Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

    ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

    امریکہ کے شہر نیو اورلینز میں نئے سال کے موقع پر ایک ہولناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص نے اپنی گاڑی ہجوم پر چڑھا کر کم از کم 15 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 30 افراد زخمی ہوگئے۔ بدھ کے روز ہونے والے اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا۔

    نیو اورلینز کی مقامی حکومت کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ شہر کی معروف بربن اسٹریٹ پر پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار گاڑی ہجوم کے اوپر چڑھ دوڑی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑی کے ہجوم پر چڑھنے کے بعد، کار سوار نے نہ صرف گاڑی سے اتر کر فائرنگ شروع کر دی بلکہ اس دوران پولیس کے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں کار سوار موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ بعد ازاں، ایف بی آئی نے اس دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات شروع کر دیں اور گاڑی سے شمس الدین جبار نام کے 42 سالہ شخص کی شناخت کی۔

    ایف بی آئی کے مطابق شمس الدین جبار امریکی شہری تھا جو امریکی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا۔ ملزم کی گاڑی سے داعش کا جھنڈا بھی برآمد ہوا جس سے اس حملے کو ایک دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ ملزم کا تعلق ٹیکساس سے تھا اور وہ شمالی کیرولائنا میں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا۔ اس کے علاوہ، ملزم کی سابقہ فوجی خدمات اور داعش سے تعلق کی تفصیلات بھی زیر غور ہیں۔

    یہ حملہ نیو اورلینز کے شہریوں اور عالمی سطح پر امریکی سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک سنگین الارم ہے۔ مقامی حکام اور پولیس نے علاقے کو سیل کر دیا اور عوام سے تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں اور اس نوعیت کے حملوں کو روکا جا سکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع کو استعمال کر رہے ہیں، اور واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ واقعہ امریکہ میں دہشت گردی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے اور اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں ہر جگہ اور کسی بھی وقت ممکن ہو سکتی ہیں۔

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • نیو ایئر پارٹی،گاڑی ہجوم میں گھس گئی، 10 کی موت

    نیو ایئر پارٹی،گاڑی ہجوم میں گھس گئی، 10 کی موت

    نیو اورلینز کے بوربن اسٹریٹ پر نئے سال کی شام خوشیوں کی جگہ خوف میں بدل گئی جب ایک گاڑی ایک بڑی تعداد میں موجود لوگوں کے درمیان جا گھسی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ شہر کے مشہور فرنچ کوارٹر میں پیش آیا، جہاں لوگ نئے سال کی تقریبات میں مصروف تھے۔

    22 سالہ کیون گارسیہ نے سی این این کو بتایا کہ وہ اس حادثے کا عینی شاہد تھے: "میں نے صرف ایک ٹرک کو بوربن اسٹریٹ کے بائیں طرف چلتے ہوئے ہر کسی کو ٹکراتے ہوئے دیکھا۔ ایک لاش مجھ پر آگری۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔دوسری گواہ 22 سالہ وِٹ ڈیوس جو لوئزیا کے شہر شریوپورٹ سے تعلق رکھتی ہیں، نے کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ بوربن اسٹریٹ پر ایک نائٹ کلب میں موجود تھیں۔ "سب لوگ چلانے اور دوڑنے لگے، پھر ہم سب نے کلب میں کچھ دیر کے لیے لاک ڈاؤن کر لیا اور اس کے بعد حالات تھوڑے سکون میں آئے، لیکن ہمیں کلب سے نکلنے نہیں دیا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "جب ہمیں کلب سے باہر نکالا گیا، تو پولیس نے ہمیں کہا کہ جلدی سے علاقے سے نکل جائیں۔ میں نے کچھ لاشیں دیکھیں جو کہ ڈھکی بھی نہیں گئی تھیں اور بہت سے لوگ فرسٹ ایڈ حاصل کر رہے تھے۔”

    پولیس نے متاثرہ افراد سے کہا کہ وہ اپنے فونز کو بند کر دیں اور جتنی جلدی ہو سکے اس علاقے سے نکل جائیں۔ شہر کی آفیشل ڈیزاسٹر پریپیرنیس ایجنسی "نو لا ریڈی” نے بتایا کہ اس حادثے میں 10 افراد کی موت ہوئی اور 30 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ایمرجنسی حکام نے اس واقعے کو "مجموعی ہلاکتوں والا واقعہ” قرار دیا اور لوگوں کو اس علاقے سے دور جانے کی ہدایت کی۔

    یہ واقعہ شہر میں نئے سال کی تقریبات کے دوران پیش آیا، جو کہ نیو اورلینز کا ایک بڑا سیاحتی مقام ہے۔ لوگ عام طور پر بوربن اسٹریٹ پر نئے سال کا جشن منانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، مگر اس واقعے نے خوشیوں کے اس موقع کو غم میں بدل دیا۔ حکام نے ابھی تک اس حادثے کے پس منظر کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

    بوربن اسٹریٹ نیو اورلینز کا ایک مشہور علاقہ ہے، جہاں ہر سال لاکھوں لوگ مختلف تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ اس علاقے کو اپنی رنگین رات کی زندگی کے لیے عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے، اور یہاں ہر سال نئے سال کی رات کی خصوصی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔

    اسی دوران، نیو اورلینز شہر اس وقت خاص طور پر مصروف ہے، کیونکہ بدھ کی رات ‘شوگر باؤل’ کھیل کا انعقاد بھی ہونے والا ہے۔ یہ کھیل امریکی کالج فٹ بال کا ایک اہم ایونٹ ہے جس میں اس بار یونیورسٹی آف جارجیا اور یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔ اس مقابلے کا فاتح کالج فٹ بال پلے آف سیمی فائنلز میں پہنچے گا۔ اس کھیل کے لیے ملک بھر سے ہزاروں فٹ بال کے شائقین نیو اورلینز آ رہے ہیں، جس سے شہر میں مزید ہجوم اور سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔

    پولیس حکام نے اس خوفناک واقعے کے بعد شہر کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ اس حادثے کی حقیقت سامنے آ سکے۔ اس دوران، نیو اورلینز کے شہری اور سیاح دونوں اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد غم اور خوف میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

    فارم ہاؤس پر نیو ایئر پارٹی،فحش رقص،منشیات،8 لڑکیوں سمیت 26گرفتار

    پاراچنار واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

  • فارم ہاؤس پر نیو ایئر پارٹی،فحش رقص،منشیات،8 لڑکیوں سمیت 26گرفتار

    فارم ہاؤس پر نیو ایئر پارٹی،فحش رقص،منشیات،8 لڑکیوں سمیت 26گرفتار

    لاہور،برکی پولیس نے خفیہ اطلاع پر ہنزہ فارم ہاؤس میں چھاپہ مارا، جہاں لڑکے اور لڑکیاں فحاشی گانوں پر ڈانس اور شیشہ پارٹی میں مصروف تھے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 8 لڑکیوں سمیت 26 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ایس ایچ او برکی محمد رضا نے کہا کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ہنزہ فارم ہاؤس میں شراب اور شیشہ پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شریک ہیں۔ اس اطلاع پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا۔ جب پولیس پارٹی موقع پر پہنچی، تو ملزمان نے پولیس کی کارروائی میں سخت مزاحمت کی اور حکومتی امور میں مداخلت کی کوشش کی۔ بعض ملزمان نے گلوگیر ہونے کی بھی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں قابو کر لیا۔پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان میں موسی بٹ، حسین، عاصم، زین، عمر، دانش، قاسم، وقار، صغیر، سلمان، آمنہ، کرن، ریدہ، مہرین، سونیا، ثانیہ سمیت دیگر شامل ہیں۔ ان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    چھاپے کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے شراب کی بوتلیں، بیر کین، حقہ، شیشہ فلیور ڈبے، ساؤنڈ لائٹس، میکسر، لیپ ٹاپ اور ساؤنڈ سسٹم برآمد کیا۔ ایس ایچ او محمد رضا کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کے لئے انوسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کی اس کارروائی کو علاقے میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ایک بار پھر واضح ہوا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایس ایچ او برکی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع پولیس کو دیں تاکہ ایسے جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    دوسری جانب نیو ائیر نائٹ کے حوالہ سے غیر قانونی اقدامات کے خلاف ٹاؤن شپ پولیس کی کارروائی، آن لائن آتش بازی کا سامان فروخت کرنے والے ملزمان گرفتار کر لئے گئے،ملزمان کے قبضہ سے لاکھوں مالیت کی آتش بازی کا سامان برآمد کر لیا گیا،ملزمان آن لائن آڈر لیکر لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے آتش بازی کا سامان پہنچاتا ملزمان کو خفیہ اطلاع پر آتش بازی کے سامان سمیت گرفتار کیا. ملزمان شیخ نوید ،علی رضا اور محمد کاشف پابندی کے باوجود شہر کے مختلف مقامات پر آتش بازی کی ترسیل کرتا تھا.

    پاراچنار واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

    پائلٹ کی عقلمندی، طیارہ حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا

  • انسانی سمگلنگ ، ایف آئی اے کے 13 اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج

    انسانی سمگلنگ ، ایف آئی اے کے 13 اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر انسانی سمگلنگ اور کشتی حادثات میں ملوث ایف آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر کی قیادت میں ایف آئی اے نے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 13 اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں۔ ایف آئی اے کی ڈائریکٹر جنرل احمد اسحاق جہانگیر نے حال ہی میں ایف آئی اے کے مرکزی دفتر میں ایک اردلی روم کا انعقاد کیا جس میں کشتی حادثات میں ملوث ایف آئی اے کے 49 اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائیوں پر سماعت کی گئی۔ اس اجلاس میں 4 انسپکٹرز، 10 سب انسپکٹرز، 2 اے ایس آئی، 5 ہیڈ کانسٹیبلز اور 14 کانسٹیبلز کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

    ڈی جی ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر نے اردلی روم کے دوران کہا کہ "کشتی حادثات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائیاں نہ صرف ادارے کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ ان افراد کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو معصوم شہریوں کے ساتھ بدسلوکی یا استحصال میں ملوث ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ایف آئی اے میں غفلت اور لاپروائی برتنے والے اہلکاروں کی ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔”ڈی جی ایف آئی اے نے واضح کیا کہ "محکمانہ احتساب کا مقصد ادارے کو کرپشن اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث کالی بھیڑوں سے پاک کرنا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ادارے میں احتسابی عمل ہی انسانی سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ممکن بنائے گا۔

    "غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ معصوم شہریوں کے استحصال میں ملوث اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، اور غفلت برتنے والے افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی،” ڈی جی ایف آئی اے نے کہا۔

    دریں اثناء، ایف آئی اے نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنے اقدامات کو مزید تیز کرے گا اور ادارے کے تمام اہلکاروں کی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے احتسابی عمل جاری رکھے گا۔ ان کارروائیوں سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایف آئی اے میں کرپشن یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ کشتی حادثات کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی ایف آئی اے اہلکار انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حمل کے معاملات میں ملوث تھے، جس پر وزیراعظم پاکستان نے فوری کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

    خواتین کیلیے خوشخبری،بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم بڑھا دی گئی

    اداکارہ سلمیٰ ظفر عاصم نے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت کیوں دی ؟

  • خواتین کیلیے خوشخبری،بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم  بڑھا دی گئی

    خواتین کیلیے خوشخبری،بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم بڑھا دی گئی

    اسلام آباد: چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے سال 2025 کے آغاز پر مستحق خواتین کے لئے ایک اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2025 سے بی آئی ایس پی کے تحت فراہم کی جانے والی بینظیر کفالت پروگرام کی سہہ ماہی قسط کی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب یہ رقم 10,500 روپے سے بڑھا کر 13,500 روپے کر دی گئی ہے تاکہ مستحق افراد کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔

    سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ سال بی آئی ایس پی کی طرف سے بینظیر ہنر مند پروگرام کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو گا کیونکہ اس کے ذریعے وہ خود اپنے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں گے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر معاشی خود کفالت حاصل کر سکیں گے۔ سینیٹر نے مزید کہا کہ "ہم اس سال بھی ایمانداری کے ساتھ پسماندہ طبقات کی خدمت کا کام جاری رکھیں گے اور ہر ممکن طریقے سے ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔”

    سال نو 2025 کی مبارکباد دیتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی پوری ٹیم پاکستان کے تمام شہریوں کو نیا سال خوشی اور کامیابی کی دعا دیتی ہے۔ "ہماری کوشش ہوگی کہ ہم اپنے پروگرامز کی مدد سے ہر پاکستانی کے لئے ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھولیں۔”اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے سیکرٹری عامر علی احمد، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر طاہر نور اور ادارے کے دیگر افسران اور عملے کے ہمراہ نیا سال کا کیک بھی کاٹا۔ یہ ایک خوشگوار اور علامتی لمحہ تھا جس میں بی آئی ایس پی کے تمام ممبران نے مل کر نئے سال کا خیرمقدم کیا اور اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستحق افراد کے لیے اپنے کام میں مزید تیزی اور محنت سے کام کریں گے۔

    اداکارہ سلمیٰ ظفر عاصم نے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت کیوں دی ؟

    نئے سال کے پہلے دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج کانیا ریکارڈ

  • سپریم کورٹ، الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف میر علی مدد جتک کی اپیل خارج

    سپریم کورٹ، الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف میر علی مدد جتک کی اپیل خارج

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی بی 45 کوئٹہ کے 15 پولنگ اسٹیشنز کے تنازعے کے معاملے پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کر دیا۔

    عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ درست تھا اور اس میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے۔جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے 25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن ٹربیونل کو سول عدالت کے اختیارات حاصل ہیں اور وہ انتخابی عذرداریوں پر شواہد قانون شہادت کے تحت ریکارڈ کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ تکنیکی بنیادوں پر حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیس میں الیکشن ٹربیونل نے انتخابی عذرداری کو قانون کے مطابق دائر کیا اور اس میں یہ ثابت ہوا کہ بظاہر پولنگ اسٹیشن کے عملے نے سازباز کے ذریعے انتخابی نتیجے میں ردوبدل کیا۔

    درخواست گزار میر علی مدد جتک کے 4912 ووٹوں میں فارم 45 کے ذریعے اضافہ کیا گیا تھا، جب کہ ان کے مخالف امیدوار میر محمد عثمان کے ووٹ 1623 ہی رہے۔ الیکشن ٹربیونل نے ریکارڈ کے مطابق 15 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 میں فراڈ کی موجودگی کو تسلیم کیا تھا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ درست تھا اور اس میں کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہیں ہوئی، لہذا میر علی مدد جتک کی اپیل مسترد کر دی گئی۔

    ماسکو نے شام کے اڈوں کو چھوڑ کر لیبیا کو اپنا نیا مرکز بنانا شروع کر دیا

    پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ، معیشت میں استحکام لانا ہے،وزیراعظم

  • ماسکو نے شام کے اڈوں کو چھوڑ کر لیبیا کو اپنا نیا مرکز بنانا شروع کر دیا

    ماسکو نے شام کے اڈوں کو چھوڑ کر لیبیا کو اپنا نیا مرکز بنانا شروع کر دیا

    حالیہ ہفتوں میں جب بشار الاسد کو شامی قیادت سے ہٹایا گیا، روس نے لیبیا کے صحرائی علاقے میں واقع ایک ہوائی اڈے کی طرف متعدد پروازیں روانہ کیں۔

    یہ پروازیں روس کے بڑھتے ہوئے افریقی عسکری اثر و رسوخ اور بحیرۂ روم میں اپنی فوجی موجودگی کو برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ شامی ساحل پر واقع حمیمیم ہوائی اڈہ اور طرطوس بحری اڈہ تقریباً ایک دہائی سے روس کے لیے اسی مقصد کے تحت استعمال ہو رہے ہیں۔اب روسی حکام کی نظر لیبیا کی متنازعہ شمالی افریقی ریاست پر ہے، جو روس کے لیے بحیرۂ روم میں اپنی طاقت کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بن سکتی ہے۔ سی این این کی جانب سے تجزیہ کردہ پروازوں کے ڈیٹا کے مطابق، 15 دسمبر کے بعد سے حمیمیم ہوائی اڈے سے لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی کے قریب واقع ال خادم اڈے تک ایک سے زیادہ پروازیں روزانہ روانہ ہو رہی ہیں۔ ان پروازوں میں روس کے بڑے طیارے، جیسے انتونوف اے این-124 اور ایلیوشن آئی ایل-76 شامل ہیں۔

    اس ماہ کے آغاز میں، امریکی اور مغربی حکام نے سی این این کو بتایا کہ روس نے شام سے فوجی سامان اور اہلکاروں کی بڑی تعداد واپس بلانا شروع کر دی ہے۔ یہ سامان جدید روسی فضائی دفاعی نظام پر مشتمل ہو سکتا ہے، اور سی این این نے ان دفاعی نظاموں کی تصاویر بھی دیکھی ہیں جو روسی پروازوں کے آغاز سے قبل شام سے نکالے جانے کے منتظر تھے۔

    لندن کے مشہور تھنک ٹینک "رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ” ے جلیل ہرچاؤئی نے سی این این کو بتایا کہ حالیہ ہفتوں میں روسی طیاروں کی شام سے لیبیا تک پروازوں میں "ناقابلِ انکار اضافہ” ہوا ہے۔ حمیمیم وہ مرکز تھا جس سے روس کے افریقی فوجی آپریشنز، بشمول وسطی افریقی جمہوریہ، سوڈان، لیبیا، مالی اور برکینا فاسو میں جاری تھے۔

    روس کے لیے لیبیا میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنا اس لیے اہم ہو سکتا ہے تاکہ وہ اپنے مزید جنوبی افریقی اہداف کی تکمیل کے لیے وسائل فراہم کر سکے، خاص طور پر اس وقت جب بشار الاسد کی حکومت کے زوال کے بعد روس کو نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔ جلیل ہرچاؤئی نے کہا کہ روس نے اگر لیبیا میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کیا تو یہ شام سے متعلقہ اخراجات کو پورا کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

    تحقیقات کے مطابق، روسی طیاروں میں سے کم از کم ایک پرواز حالیہ دنوں میں بنغازی سے مالی کے دارالحکومت باماكو تک پہنچی، جہاں روس نے حالیہ برسوں میں فرانس کی طویل المدتی اثر و رسوخ کو چیلنج کیا ہے۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس نے لیبیا کو شام کی افواج کے متبادل کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔

    امریکی ادارہ "امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ” کے تجزیہ کاروں نے بتایا کہ روس کی حالیہ پروازوں کا یہ طریقہ پہلے کی افریقی فوجی نقل و حرکت سے مختلف ہے۔ روس کا افریقی کور، جو پہلے وگنر گروپ کی جگہ لے چکا ہے، نے اس بات کو تسلیم کیا کہ روسی طیاروں کا لیبیا کے راستے مالی پہنچنا اس بات کا غماز ہے کہ ماسکو نے شام کے اڈوں کو چھوڑ کر لیبیا کو اپنا نیا مرکز بنانا شروع کر دیا ہے۔

    نیٹو کے بعض حکام کے مطابق، لیبیا میں روس کی فوجی موجودگی بڑھنے سے بحیرۂ روم میں اس کی حکمت عملی پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اٹلی کے وزیر دفاع گوئڈو کرواسٹو نے حال ہی میں کہا کہ "بحیرۂ روم میں روسی جہازوں اور آبدوزوں کی موجودگی ہمیشہ ایک تشویش کا باعث ہوتی ہے، اور اگر یہ ہمارے قریب آ کر موجود ہوں تو یہ اور بھی زیادہ تشویش کا باعث ہے۔” اس سے واضح ہے کہ نیٹو کے ارکان اس پیشرفت کو محتاط نظر سے دیکھ رہے ہیں، خاص طور پر اٹلی کے لیے جو روسی فوجی جہازوں اور آبدوزوں کے قریب ہونے کی وجہ سے شدید تشویش کا شکار ہے۔

    لیبیا میں روس کی موجودگی ایک پیچیدہ معاملہ ہے، کیونکہ جنرل خلیفہ حفتر کی قیادت میں مشرقی لیبیا پر قابض قوتیں ایک غیر مستحکم اور متنازعہ حکومت کی صورت میں سامنے آئی ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ روس اپنی فوجی موجودگی کو اس نئے تناظر میں مزید مستحکم کرے گا، حالانکہ اس کے لیے ممکنہ خطرات بھی موجود ہیں۔ لیکن اس کے باوجود، لیبیا روس کے لیے شام کا متبادل نہیں بن سکتا، کیونکہ روسی طیاروں کو ترکی کی فضائی حدود سے گزر کر لیبیا پہنچنے کی اجازت چاہیے، جو ایک سیاسی بات چیت کا حصہ بن سکتا ہے۔

    لیبیا میں روس کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ماسکو اپنی عسکری حکمت عملی کو جدید تر بنانے اور بحیرۂ روم میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، یہ خطہ ایک پیچیدہ اور غیر مستحکم سیاسی ماحول پیش کرتا ہے، جس کا نتیجہ روس کے لیے نئے چیلنجز اور خطرات کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

    پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ، معیشت میں استحکام لانا ہے،وزیراعظم

    مسلسل ناکامیاں،گوتم گمبھیر کا شدید غصہ،بھارتی ٹیم کےڈریسنگ روم کا ماحول تلخ

    پاکستان اونچی اڑان کے لئے ٹیک آف کر چکا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

  • پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ، معیشت میں استحکام لانا ہے،وزیراعظم

    پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ، معیشت میں استحکام لانا ہے،وزیراعظم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے سال کے آغاز میں پاکستان کی خوشحالی کے لیے دعاگو ہیں.دعا ہے کہ پاکستان کی عوام کے لیے نیا سال خوشیوں کا سال ثابت ہو.

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اڑان پاکستان جیسا پروگرام پاکستان کی معیشت کو مزید استحکام دے گا.اُڑان پاکستان پروگرام کیلئے عطاءاللہ تارڑسمیت تمام متعلقہ افراد کا شکرگزارہوں.پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ہے تو معیشت کے لیے ہمیں اہم کردار ادا کرنا ہو گا.ہمیں معیشت میں استحکام لانا ہے اور اپنی تمام ترجیحات کو اس طرف لگانا ہے.دسمبر کے ماہ میں اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں.72ارب روپے کی محصولات بہترین کارکردگی کی علامت ہیں.چیئرمین ایف بی آرراشدلنگڑیال بہت محنت سے کام کر رہےہیں.کاروباری حضرات کو 89 فیصد ریلیف ملا.چینی کی سمگلنگ صفر پر آگئی ہے. رواں مالی سال ترسیلات زر 15 ارب ڈالر تک پہنچ گئی.یہی کارکردگی رہی تو ترسیلات 35ارب ڈالر کا ہدف حاصل کر لیں گی. ای گورننس پر تمام وزارتیں اقدامات کر رہی ہیں.نوماہ کے دوران تمام وزراء اور ان کی وزارتوں نے شفافیت اور محنت کو مقدم رکھا.دیگر وزارتیں بھی اپنے آپ کو جدید ٹیکنالوجی اور تقاضوں سے ہم آہنگ کریں.

    محنت ،محنت اور محنت سے ہی اہداف حاصل ہوں گے، وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا کہناتھا کہ دھرنوں کی سیاست کرنےوالوں نے معیشت کو تباہ کیا. نو ماہ میں اقتصادی بہتری کی گواہی عام آدمی بھی دے رہا ہے. سمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھی خاطر خواہ نتائج سامنے آئے ہیں. سمگلنگ کے تدارک میں آرمی چیف کا اہم کردارہے.پاک فوج کے جوانوں نے قربانیاں دے کرہمارےکل کو محفوظ کیا.شہداء کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا.دہشتگردوں کو واپس لانے والوں نے ملک کے امن و استحکام کو داؤ پر لگایا.افغان عبوری حکومت نے سینکڑوں مجرموں کو حکومت سنبھالتے ہی جیلوں سے رہا کردیا. پر عزم ہیں کہ نیا سال پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی نوید لے کر آئے گا.گوادرکو ٹرانزٹ ٹریڈ کا حب بنائیں گے.محنت ،محنت اور محنت سے ہی اہداف حاصل ہوں گے،

    مسلسل ناکامیاں،گوتم گمبھیر کا شدید غصہ،بھارتی ٹیم کےڈریسنگ روم کا ماحول تلخ

    پاکستان اونچی اڑان کے لئے ٹیک آف کر چکا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

  • پاکستان اونچی اڑان کے لئے ٹیک آف کر چکا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

    پاکستان اونچی اڑان کے لئے ٹیک آف کر چکا ہے ،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے پائیدار ترقی کے جامع روڈ میپ ”اڑان پاکستان“ کا خیر مقدم کیا ہے

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف نے وزیراعظم محمد شہباز شریف اوران کی ٹیم کو ڈویلپمنٹ روڈ میپ پیش کرنے پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ پاکستان اونچی اڑان کے لئے ٹیک آف کر چکا ہے ۔ثابت ہوگیا کہ ترقی صرف پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجیح ہے۔محمد نوازشریف کے ویژن کے مطابق پاکستان معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور ان کی ٹیم ملکی معیشت میں استحکام اورعام آدمی کی خوشحالی کے لئے سرگرم عمل ہیں۔اڑان پاکستان پائیدار ترقی کا شاندار پلان ہے۔ ایکسپورٹ، انوائرمنٹ،انرجی اور ایکویٹی پر مشتمل”فائیو-ای“ ویژن قابل تحسین ہے۔ معیشت مستحکم ہورہی ہے،سماجی ترقی کی طرف توجہ دینا ہوگی۔قومی ترقی کی راہ میں حائل ہونے والوں کو اب قوم برداشت نہیں کرے گی۔پاکستان کے پاپولیشن پوٹینشل اور میسر وسائل کا بہتر استعمال ناگزیر ہے۔ پاکستان کی اڑان میں حائل ہونے والے اصل میں عوام کے دشمن ہیں۔

    12 سال سے کم عمر کا بچہ حج پر نہیں جا سکے گا

    غلط ہے توحکومت 9 سال سے ہم سے انٹرنیٹ کیوں بند کرواتی ہے، چیئرمین پی ٹی اے