Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال

    بھارتی ہیلی کاپٹرز حادثات، فضائی عملے کی صلاحیتوں پر سنگین سوال اٹھنے لگے

    5 جنوری 2025ء کوبھارتی ریاست گجرات میں کوسٹ گارڈ ہیلی کاپٹر تباہ ہوا،ہیلی کاپٹر حادثے میں تین افراد ہلاک ہوئے،بھارتی پولیس کے مطابق ”ہیلی کاپٹر معمول کی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہوا” "عملے کے 3 افراد کو شدید زخمی حالت میں ریسکیو کیا گیا“

    مودی کے دور اقتدار میں دیگر شعبوں میں نااہلی کے ساتھ شعبہ ہوا بازی میں بھی آئے روز حادثات ہو رہے ہیں ،کبھی بھارت کے جنگی طیارے تباہ ہوتے ہیں، کبھی بحریہ کے جہازوں کو حادثات پیش آتے ہیں اور کبھی ہیلی کاپٹر موت بن جاتے ہیں ،اس کی بڑی وجہ کرپشن اور اہم شعبوں میں رشوت کے عوض نااہل افراد کی بھرتیاں ہیں،بھارت میں ہیلی کاپٹر حادثات کی ایک لمبی فہرست ہے،گزشتہ دو سالوں کے دوران بھارت میں کئی ہیلی کاپٹر حادثات ہوچکے ہیں جن میں فوجی اور نیم فوجی ہیلی کاپٹر شامل ہیں

    16 مارچ 2023ء کو آرمی چیتا ہیلی کاپٹر ریاست ارونا چل پردیش میں گر کر تباہ ہوا جس میں دونوں پائلٹ ہلاک ہوئے، اپریل 2023 میں ہندوستانی بحریہ کو ALH Dhruv ہیلی کاپٹر کوممبئی میں تکنیکی خرابی کے باعث ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی، مئی 2023 میں ہندوستانی کوسٹ گارڈ کا ALH دھروہیلی کاپٹر بحیرہ عرب میں دوران آپریشن تباہ ہوا ،اس حادثے نے آپریشنل حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھا دئیے، اکتوبر 2023 میں ہندوستانی فضائیہ کے ALH دھرو ہیلی کاپٹرکو ریاست بہار میں امدادی مشن کے دران ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی،اس حادثے نے آپریشنل صلاحیتوں پر سوال اٹھادئیے،4 نومبر2023 کو کوچی میں چیتک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوا جس میں ایک ہلاکت ہوئی ، مارچ 2024 میں پوربندر میں کوسٹ گارڈ ALH دھرو ہیلی کاپٹر گجرات میں لینڈنگ کے دوران تباہ ہوا جس میں عملے کے تین افراد ہلاک ہوئے،2 ستمبر 2024 کو بحیرہ عرب میں ایک اور کوسٹ گارڈ ALH Dhruv ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن کے دوران تباہ ہوا،ایک سال میں دوسرے حادثے نے طیاروں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھائے

    بھارتی فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں آئے روز ہیلی کاپٹرز کے حادثات نے عملے کی صلاحیتوں پر سوالات اٹھادئیے،ہیلی کاپٹرز کے آئے روز حادثات کے باعث ان کا کسی بھی ریسکیو آپریشن میں استعمال بھی اب خطرناک بن چکا ہے، اس طرح کے ہیلی کاپٹر حادثات دراصل مودی سرکار کی کرپشن اور میرٹ سے ہٹ کر تعیناتیوں کا نتیجہ ہیں،

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

  • کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

    کراچی،تاجر پر حملے کا مقدمہ ترجمان میئر کے خلاف درج

    شہر قائد کراچی میں تاجر اور برنس روڈ فود اسٹریٹ کے صدر فراز خان پر حملے کا مقدمہ میئر کراچی کے ترجمان سمیت تین افراد پر درج کر لیا گیا

    پولیس کے مطابق گزشتہ روز شاہراہ فیصل پر نر سری کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں فراز خان زخمی ہو گئے تھے،2 موٹر سائیکل سوار 4 ملزمان نے تاجر اور برنس روڈ فوڈ اسٹریٹ کے صدر فرازخان پر گولیاں چلائی تھیں، واقعہ کے بعد تاجر فراز خان نے اندراج مقدمہ کے لئے تھانہ ٹیپو سلطان میں درخواست دی جس پر میئر کراچی کے ترجمان کرم اللہ سمیت 3 ملزمان کو نامزد کیا گیاہے

    تاجر فراز خان نے پولیس کو بتایا کہ میں اپنی کار میں سوار ہو کر برنس روڈ سے اپنے گھر پی ای سی ایچ ایس جارہا تھا کہ شاہراہ فیصل پر نرسری کے قریب 2 موٹر سائیکلوں پر 4 ملزمان نے مجھ پر فائرنگ کی،ایک گولی دائیں گال پر لگی اور گردن سے پار ہوگئی جب کہ دوسری گولی میری گاڑی پر بھی لگی،مجھ پر حملہ کروانے میں میرے پارٹنرکرم اللہ، مظہراور منصو ر شاہ شامل ہیں، انہوں نے مجھ سے 9کروڑ 87لاکھ کی رقم روڈ پیچنگ اور گارڈن کی صفائی کے ٹھیکوں کیلئے مختلف اوقات میں لیے، میں نے اپنی رقم واپس مانگی تو انہوں نے مجھے اسلام آباد سے بلواکر جان سے مارنے کی دھمکی دی اور کہا کہ پیسے بھول جاؤ ورنہ جان سے جاؤگے

    دوسری جانب میئر کراچی کے ترجمان نے خود پر درج مقدمے کے خلاف مؤقف دیتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصر شہر کو ترقی کرتا نہیں دیکھنا چاہتے، میرے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کراکر بلیک میل کرنے کی کوشش کر جارہی ہے، جھوٹے مقدموں سے ڈرنے والا نہیں، ہر قسم کی انکوائری کیلئے تیار ہوں

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

  • سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    سعودیہ سمیت دیگر ممالک سے 63 پاکستانیوں کی بے دخلی

    کراچی: سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 63 پاکستانیوں کو بے دخل کر دیا گیا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق سعودی عرب، یو اے ای، ملائیشیا اور عراق سے پاکستانیوں کی بے دخلی کا عمل جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان ممالک سے مجموعی طور پر 63 پاکستانیوں کو بے دخل کیا گیا، جنہیں کراچی ایئرپورٹ پر پہنچنے کے بعد قانونی کارروائی کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا۔سعودی عرب سے بے دخل ہونے والوں میں 4 پاکستانی بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے، 15 افراد ہاروب ہونے کی وجہ سے اور 10 افراد زائد المیعاد قیام کے باعث پاکستان واپس بھیجے گئے۔

    ملائیشیا سے 16 پاکستانیوں کو ممنوعہ تارکین وطن کی حیثیت کی وجہ سے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ یہ افراد اپنے ویزے کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے کے سبب ملک سے بے دخل کیے گئے۔عراق سے 11 پاکستانیوں کو غیر قانونی داخلے اور زائد المیعاد قیام کے باعث ایمرجنسی پاسپورٹ کے ذریعے پاکستان واپس بھیجا گیا۔یو اے ای سے 4 پاکستانیوں کو بے دخل کر کے پاکستان روانہ کر دیا گیا۔ ان افراد کا تعلق غیر قانونی اقامت یا ویزے کی خلاف ورزی کرنے والے تارکین وطن سے تھا۔

    ائیرپورٹ ذرائع کے مطابق تمام افراد کی واپسی کے بعد قانونی کارروائی کی گئی ہے اور انہیں اپنے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے۔ پاکستان کی حکومت اور متعلقہ ادارے ان معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ تارکین وطن کی صورتحال میں بہتری لائی جا سکے۔

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

  • ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    ڈی سی کرم پر فائرنگ کرنے والے دو مبینہ شرپسند گرفتار

    کرام (خیبر پختونخوا) میں 4 جنوری کو ڈی سی کرم سمیت 7 افراد پر حملے میں ملوث دو مبینہ شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق گرفتار ملزمان کو ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے اور انہیں تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    4 جنوری کو لوئر کرم کے علاقے بگن میں نامعلوم شرپسندوں نے فائرنگ کر کے ڈی سی کرم سمیت 7 افراد کو زخمی کر دیا تھا۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ زخمی ہونے والوں میں سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی شامل تھے، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔اس حملے کے بعد، کوہاٹ میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 4 جنوری کے مجرموں کی حوصلہ افزائی کرنے والے افراد کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے۔ خیبر پختونخوا حکومت نے اس بات کا اعلان کیا ہے کہ فرقہ ورانہ انتشار کی حمایت کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اگر کسی بھی فریق کی جانب سے مجرموں کی حوالگی میں عدم تعاون کیا گیا تو اس کے خلاف کلیئرنس آپریشن کیا جائے گا۔ اس دوران، مقامی آبادی کو عارضی طور پر دوسری جگہوں پر منتقل کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ کارروائی کے دوران شہریوں کی زندگی کو محفوظ بنایا جا سکے۔خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ مختلف خوارج (دہشت گرد) کے سر کی قیمت بھی مقرر کی جائے گی تاکہ ان کے خلاف مزید کارروائیاں کی جا سکیں۔ یہ اقدام علاقے میں قانون کی بالادستی اور امن قائم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

    دوسری جانب، 4 جنوری کے حملے کے بعد کرم کے علاقے میں ایک قافلہ جو تین ماہ بعد علاقے میں کھانے پینے کا سامان لے کر آ رہا تھا، اسے روک دیا گیا۔ اس قافلے میں شامل افراد اور سامان کی حفاظت کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ علاقے کے عوام کو درپیش مشکلات کا حل نکالا جا سکے۔حکومت نے اس واقعے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ، وادی تیراہ میں امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں

  • 190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس، فیصلے کی نئی تاریخ مل گئی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا نئی تاریخ احتساب عدالت نے نیب اور عمران خان کے وکلا کو بتا دی

    190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ آج سنا یا جانا تھا تا ہم آج بھی نہ سنایا جا سکا، عمران خان کے وکیل عدالت پہنچے تو انہیں عدالتی عملے نے آگاہ کیا کہ اب کیس کا فیصلہ 13 جنوری کو سنایا جائے گا،احتساب عدالت نے 18 دسمبر کو 190 ملین پائونڈ ریفرنس پر فیصلہ محفوظ کیا تھا،عدالت نے پہلے 23 دسمبر کو 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی ، اس کے بعد 6 جنوری فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی تھی،مگر ابھی تک فیصلہ نہیں سنایا گیا بلکہ مزید مؤخر کر دیا گیا ہے.

    یہ ریفرنس تقریباً ایک سال قبل دائر کیا گیا تھا اور اس دوران قومی احتساب بیورو (نیب) نے 35 گواہان کے بیانات ریکارڈ کرائے۔ ان گواہان میں اہم شخصیات شامل ہیں جیسے کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان، سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک، اور سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال، جنہوں نے اس کیس میں اپنے بیانات ریکارڈ کرائے۔190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں گزشتہ سال 27 فروری کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔نیب نے اس مقدمے کی تحقیقات کے دوران اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ملزمان نے اپنے مالی اثاثے چھپانے کی کوشش کی تھی اور انہوں نے غیر قانونی ذرائع سے دولت حاصل کی تھی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے گواہان پر جرح کی اور ان کے بیانات کو چیلنج کیا۔

    190 ملین پاؤنڈ کیس ،نیب نےعمران خان اور دیگر ملزمان کے خلاف ریفرنس دائرکیا تھا،ریفرنس میں چیئرمین پی ٹی آئی کے علاوہ بشری بی بی، فرح گوگی، شہزاد اکبر اور دیگر شامل ہیں،ملزمان میں زلفی بخاری، بیرسٹر ضیاء اللہ مصطفٰی نسم ،ملک ریاض اور علی ریاض شامل ہیں، نیب راولپنڈی کی جانب سے دائر ریفرنس میں کل 8 ملزمان کے نام شامل ہیں،ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے تفتیشی افسر میاں عمر ندیم کے ہمراہ ریفرنس دائر کیا

    واضح رہے کہ نیب نے 23 نومبر کو عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں گرفتار کیا تھا، نیب نے عمران خان سے جیل میں تحقیقا ت کی ہیں

    قومی احتساب بیورو (نیب) کے مطابق ملک کے معروف بزنس ٹائیکون نے سابق وزیرِاعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کو القادر ٹرسٹ یونیورسٹی کے لیے جہلم میں 458کنال 4 مرلے اور 58 مربع فٹ زمین عطیہ کی جس کے بدلے میں مبینہ طور پر عمران خان نے بزنس ٹائیکون کو 50 ارب روپے کا فائدہ پہنچایا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نیب نے تحقیقات شروع کردی تھی۔ نیب دستاویزات کے مطابق 3 دسمبر 2019ء کو عمران خان کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں بزنس ٹائیکون کو برطانیہ سے ملنے والی 50 ارب روپے کی رقم بالواسطہ طور پر واپس منتقل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا۔ رقم این سی اے کی جانب سے پراپرٹی ٹائیکون ملک ریاض سے منی لانڈرنگ کے الزامات پر ضبط کی گئی تھی۔

    عمران خان نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپر کے حوالے سے کابینہ کے فیصلے کے چند ہفتوں کے اندر القادر یونیورسٹی پروجیکٹ کے لیے ٹرسٹ رجسٹر کیا تھا جو بعد میں یونیورسٹی کے لیے ڈونر بن گیا۔ نیب کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ٹرسٹ کی رجسٹریشن سے صرف 3 ہفتے پہلے عمران خان کی کابینہ نے نیشنل کرائم ایجنسی کے ذریعے پاکستان کو ملنے والی رقم واپس ملک ریاض کو بالواسطہ طور پر واپس کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔نیب راولپنڈی نے اس معاملے میں کرپشن اور کرپٹ پریکٹسز کا نوٹس لیتے ہوئے نیب آرڈیننس 1999 کے تحت پرویز خٹک، فواد چوہدری اور شیخ رشید سمیت 3 دسمبر 2019 کی کابینہ اجلاس میں موجود تمام ارکان کو علیحدہ علیحدہ تاریخوں پر طلب کیا تھا۔2019 میں برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے بزنس ٹائیکون کے خلاف تحقیقات کیں اور پھر تحقیقات کے نتیجے میں بزنس ٹائیکون نے تصفیے کے تحت 190 ملین پاؤنڈ کی رقم این سی اے کو جمع کروائی۔ اس تصفیے کے نتیجے میں حاصل ہونے والی 190 ملین پاؤنڈز کی رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت ہے جسے پاکستان منتقل کردیا گیا۔

    تاہم پاکستان میں پہنچنے پر کابینہ کے فیصلے کے تحت رقم قومی خزانے کے بجائے سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ تک پہنچی جس میں بزنس ٹائیکون کراچی کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو 460 ارب روپے کی تصفیے کے ذریعے قسطوں میں ادائیگی کر رہے ہیں۔ نیب کے مطابق ملزم سے ضبط شدہ رقم واپس اسی کو مل گئی جبکہ یہ رقم ریاستِ پاکستان کی ملکیت تھی مگر اسے ملک ریاض کے ذاتی قرض کو پورا کرنے میں خرچ کیا گیا۔2019 میں عمران خان کی سربراہی میں کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا اور معاملے کو حساس قرار دے کر اس حوالے سے ریکارڈ کو بھی سیل کردیا گیا تھا

    190ملین پاؤنڈز ریفرنس،حتمی فیصلہ دینے سے روکنے کے آرڈر میں توسیع

    190ملین پاؤنڈ کیس زلفی بخاری کی جائیداد ریفرنس سے منسلک کرنے کے احکامات

    190 ملین پاؤنڈ کیس، سپریم کورٹ فیصلے کے بعد عمران نے رعایت مانگ لی

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    190ملین پاؤنڈز کیس،کتنے گھروں کا چولہا چل سکتا تھالیکن عمران خان نے کیا کیا؟

    190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل،اعظم خان کا عدالت میں دیابیان سامنے آ گیا

  • پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ، وادی تیراہ میں امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں

    پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ، وادی تیراہ میں امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں

    پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ، وادی تیراہ میں امن کو یقینی بنانے کے لئے کوشاں ہیں

    فتنہ الخوارج نے وادی تیراہ کے علاقہ پیر میلہ بازار اور اردگرد کے علاقوں پر اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی کوششیں شروع کر دی تھی- مقامی عوام کی جانب سے پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ سے فتنہ الخوارج کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے ایسے عناصر کے خلاف ایکشن لیا- علاقہ میں امن کی بحالی کے بعد پاک فوج کے مقامی کمانڈر نے علاقہ کا دورہ کیا۔ مقامی کمانڈر نے دورہ کے دوران پیرمیلہ اور ملحقہ بازاروں کا دورہ کیا اور تاجروں سے ملاقات کی۔ مقامی تاجروں نے دورہ کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقہ میں امن کے لئے وہ اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ دورہ کے دوران علاقہ میں جرگہ بھی منعقد کیا گیا۔ جس میں مقامی کمانڈر نے مختلف قبائل کے مشران، علماء اور نوجوانوں سے ملاقات کی۔جرگہ میں علاقہ کی عوام نے وادی تیراہ سے فتنہ الخوارج کے خاتمہ کے لئے پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔مقامی تاجروں کا کہنا تھا کہ علاقہ میں امن سے ہی انہیں اپنے اور اہل خانہ کے لئے باعزت روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ ہم امن کے لئے پاک فوج اور فرنٹیئر کور نارتھ کے ساتھ کھڑے ہیں.

    بیلجیم: ای سگریٹ پر پابندی، ویپس پر پابندی لگانے والا پہلا یورپی ملک

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

  • داعش کے دہشتگرد اب بھی عالمی سطح پر خطرہ

    داعش کے دہشتگرد اب بھی عالمی سطح پر خطرہ

    آئی ایس آئی ایس،داعش کے زیر قبضہ علاقے اب تاریخ بن چکے ہیں، جب اس دہشت گرد گروہ نے شام اور شمالی عراق کے وسیع علاقے پر اپنی حکمرانی قائم کی تھی اور اس دوران اس کے ذیلی گروہ افریقہ اور ایشیا میں پھیل گئے تھے۔ اس نے یورپ کے مختلف شہروں میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا۔ لیکن جب سے یہ گروہ اپنے خود ساختہ خلافت کے اختتام کے قریب پہنچا ہے، اس کے اثرات اور حملے اب بھی دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

    داعش اب ایک مربوط خلافت نہیں ہے، بلکہ یہ ایک پھیلایا ہوا نیٹ ورک بن چکا ہے جو کئی ممالک میں فعال ہے اور اپنے حامیوں کو حملے کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس گروہ کی سب سے اہم تازہ کارروائی 2024 میں ماسکو کے ایک شاپنگ مال پر حملہ تھی، جس میں کم از کم 150 افراد ہلاک اور 500 سے زائد زخمی ہوئے۔ اس حملے نے آئی ایس آئی ایس کو عالمی سطح پر دوبارہ روشنی میں لا دیا۔

    امریکی حکام کو یہ خدشہ ہے کہ شامی حکومت کے زوال کے بعد آئی ایس آئی ایس اپنے صحرائی قلعوں سے دوبارہ طاقت حاصل کر سکتا ہے اور عراق میں بھی دوبارہ قدم جما سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، مغربی سیکیورٹی اداروں کا ہمیشہ سے یہ خدشہ رہا ہے کہ آئی ایس آئی ایس کے حامی کم ٹیکنالوجی والے حملے، جیسے چاقو کے حملے، فائرنگ اور گاڑیوں کے ذریعے لوگوں کو کچلنے جیسے طریقوں کو استعمال کر سکتے ہیں، جنہیں پکڑنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    آئی ایس آئی ایس کے زیر اثر گاڑیوں کے ذریعے کیے جانے والے حملے، جیسے نیس، بارسلونا، برلن اور نیو یارک میں ہونے والے حملوں میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کی تازہ مثال نیو اورلینز میں ہونے والا حملہ ہے، جس میں ایف بی آئی کے مطابق حملہ آور کے گاڑی پر آئی ایس آئی ایس کا پرچم موجود تھا اور اس کی سوشل میڈیا پر پوسٹس میں آئی ایس آئی ایس سے متاثر ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

    آئی ایس آئی ایس اور القاعدہ نے ہمیشہ اپنے ہمدردوں کو "خود سے حملے” کرنے کی ترغیب دی ہے۔ 2013 میں بوسٹن میراتھن بم دھماکے میں بھی بم سازوں نے آن لائن القاعدہ کی ایک اشاعت سے ہدایات لے کر بم تیار کیے تھے۔

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،داعش کے دو دہشتگرد گرفتار

    طالبان نے داعش کیخلاف کاروائی کی تا ہم دوسرے دہشتگرد گروپس کو پناہ دی، امریکی رپورٹ

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،داعش کے دو دہشتگرد گرفتار

    رٹا کٹز، جو "سائٹ انٹیلیجنس” نامی غیر سرکاری ادارے کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں، کا کہنا ہے کہ مشرق وسطی میں ہونے والے واقعات نے پہلے ہی شدت پسند افراد کو مزید پرتشدد کارروائیوں پر آمادہ کیا ہے۔ ان کے مطابق، اکتوبر 2023 میں غزہ پر اسرائیل کے حملوں کے بعد، آئی ایس آئی ایس کے نام پر "لون ولف” حملوں میں تیزی آئی ہے۔ ان میں جرمنی کے سولنگن میں ایک بڑے چاقو سے حملے، ویانا میں ٹیلیور سوئفٹ کے کنسرٹس پر مبینہ حملہ، اور زیورخ میں ایک یہودی شخص کے قتل کی کوشش شامل ہیں۔

    آئی ایس آئی ایس نے غزہ پر حملوں کے فوراً بعد مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائی کی ترغیب دی۔ اس نے اپنے حامیوں کو کہا کہ وہ امریکہ، یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں یہودیوں، عیسائیوں اور ان کے اتحادیوں کا شکار کریں۔

    ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

    امریکہ کے شام میں بی 52،ایف 15 طیاروں سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے

    ٹی ٹی پی اور داعش میں شمولیت کی ترغیب دینے والا گروہ پکڑا گیا

    داعش کی مدد کاالزام ،پاکستانی شہری کینیڈا میں گرفتار

    عمان،مسجد پر حملے ذمہ داری داعش نے قبول کر لی

    آئی ایس آئی ایس کا سب سے طاقتور دھڑا، آئی ایس آئی ایس خراسان (ISIS-K)، عالمی سطح پر اپنی موجودگی بڑھا رہا ہے اور انٹرنیٹ پر مختلف زبانوں میں مواد فراہم کرتا ہے۔ اس گروہ نے افغانستان میں امریکی انخلا کے بعد اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے اور اس کے اثرات اب مشرق وسطیٰ سے باہر بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔مارچ 2024 میں ماسکو میں ہونے والے حملے کے بعد، تحقیقات سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ حملے میں آئی ایس آئی ایس کے خراسان گروہ کا ہاتھ تھا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کی منصوبہ بندی اور اس کے نفاذ میں اس گروہ کا واضح کردار تھا۔

    اگرچہ داعش اب خلافت کے طور پر کسی بڑے علاقے پر حکمرانی نہیں کرتا، لیکن اس کی موجودہ کارروائیاں اور اس کے پیروکار دنیا بھر میں خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ "لون ولف” حملے، انٹرنیٹ پر شدت پسندی کا مواد، اور دہشت گردی کے نئے طریقے اس کے عالمی اثرات کو مزید بڑھا رہے ہیں، اور دنیا بھر میں سیکیورٹی ادارے اس گروہ کی بقا اور اس کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے مسلسل جنگ لڑ رہے ہیں۔

    ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد

    سویڈن ، بھیڑیوں کی آبادی کا تقریباً 10% شکار کرنے کی اجازت

  • ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد

    ٹھیکیدار کیخلاف خبریں،لاپتہ صحافی کی لاش پانی کے ٹینک سے برآمد

    چھتیس گڑھ:3 جنوری کو بیجاپور ضلع کے ایک معروف ٹھیکیدار کی جائیداد پر واقع پانی کے ٹینک سے صحافی مکیش چندراکر کی لاش برآمد ہوئی، جس سے علاقے میں سنسنی پھیل گئی۔

    مکیش چندراکر یکم جنوری سے لاپتہ تھے، اور ان کے اہل خانہ نے ان کی گمشدگی کی رپورٹ بیجاپور پولیس اسٹیشن میں درج کرائی تھی۔ پولیس نے مکیش کی تلاش کے دوران اس ٹھیکیدار سریش چندراکر کے گھر پر چھاپہ مارا، جہاں سے ان کی لاش ملی۔لاش کی حالت کافی خراب تھی، لیکن ان کی شناخت ان کے کپڑوں کی مدد سے مکیش چندراکر کے طور پر کی گئی۔ مکیش کی گمشدگی کے بعد سے ان کے اہل خانہ شدید پریشانی کا شکار تھے، اور ان کی موت نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، مکیش چندراکر کی موت مشتبہ طور پر قتل کی صورت میں ہوئی ہے، اور پولیس اس معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔

    خبروں کے مطابق، مکیش چندراکر کے لاپتہ ہونے کے بعد اس بات کا انکشاف ہوا کہ یکم جنوری کو ٹھیکیدار سریش چندراکر کے بھائی، رتیش نے مکیش کو فون کیا تھا۔ اس کے بعد مکیش کا فون بند ہو گیا اور اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا۔ پولیس نے تفتیش کے دوران سریش اور رتیش چندراکر سے سوالات کیے ہیں اور انہیں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔یہ معاملہ اس وقت سنگین ہو گیا جب یہ بات سامنے آئی کہ مکیش چندراکر نے سریش چندراکر کی کرپشن کو بے نقاب کیا تھا۔ سریش چندراکر کو بستر میں 120 کروڑ روپے کی سڑک بنانے کا ٹھیکہ ملا تھا، اور مکیش نے اس کرپشن کے خلاف رپورٹنگ کی تھی۔ مکیش کی رپورٹ کے بعد حکومت نے ٹھیکیدار کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد یکم جنوری سے ان کا موبائل فون بند ہوگیا۔

    بیجاپور پولیس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس دوران، پولیس نے مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کی اور لاش کا پوسٹ مارٹم بھی کیا۔ آئی جی پی، سندرراج نے تصدیق کی کہ صحافی مکیش چندراکر 1 جنوری سے لاپتہ تھے، اور ان کی لاش جمعہ کو ٹھیکیدار سریش چندراکر کے احاطے میں واقع ٹینک سے برآمد ہوئی۔

    چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ، وشنو دیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر پوسٹ کرتے ہوئے اس واقعے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "مکیش چندراکر جی کا انتقال صحافت کی دنیا اور سماج کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔” وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اس واقعہ کے مجرم کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا اور ان کو جلد گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے گی۔دریں اثنا، کانگریس کے ریاستی جنرل سکریٹری، سبودھ ہریتوال نے اس واقعے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ریاستی حکومت کے لیے شرمندگی کا باعث ہے کہ وہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کو سنجیدگی سے نافذ کرنے کی ہدایت دی۔

    پولیس اس مشتبہ قتل کے معاملے میں مزید سراغ جمع کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ لاش کو ٹینک میں ڈالنے کے بعد پلاسٹر لگایا گیا تھا، جس پر پولیس کو شک ہوا اور یہ اقدام مشتبہ محسوس ہوا۔ بیجاپور کی عوام اور صحافتی حلقوں میں اس قتل کو لے کر غم اور غصہ پایا جا رہا ہے، اور لوگوں کا مطالبہ ہے کہ معاملے میں انصاف ملے۔

    سویڈن ، بھیڑیوں کی آبادی کا تقریباً 10% شکار کرنے کی اجازت

    کرم حملہ،گارنٹی کے باوجود فائرنگ،سخت ایکشن کا امکان

  • سویڈن ، بھیڑیوں کی آبادی کا تقریباً 10% شکار کرنے کی اجازت

    سویڈن ، بھیڑیوں کی آبادی کا تقریباً 10% شکار کرنے کی اجازت

    سویڈن نے اس ہفتے اپنی سالانہ بھیڑیا شکار مہم کا آغاز کیا ہے، جس میں تقریباً 10% بھیڑیوں کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ یہ اقدام ایک خطرے سے دوچار نوع کے طور پر شناخت شدہ بھیڑیوں کی تعداد میں کمی کرنے کے لیے کیا گیا ہے، اور اس پر تحفظاتی تنظیموں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

    سویڈن میں 2010 سے بھیڑیوں کو شکار کرنے کی اجازت دی گئی ہے، مگر یہ شکار مخصوص لائسنس اور کوٹہ کے تحت ہوتا ہے۔ تحفظاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام یورپی یونین کے قوانین کے خلاف ہے اور انہوں نے یورپی کمیشن میں شکایات دائر کی ہیں۔ یورپی کمیشن پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ وہ سویڈن کے اس اقدام کی جانچ کر رہا ہے۔1970 کی دہائی تک بھیڑیوں کا شکار اس حد تک کیا گیا تھا کہ وہ تقریباً معدوم ہو چکے تھے۔ تاہم یورپی یونین کے تحفظاتی قوانین کے تحت، بھیڑیوں کی آبادی دوبارہ شمالی یورپ میں بڑھنا شروع ہوئی ہے۔ سویڈن میں 375 کے قریب بھیڑیا موجود ہیں اور حکومت نے ان میں سے 30 کو شکار کرنے کی اجازت دی ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد دیہی علاقوں کے رہائشیوں اور مویشیوں کے مالکان کی حفاظت کرنا ہے۔

    سویڈن کی حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ بھیڑیوں کی مجموعی تعداد کو 300 سے کم کر کے 170 تک پہنچا دیا جائے۔ اس کم از کم تعداد کو سویڈن کی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی نے "موافق حوالہ قدر” کے طور پر تسلیم کیا ہے۔

    سویڈن میں بھیڑیوں کی نوع کو "شدید خطرے میں” ہونے کی وجہ سے سویڈن کی سرخ فہرست میں شامل کیا گیا ہے، جو ملک میں انواع کے معدوم ہونے کے خطرات کو مانیٹر کرتی ہے۔برن کنونشن کا مقصد جنگلی حیات اور ان کے قدرتی مسکنوں کی حفاظت کرنا ہے۔یورپی یونین کی اس پالیسی تبدیلی پر عالمی ادارہ برائے تحفظ فطرت نے شدید اعتراض کیا ہے، اور اسے "ایک سنگین غلط فیصلہ” قرار دیا ہے جس کی کوئی ٹھوس سائنسی بنیاد نہیں ہے۔

    تحفظاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھیڑیوں کی تعداد کم ہو گئی تو اس سے ان کی جینیاتی صحت میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ اس حوالے سے وائلڈ وونڈرز انٹرنیشنل کے منیجنگ ڈائریکٹر، سٹفن وڈسٹرینڈ کا کہنا تھا کہ سویڈن جیسے ترقی یافتہ اور وسائل سے مالا مال ملک میں تمام جنگلی حیات کی مناسب تعداد ہونی چاہیے۔انہوں نے سویڈن کی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ "جنگلی حیات کے خلاف ایک متعصب پالیسی” اپنائے ہوئے ہے اور گزشتہ حکومتوں سے زیادہ جارحانہ "اینٹی کارنیور” پالیسی اپنا رہی ہے۔

    سویڈن میں شکاریوں کی تعداد صرف 3% ہے، لیکن یہ 300,000 افراد ملک کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، خاص طور پر دو بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے جو اکثر ایک دوسرے کے ساتھ برابر کی پوزیشن پر ہوتی ہیں۔ وڈسٹرینڈ کا کہنا ہے کہ شکاریوں کی تنظیمیں سیاست دانوں کے لیے انتہائی اہم ہیں اور ان کے پاس بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے۔یورپ کے دوسرے حصوں میں بھی بھیڑیوں کے خلاف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ 2022 میں یورپی کمیشن کی صدر ارشولا وان ڈیر لیین کے گھوڑے پر بھیڑیے نے حملہ کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے کہا تھا کہ "یورپ کے کچھ علاقوں میں بھیڑیوں کے گروہ انسانی زندگی اور مویشیوں کے لیے خطرہ بن گئے ہیں۔” اس پر کئی تحفظاتی تنظیموں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات سائنسی بنیادوں پر نہیں ہیں۔

    وان ڈیر لیین نے حالیہ دنوں میں برن کنونشن کمیٹی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا، اور کہا کہ یہ "دیہی کمیونٹیوں اور کسانوں کے لیے اہم خبر ہے، کیونکہ ہمیں جنگلی حیات کے تحفظ اور اپنے روزگار کے تحفظ کے درمیان ایک متوازن نقطہ نظر کی ضرورت ہے۔”

    سویڈن میں بھیڑیوں کی آبادی حالیہ برسوں میں بڑھی ہے اور اب تقریباً 1,500 بھیڑیے جرمنی اور 3,300 اٹلی میں موجود ہیں، جب کہ بیلجیم میں بھی 120 بھیڑیے ہیں۔ سٹفن وڈسٹرینڈ اس صورتحال کو "ایک شاندار واپسی” قرار دیتے ہیں۔ تاہم سویڈن کے وزیر برائے دیہی امور پیٹر کلگرن کا کہنا ہے کہ ملک میں بھیڑیوں کی موجودگی پہلے کی نسبت زیادہ اثر انداز ہو رہی ہے، اور اس سے لوگوں کی حفاظت میں مسائل آ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ والدین کو اپنے بچوں کو گھروں کے پچھواڑے میں کھیلنے کی اجازت دینے میں خوف محسوس ہو رہا ہے، کسان اپنے مویشیوں کو چراگاہوں میں چھوڑنے سے خوفزدہ ہیں اور کتوں کے مالکان اپنے پالتو جانوروں کے محفوظ رہنے کے بارے میں تشویش میں ہیں۔

    کرم حملہ،گارنٹی کے باوجود فائرنگ،سخت ایکشن کا امکان

    امریکیوں کا الکحل سے دوری کا رجحان،مشروبات کی کمپنیاں مستقبل کے لیے تیار

    پنجاب میں مانع حمل ادویات کے استعمال میں اضافہ،شرح پیدائش میں کمی

  • کرم حملہ،گارنٹی کے باوجود فائرنگ،سخت ایکشن کا امکان

    کرم حملہ،گارنٹی کے باوجود فائرنگ،سخت ایکشن کا امکان

    کر م مسلح شرپسندوں نےڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کے قافلے پر حملہ کیا ہے جس میں 6 افراد زخمی ہوئے ہیں ، ڈپٹی کمشنر بھی زخمیوں میں شامل ہیں

    سرکاری ذرائع کے مطابق تقریباً 40 سے 50 مسلح شرپسندوں نے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کے قافلے پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 6 افراد زخمی ہوگئے۔ حملہ اس وقت کیا گیا جب قافلہ روانہ ہونے کے لیے تیار تھا اور مذاکراتی ٹیم سڑک کھلوانے کی کوشش کر رہی تھی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کی گاڑیاں روانہ ہونے سے چند لمحے پہلے ہی حملہ آوروں نے ان پر اور سرکاری اہلکاروں پر حملہ کیا۔ حملے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود خود سمیت پولیس کے تین اہلکار اور فرنٹیئر کور (ایف سی) کے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے والے افراد کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ بہت تشویشناک ہے کیونکہ امن کمیٹیوں نے اس علاقے میں امن کی بحالی کے لیے گارنٹی دی تھی۔ کمیٹیوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ امن خراب کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی، اور اسی کے تحت ہی امدادی قافلہ روانہ کیا جا رہا تھا۔آج کا قافلہ کرم کے علاقے کے لیے روانہ ہونا تھا جس میں ادویات اور ضروری اشیاء خورد و نوش شامل تھیں، لیکن حملے کے باعث نہ صرف اس قافلے کو روکا گیا بلکہ عوام کو مزید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔

    سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ اس حملے کی شدید مذمت کی جاتی ہے اور حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف متحد ہوں جو امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مقامی لوگ ان امن دشمنوں کے خلاف متحد نہیں ہوتے تو اس کا نقصان صرف ان کی اپنی کمیونٹی کو ہو گا۔حکام نے مزید کہا کہ اگر اس قسم کی کارروائیاں جاری رہیں تو متعلقہ ادارے پوری قوت سے حرکت میں آئیں گے اور ان عناصر کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔اس کے علاوہ، مقامی عوام سے یہ بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان چھپے ہوئے امن دشمنوں کو پہچانیں اور ان کے خلاف کھڑے ہوں تاکہ علاقے میں امن کا قیام ممکن ہو سکے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایگل آئی نے پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ حاجی کریم (جس کا تعلق بگن گاؤں سے ہے) نے ابھی تک امن معاہدے پر دستخط نہیں کیے ہیں، جبکہ تمام اہل سنت بھائی اور اہل تشیع بھائی اس پر دستخط کر چکے ہیں۔حاجی کریم کے دستخط نا کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اُس پر خارجیوں کا بہت پریشر ہے۔ جبکہ باقی تمام قبائل نے مُلک و قوم اور علاقے کے حق میں جرات مندانہ اقدامات کئے ہیں، حاجی کریم خارجیوں کے سامنے یا تو کُلی طور پر بک گیا ہے یا پوری طرح سے جُھک گیا ہے۔ حاجی کریم کی بزدلی اور قوم دشمنی کی وجہ سے بگن کے غیور لوگ بھی تنگ آ چکے ہیں۔ علاقے کے تمام عوام سجھتے ہیں کہ حاجی کریم کی وجہ سے پہلے ہی کُرم علاقے کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔ جبکہ حاجی کریم نے سب سے پہلے آنے والی امداد کو باگن میں اپنے اور خارجیوں کے لئے استعمال کیا۔اور باقی علاقوں میں جانے سے روکا ہے۔یہ کہنا غلط نا ہو گا کہ حاجی کریم تحریک طالبان کے لوکل کمانڈر دہشت گرد خارجی کاظم کا فرنٹ مین ہے۔ خارجیوں نے کافی حد تک اس پر قابو پا لیا ہے۔ اب اس کے ہر کام کے پیچھے کاظم خارجی ہے۔اس کی کاظم سے کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔سیکیورٹی فورسز کے پاس اطلاعات ہیں کہ حاجی کریم بگن کے لوگوں کو کاظم دہشت گرد کے کہنے پر خارجیوں کے بڑے مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ آج کا حملہ کاظم خارجی اور اُس کے دہشت گردوں نے کیا ہے اور حاجی کریم اسکا آلۂ کار بنا ہے۔ کیا بگن کے لوگ حاجی کریم اور کاظم خارجی کے ہاتھوں استعمال ہوتے رہیں گے؟.اگر حاجی کریم صراط مستقیم پر نہیں آیا تو بگن گاؤں کے محب وطن پاکستانیوں کو ساتھ ملا کر خارجیوں کے اس فرنٹ مین کو قانون کے مطابق نمٹا جائے گا،انشاء اللّٰہ

    پنجاب میں مانع حمل ادویات کے استعمال میں اضافہ،شرح پیدائش میں کمی

    بھارتی فوج کی گاڑی کھائی میں گرنے سے دو سپاہی ہلاک، دو زخمی

    ڈیٹنگ ایپس پر 700 خواتین سے پیسہ بٹورنے والا 23 سالہ نوجوان گرفتار