Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • 12 سال سے کم عمر کا بچہ حج پر نہیں جا سکے گا

    12 سال سے کم عمر کا بچہ حج پر نہیں جا سکے گا

    اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کا اجلاس چیئرمین سینیٹر عطاء الرحمن کی زیر صدارت منعقد ہوا، جس میں 2025 کے حج کی پالیسی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔

    اجلاس میں وزارت مذہبی امور کے حکام نے 2025 کے لیے حج کا کوٹہ 179,000 افراد کے لیے مختص کرنے کی اطلاع دی۔ اس کوٹے کو حکومت اور نجی شعبے میں یکساں طور پر تقسیم کیا گیا ہے، جس میں حکومت کے لیے 50,000 نشستیں اور نجی شعبے کے لیے 30,000 نشستیں شامل ہیں۔ اس وقت تک حکومت کو 81,075 درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔حکومت نے 20 سے 25 دن تک کا "شارٹ حج” متعارف کرانے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ، نجی تنظیموں کو کم از کم 2,000 افراد کے لیے حج کرانے کی اجازت دی گئی ہے۔ وزارت نے ‘معاون’ کے لیے ایک نیا ٹیسٹ بھی متعارف کرایا ہے تاکہ ان کی صلاحیت کا جائزہ لیا جا سکے، اور یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ہر 100 حجاج کے لیے ایک معاون ہونا ضروری ہوگا۔ سعودی حکومت نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ 12 سال سے کم عمر کا بچہ حج پر نہیں جا سکے گا۔

    حج آرگنائزرز ایسوسی ایشن آف پاکستان (HOAP) کے خدشات پر بات کرتے ہوئے حکام نے بتایا کہ سعودی حکومت کی شرط کے مطابق نجی تنظیموں کے لیے 2,000 حجاج کو پورا کرنے کے لیے حکومت نے 40 سے 45 نجی تنظیموں پر مشتمل ایک کلسٹر سسٹم متعارف کرایا ہے۔ حکومت نے ایک "سروس پرووائیڈر ایگریمنٹ” بھی متعارف کرایا ہے، تاہم ہوپ نے سندھ ہائی کورٹ سے اس پر اسٹے آرڈر حاصل کر لیا ہے۔ کمیٹی نے ہوپ کو ہدایت دی کہ وہ اسٹے آرڈر واپس لے کر سروس پرووائیڈر ایگریمنٹ کے تحت 48 گھنٹوں کے اندر عملدرآمد کرے۔

    کمیٹی نے پارک انکلیو میں سی ڈی اے کے زیر انتظام بنائی گئی مسجد کے حوالے سے بھی گفتگو کی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ماہین بلوچ نے بتایا کہ مسجد کو وقف انتظامیہ کے حوالے کر دیا جانا چاہیے تاکہ قانون کے مطابق وقف مینیجر کی تقرری کی جا سکے۔ مقامی رہائشیوں نے جو پچھلے 10 مہینوں سے مسجد کی انتظامیہ کر رہے ہیں، درخواست کی کہ وقف مینیجر مقامی کمیونٹی سے ہی تعینات کیا جائے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ وقف مینیجر مقامی رہائشیوں میں سے ہی مقرر کیا جائے۔

    کمیٹی نے بابا گرو نانک کی 555ویں سالگرہ کی تقریب کے دوران 14 سالہ ہندو لڑکے کی ہلاکت کے معاملے پر بھی غور کیا۔ حکام نے بتایا کہ یہ واقعہ ناقص انتظامات کے سبب پیش آیا، تاہم وزارت اس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ کمیٹی نے تجویز پیش کی کہ متاثرہ خاندان کو ٹرسٹ بورڈ اور پاکستان سکھ گردوارہ پربندھک کمیٹی کی جانب سے 25 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے، اور اس تحقیقاتی رپورٹ کو تین ہفتوں کے اندر پیش کرنے کی ہدایت کی۔

    بالی ووڈ فلمساز نہیں سمجھتے کہ فلم سازی کیا ہوتی ہے،انوراگ کشپ

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

  • غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے

    پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین حفیظ الرحمان نے کہا ہے کہ آج پہلی بار پتہ چلا کہ انٹرنیٹ کی بندش غلط ہوتی ہے۔

    سینیٹر پلوشہ خان کی زیرِ صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزارت آئی ٹی اور پی ٹی اے نے انٹرنیٹ کی بندش اور اس سے متعلق مسائل پر بریفنگ دی۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید بتایا کہ پی ٹی اے کو روزانہ سوشل میڈیا پر مواد کی 500 شکایات موصول ہوتی ہیں، جس پر پی ٹی اے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو مواد بلاک کرنے کی درخواست کرتا ہے۔ تاہم، اجلاس کے دوران مختلف سینیٹرز نے انٹرنیٹ کی بندش کے قانونی پہلوؤں پر سوالات اٹھائے اور اس حوالے سے پی ٹی اے کے موقف کو چیلنج کیا۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اجلاس کے دوران کہا کہ "ایکٹ میں کہاں لکھا ہے کہ کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بلاک کرنا ہے؟” اس پر ممبر لیگل وزارت آئی ٹی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایکٹ میں کسی خاص علاقے میں انٹرنیٹ بند کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ اس کے بعد چیئرمین پی ٹی اے حفیظ الرحمان نے وضاحت دی کہ رولز میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ وزارت داخلہ پی ٹی اے کو انٹرنیٹ کی بندش کی ہدایت دے سکتی ہے۔

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال اٹھایا کہ اگر ایکٹ میں انٹرنیٹ بند کرنے کا جواز نہیں دیا گیا تو پی ٹی اے اس عمل کو کیسے قانونی بنا سکتا ہے؟ جس پر چیئرمین پی ٹی اے نے جواب دیا کہ اگر یہ غلط ہوتا تو حکومت نو سال سے پی ٹی اے کو انٹرنیٹ بند کرنے کی ہدایت کیوں دیتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ تاریخ اور وقت بتا سکتے ہیں جب انٹرنیٹ بند کیا گیا تھا۔سینیٹر ہمایوں مہمند نے اس بات پر زور دیا کہ رولز میں صرف سوشل میڈیا پر مواد کے حوالے سے بات کی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں کسی واضح ذکر کا فقدان ہے۔ اس پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی قانونی رائے وزارت قانون اور وزارت داخلہ دے سکتی ہے۔چیئرمین پی ٹی اے نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے حکم پر کئی بار سوشل میڈیا ایپس بند کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا 8 فروری کو ہونے والے الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش بھی غلط تھی ، سپریم کورٹ کے حکم پر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا ایپس کو بند کیا گیا۔بلوچستان میں ڈیجیٹل ہائی وے بنانا پڑے گا،انٹرنیٹ کی فراہمی کے لئے ڈیجیٹل ہائی وے بنانے پڑیں گے جب تک ڈیجیٹل ہائی وے نہیں بنائیں گے انٹرنیٹ ٹھیک نہیں ہوگا،صوبائی حکومتوں سے درخواست کریں کہ سہولت فراہم کریں یہاں تو کام شروع کرتے ہیں لوگ عدالت میں چلے جاتے ہیں

    سینیٹر کامران مرتضیٰ نے سوال کیا کہ کیا رولز ایکٹ سے آگے جا سکتے ہیں؟ اگر سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو کیا وزارت نے اس پر نظرثانی دائر کی ہے؟ اس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ رولز کئی سال پہلے بنے تھے اور ان میں انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے کسی نئی ترمیم یا نظرثانی کی ضرورت ہو سکتی ہے۔

    اس اجلاس میں مختلف سینیٹرز اور حکومتی اداروں کے نمائندگان کے درمیان بحث کا محور انٹرنیٹ کی بندش کے حوالے سے قانون، حکومت کی ہدایات اور سپریم کورٹ کے فیصلوں کے اثرات تھے۔ اس بات پر اتفاق ہوا کہ اس معاملے پر مزید قانونی وضاحت کی ضرورت ہے، جس کے لیے وزارت قانون اور وزارت داخلہ کی مشاورت ضروری ہو گی۔یہ اجلاس اس بات کا غماز ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش اور سوشل میڈیا پر مواد کی نگرانی ایک پیچیدہ قانونی اور انتظامی مسئلہ ہے جسے واضح قوانین اور ضوابط کی ضرورت ہے تاکہ اس حوالے سے آئندہ میں کسی قسم کی ابہام کی صورتحال پیدا نہ ہو۔

    قومی اسمبلی اجلاس،پیپلز پارٹی اراکین کی سست انٹرنیٹ پر حکومت پر سخت تنقید

    انٹرنیٹ اہم ضرورت لیکن پاکستان میں اس کی اسپیڈ کم ہے،شزہ فاطمہ

    انٹرنیٹ کی بندش،سست رفتاری نے پاکستانیوں کو پریشان کر دیا

    انٹرنیٹ کی سست رفتاری کا اثر فری لانسرز پر، کام میں 70 فیصد کمی

  • جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا کے تباہ طیارے کا بلیک باکس تحقیقات کیلئے امریکہ بھجوایا جائے گا

    جنوبی کوریا میں ایئرلائن جیجو ایئر کے مسافر طیارے کے حادثے کے بعد اس کے بلیک باکس کو تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔

    سیول کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق بدھ کو یہ اعلان کیا گیا ہے کہ بلیک باکس کا تجزیہ امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ کرے گا، جس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی حکام بھی شریک ہوں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب حادثے کے شکار افراد کے اہلِ خانہ سانحہ کی جگہ کا دورہ کرنے پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔یہ بلیک باکس بوئنگ 737-800 طیارے کا ایک حصہ ہے، جو اتوار کے روز جنوبی کوریا کے جنوب مغربی علاقے میں موان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس حادثے میں 181 افراد میں سے 179 افراد کی موت واقع ہوئی، جو جنوبی کوریا کا گزشتہ تین دہائیوں میں سب سے مہلک فضائی حادثہ تھا۔

    جنوبی کوریا کی سول ایوی ایشن کے نائب وزیر جو جونگ وان نے بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلیک باکس حادثے میں نقصان کا شکار ہوچکا ہے، اور ملک میں اس کا ڈیٹا نکالنے کی صلاحیت نہیں ہے، لہٰذا یہ بلیک باکس تجزیے کے لیے امریکہ بھیجا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بلیک باکس کے ساتھ ایک کنیکٹر بھی غائب ہے، جو مزید مشکلات کا باعث بن رہا ہے۔امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اس بلیک باکس کا تجزیہ کرے گا اور اس میں جنوبی کوریا کے تفتیشی افسران بھی شامل ہوں گے۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس تجزیے میں کتنی مدت لگے گی۔

    تفتیش کاروں نے طیارے کے دوسرے بلیک باکس، یعنی کاک پٹ وائس ریکارڈر سے ابتدائی ڈیٹا حاصل کرلیا ہے۔ جو جونگ وان نے بتایا کہ اس ڈیٹا کو وائس فائلز میں تبدیل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اور یہ عمل دو دن میں مکمل ہو جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دونوں بلیک باکسز سے حاصل ہونے والے ڈیٹا سے اس حادثے کی وجہ کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔

    حادثے میں جاں بحق ہونے والے 179 افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے، تاہم ابھی تک صرف 11 لاشوں کو عارضی مردہ خانہ سے خاندانوں کے حوالے کیا گیا ہے تاکہ وہ تدفین کی تیاری کر سکیں۔ اس دوران، متاثرہ خاندان اور عزیز و اقارب اتوار سے موان ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔ بدھ کے روز، متاثرین کے عزیزوں کو بسوں کے ذریعے حادثے کی جگہ تک پہنچایا گیا تاکہ وہ وہاں جا کر اپنے پیاروں کے لیے دعائیں کریں۔

    فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ جیجو ایئر کی پرواز 7C 2216 کا حادثہ کس وجہ سے پیش آیا۔ تحقیقات میں ممکنہ وجوہات پر غور کیا جا رہا ہے، جن میں طیارے کا ممکنہ طور پر پرندوں سے ٹکرا جانا، لینڈنگ گیئر کا کام نہ کرنا، اور رن وے کے آخر میں موجود کنکریٹ کا بیرئیر شامل ہیں۔طیارے کے پائلٹ نے ایمرجنسی لینڈنگ سے پہلے مے ڈے کال جاری کی تھی اور پرندے کے ٹکرا جانے کی اطلاع دی تھی۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے نہ تو سامنے اور نہ ہی پیچھے کے لینڈنگ گیئر نظر آ رہے تھے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ طیارہ پیٹ کے بل زمین پر آیا تھا اور اس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔

    جنوبی کوریا اور امریکہ کے 22 تفتیشی حکام اس حادثے کی مشترکہ تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔ ان میں امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن ، نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ اور طیارے کے موجد ادارے بوئنگ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

  • یوکرین نے روسی گیس کی یورپ کو سپلائی بند کر دی

    یوکرین نے روسی گیس کی یورپ کو سپلائی بند کر دی

    یوکرین نے اپنے علاقے سے یورپ کو روسی گیس کی ترسیل روک دی ہے، یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب بدھ کے روز پانچ سالہ ٹرانزٹ معاہدہ اپنی مدت مکمل ہونے کے بعد ختم ہو گیا۔

    یوکرین کی توانائی وزارت نے اعلان کیا ہے کہ اس نے "قومی سلامتی کے مفادات” کے تحت یہ معاہدہ ختم کیا ہے۔ وزارت کے ایک بیان میں کہا گیا: "ہم نے روسی گیس کی ترسیل بند کر دی ہے۔ یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔” وزارت نے یہ بھی بتایا کہ گیس کی ترسیل کے بند ہونے کے بعد یوکرین کی گیس ٹرانسپورٹیشن انفراسٹرکچر کو معاہدے کی مدت ختم ہونے سے قبل ہی تیار کر لیا گیا تھا۔

    روس اور یورپ کے درمیان گیس کی ترسیل کا یہ راستہ یوکرین کے ذریعے سب سے قدیم گیس راستوں میں سے ایک تھا، اور اس کی بندش کا امکان پہلے ہی ظاہر کیا جا رہا تھا۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان جنگ چوتھے سال میں داخل ہو رہی ہے۔یوکرین کی گیس کی ترسیل کا یہ فیصلہ روس کے ساتھ جنگ میں شدید کشیدگی کے درمیان کیا گیا ہے، جہاں یوکرین روسی افواج کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کے علاوہ، یوکرین نے اس معاہدے کو ختم کرنے کے بعد اپنی گیس ترسیل کے متبادل ذرائع پر بھی کام کرنے کا عندیہ دیا ہے، تاکہ یورپ کی گیس سپلائی پر کسی بھی قسم کا اثر نہ پڑے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے یورپ میں توانائی کے بحران میں مزید شدت آ سکتی ہے، کیوں کہ روسی گیس یورپ کے بہت سے ممالک کے لیے اہم توانائی کا ذریعہ رہی ہے۔ تاہم، یوکرین نے اپنے فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ملکی مفادات اور سلامتی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔

    قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اڈیالہ جیل کے دورے کا فیصلہ

    خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

  • قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا  اڈیالہ جیل کے دورے کا فیصلہ

    قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اڈیالہ جیل کے دورے کا فیصلہ

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کمیٹی نےجلد اڈیالہ جیل کے دورے کا فیصلہ کر لیا

    صاحبزادہ حامد رضا کی زیرصدارت قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا،قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں26 نومبر احتجاج کا معاملہ زیر بحث آیا،چیئرمین کمیٹی صاحبزادہ حامد رضا نے آئی جی اسلام کو آئندہ اجلاس میں تحقیقاتی رپورٹس اور معلومات کے ہمراہ طلب کر لیا،سیکرٹری کمیٹی انسانی حقوق نے کہا کہ کمیٹی کے پاس یہ حق ہے کہ وہ جیلوں کا دورہ کرے اور کسی بھی وقت دورہ کرسکتی ہے، کمیٹی نے سربراہ جیل خانہ جات اورہوم سیکریٹری کوخط لکھنے کی ہدایت کردی،سیکرٹری وزارت انسانی حقوق نے بتایا کہ اس وقت بچوں کے ساتھ 190خواتین اڈیالا جیل میں قید ہیں، ملک میں 2ہزار 84 خواتین قید ہیں،

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کمیٹی میں تمام ممبرز نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پارلیمینٹیرز کے حقوق بھی محفوظ نہیں تو لوگوں کی آواز کیسے بنیں گے.پی ٹی آئی دھرنے کے دوران گولیاں کس نے چلائیں ۔ قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی میں زرتاج گل نے معاملہ اٹھاتے ہوئے آئی جی اسلام آباد میں بریفنگ کی ہدایت کر دی۔ زرتاج گل نے انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندگان کو بھی کمیٹی میں مدعو کرنے کی درخواست کر دی۔

    چیئرمین کمیٹی صاحبزاہ حامد رضا نے قیدی وینز کی حالت زار پر اجلاس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ قیدی وین میں سانس لینے کے لئے جالیوں کے ساتھ چہرہ کرنا پڑتا ہے پھر سانس آتا ہے،زرتاج گل کا کہنا تھا کہ قیدی وین بلٹ پروف تو ہے، لائف پروف نہیں، اِس میں سانس لینا بھی مشکل ہوتا ہے کیونکہ میرا ذاتی تجربہ رہا ہے،

    چیئرمین کمیٹی نےمظاہرین پر سیکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے تشدد پر شدید برہمی کا اظہار کا،ڈی پی او اٹک پر بھی شدید تنقید کی گئی،چیئرمین کمیٹی حامد رضا نے کہا کہ ڈی پی او کو چاہیے سوشل میڈیا جوائن کر لے، آئی جی اسلام آباد اس حوالے سے تمام تحقیقات رپورٹس اور معلومات لیکر کمیٹی میں پیش ہوں ۔

    خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

  • خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی کرنے والے کپڑے کی دوکان کے مالک کی ضمانت مسترد کردی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم زین طارق کی عبوری ضمانت پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،ملزم کے خلاف تھانہ فیصل آباد پولیس نے مقدمہ درج کیا گیا ہے ،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ رپورٹ کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے واٹس ایپ چیٹ سمیت دیگر اشیاء ریکور کیں ،پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان تصاویر کا تبادلہ ہوا ہے ،تفتیش اور شواہد کے مطابق ملزم قصور وار ہے ،ٹرائل کورٹ ٹرائل میں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے گی ف،ملزم کے وکیل کے مطابق ملزم نے خاتون کاہگ کو بوتیک کے کاروبار کے لیے پیسے ادھار دیے ،ملزم کے وکیل کے مطابق ادھارے پیسے واپس کرنے کی خاطر مدعیہ نے مقدمہ درج کروایا،ملزم عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ،ملزم پراسکیوشن کے الزامات پر ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکا .

    اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ سے 3 ارب کے فراڈ کیس کے ملزم کی ضمانت 100 روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 3 ارب 20 کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کے شریک ملزم فرسٹ ویمن بینک کے امپیریل کورٹ برانچ کراچی کے مینیجر شاہد حسین خواجہ کی ضمانت محض ایک سو روپے کے عوض منظور کر لی. عدالت نےٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی اختیار سے تجاوز قرار دیدی.عدالت نے فیصلے میں ایف بی آر، ٹیکس آفیشلز، ملزم کا ریمانڈ دینے والے مجسٹریٹ اور ضمانت مسترد کرنے والے ٹرائل کورٹ کے جج سے متعلق غیرمعمولی آبزرویشنز دی ہیں.

    ہائیکورٹ نے شریک ملزم شاہد حسین کے خلاف ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی کرمنل کارروائی کو اختیار سے تجاوز قرار دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے عدالتی فیصلے کی کاپی چیئرمین ایف بی آر کو بھجوانے کا حکم بھی دیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بینک کے برانچ منیجر کو پاور کمپنی کے برانچ میں اکاؤنٹ کھولنے میں اعانت پر گرفتار کیا گیا، ریاست نے درخواست گزار کے ٹیکس فراڈ کے جرم میں ملوث ہونے کا کوئی مواد پیش نہیں کیا، ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے قانون کے مطابق ٹیکس پیئر پر واجب الادا ٹیکس کا تعین ہی نہیں کیا، ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے درخواست گزار کو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی میں گرفتار کیا اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا علم ہونے کے باوجود کرمنل کارروائی شروع کی،ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے کرمنل کارروائی شروع کر کے اختیارات سے تجاوز کیا، اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے درخواست گزار کے وقار اور برابری کے آئینی حقوق مجروح کیے گئے، زیادہ ٹیکس جمع کرنے کی کوشش میں اتھارٹیز اور ٹیکس حکام نے طے کردہ قانون کی خلاف ورزی کی، شرم کی بات ہے ریمانڈ دینے والے مجسٹریٹ اور ضمانت مسترد کرنے والی عدالت نے سیلز ٹیکس ایکٹ شقوں کا خیال نہیں رکھا، ماتحت عدالت نے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے بجائے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے گمراہ کُن اقدامات کی ستائش کی، کرمنل کارروائی کی قانونی حیثیت کا سوال اس عدالت کے سامنے نہیں، امید ہے کہ ٹرائل کورٹ اس کارروائی کی قانونی حیثیت کو مدنظر رکھے گی۔

    درخواست گزار کی ضمانت 100 روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی جاتی ہے، چیئرمین ایف بی آر اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کی کاپی ٹیکس افسران میں تقسیم کریں، پبلک آفیشلز کو تفویض کردہ قانونی اور پولیس اختیارات کا استعمال قانون کے مطابق کیا جائے، خلاف ورزی پر ایف بی آر اور ٹیکس افسران کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

  • امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ریاست ورجینیا کے آئل آف وائٹ کاؤنٹی میں ایک بڑی کارروائی کے دوران 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے، جسے حکام نے اپنے تاریخ میں پکڑے جانے والے سب سے بڑے ذخیرہ کا حصہ قرار دیا ہے۔

    17 دسمبر 2024 کو ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے 20 ایکڑ پر پھیلی جائیداد پر چھاپہ مارا، جہاں یہ دھماکہ خیز مواد ملا۔ یہ جائیداد 36 سالہ بریڈ سپافورڈ کی ملکیت تھی، جو غیر قانونی شارٹ بیرل رائفل رکھنے کے الزام میں پہلے ہی گرفتار تھا۔مشتبہ شخص سپافورڈ کے ایک پڑوسی نے، جو خود بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے منسلک ہے، حکام کو اطلاع دی تھی کہ سپافورڈ اپنی پراپرٹی پر اسلحہ اور گھریلو طور پر تیار کردہ دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کر رہا ہے۔ پڑوسی نے مزید بتایا کہ سپافورڈ 2021 میں ایک دھماکہ خیز ڈیوائس کے حادثے میں اپنی تین انگلیاں کھو چکا تھا، اور اس نے اپنے شوٹنگ پریکٹس کے دوران صدر جو بائیڈن کی تصاویر استعمال کی تھیں۔

    ایف بی آئی نے جو مواد برآمد کیا، اس میں متعدد پائپ بم شامل تھے، جن پر "مہلک” کے لیبل لگے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، "پہننے کے قابل بنیان” میں چھپائے گئے دھماکہ خیز آلات اور ایک جار میں ذخیرہ کیا گیا HMTD (ہائیڈروجن پیرو آکسائیڈ مونوڈائی آکسائیڈ) شامل تھا، جو ایک انتہائی حساس دھماکہ خیز مواد ہے۔ اس مواد کو معمولی درجہ حرارت میں تبدیلی سے بھی پھٹنے کا خطرہ تھا۔ایف بی آئی کے ایجنٹوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتا تھا اور اس کارروائی نے کئی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    سپافورڈ کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر صرف غیر قانونی آتشیں اسلحہ رکھنے کا الزام ہے اور اس کے خلاف دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے یا کسی دھماکے میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپافورڈ کے پاس صرف غیر قانونی اسلحہ تھا اور اس کا دھماکہ خیز مواد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    تاہم، حکومت کی طرف سے مقدمے سے پہلے سپافورڈ کو حراست میں رکھنے کی درخواست کی گئی ہے، اور ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کافی ثبوت ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ سپافورڈ نے خطرناک دھماکہ خیز مواد تیار کیا تھا، جس سے بڑی تباہی مچ سکتی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کی نوعیت انتہائی خطرناک تھی، اور اس کے استعمال سے غیر متوقع اور مہلک نتائج مرتب ہو سکتے تھے۔ یہ مواد نہ صرف جانوں کے لیے بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث بن سکتا تھا۔

    ایف بی آئی کی یہ کارروائی اس بات کا غماز ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طرح خطرناک سرگرمیوں کا سراغ لگا کر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کارروائی نے کئی جانوں کو بچایا اور امریکہ کی تاریخ میں ایک سنگین دہشت گردانہ منصوبے کو ناکام بنایا۔

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

  • یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    یونان میں پیش آنے والے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئی ہیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق، اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں ملنے کی تعداد 9 ہو چکی ہے۔ ان لاشوں کی شناخت اور دیگر تفصیلات سے متعلق نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔تین لاشوں کی شناخت نارووال کے رہائشی شبیر، زین علی اور ذیشان کے نام سے ہوئی ہے۔ایک لاش کی شناخت سیالکوٹ کے رہائشی اویس علی کے نام سے ہوئی ہے۔یہ لاشیں یونان کے جزیرے گیواڈوس سے ایتھنز کے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق، پاکستانی سفارت خانہ ان لاشوں کو پاکستان بھجوانے کے انتظامات کر رہا ہے۔ ان لاشوں کو پاکستان لانے میں مزید ایک ہفتے کا وقت لگنے کا امکان ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق، اس کشتی حادثے میں اب بھی 40 پاکستانیوں کی لاشیں لاپتہ ہیں، جن کا سراغ ابھی تک نہیں مل سکا۔ حکام کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مزید لاشوں کو بازیاب کیا جائے گا۔

    یہ المناک حادثہ 13 اور 14 دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا تھا، جب ایک کشتی جو لیبیا کے علاقے تبروک سے یونان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں 44 پاکستانیوں کو ریسکیو کیا گیا تھا، جن میں سے بعض زخمی ہیں اور کچھ محفوظ ہیں۔یہ حادثہ ایک بار پھر غیر قانونی طور پر سمندری راستوں سے یورپ جانے والے پاکستانیوں کی مشکلات اور خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے سے گریز کریں اور محفوظ راستوں کو اپنائیں۔

    پاکستانی حکام نے اس حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ایف آئی اے اور وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کی مکمل مدد فراہم کریں گے اور جلد از جلد ان کی لاشیں پاکستان منتقل کرنے کے انتظامات کریں گے۔

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

  • نیو ایئر نائٹ،لاہور سے 377 افراد گرفتار

    نیو ایئر نائٹ،لاہور سے 377 افراد گرفتار

    لاہور میں سال نو کے موقع پر پولیس کی فول پروف سکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے تعاون کی بدولت نیو ایئر نائٹ پر پرامن ماحول قائم رہا۔ کسی بھی افسوس ناک واقعہ کا سامنا نہیں ہوا اور شہر بھر میں پولیس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے امن قائم رکھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس دوران مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 377 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس نے پیشگی کارروائیوں کے دوران ہوائی فائرنگ کرنے والے 58 ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں ڈال دیا۔ ان کارروائیوں میں ملزمان سے 7 رائفلز اور 47 پسٹلز برآمد کیے گئے، جو کہ پولیس کی موثر حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ شہر بھر میں پولیس کی طرف سے کی جانے والی ناکہ بندی کے دوران 107 ملزمان سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ان ملزمان سے 12 رائفلز، 4 بندوقیں، 90 پسٹلز اور سینکڑوں گولیاں قبضے میں لی گئیں۔ فیصل کامران کا کہنا تھا کہ اسلحہ کی اس برآمدگی سے شہر کی امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہوئی۔پولیس نے منشیات کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کیں اور مجموعی طور پر 27 کلو چرس برآمد کی۔ اس کے علاوہ 1 کلو گرام ہیروئن، 4 کلو 220 گرام آئس، اور 1181 لیٹر شراب بھی برآمد کی گئی۔ فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس کی اس کامیاب کارروائی کے دوران 383 لیٹر کچی شراب کی ترسیل بھی ناکام بنائی گئی، جس کے نتیجے میں 17 ملزمان گرفتار ہوئے۔

    نیوز ایئر نائٹ کے دوران پولیس نے ون ویلنگ اور آتشبازی کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کی۔ ناکوں اور گشت کے دوران 63 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جو پابندی کے باوجود ون ویلنگ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ آتشبازی کرنے والے 27 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔نیو ایئر نائٹ پر خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ہلڑ بازی کرنے والوں کے خلاف بھی پولیس نے سخت ایکشن لیا۔ اس دوران 16 افراد کو قانون کی گرفت میں لایا گیا۔ فیصل کامران نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی اقدامات کے باعث شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا گیا۔

    پولیس کی بہترین حکمت عملی اور سکیورٹی انتظامات کے نتیجے میں نیو ایئر نائٹ پر حادثات میں 88 فیصد کمی آئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ صرف تین افراد معمولی زخمی ہوئے، جن میں سے دو افراد کو طبی امداد فراہم کر دی گئی، جبکہ ایک شخص ابھی ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔فیصل کامران نے پولیس کی فیلڈ ٹیم کی محنت اور بہترین حکمت عملی کی تعریف کی اور کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت حادثات میں اتنی بڑی کمی پولیس کی شاباش کی مستحق ہے۔ لاہور پولیس کے سکیورٹی انتظامات کی بدولت نیو ایئر نائٹ پر امن و امان کی فضا قائم رکھی گئی، جس پر شہریوں نے بھی پولیس کے اقدامات کی ستائش کی۔

    نیو ایئر نائٹ پر لاہور پولیس کی طرف سے کئے گئے بہترین سکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے تعاون سے لاہور میں سال نو کا آغاز محفوظ رہا۔ پولیس کی اس کامیاب حکمت عملی کے باعث شہر بھر میں امن قائم رہا اور کسی بھی بڑے حادثے یا افسوس ناک واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے