Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکہ، جنگلات میں آتشزدگی کی وجوہات کا انکشاف

    امریکی ریاست کیلی فورنیا میں حالیہ ایام میں جنگلات میں لگنے والی تباہ کن آگ کی وجوہات سامنے آ گئی ہیں۔

    ماہرین کے مطابق جنگل میں ہونے والی آتشزدگی کی سب سے اہم وجہ بجلی کی تاروں کا گرنا ہو سکتی ہے، جس کے ساتھ ساتھ وہاں پہلے سے موجود خشک ایندھن نے آگ کو تیز تر پھیلنے کا موقع دیا۔کیلی فورنیا میں آگ کی شدت میں اضافے کا ایک اور اہم عنصر ’’سانتا اینا ونڈز‘‘ کا چلنا ہے۔ یہ خشک اور گرم ہوائیں جو عام طور پر خزاں کے موسم میں چلتی ہیں، اس بار سرمائی مہینوں میں بھی چلیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان ہواؤں کا وقت تبدیل ہو چکا ہے اور اب یہ شمال مشرق سے آ کر کیلی فورنیا کی سرزمین کو خشک اور گرم بنا دیتی ہیں، جس کے نتیجے میں شدید خشک سالی کا سامنا ہوتا ہے۔ سانتا اینا ونڈز کی رفتار میں اضافے کے ساتھ ساتھ یہ ہوائیں اب 150 کلومیٹر فی گھنٹہ تک کی رفتار سے چلنے لگیں ہیں، جس سے نہ صرف زمین خشک ہو گئی ہے بلکہ آتشزدگی کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

    ایک اور اہم وجہ جس نے آگ کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی، وہ جنگل میں ایندھن کی بڑی مقدار تھی۔ گزشتہ دو موسموں میں ہونے والی نمی کی وجہ سے بڑی تعداد میں خود رو پودے اگ آئے تھے جو بعد میں شدید گرمی میں خشک ہو گئے، اور ان پودوں کی خشک حالت نے آگ کو بڑھاوا دیا۔ اس کے ساتھ ہی جنگلات میں بجلی کی لائنوں کی موجودگی نے بھی آگ لگنے کی رفتار کو تیز کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمِ سرما میں جنگلات میں لگنے والی آگ زیادہ تباہ کن ثابت ہوتی ہے کیونکہ اس موسم میں آگ تیزی سے پھیلتی ہے۔ اس بار اس آگ کا پھیلاؤ غیر معمولی تھا کیونکہ عام طور پر اس وقت کے دوران کیلی فورنیا میں جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات کم ہوتے ہیں، مگر ان تمام عوامل کے جمع ہونے کے سبب جنگلوں میں آگ لگ گئی اور اس نے شہری علاقوں تک پہنچنا شروع کر دیا۔کیلی فورنیا میں جنگلات کی آتشزدگی کی شدت گزشتہ چار دہائیوں کے دوران سب سے زیادہ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 2001 کے بعد سے جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور اب تک تقریباً 60 ہزار چھوٹے بڑے آتشزدگی کے واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

    فائر سائنٹسٹ جون کیلے کا کہنا ہے کہ جنگلات کی آتشزدگی میں انسانوں کے پیدا کردہ عوامل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات نے ماحولیاتی تبدیلیوں کو جنم دیا ہے اور کیلی فورنیا میں بڑھتی ہوئی آبادی کا سامنا ہے جس کا براہ راست اثر آتشزدگی کے واقعات پر پڑ رہا ہے۔جون کیلے کا کہنا ہے کہ جب آبادی بڑھتی ہے تو بجلی کی فراہمی بڑھانے کے لئے مزید بجلی کی لائنوں کی ضرورت پڑتی ہے، اور یہ لائنیں جنگلات میں آگ لگنے کے امکانات کو بڑھاتی ہیں۔ مائیک فلینیگن، ایک ماہر محقق کا کہنا ہے کہ تیز ہواؤں کے سبب گرنے والی بجلی کی لائنیں جنگلات میں آگ بھڑکانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ 2016 اور 2017 میں کیلی فورنیا میں اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوئی تھی جب بجلی کی لائنوں کی وجہ سے تباہ کن جنگلات کی آتشزدگی ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں پیسیفک گیس اینڈ الیکٹرک کمپنی کو 30 ارب ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنا پڑا تھا اور کمپنی دیوالیہ ہو گئی تھی۔یہ واقعات ایک بار پھر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جنگلات کی آتشزدگی کا مسئلہ محض قدرتی نہیں، بلکہ انسانی عوامل بھی اس میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

  • مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    مریم نواز کی جعلی تصویر وائرل کرنے والا گرفتار

    مریم نواز کی جعلی تصاویر وائرل کرنے کے معاملے میں ایف آئی اے کی اہم کارروائی

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جعلی تصاویر کو سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے معاملے میں ایف آئی اے نے اہم پیشرفت کی ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔تحقیقات نمبر 50/2025 مورخہ 07-01-2025 کے نتیجے میں، ایف آئی آر نمبر 06/2025 سی سی آر سی لاہور میں سیکشن 20، 21، 24 پی ای سی اے 2016 کے تحت درج کی گئی ہے۔ ملزم بلال حسین نے غیر ملکی معززین اور پاکستانی حکومتی شخصیات کے خلاف اے آئی جنریٹڈ توہین آمیز مواد فیس بک پر شیئر کیا، جس سے پاکستان کے دوستانہ اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچنے اور قومی مفاد کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ایف آئی آر نمبر 06/2025 مورخہ 10-01-2025 درج کی گئی۔ملزم بلال حسین ولد محمد حنیف (سی این آئی سی: 34502-3975735-3، پتہ: کھوکھر ٹاؤن، لاہور) کو گرفتار کر لیا گیا۔توہین آمیز پوسٹ کے لیے استعمال ہونے والا فیس بک اکاؤنٹ اور موبائل فون برآمد کر لیا گیا۔ملزم کو کل جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ملزم نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے اے آئی جنریٹڈ توہین آمیز مواد شیئر کیا۔دیگر ملوث سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی شناخت اور قانونی کارروائی جاری ہے۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم کی شناخت بلال کے نام سے ہوئی ہے، جو لاہور کا رہائشی ہے۔ ملزم نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے جعلی تصاویر تیار کیں اور انہیں فیس بک پر اپ لوڈ کیا۔ ان ویڈیوز میں مریم نواز کو غیر مناسب انداز میں پیش کیا گیا تھا، جس سے ان کی عزت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ایف آئی اے کی جانب سے ملزم کے خلاف پاکستان کے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کی ٹیم نے لاہور کے علاقے کھوکھر چوک سے ملزم بلال کو گرفتار کر لیا، جس کے بعد تحقیقات کا سلسلہ مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔

    اس واقعے پر ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر جعلی اور مضر مواد کی پھیلاؤ کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ملزم کی گرفتاری کے بعد سوشل میڈیا پر اس طرح کی سرگرمیوں کے خاتمے کی توقع کی جا رہی ہے تاکہ سوشل میڈیا کو ایک محفوظ پلیٹ فارم بنایا جا سکے۔

    مریم نواز کے مصافحہ کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل،تبصرے

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    بنی گالہ منتقلی خواہش،حقیقتا ایسا کچھ نہیں،خواجہ آصف

    وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں بنی گالہ منتقل ہونے کی پیش کش ہوئی تھی، تاہم خواجہ آصف نے اس بیان کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف بانی پی ٹی آئی کی خواہشات ہیں اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی کا معاملہ عدالت کے ساتھ تعلق رکھتا ہے، اس لیے اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ صرف عدالت کی جانب سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی یا گرفتاری کا فیصلہ سیاسی نہیں بلکہ قانونی عمل کے تحت ہوگا۔وزیر دفاع نے ملک کی معیشت کے بارے میں بھی گفتگو کی اور کہا کہ ہماری معیشت بتدریج سنبھل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں امن قائم ہو جائے تو پاکستان خود کفیل ہو سکتا ہے اور اقتصادی بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    خواجہ آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملک کے اندر سیاسی استحکام اور امن کی صورتحال سے معیشت کی بہتری ممکن ہے اور اس کے لیے تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان میں امن قائم ہو، تو معیشت میں خود کفالت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔انہوں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسیوں ملک کی معیشت کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

    واضح رہے کہ علیمہ خان نے دو روز قبل کہا تھا کہ علی امین گنڈا پور نے عمران خان کو اڈیالہ سے منتقل کرنے کی پیشکش کی تھی، جس کے بعد یہ بات چل رہی تھی کہ عمران خان کو اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی کی بات چیت چل رہی ہے تا ہم اب واضح ہو چکا ہے کہ بنی گالہ منتقلی پی ٹی آئی کی خواہش ہو سکتی ہے، حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے.

  • بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بڑھ گئیں

    بلوچستان میں اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ گزشتہ کئی مہینوں سے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں اغوا کے واقعات میں تیزی آئی ہے، جس سے شہریوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق، گزشتہ چند ماہ کے دوران 26 سے زائد افراد صوبے کے مختلف علاقوں سے اغوا کیے گئے ہیں، جن میں بعض افراد کی رہائی ابھی تک نہیں ہو سکی۔

    ان میں سے ایک اہم واقعہ 10 سالہ طالب علم مصور کاکڑ کا اغوا ہے، جس نے کوئٹہ میں بڑے پیمانے پر احتجاج کو جنم دیا۔ مصور کاکڑ کا اغوا ایک سنگین نوعیت کا واقعہ بن چکا ہے جس کی مذمت کرتے ہوئے شہریوں اور حقوق کے اداروں نے صوبائی حکومت اور پولیس سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے علاوہ، بلوچستان حکومت اور پولیس اب تک شعبان سے اغوا کیے گئے ایک ہی خاندان کے 7 افراد سمیت متعدد مغویوں کو بازیاب کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس صورتحال نے بلوچستان کی عوام میں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے مزید سوالات پیدا کر دیے ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اغوا برائے تاوان کی وارداتیں بلوچستان میں شدت اختیار کر چکی ہیں اور اس سلسلے میں موثر اقدامات نہ ہونے کی صورت میں یہ مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ صوبائی حکومت پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کی طرف توجہ دے اور اغوا کے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائے۔دوسری جانب، بلوچستان میں اغوا کی وارداتوں میں اضافے کے باعث عوامی تحفظ کا سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے، جس کے لیے فورسز کی جانب سے مزید کارروائیاں کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

  • 9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    9مئی کے 8 مقدمات میں عمران خان کی درخواست ضمانت دائر

    بانی پی ٹی آئی نے 9 مئی کے 8 مقدمات میں ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق چیئرمین عمران خان نے 9 مئی کے دوران درج ہونے والے 8 مقدمات میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت کے لیے درخواست دائر کر دی ہے۔ ان مقدمات میں جناح ہاؤس پر حملہ اور دیگر الزامات شامل ہیں۔لاہور ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں عمران خان نے موقف اختیار کیا ہے کہ 9 مئی کو وہ اسلام آباد میں نیب کی تحویل میں تھے اور ان پر سیاسی انتقام لینے کے لیے سازش کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ عمران خان نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ انہیں محض سیاسی وجوہات کی بنا پر ان مقدمات میں ملوث کیا گیا۔

    عمران خان کی درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ انہیں گزشتہ دو سال سے مختلف مقدمات کا سامنا ہے اور یہ تمام کارروائیاں انتقامی نوعیت کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے ہیں، وہ جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔عمران خان نے لاہور ہائی کورٹ سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف درج مقدمات میں ضمانت کی درخواستیں منظور کی جائیں تاکہ انہیں انصاف مل سکے اور ان پر عائد الزامات کا قانونی طریقے سے جائزہ لیا جا سکے۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

  • ملالہ یوسف زئی کی  پاکستان آمد

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد

    اسلام آباد:نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسف زئی اپنے وطن واپس پہنچ گئی ہیں، جہاں وہ خواتین کی تعلیم سے متعلق ایک اہم کانفرنس میں شرکت کریں گی۔ پارلیمانی سیکریٹری تعلیم نے ان کا استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد کے موقع پر وفاقی وزیرِ تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے اس بات کی تصدیق کی کہ ملالہ یوسف زئی 2 روزہ تعلیمی کانفرنس میں حصہ لیں گی۔ کانفرنس میں ملالہ یوسف زئی خواتین کی تعلیم سے متعلق موجودہ چیلنجز اور ان کے حل پر اپنی تجاویز اور خیالات پیش کریں گی۔یہ کانفرنس خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر مرکوز ہے اور اس میں عالمی سطح پر تعلیم کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف پہلوؤں پر بحث کی جائے گی۔ ملالہ یوسف زئی اس موقع پر اپنے ذاتی تجربات اور عالمی سطح پر تعلیم کے میدان میں خواتین کو درپیش مشکلات کو اجاگر کریں گی۔

    کانفرنس میں کرغزستان کی وزیرِ تعلیم بھی شریک ہو ں گی، جو اپنے ملک کی تعلیمی اصلاحات اور خواتین کی تعلیم کے حوالے سے تجربات کا تبادلہ کریں گی۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے چاروں وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزرائے تعلیم بھی اس کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

    ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد خواتین کی تعلیم کو فروغ دینا اور ایک بہتر معاشرتی ڈھانچے کے قیام کے لیے تعلیم کے اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کی تعلیم کا مقصد نہ صرف ایک بہتر خاندان بنانا ہے بلکہ ایک بہتر نسل اور بہتر مستقبل کی تشکیل بھی ہے۔کانفرنس کا عنوان "انٹرنیشنل کانفرنس برائے مسلم خواتین، چیلنجز اور مواقع” ہے، اور اس میں دنیا بھر سے تعلیم کے شعبے کے ماہرین، حکومتی نمائندے اور عالمی تنظیمیں شرکت کریں گی۔

    ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد اور اس کانفرنس میں ان کی شرکت کو خواتین کی تعلیم کے فروغ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سطح پر بھی تعلیم کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں مدد ملے گی۔

    میدان صحافت میں جرات کی مثال،مبشر لقمان،سالگرہ مبارک

    بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع

  • بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع

    بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع

    بھارت کی کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزے میں توسیع کر دی گئی

    بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے 7 جنوری کو شیخ حسینہ کا جبری گمشدگیوں اور ہلاکتوں میں ملوث ہونے کے باعث پاسپورٹ منسوخ کر دیا،بنگلہ دیش کے انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نے معصوم شہریوں کی نسل کشی میں ملوث ہونے پر حسینہ واجد کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے ،دوسری جانب بھارت نے سزا کے ڈر سے کٹھ پتلی حسینہ واجد کے ویزہ میں توسیع کر دی ،بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے بھارت کی جانب سے شیخ حسینہ کے ویزا میں توسیع سے متعلق میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاسپورٹ منسوخ ہونے کے بعد ویزے کا معاملہ ختم ہوجاتا ہے،

    1971سے لے کر شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے تک بنگلہ دیش میں بھارتی مداخلت جاری رہی ،بنگلہ دیش میں عوامی نقلاب کے نتیجے میں مودی کی کٹھ پتلی حسینہ واجد بھارت فرار ہوئی تھی،بھارت فرار ہونے کے بعد بنگلہ دیش میں حسینہ واجد کی ظالمانہ پالیسیوں اور سیاست کا مکمل طور پر اختتام ہوا ،شیخ حسینہ پر قتل، کرپشن اور متعدد بدعنوانی کے 31 مقدمات ہیں ، ان مقدمات میں قتل کے 26 جبکہ نسل کشی کے 4 مقدمات شامل ہیں،شیخ حسینہ کی غداری اور مسلم دشمنی کی واضح مثالیں موجود ہیں ،2014 میں شیخ حسینہ نے اپوزیشن پارٹی کے لیڈر کو محض جماعت اسلامی کا حصہ ہونے پر نظر بند کر دیا ،شیخ حسینہ نے اپنے دور اقتدار میں جماعت اسلامی کے متعدد رہنماؤں کو جھوٹے اور من گھڑت دہشتگردی کے مقدمات میں پھانسیاں دیں

    پاکستان کی نفرت میں اور مودی کے سائے تلے شیخ حسینہ نے اپنی ہی عوام پر ظلم کا بازار گرم کر رکھا تھا،حسینہ واجد کے ویزہ میں توسیع کر کے مودی سرکار آج بھی بنگلہ دیشی عوام کو انصاف کے حصصول سے محروم کر رہی ہے

  • سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی سالگرہ

    پاکستان کے معروف اور سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان کی آج سالگرہ ہے۔سالگرہ کے موقع پر مبشر لقمان کو مختلف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہوئے ہیں

    مبشر لقمان 11 جنوری 1963ء کو لاہور میں پیدا ہوئے تھے۔مبشر لقمان نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر لاہور سے حاصل کی اور انٹرمیڈیٹ تک کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور میں مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخلہ لیا۔مبشر لقمان نے اپنی صحافتی کیریئر کا آغاز چینل بزنس پلس سے بطور میزبان کیا تھا۔ ٹیلی ویژن اسکرین پر اپنے پہلے تجربے کے دوران انہوں نے پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی مسائل کو اجاگر کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایکسپریس نیوز میں پروگرام "پوائنٹ بلینک” کی میزبانی کی اور پھر دنیا نیوز میں منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے "کھری بات ود لقمان” کے نام سے پروگرام کیا۔

    مبشر لقمان نے اے آر وائی نیوز میں "کھرا سچ” کے پروگرام کی میزبانی کی جس کے ذریعے انہوں نے متعدد سیاستدانوں کی کرپشن اور جھوٹ کو بے نقاب کیا۔ ان کا پروگرام "کھرا سچ” عوام میں بے حد مقبول ہوا اور اس کے ذریعے انہوں نے کئی سیاسی معاملات پر کھل کر اپنی رائے دی۔مبشر لقمان مختلف ٹی وی چینلز میں کھرا سچ پروگرام کرتے رے، آج کل 365 نیوز پر انکا پروگرام کھراسچ جمعہ سے اتوار شام آٹھ بجے نشر ہوتا ہے، اس دوران، ان پر کرپشن کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں کئی مقدمات بھی درج کیے گئے، مگر عدالتوں نے ان کے حق میں فیصلے دیے اور ان کی سچائی کو تسلیم کیا۔

    ml
    مبشر لقمان نے اپنے صحافتی سفر میں کئی سنگ میل عبور کیے ہیں اور انہیں ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ خدمات کے لیے نہ صرف پاکستان میں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔ ان کا اندازِ صحافت، ان کی جرات مندانہ تحقیقات اور سچائی کی تلاش نے انہیں میڈیا کی دنیا میں ایک منفرد مقام دلایا ہے۔مبشر لقمان کی سب سے زیادہ شہرت حاصل کرنے والی خصوصیت ان کی بے باک صحافت اور سوالات اٹھانے کی جرات ہے۔
    وہ کئی بڑے نیوز چینلز کے ساتھ وابستہ رہ چکے ہیں اور ان کی تحقیقاتی رپورٹنگ نے عوامی سطح پر گہری تاثیر ڈالی ہے۔

    مبشر لقمان نہ صرف ایک قابل صحافی ہیں بلکہ انہوں نے سیاست میں بھی اپنی موجودگی کو محسوس کرایا ہے۔ وہ 2007 اور 2008 میں پنجاب کے وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مواصلات بھی رہے ہیں۔ اپنے پروگرام "کھرا سچ” کے ذریعے، انہوں نے نہ صرف حکومتی کرپشن کو بے نقاب کیا بلکہ عوامی مسائل پر بھی گہری نظر رکھی۔

    mubasher

    مبشر لقمان کی ایمانداری اور بے باکی کی بدولت وہ ایک اہم شخصیت بن چکے ہیں۔ پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد مبشر لقمان کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا بھی رہا، اور ان کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، تاہم وہ ہمیشہ اپنی سچائی پر قائم رہے اور کرپشن کے خلاف آواز بلند کرتے رہے۔ مبشر لقمان کے بارے میں سابق وزیر اعظم عمران خان نے بھی یہ اعتراف کیا کہ وہ ایک بہادر صحافی ہیں جو طاقتوروں کی کرپشن کو بے نقاب کرتے ہیں۔مبشر لقمان نے ہمیشہ حقائق کو سامنے لانے اور حکومتی کرپشن کو بے نقاب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ پاکستان کے واحد اینکر ہیں جنہوں نے ہمیشہ سچ بولنے کی جرات دکھائی اور حکمرانوں اور اپوزیشن دونوں کو آئینہ دکھایا۔

    مبشر لقمان پاکستان کے سب سے بڑے ڈیجیٹل میڈیا نیٹ ورک باغی ٹی وی کے سی ای او بھی ہیں ۔ باغی ٹی وی اردو انگریزی، چینی زبان، پشتو ، دری میں شائع ہو رہا ہے، مبشر لقمان کا یوٹیوب چینل مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل بھی پاکستان کے مقبول ترین چینلز میں سے ہے۔بیباک تبصروں اور تجزیوں کے ساتھ کھرا سچ اور پھر اس پر ڈٹ جانا مبشر لقمان کی پہچان ہے، انہوں نے مفاد کی خاطر کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا بلکہ علی الاعلان کلمہ حق کہا یہی وجہ ہے کہ ان پر نہ صرف مقدمے بنائے گئے بلکہ متعدد بار انکے پروگرام کو بھی بند کروانے کی مذموم کوشش کی گئی.

    mubasher

    مبشر لقمان پاکستان برج فیڈریشن کے صدر بھی ہیں، دو برس قبل لاہور میں انہوں نے ایشیا اور مڈل ایسٹ کے برج فیڈریشن کے تحت مقابلہ جات کروائے جس میں بھارت سمیت کئی ممالک کی ٹیموں نے شرکت کی.پاکستان برج فیڈریشن کے صدر مبشر لقمان برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ کے نائب صدر بھی ہیں. یہ نہ صرف مبشر لقمان اور پاکستان برج فیڈریشن کیلئے ایک اعزاز کی بات ہے جبکہ ملک پاکستان کیلئے بھی اعزاز ہے کہ مبشر لقمان کو اس کھیل کے میدان میں عالمی سطح پر انہیں اپنی خدمات پر سراہا جارہا ہے.

    pbf ml

    مبشر لقمان کی سالگرہ کے موقع پر سوشل میڈیا سائٹ ٹوئٹر پر HBD_Mubasherlucman ٹرینڈ میں مداحوں سمیت معروف شخصیات کی جانب سے مبارکباد کے پیغامات موصول ہورہے ہیں اور ساتھ ہی نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے-

    ml

  • ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار

    ہنجروال کے علاقہ میں غیر ت کے نام پر قتل، باپ سمیت ملزمان گرفتار

    ہنجروال پولیس نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کرتے ہوئے غیرت کے نام پر 19 سالہ شمائلہ پر گولیاں برسانے والے باپ سمیت 03 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔گرفتار ملزمان فیاض، امتیازاور سلیم شامل ہیں۔ مقتولہ کے چچا امتیاز سے پسٹل 30 بور بمہ گولیاں برآمدکر لی گئیں۔ شمائلہ نے مدنی نامی لڑکے سے پسند کی شادی کی ہوئی تھی۔

    لوہاری گیٹ پولیس نے واردات کی منصوبہ بندی ناکام بناتے ہوئے قدیمی باغ کے قریب سے دو رکنی ریکارڈ یافتہ موٹر سائیکل چور گینگ گرفتار کر لیا۔گرفتار ملزمان میں سرغنہ سردار علی اور ساتھی محمد علی بٹ عرف بیبو شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے موٹر سائیکل اور غیر قانونی اسلحہ برآمدکر لیا گیا۔

    قائد اعظم انڈسٹریل اسٹیٹ پولیس نے بھی دو رکنی متحرک موٹر سائیکل چور گینگ اور ایک منشیات فروش کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار ملزمان کے قبضہ سے 2 موٹر سائیکل ماسٹر چابیاں،موبائل فون اور پستول برآمدکیا گیا۔گرفتار ملزمان میں محمد زمان اور نعیم شامل ہیں جبکہ ملزم فیصل مسیح کے قبضہ سے 1420 گرام چرس برآمدکی گئی۔

    چوکی گلدشت ٹاؤن پولیس نے 15 کی کال پر فوری کارروائی کرتے ہوئے شادی ہال کے باہر سر عام ہوائی فائرنگ کرنے والے 04 ملزمان ہاشم، سمیر، عمیر اور علی شیر کو حراست میں لے لیا۔ ملزمان سے رائفل، 02 پستول میگزین اور گولیاں برآمد کی گئیں۔

    ڈولفن سکواڈنے 15 کال پر کارروائی کرتے ہوئے گھروں اور فلیٹوں میں چوری کرنیوالا 3 رکنی گروہ گرفتارکر لیا۔ملزمان سہراب،امیر اور ہارون شامل ہیں۔ ملزمان کے قبضہ سے 235000 روپے نقدی برآمدکی گئی۔ ملزمان نے شہری عصمت کے فلیٹ سے چوری کی تھی۔ڈولفن سکواڈ نے اسلحہ کی نمائش کیخلاف مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 4 ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ملزمان کے قبضہ سے 2 پستول اور2 رائفلیں برآمدکی گئیں۔ گرفتار ملزمان میں حسن،جواد، علی اور فریاد شامل ہیں۔

    علاوہ ازیں ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے احکامات کی روشنی میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سول لائنز ڈویژن پولیس کی جانب سے تھانہ مغلپورہ کی بلڈنگ میں موک ایکسرسائز کا انعقاد کیا گیا۔ہنگامی مشقوں میں پولیس،بم سکواڈ، ریسکو،ایلیٹ فورس اور سی ٹی ڈی سمیت دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں نے شرکت کی۔موک ایکسرسائز میں فرضی دہشت گردوں کو پکڑنے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا مظاہرہ بھی کیا گیا۔ایس ڈی پی او سول لائن سول لائن انتخاب شاہ نے موک ایکسرسائز میں حصہ لینے والے تمام جوانوں کی قابلیت کو سراہا۔

    آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟

  • آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

    آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔اڈانی

    انفوسس کے چیئرمین نارائن مورتی کی طرف سے ہفتے میں 70 گھنٹے کام کرنے کے بیان نے انٹرنیٹ پر ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ ان کے اس بیان پر مختلف طبقوں کی جانب سے مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ نارائن مورتی کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنے ملازمین سے زیادہ محنت کرانے کا سوچتے ہیں تو ہمیں اس کی نوعیت کو سمجھنا ہوگا اور اس کی وجہ سے کام کے اوقات کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔

    ان کے اس بیان کے بعد لارسن اینڈ ٹوبرو کے چیئرمین ایس این سبرامنیم نے ایک متنازعہ بیان دیا جس میں انہوں نے اپنے ملازمین سے ہفتے میں 90 گھنٹے کام کرنے کی اپیل کی۔ سبرامنیم نے یہ تک کہا کہ اگر انہیں اتوار کو بھی کام کرانے کا موقع ملے تو وہ اس پر خوش ہوں گے کیونکہ وہ خود اتوار کو بھی کام کرتے ہیں۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر مزید بحث کا باعث بنا اور لوگوں نے ان کی باتوں کو مختلف طریقوں سے زیرِ بحث لایا۔

    سبرامنیم کا کہنا تھا کہ ’’اگر آپ گھر پر بیٹھ کر کام نہ کر رہے ہیں تو آپ کیا کر رہے ہیں؟ آپ اپنی بیوی کو کب تک گھوریں گے؟‘‘ اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر ملازمین کی فلاح و بہبود اور کام و زندگی کے توازن پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

    اسی دوران، اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے بھی ورک لائف بیلنس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ ایک انٹرویو کے دوران گوتم اڈانی نے کہا کہ ’’ورک لائف بیلنس تب محسوس ہوتا ہے جب انسان اپنی پسند کا کام کرتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جب آپ یہ حقیقت قبول کر لیتے ہیں کہ آپ فانی ہیں تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔‘‘گوتم اڈانی نے خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ورک لائف بیلنس کو نہ تو میرے اوپر تھوپنا چاہیے اور نہ ہی میری پسند کو کسی دوسرے پر تھوپنا چاہیے ۔‘‘ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’’اگر کوئی شخص چار گھنٹے اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتا ہے اور اس میں خوش رہتا ہے، تو وہ اس کا ورک لائف بیلنس ہے، چاہے کسی اور کا توازن مختلف ہو۔‘‘. یا کوئی دوسرا شخص آٹھ گھنٹے گزار کر لطف اندوز ہوتا ہے، تو یہ اس کا توازن ہے، اس کے باوجودکہ اگر آپ آٹھ گھنٹے گھر پر بیٹھ کر گزاریں گے تو آپ کی بیوی بھاگ جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’کام اور زندگی کا توازن اس وقت ہوتا ہے جب آپ وہ کام کرتے ہیں جو آپ پسند کرتے ہیں۔ ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہے سواۓ اس کے کہ ہم اپنے پیاروں کے ساتھ خوش رہیں۔‘‘ گوتم اڈانی نے اس بات پر زور دیا کہ ’’ہماری دنیا یا تو خاندان ہے یا کام، اس کے سوا کچھ نہیں ہے۔‘‘

    ان بیانات نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر ورک لائف بیلنس اور محنت کے اوقات پر بحث کو شدت دے دی ہے، جہاں مختلف لوگ اس بات پر متفق یا غیر متفق نظر آ رہے ہیں کہ کیا واقعی اتنے زیادہ کام کے اوقات کار درست ہیں یا یہ ملازمین کی صحت اور فلاح کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

    محمد آصف نے سارک اسنوکر چیمپئن شپ جیت لی،صدر،وزیراعظم کی مبارکباد

    اسپین جانے والی پناہ گزین کشتی پر بچی کی پیدائش

    2025 کے لیے دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹ،پاکستان کا کونسا نمبر؟