Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت  ملتوی

    جج رخصت پر،اڈیالہ جیل میں جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت ملتوی

    راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں ہونے والی جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت بغیر کسی کارروائی کے ملتوی کر دی گئی۔ یہ سماعت انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) کے جج امجد علی شاہ کے رخصت ہونے کی وجہ سے ملتوی کی گئی۔

    جی ایچ کیو حملہ کیس کی سماعت اب 8 جنوری 2025 تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ عدالت کے عملے کی جانب سے وکلاء کو سماعت ملتوی ہونے کی اطلاع دی گئی، جس کے بعد تمام متعلقہ افراد کو نیا شیڈول دے دیا گیا۔اس کیس میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان سمیت 117 ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ ان افراد پر جی ایچ کیو پر حملے اور ملک کے دیگر اہم اداروں کے خلاف سازش کرنے کا الزام ہے۔

    حالیہ دنوں میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی تھی جب ملٹری کورٹ نے 9 مئی کو ہونے والے فسادات میں ملوث ملزمان کو سزا سنائی تھی۔ 9 مئی 2023 کو پاکستان میں کئی اہم سرکاری عمارتوں بشمول جی ایچ کیو، پی ٹی وی اور دیگر حساس مقامات پر احتجاج اور حملے کیے گئے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جی ایچ کیو حملہ کیس میں آئندہ سماعت پر کون سی پیش رفت ہوتی ہے اور ملزمان کی سزا کے حوالے سے عدالت کیا فیصلہ کرتی ہے۔

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

  • خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    خواب سے حقیقت تک کا سفر: گلگت، آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام

    ماضی میں جہاں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع تھے، اب وہاں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے میدان میں نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (ایس سی او) نے ان دونوں خطوں میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کر کے ان کی تقدیر بدلنے کی ایک نیا راستہ دکھایا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف ان علاقوں کی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ یہاں کے نوجوانوں کو عالمی سطح پر اپنی مہارتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم بھی فراہم کرے گا۔

    ایس سی او نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں مختلف آئی ٹی پارکوں کا آغاز کیا ہے جن کا مقصد ان خطوں کو آئی ٹی سے منسلک اور ڈیجیٹلائزڈ بنانا ہے۔ ان پارکوں کا قیام نہ صرف مقامی کمیونٹیز کے لیے فائدہ مند ہے بلکہ یہ حکومتی اداروں کو بھی جدید سافٹ ویئر ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی نظام فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
    ایس سی او نے صرف 16 ماہ کے مختصر عرصے میں 61 آئی ٹی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کر کے ایک شاندار کامیابی حاصل کی ہے۔ ان پارکوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی سہولت موجود ہے، جس سے نوجوانوں کو ایک محفوظ اور جدید کام کرنے کا ماحول فراہم کیا گیا ہے۔ایس سی او کے ٹیکنالوجی پارکس کا مقصد نہ صرف مقامی کمیونٹیز کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرنا ہے بلکہ یہ نوجوانوں کی مہارتوں کو بھی فروغ دینے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے۔ ان فری لانسنگ ہبز میں نوجوان اپنے ہنر کو نکھارنے اور عالمی سطح پر کامیابی حاصل کرنے کے مواقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

    ایس سی او کا وژن آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک مستقل آئی ٹی ماحول کی فراہمی کے ذریعے نوجوانوں کو بااختیار بنانا ہے۔ یہ اقدامات ان دونوں علاقوں کو نہ صرف ملک کے اندر بلکہ عالمی سطح پر بھی آئی ٹی کے مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کریں گے۔ایس سی او کے حالیہ منصوبے کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں 50 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس اور فری لانسنگ ہبز قائم کیے جا رہے ہیں۔ یہ اکیسواں منصوبہ ہے جو اس بات کی گواہی ہے کہ ایس سی او نے اس علاقے میں آئی ٹی کی ترقی کے لیے مسلسل اقدامات کیے ہیں۔
    ایس سی او کا مقصد ان ٹیکنالوجی پارکوں کے ذریعے مقامی کمیونٹیز اور انتظامیہ کو ایک ماحول دوست اور توانائی کی بچت کرنے والا نظام فراہم کرنا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کے لیے نئی ملازمتیں پیدا ہو رہی ہیں بلکہ یہ پارک جدید ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ماحول کی بہتری کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔

    ایس سی او نے معذور بچوں کے لیے آزاد زندگی کے مراکز بھی فراہم کیے ہیں جہاں وہ نہ صرف تعلیم حاصل کر رہے ہیں بلکہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کی تربیت بھی لے رہے ہیں۔ اسی طرح، ایس سی او نے خواتین کے لیے بھی فری لانسنگ ہبز قائم کیے ہیں جہاں وہ محفوظ اور معاون ماحول میں کام کر رہی ہیں اور معاشی خودمختاری حاصل کر رہی ہیں۔ایس سی او کی کاوشوں کے نتیجے میں اب تک 6,500 سے زائد نوکریاں پیدا کی گئی ہیں اور 1,600 سے زیادہ فری لانسرز کو بااختیار بنایا گیا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کو روزگار کے مواقع ملے ہیں بلکہ ان کی مہارتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، جس سے پورے علاقے کی معیشت کو فائدہ پہنچا ہے۔ایس سی او کا ارادہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مزید 100 آئی ٹی سیٹ اپز قائم کرنے کا ہے۔ یہ قدم 2025 تک اس علاقے کو آئی ٹی کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کی راہ ہموار کرے گا۔

    ایس سی او کی کوششوں سے گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام ایک خواب سے حقیقت تک کے سفر کا حصہ بن چکا ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں مواقع ملے ہیں بلکہ یہ پورے خطے کو اقتصادی ترقی اور ڈیجیٹلائزیشن کی سمت میں ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں۔ ایس سی او کی کاوشیں اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ اگر صحیح منصوبہ بندی اور وسائل کی فراہمی ہو تو خوابوں کو حقیقت میں بدلا جا سکتا ہے۔

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    بھارتی سابق کپتان سارو گنگولی کی بیٹی کی گاڑی کو حادثہ

  • ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    ہم جنس پرستی کا پرچار،چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کے شو منسوخ

    چین میں مشہور خواجہ سرا ڈانسر جن ژنگ کا عروج ایک غیر معمولی کہانی ہے، خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں ہم جنس پرست کمیونٹی کے افراد کے لیے کھل کر جینا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ 57 سالہ جن ژنگ چینی شو بز کی ایک نمایاں شخصیت ہیں اور ان کا شمار ٹرانسجینڈرز کے لیے چین میں کامیابی اور قبولیت کی ایک نایاب مثال کے طور پر کیا جاتا ہے حکومتی سطح پر بھی۔

    جن ژنگ نے نہ صرف اپنی محنت اور لگن سے ایک طویل کیریئر بنایا ہے بلکہ ان کی کامیابیوں کو کمیونسٹ پارٹی کے اعلیٰ حکام کی جانب سے بھی سراہا گیا ہے۔ وہ کنسرٹس کرتی ہیں، ٹی وی ٹاک شوز کی میزبانی کرتی ہیں اور ان کے ویبو پر 13.6 ملین فالوورز ہیں۔ اس کے علاوہ، چینی ریاستی میڈیا نے انہیں "چینی جدید رقص کی 10 عظیم شخصیات” میں شمار کیا ہے اور ان کے بارے میں مسلسل تعریفی پروفائلز شائع کیے ہیں۔لیکن حالیہ دنوں میں جن ژنگ کے شو کو مقامی حکام کی جانب سے اچانک اور غیر وضاحتی منسوخی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس سے کچھ افراد یہ خوف ظاہر کر رہے ہیں کہ چینی رہنما شی جن پنگ کے اقتدار کے مضبوط ہونے کے بعد حکومت ملک کی سب سے مشہور کھل کر ٹرانسجینڈرز شخصیت کے ساتھ سختی کر سکتی ہے۔

    چین میں ٹرانسجینڈرز اکثر سماجی دباؤ اور ادارہ جاتی امتیاز کا سامنا کرتے ہیں، خاص طور پر کام کی تلاش یا سڑکوں پر چلتے ہوئے نظر آنے کے حوالے سے ان پر شدید توہین کی جاتی ہے۔ جن ژنگ نے اس معاشرتی حقیقت کے باوجود ایک کامیاب کیریئر بنایا ہے جو تمام تر روایات کے برخلاف ہے۔ ان کی کامیابی اور مسلسل فعالیت ایک امید کی کرن بنی ہوئی ہے کہ شاید ایک دن چین اپنے ہم جنس پرست کمیونٹی کے اراکین کو بھی اتنی ہی قبولیت دے گا جتنی جن ژنگ کو ملی ہے۔لیکن حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومتی سطح پر جن ژنگ کی پذیرائی اب کم ہوتی جا رہی ہے۔ جنوبی چین کے شہر گوانگ ژو میں گزشتہ سال کے آخر میں جن ژنگ کے ڈانس تھیٹر کے شو کو مقامی حکام نے "نامکمل دستاویزات” کی وجہ سے منسوخ کر دیا تھا، اس کے بعد مختلف شہروں میں بھی ان کے شو منسوخ کیے گئے،

    چین میں ہم جنس پرست کمیونٹی کے مسائل پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ جن ژنگ کی مقبولیت اور کامیابی نے انہیں حکومتی سطح پر حمایت فراہم کی تھی، تاہم حالیہ برسوں میں چینی حکومت کی طرف سے مغربی اقدار کے اثرات کے خلاف کریک ڈاؤن اورہم جنس پرست کمیونٹی کے خلاف سخت موقف اپنانے کے باعث ان کی پذیرائی میں کمی آئی ہے۔پروفیسر سیم ونٹر، جو کرٹین یونیورسٹی میں ایشیائی ٹرانسجینڈرز مسائل کے ماہر ہیں، کا کہنا ہے کہ "جن ژنگ کی حمایت انہیں ان کی طویل کامیابیوں کی وجہ سے حاصل ہوئی، جسے حکام نظرانداز نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن اب حالات بدل گئے ہیں، اور شاید یہ لبرل ماحول کی طرف پیش رفت ہی مسئلہ بن گئی ہے۔”

    چین میں ہم جنس پرستی کو 1997 میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اسے 2001 میں ذہنی بیماریوں کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔ کچھ سال پہلے تک ہم جنس پرست کمیونٹی کو شنگھائی میں سالانہ پرائیڈ پریڈ منانے کی اجازت تھی اور وی چیٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپنے خیالات کا تبادلہ کرنے کی آزادی تھی۔ تاہم، شی جن پنگ کے اقتدار میں آنے کے بعد یہ تمام اقدامات اور آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔جن ژنگ کے حکام کے ساتھ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب گوانگ ژو کے کلچرل، ریڈیو، ٹیلی ویژن اور سیاحت کے بلدیاتی ادارے نے ان کے شو کو "دستاویزات کی کمی” کے سبب منسوخ کر دیا۔ جن ژنگ نے اس فیصلے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ویبو پر ایک پوسٹ شیئر کی جس میں انہوں نے حکام سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ "براہ کرم عوامی طاقت کا غلط استعمال نہ کریں!”

    چین میں حکام کے خلاف براہ راست چیلنجز کرنا نایاب اور خطرے سے بھرا ہوا عمل ہے۔ جن ژنگ کی اس پوسٹ کے بعد ان کے شو چینی شہروں فوشان، سوژو اور شنگھائی میں بھی منسوخ کر دیے گئے، جن میں سے کچھ کو کسی وضاحت کے بغیر ختم کر دیا گیا۔چینی حکام نے ان الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ ان کے شو کی منسوخی دستاویزات کی کمی کی وجہ سے ہوئی تھی۔ تاہم، جن ژنگ کی حالیہ ویبو پوسٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ اس فیصلے سے خاصی پریشان ہیں، کیونکہ انہیں 40 سالوں سے چین میں پرفارم کرنے کی اجازت تھی۔

    ویبو پر کچھ صارفین نے قیاس کیا کہ جن ژنگ نے شاید کسی ناپسندیدہ لکیریں عبور کر لی ہوں، خاص طور پر جب وہ ایک پچھلے شو کے دوران ایک رنگین پرچم اٹھائے ہوئے نظر آئیں جس پر "محبت محبت ہے” کا نعرہ لکھا تھا، جو کہ ہم جنس پرست کمیونٹی کا عالمی علامت ہے۔چینی حکام کے لیے رنگین پرچم کی یہ علامت ایک حساس موضوع بن چکی ہے، اور ان کے لیے یہ کسی بھی قسم کی آزادی یا اختلاف رائے کی علامت سمجھا جاتا ہے جو حکومت کی پالیسی کے خلاف ہو۔

    ہم جنس پرست ٹورز کے آرگنائزر کی جیل میں پراسرار ہلاکت

    ہم جنس پرست جوڑے کو گود لیے بچوں سے جنسی زیادتی پر 100 سال قید کی سزا

    ہم جنس پرستوں کو سعودی عرب آنے کی اجازت

    عمران کی رہائی کا مطالبہ کرنیوالا،ہم جنس پرست رچرڈ گرینل ٹرمپ کا ایلچی مقرر

  • بھارتی  سابق  کپتان سارو گنگولی کی بیٹی کی گاڑی کو حادثہ

    بھارتی سابق کپتان سارو گنگولی کی بیٹی کی گاڑی کو حادثہ

    کولکتہ: بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سارو گنگولی کی بیٹی ثناء گنگولی کی گاڑی کو ایک حادثے کا سامنا کرنا پڑا۔

    یہ حادثہ جمعہ کے روز کولکتہ کے ڈائمنڈ ہاربر روڈ پر پیش آیا جب ثناء اپنی گاڑی میں سفر کر رہی تھیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق، اس دوران پیچھے سے ایک بس نے ان کی گاڑی کو زور دار ٹکر ماری۔حادثے کے وقت ثناء گاڑی میں موجود تھیں، جبکہ گاڑی کا ڈرائیور اسے چلا رہا تھا۔ خوش قسمتی سے، اس حادثے میں ثناء اور ان کے ڈرائیور دونوں محفوظ رہے۔حادثے کے فوراً بعد بس کا ڈرائیور گاڑی کے ساتھ فرار ہو گیا، تاہم ثناء کے ڈرائیور نے بس کا پیچھا کیا اور کچھ فاصلے کے بعد بس کو روک لیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر بس کے ڈرائیور کو حراست میں لے لیا۔

    پولیس کے مطابق، بس کی ٹکر سے ثناء کی گاڑی کو معمولی نقصان پہنچا ہے، تاہم اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ پولیس حکام نے بتایا کہ حادثے سے متعلق ابھی تک کسی نے باضابطہ طور پر شکایت درج نہیں کرائی۔یہ واقعہ سارو گنگولی کے لیے ایک تشویش کا باعث بن سکتا ہے، لیکن خوش قسمتی سے ان کی بیٹی اور گاڑی کے ڈرائیور دونوں محفوظ رہے۔

    26 نومبر جتھے کے وفاق پر حملے پر بھی کمیشن بنا دیں؟ رانا ثناء اللہ

  • 26 نومبر جتھے کے وفاق پر حملے پر بھی کمیشن بنا دیں؟ رانا ثناء اللہ

    26 نومبر جتھے کے وفاق پر حملے پر بھی کمیشن بنا دیں؟ رانا ثناء اللہ

    حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 26 نومبر کو ایک صوبائی حکومت کے جتھے نے وفاق پر حملہ کیا تھا، اور کیا اس پر بھی کوئی کمیشن بنانا چاہیے؟

    رانا ثناء اللہ نے پی ٹی آئی کے مطالبات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ چاہتی ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن بنایا جائے تو پھر ان کے لیے بھی سوالات اٹھائے جا سکتے ہیں۔رانا ثنااللہ نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 26 نومبر کے روز چونگی نمبر 26 پر ہونے والے واقعے میں شامل افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔ پی ٹی آئی کے اصرار پر اگر کوئی کمیشن بنایا گیا تو اس کے حوالے سے حکومتی کمیٹی بھی اپنے سوالات اور تحفظات پیش کرے گی۔

    پی ٹی آئی نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے دوسرے دور میں کئی اہم مطالبات اٹھائے تھے۔ ان میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سمیت دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی، 9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام شامل تھا۔ پی ٹی آئی کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ ان مطالبات کو اگلی ملاقات میں تحریری طور پر پیش کیا جائے گا۔

    رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کے مطالبات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے یہ کہا کہ فلاں فلاں جج کو کمیشن کا رکن بنا دیں، تو یہ ان ججوں کو متنازع بنانے کی کوشش ہوگی۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی نے ایسے مطالبات کیے تو حکومتی کمیٹی ان مطالبات کا جائزہ لے گی اور پھر اس پر ردعمل دے گی۔

    رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مبینہ طور پر لاپتا یا شہید ہونے والے کارکنوں کی فہرست پیش کرنے کے معاملے پر بھی بات کی۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹی نے اب تک حکومتی کمیٹی کو ایسی کوئی فہرست فراہم نہیں کی ہے، جس سے ان کی سنجیدگی پر سوالات اٹھتے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کو چاہیے تھا کہ وہ اس فہرست کو حکومتی کمیٹی کے سامنے پیش کرتے تاکہ اس معاملے کی تحقیقات کی جا سکیں۔

    رانا ثنااللہ کا یہ بیان اس وقت آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ پی ٹی آئی اپنے کارکنوں کی رہائی اور مختلف سیاسی مقدمات کے بارے میں انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت ان مطالبات کا جائزہ لے کر کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے کی جانے والی بعض پیشکشوں کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کمیشن بنتا ہے تو وہ دونوں طرف کے معاملات کی تحقیقات کرے گا۔

    کرم متاثرین کیلیے 17 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کرم انتظامیہ کے حوالے

  • کرم متاثرین کیلیے 17 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کرم انتظامیہ کے حوالے

    کرم متاثرین کیلیے 17 ٹرکوں پر مشتمل امدادی سامان کرم انتظامیہ کے حوالے

    محکمۂ ریلیف خیبر پختونخوا کی جانب سے کرم کے متاثرین کے لیے امدادی سامان فراہم کرنے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے مطابق، امدادی سامان 17 ٹرکوں پر مشتمل ہے، جو کرم انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ یہ سامان متاثرین کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھیجا گیا ہے اور اس میں مختلف ضروری اشیاء شامل ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق، اس امدادی سامان میں شامل اشیاء درج ذیل ہیں
    500 خیمے جو متاثرین کو پناہ فراہم کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔
    500 چٹائیاں تاکہ لوگوں کو سردی سے بچایا جا سکے۔
    200 ترپال جو بارش اور دیگر موسمی حالات سے بچاؤ کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔
    500 طبی حفاظتی کٹس جن میں ضروری طبی امداد کے سامان شامل ہیں۔
    500 تکیے اور 50 سولر لیمپس تاکہ متاثرین کو رات کے وقت روشنی اور آرام دہ نیند کی سہولت مل سکے۔
    500 کمبل، 500 بسترے اور 150 سلیپنگ بیگز تاکہ سردی سے بچاؤ اور بہتر نیند کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
    یہ سامان کرم کے متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر پہنچایا جائے گا تاکہ متاثرین کی مشکلات کو کم کیا جا سکے۔

    دوسری جانب مشیرِ اطلاعات خیبر پختونخوا، بیرسٹر سیف، وزیرِ اعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کی خصوصی ہدایت پر رات گئے کوہاٹ پہنچے۔ بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وہ کرم کے سرحدی علاقے چھپری روانہ ہو گئے ہیں، جہاں سے امدادی سامان کا پہلا قافلہ روانہ کیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ یہ قافلہ 75 سے زائد بڑی گاڑیوں پر مشتمل ہوگا، جن میں 22 وہیلر، 10 وہیلر اور 6 وہیلر ٹرک شامل ہیں۔ اس قافلے میں ادویات، گیس سلنڈرز، اور دیگر امدادی سامان موجود ہے، جو کرم کے متاثرین کی فوری ضروریات کو پورا کرے گا۔بیرسٹر سیف کے ہمراہ کوہاٹ کے کمشنر، ڈی آئی جی، ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران بھی ہوں گے۔ اس قافلے کی روانگی کے دوران سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی تاکہ امدادی سامان کا یہ قافلہ بغیر کسی رکاوٹ کے کرم پہنچ سکے۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا کہ "ہماری اولین ترجیح متاثرین کی مدد کرنا ہے اور اس قافلے کی روانگی کے بعد ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہر متاثرہ شخص تک امداد پہنچے۔”

    امدادی سامان کی روانگی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اپنے متاثرین کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح کے اقدامات متاثرین کے لیے فوری طور پر راحت کا باعث بنیں گے، اور حکومتی اداروں کی جانب سے کی جانے والی کوششوں سے یہ امید کی جاتی ہے کہ متاثرہ علاقوں میں حالات جلد بہتر ہوں گے۔

  • بھارت کا سامبر ہرن  نارنگ منڈی آن پہنچا

    بھارت کا سامبر ہرن نارنگ منڈی آن پہنچا

    بھارت کی سرحد پار کر کے ایک سامبر ہرن نارنگ منڈی پہنچ گیا۔

    بھارت سے آنے والا سامبر ہرن نارنگ منڈی کے زرعی ترقیاتی بینک کے احاطے میں داخل ہوگیا۔ بینک کے عملے نے فوری طور پر اس سامبر ہرن کو پکڑ لیا اور پھر اسے محمکہ وائلڈ لائف کے حوالے کر دیا۔اس سلسلے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف نے تصدیق کی کہ یہ سامبر ہرن بھارت سے ورکنگ باؤنڈری پار کر کے پاکستان میں داخل ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سامبر کو تحویل میں لے لیا گیا ہے اور اب اس کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    نارنگ منڈی بھارتی ورکنگ باؤنڈری کے قریب واقع ہے اور یہاں جنگلات کا وسیع سلسلہ موجود ہے۔ اس علاقے میں جنگلی جانوروں کا پاکستان میں داخل ہونا معمول کی بات ہے کیونکہ یہاں دونوں ممالک کی سرحد کے قریب قدرتی زندگی کی موجودگی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، نارنگ منڈی میں پاکستان کی طرف سے جنگل کی حفاظت کی مضبوطی کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے تاکہ ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

    محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے اس جانور کی حفاظت اور اس کے علاقے میں رہائش کی مزید تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف نے کہا کہ سامبر ہرن کو محفوظ رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور اس کی حالت کو مانیٹر کیا جائے گا تاکہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچے۔پاکستان کی سرحدی علاقوں میں بھارت کی طرف سے جنگلی جانوروں کا آنا ایک معمول کی بات بن چکی ہے۔ ان جانوروں میں سامبر ہرن، اور مختلف پرندے شامل ہیں جو سرحدی علاقوں میں نقل مکانی کرتے ہیں۔ یہ جانور قدرتی طور پر دونوں ممالک کی سرحدوں کے قریب رہتے ہیں اور جب سرحدی باڑ یا دیگر قدرتی رکاوٹوں سے گزرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ پاکستان میں داخل ہو جاتے ہیں۔اس واقعے کی اطلاع کے بعد محکمہ وائلڈ لائف نے سرحدی علاقوں میں جنگلی جانوروں کے تحفظ اور ان کے بہتر رہائشی ماحول کے لیے اضافی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

    برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

  • برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    برطانیہ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں پاکستانی مصنف حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش

    لاہور، پاکستان کے تخلیقی مصنف حسن صدیقی نے ایک اہم سنگ میل عبور کیا ہے۔ حسن صدیقی کی کرسمس تھیم پر مبنی مختصر کہانی "A Christmas Homeless” کو انگلینڈ کے معروف کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔

    کینٹربری کیتھیڈرل نہ صرف انگلینڈ کی ایک مشہور تاریخی اور ثقافتی علامت ہے بلکہ یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کے لئے بھی مشہور ہے، جس کی تاریخ اور اہمیت عالمی سطح پر جانی پہچانی جاتی ہے۔حسن صدیقی کی یہ کہانی، جو انسانیت، ہمدردی اور برادری کے جذبات پر مبنی ہے، کرسمس کے موقع پر کیتھیڈرل کے مختلف حصوں میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش کی گئی۔ اس کامیابی کا یہ لمحہ پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے، کیونکہ اس سے جنوبی ایشیائی مصنفین کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کا پتا چلتا ہے۔

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral
    حسن صدیقی "Twenty Bright Paths” کے مصنف ہیں، جو امید اور استقامت پر مبنی افسانوں کا مجموعہ ہے۔ ان کی مختلف تحریریں کئی عالمی ادبی جرائد جیسے Spillwords Press اور Illumination میں شائع ہوچکی ہیں۔ حسن صدیقی کو ناسا کی طرف سے ایک تعریفی سرٹیفکیٹ بھی مل چکا ہے، اور انہوں نے ورلڈ اسکالرز کپ میں سونے کا تمغہ جیتا۔ علاوہ ازیں حسن صدیقی ایک میگزین "The Female Times” کے بانی ہیں، جو خواتین کے مسائل کو اجاگر کرنے والا ایک پلیٹ فارم ہے۔

    اس کامیاب نمائش پر حسن صدیقی نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ ایک اعزاز کی بات ہے کہ میری کہانی کو کینٹربری کیتھیڈرل جیسے تاریخی مقام پر دکھایا گیا۔ یہ پاکستان کے تخلیقی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کی ایک اور مثال ہے۔”
    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

    کینٹربری کیتھیڈرل میں حسن صدیقی کی کہانی کی نمائش پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، جو کہ پاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پہچان کو مزید مستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ یہ کامیابی نہ صرف حسن صدیقی کے لیے ذاتی فخر کا لمحہ ہے بلکہ پورے پاکستان کے لیے بھی ایک باعثِ فخر موقع ہے کیونکہ یہ عالمی سطح پر پاکستانی ادب اور تخلیقی صلاحیتوں کی قدر دانی کی مثال ہے اور اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ جنوبی ایشیاء کی آوازوں کو عالمی ادبی محافل میں تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    ڈیٹنگ سائٹس،سوشل میڈیا،اپنے پیسے”دل” کو کیسے دھوکہ بازوں سے بچائیں؟

    پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو پاکستان ایشیا کا لیڈر بنے گا ۔احسن اقبال

    وادی تیرا، خوارج کےجنسی تشدد کے باعث ساتھی دہشت گرد کی خودکشی

    حسن صدیقی کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم سب کو خواب دیکھنے کا حق ہے، محنت کرنی چاہیے اور اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنا چاہیے۔ یہ لمحہ نہ صرف حسن صدیقی کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر کا باعث ہے ،حسن صدیقی کی کہانی "A Christmas Homeless” کی کینٹربری کیتھیڈرل میں نمائش پاکستان کے لیے ایک شاندار کامیابی ا ورپاکستانی ادب کی عالمی سطح پر پذیرائی کا مظہر ہے یہ پاکستانی نوجوانوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی کا پیغام بھی ہے کہ محنت، لگن اور خوابوں کی تکمیل کے ذریعے عالمی سطح پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

    حسن صدیقی سے ای میل کے ذریعے رابطہ کیا جا سکتا ہے.
    imhassansiddiqui12@gmail.com

    Pakistani Writer Hassan Siddiqui's Story Displayed at England's renowned Canterbury Cathedral

  • سابق کپتان شعیب ملک  کراچی کنگز سے الگ

    سابق کپتان شعیب ملک کراچی کنگز سے الگ

    پاکستان کرکٹ کے سابق کپتان اور تجربہ کار آل راؤنڈر شعیب ملک نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز کراچی کنگز سے اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے اس بات کا اظہار کیا کہ ان کا کراچی کنگز کے ساتھ وقت مکمل ہوچکا ہے۔شعیب ملک نے کہا، "میرے لیے یہ ایک شاندار تجربہ تھا کہ میں نے کراچی کنگز کے ساتھ دو سیزنز کھیلے۔ فرنچائز اور میری ٹیم کے ساتھیوں نے ہمیشہ میرا بھرپور ساتھ دیا، اور ان کی حمایت نے میری کارکردگی کو مزید بہتر بنایا۔” انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کنگز کے ساتھ کھیلنے کے دوران انہیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور ان کے ساتھ گزارا گیا وقت ہمیشہ یادگار رہے گا۔

    شعیب ملک نے کراچی کنگز کی منیجمنٹ اور کھلاڑیوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ٹیم کی مزید کامیابیوں کے منتظر ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پی ایس ایل کے آئندہ ڈرافٹ کا حصہ بننے کے اپنے جوش کا بھی اظہار کیا۔ شعیب ملک نے کہا کہ "یہ پہلی بار ہوگا کہ میں پی ایس ایل کے ڈرافٹ میں حصہ لوں گا اور میں اس موقع کے منتظر ہوں۔”

    شعیب ملک کی کراچی کنگز کے ساتھ شراکت داری 2023 کے پی ایس ایل سیزن تک جاری رہی۔ ان کے اچانک اس فیصلے سے پی ایس ایل اور کرکٹ کے شائقین میں دلچسپی کی لہر دوڑ گئی ہے،یہ فیصلہ شعیب ملک کے کیریئر کے نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے اور اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ وہ کس فرنچائز کے ساتھ اگلے سیزن میں کھیلنے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔

  • پاکستان کے اوپننگ بیٹر صائم ایوب انجری کا شکار

    پاکستان کے اوپننگ بیٹر صائم ایوب انجری کا شکار

    کیپ ٹاؤن: جنوبی افریقا کے خلاف جاری ٹیسٹ میچ میں پاکستان کے اوپننگ بیٹر صائم ایوب انجری کا شکار ہو گئے ہیں، جس سے پاکستانی ٹیم کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔

    جنوبی افریقا اور پاکستان کے درمیان اس ٹیسٹ کا آغاز ہوا تھا، جس میں جنوبی افریقا کے کپتان نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔اس دوران پاکستانی اوپنر صائم ایوب فیلڈنگ کے دوران ایک اچانک حادثے کا شکار ہو گئے۔ فیلڈنگ کرتے ہوئے ان کا ٹخنہ مڑ گیا، جس کے باعث وہ شدید تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔ ان کے ٹخنے کی حالت فوری طور پر خراب ہوئی اور انہیں سہارے کے ساتھ میدان سے باہر لے جایا گیا۔صائم ایوب کو فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی بعد ازاں، انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کے ٹخنے کا مکمل معائنہ کیا گیا اور مختلف ٹیسٹ کیے گئے تاکہ انجری کی نوعیت کا پتہ چل سکے۔ اس وقت ان کی حالت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اس انجری کے سبب ان کے کھیل پر اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    صائم ایوب پاکستان کے لئے ایک اہم اوپننگ بیٹر ہیں اور ان کی انجری پاکستانی ٹیم کے لئے ایک بڑا چیلنج بن سکتی ہے۔ اس وقت یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ باقی میچ میں حصہ لے سکیں گے یا نہیں۔ پاکستان ٹیم کو اس صورتحال میں ایک متبادل کھلاڑی کی ضرورت ہو سکتی ہے، جو اس اہم موقع پر ٹیم کو مضبوط کرے۔

    صائم ایوب کی انجری پر ابھی مزید اطلاعات کا انتظار ہے، اور کرکٹ شائقین کی دعائیں ان کے جلد صحت یاب ہونے کے لئے ہیں۔

    ڈاکٹر من موہن سنگھ، ایک عظیم رہنما کی بے توقیری یا روایات کی خلاف ورزی؟

    وزیر اعلیٰ پنجاب کے دورہ چین کے ثمرات، 700ملین ڈالر کی چینی سرمایہ کاری