Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 18 برس بعد دوسری شادی کرنیوالی خاتون نے اپنی شرائط بتا دیں

    18 برس بعد دوسری شادی کرنیوالی خاتون نے اپنی شرائط بتا دیں

    گزشتہ دنوں سوشل میڈیا پر عبدالاحد اور ان کی والدہ مدیحہ کاظمی کی تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئیں جن میں عبدالاحد کی والدہ کا نکاح دکھایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد، عبدالاحد اور مدیحہ کاظمی نے نکاح کی تفصیلات شیئر کی ہیں اور اس حوالے سے کھل کر بات کی ہے۔

    حال ہی میں ایک انٹرویو میں عبدالاحد نے بتایا کہ "گزشتہ 18 سالوں میں اماں کے کئی رشتے آئے، اور ہم نے ہمیشہ ان سے شادی کرنے کی درخواست کی، لیکن وہ ہمیشہ انکار کر دیتی تھیں۔ ایک دن جب میں آفس سے گھر آیا، تو والدہ کمرے میں آئیں اور کہا کہ طوبیٰ (بیٹی) نے ایک رشتہ پیش کیا ہے، جس میں ایک انکل کی بات ہو رہی ہے۔” عبدالاحد نے مزید کہا کہ "میں نے یہ بات سنی اور زیادہ توجہ نہیں دی کیونکہ ہم نے اس بارے میں کبھی بات نہیں کی تھی اور اماں بھی ہمیشہ اس بات کو رد کر دیتی تھیں۔”

    عبدالاحد نے یہ بھی بتایا کہ "ایک دو دن بعد والدہ پھر کمرے میں آئیں اور کہا کہ ان کی اس شخص سے بات ہو چکی ہے۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ وہ سنجیدہ ہیں۔ پھر والدہ نے کہا کہ ایک بار تم بھی بات کرو، اور میں نے اس موقع پر ان کا ساتھ دیا، حالانکہ یہ میرے لیے تھوڑا مشکل تھا۔ لیکن جب نکاح کا وقت آیا، تو مولوی صاحب بھی بہت خوش تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ بیٹا اپنی والدہ کے نکاح میں گواہ بنتا ہے۔”

    مدیحہ کاظمی نے اس موقع پر اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ "جب مجھے طلاق ہوئی تھی، تو میرے بچے بہت چھوٹے تھے۔ اس وقت میں نے یہ فیصلہ کیا کہ میں دوبارہ شادی نہیں کروں گی کیونکہ ہمارے معاشرے میں طلاق شدہ خواتین کو کم ہی قبول کیا جاتا ہے، اور بچے بھی اس رشتہ میں کسی دوسرے کو آسانی سے قبول نہیں کرتے۔ اس وجہ سے مجھے شادی کرنے کا خوف تھا۔” انہوں نے کہا کہ "میری پہلی شرط یہ تھی کہ اگر وہ میرے بچوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے، تب ہی میں نکاح کرنے پر رضامند ہوں گی۔”

    مدیحہ کاظمی نے تمام سنگل پیرنٹس کو مشورہ دیا کہ "زندگی کو ایک نیا موقع دیں اور شادی کریں، کیونکہ یہ صرف آپ کے لیے نہیں بلکہ آپ کے بچوں کے لیے بھی ضروری ہے۔”

    عبدالاحد نے سوشل میڈیا پر اپنی والدہ کے نکاح کی ویڈیو شیئر کرنے کے حوالے سے بتایا کہ "مجھے اس ویڈیو کو اپ لوڈ کرنے میں تھوڑی ہچکچاہٹ ہو رہی تھی، لیکن دوستوں کے کہنے پر میں نے وہ ویڈیو شیئر کر دی، اور اس کا مجھے مثبت ردعمل ملا۔”

    شادی کی آڑ میں مجرا پارٹی سے رقاصاؤں سمیت 50 افراد گرفتار

    بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی،دولہا کو 6 ماہ قید کی سزا

    بھارتی دو اداکاراؤں کی عمر40 برس سے زیادہ ،شادی کیوں نہ کی

  • کراچی: ٹریفک حادثات، 4 موٹر سائیکل سوار جاں بحق،  شہریوں نے ٹینکر کو آگ لگادی

    کراچی: ٹریفک حادثات، 4 موٹر سائیکل سوار جاں بحق، شہریوں نے ٹینکر کو آگ لگادی

    کراچی میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹریفک کے مختلف حادثات میں 6 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ حادثات شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آئے، جن میں ٹرک اور ٹینکر کی ٹکر سے کئی افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    شہید ملت روڈ پر بلوچ کالونی جانے والی ٹریک پر ٹینکر کی زد میں آ کر دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق حادثے کے بعد ایک شخص زخمی بھی ہوا، جسے فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ٹینکر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا، جس کے بعد مشتعل شہریوں نے ٹینکر کو آگ لگا دی۔ پولیس نے واقعہ کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
    جاں بحق و شدید زخمی ہونے والے بائیک سواروں کی شناخت
    1- سید نعمان ولد سید مرغوب علی عمر 57سال (جاں بحق)
    2- محمد اسرار ولد محمد یاسین عمر 49سال (جاں بحق)
    3- شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر 30سال(زخمی)

    بلدیہ ٹاؤن کے قریب حب ریور روڈ پر بھی ایک واٹر ٹینکر کی ٹکر سے دو موٹر سائیکل سوار جاں بحق ہوگئے۔ اس حادثے میں بھی ٹینکر ڈرائیور فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔ پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب ٹینکر نے موٹر سائیکلوں کو ٹکر مار کر انہیں کچل دیا، جس کے نتیجے میں دونوں افراد موقع پر ہی دم توڑ گئے۔

    کاٹھور کے علاقے میں ایک اور ٹریفک حادثے کی اطلاع ملی ہے، جہاں ایک کار سوار نے کوسٹ گارڈ کے اہلکار کو ٹکر مار کر شدید زخمی کر دیا۔ پولیس کے مطابق زخمی اہلکار بعد ازاں چل بسا۔ کار سوار نے کچھ دور جانے کے بعد اپنی گاڑی چھوڑ کر فرار ہو گیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کی تلاش شروع کر دی ہے۔

    کورنگی کے علاقے میں چمڑا چورنگی کے قریب ایک کار نے موٹر سائیکل سوار کو ٹکر مار کر اسے نالے میں پھینک دیا، جس سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔ اس حادثے میں بھی کار سوار موقع سے فرار ہوگیا۔

    پولیس حکام کے مطابق رواں سال کے ابتدائی دس دنوں میں کراچی میں مختلف ٹریفک حادثات میں 22 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ 261 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ان حادثات کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔کراچی میں بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں، جس پر قابو پانے کے لیے پولیس اور متعلقہ اداروں کو مزید سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

    گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ معاشی حب کراچی میں ٹینکرز موت بانٹتے پھر رہے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔گورنر سندھ نے کراچی کے علاقے شہید ملت روڈ پر ٹینکر سے 2 افراد کے جاں بحق ہونے پر اظہارِ تشویش کیا اور آئی جی سندھ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی،کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ غم کی اس گھڑی میں لواحقین کے ساتھ ہوں۔

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

  • فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    فہیم حیدر پر کروڑوں کی بارش، مبشر لقمان کو خاموش رہنے کی اپیل

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کچھ دن پہلے میں نے ایک پروگرام کیا تھا جس میں بتایا تھا کہ او جی ڈی سی میں کس حد تک کرپشن ہو رہی ہے، آج اسکا پارٹ ٹو بتاؤں کہ اربوں روپے کی کرپشن ہو رہی، نااہلی، غلط فیصلوں کی وجہ سے ایسا ہو رہا،نقصان ہو رہا، کرپشن کے انبار ہیں، کتنا پیسہ کس کو گیا کیسے لوٹا گیا،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر اپنے وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گیس کی پیداوار ہے کیا، لاگت کتنی آتی ہے، اس کے برعکس امریکہ میں کتنی لاگت آتی ہے، حکومتی وزرا میڈیا پر آ کر سرعام جھوٹ بولتے ہیں، وزرا نوازشات کی برسات کر رہے ہیں، گیس کی پیداوار میں گھپلے کیسے ہو رہے، ماری پٹرولیم لمیٹڈ کی نوے فیصد پیدوار اور آمدنی ماری گیس فیلڈ سے آتی ہے ، ایکس اون،اسکا تجارتی نام ایس او ہے، پاکستان میں فی مکعب فٹ گیس کی پیداواری لاگت چھ لاکھ ڈالر ہے، امریکہ میں دو سے تین لاکھ ڈالر ہے، پاکستان میں گیس کی قیمتیں اس لئے زیادہ کیونکہ پیدواری لاگت دگنا ہے، یہ انتظامیہ کی نااہلی ہے،زرون گیس فیلڈ کی ماہانہ آپریٹنگ لاگت چار لاکھ ڈالر ہے، جبکہ امریکہ میں صرف 30 ہزار ڈالر لاگت ہے،ماری پٹرولیم لمیٹڈ کے اخراجات سولہ فیصد یا امریکہ سے بھی آگے ہیں، اس میں قصور حکومت یا موجودہ نظام کا ہے، نہ کمپنی میں بہتری لا سکے، نہ اپنی پرفارمننس بہتر کر سکے، ماری پٹرولیم میں ڈرلنگ کے اخراجات ایم پی ایل بین الاقوامی معیار سے بہت زیادہ ہیں دس ہزار فٹ کنویں کی لاگت 50 ملین ڈالر سے زیادہ ہے، اسے مکمل ہونے میں ایک سال لگتا ہے، امریکہ میں ایک کنویں کو 3 ملین ڈالر اور تین ہفتے لگتے، یہ فرق نہ صرف ماڑی پٹرولیم کی ناکامیوں نااہلی کو اجاگر کرتا ہے بلکہ ممکنہ مسائل کی نشاندہی بھی کرتا ہے،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں نے یکم جنوری کو گیس کی کرپشن پر پروگرام کیا جس پر بہت سے لوگوں نے رابطہ کیا میں نے بتایا تھا کہ کیسے مہنگی گیس پیدا کی جا رہی جس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑ رہا،حکومتی عہدیداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی کہ احتساب کریں بلکہ مجھے چپ رہنے کا کہہ دیا گیا، میں چپ نہیں رہوں گا، سوال بھی اٹھاؤں گا اور کرپشن بھی بے نقاب کروں گا،

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ وسائل بے دریغ استعمال کئے جاتے ہیں، کون تھا جو کرپشن کے بازار گرم کر کے بیٹھا تھا ، ایک شخص جو ایگزیکٹو ڈیپارٹمنٹ میں آتا، فہیم حیدر ماری پٹرولیم کے سی ای او ہیں،یہ 2020 سے ابتک مسلسل یہاں موجود ہیں.تین سال کے لئے انکو لگایا گیا تھا، 12 اگست کو دوبارہ بورڈ آف ڈائریکٹر نے ایم ڈی مقرر کر دیا، دوبارہ تقرری پھر تین سال کے لئے کی گئی، اس شخص پر کتنا پیسہ خرچ کیا گیا، کمپنی نے حکومت کے خزانے سےپیسہ نکلوایا اور حکومت نے پھر عوام کی جیبوں سے پیسہ نکلوایا، سال 2023 میں فہیم کو جو تنخواہیں اور پیسے ملے چار لاکھ چورانوے ہزار ڈالر تنخواہوں اور دیگر کی مد میں ادا کئے گئے جو پاکستانی 13 کروڑ سے زائد ہیں، 2024 میں 27 کروڑ 67 لاکھ سے زیادہ ادا کئے گئے، یعنی ایک سال میں ہی فائدوں میں سو فیصد سے زیادہ اضافہ ہو گیا، اس ادارے میں 803 لوگ ایگزیکٹو میں شمار کئے جاتے ہیں جن کو 2023 میں 8 بلین سے زائد تنخواہیں و دیگر دی گئیں، 2024 میں ایگزیکٹو نے عیاشی کی زندگی گزاری کیونکہ حکومت ن لیگ کی ہے لہذا لوگوں کو نوازا جاتا ہے،یہ کام مصدق ملک کی نگرانی کے بغیر نہیں ہو سکتا، حکومت کی غیر ضروری نوازشات سرکاری کمپنیوں کا بیڑہ غرق کر رہی ہیں جس کا اثر عام آدمی پر ہوتا ہے.فہیم حید رنے جو تجربہ بتایا وہ اسکا نہیں ہے،

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی، غیرملکی شہری سے موبائل چھیننے والا گرفتار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

  • اسلام آباد پولیس کی کارروائی، غیرملکی شہری سے موبائل چھیننے والا   گرفتار

    اسلام آباد پولیس کی کارروائی، غیرملکی شہری سے موبائل چھیننے والا گرفتار

    اسلام آباد پولیس نے ٹریل 5 پر غیرملکی شہری سے موبائل چھیننے والے ملزم کو بروقت کارروائی کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں گرفتار کر لیا۔

    ڈی آئی جی اسلام آباد سید علی رضا نے میڈیا کو بتایا کہ پولیس نے واردات کے فوراً بعد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ملزم کا پیچھا کیا اور اسے گرفتار کرنے میں کامیاب رہی۔سید علی رضا کے مطابق، ملزم نے موبائل اور پسٹل کو فیض آباد کے نزدیک ایک جنگل میں چھپایا تھا۔ پولیس فورس نے فوری طور پر جنگل میں سرچ آپریشن شروع کیا، جس کے نتیجے میں موبائل اور پسٹل برآمد کر لیے گئے۔ پولیس نے اس کارروائی کے دوران ملزم کو بھی گرفتار کر لیا۔ڈی آئی جی اسلام آباد سید علی رضا نے اس بات پر زور دیا کہ اسلام آباد پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور وفاقی دارالحکومت کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔

    یہ بروقت کارروائی پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور عزم کی عکاسی کرتی ہے، جس سے شہریوں کے تحفظ میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسلام آباد پولیس کا یہ عزم ہے کہ وہ ہر قسم کی جرائم کی روک تھام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • پولینڈ کا عالمی عدالت کا اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا حکم نہ ماننے کا اعلان

    پولینڈ کا عالمی عدالت کا اسرائیلی وزیراعظم کی گرفتاری کا حکم نہ ماننے کا اعلان

    پولینڈ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے باوجود ان کے لیے کوئی مشکل پیدا نہ کرنے کا اعلان کر دیا

    پولینڈ کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف نومبر میں جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے باوجود پولینڈ کی سرزمین پر ان کے لیے کسی بھی قسم کی مشکل پیدا نہیں کی جائے گی۔ پولینڈ کے صدر ایندریزج ڈوڈا نے کہا کہ حکومت یہ یقینی بنائے گی کہ نیتن یاہو اگر چاہیں تو وہ سالانہ تقریب میں شرکت کر سکیں اور ان کی حفاظت بھی کی جائے گی۔صدر ڈوڈا نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کو پولینڈ میں فوجداری عدالت کے وارنٹ گرفتاری کے باوجود کسی قسم کا خوف یا پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔

    پولینڈ میں ہر سال اوشوٹز کے مقام پر ایک تقریب منعقد کی جاتی ہے، جہاں اسرائیل سے لوگ آ کر نازی کیمپ میں ہونے والی ہلاکتوں کی یاد میں حصہ لیتے ہیں۔ نیتن یاہو کو اس تقریب میں شرکت کرنے کے لیے پولینڈ جانے کی دعوت دی گئی ہے۔

    یہ وارنٹ گرفتاری اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات پر جاری کیے گئے تھے۔ تاہم، اسرائیلی حکام نے ابھی تک وزیرِ اعظم نیتن یاہو کے 27 جنوری کو پولینڈ جانے اور اس تقریب میں شرکت کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں کوئی بھی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

    یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی ایوان نمائندگان نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف ایک بل منظور کیا ہے جس کے تحت اس عدالت کی طرف سے جاری کردہ وارنٹس کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ اس بل کی منظوری نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے اور اسرائیل کے موقف کو مزید مضبوط کیا ہے۔

    اقتدار نہیں ، ملک کی بقا کے لیے سیاست کر رہے ہیں، مزمل اقبال ہاشمی

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

  • اقتدار نہیں ، ملک کی بقا کے لیے سیاست کر رہے ہیں، مزمل اقبال ہاشمی

    اقتدار نہیں ، ملک کی بقا کے لیے سیاست کر رہے ہیں، مزمل اقبال ہاشمی

    پاکستان مرکزی مسلم لیگ لاہور کے سیکرٹری جنرل، مزمل اقبال ہاشمی نے کہا ہے کہ پارٹی اقتدار کی نہیں بلکہ ملک کی بقا کے لیے سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں سود کا نظام کسی صورت جائز نہیں ہے اور اس کے اثرات پاکستانی معیشت پر بہت منفی پڑ رہے ہیں۔

    باغی ٹی وی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں مزمل اقبال ہاشمی نے کہا کہ "سود پر قرضے پاکستانی معیشت کو تباہ کر رہے ہیں۔ ہم قرض لیتے ہیں ملکی و غیر ملکی اداروں سے اور پھر سود ادا کرتے ہیں، جس سے ریاست مقروض ہوتی جا رہی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ سود کا نظام نہ صرف معیشت کے لیے بلکہ مذہبی لحاظ سے بھی حرام ہے کیونکہ سود اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ جنگ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "سود کو ناجائز قرار دینا چاہیے کیونکہ یہ ہماری معیشت کو نگل رہا ہے۔”

    باغی ٹی وی سے بات چیت میں مزمل اقبال ہاشمی نے پاکستان میں طبقاتی تقسیم کے مسئلے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں امیروں اور غریبوں کے لیے مختلف تعلیمی ادارے ہیں، غریبوں کے ہسپتالوں میں بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں، اور امیروں کی ہاوسنگ سوسائٹیز میں بہت زیادہ فرق ہے۔ "ہمیں طبقاتی تقسیم کا خاتمہ کرنا ہے اور پروٹوکول کا بھی خاتمہ کرنا ہے۔”

    مزمل اقبال ہاشمی کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کو کام کرنے کی اجازت دینی چاہیے لیکن وہ دینی حدود کے اندر ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ "چین، امریکہ، برطانیہ اور بھارت کے پاس اپنا کلچر ہے اور ہمیں اپنے کلچر کی حدود کا احترام کرنا چاہیے۔ ہمارے کلچر میں بھی خواتین کو تعلیم اور صحت کی سہولت دی گئی تھی جب اسلام کی ابتدا ہوئی۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کاروبار کرتی تھیں، اور ہم اپنی تہذیب اور ثقافت کو کسی کو کچلنے نہیں دیں گے۔”

    باغی ٹی وی سے بات چیت کے دوران مزمل اقبال ہاشمی نے نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیغام دیا اور کہا کہ "سوشل میڈیا پر نوجوان پاکستانیت کی بات کریں۔ مایوسی پھیلانے اور امید کا دیا جلانے میں فرق ہے۔ ہم مایوسی کی سیاست نہیں کرنا چاہتے، بلکہ نوجوانوں میں امید کا چراغ روشن کرنا چاہتے ہیں۔” انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیاست میں انتشار کی فضا قائم نہیں کی جانی چاہیے اور گالی گلوچ کی ثقافت کو فروغ نہیں دینا چاہیے۔
    muzammail

    مزمل اقبال ہاشمی نے واضح کیا کہ ان کی جماعت صرف اقتدار کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ "ہم اقتدار نہیں، بلکہ ملک کی ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔ اس کے لیے ہمیں ایک گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ کی ضرورت ہے تاکہ سیاست کے 25 سالہ لائحہ عمل پر بات کی جا سکے۔ ہمیں ذمہ داری لے کر ملک کی تقدیر بدلنی ہوگی، نہ کہ کسی دوسرے پر الزام لگانا چاہیے۔”انہوں نے آخر میں کہا کہ "پاکستان میں دو راستے ہیں، ایک پاکستان کی بقا کی جنگ اور دوسری اقتدار کی۔ ہم صرف اقتدار کی جنگ نہیں لڑیں گے، بلکہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑیں گے۔”

    ننکانہ:پاکستان مرکزی مسلم لیگ کا 2025 کو ‘خدمت کا سال’ قرار دینے کا اعلان

    خواجہ آصف کو وزارت دفاع کے عہدے سے ہٹایا جائے،مرکزی مسلم لیگ

    پارہ چنار میں پیش آنے والے واقعات افسوس ناک،علما آگے بڑھیں،تابش قیوم

    پاکستان کا میزائل ، ایٹمی پروگرام امن اور تحفظ کی ضمانت ہے،تابش قیوم

  • بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے  پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ کا ہم جنس پرستوں کی شادی فیصلے پرنظر ثانی سے انکار

    بھارتی سپریم کورٹ نے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی حیثیت دینے کے اپنے 17 اکتوبر 2023 کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے اس سلسلے میں دائر نظر ثانی کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے۔

    سپریم کورٹ کے پانچ ججوں پر مشتمل بینچ نے اس معاملے کی بند چیمبر میں سماعت کی۔ بینچ کی سربراہی جسٹس بی آر گوائی کر رہے تھے، اور دیگر ججز میں جسٹس سوریہ کانت، بی وی ناگرتھنا، پی ایس نرسمہا اور دیپانکر دتہ شامل تھے۔ جن میں سے جسٹس نرسمہا وہ واحد جج ہیں جو 2023 میں سنائے گئے فیصلے کا حصہ تھے، جبکہ باقی چار ججز اب ریٹائر ہو چکے ہیں۔نظر ثانی کی درخواستوں میں 13 درخواستیں دائر کی گئی تھیں، جن میں یہ موقف اپنایا گیا کہ شادی کوئی بنیادی حق نہیں ہے اور ہم جنس پرستوں کو اپنے ساتھی کا انتخاب کرنے اور ان کے ساتھ رہنے کا حق تو حاصل ہے، مگر حکومت ان کے رشتہ کو شادی کا درجہ دینے یا کسی اور طریقے سے قانونی حیثیت دینے کا حکم نہیں دے سکتی۔ درخواست گزاروں نے مزید کہا کہ حکومت ایسے جوڑوں کے تحفظات پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے سکتی ہے۔

    سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ ہم جنس پرست جوڑے بچوں کو گود نہیں لے سکتے۔ عدالت نے یہ موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ حکومت اور پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور اس پر قانون سازی کے فیصلے کا اختیار انہیں دیا گیا ہے۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی عدالت نے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں اس معاملے میں حکومت اور قانون سازوں کو فیصلہ سازی کا اختیار دیا ہے، اور عدالت نے اس اہم معاملے پر مزید قانونی بحث کی ضرورت نہیں سمجھی۔

    واضح رہے کہ 2023 میں بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے سے انکار کر دیا تھا تا ہم عدالت نے مودی سرکارکو حکم دیا کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کے حقوق کو یقینی بنایا جائے،عدالت نے اس حوالہ سے قانون سازی کی بھی ہدایت کی ہے

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس چندر چوڑ نے بھارت کی مرکزی حکومت اور تمام ریاستی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ یقینی بنائیں کہ ہم جنس پرستوں کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہ کیا جائے،انکے حقوق بارے عوام کو آگاہی دی جائے،جن ہم جن پرستوں کو تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے انکو حکومت تحفظ فراہم کرے ،حکومت یہ بات بھی یقینی بنائے کہ مختلف جنس والے بچوں کو آپریشن پر مجبور نہ کیا جائے،

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے فیصلے میں کہا کہ جنسی رجحان کی بنیاد پر یونین میں داخل ہونے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، متضاد تعلقات میں خواجہ سرا افراد کو موجودہ قوانین بشمول پرسنل لاز کے تحت شادی کرنے کا حق ہے،غیر شادی شدہ جوڑے، بشمول ہم جنس پرست جوڑے، مشترکہ طور پر بچے کو گود لے سکتے ہیں،مرکزی ھکومت ہم جنس پرستوں کی یونین کے حقوق اور اختیارات کے لئے کمیٹی تشکیل دے، ہم جنس جوڑوں کو راشن کارڈ میں بھی شامل کرنے پر غور کیا جائے،بینک اکاؤنٹس کھلوانے میں ان کے لئے مسائل نہ بنائے جائیں،عدالت قانون نہیں بنا سکتی بلکہ صرف اس کی تشریح کر سکتی ہے اور اس پر عمل درآمد کو یقینی بنا سکتی ہے،

    بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اگر اسپیشل میرج ایکٹ کو ختم کر دیا جائے تو یہ ملک کو آزادی سے پہلے کے دور میں واپس لے جائے گا، اسپیشل میرج ایکٹ کے نظام میں تبدیلی کرنی چاہئے یا نہیں، اس کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنا ہے، اس عدالت کو محتاط رہنا چاہیے کہ وہ قانون سازی کے میدان میں داخل نہ ہوں،ہم جنس پرستوں کا معاملہ دیہی یا شہری کا نہیں لوگ ہم جنس ہوسکتے ہیں چاہے ان کا تعلق کسی گاؤں یا شہر سے ہو، صرف انگریزی بولنے والا یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ ہم جنس پرست ہے یہ ایک کھیتوں میں کام کرنے والی عورت بھی ہوسکتی ہے،ہ ہم جنس پرستوں کی شادیوں کو قاعدے کے طور پر قبول نہیں کیا جاسکتا

    سپریم کورٹ نے اس کیس میں بھارتی حکومت کا مؤقف بھی ریکارڈ کیا جس میں کہا گیا کہ حکومت ہم جنس پرستوں کو حقوق اور سہولیات کی فراہمی کیلئے ایک کمیٹی قائم کرے گی جو ان چیزوں کا جائزہ لے گی،بھارتی سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں ہم جنس پرستوں کی شادی کو قانونی قرار دینے کی استدعا کی گئی تھی تاہم حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی تھی۔

    یورپ ہم جنس پرستی میں پاگل،پاکستان،روس اس پاگل پن کے مخالف ہیں،روسی سفیر

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    برطانیہ؛ہم جنس پرست جوڑے کو ہراساں کرنے والے باس پر کروڑوں روپے جرمانہ

    ہندوستان ایک ہم جنس پرست ملک ہے آیوشمان کھرانہ

    ہم جنس پرستی کو پاکستان میں قانونی تحفظ،مخالفت کریں گے،زاہد محمود قاسمی

    ہم جنس پرست خواتین ڈاکٹرز نے آپس میں منگنی کر لی

  • بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی،دولہا کو 6 ماہ قید کی سزا

    بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی،دولہا کو 6 ماہ قید کی سزا

    لودھراں کی تحصیل کہروڑپکا کی رہائشی شکیلہ بی بی نے اپنے شوہر محسن کے خلاف عدالت میں رٹ پٹیشن دائر کی تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ محسن نے اس کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کرلی ہے۔

    شکیلہ بی بی نے سول کورٹ میں یہ کیس دائر کیا تھا کہ اس کے شوہر محسن نے بغیر اس کی رضامندی اور اجازت کے دوسری شادی کر لی، جو کہ قانوناً جرم ہے۔ اس کیس کی سماعت کے دوران جج فیملی کورٹ، طاہرہ شہزاد خان نے تمام شواہد اور گواہیوں کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا کہ محسن نے شکیلہ بی بی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی ہے، جو کہ اسلامی قوانین اور پاکستانی قوانین کے مطابق جرم ہے۔جج نے مجرم محسن کو 6 ماہ قید اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔ اگر مجرم نے جرمانے کی رقم ادا نہ کی، تو اسے مزید 2 ماہ قید کی سزا بھگتنی ہوگی۔

    عدالتی فیصلے کے بعد پولیس نے فوری طور پر مجرم محسن کو کمرہ عدالت سے گرفتار کر لیا اور سینٹرل جیل بہاولپور منتقل کردیا، جہاں وہ اپنی سزا کاٹیں گے۔یہ فیصلہ قانونی طور پر خواتین کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے اور ان کو اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ ان کی رضامندی کے بغیر کسی بھی قسم کی شادی کرنا غیر قانونی ہے۔

    صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    اداکارہ میرا اپنی شادی سے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی

  • صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    صفائی والی لڑکی کے ساتھ چار ملزمان کی اجتماعی زیادتی

    ملتان میں نجی بس اسٹینڈ پر چار ملزمان نے لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی ہے

    پولیس حکام کے مطابق لڑکی بس اسٹینڈ پر صفائی کا کام کرتی تھی، لڑکی کو ملزمان نے ورکشاپ میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے،زیادتی کا شکار لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ چھٹی کر کے شام ساڑھے چھ بجے واپس جا رہی تھی کہ ایک بس ڈرائیور اسے نزدیکی ورکشاپ میں صفائی کرنے کا کہہ کر ساتھ لے گیا ،وہاں تین اور افراد بھی موجود تھے، چاروں نے ملکر اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کی، بعد ازاں اس کی طبیعت خراب ہوئی تو ملزمان نیم بے ہوشی کی حالت میں ورکشاپ کے باہر چھوڑ گئے، ہوش آنے پر اس نے بس اسٹینڈ آکر اسٹینڈ کے مینجر کے نمبر سے پولیس کو اطلاع دی۔

    پولیس نے موقع پر پہنچ کر لڑکی کے بیان پر چار افراد کے خلاف اجتماعی زیادتی کا مقدمہ درج کرلیا تاہم ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی ،پولیس کا کہنا ہے کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا،

    پی سی بی کا 2024ء کیلئے ہال آف فیم کرکٹرز کا اعلان

    وفاقی وزیرداخلہ کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،کرم پر گفتگو

  • پی سی بی کا 2024ء کیلئے ہال آف فیم کرکٹرز کا اعلان

    پی سی بی کا 2024ء کیلئے ہال آف فیم کرکٹرز کا اعلان

    پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 2024ء کے لیے اپنے ہال آف فیم میں چار کرکٹرز کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کرکٹرز میں مشتاق محمد، انضمام الحق، سعید انور اور مصباح الحق شامل ہیں۔

    پی سی بی کی جانب سے یہ فیصلہ ان کی کرکٹ میں نمایاں خدمات اور شاندار کارکردگی کے اعتراف میں کیا گیا ہے۔پی سی بی ہال آف فیم میں اس سے قبل متعدد کرکٹرز کو شامل کیا جا چکا ہے جن میں عبدالقادر، اے ایچ کاردار، فضل محمود، حنیف محمد، عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم، وقار یونس، یونس خان اور ظہیر عباس جیسے بڑے نام شامل ہیں۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو ان کھلاڑیوں کی کرکٹ کے میدان میں شاندار خدمات کو تسلیم کرتا ہے۔اس سال پی سی بی نے ایک خاص فیصلہ کیا اور ہال آف فیم میں چار کرکٹرز کو شامل کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ 2023ء میں کسی کرکٹر کو ہال آف فیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ پی سی بی ہر سال دو کھلاڑیوں کو ہال آف فیم میں شامل کرتا ہے، تاہم اس مرتبہ یہ تعداد چار کرکٹرز تک پہنچ گئی۔ہال آف فیم میں ان چار کھلاڑیوں کو منتخب کرنے کے لیے ایک آزاد اور شفاف ووٹنگ کے عمل کا انعقاد کیا گیا جس میں کرکٹ کی دنیا کے معروف شخصیات نے حصہ لیا۔ اس عمل میں وسیم اکرم، ظہیر عباس، اظہر علی (سابق کپتان)، بسمہ معروف، نین عابدی، ماجد بھٹی، محی شاہ، محمد یعقوب، نعمان نیاز، سویرا پاشا اور زاہد مقصود جیسے کرکٹ صحافی اور تجزیہ کار شامل تھے۔

    انضمام الحق:
    انضمام الحق نے 1991ء سے 2007ء تک بین الاقوامی کرکٹ کھیلا اور 1992ء کے ورلڈ کپ جیتنے والی پاکستان ٹیم کا حصہ رہے۔ ان کی کرکٹ کیریئر کا یہ اہم سنگ میل تھا۔ ان کی قیادت میں پاکستان نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔

    مصباح الحق:
    مصباح الحق نے 2001ء سے 2017ء تک پاکستان کی نمائندگی کی اور ان کی قیادت میں پاکستان ٹیم نے 2016ء میں آئی سی سی ٹیسٹ رینکنگ میں نمبر ایک پوزیشن حاصل کی۔ وہ 2009ء میں آئی سی سی مینز ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم کا بھی حصہ تھے۔

    مشتاق محمد:
    مشتاق محمد نے 1959ء سے 1979ء تک پاکستان کی نمائندگی کی اور نہ صرف ایک عظیم کرکٹر بلکہ ایک کامیاب کپتان بھی رہے۔ 1977ء میں ان کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار آسٹریلیا میں اپنا پہلا ٹیسٹ میچ جیتا۔ ان کی اہمیت ان کی بطور کوچ بھی تھی، جب وہ 1999ء میں آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ کے فائنل میں پہنچنے والی پاکستان ٹیم کے کوچ بنے۔

    سعید انور:
    سعید انور نے 1989ء سے 2003ء تک پاکستان کی نمائندگی کی اور اس دوران 31 سنچریاں اور 68 نصف سنچریاں بنائیں۔ ان کی تین ورلڈ کپ (1996ء، 1999ء اور 2003ء) میں کارکردگی بھی یادگار رہی، جہاں انہوں نے اپنے شاندار اسٹرائیک اور بیٹنگ کے ذریعے پاکستانی کرکٹ کو کامیابی کی راہوں پر گامزن کیا۔

    یہ اعلان پاکستان کرکٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے اور ان کھلاڑیوں کی کرکٹ میں خدمات کو تسلیم کرنے کا ایک شاندار طریقہ ہے۔