Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • پاکستان اور بنگلہ دیش کی افواج کے مابین تربیتی معاہدہ، بھارت کو تشویش

    پاکستان اور بنگلہ دیش کی افواج کے مابین تربیتی معاہدہ، بھارت کو تشویش

    پاکستانی فوج نے پہلی بار 1971 کے بعد بنگلہ دیش کی فوج کے ساتھ ایک تربیتی معاہدہ کیا ہے، جس کے تحت پاکستان فوج بنگلہ دیشی فوج کو تربیت فراہم کرے گی۔ یہ معاہدہ 2025 کے فروری سے شروع ہو کر بنگلہ دیش کے مختلف کیمپوں میں تربیت کے مراحل پر عمل درآمد کرے گا۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کی افواج کے درمیان اس معاہدے کے بعد بھارتی حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

    معاہدے کے مطابق یہ تربیت بنگلہ دیش کے چار اہم کیمپوں میں کی جائے گی، جن میں فروری 2025 میں مایمن سنگھ کیمپ شامل ہے۔ مایمن سنگھ کیمپ بنگلہ دیشی فوج کے تربیتی اور ڈوکٹرین کمانڈ ہیڈکوارٹر کا مرکز ہے۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان کے میجر جنرل رینک کے افسران ممکنہ طور پر بنگلہ دیشی فوج کے افسران کو تربیت فراہم کریں گے۔ پاکستان کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل ساحر شمشاد مرزا نے بنگلہ دیش کو تربیتی پیشکش کی تھی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اس معاہدے پر دستخط ہوئے۔

    اس معاہدے نے بھارت میں تشویش کی لہر پیدا کر دی ہے، کیونکہ بھارت کا خیال ہے کہ یہ تربیت بنگلہ دیشی فوج میں بھارت مخالف نظریات کو پروان چڑھا سکتی ہے۔ بنگلہ دیشی فوج میں 1971 کے جنگی تجربات کے بعد بھارتی مخالفت کے رجحانات میں کمی آئی تھی، خاص طور پر اُس وقت سے جب بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کی حکومت قائم ہوئی تھی اور بنگلہ دیشی افسران کی بھرتی کی پالیسیاں بدل گئیں۔ تاہم، اب یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی تربیت سے بنگلہ دیشی فوج میں بھارت کے خلاف نظریات دوبارہ ابھر سکتے ہیں۔

    پہلا تربیتی ماڈیول جو پاکستان فوج کے زیرِ نگرانی ہوگا، ایک سال تک جاری رہ سکتا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھنے کے لیے ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، لیکن اس سے علاقائی طاقت کے توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ یہ معاہدہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی ایک کوشش ہے، لیکن اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا میں بھارت کے لیے نئے چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ بھارت کے لیے یہ ایک سنگین مسئلہ بن سکتا ہے

    واضح رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد بنگلہ دیش سے فرار کے بعد بھارت میں ہی مقیم ہیں۔ بنگلہ دیش میں عبوری حکومت قائم ہے اور بنگلہ دیش پاکستان تعلقات کی بہتری کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کی دو ملاقاتیں ہو چکی ہیں

  • مشال یوسفزئی کی راہداری ضمانت کی درخواست خارج

    مشال یوسفزئی کی راہداری ضمانت کی درخواست خارج

    پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما،بشریٰ بی بی کی ترجمان مشال یوسفزئی کی راہداری ضمانت کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا

    عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران مختصر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے درخواست خارج کرنے کی وجہ بیان کی۔ پشاور ہائیکورٹ نے اپنے حکمنامے میں کہا کہ مشال یوسفزئی کی جانب سے کوئی بھی شخص عدالت میں پیش نہیں ہوا اور نہ ہی درخواست گزار نے کسی وجہ سے اپنے وکیل کو عدالت میں بھیجا۔ اس عدم پیشی کی بنا پر عدالت نے درخواست کو خارج کرنے کا فیصلہ کیا۔

    یاد رہے کہ مشال یوسفزئی کی جانب سے راہداری ضمانت کی درخواست اس وقت دائر کی گئی تھی جب اُن کے خلاف مختلف مقدمات کی بنا پر گرفتاری کے خدشات تھے۔ تاہم، عدالت کی جانب سے درخواست خارج کرنے کے بعد مشال یوسفزئی کو فی الحال کسی ریلیف کا سامنا نہیں ہے۔اس فیصلے کے بعد مشال یوسفزئی اور ان کے حامیوں کی جانب سے اس فیصلے پر کوئی فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے بعد مشال یوسفزئی کی قانونی حکمت عملی میں کوئی تبدیلی آ سکتی ہے۔

    گلوکار ارمان ملک اور فیشن بلاگر آشنا شروف نے شادی کر لی

  • ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بند کر سکتے ہیں، سست نہیں کر سکتے،چیئرمین پی ٹی اے

    ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بند کر سکتے ہیں، سست نہیں کر سکتے،چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی ، پی ٹی اےکے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ پیکا ایکٹ کے تحت حکومت ہدایت کرتی ہے تو پلیٹ فارم بند کرتے ہیں، ہم سوشل میڈیا بلاک کر سکتے ہیں یا کھول سکتے ہیں، درمیان کا راستہ نہیں ہے

    قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا سید امین الحق کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا،اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سید امین الحق نے کہا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل پر جماعتوں کے درمیان بات چیت جاری ہے، اُمید ہے جماعتوں کی قیادت کے درمیان بات چیت کا بہتر نتیجہ نکلے گا، بل کمیٹی سے پاس ہو گا تو پارلیمنٹ میں جائے گا۔ پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب نے کہا کہ پہلے ٹیلی فون کی جاسوسی کی جاتی تھی، اب شہریوں کی سرویلنس جاری ہے، حکومت کی جانب سے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں،،سروس بندش سے نقصانات ملین ڈالرز میں ہےپاکستان میں ہمیں انٹرنیٹ کم ترین اسپیڈ میں مل رہا ہے ، وی پی این رجسٹریشن کے معاملے میں حکومت کی نیت خراب ہے۔ہم وی پی این پر پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں،آئندہ اجلاس میں چیئرمین پاشا کو طلب کرلیا گیا، چیئرمین قائمہ کمیٹی سید امین الحق نے کہا کہ چیئرمین پاشا کو بلائیں وہ بتائیں انٹرنیٹ سلو ہونے سے کتنا نقصان ہوا؟وی پی این کو قاعدہ قانون میں رہتے ہوئے بند نہیں ہونا چاہے،رومینہ خورشید نے کہا کہ دنیا بھر میں چیزوں کی ماننٹرنگ کی جاتی ہے۔

    میں وضو میں ہوں حلف پر بات کروں گا، 3 سب میرین کیبل کٹی تھیں،چیئرمین پی ٹی اے
    پی ٹی اے کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا کہ میں وضو میں ہوں حلف پر بات کروں گا، 7 میں سے 3 سب میرین کیبل کٹی تھیں، 5 ماہ بعد اکتوبر میں سب میرین کیبل بحال ہوئی ہیں، اکتوبر کے مقابلے میں انٹرنیٹ سروس میں بہتری آئی ہے، کوالٹی رپورٹ آپ کے سامنے ہے، کچھ غلط ہو، میں جوابدہ ہوں، سوشل میڈیا کی سب کمپنیوں کو خطوط لکھے، دیگر کمپنیوں کو بھی خط لکھ کر پوچھا کہ انٹرنیٹ کا مسئلہ تو نہیں، اگر سروس کا مسئلہ ہوتا تو کمپنیوں کو خط کیوں لکھتے، حکومت نے ٹیلی کام انفرا اسٹرکچر پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا، ڈیجیٹل ہائی ویز نہیں بنائیں گے تو مسئلہ حل نہیں ہو گا، ہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سست نہیں کر سکتے، آپ کو ڈیجیٹل ہائی ویز بنانے ہوں گے تب انٹرنیٹ ٹھیک ہو گا، گزشتہ 10 سال میں ایک سب میرین کیبل نہیں آئی ہے، سب میرین کیبلز لانا اور فائبر کیبلز بچھانا حکومت کا کام ہے۔

    سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گزشتہ سال انٹرنیٹ کے مسائل کا چرچا رہا ، اگر آپ انٹرنیٹ کی بات کریں تو مانتے ہیں نہ کہ ہمارے ہاں انٹرنیٹ کے مسائل ہیں ،آئندہ سال ایسی کیا چیز ہو گی کہ ہم کہہ سکیں کہ انٹرنیٹ بہتر ہو گا ،چیئرمین کمیٹی نے پی ٹی اے حکام کو ہدایت کی کہ سرگودھا کے ساتھ ساتھ کراچی کے علاقوں کا دوبارہ جائزہ لیں ،

    قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس،ڈیجیٹل نیشن پاکستان بل ایک بار پھر موخر کر دیا گیا، اراکین نے فیصلہ کیا کہ آئندہ اجلاس میں اس بل پر بات کریں گے،

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

  • اسلام آباد ہائیکورٹ،  شادی سے انکار،لڑکی کا قتل،ٹرائل کورٹ کو دوبارہ فیصلے کا حکم

    اسلام آباد ہائیکورٹ، شادی سے انکار،لڑکی کا قتل،ٹرائل کورٹ کو دوبارہ فیصلے کا حکم

    اسلام آباد ، 24 سالہ لڑکی سونیا کے قتل کے مقدمے میں سزا پانے والے ملزم شہزاد کی سزا کے خلاف اپیل پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔

    عدالت نے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر سوالات اٹھاتے ہوئے ملزم کو 25 سال قید بامشقت کی سزا دینے کے جواز کو بلاجواز قرار دیا ہے اور کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیج دیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 45 دن کے اندر وجوہات پر مبنی نیا فیصلہ کرنے کی ہدایت کی۔ عدالت نے کہا کہ ملزم شہزاد کو قتلِ عمد کے جرم میں سزائے موت کیوں نہیں دی گئی، اس بات کی وضاحت ٹرائل کورٹ نے نہیں کی۔

    ملزم شہزاد نے 2020 میں سونیا کو شادی سے انکار کرنے پر قتل کر دیا تھا۔ مدعی کے مطابق، شہزاد نے پانچ ماہ تک سونیا کا پیچھا کیا اور پھر رشتہ بھیجا، لیکن سونیا نے انکار کر دیا۔ اس پر شہزاد نے سونیا اور اس کے والد کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔ 30 نومبر 2020 کو صبح 9:30 بجے سونیا کو سر میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے گولی کے خول اور ملزم سے برآمد ہونے والے پستول سے ثابت ہوا کہ یہ گولی شہزاد کے پستول سے فائر کی گئی تھی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے اپنے فیصلے میں ملزم کو 25 سال قید بامشقت دینے کی کوئی ٹھوس وجہ پیش نہیں کی۔ عدالت نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کا یہ فرض تھا کہ وہ قتل کے مقصد، گواہوں کی شہادت اور ملنے والے شواہد کی بنیاد پر سزا کی وضاحت کرتی، لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو سیکشن 302 سی کے تحت 25 سال قید کی سزا دی، جو کہ صرف ان مقدمات میں دی جاتی ہے جہاں قصاص کی سزا نہ دی جا سکتی ہو۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس بات پر سوال اٹھایا کہ کیا اس کیس میں سیکشن 302 سی کے تحت سزا دی جا سکتی تھی۔ ہائیکورٹ نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزائے موت کو نظر انداز کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ عام طور پر قتل کی سزا موت ہوتی ہے، اور اگر مخصوص حالات ہوں تو سزائے موت کو کم کر کے عمر قید دی جا سکتی ہے، لیکن ٹرائل کورٹ نے اس اہم اصول کو نظر انداز کیا۔عدالت نے واضح کیا کہ سزا کا تعین کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لینا چاہیے، اور اگر سزائے موت میں کمی کی جائے تو اس کی وجوہات بہت مضبوط ہونی چاہئیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کو دوبارہ ٹرائل کورٹ میں بھیجتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ فریقین کو ایک مرتبہ پھر سماعت کا موقع دے اور 45 دن میں اس کیس کا وجوہ پر مبنی فیصلہ کرے۔

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

  • جشن منا کر واپس جا رہے تھے کہ حملہ ہوگیا،سڑک پر مردہ ،زخمی دیکھے،عینی شاہدین

    جشن منا کر واپس جا رہے تھے کہ حملہ ہوگیا،سڑک پر مردہ ،زخمی دیکھے،عینی شاہدین

    نیو اورلینز میں بدھ کی صبح ہونے والے حملے کی گواہ رہنے والی روٹھ اور جاناتھن چاویرز نے اس واقعے کو "خوفناک” اور "تباہ کن” قرار دیا۔

    روٹھ اور ان کا 17 سالہ بیٹا نئے سال کی خوشیوں میں مگن تھے اور بربن اسٹریٹ کے ایک لائیو میوزک بار میں جشن منانے کے بعد واپس جا رہے تھے کہ حملہ ہوا۔روٹھ چاویرز نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا: "اسی وقت ہمیں گولیاں چلنے کی آواز آئی اور لوگ دوڑنا شروع ہو گئے، پھر ہمیں عمارت میں بند کر دیا گیا اور تمام دروازے بند کر کے ہمیں نیچے جانے کو کہا۔”جب وہ باہر گئے تو انہوں نے حملے میں استعمال ہونے والی پک اپ ٹرک کو بار کے قریب دیکھا اور سڑک پر مردہ اور زخمی لوگ پڑے تھے۔”ہم نے پہلی بار ایمبولینس عملے کو ایک نوجوان کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا، وہ اس پر بہت دیر تک کام کرتے رہے اور ہم صرف دعا کر رہے تھے کہ وہ بچ جائے۔ لیکن اس میں کوئی زندگی نہیں تھی،” روٹھ چاویرز نے کہا۔”ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے سواۓ اس کے کہ ہم وہاں کھڑے ہو کر صدمے اور آنکھوں میں آنسو کے ساتھ یہ منظر دیکھیں۔”روٹھ چاویرز نے کہا کہ یہ تیسرا سال ہے جب وہ اور ان کا خاندان نیو اورلینز کا دورہ کر رہے ہیں کیونکہ "ہم یہاں بہت مزہ کرتے ہیں” اور انہوں نے بدھ کو واقعے کی جگہ پر موجود پولیس اور ایمرجنسی عملے کی تعریف کی۔”پولیس کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ آپ پولیس کو دیکھ سکتے تھے، وہ سب کچھ ملاحظہ کر رہے تھے،” انہوں نے کہا۔ "انہوں نے شاندار کام کیا، حملہ روکنے کی کوشش کی، لیکن کوئی بھی اس کا اندازہ نہیں لگا سکتا تھا۔”

    نیویارک ٹائمز کے فری لانس رپورٹر شان کینن نے بتایا کہ انہوں نے 2015 میں نیو اورلینز حملے کے مشتبہ شخص شمس الدین جبار کا انٹرویو لیا تھا جب وہ جارجیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے طالب علم تھے۔کینن نے کہا کہ انہوں نے جبار سے بات کی تھی جب وہ فوجی زندگی سے نکل کر یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ وہ اس بات پر شکایت کر رہے تھے کہ فوجی فوائد حاصل کرنے کے عمل میں مشکلات کا سامنا تھا۔کینن نے کہا: "وہ اس بات پر شکایت کر رہے تھے کہ VA (ویٹرنز افیئرز) پروگرامز میں پیچیدگیاں ہیں، اور ایک چھوٹے سے کاغذی کام کے غائب ہونے سے آپ کی امداد رک سکتی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ جبار نے اس وقت کوئی ایسا رویہ نہیں دکھایا جو مشتبہ نظر آئے۔

    حملے پر دنیا بھر کا اظہار افسوس
    نیو اورلینز میں ہونے والے حملے پر دنیا بھر سے اظہار افسوس کا سلسلہ جاری ہے۔ کئی عالمی رہنماؤں اور حکام نے اس حملے پر اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ "نیو اورلینز میں یہ خوفناک حملہ افسوسناک ہے” اور اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دل "امریکہ کے عوام کے ساتھ ہے ۔”کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس واقعے کو "ہولناک” قرار دیا اور کہا کہ ان کا "دل متاثرین کے خاندانوں کے ساتھ ہے، جو صحت یاب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس بے معنی تشدد سے متاثر ہونے والے تمام افراد کے ساتھ ہیں۔”یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے بھی اس پر اپنے دکھ کا اظہار کیا اور کہا کہ "تشدد، دہشت گردی اور انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی حرکت کا کوئی جواز نہیں ہو سکتا۔”فرانس کے صدر ایمانیول میکرون نے کہا کہ "نیو اورلینز فرانسیسی عوام کے دلوں کے قریب ہے” اور "ہمارے خیالات متاثرین کے خاندانوں اور امریکی عوام کے ساتھ ہیں، جن کا دکھ ہم اپنے دلوں میں محسوس کرتے ہیں۔”

    تحقیقات کار اس بات کا جائزہ لے رہی ہیں کہ آیا نیو اورلینز حملے اور لاس ویگاس کے ٹرمپ ہوٹل کے باہر ہونے والے ٹیسلا سائبر ٹرک دھماکے کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے یا نہیں۔ دونوں واقعات نئے سال کے آغاز کے فوراً بعد پیش آئے تھے۔پولیس اور حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ کیا دونوں واقعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں یا نہیں، تاہم فی الحال اس بارے میں کوئی واضح سراغ نہیں ملا۔

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

  • یونان کشتی حادثہ،انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر سمیت 10 گرفتار

    یونان کشتی حادثہ،انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر سمیت 10 گرفتار

    یونان میں 2023 میں پیش آنے والے کشتی حادثے میں ملوث 10 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جن میں وزارت داخلہ کی ریڈ بک میں شامل انتہائی مطلوب انسانی اسمگلر عمران عرف مانی بھی شامل ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ملزمان کی گرفتاری ایک بڑی کامیابی ہے۔

    انسانی اسمگلر عمران عرف مانی پر الزام ہے کہ اس نے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے 6 افراد کو لیبیا بھجوایا تھا اور ان سے فی کس 24 لاکھ روپے وصول کیے تھے۔ تاہم، حادثے کے بعد سے یہ ملزم روپوش تھا، لیکن ایف آئی اے کی کارروائی کے نتیجے میں اسے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ایف آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ عمران عرف مانی سمیت 4 ملزمان کو گجرات اور گوجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا، جبکہ سرگودھا، فیصل آباد اور اسلام آباد سے 6 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ یہ تمام ملزمان 2023 میں ہونے والے لیبیا کشتی حادثے میں ملوث ہیں، جنہوں نے اس حادثے کے 9 متاثرین سے مجموعی طور پر 5 کروڑ 16 لاکھ روپے ہتھائے تھے۔

    علاوہ ازیں 13 اور 14 دسمبر 2024 کی درمیانی شب یونان کے جزیرے کریٹ پر پیش آنے والے کشتیوں کے حادثے میں 44 پاکستانیوں کو ریسکیو کیا گیا تھا۔ یہ کشتی لیبیا کے علاقے تبروک سے یونان جا رہی تھی، تاہم حادثہ پیش آیا اور اس میں 9 پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہو گئیں۔ اب تک 9 پاکستانیوں کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ دیگر لاپتہ افراد کو مردہ قرار دے دیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مزید تیز کر دیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ ایسے مجرموں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے جو معصوم افراد کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں۔ ایف آئی اے کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ اس گھناؤنی تجارت میں ملوث تمام افراد کو پکڑا جا سکے۔

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

  • رحم کی  اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    رحم کی اپیلوں کی منظوری، آرمی چیف کی ہمدردی، انصاف کیلیے فوج کے عزم کا ثبوت

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی جانب سے 9 مئی کے حملوں میں ملوث 19 ملزمان کی رحم کی اپیلوں کی منظوری ایک طرف جہاں ان کی انسان دوست سوچ کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ فوجی عدالتوں کی شفافیت اور انصاف کے نظام کی پختگی کو بھی اجاگر کرتی ہے۔یہ افراد اپنی دو سالہ سزا مکمل کرنے کے قریب تھے، اور ان کی اپیلیں محض انسانیت کی بنیاد پر منظور کی گئیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوجی عدالتیں انصاف کے اصولوں کے مطابق اور آئین کے تحت کام کر رہی ہیں۔

    یہ اقدام نہ صرف فوجی عدالتوں پر تنقید کرنے والوں کی زبانوں کو بند کرتا ہے، بلکہ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انصاف اور رحم کے معاملے میں متوازن نقطہ نظر کو بھی اجاگر کرتا ہے۔پی ٹی آئی کے بیانیے کے برعکس، فوج نے فسادیوں کے ساتھ بدلہ لینے کا کوئی ارادہ نہیں دکھایا۔ سزا سنانے اور رحم دینے کے حوالے سے کیے گئے فوری فیصلے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ فوج انصاف کے اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے، انسانی ہمدردی کو بھی مدنظر رکھتی ہے۔

    آرمی چیف نے واضح طور پر کہا ہے کہ ریاست ان لوگوں کو ریلیف فراہم کرے گی جو حقیقی پچھتاوے کا مظاہرہ کریں گے، لیکن بدامنی اور تشدد کے واقعات کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔

    اس فیصلے سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ادارہ اپنے قیدیوں کو قانونی راستوں کی پیشکش کر رہا ہے، جن میں رحم کی درخواستیں شامل ہیں، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پورا عمل انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے۔ان رحم کی اپیلوں کی منظوری آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی انسانیت پسندی اور فوج کی انصاف کے ساتھ وابستگی کا غماز ہے، اور اس سے یہ تمام بے بنیاد قیاس آرائیاں رد ہو جاتی ہیں جو اس عمل کو سیاسی مقاصد سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

  • سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سزا معافی کا فیصلہ،فوجی عدالتوں پر تنقید کرنیوالوں کے منہ پر زبردست طمانچہ

    سانحہ نومئی، آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 19 مجرمان کی سزا معافی کی اپیل منظور کرتے ہوئے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا ہے

    9 مئی کو ہونے والے ہنگاموں اور احتجاج کے بعد فوج نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ کسی بھی فرد کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کر رہی۔ 9 مئی میں ملوث 19 افراد کو فوجی عدالت سے ملنے والی سزائیں معاف کرنے کے فیصلے کو ایک طاقتور پیغام کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔آرمی چیف جنرل عاصم منیر نےیہ فیصلہ انسانیت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے اور اس کا مقصد آئین اور قانون کی بالادستی کو فروغ دینا ہے۔سزاؤں کی معافی کا یہ فیصلہ غیر جانبدارانہ طور پر آئین اور قانون کے مطابق کیا گیا ہے، اور کسی بھی سیاسی یا دیگر نوعیت کے دباؤ سے آزاد ہے۔

    "9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کے ساتھ انتقامی کارروائی کے بجائے انسانیت کی بنیاد پر سزاؤں کی معافی کا فیصلہ کیا گیا جو آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے رحم دل اور نرم دل قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔” فوج کا مقصد ہمیشہ آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے فیصلے کرنا ہے، جو عناصر انسانی حقوق کے نام پر ملٹری قانون اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کر رہے تھے، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک سخت جواب ہے۔ یہ فیصلہ فوج کی جانب سے اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ آئین کی بالادستی اور قانون کے احترام میں مکمل طور پر پختہ ہے۔

    "نومئی کے مجرمان کی سزا معافی کا یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت لیا گیا ہے اور اس میں کسی بھی سیاسی مفاد یا پروپیگنڈے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ان سزاؤں کا معاف کیا جانا صرف اور صرف انسانیت کی بنیاد پر ہے۔ اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا یا اس پر بے بنیاد قیاس آرائیاں کرنا حقیقت سے دور ہوگا۔”فیصلے سے واضح ہو گیا کہ فوج کی کارروائیاں ہمیشہ قانون اور آئین کے تحت ہوں گی، اور کسی بھی شخص یا گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    واضح رہے کہ 9 مئی کو پاکستان میں ہونے والے ہنگاموں میں پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے فوج کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس کے بعد کئی افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ جن کی سزاؤں میں کمی یا معافی دینے کا فیصلہ ایک نیا پیش رفت ہے، جسے حکومت اور فوج دونوں کے درمیان ایک اچھے تعلقات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

  • سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    سزاؤں میں معافی، ملٹری لاء اور ٹرائل کی شفافیت کی واضح مثال

    آج 9 مئی کے 19 مجرمان کو، جنہیں دو سال کی سزا سنائی گئی تھی، ان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل کرتے ہوئے معافی دے دی گئی اور رہا کرنے کا حکم دے دیا گیا یہ فیصلہ کئی اہم نکات کو اجاگر کرتا ہے اور ملٹری کورٹ کے عمل کی شفافیت اور آئینی اصولوں کی پیروی کی واضح مثال ہے۔یہ عمل ثابت کرتا ہے کہ ملٹری کورٹس کا ٹرائل مکمل طور پر آئین اور قانون کے مطابق اور شفافیت پر مبنی ہے۔ وہ عناصر جو فوجی عدالتوں اور ٹرائل کے عمل پر بے جا تنقید کرتے رہے ہیں، آج کا فیصلہ ان کے لیے ایک زور دار جواب ہے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملٹری عدالتیں نہ صرف انصاف فراہم کرتی ہیں بلکہ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے میں غیر جانبدار رہتی ہیں۔

    آئینی بینچ کی اجازت کے بعد، جس رفتار سے سزائیں سنائی گئی تھیں، اسی تیزی سے مجرمان کی رحم کی پیٹیشنز پر عمل درآمد کیا گیا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر لیا گیا ہے اور ان افراد کی باقی ماندہ سزا، جو تقریباً چار سے پانچ ماہ تھی، کو معاف کر دیا گیا۔ یہ عمل اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ قانون کی بالادستی اور آئین کی تکمیل میں غیر جانبداری کا مکمل خیال رکھا گیا ہے۔

    یہ 19 مجرمان وہ ہیں جنہوں نے اپنے رحم کی درخواست خود دی تھی اور ان کی سزا میں معافی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی گئی۔ یہ لوگ تقریباً ایک سال اور چھ ماہ کی سزا مکمل کر چکے تھے اور صرف چند ماہ کی باقی سزا تھی، جس کو معاف کیا گیا۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ فوج کسی بھی فرد کے ساتھ انتقامی کاروائی نہیں کر رہی بلکہ انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اس سے پہلے بھی اپریل 2024 میں 20 مجرمان کی سزاؤں کو معاف کیا تھا، اور اب ان 19 مجرمان کے معاملے میں بھی انسانیت اور ہمدردی کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا۔ یہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی رحم دلی اور انسانیت کے تئیں ہمدردی کا واضح اظہار ہے۔یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ ملٹری ٹرائل اور قانون کی شفافیت میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس سے نہ صرف قانون کی شفافیت کا پتا چلتا ہے بلکہ انصاف کی فراہمی میں غیر جانبداری کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ باقی مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے کا حق برقرار ہے اور وہ اپنے قانونی اور آئینی حقوق کے مطابق مزید کارروائی کر سکتے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نظام انصاف میں انسانی ہمدردی اور رحم کو مدنظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔اس فیصلے کو کسی بھی سیاسی عمل سے جوڑنا اور اس پر بے تکی قیاس آرائی کرنا غیر مناسب ہے۔ یہ فیصلہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد صرف مجرمان کی باقی ماندہ سزا میں کمی لانا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔

    یہ فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ قانون اور آئین کی بالادستی کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاتا۔ ملٹری کورٹس کی شفافیت، انصاف کے تقاضوں کی تکمیل اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فیصلوں کا لینا، یہ سب چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی فوج کے ٹرائل سسٹم میں انصاف کی فراہمی میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    نو مئی کے تمام ملزمان کیفر کردار کو پہنچیں گے، عطا تارڑ

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    نومئی مجرمان کو سزائیں،عمران خان کا خوف،پی ٹی آئی نے کارکنان کو چھوڑا لاوارث

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

  • فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 افراد کی سزا معاف

    سانحہ 9 مئی 2023 کے 19 مجرمان کی سزاؤں میں معافی کا اعلان کردیا گیا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق سانحہ 9 مئی کی سزاؤں پر عملدرآمد کے دوران مجرمان نے رحم اور معافی کی پٹیشنز دائر کی تھیں، ان مجرمان کو ضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جارہا ہے جبکہ دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں،مجموعی طور پر 67 مجرمان نے رحم کی پٹیشنز دائر کی تھیں، 48 پٹیشنز کو قانونی کارروائی کے لیے ’کورٹس آف اپیل‘ میں نظرثانی کے لیے ارسال کیا گیا تھا، 19مجرمان کی پٹیشنز کو خالصتاً انسانی بنیادوں پر قانون کے مطابق منظور کیا گیا،دائر کی گئی دیگر رحم کی پٹیشنوں پر عملدرآمد مقررہ مدت میں قانون کے مطابق کیا جائے گا۔

    ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ سزاؤں کی معافی ہمارے منصفانہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے، یہ نظام ہمدردی اور رحم کے اصولوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے انصاف کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے اپریل 2024ء میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 20 مجرمان کی رہائی کا حکم صادر کیا گیا تھا۔

    فوجی عدالتوں سے 9 مئی واقعات میں سزا پانے والے 19 مجرمان کی سزائیں معاف کر دی گئیں،19 مجرمان جن کی سزائیں معاف کی گئی ہیں ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
    1۔ محمد ایاز ولد صاحبزادہ خان
    2۔سمیع اللہ ولد میرداد خان
    3۔لئیق احمد ولد منظور احمد
    4۔امجد علی ولد منظور احمد
    5۔یاسر نواز ولد امیر نواز خان
    6۔سِیعد عالم ولد معاذاللہ خان
    7۔زاہدخان ولد محمد نبی
    8۔محمد سلیمان ولد سِیعد غنی جان
    9۔ حمزہ شریف ولد محمد اعظم
    10۔ محمد سلمان ولد زاہد نثار
    11۔ اشعر بٹ ولد محمد ارشد بٹ
    12۔ محمد وقاص ولد ملک محمد خلیل
    13۔ سفیان ادریس ولد ادریس احمد
    14۔منیب احمد ولد نوید احمد بٹ
    15۔ محمد احمد ولد محمد نذیر
    16۔ محمد نواز ولد عبدالصمد
    17۔ محمد علی ولد محمد بوٹا
    18۔ محمد بلاول ولد منظور حسین
    19۔ محمد الیاس ولد محمد فضل حلیم

    ان مجرمان کوضابطے کی کارروائی مکمل ہونے کے بعد رہا کیا جا رہا ہے،دیگر تمام مجرمان کے پاس بھی اپیل کرنے اور قانون اور آئین کے مطابق دیگر قانونی حقوق برقرار ہیں ،سزاؤں کی معافی ہمارے منصفافہ قانونی عمل اور انصاف کی مضبوطی کا ثبوت ہے

    9 مئی کو جو کیا بھارت کی فوج بھی نہ کرسکی، ایاز صادق

    9 مئی میں سزا یافتہ لوگوں کے لیے اپیلیں فائل کریں گے،بیرسٹر گوہر

    سانحہ نو مئی کے مجرمان کو شواہد کی بنیاد پر سزائیں سنائی گئیں،عطاءاللہ تارڑ

    سانحہ 9 مئی، مزید 60 مجرمان کو سزائیں، حسان نیازی کو 10 برس کی سزا

    نومئی کے مجرموں کو سزا پر برطانوی ردعمل غیر ضروری