Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ،  "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

    روس میں پولیس کا نائٹ کلب پر چھاپہ، "ہم جنس پرستی کی حمایت” 7 گرفتار

    روس میں پولیس نے ایک نائٹ کلب پر چھاپے کے دوران سات افراد کو مبینہ طور پر "کچھ زیادہ ہی ہم جنس پرست نظر آنے” کے الزام میں گرفتار کر لیا اور ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔

    یہ واقعہ تولا شہر کے ایک نائٹ کلب میں پیش آیا، جس کی تفصیلات آزاد روسی میڈیا آؤٹ لیٹ کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں۔ ان افراد پر روس میں گزشتہ ایک دہائی سے ممنوع "غیر روایتی جنسی تعلقات میں دلچسپی پیدا کرنے” کا الزام عائد کیا گیا۔روس کا یہ قانون بنیادی طور پر ایل جی بی ٹی مواد کی تشہیر پر لاگو ہوتا ہے، لیکن اس چھاپے کے دوران کلب میں موجود افراد کے لباس اور ظاہری شکل کو غیر روایتی جنسی تعلقات کو فروغ دینے کے طور پر دیکھا گیا۔ ویڈیوز میں پولیس اہلکاروں کو فوجی طرز کے لباس اور ہیلمٹ پہنے ہوئے آٹھ افراد کو حراست میں لیتے ہوئے دکھایا گیا۔ ان میں سے ایک شخص نے اپنے سینے پر کالے ٹیپ سے بنے ہوئے کراس چپکائے ہوئے تھے، جبکہ اس نے خواتین کے طرز کا کارسیٹ بھی پہنا ہوا تھا۔ ایک دوسرے شخص نے چمکدار نارنجی بال، سرخ ٹیٹو سے سجے چہرے، گلابی موزے اور کھلا کیمونو پہن رکھا تھا۔ ایک اور شخص نے کروپ ٹاپ، سیاہ چمڑے کی شارٹس اور فش نیٹ ٹائٹس پہنے ہوئے تھے۔

    پولیس کی جانب سے ان افراد کے لباس اور ظاہری شکل کو روایتی جنسی رجحانات کے حامل مردوں کے امیج سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیا گیا۔ حراست میں لیے گئے آٹھ افراد میں سے سات کو جرمانہ عائد کیا گیا، جبکہ ایک شخص — جو کہ ایک مرد بارٹینڈر تھا — اس دعوے کے ساتھ جرمانے سے بچ گیا کہ وہ عام فیشن کے لباس میں تھا اور اس کا کوئی جنسی رجحان نہیں تھا۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب روسی حکومت روایتی اقدار کو فروغ دینے کے لیے اپنی اینٹی ایل جی بی ٹی پالیسیوں کو مزید سخت کر رہی ہے۔ ان پالیسیوں میں "بچوں کے بغیر زندگی گزارنے کے طرزِ زندگی کی تشہیر” پر بھی پابندی شامل ہے۔ نومبر 2024 میں بھی روسی حکام نے ماسکو میں متعدد بارز اور نائٹ کلبز پر چھاپے مارے تھے اور انہیں ایل جی بی ٹی پروپیگنڈا کے خلاف قوانین کے تحت نشانہ بنایا تھا۔

    روس کی یہ پالیسیز اس وقت دنیا بھر میں تنازعہ کا باعث بنی ہوئی ہیں، جہاں ان پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور افراد کی ذاتی آزادیوں کے احترام کی کمی کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کو ایل جی بی ٹی کمیونٹی کے حقوق کے خلاف ایک حملہ سمجھا جا رہا ہے اور اس پر بین الاقوامی سطح پر تنقید کی جا رہی ہے

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

  • چین میں نئی وبا،پاکستان الرٹ،نگرانی بڑھا دی

    چین میں نئی وبا،پاکستان الرٹ،نگرانی بڑھا دی

    پاکستان نے چین میں پھیلنے والے ایک نئے وائرس، ہیومن میٹاپنیو وائرس (HMPV)، پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ اس وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد پاکستانی حکام نے فوری طور پر اس کی نگرانی بڑھا دی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بچا جا سکے۔

    قومی ادارۂ صحت کے حکام کے مطابق، چین میں پھیلنے والے ایچ ایم پی وی وائرس کی تشخیص کے لیے ٹیسٹ کٹس دستیاب ہیں۔ ان کٹس کی مدد سے اس وائرس کی تشخیص کی جا سکتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اب تک پاکستان میں اس وائرس کا کوئی سیمپل ٹیسٹ کے لیے نہیں آیا، تاہم بارڈر ہیلتھ سروسز کا عملہ پاکستان آنے والے ہر بیمار یا مشتبہ شخص کا سیمپل وفاقی و صوبائی لیبز بھیجتا ہے تاکہ وائرس کی موجودگی کا پتہ چلایا جا سکے۔
    حکام نے مزید بتایا کہ قومی ادارۂ صحت اسلام آباد میں ایچ ایم پی وی وائرس کے بارے میں معاملہ این سی او سی (نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر) میں زیرِ بحث لایا جائے گا، جس کے لیے ایک اجلاس منگل کے روز متوقع ہے۔

    چین میں کورونا وائرس کے پانچ سال بعد ایک اور نیا وائرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے جس سے نہ صرف چین بلکہ دیگر ممالک میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ تاہم عالمی ادارۂ صحت نے فی الحال اس وائرس کے حوالے سے کوئی ایڈوائزری جاری نہیں کی ہے۔

    پاکستان میں موسمی انفلوئنزا کے کیسز میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں میں نزلہ، کھانسی اور بخار کی شکایات بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایچ ایم پی وی وائرس کی علامات کورونا وائرس سے ملتی جلتی ہیں، جیسے نزلہ، کھانسی، بخار اور سانس کی تکلیف، جس کی وجہ سے یہ وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے،پاکستانی حکام نے اس وائرس کی مانیٹرنگ کو مزید سخت کر دیا ہے اور عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں تاکہ اس وائرس کی پاکستان تک منتقلی کا خطرہ کم کیا جا سکے۔

    اداکارہ اپاسنا سنگھ کا فلم ڈائریکٹر کی جانب سے رات کو ہوٹل بلانے کی پیشکش کا انکشاف

    نیلم منیر نے لمبا ہاتھ مارا ،اداکارہ کی شادی پر صارفین کے تبصرے

  • اداکارہ اپاسنا سنگھ کا فلم ڈائریکٹر کی جانب سے رات کو ہوٹل بلانے کی پیشکش کا انکشاف

    اداکارہ اپاسنا سنگھ کا فلم ڈائریکٹر کی جانب سے رات کو ہوٹل بلانے کی پیشکش کا انکشاف

    بالی وڈ کی معروف اداکارہ اور کامیڈین اپاسنا سنگھ نے حالیہ دنوں میں ایک پوڈکاسٹ کے دوران ایک تہلکہ خیز انکشاف کیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ساؤتھ فلم انڈسٹری کے ایک معروف ڈائریکٹر نے انہیں رات کے وقت ہوٹل بلانے کی پیشکش کی تھی۔

    اپاسنا سنگھ نے بتایا کہ ” انیل کپور کے مدمقابل ایک فلم کے لیے سائن کی گئی تھی اور ہمیشہ ان کے دفتر اپنے ساتھ کسی نہ کسی کو لے کر جاتی تھی، چاہے وہ میری والدہ ہوں یا بہن، لیکن ایک دن انہوں نے مجھے کہا کہ اکیلے دفتر آؤ۔” انہوں نے کہا کہ اس وقت یہ بات ان کے لیے غیر معمولی تھی اور انہیں سمجھ نہیں آیا تھا کہ ایسا کیوں کہا گیا۔اداکارہ نے مزید کہا کہ ایک دن رات تقریباً 11:30 بجے اس ڈائریکٹر کا فون آیا اور انہوں نے کہا کہ "ہوٹل آ جاؤ، وہاں ’سٹنگ‘ ہے تو آ جاؤ۔” اپاسنا سنگھ نے ان سے پوچھا کہ "کہانی کل سن لوں گی تو اس میں کیا مسئلہ ہے؟” اس پر ڈائریکٹر نے جواب دیا، "تمہیں ’سٹنگ‘ کا مطلب نہیں سمجھ آیا۔”

    اس بات کا ذکر کرتے ہوئے اپاسنا سنگھ نے کہا کہ انہیں یہ بات سن کر شدید غصہ آیا اور وہ رات بھر نیند نہیں سکی۔ اگلے دن وہ باندرہ کے دفتر پہنچیں اور وہاں ڈائریکٹر کے سامنے 3 سے 4 منٹ تک پنجابی میں گالیاں دیں اور غصے میں آ کر زور زور سے چلاتی رہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اس کے بعد میں دفتر سے باہر نکلی اور باندرہ کی فٹ پاتھ پر روتے ہوئے چلنے لگی، اور مجھے وہ دن یاد آ رہے تھے جب میں نے سب کو بتایا تھا کہ میں انیل کپور کے مدمقابل فلم سائن کر چکی ہوں اور اب میں اسٹار بن جاؤں گی۔”

    اپاسنا سنگھ نے اس واقعے کے بعد ایک ہفتہ تک کمرے میں بند رہ کر اس بات پر غور کیا کہ وہ اس معاملے کے بارے میں دوسروں کو کیا بتائیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ انہیں بہت مضبوط بنا گیا۔اداکارہ نے مزید بتایا کہ اس کے بعد ڈائریکٹر نے انہیں پیغام بھیجا کہ "تم نہیں تو اور لوگ موجود ہیں۔” اس پیغام کو سن کر انہیں مزید تکلیف پہنچی، لیکن وہ اس بات کو اپنے دل سے لگا کر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔

    یاد رہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری میں ہدایتکاروں اور پروڈیوسرز کی جانب سے اداکاراؤں کو ہراساں کرنے کے واقعات ایک عام مسئلہ بن چکے ہیں۔ گزشتہ سال بھی بھارتی فلم انڈسٹری میں اداکاراؤں کے جنسی استحصال کے حوالے سے ہیما کمیٹی کی رپورٹ نے کافی ہلچل مچائی تھی۔ ان واقعات کے بارے میں بات کرنے والے افراد کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور یہ انڈسٹری میں اہم مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے۔اداکاراؤں کو ہراساں کرنے کے واقعات پر بات کرنا بھارتی فلم انڈسٹری میں اب ایک معمول بن چکا ہے۔ اگرچہ کچھ افراد ان مسائل کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود انڈسٹری میں اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی کمی دکھائی دیتی ہے۔

    اداکاراؤں کے خلاف ہراسانی کے معاملے میں بڑھتے ہوئے واقعات نے بالی وڈ کو ایک مشکل مقام پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں ان مسائل کو حل کرنے کے لیے نہ صرف حکومتی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے بلکہ انڈسٹری کے اندر بھی اس طرح کے رویوں کے خلاف ایک مضبوط اور باضابطہ موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

    نیلم منیر نے لمبا ہاتھ مارا ،اداکارہ کی شادی پر صارفین کے تبصرے

    فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی شام کے نئے رہنماؤں سے ملاقات

  • بھارتی بحریہ کے دو افسران پیراشوٹ کی خرابی کے باعث سمندر میں جاگرے

    بھارتی بحریہ کے دو افسران پیراشوٹ کی خرابی کے باعث سمندر میں جاگرے

    بھارتی بحریہ کو اس وقت ہزیمت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب وشاکا پٹنم کے ساحل پر ہونے والے آپریشنل تیاریوں کے مظاہرے کی ریہرسل کے دوران دو افسران کے پیراشوٹ ایک دوسرے سے الجھ گئے، جس کے باعث دونوں افسران سمندر میں جاگرے۔ قریبی کشتی میں موجود اہلکاروں نے فوراً ان کی مدد کی اور دونوں افسران کی جان بچا لی۔

    بھارتی نیوی کے دو افسران پیراشوٹ کے ذریعے فضا سے نیچے آ رہے تھے کہ اچانک ان کے پیراشوٹ آپس میں الجھ گئے، جس کی وجہ سے دونوں افسران سمندر میں گر گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب ساحل پر شائقین کی بڑی تعداد ریہرسل دیکھنے کے لیے موجود تھی۔ ان شائقین نے یہ واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس کے بعد بھارتی افواج کی آپریشنل تیاریوں پر سوالات اٹھنا شروع ہو گئے۔قریبی کشتی فوراً دونوں افسران کے قریب پہنچی اور ان کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئی۔ بھارتی میڈیا کے مطابق دونوں افسران حادثے میں زخمی نہیں ہوئے۔ اس واقعے کے بعد بھارتی بحریہ کی آپریشنل تیاریوں کے حوالے سے میڈیا میں خاصی بحث چھڑ گئی ہے، اس حادثے کے بعد یہ سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں کہ اگر واقعی بھارتی نیوی کی آپریشنل تیاریوں میں اتنی مہارت ہے تو اس قسم کے حادثات کیوں پیش آ رہے ہیں۔

    واضح رہے کہ بھارتی نیوی کی جانب سے 4 جنوری کو وشاکا پٹنم کے ساحل پر اپنی آپریشنل تیاریوں کے مظاہرے کا منصوبہ ہے، جس میں بھارتی بحریہ کی مختلف سرگرمیاں دکھائی جائیں گی۔ اس موقع پر آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ اور دیگر اہم حکومتی شخصیات کی موجودگی متوقع ہے، اور یہ واقعہ بھارتی نیوی کی آپریشنل صلاحیتوں پر سوالیہ نشان بن چکا ہے۔اس حادثے نے بھارتی نیوی کی آپریشنل تیاریوں اور ان کے دعوؤں کی ساکھ کو سخت دھچکا پہنچایا ہے۔ اگرچہ دونوں افسران محفوظ ہیں، تاہم اس حادثے کے باعث بھارتی افواج کے آپریشنل معیار اور تیاریوں کے بارے میں مزید سوالات اٹھ رہے ہیں، جو کہ بھارتی میڈیا اور عوام کے درمیان بحث کا باعث بنے ہیں۔

    نیلم منیر نے لمبا ہاتھ مارا ،اداکارہ کی شادی پر صارفین کے تبصرے

    فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی شام کے نئے رہنماؤں سے ملاقات

  • نیلم منیر نے لمبا ہاتھ مارا ،اداکارہ کی شادی پر صارفین کے تبصرے

    نیلم منیر نے لمبا ہاتھ مارا ،اداکارہ کی شادی پر صارفین کے تبصرے

    پاکستان کی مشہور و معروف اداکارہ نیلم منیر نے بالآخر اپنے مداحوں کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور شادی کے بندھن میں بندھ گئیں۔

    یہ خبر جب سے منظر عام پر آئی ہے، نیلم منیر کے مداحوں میں سنسنی پھیل گئی ہے اور سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے اور افواہیں گردش کر رہی ہیں۔ نیلم منیر نے گزشتہ ہفتے ایک انٹرویو کے دوران شادی سے متعلق بات کی تھی۔ اداکارہ نے کہا تھا کہ اُن کا فی الحال یا مستقبل قریب میں شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تاہم، نیلم منیر کی اچانک شادی کی خبر نے سب کو چکرا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ ایک طرف وہ شادی کے بارے میں انکار کر رہی تھیں، تو دوسری طرف یہ خبر آنا سب کے لیے باعث حیرانی بن گئی۔

    نیلم منیر کی شادی کی خبر نے جہاں ان کے مداحوں کو حیران کن طور پر خوش کیا، وہیں اس خبر نے سوشل میڈیا صارفین کو بھی گہرا متجسس کر دیا ہے۔ خاص طور پر نیلم منیر کی شادی دبئی میں ہونے کے حوالے سے کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اکثر لوگ ان کے شوہر کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، لیکن ابھی تک اس حوالے سے کوئی واضح تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

    بعض سوشل میڈیا رپورٹس کے مطابق، نیلم منیر کے شوہر کا تعلق دبئی سے ہے اور وہ ایک کاروباری شخصیت ہیں۔ تاہم، ان کی شناخت یا مزید تفصیلات ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔

    نیلم منیر کی نکاح کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے مختلف دلچسپ تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا: "نیلم منیر نے ‘حبیبی کم ٹو دبئی’ کو بہت سنجیدہ طور پر لے لیا ہے”، جبکہ دوسرے نے طنزیہ انداز میں لکھا "فائنلی حبیب وینٹ ٹو دبئی۔” اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے نیلم منیر کے شوہر کو "شیخ” کے طور پر پکارا اور کہا کہ وہ بہت شریف انسان لگ رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا، "اللہ جوڑی سلامت رکھے۔”

    نیلم منیر کی شادی کے بعد ایک اور دلچسپ بات یہ سامنے آئی ہے کہ اداکارہ نے دورِ حاضر کی دیگر اداکاراؤں کی طرح غیر مناسب لباس پہننے کی بجائے ایک خوبصورت اور مکمل لباس کو ترجیح دی ہے۔ اس پر ایک صارف نے تعریف کرتے ہوئے کہا: "نیلم منیر نے دورِ حاضر کی متعدد اداکاراؤں کی طرح نامناسب لباس پہننے کے بجائے خوبصورت اور مکمل لباس پہنا ہے۔”

    انسٹاگرام پر ایک صارف ایزل فاطمہ نے دعویٰ کیا کہ نیلم منیر کی شادی کو ایک ماہ ہو چکا ہے، تاہم سوشل میڈیا پر پوسٹ دیر سے کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، کچھ صارفین نے نیلم منیر کی شادی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ شادی شاید اداکارہ کی بار بار دبئی جانے کی وجہ تھی۔ ایک صارف نے لکھا: "نیلم منیر نے لمبا ہاتھ مارا ہے!”

    لوئر کرم: گاڑی پر فائرنگ ، ڈپٹی کمشنر زخمی

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

  • لوئر کرم: گاڑی پر فائرنگ ، ڈپٹی کمشنر  زخمی

    لوئر کرم: گاڑی پر فائرنگ ، ڈپٹی کمشنر زخمی

    لوئر کرم کے علاقے بگن میں ضلعی انتظامیہ کی گاڑی پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود زخمی ہو گئے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ضلعی انتظامیہ کا قافلہ بگن سے گزر رہا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
    ضلعی انتظامیہ کے ذرائع کے مطابق، بگن کے علاقے میں نامعلوم افراد نے ضلعی انتظامیہ کی گاڑی پر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ڈپٹی کمشنر جاوید اللہ محسود کو گولیاں لگیں اور وہ زخمی ہو گئے۔ زخمی ہونے کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا،

    پولیس کا کہنا ہے کہ بگن میں وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے تاکہ ملزمان تک پہنچا جا سکے۔ آر پی او کوہاٹ نے تصدیق کی کہ یہ فائرنگ کسی فریق کی جانب سے نہیں کی گئی بلکہ یہ حملہ نامعلوم افراد نے کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملزمان کی تلاش جاری ہے اور علاقے میں بھرپور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

    فائرنگ کے دوران تین ایف سی اہلکار بھی زخمی ہو گئے۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ زخمیوں کی حالت مستحکم ہے اور انہیں مزید علاج کے لیے ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق،امدادی قافلے کو ہنگو کی تحصیل ٹل سے کرم روانہ ہونا تھا، لیکن فائرنگ کے واقعے کے بعد قافلے کی روانگی میں تاخیر ہو گئی ہے۔ انتظامیہ نے اس وقت مشاورت اور صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا ہے کہ قافلہ مزید حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے بعد روانہ کیا جائے گا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قافلہ روانہ ہونے سے قبل سیکیورٹی کے مزید انتظامات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

    یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کرم تنازع کے حوالے سے فریقین کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا۔ جس کے تحت ٹل پارہ چنار شاہراہ کو تین ماہ بعد آج کھولا جانا تھا۔ اس معاہدے کے تحت 75 گاڑیوں پر مشتمل قافلے کو سکیورٹی حصار میں کرم روانہ کیا جانا تھا۔ مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر سیف نے اس بارے میں میڈیا کو بتایا تھا کہ اس قافلے کی روانگی میں سیکیورٹی کے مکمل انتظامات کیے جائیں گے۔

    ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور قافلے کی روانگی کے حوالے سے مزید مشاورت کی جا رہی ہے تاکہ کسی قسم کی غیر متوقع صورتحال سے بچا جا سکے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے اور انتظامیہ نے اس بات کی بھی تصدیق کی ہے کہ سرچ آپریشن جاری رہے گا تاکہ ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے۔

    لوئرکرم، گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ، صدر مملکت، وزیرداخلہ، گورنر خیبر پختونخوا کی مذمت
    صدر مملکت آصف علی زرداری نے لوئر کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے،صدر مملکت نےکرم میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ شرپسند عناصر عوام کے دشمن، فساد پھیلانا چاہتے ہیں، عوام شرپسند عناصر کو مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہونے دے، صدر مملکت نےڈپٹی کمشنر سمیت فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہونے والوں کیلئے جلد صحتیابی کی دعا کی،

    سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔وزیر داخلہ
    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ لوئر کرم میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کا واقعہ امن معاہدہ سبوتاژ کرنے کی سازش ہے۔ شرپسند عناصر نے فائرنگ کرکے امن معاہدے کو نقصان پہنچانے کی گھناؤنی حرکت کی۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے فائرنگ سے زخمی ہونے والے ڈپٹی کمشنر کرم جاوید اللہ محسود کی جلد صحتیابی کیلئے دعا کی.

    خیبر پختونخوا کےگورنر فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ کرم میں گاڑیوں کے قافلے پر فائرنگ قابل مذمت ہے ،حملہ میں ڈپٹی کمشنر کا زخمی ہونا انتظامیہ کی نااہلی ہے،کرم۔ امدادی قافلہ پر فائرنگ صوبائی حکومت کی نااہلی اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے ،ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کی جلد صحت یابی کے لیئے دعا گو ہوں

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کی وجہ سے فلائٹ سیفٹی کو خطرہ

  • فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی شام کے نئے رہنماؤں سے ملاقات

    فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی شام کے نئے رہنماؤں سے ملاقات

    فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ نے شام کے نئے رہنماؤں سے ملاقات کی اور اقتدار کی منتقلی کے لیے جامع سیاسی عمل کی ضرورت پر زور دیا،

    فرانس کے وزیر خارجہ جان نوئیل بارو نے اپنی جرمن ہم منصب اینالینا بیربوک کے ساتھ شام کے دارالحکومت دمشق کا دورہ کیا، جہاں دونوں رہنماؤں نے شام کے موجودہ عملی حکمران احمد الشرعہ سے ملاقات کی۔ الشرعہ سابقاً ابو محمد الجولانی کے نام سے معروف تھے، جن کی قیادت میں حیات تحریر الشام نے اسد حکومت کے خلاف بغاوت شروع کی تھی اور ان کا گروپ اپنے ماضی کے القاعدہ سے تعلقات سے الگ ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔بیربوک نے کہا کہ وہ شام میں ایک "کھلے ہاتھ” کے ساتھ آئی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ حیات تحریر الشام کے ماضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے اقدامات کر رہی ہیں۔

    یورپی وفد نے شام کی نئی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے آمادگی ظاہر کی، لیکن اسی وقت اقلیتی گروپوں کے حقوق کے تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ بارو نے اجلاس سے قبل کہا، "اب وقت آ چکا ہے کہ شامی عوام اپنے ملک کا دوبارہ حصول کریں، ایک سیاسی منتقلی کے ذریعے جو شام کی مختلف کمیونٹیز کی نمائندگی کرے، اور جو تمام شامیوں کو بغیر کسی مذہبی یا جنسی تفریق کے شامی شہریت دے۔”بارو نے مزید کہا، "اس مقصد کے لیے، ہم شام کے عبوری حکام کو فرانس اور یورپی یونین کی عدالتی اور تکنیکی مہارت فراہم کر رہے ہیں تاکہ شامی عوام کو نئے آئین کی تشکیل میں مدد ملے۔”

    بیربوک نے ایکس پر ایک پوسٹ میں اسی طرح کے جذبات کا اظہار کیا اور لکھا کہ "نیا آغاز تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب تمام شامیوں، ان کے نسلی یا مذہبی گروہ سے قطع نظر، کو سیاسی عمل میں اپنا حصہ دیا جائے۔”

    الشرعہ سے ملاقات کے بعد بیربوک نے کہا، "سالوں کے جبر، تشدد اور جنگ کے بعد، شام کے عوام نے اپنے ملک کے لیے ایک نیا صفحہ پلٹ دیا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ان کا اور بارو کا شام کا دورہ "ایک مضبوط پیغام ہے کہ اب ایک سیاسی نیا آغاز ممکن ہے”، اور یہ کہ یورپی یونین شام کو ایک آزاد اور محفوظ ملک بنانے میں "ہر ممکن مدد” فراہم کرے گی، جس میں خواتین بھی شامل ہوں گی۔بیربوک نے خواتین کے حقوق کو "آزاد معاشرے کے لیے مستقبل کا معیار” قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ "یورپ اسلامسٹ ڈھانچوں کا مالی معاون نہیں بنے گا۔”

    دمشق میں اپنے دورے کے دوران، بارو اور بیربوک نے سیڈنایا جیل کا دورہ کیا، جو اپنی بے گناہوں کی قید، تشدد اور قتل کے لیے مشہور ہے۔ بارو نے کہا کہ وہ اور بیربوک "اس جیل کے جہنم جیسے عقوبت خانہ میں جو بربریت دیکھی، اس سے جذباتی طور پر متاثر ہوئے۔”بارو نے کہا، "اگر انصاف نہیں ملتا، تو شام کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لیے آج سے ہم عبوری حکام کو فرانس کی تکنیکی مہارت فراہم کر رہے ہیں تاکہ استثنائی اقدامات کے خلاف جدوجہد کی مدد کی جا سکے اور عبوری انصاف حاصل کرنے میں مدد فراہم کی جا سکے، جیسا کہ ہم گزشتہ کئی برسوں سے کر رہے ہیں۔”بیربوک نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ "وہ اس جیل کے جہنم میں ظلم جھیلنے والے لوگوں کے لیے انصاف لانے میں مدد کریں۔”

    فرانس کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وہ شام کی نئی عبوری حکومت کو سفارش کریں گے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کے لیے کام کرنے والی تنظیم سے درخواست کرے تاکہ ایک ٹیم شام بھیجی جا سکے جو کیمیائی ہتھیاروں کا اندازہ لگا سکے اور ان کے خاتمے کا عمل شروع کرے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    ریپبلکن رکن مائیک جانسن اسپیکر منتخب

  • ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    ڈونلڈ ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر

    نیو یارک: امریکہ کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ہش منی کیس میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ نیو یارک کی عدالت نے 10 جنوری 2025 کو ٹرمپ کو سزا سنانے کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔

    رپورٹس کے مطابق، جج نے کاروباری معلومات میں جعلسازی کے مقدمے میں ٹرمپ پر فرد جرم برقرار رکھی ہے۔ اس کیس میں ٹرمپ پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاروباری معاملات میں جعلی معلومات فراہم کی تھیں، جس کے نتیجے میں انہوں نے مالی فوائد حاصل کیے۔تاہم، ابتدائی طور پر یہ کہا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کو اس کیس میں جیل کی سزا ممکنہ طور پر نہیں سنائی جائے گی۔ اس کے بجائے، انہیں جرمانے یا دیگر سزائیں مل سکتی ہیں۔ اس مقدمے میں ٹرمپ کی ذمہ داری کی نوعیت کی وجہ سے جج نے یہ کہا کہ ان پر فرد جرم برقرار رکھی جائے گی، لیکن اس بات کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ انہیں صدر کے عہدے کے لیے خدمات انجام دینے کی اجازت دی جائے گی، حالانکہ وہ مجرم قرار پائیں گے۔

    واضح رہے کہ 10 جنوری کے فیصلے کے بعد صرف چند دنوں میں، یعنی 20 جنوری 2025 کو، ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کے عہدے کے لیے حلف اٹھانا ہے۔ اس حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ کی صدر کے طور پر حلف برداری کے عمل میں کوئی قانونی رکاوٹ آئے گی یا نہیں، اور آیا وہ اس مقدمے کے باوجود امریکی صدر کے طور پر اپنے فرائض انجام دے پائیں گے۔

    ٹرمپ کی ٹیم اور ان کے حامیوں کی جانب سے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ری پبلکن پارٹی کے کئی رہنما اس فیصلے پر تنقید کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے جو ٹرمپ کی صدارت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے بنایا گیا ہے۔اگرچہ ٹرمپ کو مجرم قرار دیا جائے گا، لیکن اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کو جاری رکھیں گے اور 2025 میں صدر کے طور پر اقتدار سنبھالیں گے، کیونکہ امریکی آئین میں کسی شخص کو صدر بننے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ عدالتی مقدمات میں بے قصور ہو۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

  • کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کی وجہ سے فلائٹ سیفٹی کو خطرہ

    کراچی ایئرپورٹ پر آوارہ کتوں کی وجہ سے فلائٹ سیفٹی کو خطرہ

    کراچی کے جناح ایئرپورٹ پر جنرل ایوی ایشن ایریا میں آوارہ کتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے فلائٹ سیفٹی کے لیے سنگین خطرات پیدا کر دیے ہیں۔

    آوارہ کتوں کی بہتات کی وجہ سے ، کتوں کا آزادانہ گھومنا ٹیکسی وے اور ایئرپورٹ کے دیگر حساس علاقوں میں پروازوں کی حفاظت کو متاثر کر رہا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ آوارہ کتوں کی موجودگی اور ان کا ٹیکسی وے پر آزادانہ گھومنا خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ ان کتوں کا کسی بھی طیارے سے ٹکرا جانا فلائٹ سیفٹی کے لیے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس علاقے میں مسلسل تربیتی طیاروں کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے، جس سے پروازوں کے آپریشن میں مزید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

    گزشتہ شام ایک آوارہ کتا ایک طیارے سے ٹکرا جانے کے قریب پہنچ گیا تھا، جس کی وجہ سے جنرل ایوی ایشن ہینگر سے روانہ ہونے والی ایک پرواز کو حادثے کے خدشے کے پیش نظر منسوخ کرنا پڑا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ایئرپورٹ پر پروازوں کے آپریشن میں مشکلات بڑھ گئی ہیں اور ایئرپورٹ کی انتظامیہ کے لیے صورتحال کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

    پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے، اور اس کی ناکامی نے ایئرپورٹ کے مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کی موجودگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماضی میں آوارہ کتوں کو مرکزی رن وے پر بھی گھومتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس سے پروازوں کے دوران حادثات کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس مسئلے پر فوری توجہ نہ دی گئی تو یہ نہ صرف فلائٹ سیفٹی کے لیے خطرہ بنے گا بلکہ ایئرپورٹ کی مجموعی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کو فوری طور پر آوارہ کتوں کی تعداد کو کنٹرول کرنے اور ان کی ایئرپورٹ کے اندر موجودگی کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت ہے۔

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

  • ریپبلکن رکن مائیک جانسن اسپیکر منتخب

    ریپبلکن رکن مائیک جانسن اسپیکر منتخب

    امریکی کانگریس کے 119 ویں اجلاس میں ریپبلکن رکن مائیک جانسن کو اسپیکر منتخب کر لیا گیا ہے۔ یہ تاریخی انتخاب اس لحاظ سے اہم ہے کہ یہ 100 سال میں سب سے کم مارجن سے ہونے والا اسپیکر کا انتخاب ہے۔ جانسن کی کامیابی نہ صرف ان کے لیے بلکہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ ان کی حمایت سے جانسن کی پوزیشن مستحکم ہوئی اور ٹرمپ کی سیاسی عزت بھی بچ گئی۔

    مائیک جانسن اس سے قبل بھی اسپیکر کے طور پر کام کر چکے ہیں، اور اب دوسری بار اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز ہونے والی ووٹنگ میں جانسن کو جیت کے لیے سخت چیلنج کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان کی اپنی پارٹی کے کچھ ارکان نے ان کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کیا تھا۔ ان ارکان میں وہ شامل تھے جو جانسن کے ساتھ ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر قانون سازی کرنے پر ناراض تھے۔امریکی ایوان نمائندگان میں 435 ارکان کی تعداد ہے۔ ریپبلکنز کے پاس 219 ارکان ہیں جبکہ ڈیموکریٹس کے پاس 215 ارکان ہیں۔ جب ووٹنگ شروع ہوئی تو تمام 215 ڈیموکریٹس نے اپنے امیدوار حکیم جیفریز کے حق میں ووٹ دیا۔ تاہم، ریپبلکنز کے تین ارکان نے جانسن کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کیا، جس کی وجہ سے ووٹنگ کا نتیجہ انتہائی قریب آیا۔ ان میں سے دو ارکان کی ناراضگی دور کرکے جانسن نے دوسری بار اسپیکر کا عہدہ جیت لیا۔

    انتخابات کے بعد ریپبلکن رکن رالف نارمن نے صحافیوں کو بتایا کہ انہوں نے جانسن کے ساتھ بند کمرے میں بات کرنے کے بعد اپنا ووٹ تبدیل کیا۔ اگر جانسن شکست کھاتے تو یہ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اور شرمندگی ہوتی۔ اس بات کا امکان تھا کہ اگر ٹرمپ نے جانسن کی حمایت نہ کی ہوتی تو ان کی پوزیشن کمزور ہو جاتی کیونکہ کچھ اعتدال پسند ریپبلکن دیگر آپشنز پر غور کرنے لگے تھے۔ 100 سالوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ اتنے کم مارجن سے اسپیکر منتخب کیا گیا۔

    مائیک جانسن نے اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے اسپیکر بننے کے لیے کسی سے وعدے کیے ہیں۔ جانسن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنے مخالفین، کیتھ سیلف اور رالف نارمن سے ان کے ووٹ پلٹنے کے حوالے سے کوئی وعدہ نہیں کیا۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے ان اپوزیشن ارکان کو قائل کیا کہ وہ جانسن کو ووٹ دیں تاکہ وہ کامیاب ہو سکیں،ابتدائی طور پر تین ریپبلکن ارکان نے جانسن کے بجائے دیگر امیدواروں کو ووٹ دیا۔ ان میں میسی، رالف نارمن اور کیتھ سیلف شامل تھے۔ یہ صورتحال اتنی پیچیدہ ہوگئی کہ جانسن کو ایوان میں واپس آنا پڑا اور اپنے مخالفین کو قائل کرنے کے لیے سخت لابنگ کرنی پڑی۔ تقریباً 45 منٹ کی مداخلت کے بعد، نارمن اور سیلف نے اپنے ووٹ تبدیل کیے اور جانسن کی حمایت کی۔

    مائیک جانسن کا اسپیکر بننا امریکی سیاست کے لیے اس لیے بھی ضروری تھا کیونکہ 6 جنوری کو کانگریس میں صدر ٹرمپ کی کامیابی کی توثیق ہونی ہے، اور اسپیکر کی غیر موجودگی میں آئینی بحران پیدا ہو سکتا تھا۔ جانسن کا اسپیکر بننا اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ ٹرمپ کی ٹیکس کٹوتیوں اور دیگر بڑے ایجنڈوں کی تکمیل کے لیے ایوان کو مضبوطی سے ہموار کر سکیں۔اس اہم ووٹنگ کے دوران سابق ڈیموکریٹک اسپیکر نینسی پیلوسی نے بھی حصہ لیا اور 84 سال کی عمر میں، کولہے کی ہڈی ٹوٹ جانے کے باوجود، ایوان میں آ کر حکیم جیفریز کے حق میں ووٹ دیا۔ یہ ایک اہم سیاسی پیغام تھا کیونکہ پیلوسی نے اپنی طویل سیاسی زندگی میں ہمیشہ پارٹی کے مفادات کے لیے کام کیا ہے۔

    مائیک جانسن کی اسپیکر منتخب ہونے کے بعد ایوان میں ان کی قیادت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، لیکن ان کی جیت نے ایک اہم سیاسی پیغام دیا ہے کہ ریپبلکنز پارٹی میں دراڑیں موجود ہیں لیکن ایک واضح قیادت کی ضرورت بھی ہے۔ جانسن کے لیے یہ چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے، کیونکہ انہیں ایوان میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے ایجنڈے کو بھی کامیاب بنانا ہے۔

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ