Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری کی اہلیہ وفات پا گئیں

    پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری کی اہلیہ وفات پا گئیں

    اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سیکرٹری جنرل نیئر حسین بخاری کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی وفات کی خبر سے سیاسی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ نیئر حسین بخاری کی اہلیہ کی نماز جنازہ آج شام 4 بجے مل پور مری روڈ اسلام آباد میں ادا کی جائے گی۔

    چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے نیئر حسین بخاری کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ اپنے پیغام میں انہوں نے مرحومہ کی روح کے لیے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل دے۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے بھی نیئر حسین بخاری کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس غم کی گھڑی میں ان کی تمام تر ہمدردیاں نیئر بخاری اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمینٹرین کے سیکریٹری جنرل اور سابق چیئرمین سینیٹ سید نیئر حسین بخاری کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔اپنے تعزیتی پیغام میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے مرحومہ کی مغفرت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ سوگوار خاندان کو اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت اور صبر عطا فرمائے۔انہوں نے کہا کہ مرحومہ ایک نہایت نیک اور شفیق خاتون تھیں جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن اور قیادت سید نیئر حسین بخاری کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں۔

    نیئر حسین بخاری کی اہلیہ کی وفات پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی ان سے اظہار تعزیت کیا ہے۔ اس غم کی گھڑی میں پارٹی قیادت اور کارکنوں کی جانب سے نیئر بخاری کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کیا گیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں نے بھی اس دکھ کی گھڑی میں سیکرٹری جنرل پیپلز پارٹی کے ساتھ اپنی ہمدردیوں کا اظہار کیا ہے اور ان کی اہلیہ کی روح کے لیے دعائیں کی ہیں۔مرحومہ کی وفات کے بعد ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا سلسلہ جاری ہے اور سیاسی و سماجی شخصیات نیئر حسین بخاری کے ساتھ ان کے دکھ میں شریک ہیں۔

  • پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے کو گھر میں گھس کر کیا گیاقتل

    پسند کی شادی کرنیوالے جوڑے کو گھر میں گھس کر کیا گیاقتل

    لاہور:کاہنہ کے علاقے دھلوکی گاؤں میں غیرت کے نام پر میاں بیوی کو گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا،

    اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی، پولیس نے لاشیں مردہ خانے منتقل کردی ہیں،اے ایس پی کاہنہ معاذ الرحمٰن کے مطابق مقتولین میں محمود اور اس کی اہلیہ رفعت شامل ہیں جنہیں گھر میں گھس کر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا، بدقسمت جوڑے نے دو سال قبل پسند کی شادی کی تھی، فائرنگ مقتولہ کے بھائی فراز احمد اور اس کے ساتھیوں نے کی اور دونوں کو قتل کرنے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہو گئے، ابتدائی کارروائی کے بعد لاشیں مردہ خانے منتقل کردی ہیں، تفتیش جاری ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیں گے،پولیس حکام کے مطابق رفعت بی بی نے دو سال قبل پسند کی شادی کی تھی، بھائی اپنی بہن کی شادی سے خوش نہیں تھے، بھائیوں کو بھی شامل تفتیش کیا جائےگا

    دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز محمد فیصل کامران کی قیادت میں لاہور پولیس نے صوبائی دارلحکومت میں جرائم پیشہ عناصر کو نکیل ڈالنے کے لیے کمر کس لی۔ غالب مارکیٹ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے 14 سالہ بچے پر تشدد کرنے والے ملزمان کو حراست میں لے لیا ۔14 سالہ سنی مین مارکیٹ گلبرگ میں واقع ایک گھر میں 4 ماہ سے ملازمت کر رہا تھا ۔واقعہ کا مقدمہ متاثرہ لڑکے کے والد ریاض کی مدعیت میں درج کر لیا گیا۔ بچے پر تشدد میں ملوث ملزمان جاوید اور آصف کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

    علاوہ ازیں چوکی نادر آباد پولیس نے 15کی کا ل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے علاقے میں سر عام ہوائی فائرنگ اورا سلحہ کی نمائش کر نے والے ملزمان کو حراست میں لے لیا ۔ملزمان کے قبضہ سے 02 پستول، میگزینز اور گولیاں برآمد کی گئیں۔ ملزمان میں طاہر اور سلمان شامل ہیں۔ قلعہ گجر سنگھ پولیس نے ریکارڈ یافتہ منشیات فروش ندیم مسیح عرف سوہنی کر حراست میں لے لیا ۔ملزم کے قبضہ سے 100 لیٹر دیسی و امپورٹڈ شراب برآمدکی گئی۔ شاد باغ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے آتش بازی سے بھرے گودام کو قبضہ میں لے لیا۔ملزم خضر حیات کے قبضہ سے 10ہزار 500 پھلجھڑیاں ، 6 ڈبے سیبا بم، 50 ڈبے چھوٹے بم فائر بکس ماچس بم سمیت دیگر آلات و سامان برآمدکیا گیا۔ملزم پابندی کے باوجود آتش بازی کا سامان تیار کروا کرمختلف علاقوں میں فروخت اور سپلائی کرتا تھا۔چوکی گلدشت ٹاؤن پولیس نے 15 کی کال پر فوری ریسپانس کرتے ہوئے 10 سالہ جیسن مسیح کو ڈھونڈ کر بحفاظت والدین سے ملوا دیا۔ جیسن گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا تھا واپسی پر گھر کا راستہ بھول گیا۔بچے کی تلاش کے لیے الیکٹرانک و سوشل میڈیا اور سی سی ٹی وی کیمروں سے مدد حاصل کی گئی تھی۔

    علاوہ ازیں ڈولفن سکواڈ نے شہر کے مختلف علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے 05 اشتہاریوں سمیت 06ملزمان کو حراست میں لے لیا۔ گرفتار اشتہاریوں میں 05 ملزمان بی کیٹگری PO’s، ایک ڈکیت کینگ کا سرغنہ بھی نکلا۔ملزمان سنگین جرائم کے مقدمات میں بین الاضلاعی پولیس کو مطلوب تھے۔ملزمان کیخلاف اسلام آباد، فیصل آباد، سیالکوٹ، لاہور میں مقدمات درج ہیں۔گرفتار ملزمان میں ندیم، ماجد،شکیل،مبشر، راشدو دیگرشامل ہیں

    10 سالہ سارہ کے قاتل باپ پر جیل میں حملہ

    26 نومبر احتجاج،250 ملزمان کی ضمانت منظور،150 کی خارج

  • 10 سالہ سارہ کے قاتل باپ پر جیل میں حملہ

    10 سالہ سارہ کے قاتل باپ پر جیل میں حملہ

    لندن: 10 سالہ سارہ شریف کے قاتل باپ عرفان شریف پر جیل میں حملہ کیا گیا ہے

    برطانوی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، 10 سالہ سارہ شریف کے قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا بھگتنے والے اس کے والد، عرفان شریف، پر ویسٹ لندن کی جیل میں حملہ کیا گیا ہے۔ یہ حملہ نئے سال کے پہلے دن یعنی 1 جنوری 2025 کو ہوا، جس میں 2 افراد نے منصوبے کے تحت عرفان شریف پر کین سے بنائے گئے ہتھیار سے حملہ کیا۔حملہ آوروں نے عرفان شریف پر ان کی گردن اور چہرے پر شدید چوٹیں پہنچائیں، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔ تاہم، برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ عرفان شریف کی حالت خطرے سے باہر ہے لیکن وہ شدید نگہداشت میں ہیں۔ حملے کی تحقیقات جاری ہیں اور جیل حکام نے اس حملے کے پیچھے موجود وجوہات اور حملہ آوروں کی شناخت معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

    یاد رہے کہ 10 سالہ سارہ شریف کی لاش 10 اگست 2023 کو برطانیہ کے شہر ووکنگ میں ان کے گھر سے ملی تھی۔ پولیس نے تحقیقات کے دوران معلوم کیا کہ سارہ کے والد، سوتیلی ماں بینش بتول اور چچا فیصل ملک اس کے قتل میں ملوث تھے۔ قتل کی اطلاع کے چند گھنٹے بعد یہ تینوں ملزمان پاکستان روانہ ہوگئے تھے۔ برطانوی پولیس نے پاکستان سے ملزمان کی گرفتاری کے لیے رابطہ کیا، اور ایک ماہ بعد جب وہ واپس لندن پہنچے، تو انہیں جہاز سے ہی حراست میں لے لیا گیا تھا۔

    اس کے بعد، برطانوی عدالت نے گزشتہ ماہ 2024 میں سارہ شریف کے قتل کے جرم میں اس کے والد عرفان شریف، سوتیلی ماں بینش بتول اور چچا فیصل ملک کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ فیصل ملک کو اس جرم میں 16 سال قید کی سزا دی گئی۔برطانیہ کی پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے پاکستان کے حکام کے ساتھ مل کر ایک مضبوط بین الاقوامی تعاون کیا۔ اس کیس نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا اور اس قتل کے واقعے نے عالمی سطح پر تشویش اور غم و غصے کی لہر پیدا کی تھی۔

    برطانوی عدالت میں ہونے والی طویل سماعتوں اور تحقیقات کے بعد، عدالت نے سارہ شریف کے قتل میں ملوث افراد کو سخت سزائیں سنائیں، جس کے بعد یہ کیس برطانوی عدلیہ کی کامیاب کارروائی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سارہ شریف کے قتل کے کیس نے برطانوی معاشرتی اور قانونی نظام میں سنگین سوالات اٹھائے، تاہم اس پر فیصلے سے یہ ثابت ہوا کہ قانون اپنی جگہ پر مضبوط ہے۔

    26 نومبر احتجاج،250 ملزمان کی ضمانت منظور،150 کی خارج

    کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

  • روس میں بشار الاسد کی صحت پر سوالات, زہر دینے کی افواہیں

    روس میں بشار الاسد کی صحت پر سوالات, زہر دینے کی افواہیں

    روس کے دارالحکومت ماسکو میں شامی صدر بشار الاسد کو مبینہ طور پر زہر دیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق، سابق شامی صدر بشار الاسد کو روس میں قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

    گزشتہ ماہ دسمبر میں، جب شامی دارالحکومت دمشق پر اپوزیشن فورسز کا قبضہ ہونے والا تھا، بشار الاسد اپنے خاندان کے ہمراہ روس فرار ہو گئے تھے۔ روس نے انہیں اور ان کے خاندان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ فراہم کی تھی۔رپورٹ کے مطابق، جنرل ایس وی آر کے نام سے ایک آن لائن اکاؤنٹ سے بیان جاری کیا گیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ روس کے ایک سابق اعلیٰ جاسوس کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ اس بیان میں بتایا گیا کہ 59 سالہ بشار الاسد اتوار کے روز ماسکو میں بیمار ہو گئے۔ انہیں شدید کھانسی، سانس لینے میں دشواری اور دیگر علامات کا سامنا تھا، جس کے بعد انہوں نے فوری طور پر طبی امداد طلب کی۔اس اکاؤنٹ میں مزید کہا گیا کہ بشار الاسد کو قتل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور ان کا علاج ان کے اپارٹمنٹ میں کیا گیا۔ بعد ازاں ان کی حالت میں بہتری آئی اور پیر تک وہ مستحکم ہو گئے تھے۔ طبی ٹیسٹوں میں یہ بات سامنے آئی کہ بشار الاسد کو زہر دیا گیا تھا۔

    اگرچہ جنرل ایس وی آر کے اکاؤنٹ سے اس واقعے کی تفصیلات دی گئی ہیں، تاہم اس بیان میں ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود، یہ واقعہ عالمی میڈیا میں زیر بحث آ چکا ہے۔ دوسری طرف، روسی حکومت کی جانب سے اس انکشاف کی تاحال کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

    واضح رہے کہ بشار الاسد کی حکومت نے شام میں اپوزیشن کے خلاف شدید جنگ چھیڑ رکھی تھی اور 2011 سے جاری خانہ جنگی میں ان کی فوجی پوزیشن کافی کمزور ہو گئی تھی۔ جب دمشق پر اپوزیشن فورسز کا خطرہ بڑھا تو بشار الاسد نے اپنے خاندان کے ساتھ روس میں پناہ لی۔ روسی حکومت نے انہیں سیاسی پناہ دی تھی اور اس کے بعد وہ ماسکو میں مقیم ہیں۔اس نئے انکشاف نے عالمی سطح پر مختلف سوالات کو جنم دیا ہے اور بشار الاسد کی حفاظت کے حوالے سے مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ تاہم روسی حکام نے اس بارے میں تاحال کسی بھی قسم کی وضاحت فراہم نہیں کی ہے۔

    26 نومبر احتجاج،250 ملزمان کی ضمانت منظور،150 کی خارج

    کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

  • 26 نومبر احتجاج،250 ملزمان کی ضمانت منظور،150 کی خارج

    26 نومبر احتجاج،250 ملزمان کی ضمانت منظور،150 کی خارج

    پی ٹی آئی کے 26 نومبر احتجاج پر درج 13 مقدمات میں 250 ملزمان کی ضمانت منظورکر لی گئی،

    انسداد دہشت گردی عدالت نے محفوظ فیصلہ سنا دیا، گزشتہ روز عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا تھا،150 ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں خارج کردی گئیں ،تھانہ کوہسار کے مقدمہ نمبر 1033 میں ملزمان کی درخواست ضمانتیں خارج کر دی گئیں،تھانہ کوہسار کے مقدمہ نمبر 1032 میں 43 منظور کی ضمانتیں منظور 1 ملزم کی درخواست خارج کی گئی،تھانہ شہزاد ٹاون کے مقدمہ میں 9 ملزمان کی درخواست ضمانتیں منظور کی گئیں،تھانہ نون میں دائر مقدمہ کے 17 ملزمان کی ضمانتیں منظور 1 ملزم کی درخواست خارج کی گئی،تھانہ آبپارہ کے مقدمہ نمبر 1022 میں 70 ملزمان کی ضمانتیں منظور جبکہ 25 ملزمان کی درخواست ضمانتیں خارج کی گئیں،تھانہ آئی بائن کے مقدمہ میں 30 ملزمان کی درخواست ضمانتیں منظور کی گئیں،تھانہ مارگلہ میں درج مقدمہ میں 13 ملزمان کی درخواستیں منظور 2 کی خارج کر دی گئیں،تھانہ سیکریٹریٹ کے 2 مقدمات میں 120 ملزمان کی ضمانتیں خارج، 10 ملزمان کو ضمانت مل گئی،تھانہ سہالہ کے 25 اور تھانہ شمس کالونی کے 30 ملزمان کی ضمانتیں منظور کی گئی،ملزمان کیخلاف 10 تھانوں میں 13 مقدمات درج ہیں،عدالت نے ملزمان کو پانچ پانچ ہزار روپے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیدیا

    جنوبی کوریا کے آرمی چیف سمیت دو فوجی افسران پر بغاوت کے الزامات ، فرد جرم عائد

    کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

  • جنوبی کوریا کے آرمی چیف سمیت دو فوجی افسران پر بغاوت کے الزامات ، فرد جرم عائد

    جنوبی کوریا کے آرمی چیف سمیت دو فوجی افسران پر بغاوت کے الزامات ، فرد جرم عائد

    جنوبی کوریا کے آرمی چیف جنرل پارک ان سو اور اسپیشل وار فیئر یونٹ کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل کواک جونگ کیون پر بغاوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات عائد کر دیے گئے ہیں۔ ان دونوں فوجی افسران پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ ماہ ملک میں مارشل لا کے نفاذ میں معاونت فراہم کی تھی۔

    مقامی میڈیا کے مطابق، جنوبی کوریا کے استغاثہ نے تحقیقات کے دوران دونوں افسران کو حراست میں لیا تھا۔ دونوں افسران پر یہ الزامات ہیں کہ انہوں نے حکومت کے خلاف اقدامات کیے اور مارشل لا کے نفاذ کے لئے ضروری احکامات جاری کیے، جس سے ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا۔پراسیکیوٹرز کے مطابق، 3 دسمبر کو جنرل پارک ان سو نے اپنے طور پر مارشل لا کے نفاذ کے احکامات جاری کیے تھے۔ اس اقدام کو ان کے اختیارات سے تجاوز اور غیر آئینی قرار دیا گیا۔ دوسری طرف، لیفٹیننٹ جنرل کواک جونگ کیون پر الزام ہے کہ انہوں نے پارلیمنٹ کے اندر موجود اراکین کو ڈرا دھمکا کر مارشل لا کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد کو روکنے کی کوشش کی۔ انہوں نے سابق صدر یون سوک یول کے احکامات پر اسپیشل فورسز کو پارلیمنٹ میں بھیجا تاکہ پارلیمنٹ کے اراکین مارشل لا کے خلاف کسی تحریک کو پیش نہ کر سکیں۔

    تمام تر دباؤ اور فوجی مداخلت کے باوجود، جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے مارشل لا کے خلاف ایک قرارداد منظور کر لی۔ اس قرارداد کے تحت، صدر نے مجبوراً مارشل لا کے احکامات واپس لے لیے۔ اس کے بعد، صدر یون سوک یول کو مواخذے کی تحریک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔یہ واقعہ جنوبی کوریا کی سیاست میں ایک سنگین موڑ کا باعث بنا، جہاں فوجی قیادت نے سول حکومت کے خلاف کارروائی کی کوشش کی تھی، جس سے ملک میں آئینی بحران اور سیاسی عدم استحکام کی صورت حال پیدا ہوئی۔

    جنرل پارک ان سو اور لیفٹیننٹ جنرل کواک جونگ کیون کی گرفتاری اور ان پر فرد جرم عائد کیے جانے کے بعد اب ان کے خلاف مقدمات کی کارروائی جاری ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ مقدمہ نہ صرف فوجی قیادت کے احتساب کا سوال بن چکا ہے، بلکہ اس کے ذریعے جنوبی کوریا کی آئین کی بالادستی اور جمہوریت کے تحفظ کا بھی امتحان لیا جائے گا۔یہ بحران جنوبی کوریا میں آئینی اقدار اور فوجی قیادت کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے اور مستقبل میں سول حکومت اور فوج کے تعلقات کی نوعیت پر بھی اثرانداز ہو سکتا ہے۔

    کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

  • کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

    کیلیفورنیا میں چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ، 2 ہلاک، 18 زخمی

    امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر لاس اینجلس کے قریب ایک چھوٹا طیارہ کمرشل عمارت سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 2 افراد کی ہلاکت اور 18 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ حادثہ فلرٹن میونسپل ایئرپورٹ کے قریب پیش آیا، جو لاس اینجلس سے تقریباً 25 میل جنوب مشرق میں واقع ہے۔حادثہ اس وقت پیش آیا جب ایک چھوٹا طیارہ "وینز آر وی-10” ماڈل کمرشل عمارت سے ٹکرا گیا۔ پولیس اور مقامی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طیارے کے حادثے کے وقت عمارت میں کئی افراد موجود تھے۔ تاہم، یہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ ہلاک ہونے والے افراد طیارے میں سوار تھے یا وہ عمارت میں کام کر رہے تھے جہاں طیارہ گر کر تباہ ہوا۔حادثے کے فوری بعد ایمرجنسی سروسز نے موقع پر پہنچ کر ریسکیو آپریشن شروع کیا اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔ فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن نے حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اس وقت طیارے کے حادثے کے اسباب کو جانچنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

    یہ حادثہ ایسے وقت پر پیش آیا ہے جب عالمی سطح پر طیاروں کے حادثات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں آذربائیجان اور جنوبی کوریا میں بھی مسافر طیارے گر کر تباہ ہوئے ہیں، جن میں مجموعی طور پر 200 سے زائد افراد کی جانیں گئیں۔ ان حادثات نے دنیا بھر میں ایوی ایشن کی حفاظت پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور متعلقہ ادارے ان حادثات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔کیلیفورنیا کے اس حادثے کے بعد حکام نے مزید احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

    سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی میں سی پیک توانائی کے انفراسٹرکچر پر کانفرنس کا انعقاد

  • حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری، تاریخ کا ایک روشن باب

    شہدائے پاکستان کو سلام.وطن سے محبت میں جان نچھاور کرنا پاک فوج کی پہچان ہے.جان قربان کرنے والے عظیم سپوتوں کی قربانیوں نے پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط کیا.

    دفاع وطن میں جان قربان کرنے والی داستانوں میں سے ایک لانس حوالدار مدثر محمود شہید کی ہے.حوالدار مدثر محمود شہید نے 13 اپریل 2024 کو بونیر میں انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران دہشتگردوں کے خلاف بہادری سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا.حوالدار مدثر محمود شہید کا تعلق ضلع راولپنڈی سے ہے.حوالدار مدثر محمود شہید نے سوگواران میں والدین، بیوہ اور تین بچے چھوڑے.حوالدار مدثر محمود کے لواحقین نے اپنے احساسات و جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”بہت خوش قسمت ہوں کہ اللہ نے ایسا بیٹا عطا کیا”بہت فخر ہے کہ بیٹا راہِ حق میں ملک کے لیے شہید ہوا.بیٹے کو بچپن سے فوج میں جانے کا شوق تھا، اللہ نے اس کا شوق پورا کیا.بہت فرمانبردار تھا، ہر کسی کی خواہش کا خیال رکھتا تھا.بہت خوش قسمت ہوں کہ شہید کا والد ہوں.شہادت کا صدمہ بہت ہے مگر خوشی ہے اللہ نے اس کو اتنا بڑا رتبہ عطا کیا.آخری بار کہہ کر گیا کہ عید کے چوتھے دن آؤں گا مگر چوتھے دن اس کی جسدِ خاکی آئی.مدثر کے بیٹوں میں مجھے اس کا عکس نظر آتا ہے.اس کے بیٹے کہتے ہیں وہ اپنے بابا کی طرح فوج میں جا کر ملک کا نام روشن کریں گے.

    والدہ، حوالدار مدثر محمود شہید کا کہنا تھا کہ بیٹا بہت تابعدار اور خدمت گزار تھا، سب گھر والوں سے بہت پیار کرتا تھا.والدہ.بچے اپنے بابا کو بہت یاد کرتے ہیں.بیٹے کی شہادت پر فخر ہے، اللہ اس کے درجات بلند کرے.بیٹے کی شہادت ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے، شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں.

    بیوہ حوالدار مدثر محمود شہید کا کہنا تھا کہ مدثر کی جدائی کا بہت غم ہے مگر اس نے ملک اور قوم کے لیے شہادت نوش کی.ان کے ساتھ زندگی بہت اچھی گزری، کبھی کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی.مجھ سے اور بچوں سے بہت پیار کرتے تھے، انکی کمی کوئی پوری نہیں کر سکتا.شہادت کا بہت شوق تھا، اللہ نے ان کی یہ خواہش پوری کی.ان کی خواہش تھی کہ وہ مجھے اور اپنے والدین کو عمرہ پر لے کر جائینگے.مجھے فخر ہے کہ اللہ نے میرے شوہر کو شہادت کا رتبہ عطا کیا،

    حوالدار مدثر محمود کی شجاعت اور بہادری تاریخ کا ایک روشن باب ہے،پاک فوج کے اس بہادر سپوت کا اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنا ہم سب کے لیے باعث فخر ہے

    میجر محمد اویس شہید کی نماز جنازہ ادا

    خیبرپختونخوا کے 3 اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں ، 13 خوارج ہلاک، میجر شہید

  • سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی میں سی پیک توانائی کے انفراسٹرکچر پر کانفرنس کا انعقاد

    سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی میں سی پیک توانائی کے انفراسٹرکچر پر کانفرنس کا انعقاد

    سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور چین کی ژیان جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی کے تعاون سے ایک دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا جس کا موضوع "سی پیک توانائی کے انفراسٹرکچر اور سماجی و اقتصادی تبدیلیاں” تھا۔ یہ کانفرنس عالمی سطح پر مختلف ممالک کے ماہرین اور محققین کی شرکت سے منعقد ہوئی، جس میں چین، ترکی اور ملائیشیا سمیت متعدد ممالک کے معروف اسکالرز نے اپنی آن لائن پریزنٹیشنز پیش کیں۔

    کانفرنس کے دوران سی پیک کے توانائی کے منصوبوں اور ان کے پاکستان کی معیشت، زرعی شعبہ، اور سماجی و اقتصادی ترقی پر اثرات پر گہری بحث کی گئی۔ کانفرنس میں پاکستان کے مختلف صوبوں کی یونیورسٹیوں، تحقیقاتی اداروں اور زرعی تنظیموں کے محققین نے بھی حصہ لیا اور مختلف تکنیکی سیشنز میں اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، ڈاکٹر فتح ماری نے سی پیک کے تحت پاکستان کی برآمدات کو یورپ تک بڑھانے کے امکانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ چین کے ترقیاتی ماڈلز کو اپنانا اور زرعی باقیات سے توانائی کے منصوبے شروع کرنا پاکستان کے اقتصادی مستقبل کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے ساحلی علاقوں کی بہتر استعمال کے لیے بھی تجاویز پیش کیں تاکہ ان علاقوں سے توانائی پیدا کی جا سکے۔ڈاکٹر فتح ماری نے سی پیک فریم ورک کے تحت ثقافتی تعلقات کو فروغ دینے اور غربت و خوراک کی کمی کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک صرف اقتصادی ترقی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ اس کے ذریعے پاکستان اور چین کے درمیان سماجی اور ثقافتی روابط میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    کانفرنس میں ژیان جیاؤ ٹونگ یونیورسٹی کے پروفیسر کوان باو جیانگ نے بھی شرکت کی اور سی پیک کو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم جزو قرار دیا۔ پروفیسر جیانگ نے کہا کہ چین نے اس منصوبے کے ذریعے 60 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں کی ہے، جو دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔انہوں نے سی پیک کے تحت ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ان منصوبوں کو پاکستان کی ترقی کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا۔ پروفیسر کوان باو جیانگ نے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچا رہا ہے بلکہ دونوں ممالک کے عوام کے درمیان باہمی تعلقات کو بھی مستحکم کر رہا ہے۔

    کانفرنس کے اختتام پر، ایس اے یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر فتح ماری نے سی پیک فریم ورک کے تحت زرعی ترقی اور سماجی بہبود کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کے ذریعے زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری لانے سے پاکستان کی زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے، جس سے نہ صرف ملک کی معیشت کو تقویت ملے گی بلکہ غربت کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔

    کانفرنس میں شریک ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سی پیک کے تحت توانائی کے منصوبے اور زرعی ترقی کے لیے کی جانے والی سرمایہ کاری پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس کے علاوہ، کانفرنس کے دوران ہونے والی تحقیقاتی پیشکشوں اور تجزیوں نے سی پیک کی اہمیت کو اجاگر کیا اور اس کے کامیاب نفاذ کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر غور کیا۔

    اس دو روزہ کانفرنس کا اختتام ایک کھلے مباحثے اور تجاویز کے ساتھ ہوا، جس میں محققین، اسکالرز اور ماہرین نے سی پیک کے فوائد کو بڑھانے اور اس کے مثبت اثرات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عملی اقدامات پر بات کی۔ کانفرنس نے یہ واضح کیا کہ سی پیک نہ صرف توانائی کے شعبے میں اہم تبدیلیاں لا رہا ہے بلکہ زرعی اور سماجی ترقی کے لیے بھی ایک اہم راہ ہموار کر رہا ہے۔

    بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    کراچی میں ڈکیتی مزاحمت پر رواں سال کا پہلا قتل

  • بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    بشریٰ بی بی کی سیاسی فیصلوں میں مداخلت، پی ٹی آئی کی سینئر قیادت میں تشویش

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی جانب سے سیاسی فیصلوں میں مداخلت پر پارٹی کی سینئر قیادت میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پارٹی کے ذرائع کے مطابق بشریٰ بی بی خیبرپختونخوا میں ہونے والی مختلف سیاسی ملاقاتوں اور فیصلوں میں براہ راست شریک ہو رہی ہیں اور اس حوالے سے وہ پارٹی رہنماؤں کے ساتھ مشاورت بھی کرتی ہیں۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی نے حالیہ دنوں میں مذاکراتی عمل کے حوالے سے پارٹی کے اہم رہنماؤں سے بھی مشاورت کی، جس کے بعد پارٹی کی اعلیٰ قیادت میں تشویش بڑھ گئی۔ پارٹی رہنماؤں کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کی اس مداخلت سے پارٹی کے اندرونی معاملات اور فیصلوں پر اثر پڑ رہا ہے، جو پارٹی کی سیاست کے حوالے سے تشویش کا باعث بن رہا ہے۔ذرائع کے مطابق گزشتہ ہفتے پی ٹی آئی کے رہنماؤں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بشریٰ بی بی کی سیاسی معاملات میں مداخلت کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔ اس پر عمران خان نے بشریٰ بی بی کو سیاسی فیصلوں سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم، ذرائع کا کہنا ہے کہ بشریٰ بی بی کے سیاسی مصروفیات پر سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے پارٹی رہنماؤں میں مزید تشویش پیدا ہو رہی ہے۔

    پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق، بشریٰ بی بی کی مداخلت کے معاملے پر پارٹی کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ملاقات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے اس مسئلے پر بات کریں گے تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کی مداخلت کو روکا جا سکے۔ پارٹی قیادت کا خیال ہے کہ بشریٰ بی بی کی مداخلت سے پارٹی کے اندر اتحاد اور تنظیمی ڈھانچہ متاثر ہو سکتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کی سیاسی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔اس صورتحال پر پارٹی کے مختلف حلقوں میں مختلف آراء پائی جا رہی ہیں، لیکن اس بات پر سب متفق ہیں کہ پارٹی کے اندرونی معاملات میں بیرونی اثرات اور مداخلت سے بچنا ضروری ہے تاکہ پی ٹی آئی کو اپنے سیاسی اہداف میں کامیابی حاصل ہو سکے۔