Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • کیا حکومت کے پاس عوام کا صحیح مینڈیٹ ہے؟ مولانا فضل الرحمان کا سوال

    کیا حکومت کے پاس عوام کا صحیح مینڈیٹ ہے؟ مولانا فضل الرحمان کا سوال

    جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ مدارس کا مسئلہ مرکز میں معاملہ حل ہو گیا، اب صوبوں میں کیوں تاخیر کی جا رہی ہے، صوبوں سے بھی یہ قانون بننا چاہئے تا کہ اطلاق پورے ملک میں ہو،ہم تنازعات سے نکلنا چاہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان صاحب کی جامعہ صدیقیہ آمد ہوئی،جے یوآئی مرکزی شوریٰ کے رکن سابق اسپیکر بلوچستان اسمبلی الحاج سید مطیع اللہ آغا اور دیگر قائدین جمعیت کی طرف سے پرتپاک استقبال کیا گیا، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھاکہ صوبائی حلقے میں نادرا نے الیکشن کھولا اور کہا کہ صرف دو فیصد ووٹ ویرفائی کیا، 98 فیصد کا کچھ پتہ نہیں چل رہا کہ کہاں سے آیا،یہ نادرا کا تبصرہ ہے، اب حلقہ 45 کا 15 پولنگ سٹیشن ہوا، جس کوجتوایا گیا وہ ایک بھی پولنگ سٹیشن پر نہیں جیتا ، اس الیکشن پر کیسے اعتماد کیا جائے، ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کہتی ہے کہ میں نے نتائج مرتب کرنے ہیں، اسکا مطلب جمہوریت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، پھر لوگ تنقید تو کریں گے،ہمارا اعتراض ہے اور رہے گا، 2018 میں بھی ہمارا مؤقف یہی تھا ، اب بھی یہی ہے،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ محسن نقوی سے ملاقات ہوتی ہے، ہم سیاسی بات کر سکتے ہیں، ہمیں ملک کا نظام بہتر کرنا ہے، شکایت سیاستدانوں سے ہے جو جمہوریت، آئین، اصولوں پر کمپرومائز کرتے ہیں، صرف اسلئے کہ معتبری مل جائے، قوم میں معتبر نظر آئیں،قومی اتفاق رائے کے ساتھ معاملات طےہونے چاہئے،صوبو ں کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہئے،جہاں تک پارلیمنٹ کی سطح پر ہے قانون سازی مدارس کے حوالہ سے ہو چکی ہے، ایکٹ پاس ہو چکا، گزٹ ہو چکا، ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے جو دوسرے بورڈ قائم کئے گئے تھے انکو ریلیف دیا گیا، ہمیں اس پر اعتراض نہیں،سرکار نے بھی تو کچھ مدارس کو کنٹرول کرنے کے لئے لائن بنانی تھی، سیاسی ہتھیار کے طور پر وہ استعمال کریں گے،مرکز میں معاملہ حل ہو گیا، اب صوبوں میں کیوں تاخیر کی جا رہی ہے، صوبوں سے بھی یہ قانون بننا چاہئے تا کہ اطلاق پورے ملک میں ہو،ہم تنازعات سے نکلنا چاہتے ہیں،

    مولانا فضل الرحمان کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے مذکرات پر ہمیں اعتماد میں نہیں لیا ،مجھے اس کا علم نہیں ہے کہ وہ کیا کر رہے ہیں کیا کہہ رہے ہیں، مجھے کوئی معلومات نہیں،کہا جا رہا ہے معیشت سے متعلق اشارے مل رہے ہیں صرف معاشی اشاروں سے کام نہیں چلے گا ،میں بیان بازیوں کا ذمہ دار نہیں کہ کون کیا بیان دے رہا ہے، سیاستدانوں پر افسوس ہے کہ سمجھوتے کرلیتے ہیں ، خالد مقبول میرے لیے قابل احترام ہیں، وہ ایکٹ سمجھنے میرے گھر آئے تھے، وہ وزیرِ تعلیم ضرور ہیں لیکن میرے گھر پر زیرِ تعلیم ہیں ،مدتیں مارشل لاء بھی پورا کر لیتی ہیں، بنیادی بات یہ ہے کیا حکومت کے پاس عوام کا صحیح مینڈیٹ ہے،

    لاس اینجلس:آتشزدگی کے باعث خالی گھروں میں لُوٹ مار اور چوریاں

    بے باک صحافت کی ایک روشن مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • دنیا کا کوئی بھی پانی کا نظام لاس اینجلس آگ نہ بجھا سکا

    دنیا کا کوئی بھی پانی کا نظام لاس اینجلس آگ نہ بجھا سکا

    جمعہ کو جب جنوبی کیلیفورنیا میں آتشزدگی کے باعث تباہی کا سلسلہ جاری تھا اور حکام علاقے کے نقصانات کا جائزہ لے رہے تھے، ایک سوال گہرائی سے سامنے آیا،کیا اس سطح کی تباہی کو کسی طرح کم کیا جا سکتا تھا، یا کیا یہ بس آب و ہوا سے جڑے بحرانوں کے دور میں نیا معمول بن چکا ہے؟

    سی این این کی جانب سے کیے گئے جائزے اور درجن بھر ماہرین سے کیے گئے انٹرویوز کے مطابق اس کا جواب دونوں عوامل کا امتزاج معلوم ہوتا ہے۔لاس اینجلس کے شہر اور کاؤنٹی کے حکام نے ان آتشزدگیوں کو ایک "مکمل طوفان” کے طور پر بیان کیا، جس میں ہاریکین کی شدت کی ہوائیں (جو 100 میل فی گھنٹہ تک چل رہی تھیں) نے ان کے لیے ضروری ہوائی جہازوں کو استعمال کرنے میں رکاوٹ ڈالی، جو ابتدائی طور پر پانی اور آگ بجھانے والے مواد کی بوچھاڑ کر سکتے تھے۔ سی این این کے ساتھ انٹرویو کرنے والے ماہرین کا اتفاق تھا کہ ان ہواؤں، غیر موسمی خشک حالات اور ایک ہی جغرافیائی علاقے میں کئی آتشزدگیوں کے یکے بعد دیگرے ہونے کی وجہ سے وسیع تباہی کا سامنا کرنا ناگزیر تھا۔

    تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانوں نے کچھ ایسے اقدامات کیے ہوتے تو قدرتی آفات کے اثرات کو کم کیا جا سکتا تھا۔ نباتات کی انتظامی پالیسیوں کی کمی، پرانی انفراسٹرکچر اور گھروں کی حالت، اور منصوبہ بندی کا فقدان ان وجوہات میں شامل ہیں جنہوں نے ان آتشزدگیوں کو مزید بڑھاوا دیا۔ اب تک ان آتشزدگیوں نے 55 مربع میل سے زائد علاقے کو نقصان پہنچایا، ہزاروں عمارتوں کو تباہ کیا اور کم از کم 10 افراد کی جانیں لے لیں۔

    آتشزدگی سے لڑنے کے لیے سب سے اہم جزو پانی ہے، اور اس مسئلے پر تحقیق کی جا رہی ہے۔ آتش نشانی کے دوران، خاص طور پر جب ہوائیں تیز تھیں، ایک آتش نشانی کارکن نے ریڈیو پر اطلاع دی کہ "ہم نے زیادہ تر ہائیڈرنٹ کا دباؤ کھو دیا ہے۔” ماہرین کا کہنا ہے کہ چاہے ہائیڈرنٹس مکمل طور پر فعال بھی ہوں، پھر بھی ان آتشزدگیوں کی شدت کے مقابلے میں یہ کافی نہیں تھے۔کیل فورنیا کی ایک پبلک واٹر سپلائی کے بورڈ ممبر نے بتایا کہ بعض علاقوں میں پانی کے ذخائر بھی خالی ہو گئے تھے، اور جب بجلی کا نظام معطل ہوا تو پانی کو پمپ کرنے میں دشواری پیش آئی۔

    لاس اینجلس کے آتش نشانی کے چیف، کرسٹین کراؤلی نے اس بات پر زور دیا کہ محکمہ آتش نشانی کے لیے جو بجٹ کٹوتیاں کی گئیں، وہ اس وقت کی بڑی آفات کے مقابلے میں ان کے وسائل کی کمی کو مزید بڑھا چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کٹوتیوں نے محکمہ کی تیاری، تربیت اور بڑے پیمانے پر ایمرجنسی کی تیاری کی صلاحیت کو شدید متاثر کیا۔

    کیلیفورنیا میں آتشزدگیوں سے تحفظ کے لیے عمارتوں کے کوڈز ایک قومی ماڈل ہیں، لیکن یہ صرف ان عمارتوں پر لاگو ہوتے ہیں جو نئے قوانین کے تحت بنائی گئی ہیں۔ زیادہ تر عمارتیں جو اس ہفتے کی آتشزدگیوں میں متاثر ہوئیں، وہ پرانی تھیں اور ان پر یہ جدید حفاظتی قوانین لاگو نہیں تھے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ آتشزدگی کے دوران ہواؤں کی شدت اور دیگر عوامل کی وجہ سے تباہی کو روکنا تقریباً ناممکن تھا۔ یونائیٹڈ اسٹیٹس جیولوجیکل سروے کے سینئر محقق، جان کیلی نے کہا کہ "جب ہوائیں اتنی تیز ہوں، تو جو کچھ بھی بچانے کی کوشش کی جائے، وہ ناکام ہو جاتا ہے۔”

    اب جب کہ آتشزدگی سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے، ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ آئندہ آتشزدگیوں کو کم کرنے کے لیے علاقوں کی دوبارہ تعمیر کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں۔ خاص طور پر، پرانی عمارتوں کی مرمت اور نئے حفاظتی معیار کے مطابق ان کی تعمیر کو مزید فروغ دیا جائے۔لیکن سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آیا ان آتشزدگیوں کے شکار علاقوں کو دوبارہ تعمیر کرنا محفوظ ہو گا، یا کیا ان جگہوں پر بسنے والوں کو کم خطرے والے علاقوں میں منتقل ہونے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔

    لاس اینجلس میں آتشزدگی کی اس تباہ کن لہر نے ایک اور سبق دیا ہے، قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہمیں نہ صرف فوری اقدامات کی ضرورت ہے، بلکہ طویل مدتی منصوبہ بندی بھی درکار ہے تاکہ مستقبل میں ہونے والی آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔

    لاس اینجلس میں جنگلاتی آگ سے متاثرہ افراد کے لیے روز باؤل سٹیڈیم کے قریب ایک بڑا امدادی مرکز قائم کیا گیا، جہاں متاثرین کو کھانے پینے کی اشیاء، کپڑے، اور صفائی کا سامان فراہم کیا گیا،امریکی شہر لاس اینجلس اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشی جنگلوں میں لگی آگ سے اپنا گھر تباہ ہوتے ہوئے دیکھنے کے بعد شدید غم کا شکار ہیں۔ایل اے کاؤنٹی میں تقریبا ایک لاکھ اسی ہزار افراد کو علاقہ خالی کرنے کا کہا گیا ہے۔تاہم ہالی ووڈ ہلز ویسٹ کے علاقے سے لوگوں کے انخلا کا حکم واپس لے لیا گیا ہے کیونکہ وہاں آگ کم ہوتی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے کہ جنگل کی آگ کی ‘رخ بدل رہی ہے’

    لاس اینجلس میں لگنے والی آگ کی پیشگوئی پہلے کر دی تھی،معروف ماہر نجومی کا دعویٰ

    لاس اینجلس میں آگ، امریکی سوئمر نے 10 اولمپک تمغے کھو دیے

    لاس اینجلس میں آگ ،اداکارہ نورا فتیحی کیسے نکلیں؟

    لاس اینجلس میں تاریخ کی بدترین آگ، 6 ہزار گھر تباہ

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

  • مذاکراتی کمیٹی رابطہ کرے، اجلاس بلا لوں گا، ایاز صادق

    مذاکراتی کمیٹی رابطہ کرے، اجلاس بلا لوں گا، ایاز صادق

    اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے کہا ہے کہ وہ مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کے لیے تیار ہیں، تاہم ابھی تک کسی نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت یا اپوزیشن میں سے کوئی بھی فریق رابطہ کرے تو وہ اجلاس کے لیے تیار ہیں۔

    اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایاز صادق نے واضح کیا کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی اپوزیشن کی طرف سے مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس بلانے کے حوالے سے کوئی درخواست موصول ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کی بانی کمیٹی سے ملاقات حکومت کی ذمہ داری ہے، اور یہ ان کا کام نہیں ہے۔اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر حکومت اور اس کے اتحادی فیصلہ کر لیں کہ ملاقات ممکن ہے یا نہیں، تو وہ ایک دو روز کے نوٹس پر اجلاس بلانے کے لیے تیار ہیں۔ ایاز صادق نے یہ بھی بتایا کہ 4 جنوری کو انہوں نے اسد قیصر کو واضح طور پر بتا دیا تھا کہ پی ٹی آئی کے بانی ممبران سے ملاقات کا مطالبہ حکومت تک پہنچا دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ اور حکومت کے دیگر اکابرین سے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کا براہ راست رابطہ ممکن ہے، اور اس حوالے سے حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

    ایاز صادق کی اس گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی مذاکراتی عمل میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے لیے دونوں فریقوں کی جانب سے کسی باضابطہ درخواست یا رابطے کی ضرورت ہے۔

    خواتین کی تعلیم قومی بجٹ اور پالیسی میں اولین ترجیح ہونی چاہیے ،لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر

    خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم

  • خواتین کی تعلیم قومی بجٹ اور پالیسی میں اولین ترجیح ہونی چاہیے ،لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر

    خواتین کی تعلیم قومی بجٹ اور پالیسی میں اولین ترجیح ہونی چاہیے ،لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر

    اسلام آباد: لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے کہا ہے کہ خواتین کی تعلیم میرے دل کے قریب ہے اور یہ میری زندگی کا مقصد رہا ہے۔ اسلام آباد میں لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ ایسے معاشرے میں پلی بڑی ہیں جہاں صنفی تفریق عام تھی اور لڑکیوں کی تعلیم کو اکثر نظرانداز کیا جاتا تھا۔

    لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے اپنی ذاتی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "تعلیم کے ہنر کے باعث ہی میں آج یہاں آپ کے سامنے موجود ہوں۔” انہوں نے مزید کہا کہ بطور فوجی انہوں نے ملک کی خدمت کی اور یہ خدمات ممکن ہوئیں کیونکہ انہوں نے تعلیم حاصل کی۔انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ خواتین کی تعلیم کے لیے کئی چیلنجز موجود ہیں، لیکن ان چیلنجز کے باوجود بے شمار مواقع بھی موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "خواتین کی تعلیم قومی بجٹ اور پالیسی میں اولین ترجیح ہونی چاہیے تاکہ ہم اپنے معاشرے میں مزید تبدیلی لا سکیں۔”

    نگار جوہر نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے معاشرتی رویوں کو چیلنج کرنا ہوگا تاکہ لڑکیاں بھی وہ تمام مواقع حاصل کر سکیں جو ان کا حق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ "ہمیں فیصلہ سازی اور پالیسی سازی میں خواتین کو شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی آواز اور ضرورتیں موثر انداز میں سامنے آ سکیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ہم نے خواتین کی تعلیم کے لیے اہم اقدامات نہیں کیے تو ہم ترقی کے راستے پر نہیں چل سکیں گے اور نہ ہی ایک مضبوط معاشرتی ڈھانچہ قائم کر سکیں گے۔

    اس کانفرنس میں مختلف تعلیمی ماہرین اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے نمائندگان نے بھی شرکت کی اور خواتین کی تعلیم کے حوالے سے اہم باتیں شیئر کیں۔

  • خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ  اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم

    خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیراعظم

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ مریم نواز پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلیٰ بنیں، جو کہ ایک تاریخی کامیابی ہے، اور خواتین کو مردوں کے شانہ بشانہ معاشی و سماجی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم نے اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کی تعلیم اور ترقی میں شمولیت نہ صرف ان کے حقوق کا تحفظ ہے بلکہ پورے معاشرے کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ مسلم دنیا بشمول پاکستان کو لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ لڑکیوں کی تعلیم ایک بڑا چیلنج ہے اور مسلم ممالک کو اس مسئلے کے حل کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان کی حکومت لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات اور وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے تمام طبقات بشمول خواتین کو علم حاصل کرنے کی اہمیت بتائی ہے اور اس پر عملدرآمد کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملالہ یوسفزئی بھی اس کانفرنس میں شریک ہیں، جنہیں خوش آمدید کہا گیا۔ انہوں نے ملالہ کو بہادری اور ہمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فاطمہ جناح اپنے بھائی قائداعظم محمد علی جناح کے ساتھ کھڑی تھیں، اور بے نظیر بھٹو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بنیں۔ انہوں نے ارفع کریم کا ذکر بھی کیا، جو ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستان کی پہلی خاتون مائیکروسافٹ سرٹیفائیڈ انجینئر بنیں، اور آج مریم نواز کی صورت میں پاکستان کو پہلی خاتون وزیراعلیٰ بھی ملی ہے۔

    وزیراعظم نے اس موقع پر ایک اور اہم مسئلہ بھی اٹھایا کہ پاکستان میں تقریباً 22.8 ملین بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جن میں زیادہ تر لڑکیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تعداد کو کم کرنے کے لیے عالمی سطح پر اپنی آواز بلند کرنی ہوگی اور اس کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔شہباز شریف نے اعلان کیا کہ اسلام آباد اعلامیہ کو اقوام متحدہ اور سیکیورٹی کونسل میں پیش کیا جائے گا تاکہ عالمی برادری میں لڑکیوں کی تعلیم کے اہمیت کو اجاگر کیا جا سکے اور اس مسئلے کے حل کے لیے عالمی تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ کانفرنس کا انعقاد پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ شاہ سلمان اور محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے اس کانفرنس میں تعاون فراہم کیا۔

    اسرائیل کی یمن میں پاور اسٹیشن اور فوجی تنصیبات پر بمباری

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

  • ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

    ٹرمپ کی برطانوی شاہی خاندان سے محبت، امریکہ و برطانیہ کے تعلقات پر اثرات

    برطانوی شاہی خاندان نے تاریخ کے مختلف ادوار میں امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان "خصوصی تعلقات” کو زندہ رکھا گیا۔ اور اب جبکہ ایلون مسک، جو امریکہ کے منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب اتحادی ہیں، برطانوی حکومت کے ساتھ تنازعات میں ہیں، کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ برطانیہ اپنے قدیم سفارتی وسائل میں سے ایک یعنی شاہی خاندان کو مزید مؤثر طریقے سے استعمال کر سکتا ہے۔

    اس ہفتے، پرنس ایڈورڈ، ڈیوک آف ایڈنبرا نے امریکہ کا دورہ کیا تاکہ وہ سابق امریکی صدر جمی کارٹر کی تعزیت پیش کر سکیں، جو دسمبر میں سو سال کی عمر میں وفات پا گئے تھے۔ اس دوران، برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر کے لیے یہ اطمینان کا باعث ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے آنے والے صدر کو شاہی خاندان سے خصوصی محبت ہے، خاص طور پر ملکہ الزبتھ دوم سے۔

    2019 میں، جب ٹرمپ نے برطانیہ کا آخری سرکاری دورہ کیا، تو انہوں نے شاہی خاندان کے ارکان کو بھرپور تعریفوں سے نوازا۔ ٹرمپ نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، "میری ان سے بہت اچھی دوستی ہے، ہم ہنس رہے تھے اور مزے کر رہے تھے۔” اس دوران، وہ ملکہ الزبتھ سے بھی ملے تھے۔

    ٹرمپ شاہی خاندان کی شہرت اور اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ یہ خاندان روایتی معاشرتی اقتدار کی نمائندگی کرتا ہے، جیسا کہ شاہی تاریخ دان ایڈ اووینز نے بتایا۔ "وہ دنیا کے معروف ترین افراد میں سے ہیں اور ٹرمپ یہ سمجھنا چاہتے ہیں کہ وہ دنیا کے سب سے مشہور شخص ہیں۔”

    حالیہ دنوں میں، ٹرمپ نے برطانوی تخت کے وارث پرنس ولیم کی بھی تعریف کی، جن سے وہ دسمبر میں پیرس میں نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل کی دوبارہ افتتاحی تقریب کے دوران ملے تھے۔ ٹرمپ نے کہا، "وہ بہت شاندار کام کر رہے ہیں،” اور انہیں "اچھا آدمی” قرار دیا۔

    ٹرمپ کے ولیم کے بارے میں یہ تعریفیں، جو شاید روایتی سفارتکاری کی سب سے زیادہ نمونہ نہ ہوں، ان لوگوں کے لیے خوشی کا باعث ہوں گی جو امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، خاص طور پر جب کہ برطانوی لیبر پارٹی کے کچھ نمایاں افراد ٹرمپ کے آنے والے صدر بننے پر تنقید کر چکے ہیں۔ایڈ اووینز کے مطابق، "ٹرمپ اور کیئر اسٹارمر ہر بات پر ایک جیسے نہیں ہوں گے، یا کم از کم وہ ہر بات پر ایک جیسے نہیں دیکھیں گے، لیکن شاہی خاندان اس حقیقت سے کچھ حد تک پردہ ڈالنے کا کام کر سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے برطانوی شاہی خاندان کے لیے احترام، اگر برطانیہ اس کا اسٹریٹجک استعمال کرے، تو یہ برطانیہ کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔

    شاہی کمنٹری اور مصنف سیلی بیڈل اسمتھ نے اس بات سے اتفاق کیا کہ شاہی خاندان "ممکنہ طور پر ماحول کو نرم کرنے میں کردار ادا کر سکتا ہے، جو فی الحال کافی تناؤ کا شکار ہے۔”

    یہ "نرم طاقت” کا اثر نیا نہیں ہے۔ شاہی خاندان کی کئی نسلوں نے امریکہ اور برطانیہ کے درمیان رشتہ مضبوط رکھنے میں مدد کی ہے۔ مرحومہ ملکہ نے اپنے 70 سالہ دور میں 13 امریکی صدور کے ساتھ اچھے تعلقات قائم رکھنے کی بھرپور کوشش کی تھی، جیسا کہ سیلی اسمتھ نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا۔ "یہ برطانوی خارجہ پالیسی کا ایک اہم حصہ تھا۔”

    تاہم، جدید دور میں یہ بات یقینی ہے کہ ٹرمپ اور شاہی خاندان کے اہم ارکان، جیسے پرنس ولیم اور بادشاہ چارلس سوم، ہر معاملے پر اتفاق نہیں کریں گے، خاص طور پر ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے۔ پرنس ولیم اور ان کے والد بادشاہ چارلس موسمیاتی تبدیلی کے بارے میں آواز اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ نے توانائی کی پالیسی کے حوالے سے "ڈرل، بیبی، ڈرل” کے نعرے کے ساتھ مہم چلائی تھی اور حال ہی میں کہا تھا کہ وہ ایک ایسی پالیسی چاہتے ہیں جس میں ملک بھر میں پنکھے (ونڈ ملز) نہ بنائے جائیں۔

    اگرچہ یہ مختلف آراء شاہی خاندان کے اثر و رسوخ کو محدود نہیں کر سکتیں، ایڈ اووینز نے کہا کہ شاہی خاندان ان مسائل پر بات کرتے رہیں گے جن پر وہ یقین رکھتے ہیں، لیکن ان کے اثرات کی حد ہے۔ "مجھے نہیں لگتا کہ بادشاہ اپنی باتوں سے پیچھے ہٹیں گے، وہ موسمیاتی کارروائی کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہیں گے،” انہوں نے کہا۔ "لیکن وہ یہ بات بہت نرمی سے کریں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کا امریکی سیاست میں کوئی خاص کردار نہیں ہے۔”

    اگرچہ برطانوی شاہی خاندان کا امریکہ کی سیاست میں کوئی رسمی کردار نہیں ہے، ان کی نرم طاقت امریکہ اور برطانیہ کے تعلقات کے درمیان ممکنہ طور پر چیلنجز سے بھرے راستے کو ہموار کرنے میں مدد دے گی، اور یہ برطانوی حکومت کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط رہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس”  میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ "بلیک باکس” میں‌چار منٹ قبل ریکارڈنگ رک گئی تھی،انکشاف

    جنوبی کوریا میں گزشتہ ماہ پیش آنے والے طیارہ حادثے کی تحقیقات کرنے والے حکام نے کہا ہے کہ حادثے کے شکار مسافر بردار طیارے کے فلائٹ ریکارڈرز اس وقت کام کرنا بند کر چکے تھے جب طیارہ موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر رن وے پر زمین سے ٹکرا کر پھٹ گیا۔ اس حادثے میں 170 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    جنوبی کوریا کے حکام، جو اس ملک کے گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک ہوائی حادثے کی تحقیقات کر رہے ہیں، یہ امید کر رہے تھے کہ "بلیک باکسز” سے ملنے والی معلومات یہ وضاحت فراہم کریں گی کہ 29 دسمبر کو بنکاک سے روانہ ہونے والی جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 موان ایئرپورٹ پر زمین سے کس طرح ٹکرا گئی تھی اور آگ کی لپیٹ میں آ گئی تھی۔اس حادثے میں 179 مسافر اور عملے کے ارکان ہلاک ہوئے، جبکہ دو افراد زندہ بچ گئے تھے۔تاہم جنوبی کوریا کی وزارتِ نقل و حمل نے ہفتہ کے روز کہا کہ بوئنگ 737-800 کے کاک پٹ وائس ریکارڈر (CVR) اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر (FDR) تقریباً چار منٹ قبل کام کرنا بند کر چکے تھے۔

    وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ ڈیوائسز ریکارڈنگ کیوں روک چکے تھے اور وزارت اس بات کا تعین کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    بیان میں مزید کہا گیا، "CVR اور FDR ڈیٹا حادثے کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں، لیکن حادثے کی تحقیقات مختلف ڈیٹا کے تجزیے کے ذریعے کی جاتی ہیں، اس لیے ہم حادثے کے اصل سبب کی درست شناخت کے لیے اپنی بھرپور کوشش کریں گے۔”کاک پٹ وائس ریکارڈر کو ابتدائی طور پر مقامی سطح پر تجزیہ کیا گیا اور بعد میں اسے امریکہ بھیجا گیا تاکہ اس کا مزید جائزہ لیا جا سکے۔ وزارت نے بتایا کہ فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر، جو نقصان پہنچا ہوا تھا اور اس میں کنیکٹر غائب تھا، گزشتہ ہفتے تجزیے کے لیے امریکہ کے نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ بھیجا گیا، کیونکہ جنوبی کوریا کے حکام نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ اس ڈیوائس سے ڈیٹا نکالنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔

    یہ حادثہ 1997 کے بعد جنوبی کوریا کا سب سے مہلک فضائی حادثہ ہے، جب کورین ایئر لائنز کا بوئنگ 747 گوام کے جنگل میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 228 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

    اب تک حادثے کی وجہ واضح نہیں ہو سکی ہے اور تحقیقات میں کئی ماہ لگنے کی توقع ہے۔حادثے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ جب طیارہ ایمرجنسی لینڈنگ کر رہا تھا تو نہ پیچھے کا لینڈنگ گیئر نظر آ رہا تھا اور نہ ہی سامنے کا۔ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے پائلٹ نے میڈے کال کی اور "پرندے کا ٹکراؤ” اور "گھومنا” جیسے الفاظ استعمال کیے، حکام کا کہنا ہے کہ کنٹرول ٹاور نے پائلٹ کو علاقے میں پرندوں کی موجودگی سے آگاہ کیا تھا۔ فضائی ماہرین کے مطابق بہت سے ایئرپورٹس پر رن وے کے قریب اس طرح کی تعمیرات نہیں پائی جاتیں۔جنوبی کوریا کی پولیس نے گزشتہ ہفتے جیجو ایئر کے دفتر اور موان ایئرپورٹ کے آپریٹر پر چھاپے مارے تھے اور تحقیقات کے سلسلے میں یہ کارروائیاں کی تھیں،

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    امریکہ میں تباہ کن آگ،12 ہزار عمارتیں راکھ کا ڈھیر،ہزاروں افراد کی نقل مکانی

    امریکی شہر لاس اینجلس میں حالیہ دنوں میں لگی آگ نے تباہی مچا دی ہے اور اب تک یہ دنیا کی سب سے بڑی آتشزدگیوں میں سے ایک بن چکی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق، لاس اینجلس میں منگل سے شروع ہونے والی آگ تاحال بے قابو ہے، جس کے نتیجے میں شہر کی 12,000 سے زائد عمارتیں اور مکانات مکمل طور پر جل کر راکھ کا ڈھیر بن چکے ہیں۔حکام نے ابھی تک 11 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، تاہم اس تعداد میں مزید اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی اصل تعداد کا اندازہ لگانا ابھی قبل از وقت ہے۔ آگ کی شدت اور اس کے پھیلاؤ کے پیش نظر، کم از کم 2 لاکھ افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔آگ کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پیسیفک پےلی سیڈس کا علاقہ خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہالی وڈ کے بڑے نام اور ارب پتی شخصیات رہائش پذیر ہیں۔ آتشزدگی کے سبب کئی نامور ہالی وڈ سیلبریٹیز جیسے کم کارڈیشن، اپنے لاکھوں ڈالرز مالیت کے گھروں کو چھوڑ کر دیگر محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ اسی دوران، بعض علاقوں میں لوٹ مار کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

    موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے حکام نے پیلی سیڈس اور ایٹون کے علاقوں میں رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا ہے تاکہ مزید نقصانات سے بچا جا سکے۔ فائرفائٹرز نے شدید دباؤ کے باوجود آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھی ہیں، اور ہوا کا دباؤ کم ہونے پر انہیں کچھ کامیابی بھی حاصل ہوئی ہے۔ریاست کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے، گورنر نیوسم نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو متاثرہ ریاست کا دورہ کرنے اور حالات کا خود جائزہ لینے کی دعوت دی ہے۔ گورنر نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے، اور انہوں نے ٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ آ کر ان مشکل حالات میں ریاست کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔آگ کے نتیجے میں ہونے والے اس بڑے پیمانے پر نقصان کے بعد شہر کی بازیابی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں، اور اس دوران امدادی ٹیموں کی کوششیں اور عوامی تعاون انتہائی ضروری ہو گا۔

    پالیسیڈز فائر جمعہ کی رات مشرق کی طرف بڑھنا شروع ہوگیا، جس کے بعد لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ کے مطابق فائر فائٹرز اب مینڈی وِل کینیئن کے علاقے میں آگ کو قابو کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کپتان ایڈم وینگرپن نے سی این این کو بتایا، "آگ مینڈی وِل کینیئن کے علاقے میں ہے، اس لیے یہ 405 فری وے کے قریب آ رہی ہے۔””ہم نے شام 6 بجے کے قریب ریڈ فلیگ کی حالت سے نکل کر کچھ سکون محسوس کیا تھا، لیکن یہ ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم ان انتہائی ہوا کی حالت میں نہیں ہوتے، تب بھی آگ بہت تیزی سے اپنی سمت بدل سکتی ہے۔ اور ابھی یہ مشرق کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔”اس مشرق کی طرف بڑھنے سے، فائر فائٹرز اور طیارے بھی اس سمت میں منتقل ہو گئے ہیں۔ کپتان وینگرپن کے مطابق، 10 طیارے مینڈی وِل کینیئن کی طرف بھیجے گئے ہیں اور دو اضافی اسٹرائیک ٹیمیں بھی وہاں پہنچائی گئی ہیں۔

    ریڈ فلیگ وارننگ جو کہ تیز ہواؤں کے لیے جاری کی گئی تھی، آج شام ختم ہو گئی تھی، جس سے امید پیدا ہوئی کہ فائر فائٹرز بڑے آتشزدگیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ مینڈی وِل کینیئن میں، "اب تک وہاں زیادہ ہوا نہیں ہے”، وینگرپن نے کہا، اور یہ بھی بتایا کہ اس علاقے کی آگ کی وجہ زمین کی بناوٹ ہے، نہ کہ انتہائی تیز ہوائیں۔

    کیلیفورنیا ڈپارٹمنٹ آف ٹرانسپورٹیشن کے مطابق، آئی-405 فری وے پر کئی آف ریمپس بند کر دی گئی ہیں، کیونکہ پالیسیڈز فائر مغرب کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ فری وے میٹرو لاس اینجلس کے مغربی حصوں کو آپس میں جوڑنے والا اہم راستہ ہے۔ ان بند ہونے والے آف ریمپس میں گیٹی سینٹر میوزیم جانے والا ریمپ شامل ہے، جو کہ جمعہ کی شام کے دوران ایویکوایشن آرڈر میں آ گیا تھا۔ میوزیم کے عملے نے سی این این کو بتایا کہ وہ صرف ایمرجنسی اسٹاف کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ایک اور آف ریمپ جو اسکیر بال کلچرل سینٹر کی طرف جاتا ہے، وہ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اسکیر بال بھی ایک میوزیم اور لاس اینجلس کی اہم ثقافتی جگہ ہے۔

    جمعہ کی رات ایک نیا ایویکوایشن آرڈر جاری کیا گیا، جس میں آئی-405 فری وے کے حصوں اور اینسینو ریزرور پر ایویکوایشن کی ہدایات دی گئیں۔

    پریشان کن بات یہ ہے کہ آگ نے ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے اور کم از کم 10,000 سے زیادہ جائیدادوں کو نقصان پہنچا ہے۔

    اب تک کی صورت حال یہ ہے:
    پالیسیڈز فائر: 21,317 ایکڑ، 8% قابو پایا گیا
    ایٹن فائر: 14,117 ایکڑ، 3% قابو پایا گیا
    کینیٹھ فائر: 1,052 ایکڑ، 50% قابو پایا گیا
    ہرسٹ فائر: 771 ایکڑ، 70% قابو پایا گیا
    لِڈیا فائر: 395 ایکڑ، 98% قابو پایا گیا
    آرچر فائر: 19 ایکڑ، 0% قابو پایا گیا
    آگ کی وجہ سے 10,000 سے زیادہ عمارتوں کے نقصان یا تباہ ہونے کا خدشہ ہے، جو ابتدائی تخمینہ ہے اور بڑھ بھی سکتا ہے۔

    کیلیفورنیا کے حکام وفاقی امداد اور ملک بھر سے امدادی ٹیموں کے ساتھ مل کر آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میکسیکو نے بھی آگ بجھانے والوں اور دیگر عملے کو لاس اینجلس بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ کینیڈا بھی امریکی حکام کے ساتھ اس بات پر بات چیت کر رہا ہے کہ کس طرح مزید مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔اب تک 12,000 سے زیادہ افراد، 1,150 فائر انجن، 60 طیارے اور 143 واٹر ٹینکرز آگ بجھانے کی کارروائیوں میں شریک ہیں۔

    وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا چار سال کے منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

  • وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا  چار سال کے  منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    وزیر اعلی کی ہدایت،محکمہ صحت کا چار سال کے منصوبے کا لائحہ عمل پیش

    پنجاب میں صحت کے شعبے میں ایک نیا انقلاب آ رہا ہے، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر محکمہ صحت نے صوبے میں آئندہ چار سال کے ترقیاتی منصوبے کا لائحہ عمل پیش کر دیا ہے۔ اس منصوبے میں دل، جگر اور جل جانے والے مریضوں کے علاج کے لیے جدید طبی سہولتوں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا جائے گا، جس سے پورے صوبے میں معیاری علاج کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔وزیر مریم اورنگزیب کی صدارت میں پنجاب میں سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) کا پانچواں جائزہ اجلاس ہوا، جس میں صحت کی فراہمی کے بنیادی اور ثانوی نظام، پاپولیشن ویلفیئر، اعلی تعلیم اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں ترقی اور منصوبہ بندی کے چیئرمین نبیل احمد اعوان، سیکرٹری آصف طفیل اور متعلقہ محکموں کے سیکرٹریوں نے شرکت کی۔

    اہم فیصلے اور اقدامات:
    لاہور میں موروثی اور خون کی بیماریوں کے علاج کے لیے ایک ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ۔
    محکمہ صحت کو فنڈز کی بروقت فراہمی اور منصوبہ بندی پر وزیر مریم اورنگزیب نے شاباش دی۔
    ‘کلینک آن ویلز’ کے فلیگ شپ پروگرام کو تیز کرنے کی ہدایت۔
    بچوں کی نشوونما کی کمی (سٹینٹنگ گروتھ) روکنے کے لیے فولک ایسڈ اور وائرن کی فراہمی جاری رہے گی۔
    سٹینٹڈ گروتھ اور ذیابیطس کی سکریننگ کے لیے مشینوں کی فراہمی۔
    میڈیکل سٹیز اور یونیورسٹی کمپلیکسز کا قیام۔
    وزیراعلی نے ہسپتالوں میں مشینوں کی مسلسل فعالیت کو یقینی بنانے کی ہدایت دی۔
    3000 نرسوں کی بھرتی کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
    ضلعی اور تحصیل سطح پر ہسپتالوں کی اپگریڈیشن کی رفتار بڑھانے کی ہدایت۔

    دیگر اہم اقدامات:
    بہاولپور میں 200 بستروں کا ماں اور بچے کا ہسپتال اور میانوالی میں 100 بستروں کا ہسپتال قائم کرنے کی منصوبہ بندی۔
    پتوکی اور قصور میں ٹی ایچ کیو میں 20 بیڈز پر مشتمل ٹراما سینٹر کی تعمیر۔
    لاہور، سرگودھا، فیصل آباد اور ساہیوال میں کینسر ہسپتال بنائے جا رہے ہیں۔
    1610 آئی سی یو بیڈز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔
    وزیراعلی کے منصوبوں کے تحت 13831 ملین روپے کے فنڈز کے ساتھ بنیادی ہیلتھ یونٹس اور رورل ہیلتھ سینٹرز کی تجدید کا عمل جون تک مکمل کیا جائے گا۔
    ایمرجنسی سروسز کی بہتری کے لیے ریسکیو 1122 کے مزید سٹیشنز بنائے جائیں گے۔

    تعلیمی شعبے میں اقدامات:
    ہائیئر ایجوکیشن کی 100 سکیموں میں سے 81 جاری اور 19 نئی سکیموں پر کام کیا جا رہا ہے۔
    گوجرانوالہ یونیورسٹی کے قیام کے لیے 400 ملین مزید فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
    وزیر اعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ حکومت عوام کے خادم ہیں اور اس پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں آسانی آئے اور تمام محکموں کی کارکردگی کو تسلی بخش بنانے کے لیے بار بار جائزہ لیا جائے گا۔

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

  • ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    ملک ریاض کا دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح

    بحریہ ٹاؤن کے چیئرمین ملک ریاض نے دبئی میں بحریہ ٹاؤن کے ہیڈ آفس کا افتتاح کر دیا ہے،

    افتتاح کی تقریب میں رئیل اسٹیٹ سے وابستہ مختلف شخصیات اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی، جنہوں نے اس اہم موقع پر بحریہ ٹاؤن کی کامیابیوں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے حوالے سے گفتگو کی۔بحریہ ٹاؤن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی ریاض نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاؤن نہ صرف دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں قدم رکھ رہا ہے بلکہ مارکیٹ کی قیادت کرنے کے لیے پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحریہ ٹاؤن کا مقصد نہ صرف ایک اعلی معیار کی رہائش فراہم کرنا ہے بلکہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں نیا معیار متعارف کرانا ہے۔

    احمد علی ریاض نے بتایا کہ بحریہ ٹاؤن دبئی میں ایک جدید اور الٹرا لگژری طرزِ زندگی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس پروجیکٹ میں ٹاؤن ہاؤسز، اپارٹمنٹس کے ساتھ ساتھ تعلیمی ادارے جیسے اسکول اور کالج بھی تعمیر کیے جائیں گے تاکہ یہاں کے رہائشیوں کو تمام سہولتیں ایک ہی مقام پر دستیاب ہوں۔ہیڈ آف گلوبل سیلز نے اس پروجیکٹ میں شامل مزید اہم خصوصیات کے بارے میں بتایا۔ ان کے مطابق پروجیکٹ میں پارکس، کمیونٹی ہالز، اور ایک اسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا تاکہ رہائشیوں کو مکمل سہولتیں فراہم کی جا سکیں اور یہ پورا منصوبہ ایک جدید رہائشی کمیونٹی کی صورت میں ابھر کر سامنے آئے گا۔

    بحریہ ٹاؤن کا یہ نیا منصوبہ دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں انقلاب لانے کا وعدہ کرتا ہے اور اسے کمپنی کے عالمی سطح پر ترقی کے سفر میں ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن اب دبئی میں

    بچی کی موت،مریم نواز کی بحریہ ٹاؤن کو سیل کرنے کی دھمکی

    بحریہ ٹاؤن میں فحاشی کے اڈے بند کریں،لال مسجد والوں کی دھمکی، مقدمہ درج

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار