں کمیٹی کو پہلے والا بینچ تشکیل دیکر 20 جنوری کو سماعت فکس کر سکتی تھی،جوڈیشل آرڈر نہ مان کر قانون سے انحراف کیا گیا،جسٹس منصور علی شاہ نے معاملے کو توہین عدالت قرار دیا،

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

  • کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ،جسٹس منصور علی شاہ

    سپریم کورٹ،بینچزکے اختیارات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

    طلبی پررجسٹرار سپریم کورٹ پیش ہوئے، سپریم کورٹ نے رجسٹرار سے سوال کیا کہ عدالتی حکم کے باوجود کیس مقرر کیوں نہ ہوا؟ رجسٹرار نے جواب دیا کہ کیس آئینی بینچ کا تھا، غلطی سے ریگولر میں لگ گیا تھا، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ اگر یہ غلطی تھی تو عرصے سے جاری تھی اب ادراک کیسے ہوا؟معذرت کیساتھ غلطی صرف اس بینچ میں مجھے شامل کرنا تھی، جسٹس عقیل عباسی نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ میں کیس کو ہائی کورٹ میں سن چکا تھا، پتہ نہیں مجھے بینچ میں شامل کرنا غلطی تھی کیا تھا؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اس معاملے پر اجلاس کیسے ہوا؟ کیا کمیٹی نے خود اجلاس بلایا یا آپ نے درخواست کی؟ رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم نے کمیٹی کو نوٹ لکھا تھا،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جب جوڈیشل آرڈر موجود تھا تو نوٹ کیوں لکھاگیا؟ہمارا آرڈر بہت واضح تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے، عدالت نے رجسٹرار کو ہدایت کی کہ وہ نوٹ دکھائیں جو آپ نے کمیٹی کو بھیجا،رجسٹرار سپریم کور ٹ نے کمیٹی کو بھیجا گیا نوٹ عدالت میں پیش کردیا

    جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ نوٹ میں غلطی کا ادراک تو نہیں کیا گیا، نوٹ میں آپ لکھ رہے ہیں کہ 16 جنوری کو آرڈر جاری ہوا ،نوٹ میں آپ آرڈر کی بنیاد پر نیا بینچ بنانے کا کہہ رہے ہیں، آرڈر میں تو ہم نے بتایا تھا کہ کیس کس بینچ میں لگنا ہے؟ رجسٹرار نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی نے کیس آئینی بنچ کی کمیٹی کو بھجوایا،آئینی بینچز کی کمیٹی نےترمیم سے متعلقہ مقدمات 27 جنوری کو مقرر کیے،ترمیم کے بعد جائزہ لیا تھا کہ کونسے مقدمات بینچ میں مقرر ہو سکتے ہیں کونسے نہیں،جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ کیس شاید آپ سے غلطی سے رہ گیا لیکن بینچ میں آ گیا تو کمیٹی کا کام ختم، کمیٹی چلتے ہوئے کیسز واپس لے تو عدلیہ کی آزادی تو ختم ہو گئی،جہاں محسوس ہو فیصلہ حکومت کیخلاف ہو سکتا ہےتو کیس ہی بینچ سے واپس لے لیا جائے؟جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیس آپ سے رہ گیا اور ہمارے سامنے آ گیا، آخر اللہ تعالیٰ نے بھی کوئی منصوبہ ڈیزائن کیا ہی ہوتا ہے، جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ہمارے کیس سننے سے کم از کم آئینی ترمیم کا مقدمہ تو مقرر ہوا،پہلے تو شور ڈلا ہوا تھا لیکن ترمیم کا مقدمہ مقرر نہیں ہو رہا تھا، ٹیکس کیس میں کونسا آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جانا تھا جو یہ مقدمہ واپس لے لیا گیا، عدالت نے معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو فوری طور پر طلب کر لیا ،عدالت نے کہا کہ جو دستاویزات آپ پیش کر رہے ہیں یہ ایڈیشنل رجسٹرار جوڈیشل کا دفاع ہے، دفاع میں پیش کیے جانے والے موقف پر عدالت فیصلہ کرے گی کہ درست ہے یا نہیں،

    یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ،جسٹس منصور علی شاہ
    جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کو مقدمہ واپس لینے کا اختیار کہاں سے آیا؟رجسٹرار نے کہا کہ کمیٹی کیسز مقرر کر سکتی ہے تو واپس بھی لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ یہ تو ہم اس کیس میں بتا ئیں گے کہ کمیٹی کیسز واپس لے سکتی ہے یانہیں ، جسٹس منصور علی شاہ نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ میں بھی رہے، آپکو چیزوں کا علم تو ہوگا،ججز کمیٹی کا عدالتی بنچ سے کیس واپس لینے سے تو عدلیہ کی آزادی کا خاتمہ ہو جائے گا،رجسٹرار سپریم کورٹ نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون ایکٹ آف پارلیمنٹ ہے،پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کے تحت ججز کمیٹی عدالتی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر ایسا ہوتا رہا تو کل کوئی کیس اس وجہ سے واپس لے لیا جائے گا کہ حکومت کیخلاف فیصلہ ہونے لگا ہے، میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں، 17 جنوری کو ججز کمیٹی کے دو اجلاس ہوئے، مجھے ریگولر ججز کمیٹی اجلاس میں مدعو کیا گیا،میں نے جواب دیا جوڈیشل آرڈر دے چکا ہوں، کمیٹی میں بیٹھنا مناسب نہیں،پھر 17 جنوری کو ہی آرٹیکل 191 اے فور کے تحت آئینی بنچز ججز کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس وقت عدالتی بنچ میں کیس تھا اس وقت دو اجلاس ایک ہی دن ہوئے،جسٹس عقیل عباسی نے کہا کہ ججزآئینی کمیٹی نے منٹس میں کہا 26ویں آئینی ترمیم کیس آٹھ ججز کے سامنے سماعت کیلئے مقرر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ کیس آئینی بنچ میں بھیجا جاتا ہے، 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف تو ہم کیس سن ہی نہیں رہے تھے، چلیں اچھا ہے، اس کیس کے بہانے کیسز تو لگنا شروع ہو گئے،

    ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،اٹارنی جنرل طلب،منیر اے ملک اور حامد خان عدالتی معاون مقرر
    جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس عقیل عباسی کے بنچ نے اٹارنی جنرل کو عدالت میں طلب کر لیا،سینئر وکیل منیر اے ملک اور حامد خان کو عدالتی معاون مقرر کر دیا گیا ،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل سمیت دیگر وکلا کو کل سنیں گے،یہ اہم معاملہ ہے کہ ججز کمیٹی بنچ سے کیس واپس لے سکتی ہے یا نہیں،

    ایڈووکیٹ صلاح الدین نے بینچ کے سامنے استدعا کی کہ کچھ ججز کے اختیارات باقی ججز سے کیوں زیادہ ہیں اس معاملے پر فل کورٹ بنایا جائے۔ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہم نے تو کمیٹی میں پہلے اس بات کی ریکوئسٹ کردی تھی۔ جسٹس عقیل عباسی نے سوال اٹھایاکہ کیا ہم توہین عدالت کی سماعت میں ایسا حکم جاری کر سکتے ہیں؟ جسٹس منصور علی شاہ نے کہا اس سے متعلق وکلاء ہمیں آگاہ کریں۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شاہد جمیل کھڑے ہوئے اور کہا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ مکمل انصاف کی فراہمی کے لئے فل کورٹ بنا سکتی ہے۔

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    پاکستان ،بھارت اور دنیا کےرہنماؤں کی ٹرمپ کو مبارکباد

  • جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    جوبائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات منسوخ،ٹرمپ نے اہم ایگریکٹو آرڈر پر کئے دستخط

    امریکا کے نئے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی سابق صدر جو بائیڈن کے 78 صدارتی اقدامات کو منسوخ کر دیا اور کئی اہم ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کیے۔

    ٹرمپ کی حلف برداری کے بعد کیپٹل ون ارینا میں ایک عظیم الشان تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں ٹرمپ کے حامیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر پولیس اور مختلف سرکاری اداروں کے اہلکاروں کی جانب سے نو منتخب صدر کو اعزازی سلامی بھی دی گئی۔ صدر ٹرمپ نے اپنے پہلے روز میں وفاقی حکومت میں نئی بھرتیوں پر پابندی لگانے کے حکم نامے پر دستخط کیے اور سابق صدر جو بائیڈن کے متعدد ایگزیکٹو آرڈرز کو منسوخ کر دیا۔ ان آرڈرز میں امریکی وفاقی سطح پر کام کرنے والے افراد کے لیے گھر سے کام کرنے کے انتظامات کو ختم کرنے اور کام پر حاضری کے آرڈرز پر دستخط شامل تھے۔

    ٹرمپ نے پیرس ماحولیاتی معاہدے سے امریکا کی علیحدگی کے آرڈر پر بھی دستخط کیے اور بائیڈن کے مصنوعی ذہانت سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد کو ختم کر دیا۔ اس کے علاوہ، بائیڈن کے 2030 تک الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت کے 50 فیصد ہدف کو بھی منسوخ کر دیا۔ٹرمپ نے اظہار رائے کی آزادی کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو سیاسی مخالفین کے خلاف مسلح کرنے کی پالیسی کو بھی ختم کیا۔وائٹ ہاؤس پہنچ کر صدر ٹرمپ نے کیپٹل حملے میں ملوث 1500 افراد کو معافی دینے کے لیے ایک حکم نامے پر دستخط کیے۔ٹرمپ نے میکسیکو کی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے اور تارکین وطن کے داخلے سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔کارٹلز کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا ۔جنوبی سرحد پر نیشنل ایمرجنسی نافذ کرنے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے،صدر ٹرمپ نے بین الاقوامی ماحولیاتی معاہدوں میں امریکا کو اولین ترجیح دینے کے آرڈر پر دستخط کیے،ٹرمپ نے امریکی خاندانوں کو قیمتوں میں ایمرجنسی ریلیف دینے کے آرڈر پر بھی دستخط کیے

    صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ مہنگائی کو شکست دینے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے کیونکہ پچھلے چار سالوں میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے میکسیکو اور کینیڈا پر 25 فیصد ٹیرف لگانے پر غور کرنے کی بات کی اور میکسیکو بارڈر پر اسپیشل فورسز کی تعیناتی کی تجاویز دیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کریں گے، مگر اس ملاقات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔

    صدرڈونلڈ ٹرمپ نے نگران کابینہ اور کابینہ سطح کے عہدوں کا بھی اعلان کیا، نگران کابینہ کے اراکین عہدوں پر باضابطہ تقرری تک خدمات انجام دیں گے۔ٹرمپ نے اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر بھی دستخط کیے۔

    صدر ٹرمپ نے ٹک ٹاک سے متعلق ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں کہا گیا ہے کہ چین کو اس کی ملکیت یا معاہدے کی توثیق کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر چین نے معاہدے کی توثیق نہیں کی تو اس پر ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ٹرمپ نے اٹارنی جنرل کو اگلے 75 دن تک ٹک ٹاک پرکوئی کارروائی نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک سے متعلق ڈیل کر بھی سکتا ہوں ، ٹاک ٹاک ڈیل کی تو اس کی 50 فیصد ملکیت حاصل کرنا ہوگی، ڈیل نہیں کی تو ٹک ٹاک کسی کام کا نہیں رہےگا۔

    صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنوری کے یرغمالیوں سمیت متعدد افراد کو عام معافی دینے کے لیے دستاویزات پر دستخط کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے آف شور ڈرلنگ پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ٹرمپ نے جسٹس ڈپارٹمنٹ کو 6 جنوری حملے سے متعلق تمام مؤخر کیسز ختم کرنے کا بھی حکم دیا اور امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت سےعلیحدہ ہونےکے آرڈر پر بھی دستخط کر دیے۔

    صدرٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم یقیناً وینزویلا سے تیل خریدنا چھوڑ رہے ہیں، میں حیران ہوں کہ بائیڈن نے اپنی پوری فیملی کو معافی دے دی، پہلےدن بہت سے ایگزیکٹو آرڈرز پر دستخط کرنا آمریت نہیں۔خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی سینیٹ نے مارکو روبیو کی بطو روزیرخارجہ تقرری کی توثیق کر دی،وائٹ ہاؤس کے مطابق لیزا کینا سیکرٹری آف اسٹیٹ، رابرٹ سیلسیس سیکرٹری ڈیفنس کے فرائض انجام دیں گے۔

    ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ بائیڈن نے اپنی فیملی کے تمام افراد کو معاف کیا، لیکن ان کے نزدیک یہ "آمریت” نہیں ہے بلکہ حکومتی معاملات میں ان کے فیصلے ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دن کے فیصلوں نے امریکی سیاست میں ایک نیا موڑ لے لیا ہے اور ان کے اقدامات کی امریکا میں مختلف حلقوں کی جانب سے گہری نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان کے اس اقدام سے یہ واضح ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں کسی بھی قسم کی نرمی اختیار کرنے کے بجائے فوری طور پر اپنی ایجنڈا کی تکمیل کے لیے اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

    سی این جی بندش کا فیصلہ واپس، اسٹیشنز دوبارہ کھل گئے

    صدر ٹرمپ کا جنوبی سرحدوں پر نیشنل ایمرجنسی لگانےکا اعلان

  • مردہ خانے کے ملازم کو  انسانی اعضاء آن لائن بیچنے پر 15 سال سزا

    مردہ خانے کے ملازم کو انسانی اعضاء آن لائن بیچنے پر 15 سال سزا

    الاباما کے مردہ خانے کے ملازم کو 15 سال کی قید کی سزا سنائی گئی ہے کیونکہ اُس نے غیر قانونی طور پر انسانی اعضاء بشمول جنینی ٹشوز، ایک ایسے شخص کو بیچے جو چہرے کی سنگین تبدیلیوں سے گزرا تھا،

    کینڈس چیپ مین اسکاٹ، 37 سالہ، نے یونیورسٹی آف آرکنساس کے میڈیکل سائنسز پروگرام سے انسانی اعضاء جیریمی لی پاؤلی کو بیچے، جو پنسلوانیا کا رہائشی ہے اوردونوں کا فیس بک گروپ کے ذریعے رابطہ ہوا تھا جس میں "انسانی اعضاء کی خرید و فروخت” پر کھل کر بات کی جاتی تھی،جمعرات کو اپنے فیصلے کے دوران، جج براین ایس ملر نے اس کے جرائم کو "جو میں نے کبھی دیکھے ہیں ان میں سے بدترین” قرار دیا اور اسکاٹ کو انسانوں کے اعضاء کو ریاستی سرحدوں کے پار منتقل کرنے اور ڈاک دھوکہ دہی میں ملوث ہونے کی سازش کرنے پر سزا سنائی، اسکاٹ نے اپریل میں ان الزامات کے تحت قصور وار ہونے کا اعتراف کیا تھا۔

    اسکاٹ کے خوفناک اقدامات، جن میں کھوپڑی، دماغ، بازو، کان، پھیپھڑے، دل، سینے، ناف، خصیے اور دیگر اعضاء کی فروخت شامل تھی، اکتوبر 2021 سے 15 جولائی 2022 کے درمیان ہوئے، پاؤلی، 42 سالہ، جو خود کو "عجیب و غریب اشیاء کا جمع کرنے والا” کہتا ہے، نے اسکاٹ کو 24 باکس انسانی اعضاء کے بدلے میں 10,625 ڈالر ادا کیے، جو ہارورڈ میڈیکل اسکول اور آرکنساس کے مردہ خانے کے ساتھ جڑے ہوئے ایک گہرے زیرِ زمین انسانی اعضاء کی اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ تھے۔

    جب تفتیش کاروں نے اسکاٹ کے گھر کی تلاشی لی، تو کئی انسانی اعضاء برآمد ہوئے، اور اس نے اعتراف کیا کہ وہ یہ اعضاء اپنی ملازمت کے دوران جمع کرتی تھی۔

    سزا کے دوران، ڈونی شا اسمتھ، لکس کی والدہ، نے جج سے کہا کہ جب اسے ان ہولناک جرائم کا علم ہوا تو وہ تباہ ہو گئی۔ جج ملر، جو جذبات سے مغلوب ہو گئے تھے، نے سزا دینے سے قبل روتے ہوئے معذرت کی۔ایف بی آئی نے اس جرم کو "حقیقتاً ناقابلِ فہم اور ناپسندیدہ” قرار دیا۔

    ٹرمپ کی حلف برداری سے قبل بٹ کوائن ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    گھوٹکی: پولیس کا بجلی تار چوروں کے خلاف کامیاب آپریشن، مقدمہ درج