Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔علیمہ خان

    سابق وزیراعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان بالکل بھی خوش نہیں ہیں کہ ان کا مقدمہ ابھی تک مؤخر ہوا ہے۔

    علیمہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خان چاہتے ہیں کہ فیصلہ جلد آ جائے تاکہ پوری دنیا کو یہ پتا چلے کہ القادر یونیورسٹی کے حوالے سے اصل حقیقت کیا ہے۔ علیمہ خان نے بتایا کہ عمران خان کا خواب تھا کہ سیرت نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں سٹوڈنٹس کو تعلیم دی جائے۔علیمہ خان نے الزام عائد کیا کہ جج صاحب کو اس معاملے کا فیصلہ سنانے میں بہت مشکلات پیش آ رہی ہیں اور اس کا ایک بڑا سبب حکومت کا موجودہ پریشر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا اور پاکستان جانتا ہے کہ اس وقت کس قسم کی سزا سنائی جا سکتی ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو فیصلہ سنانے میں ہچکچاہٹ ہو رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لفظ "ڈیل” کو سن سن کر ہم تھک چکے ہیں۔ علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے صرف نیوٹرل ایمپائر لگانے کی بات کی تھی، نہ کہ کسی ڈیل کا حصہ بننے کی۔ مذاکراتی کمیٹی کے ممبران نے بھی بتایا کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی مطالبہ نہیں آیا ہے۔علیمہ خان نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ 17 جنوری کو اگر حکومت کی جانب سے ہمت ہو تو فیصلہ سنایا جا سکتا ہے، اور اس دن کے بعد ہی صورتحال واضح ہو گی۔

    مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ حکام پر برہم

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

  • مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ حکام پر برہم

    مغوی کی عدم بازیابی پر لاہور ہائیکورٹ حکام پر برہم

    ‏لاہور ہائیکورٹ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مغوی عمیر خالد کی بازیابی کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے سی ٹی ڈی، پنجاب پولیس سمیت دیگر فریقین کو مغوی کو تین روز میں بازیاب کروانے کا حکم دے دیا،ایس پی سی ٹی ڈی عدالتی حکم پر عدالت میں پیش ہوئے ، جسٹس فاروق حیدر نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ آپ کے ادارے کو بدنام کرنے کی سازش ہو، دوسری صورت حال یہ ہو سکتی ہے بندہ آپ کے پاس ہو، جسٹس فاروق حیدر نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ نے مقامی پولیس سے بات کی، مقامی ایس ایچ او سے کچھ پوچھا ؟ کیا آپ نے صرف یہ لکھ دینا کہ بندہ ہمارے پاس نہیں ہے، کافی ہے ؟جب آپ پر الزام لگا تو آپ کو نہیں چاہیے تھا کہ مقامی پولیس سے پوچھتے ؟ جن کے بندے اٹھائے گئے ان کی کیفیت کا انداذہ کر سکتے ہیں ؟لوگوں میں یہ بات تو نہ اٹھے کہ ہمارے اپنے ادارے ہمیں اٹھا رہے ہیں،جسٹس فاروق حیدر نے کوثر پروین کی درخواست پر سماعت کی

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

  • تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

    تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ،لاس اینجلس میں آگ پرپریتی زنٹا کا آنکھوں دیکھا حال

    امریکی شہر لاس اینجلس میں لگنے والی آگ پر ابھی تک قابو نہیں پایا جا سکا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس آگ پر مکمل قابو پانے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اس آتشزدگی نے شہر کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور مقامی افراد خوف و ہراس کا شکار ہیں۔

    اسی حوالے سے، لاس اینجلس میں مقیم بالی وڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے اپنی خیریت کے بارے میں مداحوں کو آگاہ کیا ہے۔ پریتی زنٹا اپنے امریکی شوہر کے ہمراہ طویل عرصے سے لاس اینجلس میں رہائش پذیر ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت خیریت سے ہیں۔پریتی زنٹا نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اس آتشزدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ "کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں وہ دن دیکھوں گی جب آگ ہمارے آس پاس کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ شہر میں دوست اور خاندان کے افراد یا تو نقل مکانی کر چکے ہیں یا ہائی الرٹ پر ہیں، اور راکھ دھندلے آسمانوں سے برف کی طرح نیچے گررہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ "خوف اور بے یقینی کی کیفیت ہے کہ اگر ہوا نہ تھمی تو کیا ہوگا؟ ہمارے ساتھ چھوٹے بچے اور بزرگ بھی ہیں۔” پریتی زنٹا نے اپنے دل کی بات کرتے ہوئے کہا کہ "اپنے آس پاس ہونے والی تباہی پر میرا دل ٹوٹ گیا ہے اور میں خدا کا شکر گزار ہوں کہ ہم ابھی تک محفوظ ہیں۔ میری دعائیں ان لوگوں کے ساتھ ہیں جو بےگھر ہو چکے ہیں اور جنہوں نے اس آگ میں سب کچھ کھو دیا ہے۔”

    پریتی زنٹا نے مزید کہا کہ "میری دعائیں ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو اس تباہی کا سامنا کر رہے ہیں اور خاص طور پر فائر ڈپارٹمنٹ، فائرفائٹرز اور ان تمام افراد کا شکریہ جنہوں نے جانیں اور املاک بچانے کے لیے بے لوث محنت کی ہے۔”

    یاد رہے کہ لاس اینجلس ہالی وڈ کا مرکزی مقام ہے، جہاں دنیا بھر کے مشہور ہالی وڈ ستاروں کے گھر واقع ہیں۔ اس آگ نے کئی مشہور شخصیات کے گھروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، ماڈل بیلا حدید، اداکارہ پیرس ہلٹن، ہالی وڈ اداکار انتھونی ہاپکنز، جیف بریجز، بلی کرسٹل، یوجین لیوی، جان گڈمین اور مارک ہیمیل جیسے ستارے اپنے گھروں کو کھو چکے ہیں۔اس وقت شہر بھر میں آگ پر قابو پانے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور لوگ دعا گو ہیں کہ جلد ہی صورتحال قابو میں آ جائے۔

    20 سال قبل سپمسن نے لاس اینجلس میں خوفناک آتشزدگی کی پیشگوئی کی تھی؟

    قیامت کا سماں: لاس اینجلس میں ’آگ کے بگولے‘ بننے لگے

    لاس اینجلس:آتشزدگی کے باعث خالی گھروں میں لُوٹ مار اور چوریاں

  • کیا غیر آئینی اقدام پر ججز بھی آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    کیا غیر آئینی اقدام پر ججز بھی آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتے ہیں،جسٹس جمال مندوخیل

    سپریم کورٹ،فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت ہوئی،

    جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بینچ نے سماعت کی،دورانِ سماعت وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ملٹری کورٹس میں کورٹ مارشل ہی ہوتا ہے،جسٹس امین الدین خان نے وزارتِ دفاع کے وکیل خواجہ حارث سے کہا کہ مناسب ہو گا کل تک اپنے دلائل مکمل کر لیں، کون سے مقدمات فوجی عدالتوں کو منتقل ہوئے اور کیوں ہوئے؟ اسے مختصر رکھیے گا، ججز سے متعلق سوالات ہوئے تو آخر میں اس کو بھی دیکھ لیں گے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سپریم کورٹ نے آرمی ایکٹ کی سیکشن 59 (4) کو بھی کالعدم قرار دیا ہے۔

    جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرمی ایکٹ میں کئی جرائم کا ذکر بھی موجود ہے، ایکٹ کے مطابق تمام جرائم کا اطلاق فوجی افسران پر ہو گا،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ سویلینز کا ٹرائل آرمی ایکٹ کی سیکشن 31 ڈی کے تحت آتا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ سیکشن 31 ڈی تو فوجیوں کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے پر اکسانے سے متعلق ہے،وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ فوجی عدالتوں کو آئین نے بھی تسلیم کیا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں کیس کس کا جائے گا یہ دیکھنا ہے۔

    جسٹس مسرت ہلالی نے کہا کہ آئین تو بہت سے ٹربیونلز کی بھی توثیق کرتا ہے، دیکھنا صرف یہ ہے کہ کون سے کیسز کہاں اور کیسے سنے جا سکتے ہیں، مسئلہ یہاں پروسیجر کا ہے کہ ٹرائل کون کرے گا؟ آرمی ایکٹ میں کیا آئین معطل کرنے کی سزا ہے؟ اگر کوئی آرمی آفیسر آئین کو معطل کرتا ہے تو کیا سزا ہے؟وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 6 میں آئین کو معطل کرنے کی سزا ہے، آئین کا آرٹیکل 6 ہر قانون پر فوقیت رکھتا ہے، آرمی ایکٹ میں حلف کی خلاف ورزی کی سزا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدلیہ مارشل لاء کی توثیق کرتی رہی، کیا غیر آئینی اقدام پر ججز بھی آرٹیکل 6 کے زمرے میں آتے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ پرویز مشرف کیس میں ججز کے نام لیے گئے تھے، سنگین غداری ٹرائل میں بعد ازاں ججز کے نام نکال دیے گئے۔سپریم کورٹ نے سویلینز کے ملٹری کورٹ میں ٹرائلز کے خلاف اپیل پر سماعت کل تک ملتوی کر دی

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    باغی ٹی وی، ہمارا محسن

  • آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے

    اناللہ وانا الیہ راجعون
    آغا نیاز مگسی اب ہم میں نہیں رہے دعائے مغفرت کی درخواست ہے

    سلسلہ پذیرائی ۔
    ادبی دیوان بلوچستان( ادب )پاکستان
    تحریر _ ڈاکٹر عبدالرشید آزاد
    شخصیت – آغا نیاز مگسی
    بلوچستان کے ادب کا اک روشن ستارہ پانچ زبانوں میں اظہار کرنے والے آغا نیاز مگسی ،معروف شاعر / کالم نگار/ ادیب / اور نثر نگار
    آغا نیاز مگسی 2 اپریل 1967کو شہدادکوٹ کے قریب بانڑی وانڈو میں پیدا ہوئے ان کے والد کا نام محمد حسن ہے اور ان ک تعلق بلوچ قوم کے مگسی قبیلے سے ہے ۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گوٹھ سخی نذر محمد کٹوہر پرائمری سکول میں حاصل کی پھر ایک سال بعد نقل مکانی کرنی پڑی پھر 1975 میں اپنے چچا کے مدرسے میں داخل ہوئے جہاں سے عربی اور سندھی کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد 1981 میں گورنمنٹ بوائز ہائی سکول قبوسعید خان میں جماعت ششم میں داخلہ لیا جہاں دو سال تعلیم حاصل کی۔
    1986 میں میٹرک کیا اور گورنمنٹ انٹر کالج شہدادکوٹ میں داخل ہوئے ۔
    1985 میں سندھی زبان میں شاعری کا آغاز ایک سندھی گیت سے کیا پھر 1988 کو غربت کی وجہ سے سیکنڈ ائیر میں تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا ۔
    1989 میں اپنے مرحوم بھائی کی جگہ محکمہ ہیلتھ میں ڈسپینسر بھرتی ہوئے انہوں نے نصیر آباد کی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1991 میں ریلوئے گراؤنڈ ڈیرہ مراد جمالی مشاعرے کا انعقاد کیا جس سے باقاعدہ ادبی سرگرمیوں کا آغاز ہوا
    1994 میں آغا نیاز مگسی نے کالم نگاری کی ابتداء کی اور ان کے تعلقات سیاست میں نواب اکبر خان بگٹی ،میر ظفر اللہ جمالی، سردار یار محمد رند، سردار زادہ شیر محمد رند ،میر ظہور حسین کھوسہ،رازق بگٹی ،میرجان محمد جمالی ،میر فائق جان جمالی ،میر خان محمد جمالی ،میر صادق عمرانی ،بابو محمد امین عمرانی ،میر مراد ابڑو ،سید فضل آغا ،میر اظہار حسین کھوسہ ،میر سلیم خان کھوسہ ،مولانا عبداللہ جتک ، صاحب زادہ سکندرسلطان ،میر احمدانی خان بگٹی ، سردار چنگیز خان ساسولی ،میر طارق حسین مسوری بگٹی ،میر ماجد ابڑو ،میر نظام لہڑی ،دریحان بگٹی سے ہوئے ۔بعد میں آپ نے 2018 میں کالم نگاری بھی چھوڑ دی ۔

    اسی طرح ادبی دنیا میں بھی ان کے روابط معروف ادبی شخصیات جن میں احمد فراز ،امجد اسلام امجد ،تابش دہلوی،نور محمد پروانہ ،راغب مراد ابادی ،محسن بھوپالی،عطاالحق قاسمی ،عطا شاد ،سلیم کوثر ،ذکیہ غزل ،رانا ناہید ،گلنار آفرین ،ڈاکٹر طاہر تونسوی،منظر ایوبی،احمد خان مدہوش ،اوریا مقبول جان ،رفیق راز ،ناگی عبدالرزاق خاور ،سید شرافت عباس ناز ،صلاح الدین ناسک ،عرفان احمد بیگ ،عابد شاہ عابد ،عرفان الحق صائم ،بیرم غوری کے ساتھ مشاعرے پڑھنے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔
    ان کے چھ بچے ہیں جن میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں شامل ہیں آپ اردو ،سندھی،بلوچی ،براہوئیی ،اور سرائیکی یعنی پانچ زبانوں میں شاعری کرتے ہیں لیکن افسوس کہ ان کا ابھی تک کوئی شعری مجموعہ شائع نہیں ہو سکا کیونکہ غربت کی وجہ سے اتنے وسائل نہیں ہیں اور اتنے بڑے کنبے کے واحد کفیل ہیں ۔

    آغانیاز مگسی باغی ٹی وی میں بھی لکھتے رہے ہیں، باغی ٹی وی کے سی ای او مبشر لقمان سمیت ٹیم نے آغا نیاز مگسی کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے اور مرحوم کے لئے دعائے مغفرت کی ہے، لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی ہے

  • ہسپانوی شکاری نے چترال میں سیزن کے دوسرے  مارخور کا شکار کرلیا

    ہسپانوی شکاری نے چترال میں سیزن کے دوسرے مارخور کا شکار کرلیا

    چترال کے علاقے میں ایک اور کشمیری مارخور کا شکار کیا گیا، جس کا شکار ہسپانوی شکاری نے کیا۔ ڈویژنل فاریسٹ آفیسر (ڈی ایف او) وائلڈ لائف فاروق نبی کے مطابق، ہسپانوی شکاری نے یہ شکار چترال کے معروف علاقے گہریت گول کنزر وینسی میں کیا۔

    ڈی ایف او وائلڈ لائف فاروق نبی نے میڈیا کو بتایا کہ ہسپانوی شکاری کرسٹین ابیلو نے پانچ منٹ کے اندر 160 میٹر کے فاصلے سے مارخور کو نشانہ بنایا۔ شکاری نے اس شکار کے لیے پاکستانی حکام کو 2 لاکھ 20 ہزار ڈالر کے عوض ٹیکس ادا کیے۔یہ مارخور کا شکار سیزن کا دوسرا شکار تھا، جس سے قبل گزشتہ ماہ دسمبر میں امریکی شکاری رونالڈ جوویٹ نے بھی چترال میں ایک کشمیری مارخور کا شکار کیا تھا۔ حکام کے مطابق، رونالڈ جوویٹ نے اس شکار کے لیے اکتوبر میں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی بولی دی تھی، جس میں اس نے 2 لاکھ 71 ہزار ڈالرز میں شکار کے پرمٹ حاصل کیے تھے۔

    پاکستانی حکومت اور مقامی حکام اس شکار کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کو جنگلی حیات کے تحفظ اور علاقے کے مقامی باشندوں کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کشمیری مارخور کا شکار پاکستان میں خاص طور پر چترال میں بہت مقبول ہے، اور یہ بین الاقوامی شکاریوں کے لیے ایک بڑا کشش کا باعث بنتا ہے۔چترال میں کشمیری مارخور کے شکار پر پابندیاں اور قواعد و ضوابط موجود ہیں تاکہ ان جانوروں کی نسل کی حفاظت کی جاسکے۔

    گوجرانوالہ: باغی ٹی وی کی 13ویں سالگرہ کی تقریب منعقد، کیک کاٹا گیا

  • جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی، پی ٹی آئی،رابطے ٹوٹ گئے

    جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے سیاسی رابطے ٹوٹ گئے، 26 ویں آئینی ترمیم وجہ بنی

    مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے درمیان سیاسی تعلقات مکمل طور پر ٹوٹ چکے ہیں، جس کی بنیادی وجہ 26 ویں آئینی ترمیم ہے۔ نجی ٹی وی کے ذرائع کے مطابق دونوں جماعتوں کے درمیان یہ تعلقات اس وقت ختم ہوئے جب جے یو آئی کو اڈیالہ جیل سے حکومت کی جانب سے ہونے والے مذاکرات میں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    جے یو آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ کیے گئے مذاکرات میں انہیں اس معاملے پر بالکل آگاہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان بیک وقت حکومت اور اپوزیشن میں شامل ہیں، جس وجہ سے پی ٹی آئی کے لیے ان سے بات کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ذرائع کے مطابق، 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے وقت دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کی فضا قائم تھی، تاہم اب یہ تعلقات تلخ یادوں کے ساتھ ختم ہو چکے ہیں۔ سیاسی رابطوں کی اس سرد مہری کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ترمیم بنی ہے، جس پر جے یو آئی اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات گہرے ہو گئے ہیں۔

    یاد رہے کہ جے یو آئی کے قائد مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت کے ساتھ جو مذاکرات کر رہی ہے، اس میں جے یو آئی کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس حوالے سے کوئی تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہے کیونکہ ان کی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

    معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کی فرار کی کوشش ناکام ،دو ہلاک

  • معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کی فرار کی کوشش ناکام ،دو ہلاک

    معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کی فرار کی کوشش ناکام ،دو ہلاک

    رحیم یار خان کی پولیس نے خان پور کے ججہ عباسیہ کی بستی لاشاری میں معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث ڈاکوؤں کی فرار کی کوشش ناکام بنادی۔

    ڈی پی او رحیم یار خان رضوان گوندل نے بتایا کہ پولیس نے ڈاکوؤں کا تعاقب کرکے ان کا محاصرہ کیا اور اس دوران ڈاکوؤں سے فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں دو ڈاکو مارے گئے۔ پولیس نے ان کی لاشیں قبضے میں لے کر مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق یہ حملہ اندھڑ گینگ نے کیا تھا، جو کہ عثمان چانڈیہ کے قریبی عزیزوں پر حملہ کرنے والے ڈاکوؤں کا گروہ ہے۔ اس حملے میں فائرنگ کے نتیجے میں تین بھائی بھی جاں بحق ہوگئے تھے۔ڈی پی او نے بتایا کہ عثمان چانڈیہ، جو کہ پولیس کے لیے مخبری فراہم کرنے والے اہم شخص ہیں، ان کے خاندان کو پولیس نے حفاظتی حصار میں لے لیا ہے تاکہ ان کی جان و مال کی حفاظت کی جا سکے۔ عثمان چانڈیہ کی اطلاع پر کچھ ماہ قبل اندھڑ گینگ کے سرغنہ سمیت کئی دیگر ڈاکوؤں کو پولیس مقابلے میں ہلاک کیا گیا تھا۔پولیس کی اس کارروائی نے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف سخت اقدامات کی عکاسی کی ہے، جس کے بعد عوامی سطح پر سیکیورٹی میں مزید بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔

    مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے،سلمان اکرم راجہ

  • مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے،سلمان اکرم راجہ

    مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے،سلمان اکرم راجہ

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس کے فیصلے کا حکومت کے ساتھ جاری مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    انہوں نے یہ بات اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کا مقصد صرف اور صرف جمہوریت ہے، اور اس کا کیس کے فیصلے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ تاثر دینا کہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے جس کی وجہ سے القادر ٹرسٹ کیس کا فیصلہ مؤخر ہو رہا ہے، بالکل غلط ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت حکومت کے ساتھ اپنے مذاکرات جاری رکھے گی، لیکن یہ مذاکرات کسی بھی عدالتی فیصلے سے متاثر نہیں ہوں گے۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ القادر ٹرسٹ کیس میں فیصلہ تیسری بار مؤخر ہونے کے بعد یہ سننے میں آیا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تیسری نشست 15 جنوری کو ہونے جا رہی ہے، جس کا پی ٹی آئی کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    دوسری جانب بانی پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی،پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے بھی اس معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے خلاف ہمارے موقف کو دیکھتے ہوئے یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ اگر واقعی انصاف ہوتا تو عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف القادر ٹرسٹ کا فیصلہ بہت پہلے آ چکا ہوتا۔بیرسٹر گوہر نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے ہمیشہ کیس کے فیصلے کو جلدی سنائے جانے کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق، 11 بجے فیصلے کی توقع کی گئی تھی، مگر جج صاحب نے اپنی مرضی سے فیصلہ مؤخر کر دیا، جو کہ سیاسی نوعیت کا فیصلہ لگتا ہے۔

    کراچی: 105 ہندوجوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد

    جالندھر میں خودساختہ نبی سامنے آ گیا،عیسائیت کی پرچار،لوگ مذہب بدلنے لگے

  • کراچی: 105 ہندوجوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد

    کراچی: 105 ہندوجوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب کا انعقاد

    پاکستان ہندوکونسل کے زیراہتمام کراچی کے مشہور ریلوے گراؤنڈ میں 105 ہندوجوڑوں کی اجتماعی شادی کی ایک شاندار اور رنگین تقریب منعقد کی گئی۔ یہ تقریب نہ صرف مذہبی اور ثقافتی لحاظ سے اہمیت کی حامل تھی، بلکہ اس نے محبت اور اتحاد کا ایک خوبصورت پیغام بھی دیا۔

    شادی کی اس عظیم تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور جوڑوں کی خوشیوں میں شریک ہو کر اس لمحے کو یادگار بنا دیا۔ شریک ہونے والے افراد کی تعداد نے تقریب کی اہمیت اور اس کے اہتمام کو مزید بڑھا دیا۔ہر ایک جوڑے نے شادی کے مخصوص رسم و رواج کی پیروی کرتے ہوئے ہاتھوں میں مہندی اور ماتھے پر بندیا سجائے ہوئے تھے۔ جوڑوں کے ملبوسات بھی خاص طور پر خوبصورت اور رنگین تھے، جو شادی کی خوشیوں اور ان کے آغاز کو جیتے جاگتے جشن میں تبدیل کر رہے تھے۔اس تقریب کے دوران شریک افراد کا جوش و جذبہ قابل دید تھا، اور وہ اس دن کو اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار دن سمجھتے ہوئے خوشی سے سرشار تھے۔ ان جوڑوں کے لیے یہ ایک نیا آغاز تھا، جس کے دوران انہوں نے اپنے مستقبل کی امیدوں اور خوابوں کا وعدہ کیا۔

    پاکستان ہندوکونسل نے اس اجتماع کا اہتمام کیا تھا تاکہ نہ صرف ہندو کمیونٹی میں شادی کے تعلقات کو مضبوط کیا جا سکے، بلکہ انہیں اجتماعی طور پر خوشیوں کے موقع پر مل بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔اس خوبصورت اور رنگین تقریب نے ہر دل میں محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا، اور یہ بات ثابت کی کہ پاکستان میں مختلف مذاہب کے افراد کے درمیان ہم آہنگی اور محبت کا رشتہ مضبوط ہو رہا ہے۔

    ڈاکٹر رمیش کمار وانکوانی نے اجتماعی شادیوں کی تقریب کے دوران پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور ملک بھر میں مذہبی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے خصوصی دعا بھی کرائی جس میں تمام مہمانوں نے مذہبی تفریق سے بالاتر ہوکر بین المذاہب ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کی ایک بہترین مثال پیش کی۔

    جالندھر میں خودساختہ نبی سامنے آ گیا،عیسائیت کی پرچار،لوگ مذہب بدلنے لگے