Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جالندھر میں خودساختہ نبی سامنے آ گیا،عیسائیت کی پرچار،لوگ مذہب بدلنے لگے

    جالندھر میں خودساختہ نبی سامنے آ گیا،عیسائیت کی پرچار،لوگ مذہب بدلنے لگے

    بھارتی پنجاب میں آج کل دو اہم مسائل شدت اختیار کر چکے ہیں جن میں ایک منشیات کا پھیلاؤ اور دوسرا مذہبی تبدیلی کا عمل ہے۔ یہ دونوں مسائل نہ صرف پنجاب کے سماجی ڈھانچے کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ پورے معاشرتی تانے بانے کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔بھارتی پنجاب میں ایک خود ساختہ شخص نے نعوذ بااللہ پیغمبر ہونے کا دعویٰ کر دیا، بلجندر سنگھ نامی شخص نے خود کو نبی کہا اور وہ اپنے عقائد کی پرچار کر رہا ، اس کے اجتماعات میں ہزاروں افراد شریک ہو رہے ہیں اور اپنے مذہب کو تبدیل کر رہے ہیں.

    ایک خود ساختہ "نبوت” کا دعوی کرنے والے شخص کا نام بلجندر سنگھ ہے، جو اپنے آپ کو پیغمبر کہلاتا ہے۔ اس شخص کے زیر اثر کئی لوگ عیسائیت قبول کر چکے ہیں، اور یہ رجحان پہلے مذہبی سکھوں تک محدود تھا، لیکن اب اس میں جٹ سکھ بھی شامل ہو گئے ہیں۔ یہ ایک واضح تبدیلی ہے جس کا اثر پورے پنجاب پر پڑ رہا ہے۔

    تقریباً دس سال قبل پنجاب میں عیسائیوں کی تعداد 2 فیصد تھی، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 15 فیصد ہو چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ مذہبی تبدیلی کے عمل میں اضافہ اور نئے مشنری اداروں کا پنجاب میں فعال ہونا ہے۔ کئی مقامات پر عیسائیت کے مشنری لوگوں کو مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور انہیں مذہبی تعلیمات اور اقتصادی مدد فراہم کر رہے ہیں۔

    بَلجِندر سنگھ نے خود کو نبی قرار دیا ہے،نبوت کے دعویدار بلجندر سنگھ کا کہنا ہے کہ اُن کی زندگی کا مقصد لوگوں کو مذہب کی سچی راہ دکھانا اور روحانی طور پر اُٹھانا ہے۔ بَلجِندر سنگھ کا کہنا ہے کہ شروع میں صرف مذہبی سکھوں کی تبدیلی ہو رہی تھی، لیکن اب جٹ سکھوں میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ 10 سال قبل پنجاب میں عیسائیوں کی آبادی 2 فیصد تھی، لیکن اب یہ بڑھ کر 15 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

    بلجندر سنگھ کی تبلیغ کے لئے بنائی گئی ویب سائٹ کے مطابق بَلجِندر سنگھ 10 ستمبر 1982 کو پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک کسان تھے اور ساتھ ہی سرکاری ملازمت بھی کرتے تھے۔ بَلجِنڈر سنگھ نے اپنی ابتدائی تعلیم آٹھویں جماعت تک حاصل کی، لیکن اُس وقت سے اُن کی زندگی میں شیطانی طاقتوں نے مداخلت کرنا شروع کر دی تھی جس کی وجہ سے اُن کا مزاج بہت غصے والا ہو گیا تھا۔ وہ بری صحبت میں شامل ہو گئے اور کئی لوگوں کے ساتھ لڑائیاں کیں۔ اس وجہ سے اُن کا مزاج اور طبیعت میں تبدیلی آئی۔بَلجِندر سنگھ کے مطابق، اُن کی زندگی کا ایک اہم موڑ اُس وقت آیا جب وہ ایک بڑی لڑائی کی وجہ سے جیل گئے۔ جیل میں رہتے ہوئے وہ مسلسل شیطانی طاقتوں کا شکار رہے اور کئی بار خودکشی کرنے کی کوشش کی۔ اُن کے والدین اور رشتہ دار بھی اُن سے جیل میں ملاقات کے لیے نہیں آتے تھے جس کی وجہ سے بَلجِندر سنگھ ڈپریشن کا شکار ہو گئے تھے۔ایک رات، بَلجِندر سنگھ نے ایک عیسائی شخص سے بائبل حاصل کی اور اُس میں لکھی ہوئی باتوں پر عمل کیا۔ بائبل میں ایک پیغام تھا کہ "جہاں جہاں بھی تم جاؤ، میں تمہارے ساتھ ہوں”۔ بلجندر سنگھ کہتے ہیں کہ اس پیغام کے بعد وہ شیطانی قوتوں سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ایک دن وہ بیمار ہوئے اور ان کا خون بہت کم ہو گیا۔ ایک پادری نے ان کے لیے دعا کی اور صرف دو گھنٹوں میں ان کے خون کی کمی پوری ہو گئی۔

    بَلجِندر سنگھ کی وزارت کا آغاز 2016 میں چنڈی گڑھ میں ایک چھوٹی سی عبادت گاہ سے ہوا۔ ابتدا میں اس عبادت گاہ میں صرف 100 لوگ آتے تھے، لیکن 2016 کے آخر میں جالندھر میں ایک اور کلیسا قائم کر لیا، جہاں 50 افراد شامل تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ، بلجندر سنگھ کی قیادت میں اس کلیسا کی تعداد بڑھتی گئی اور 2017 تک ہزاروں لوگ ان کی عبادات میں شامل ہونے لگے۔ جالندھر اور چنڈی گڑھ میں ہر اتوار کو ہونے والی عبادات میں لوگ ہر عمر اور نسل سے آتے ہیں۔ ان کی عبادات میں شامل ہونے والوں کی تعداد ہر سال بڑھتی جا رہی ہے اور 2019 تک بَلجِنڈر سنگھ کی وزارت کی ماہانہ حاضری لاکھوں افراد تک پہنچ چکی ہے۔

    بلجندر سنگھ کے چرچ میں مقدس تیل اور پانی فراہم کیا جاتا ہے، لیکن یہ صرف جالندھر اور چنڈی گڑھ کی عبادت گاہوں میں دستیاب ہے، اور یہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔

    بھارتی پنجاب میں گندم کی پیداوار میں کمی

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

  • بھارتی پنجاب میں گندم کی پیداوار میں کمی

    بھارتی پنجاب میں گندم کی پیداوار میں کمی

    بھارتی پنجاب، جو کبھی بھارت کا اناج کا سب سے بڑا مرکز تھا، آج منشیات اور مذہبی تبدیلی کی لعنت میں گھرا ہوا ہے۔ حالیہ برسوں میں پنجاب میں منشیات کا پھیلاؤ بھی تشویش کا باعث بن چکا ہے۔ اس تبدیلی کے اثرات نہ صرف معاشرتی بلکہ اقتصادی طور پر بھی محسوس ہو رہے ہیں۔

    پنجاب کا زراعتی شعبہ، جو کبھی بھارت کے لئے اناج کا اہم ذریعہ تھا، آج بحران کا شکار ہے۔ ریاست نے گندم کی پیداوار میں بڑی کمی دیکھی ہے اور اب یہ بھارت کی سب سے بڑی پیداوار کرنے والی ریاستوں میں تیسری پوزیشن پر آ چکا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پنجاب کے کسانوں کو زراعت میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے وہ دیگر مسائل میں الجھ کر ریاست کی معیشت پر بوجھ بن گئے ہیں۔کسان مودی سرکار کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آئے روز احتجاج کرتے رہتے ہیں

    پنجاب کے زراعتی شعبہ کی موجودہ حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے محکمہ زراعت و کسان فلاح نے 2023-24 کے لئے اہم فصلوں کی پیداوار کے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس سال گندم کی پیداوار میں کمی دیکھی گئی ہے اور پنجاب اب گندم کی پیداوار میں بھارت کے تین بڑے ریاستوں میں تیسری پوزیشن پر آگیا ہے۔یہ رپورٹ بتاتی ہے کہ 2022-23 کے دوران ربی سیزن کو "ربی” اور "گرمی” کے طور پر تقسیم کیا گیا ہے، جس کے بعد گرمی کی پیداوار کو تیسری ایڈوانس اسٹی میٹ میں شامل کیا جائے گا۔
    [pdf-embedder url=”https://login.baaghitv.com/wp-content/uploads/2025/01/tab118.pdf”]

    منشیات کے پھیلاؤ نے پنجاب میں ایک نئی بیماری کی شکل اختیار کرلی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان نسل میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ متعدد گاؤں منشیات کے عادی ہو چکے ہیں، اور اس کا اثر معاشرتی زندگی پر بھی پڑ رہا ہے۔پنجاب میں اس تبدیلی کے پیچھے کچھ مذہبی اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ عیسائیت کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک وجہ یہاں کی معاشی مشکلات اور معاشرتی ڈھانچے کی تبدیلی ہو سکتی ہے۔ پنجاب کے زراعتی بحران اور منشیات کے بڑھتے ہوئے مسئلے سے نمٹنے کے لئے حکومت کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، معاشرتی اور مذہبی تبدیلیاں بھی ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آئی ہیں، جو کہ ریاست کے لئے ایک طویل مدتی مسئلہ بن سکتا ہے۔

    پنجاب، جو ایک وقت میں بھارت کی زرعی طاقت تھا، اب منشیات کی لعنت اور مذہبی تبدیلیوں کی نظر ہو چکا ہے۔ گندم کی پیداوار میں کمی اور معاشی بحران نے لوگوں کو مختلف راستوں پر گامزن کیا ہے، جن میں منشیات کا استعمال اور مذہبی تبدیلی بھی شامل ہیں۔ اس صورت حال میں پنجاب کے لئے حکومت کی جانب سے فوری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ معاشی اور سماجی بحرانوں کا حل نکالا جا سکے۔بھارتی پنجاب میں کسان مودی کے بنائے ہوئے کالے قوانین کی وجہ سے دھرنوں پر مجبور ہیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے مودی سرکار نے کالے قوانین بنا کر ان کے ساتھیوں کو دھرنوں پر مجبور کر رکھا ہے، سانوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں فصلوں کی بہتر قیمت ادا کی جائے۔

    بھارت کی حکومت ہر سال 20 فصلوں کی کم از کم امدادی قیمت (مینیمم اسپورٹ پرائس) مقرر کرتی ہے۔ تاہم حکومتی ادارے ان میں سے صرف چاول اور گندم طے کردہ امدادی قیمت پر کسانوں سے حاصل کرتے ہیں۔ لہذٰا اس سے صرف سات فی صد کسان ہی فائدہ اُٹھا پاتے ہیں۔حکومتی ادارے چاول اور گندم کی بڑی مقدار فوڈ ویلفیئر پروگرام کے لیے ذخیرہ کرتے ہیں۔ بھارتی حکومت لگ بھگ 80 کروڑ افراد کو اس پروگرام کی مد میں مفت چاول اور گندم فراہم کرتی ہے۔یہ پروگرام دنیا کا سب سے بڑا ویلفیئر پروگرام سمجھا جاتا ہے جس کے لیے حکومت سالانہ 24 ارب ڈالر سے زائد کی سبسڈی دیتی ہے،بھارتی حکومت نے 2021 میں کسانوں کے احتجاج کے بعد متنازع زرعی قوانین منسوخ کرتے ہوئے کاشت کاروں اور حکومتی اہلکاروں کی ایک کمیٹی بنائی تھی۔ کمیٹی کو یہ مینڈیٹ دیا گیا تھا کہ وہ گندم اور چاول کے ساتھ ساتھ دیگر فصلوں کے لیے حکومت کی طرف سے مقرر کی گئی امدادی قیمت کو یقینی بنائے۔کسانوں کا یہ الزام ہے کہ اس سارے معاملے میں تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں جس سے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔پالیسی ایکسپرٹس کا کہنا ہے کہ تمام زرعی پیداوار کو ریاست کی مقرر کردہ کم از کم امدادی قیمت پر خریدنا قابلِ عمل نہیں ہے۔

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    شہرہ آفاق فلم "مولاجٹ” "بازار حسن” کے خالق فلمساز محمد سرور بھٹی وفات پا گئے

  • 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190 ملین پاؤنڈ ریفرنس،فیصلہ ایک بار پھر مؤخر،جمعہ کو سناؤں گا، جج

    190ملین پائونڈ ریفرنس کا فیصلہ ایک بار پھر موخر کر دیا گیا ،

    190ملین ریفرنس کا فیصلہ 17جنوری بروز جمعہ کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت کے جج ناصر جاوید رانا اڈیالہ جیل سے روانہ ہو گئے،عمران خان آج کمرہ عدالت میں پیش نہ ہوئے، بشریٰ بی بی بھی عدالت نہ پہنچیں جس کی وجہ سے عدالت نے آج فیصلہ نہ سنایا،فیصلہ سنانے کا وقت ساڑھے دس بجے کا تھا، پی ٹی آئی رہنما اڈیالہ جیل پہنچ گئے تھے تاہم عمران خان اپنے سیل سے کمرہ عدالت نہ آئے اور نہ ہی بشریٰ بی بی عدالت پہنچیں.

    آج امکان تھا کہ کیس کا فیصلہ سنایا جائے گاتاہم عدالت نے فیصلہ نہیں سنایا، قبل ازیں اسی ضمن میں اس موقع پر سیکورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے،اڈیالہ جیل کے باہر راولپنڈی پولیس کی جانب سے سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات تھے،پولیس کی اضافی نفری اڈیالہ جیل کے باہر تعینات تھی، یکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف سلمان اکرم راجہ بھی عدالت میں موجود تھے،عمران خان کی بہنیں علیمہ خان و دیگر بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں،

    احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،اسکے بعد 13 جنوری کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی گئی تھی تاہم آج بھی فیصلہ نہ سنایا جا سکا،

    اس کیس میں نیب نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • شہرہ آفاق فلم "مولاجٹ” "بازار حسن” کے خالق فلمساز محمد سرور بھٹی وفات پا گئے

    شہرہ آفاق فلم "مولاجٹ” "بازار حسن” کے خالق فلمساز محمد سرور بھٹی وفات پا گئے

    شہرہ آفاق فلم "مولاجٹ”، "چن وریام” اور "بازار حسن” کے خالق فلمساز محمد سرور بھٹی رضائے الہی سے وفات پا گئے ہیں

    پاکستانی فلم انڈسٹری کے نامور فلمساز اور ہدایتکار محمد سرور بھٹی، جنہوں نے شہرہ آفاق فلموں "مولاجٹ”، "چن وریام” اور "بازار حسن” سمیت کئی اہم پروجیکٹس کی تخلیق کی، رضائے الہی سے وفات پا گئے ہیں۔ ان کی وفات کی خبر نے فلم انڈسٹری اور مداحوں میں گہرا دکھ پیدا کر دیا ہے۔ محمد سرور بھٹی کی وفات رات کے وقت ہوئی۔ ذرائع کے مطابق ان کی موت حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے ہوئی۔ وہ ایک طویل عرصے سے اپنی بیماری سے لڑ رہے تھے اور بالآخر دنیا سے رخصت ہوگئے۔

    محمد سرور بھٹی کا جنازہ ان کے گھر، جو کہ علامہ اقبال ٹاؤن، نہر کھاڈی کے قریب واقع ہے، سے اٹھایا جائے گا۔ ان کے اہل خانہ کے مطابق جنازہ رات 8:15 بجے داتا دربار میں پڑھایا جائے گا۔ بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی جائے گی،

    اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل عطا کرے۔محمد سرور بھٹی کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور ان کا نام پاکستان کی فلم انڈسٹری میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

    فلمساز اور ہدایتکار محمد سرور بھٹی کی وفات،مبشر لقمان کا اظہار افسوس
    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے فلمساز اور ہدایتکار محمد سرور بھٹی کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا ہے، مبشر لقمان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ، "محمد سرور بھٹی کی وفات کا سن کر بہت دکھ ہوا۔ وہ ایک عظیم شخص تھے اور ان کا کام ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے اور لواحقین کو صبر دے۔”مبشر لقمان نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ "محمد سرور بھٹی کی پروڈکشن میں بنائی گئی مولا جٹ نے پنجابی فلم انڈسٹری کو ایک نئی زندگی دی اور ان کی محنت اور وژن نے سینما کی دنیا میں ایک انقلابی تبدیلی لائی۔ ان کی وفات ایک بڑا خلا چھوڑ گئی ہے۔”مبشر لقمان نے اپنے پیغام میں محمد سرور بھٹی کو شاندار خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی میراث ہمیشہ یاد رکھی جائے گی اور ان کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

    محمد سرور بھٹی نے پاکستانی سینما کی تاریخ کو ہمیشہ کے لئے بدلا تھا۔ انہوں نے 1979 میں "مولا جٹ” فلم کی پروڈکشن کی تھی، جو نہ صرف ایک سنگ میل ثابت ہوئی بلکہ اس نے پنجابی فلموں کے لیے ایک نیا معیار قائم کیا۔ اس فلم نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں کامیابیاں حاصل کیں ،مولا جٹ کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ فلم آج بھی ناظرین کے دلوں میں زندہ ہے اور اس کے کردار اور کہانی آج بھی بہت مقبول ہیں۔

    اس موقع پر مختلف پاکستانی اداکاروں اور سینما کے متعلقہ افراد نے بھی محمد سرور بھٹی کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کی خدمات کو سراہا ہے.

  • 26 نومبر احتجاج، بشریٰ کی عبوری ضمانت مسترد

    26 نومبر احتجاج، بشریٰ کی عبوری ضمانت مسترد

    اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 26 نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔ یہ فیصلہ ایڈیشنل سیشن جج محمد افضل مجوکہ نے سماعت کے دوران دیا۔

    بشریٰ بی بی کے وکیل خالد یوسف چوہدری نے عدالت میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی تھی، جس پر سماعت جاری تھی۔ اس دوران بشریٰ بی بی کے وکیل نے استثنیٰ کی درخواست بھی پیش کی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ آج 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ آنا ہے، جس کے سلسلے میں بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل جانا ہے۔پراسیکیوٹر اقبال کاکڑ نے عدالت میں موقف اپنایا کہ بشریٰ بی بی نے اپنے ضمانتی مچلکے ابھی تک جمع نہیں کرائے۔ اس پر جج نے ریمارکس دیے کہ "آپ نے ابھی تک ضمانتی مچلکے ہی جمع نہیں کرائے۔” جج نے مزید کہا کہ "عدالت کے حکم پر آپ عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں۔” اس کے بعد عدالت نے بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی تین درخواستوں کو خارج کر دیا۔

    خیال رہے کہ بشریٰ بی بی کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر تھانہ ترنول میں دو مقدمات درج ہیں، جبکہ تھانہ رمنا میں ایک مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بشریٰ بی بی کے خلاف ڈی چوک احتجاج پر بھی تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے۔

    ایک اور مقدمے میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں بھی بشریٰ بی بی کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ اس موقع پر بشریٰ بی بی کے وکیل انصر کیانی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ "بشریٰ بی بی کے خلاف آج 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ آنا ہے، اور انھیں جیل میں حاضری دینا ضروری ہے، کیونکہ احتساب عدالت نے بشریٰ بی بی کو حاضری یقینی بنانے کا حکم دے رکھا ہے۔”پراسیکیوٹر نے بھی عدالت سے درخواست کی کہ عبوری ضمانت کی درخواست کے فیصلے تک ملزمہ کی حاضری کو یقینی بنایا جائے۔ اس پر ایڈیشنل سیشن جج عامر ضیا نے بشریٰ بی بی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  • باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی کا کامیاب سفر،13ویں سالگرہ

    باغی ٹی وی نے اپنے کامیاب سفر کے ساتھ 13 برس مکمل کر لئے

    باغی ٹی وی کے 13 برس مکمل ہونے پر باغی ٹی وی ٹیم نے سینئر صحافی و اینکر پرسن سی ای او باغی ٹی وی مبشر لقمان کو مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا،باغی ٹی وی کے بارہ برس مکمل ہونے پر سیاسی و سماجی رہنماؤں نےبھی مبارکباد کے پیغام بھجوائے ہیں، اور نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے ،

    باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان نے 13برس قبل باغی ٹی وی کا آغاز کیا جس کا سفر اب بھی کامیابی سے جاری و ساری ہے ،ڈیجیٹیل میڈیا کے سب سے بڑے ادارے باغی ٹی وی نے کامیابیوں کے ساتھ اپنے قیام کے 13 سال مکمل کرلیے ہیں‌،باغی ٹی وی کے قیام کا مقصد کرپشن ، جہالت ، ظلم اور زیادتی کے خلاف جدوجہد کرنا اوران برائیوں کے خاتمے کے لیے معاشرے کی آوازکو بلند کرنا اوراسے مناسب فورم پر پیش کرنا تھا اورہے بھی اور رہے گا بھی، باغی ٹی وی نے جہاں ان برائیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی وہاں حق ، سچ ، مظلوم کی مدد اوردنیا سے جہالت ختم کرنےکے لیے اپنا بھرپورکردار ادا کیا جسے دنیا تسلیم بھی کرتی ہے،اس کے ساتھ ساتھ "باغی ٹی وی ” نے معاشرے کی دیگر اہم مسائل کو بھی اجاگر کیااس دوران بہت سی رپورٹس پرسرکاری حکام ، سرکاری اداروں نے کارروائیاں کیں-

    اردو ۔انگلش. پشتو.دری، چائنیز پانچ زبانوں میں باغی ٹی وی کی نشریات چل رہی ہیں ،باغی ٹی وی کا یوٹیوب چینل دنیا بھر میں مقبول ہے ۔ہر سال رمضان المبارک میں باغی ٹی وی یوٹیوب چینل پر لاہور کی تاریخی بادشاہی مسجد سے نماز تراویح لائیو نشر کی جاتی ہیں۔ تحریک لبیک کے احتجاج کی کوریج کرنے پر حکومت کی جانب سے دھمکیوں کے باوجود باغی ٹی وی نے کوریج جاری رکھی ۔حکومت کی جانب سے تحریک لبیک کی کوریج کی ویڈیوباغی ٹی وی کے یوٹیوب سے ڈیلیٹ بھی کروائی گئی ہیں ۔تحریک لبیک کی کوریج کی وجہ سے باغی ٹی وی ٹویٹر کا بلیو ٹک بھی ختم کروایا گیا ہے-

    باغی ٹی وی نام کی مناسبت سے معاشرے میں ہونے والی نا انصافیوں ظلم جبر کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ریاست پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو باغی ٹی وی صحافتی میدان میں ہر وقت جواب دینے کے لیے تیار ہے یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار نے بھی باغی ٹی وی کا ٹویٹر اکاؤنٹ بند کروانے کی کوشش کی بلکہ درجنوں بار مودی سرکار کے زیر اثر ہیکرز کی جانب سے باغی ٹی وی کی ویب سائٹ ہیک کرنے کی ناکام کوشش بھی کی گئی-

    baaghitv

    باغی ٹی وی کی تیرہویں سالگرہ کے موقع پر سیاسی و سماجی رہنماؤں کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات دیئے گئے، روئیت ہلال کمیٹی کے چیئرمین وتاریخی بادشاہی مسجد کے امام مولانا عبدالخبیر آزاد،مرکزی مسلم لیگ کے ترجمان تابش قیوم،مسلم لیگ ن کی رہنما،سابق رکن اسمبلی مہوش سلطانہ، سابق سیکرٹری لاہور پریس کلب عبدالمجید ساجد، دعوت اسلامی کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ عثمان عطاری، اسلام آباد سے سینئر صحافی پروفیسر طاہر نعیم ملک،کراچی سے ملک ضمیر،ہیلپنگ ہینڈ کے میڈیا ہیڈ سید عابد بخاری،آل پاکستان رائیٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے بانی ایم ایم عالی،ڈرامہ رائیٹر، آل پاکستان رائیٹرز ویلفئر ایسوسی ایشن کی سینئر ناب صدر ریحانہ عثمانی،اپوا کی ممبر نرگس نور، المصطفیٰ ٹرسٹ کے رکن محمد نواز کھرل،حامد رضا،مرکزی مسلم لیگ کےخوشاب سے رہنما ،سید جوادہاشمی،لاہور سے صحافی جان محمد رمضان، دارالسلام کے میڈیا ہیڈ ارشاد احمد ارشد، ڈسٹرکٹ یونین آف جرنلسٹ ضلع تلہ گنگ کے چیئرمین ملک امتیاز لاوہ، تلہ گنگ پریس کلب کے وائس چیئرمین ملک ارشد کوٹگلہ،سمیت دیگر نے مبارکباد کے پیغامات بھجوائے اور نیک تمناوں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باغی ٹی وی نے معاشرے میں حقیقی اور مثبت صحافت کو فروغ دیا جس کا سہرا مبشر لقمان کے سر جاتا ہے، امید کرتے ہیں کہ باغی ٹی وی کا سفر کامیابی سے جاری و ساری رہے گا.

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

  • وزیر اعلیٰ پنجاب  نے پاکستان کا پہلا ,”پنجاب دھی رانی پروگرام” لانچ کر دیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب نے پاکستان کا پہلا ,”پنجاب دھی رانی پروگرام” لانچ کر دیا

    دھی رانی ، سب کی سانجھی ،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پاکستان کا پہلا ,”پنجاب دھی رانی پروگرام” لانچ کر دیا

    لاہور کے بہترین میرج ہال میں 51 اجتماعی شادیوں سے آغاز کر دیا گیا،نوبیاہتا جوڑوں میں پانچ کرسچن دولہا دلہن بھی شامل تھے،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے فرداً فرداً سب نوبیاہتا جوڑوں کو مبارکباد دی،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دلہنوں کو پیار کیا اور دعائیں دیں،تقریب میں مولانا ڈاکٹر مفتی محمد رمضان سیالوی اور بشپ لاہور ندیم کامران نے باری باری دعا کرائیں،نو بیاہتا دولہا دلہن کو وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کی طرف سے میٹرس، کھانے پکانے کا سامان ، ڈنر سیٹ اور دیگر سامان کے تحائف دئے گئے،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے دھی رانی پروگرام سلام کارڈ کی لانچنگ بھی کی،وزیراعلی مریم نواز شریف نے ہر دلہن کو پیار کیا اور سلامی کارڈ بھی دیا

    دھی رانی سلامی کارڈ کر ذریعے ایک لاکھ روپے سلامی حاصل کر سکیں گی،تقریب کے شرکاء کو محکمہ سوشل ویلفیئر کی جانب سے پرتکلف ظہرانہ دیا گیا ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے نوبیاہتا جوڑوں کے ساتھ گروپ فوٹو بھی بنوایا ،وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے تحفہ کے طور پر ملنے والے سامان کا بھی معائنہ کیا

    وزیراعلی پنجاب مریم نوازشریف نے ”دھی رانی پروگرام“ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”دھی رانی پروگرام“ کے تحت موجود بیٹیوں اور بیٹوں،والدین اور اہلخانہ کو دل کی گہرائیوں سے شادی کی مبارکباددیتی ہوں -اللہ تعالی آپ کو ہمیشہ خوش رکھے ، دعا کے ساتھ میں بیٹیوں اور بیٹوں کی خوشیوں میں شامل ہونے کے لئے آئی ہوں -اللہ تعالی میرے بیٹیوں اور بیٹوں کو آباد و شاد رکھے، نئی زندگی کی شروعات میں برکت ڈالے،دکھ سکھ کا ساتھی بنائے-بیٹیوں اور بیٹوں کی شادی میں شمولیت ایک جذباتی لمحہ ہے، بے حد خوش ہوں -شادی بچوں اور والدین کے لئے ایک جذباتی لمحہ ہوتاہے،دعا گو ہوں – جتنے آپ کے والدین خوش ہیں، آپ خوش ہوں، میں بھی آپ کی ماں ہوں، میں بھی خوش ہوں -اللہ تعالی میرے بیٹیوں اور بیٹو ں کو سکھ اورچین والی زندگی دے-

  • دفع ہو جاؤ،عمران کی رہائی کے مطالبے پر رچرڈ گرینیل کا پی ٹی آئی صارف کو جواب

    دفع ہو جاؤ،عمران کی رہائی کے مطالبے پر رچرڈ گرینیل کا پی ٹی آئی صارف کو جواب

    ٹرمپ کے نامزد ایلچی،امریکی ہم جنس پرست رچرڈ گرینیل، جو کہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی رہائی کے معاملے پر بار بار ٹوئٹس کر چکے ہیں، اب اس معاملے پر پریشانی کا شکار نظر آتے ہیں۔

    رچرڈ گرینیل نے ایک حالیہ ٹوئٹ میں ایک پاکستانی صارف پر غصہ نکالتے ہوئے جواب دیا، جس کے بعد اس صارف نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کر دی۔رچرڈ گرینیل، جو کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں خصوصی مشنوں کے لیے صدارتی ایلچی مقرر کیے گئے تھے، عمران خان کی رہائی کے معاملے پر ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدّد بار اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کی ٹوئٹس میں عمران خان کے حامیوں کی جانب سے مسلسل عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس نے انہیں پریشان کر دیا تھا۔

    حال ہی میں، رچرڈ گرینیل نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں کیلیفورنیا کے جنگلات میں ہونے والی آتشزدگی کا منظر دکھایا گیا تھا۔ اس ویڈیو کے ذریعے انہوں نے کیلیفورنیا کی ڈیموکریٹ حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ رچرڈ گرینیل نے اپنے پیغام میں لکھا کہ "ان کی پالیسیاں ہمیں جلا کر راکھ کر رہی ہیں” اور مزید کہا کہ "ان لوگوں کو ووٹ دینا بند کریں جو پانی کے انتظام اور جنگلات کی پالیسیوں میں عقل و فہم کا استعمال نہیں کرتے۔”

    imran

    رچرڈ گرینیل کی اس پوسٹ پر ایک پاکستانی صارف، محمد نواز خان نے کہا کہ "ٹھنڈ رکھیں، مگر ایک بار پھر ریلیز عمران خان کا ہیش ٹیگ استعمال کرنا نہ بھولیں۔” اس پیغام کا جواب دیتے ہوئے رچرڈ گرینیل نے غصے میں آ کر پاکستانی صارف سے کہا: "تم جنوبی کیلیفورنیا میں نہیں رہتے، اس لیے دفع ہو جاؤ۔”

    رچرڈ گرینیل کے اس سخت جواب کے بعد، عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرنے والے صارف نے اپنی پوسٹ فوراً ڈیلیٹ کر دی۔ اس واقعے نے اس بات کو واضح کیا کہ رچرڈ گرینیل اب اس معاملے پر زیادہ توجہ دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

    ایلچی رچرڈ گرینل کے بیان پر خواجہ سعد کا ردعمل

    کسی ایک فرد کے بیانات پر تبصرہ نہیں کر سکتے،رچرڈ کے بیان پر دفترخارجہ کا ردعمل

    ٹرمپ کا نامزد ایلچی رچرڈ گرنیل کرپٹ غیر ملکی سیاستدان کیلئے کام کرتا رہا،انکشاف

    عمران خان کی رہائی کے حق میں ہوں،ٹرمپ کے نامزد خصوصی ایلچی رچرڈ گرینل

    عمران خان کی رہائی کے لئے ٹویٹ کرنے والا رچرڈ گرنیل کا اکاؤنٹ جعلی

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

  • بیرسٹر سیف   کی  محمد علی درانی کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ کے  سیکریٹریٹ آمد

    بیرسٹر سیف کی محمد علی درانی کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ کے سیکریٹریٹ آمد

    مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنماوں نے پی ایم ایل کے رہنماوں سے ملاقات کی ہے خیبر پختونخواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا ہے کہ ملک میں بہتر نظام جمہوریت کے لیے مشترکہ جدوجہد جاری رکھنے کے لیئے مرکزی مسلم لیگ کی قیادت کے پاس آئے ہیں

    سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کی خیبرپختونخواہ کے مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کے ہمراہ مرکزی مسلم لیگ کے مرکزی سیکریٹریٹ لاہور میں مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری شیخ محمد یعقوب سے ملاقات ہوئی ہے، ملاقات کے دوران حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات پر تعزیت کی گئی

    ملک میں بہتر نظام جمہوریت کے لیے ہم پاکستان کی محب وطن جماعتوں سے رہے ہیں، بیرسٹر سیف
    صوبائی مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ ملک میں بہتر نظام جمہوریت کے لیے ہم پاکستان کی محب وطن جماعتوں سے ملاقات کر رہے ہیں تاکہ مشترکہ جدوجہد کی جائے اسی سلسلہ میں ہم مرکزی مسلم لیگ کی قیادت کے پاس آئے ہیں ملاقات کے دوران پاڑہ چنار سمیت دیگر سیاسی اور ملکی ایشوز پر ان کو کردار ادا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا

    سب کو مل کر پاکستان کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے. محمد علی درانی
    سابق وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی کا کہنا تھا پاکستان پر مشکل وقت ہے اور سب کو مل کر پاکستان کے لیے کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے. پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے جوائنٹ سیکرٹری شیخ محمد یعقوب نے رہنماؤں کو یقین دہانی کروائی کہ مرکزی مسلم لیگ گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی حامی ہے ہم پارہ چنار سمیت حساس مسائل پر سیاسی و مذہبی قائدین سے رابطے میں ہیں تاکہ پاکستان سے انتشار و افتراق کا خاتمہ ہو.

    پارہ چنار میں پیش آنے والے واقعات افسوس ناک،علما آگے بڑھیں،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

    اقتدار نہیں ، ملک کی بقا کے لیے سیاست کر رہے ہیں، مزمل اقبال ہاشمی

    مرکزی مسلم لیگ کا یونین کونسلز کی سطح پر رکنیت سازی کیمپ لگانے کا فیصلہ

    ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا 2025 کو ‘خدمت کا سال’ قرار دینے کا اعلان

    خواجہ آصف کو وزارت دفاع کے عہدے سے ہٹایا جائے،مرکزی مسلم لیگ

    ننکانہ : پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی کی علمی و فکری خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، میاں عابد

    حافظ عبدالرحمان مکی کی وفات،سیاسی ،سماجی و کشمیری رہنماؤں کی تعزیت

    ننکانہ : ڈاکٹر حافظ عبدالرحمن مکی کی وفات، امت مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے،ثاقب مجید

  • وزیراعظم  سے چیف کلکٹر کسٹمز، کراچی زون جمیل ناصر کی ملاقات

    وزیراعظم سے چیف کلکٹر کسٹمز، کراچی زون جمیل ناصر کی ملاقات

    وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف سے چیف کلکٹر کسٹمز کراچی زون، جمیل ناصر نے ملاقات کی، جس میں وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے حوالے سے جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کی نمایاں خدمات کو سراہا۔ وزیر اعظم نے اس سسٹم کی کامیاب عمل درآمد پر جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کی محنت اور عزم کو اعلیٰ سطح پر تسلیم کیا۔

    وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم کی تیاری اور نفاذ کے لئے کام کرنے والی ٹیم کے لیے 1.5 کروڑ روپے کے انعام کا اعلان کیا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس اقدام سے کسٹم آپریشنز میں شفافیت، کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے نہ صرف حکومت کے لئے فائدہ مند نتائج حاصل ہوئے ہیں بلکہ اس سے ملکی معیشت میں بھی بہتری آئی ہے۔

    وزیر اعظم نے اس موقع پر کہا کہ فیس لیس کسٹمز اسیسمینٹ سسٹم پاکستان کی اقتصادی ترقی میں معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ سسٹم ملک میں کاروبار اور سرمایہ کار دوست ماحول کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے اور یہ ایف بی آر کی ڈیجیٹائزیشن کی جانب ایک اہم قدم بھی ہے۔وزیر اعظم نے فیس لیس کسٹمز سسٹم کو عالمی معیار اور فول پروف بنانے کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے استعمال پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسٹم نظام میں مزید جدت لانے کی ضرورت ہے تاکہ اس سسٹم کو بین الاقوامی معیار سے ہم آہنگ بنایا جا سکے اور منصفانہ، شفاف اور مؤثر کسٹم سسٹم کو یقینی بنایا جا سکے۔

    وزیر اعظم نے کہا کہ کسٹم سسٹم میں جدت لانا ضروری ہے تاکہ اس کی کارکردگی اور شفافیت میں مزید اضافہ ہو اور کاروباری برادری کو عالمی سطح پر بہترین سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسٹم سسٹم کی مزید اصلاحات پاکستان کی اقتصادی ترقی کے لیے ایک لازمی اقدام ہے۔وزیر اعظم نے اس موقع پر جمیل ناصر اور ان کی ٹیم کو ان کی کامیابی پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ سسٹم پاکستان کے کسٹمز شعبے میں مزید بہتری لانے کا سبب بنے گا۔

    اڑان پاکستان، عمل کی ضرورت، فقط نعرے سے کچھ نہیں بدلے گا.تجزیہ:شہزاد قریشی

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک