Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    ڈاکٹر مصدق ملک نالائق انسان،گیس تیل کی مد میں اربوں روپے کی کرپشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نیا سال شروع ہو چکا ہے، 2025 کا پہلا شو ہے جوپاکستان میں کرپشن کی اعلیٰ ترین مثال ہے کہ کس لیول کی کرپشن ہو رہی ہے،

    مبشر لقمان آفیشیل یوٹیوب چینل پر مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی امپورٹ میں بڑا حصہ پٹرولیم کی امپورٹ کا ہے، 35 سے 40 فیصد اسکا حصہ ہے،اسی پر حکومت یا ریزور یا عام عوام کی جیب سب متاثر ہوتے ہیں، کسی نے پٹرول ،ڈیزل بھرواناہےکسی نے انرجی کے لئے استعمال کرنا ہے، پچھلے دنوں مجھے پتہ چلا کہ پاکستان میں کرپشن کو ایک جگہ بند کرنا ہو تو اسکو بڑے آرام سے او جی ڈی سی میں بند کر سکتے ہیں، اوجی ڈی سی پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ ہے، اس میں لالچ ہے، کاروائی ہے جو ہمارے بیوروکریٹ نے ڈالی ہے، کیا مصدق ملک نالائق ہیں،کیا چیئرمین او جی ڈی سی کو کام نہیں آتا ،ہو کیا رہا ہے؟

    مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ میں اس پر تفصیلی پروگرام بھی کروں گا کہ پاکستان میں تیل کے نام پر کیسے فراڈ ہو رہا ہے، اوجی ڈی سی پوری طرح ڈرلنگ کرتا ہے تو میرا دعویٰ ہے کہ ایک ڈالر کا بھی پٹرولیم مصنوعات امپورٹ نہیں کرنا پڑتا، تمام ضروریات لوکلی پوری کر سکتے ہیں، خام تیل کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے، ملکی معیشت کے لئے ایک المیہ ہے ، گیس کی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی دیکھی گئی ہے،کمی 4.4 فیصد سالانہ ہے،سال 2023 میں ٹوٹل 47 کنویں کھودے گئے،15 تلاشی اور 32 ترقیاتی کنویں، او جی ڈی سی نے دس کنویں ، پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ نے 8 کنویں، ماڑی پور پٹرولیم نے تین کنویں، بے شمار مسائل سامنے آئے، پاکستان پٹرولیم نے کنواں جو 16 ہزار فٹ ہے جس کو ڈرل کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا، اس کا موازنہ امریکا سے کیا جائے تو امریکہ میں یہی ایک کنواں 3 ہفتوں میں اور پیسے بھی کم لگے، امریکی کنویں 10 ہزار فٹ عمومی دس ملین ڈالر کی لاگت میں کھودا جاتا ہے، 20 ملین ڈالر کی لاگت سے تین کنویں انہوں نے کھودے ، وہ کام جس کی لاگت امریکا میں سات ہزار ڈالر ہے وہ کام پاکستان میں ایک لاکھ بیس ہزار ڈالرمیں کیا جا رہاہے، کمپنی کے شراکت دار سب سے پہلے ماڑی پور پٹرولیم ہے، دوسرے نمبر پر پاکستان پٹرولیم ہے ،اسکے بعد اوجی ڈی سی، جس کے ذریعے روزانہ خالص ،خام تیل ، گیس کی پیداوار ہے، حیران کن طور پر آپریٹنگ اور ترقی اخراجات میں ناکامی ہے، کمپنیوں کو چونا لگایا جا رہا ہے،مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ مہنگی گیس اور پٹرول حقیقت میں یہ کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے،

    کھرا سچ کے میزبان،مبشر لقمان، کا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

  • پی ٹی آئی حکومت میں فتنہ الخوارج  کی واپسی کی راہ کیسے ہموار کی گئی؟

    پی ٹی آئی حکومت میں فتنہ الخوارج کی واپسی کی راہ کیسے ہموار کی گئی؟

    پی ٹی آئی اور عمران خان کے دور حکومت میں فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) کی واپسی کی راہ کیسے ہموار کی گئی؟ حقائق کیا کہتے ہیں؟

    پاکستان دہشت گردی کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری جنگ میں بے شمار قربانیاں دے چکا ہے۔ پاک فوج نے متعدد آپریشنز کے بعد اپنے خون سے وطن کی سرزمین کو دہشت گردی کی لعنت سے پاک کیا اور امن و امان کی بحالی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ تاہم، پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے دوران کیے گئے چند فیصلے نہ صرف ان قربانیوں کے منافی تھے بلکہ ان سے دہشت گردوں کے حوصلے بھی بلند ہوئے اور فتنہ الخوارج کے عناصر کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ملا۔

    ڈی جی آئی ایس پی آر کی حالیہ پریس کانفرنس کے بعد سے پی ٹی آئی کے پراپیگنڈہ اکاؤنٹس نے یہ بیانیہ پھیلانا شروع کیا کہ فتنہ الخوارج کے ساتھ مذاکرات سیکورٹی فورسز کے کہنے پر ہوئے جو صریحا بے بنیاد بات ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا کام لڑنا ہے سیاسی مفادات کی خاطر دہشتگردوں کو واپس لانے، آباد کرنے کا منصوبہ تحریک انصاف کی حکومت کا تھا جو اس وقت صوبے اور وفاق دونوں میں بر سر اقتدار تھی۔ علاوہ ازیں، عمران خان اور ان کی جماعت نے کئی مواقع پر دہشت گردوں کے ساتھ "سیٹلمنٹ” کی حمایت کی۔ 2004 سے ہی عمران خان نے طالبان کے لیے نرم گوشہ ظاہر کیا، جس کی بنیاد پر انہیں "طالبان خان” کہا جانے لگا۔ ان کے خیالات نے ان عناصر کو تقویت دی جو پاکستان کی سلامتی کے خلاف کام کر رہے تھے۔پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی بارہا عمران خان نے فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں سے بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا جس کی ویڈیوز آن ریکارڈ موجود ہیں۔

    2021 میں قبائلی علاقوں میں آبادکاری کی پالیسی کے تحت دہشت گرد عناصر کو دوبارہ جگہ دی گئی۔ وفاقی حکومت کے حکم پے بارڈر کو کھول کے شمال وزیرستان میں مداخیل اور تیرہ میں ککی خیل جیسے قبائل کی آبادکاری کے نام پر ایسے خاندان واپس لائے گئے جن کے درمیان دہشت گرد بھی شامل تھے۔ اس عمل نے نہ صرف امن و امان کو متاثر کیا بلکہ پاک فوج اور عام شہریوں پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا۔پی ٹی آئی کی حکومت نے نومبر 2021 میں "گڈ ول جیسچر” کے نام پر 100 سے زائد خطرناک دہشت گردوں کو صوبے کی جیلوں سے رہا کیا، جنہوں نے بعد میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا۔

    اس فیصلے نے فوج کی قربانیوں کو پس پشت ڈال دیا اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع دیا گیا۔

    علاوہ ازیں، سوات، مالاکنڈ اور دیر جیسے کئی علاقوں میں فوج سے اختیارات واپس لے کر پولیس اور سول انتظامیہ کو سونپے گئے۔ سول انتظامیہ کی بد انتظامی اور نا اہلی سے ان علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر سمجھوتہ کیا گیا جس کے بعد دہشتگردی کا ناسور وہاں دوبارہ پنپنے لگا جس کو کسی خاطر میں نہیں لایا گیا۔

    حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے فتنہ الخوارج کے ساتھ مذاکرات اور خیبرپختونخواہ میں ان کی آبادکاری کی پالیسی اپنائی۔ بقول عمران خان کے ، تقریباً 40 ہزار افراد کو افغانستان سے لا کے صوبے میں بسایا گیا اور مالی امداد بھی دی گئی۔ ان میں سے تقریباً 3500 افراد فتنہ ال خوارج سے منسلک تھے-

    آج خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی نئی لہر انہیں پالیسیوں کا نتیجہ ہے، لیکن پی ٹی آئی قیادت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے ہمیشہ کی طرح اپنے کیے کا انجام سیکیورٹی فورسز پر لگا رہی ہے۔

    سیکیورٹی فورسز آج بھی دن رات مادر وطن کے تحفظ میں مصروفِ عمل ہیں لیکن فوج سیاست دانوں اور سول انتظامیہ کی نا اہلی کے لیے مورد الزام نہیں ٹھہرائی جا سکتی۔ حقیقتا، نیشنل ایکشن پلان کے تحت ہونے ہوالے سول حکومت کے تمام کام پس پشت ڈال کر پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ذاتی مفادات کے لیے کرپشن کے ریکارڈ توڑے گئے ۔ اور مذاکرات کے نام پر دہشتگردوں کی آبادکاری میں سہولت کاری کی گئی۔ پاک فوج ہمیشہ قومی سلامتی کے لیے کھڑی رہی ہے۔ فوج نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی بلکہ قبائلی علاقوں میں عوام کی بہتری کے لیے کئی ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کیے۔ ان قربانیوں کے باوجود، پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیوں نے ملک کو دوبارہ خطرات کی جانب دھکیل دیا۔

    بھارتی دہشت گردی، عالمی سطح پر بے نقاب

    ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹیسلا کے سائبر ٹرک میں دھماکا،تحقیقات کا آغاز

    ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

  • ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹیسلا کے سائبر ٹرک میں دھماکا،تحقیقات کا آغاز

    ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹیسلا کے سائبر ٹرک میں دھماکا،تحقیقات کا آغاز

    لاس ویگاس: امریکی شہر لاس ویگاس میں ٹرمپ ہوٹل کے باہر ٹیسلا کے سائبر ٹرک میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور سات دیگر زخمی ہو گئے۔

    پولیس کے مطابق یہ واقعہ بدھ کے روز پیش آیا جب ٹیسلا کا سائبر ٹرک ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل کے سامنے واقع شیشے کے دروازے کے قریب پہنچا اور اچانک دھماکے سے پھٹ گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق، سائبر ٹرک میں ایک شخص سوار تھا جو دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہو گیا۔ اس کے علاوہ، سات دیگر افراد کو ہلکی نوعیت کی چوٹیں آئیں، جنہیں فوری طور پر طبی امداد فراہم کی گئی۔ دھماکے کے بعد سائبر ٹرک میں آگ لگ گئی، جسے فائر فائٹرز نے جلدی سے بجھایا۔

    دھماکے کے بعد ٹیسلا کے مالک ایلون مسک نے ایکس (سابق ٹویٹر) پر اپنے بیان میں کہا کہ یہ واقعہ ان کے لیے "ناقابل یقین” تھا۔ مسک کا کہنا تھا، "ایسا کچھ پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ دھماکے کی وجہ آتشبازی یا بم کی ہو سکتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ دھماکا ممکنہ طور پر دہشت گردی کا واقعہ ہو سکتا ہے، اور ٹیسلا کی سینیئر ٹیم اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔امریکی حکام نے دھماکے کی تحقیقات دہشت گردی کے حملے کے طور پر شروع کر دی ہیں۔ حکام کے مطابق، دھماکے کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ کسی منصوبہ بند حملے کا نتیجہ تھا یا کوئی حادثہ۔

    امریکی وائٹ ہاؤس نے بھی اس واقعے پر فوری ردعمل ظاہر کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بتایا کہ صدر جو بائیڈن کو دھماکے کی تفصیلات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ بائیڈن نے واقعے کے بعد تمام امدادی اداروں کو متاثرہ افراد کی مدد فراہم کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکام اس تحقیقات میں مکمل تعاون فراہم کریں گے۔

    یہ دھماکا ٹرمپ انٹرنیشنل ہوٹل کے سامنے پیش آیا، جو امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملکیت ہے۔ ہوٹل کے اطراف میں واقع دیگر کاروباری اداروں میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔ شہر میں عوامی نقل و حرکت کو عارضی طور پر محدود کر دیا گیا تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔واقعہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا، اور مقامی حکام نے شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایات جاری کیں۔ متاثرہ افراد کے خاندانوں کے ساتھ ساتھ شہریوں نے دھماکے کی نوعیت اور اس کے پیچھے موجود محرکات کے بارے میں سوالات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔ پولیس اور دیگر ایجنسیوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی اطلاع دیں تاکہ تحقیقات میں مدد مل سکے۔

    ایف بی آئی کے لاس ویگاس دفتر کے عبوری اسپیشل ایجنٹ جیریمی شوارٹز نے بتایا کہ ایجنسی اس بات کو واضح کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ آیا یہ حملہ دہشت گردی کی نوعیت کا تھا یا محض ایک علیحدہ واقعہ تھا۔ تاہم، حکام کا کہنا ہے کہ عوام کو مزید خطرہ نہیں ہے اور یہ ایک انفرادی واقعہ تھا۔بدھ کی صبح 8:40 بجے کے قریب ٹرمپ ہوٹل کے قریب ایک گاڑی میں آگ لگنے کی اطلاع ملی۔ جب امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں، تو انہوں نے ایک ٹیسلا سائبر ٹرک کو شعلوں میں گھرا ہوا پایا۔ لاس ویگاس کے شیرف، کیون میک میہل نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ اس ٹرک کے اندر ایک شخص کی لاش موجود ہے، جو تحقیقات کے دوران وہیں رکھی گئی ہے۔پولیس کے مطابق، دھماکے کے نتیجے میں سات افراد زخمی ہوئے ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، اور تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ فائر ڈپارٹمنٹ کے ڈپٹی چیف، بیلی سیمولز نے بتایا کہ تمام زخمی افراد کی حالت مستحکم ہے۔

    میک میہل نے بتایا کہ یہ ٹرک کولوراڈو سے کرایہ پر لیا گیا تھا اور صبح 7:30 بجے لاس ویگاس پہنچا تھا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد، ٹرک نے لاس ویگاس بولیورڈ پر چکر لگایا اور ٹرمپ ہوٹل کے سامنے جا کر دھماکہ کر دیا۔ پولیس نے اس وقت کی ویڈیوز کا جائزہ لیا، جن میں ایک شخص کو ٹرمپ ہوٹل کے قریب سے گزرتے ہوئے دکھایا گیا، اور پھر اسی شخص کو واپس آتے ہوئے دکھایا گیا، جس کے کچھ ہی لمحے بعد دھماکہ ہوا۔پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ ٹرک میں موجود سامان کی تصاویر بھی حاصل کی ہیں، جن میں جلتے ہوئے گیس کے کنٹینرز اور آتشبازی کے مواد کے ٹکڑے شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت تک ٹرک کے کرایہ دار کا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، جب تک کہ وہ اس شخص کی شناخت یقینی طور پر نہ کرلیں۔

    لاس ویگاس کے شیرف میک میہل نے یہ بھی کہا کہ سائبر ٹرک کی ساخت نے دھماکے کے اثرات کو کم کرنے میں مدد دی، کیونکہ دھماکہ زیادہ تر اوپر کی طرف ہوا اور اس کا اثر ہوٹل کے اندر کم پڑا۔ ان کے مطابق، ہوٹل کے گلاس دروازے دھماکے سے محفوظ رہے۔

    پولیس کے مطابق، ٹرک کرایہ پر دینے والی کمپنی ٹورو کے ذریعے کرایا گیا تھا۔ کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ لاس ویگاس اور نیو اورلینز کے واقعات کی تحقیقات میں حکام کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے اور ان واقعات کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔کمپنی نے کہا کہ انہیں یہ یقین نہیں ہے کہ ان کرایہ داروں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ تھا جو انہیں سیکیورٹی خطرہ کے طور پر پہچانا جا سکے۔

    اب تک حکام نے دونوں واقعات کے درمیان کسی قسم کا تعلق دریافت نہیں کیا ہے۔ تاہم، نیو اورلینز میں ایک الگ واقعہ بھی پیش آیا تھا جس میں ایک کرائے کا ٹرک لوگوں کے ہجوم میں گھس گیا تھا۔

    نیواڈا کے گورنر جو لومبارڈو نے ٹویٹر پر بیان دیا کہ ان کا دفتر حکام کے ساتھ رابطے میں ہے اور وہ اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام ضروری وسائل دستیاب ہوں۔ٹرمپ تنظیم کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ ایرک ٹرمپ نے بھی ایکس پر بیان دیا کہ "ہمارے مہمانوں اور عملے کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے” اور لاس ویگاس فائر ڈیپارٹمنٹ اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کیا۔

    ریزارٹس ورلڈ لاس ویگاس کی 62ویں منزل پر موجود گالیٹ وینٹورا روزن نے کہا کہ انہوں نے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دھواں اٹھتے ہوئے دیکھا اور فوراً ویڈیو بنانا شروع کر دیا۔”ہم نے ایک بڑا دھواں کا بادل دیکھا… ہمیں یہ نہیں پتہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے،” انہوں نے کہا۔ "پھر ہم نے تین ایمبولینسز کی لائن دیکھی۔”یہ واقعہ ابھی بھی زیر تحقیقات ہے، اور حکام عوام کو مزید معلومات فراہم کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔

    ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

  • ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

    ہجوم پر گاڑی چڑھانے والا امریکی شہری،گاڑی سے داعش کا جھنڈا برآمد

    امریکہ کے شہر نیو اورلینز میں نئے سال کے موقع پر ایک ہولناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص نے اپنی گاڑی ہجوم پر چڑھا کر کم از کم 15 افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ 30 افراد زخمی ہوگئے۔ بدھ کے روز ہونے والے اس واقعے نے پورے امریکہ کو ہلا کر رکھ دیا۔

    نیو اورلینز کی مقامی حکومت کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ شہر کی معروف بربن اسٹریٹ پر پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار گاڑی ہجوم کے اوپر چڑھ دوڑی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ گاڑی کے ہجوم پر چڑھنے کے بعد، کار سوار نے نہ صرف گاڑی سے اتر کر فائرنگ شروع کر دی بلکہ اس دوران پولیس کے دو اہلکار زخمی بھی ہوئے۔پولیس نے فوری طور پر جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں کار سوار موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ بعد ازاں، ایف بی آئی نے اس دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات شروع کر دیں اور گاڑی سے شمس الدین جبار نام کے 42 سالہ شخص کی شناخت کی۔

    ایف بی آئی کے مطابق شمس الدین جبار امریکی شہری تھا جو امریکی فوج میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا۔ ملزم کی گاڑی سے داعش کا جھنڈا بھی برآمد ہوا جس سے اس حملے کو ایک دہشت گردانہ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔ایف بی آئی نے تصدیق کی کہ ملزم کا تعلق ٹیکساس سے تھا اور وہ شمالی کیرولائنا میں بھی کچھ عرصہ مقیم رہا۔ اس کے علاوہ، ملزم کی سابقہ فوجی خدمات اور داعش سے تعلق کی تفصیلات بھی زیر غور ہیں۔

    یہ حملہ نیو اورلینز کے شہریوں اور عالمی سطح پر امریکی سیکیورٹی فورسز کے لیے ایک سنگین الارم ہے۔ مقامی حکام اور پولیس نے علاقے کو سیل کر دیا اور عوام سے تعاون کی درخواست کی ہے تاکہ مزید تحقیقات کی جا سکیں اور اس نوعیت کے حملوں کو روکا جا سکے۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے تمام ممکنہ ذرائع کو استعمال کر رہے ہیں، اور واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد اس پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

    یہ واقعہ امریکہ میں دہشت گردی کے خدشات کو بڑھا رہا ہے اور اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کی کارروائیاں ہر جگہ اور کسی بھی وقت ممکن ہو سکتی ہیں۔

  • 2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    2025 میں سفر کے لیے 25 بہترین مقامات،گلگت کا 9واں نمبر

    دنیا کی فضا پہلے سے کہیں زیادہ جڑی ہوئی اور وسیع ہو چکی ہے، اور یہ تبدیلی انسانی تاریخ میں بے مثال ہے۔ جدید ہوائی جہاز نیو یارک سے سنگاپور یا لندن سے کیپ ٹاؤن تک محض چند گھنٹوں میں لوگوں کو پہنچا سکتے ہیں، جبکہ پہلے یہ سفر کئی ہفتوں یا مہینوں پر محیط ہوتا تھا۔

    سوشل میڈیا پر ایسا لگتا ہے کہ آپ کے تمام دوست اور جاننے والے کسی نہ کسی عجیب و غریب مقام پر تعطیلات گزار رہے ہیں۔ تو پھر ہم کس جگہ کا انتخاب کریں؟سی این این ٹریول کا ماننا ہے کہ ہر جگہ کا اپنا جواز ہے جو اسے دیکھنے کے قابل بناتا ہے۔ تاہم، ان کے عملے نے 2025 میں سفر کے لیے ان 25 مقامات کی فہرست تیار کی ہے جو خاص طور پر ملاحظہ کرنے کے قابل ہیں۔ان 25 مقامات میں سے پاکستان کا علاقہ گلگت بھی شامل ہے جسے 2025 کے خوبصورت ترین مقامات میں 9ویں نمبر پر رکھا گیا ہے

    1970 کی دہائی میں پاکستان ایک ایڈونچر ٹریول ہاٹ سپاٹ تھا، اس کی بلند و بالا پہاڑی مناظر "ہپی ٹریل” کے راستے پر یورپ سے جنوبی ایشیا جانے والے سیاحوں کے لیے ایک اہم اسٹاپ تھے۔ لیکن سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ دن چلے گئے۔ پھر بھی، ان بلند پہاڑوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔گلگت بلتستان کا علاقہ جو قراقرم پہاڑی سلسلے میں واقع ہے، وہاں تک پہنچنا آسان نہیں ہے — پروازوں کے شیڈول غیر متوقع ہو سکتے ہیں، سڑکیں موسم کی بنا پر بند ہو سکتی ہیں — لیکن اس علاقے میں ایسے بلند پہاڑ ہیں جو کسی بھی مٹھائی سے زیادہ لذیذ اور دلکش ہیں۔

    oplus_2

    یہاں دنیا کے 14 "آٹھ ہزاربلند” پہاڑوں میں سے پانچ پہاڑ واقع ہیں، جن میں کے 2 شامل ہے، جو دنیا کا دوسرا بلند ترین پہاڑ ہے، مگر دشواری اور خطرے کے اعتبار سے اسے پہلی پوزیشن حاصل ہے۔

    سیاحت اور انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، اس علاقے میں ہائیکنگ اتنی آسان نہیں ہے کہ آپ اسے ہمالیہ کے مشابہ سمجھیں، جہاں ایک ہلکا سا سفر ممکن ہو۔ اس علاقے میں ٹریکنگ کرنا ایک پیچیدہ اور چیلنجنگ تجربہ ہو سکتا ہے، اور اس لیے یہ کوئی ایسا مقام نہیں ہے جہاں آپ اکیلے سفر کریں۔

    گلگت بلتستان میں موجود قدرتی مناظر اور بلند پہاڑ سیاحوں کے لیے ایک خواب کی مانند ہیں۔ یہاں کی ٹریکنگ، برف پوش پہاڑ، اور گلیشیئرز دنیا کے سب سے دشوار گزار لیکن خوبصورت سفر کا حصہ ہیں۔ آپ اگر اس علاقے کی سیر کرنا چاہتے ہیں تو اس میں بہترین ٹور آپریٹرز کی مدد سے منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے، تاکہ آپ اس کے قدرتی حسن اور چیلنجز کو بھرپور طریقے سے محسوس کر سکیں۔

    پاکستان کے ان پہاڑی علاقوں کی خوبصورتی اب بھی غیر دریافت شدہ اور کم معلوم ہے، اور یہ ان لوگوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے جو خود کو قدرتی مناظر اور انتہائی چیلنجنگ ہائیکنگ کے تجربے میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

  • نیو ایئر پارٹی،گاڑی ہجوم میں گھس گئی، 10 کی موت

    نیو ایئر پارٹی،گاڑی ہجوم میں گھس گئی، 10 کی موت

    نیو اورلینز کے بوربن اسٹریٹ پر نئے سال کی شام خوشیوں کی جگہ خوف میں بدل گئی جب ایک گاڑی ایک بڑی تعداد میں موجود لوگوں کے درمیان جا گھسی، جس کے نتیجے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہوگئے اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ یہ واقعہ شہر کے مشہور فرنچ کوارٹر میں پیش آیا، جہاں لوگ نئے سال کی تقریبات میں مصروف تھے۔

    22 سالہ کیون گارسیہ نے سی این این کو بتایا کہ وہ اس حادثے کا عینی شاہد تھے: "میں نے صرف ایک ٹرک کو بوربن اسٹریٹ کے بائیں طرف چلتے ہوئے ہر کسی کو ٹکراتے ہوئے دیکھا۔ ایک لاش مجھ پر آگری۔” انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں۔دوسری گواہ 22 سالہ وِٹ ڈیوس جو لوئزیا کے شہر شریوپورٹ سے تعلق رکھتی ہیں، نے کہا کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ بوربن اسٹریٹ پر ایک نائٹ کلب میں موجود تھیں۔ "سب لوگ چلانے اور دوڑنے لگے، پھر ہم سب نے کلب میں کچھ دیر کے لیے لاک ڈاؤن کر لیا اور اس کے بعد حالات تھوڑے سکون میں آئے، لیکن ہمیں کلب سے نکلنے نہیں دیا گیا۔”انہوں نے مزید کہا، "جب ہمیں کلب سے باہر نکالا گیا، تو پولیس نے ہمیں کہا کہ جلدی سے علاقے سے نکل جائیں۔ میں نے کچھ لاشیں دیکھیں جو کہ ڈھکی بھی نہیں گئی تھیں اور بہت سے لوگ فرسٹ ایڈ حاصل کر رہے تھے۔”

    پولیس نے متاثرہ افراد سے کہا کہ وہ اپنے فونز کو بند کر دیں اور جتنی جلدی ہو سکے اس علاقے سے نکل جائیں۔ شہر کی آفیشل ڈیزاسٹر پریپیرنیس ایجنسی "نو لا ریڈی” نے بتایا کہ اس حادثے میں 10 افراد کی موت ہوئی اور 30 افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں فوری طور پر ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

    ایمرجنسی حکام نے اس واقعے کو "مجموعی ہلاکتوں والا واقعہ” قرار دیا اور لوگوں کو اس علاقے سے دور جانے کی ہدایت کی۔

    یہ واقعہ شہر میں نئے سال کی تقریبات کے دوران پیش آیا، جو کہ نیو اورلینز کا ایک بڑا سیاحتی مقام ہے۔ لوگ عام طور پر بوربن اسٹریٹ پر نئے سال کا جشن منانے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں، مگر اس واقعے نے خوشیوں کے اس موقع کو غم میں بدل دیا۔ حکام نے ابھی تک اس حادثے کے پس منظر کی تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم تحقیقات جاری ہیں۔

    بوربن اسٹریٹ نیو اورلینز کا ایک مشہور علاقہ ہے، جہاں ہر سال لاکھوں لوگ مختلف تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ اس علاقے کو اپنی رنگین رات کی زندگی کے لیے عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے، اور یہاں ہر سال نئے سال کی رات کی خصوصی تقریبات کا انعقاد ہوتا ہے۔

    اسی دوران، نیو اورلینز شہر اس وقت خاص طور پر مصروف ہے، کیونکہ بدھ کی رات ‘شوگر باؤل’ کھیل کا انعقاد بھی ہونے والا ہے۔ یہ کھیل امریکی کالج فٹ بال کا ایک اہم ایونٹ ہے جس میں اس بار یونیورسٹی آف جارجیا اور یونیورسٹی آف نوٹرے ڈیم کی ٹیمیں مد مقابل ہوں گی۔ اس مقابلے کا فاتح کالج فٹ بال پلے آف سیمی فائنلز میں پہنچے گا۔ اس کھیل کے لیے ملک بھر سے ہزاروں فٹ بال کے شائقین نیو اورلینز آ رہے ہیں، جس سے شہر میں مزید ہجوم اور سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔

    پولیس حکام نے اس خوفناک واقعے کے بعد شہر کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے تاکہ اس حادثے کی حقیقت سامنے آ سکے۔ اس دوران، نیو اورلینز کے شہری اور سیاح دونوں اس دل دہلا دینے والے واقعے کے بعد غم اور خوف میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

    فارم ہاؤس پر نیو ایئر پارٹی،فحش رقص،منشیات،8 لڑکیوں سمیت 26گرفتار

    پاراچنار واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

  • فارم ہاؤس پر نیو ایئر پارٹی،فحش رقص،منشیات،8 لڑکیوں سمیت 26گرفتار

    فارم ہاؤس پر نیو ایئر پارٹی،فحش رقص،منشیات،8 لڑکیوں سمیت 26گرفتار

    لاہور،برکی پولیس نے خفیہ اطلاع پر ہنزہ فارم ہاؤس میں چھاپہ مارا، جہاں لڑکے اور لڑکیاں فحاشی گانوں پر ڈانس اور شیشہ پارٹی میں مصروف تھے۔ پولیس نے کارروائی کے دوران 8 لڑکیوں سمیت 26 ملزمان کو گرفتار کر لیا۔

    ایس ایچ او برکی محمد رضا نے کہا کہ پولیس کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ ہنزہ فارم ہاؤس میں شراب اور شیشہ پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں شریک ہیں۔ اس اطلاع پر پولیس نے فوراً کارروائی کرتے ہوئے فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا۔ جب پولیس پارٹی موقع پر پہنچی، تو ملزمان نے پولیس کی کارروائی میں سخت مزاحمت کی اور حکومتی امور میں مداخلت کی کوشش کی۔ بعض ملزمان نے گلوگیر ہونے کی بھی کوشش کی، تاہم پولیس نے انہیں قابو کر لیا۔پولیس ترجمان کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزمان میں موسی بٹ، حسین، عاصم، زین، عمر، دانش، قاسم، وقار، صغیر، سلمان، آمنہ، کرن، ریدہ، مہرین، سونیا، ثانیہ سمیت دیگر شامل ہیں۔ ان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    چھاپے کے دوران پولیس نے ملزمان کے قبضے سے شراب کی بوتلیں، بیر کین، حقہ، شیشہ فلیور ڈبے، ساؤنڈ لائٹس، میکسر، لیپ ٹاپ اور ساؤنڈ سسٹم برآمد کیا۔ ایس ایچ او محمد رضا کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات کے لئے انوسٹیگیشن ونگ کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    پولیس کی اس کارروائی کو علاقے میں خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے ایک بار پھر واضح ہوا کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ایس ایچ او برکی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں میں اس طرح کی غیر قانونی سرگرمیوں کی اطلاع پولیس کو دیں تاکہ ایسے جرائم کا خاتمہ کیا جا سکے۔

    دوسری جانب نیو ائیر نائٹ کے حوالہ سے غیر قانونی اقدامات کے خلاف ٹاؤن شپ پولیس کی کارروائی، آن لائن آتش بازی کا سامان فروخت کرنے والے ملزمان گرفتار کر لئے گئے،ملزمان کے قبضہ سے لاکھوں مالیت کی آتش بازی کا سامان برآمد کر لیا گیا،ملزمان آن لائن آڈر لیکر لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے آتش بازی کا سامان پہنچاتا ملزمان کو خفیہ اطلاع پر آتش بازی کے سامان سمیت گرفتار کیا. ملزمان شیخ نوید ،علی رضا اور محمد کاشف پابندی کے باوجود شہر کے مختلف مقامات پر آتش بازی کی ترسیل کرتا تھا.

    پاراچنار واقعے کا مطلب یہ نہیں کہ کراچی میں بدامنی پھیلائی جائے،وزیرِ داخلہ سندھ

    پائلٹ کی عقلمندی، طیارہ حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچ گیا

  • انسانی سمگلنگ ، ایف آئی اے کے 13 اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج

    انسانی سمگلنگ ، ایف آئی اے کے 13 اہلکاروں کیخلاف مقدمات درج

    اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان کی ہدایت پر انسانی سمگلنگ اور کشتی حادثات میں ملوث ایف آئی اے کے اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائیاں جاری ہیں۔

    ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر کی قیادت میں ایف آئی اے نے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 13 اہلکاروں کے خلاف مقدمات درج کر لئے ہیں۔ ایف آئی اے کی ڈائریکٹر جنرل احمد اسحاق جہانگیر نے حال ہی میں ایف آئی اے کے مرکزی دفتر میں ایک اردلی روم کا انعقاد کیا جس میں کشتی حادثات میں ملوث ایف آئی اے کے 49 اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کاروائیوں پر سماعت کی گئی۔ اس اجلاس میں 4 انسپکٹرز، 10 سب انسپکٹرز، 2 اے ایس آئی، 5 ہیڈ کانسٹیبلز اور 14 کانسٹیبلز کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا۔

    ڈی جی ایف آئی اے احمد اسحاق جہانگیر نے اردلی روم کے دوران کہا کہ "کشتی حادثات میں ملوث اہلکاروں کے خلاف انضباطی کارروائیاں نہ صرف ادارے کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے ضروری ہیں بلکہ ان افراد کے خلاف سخت ترین اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو معصوم شہریوں کے ساتھ بدسلوکی یا استحصال میں ملوث ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ "ایف آئی اے میں غفلت اور لاپروائی برتنے والے اہلکاروں کی ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہے۔”ڈی جی ایف آئی اے نے واضح کیا کہ "محکمانہ احتساب کا مقصد ادارے کو کرپشن اور دیگر بے ضابطگیوں میں ملوث کالی بھیڑوں سے پاک کرنا ہے۔” انہوں نے کہا کہ ادارے میں احتسابی عمل ہی انسانی سمگلنگ اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کا خاتمہ ممکن بنائے گا۔

    "غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ایف آئی اے اہلکاروں کے خلاف سخت اقدامات عمل میں لائے جا رہے ہیں۔ معصوم شہریوں کے استحصال میں ملوث اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، اور غفلت برتنے والے افسران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی،” ڈی جی ایف آئی اے نے کہا۔

    دریں اثناء، ایف آئی اے نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ انسانی سمگلنگ کے خلاف اپنے اقدامات کو مزید تیز کرے گا اور ادارے کے تمام اہلکاروں کی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدگی سے احتسابی عمل جاری رکھے گا۔ ان کارروائیوں سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ایف آئی اے میں کرپشن یا کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے والے اہلکاروں کے خلاف سخت ترین اقدامات کیے جائیں گے۔

    یاد رہے کہ کشتی حادثات کی تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کئی ایف آئی اے اہلکار انسانی سمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حمل کے معاملات میں ملوث تھے، جس پر وزیراعظم پاکستان نے فوری کارروائی کی ہدایت کی تھی۔

    خواتین کیلیے خوشخبری،بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم بڑھا دی گئی

    اداکارہ سلمیٰ ظفر عاصم نے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت کیوں دی ؟

  • خواتین کیلیے خوشخبری،بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم  بڑھا دی گئی

    خواتین کیلیے خوشخبری،بینظیر کفالت سہہ ماہی قسط کی رقم بڑھا دی گئی

    اسلام آباد: چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے سال 2025 کے آغاز پر مستحق خواتین کے لئے ایک اہم اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنوری 2025 سے بی آئی ایس پی کے تحت فراہم کی جانے والی بینظیر کفالت پروگرام کی سہہ ماہی قسط کی رقم میں اضافہ کیا گیا ہے۔ اب یہ رقم 10,500 روپے سے بڑھا کر 13,500 روپے کر دی گئی ہے تاکہ مستحق افراد کی معاشی حالت بہتر ہو سکے۔

    سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ یہ سال بی آئی ایس پی کی طرف سے بینظیر ہنر مند پروگرام کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہو گا کیونکہ اس کے ذریعے وہ خود اپنے روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں گے اور اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر معاشی خود کفالت حاصل کر سکیں گے۔ سینیٹر نے مزید کہا کہ "ہم اس سال بھی ایمانداری کے ساتھ پسماندہ طبقات کی خدمت کا کام جاری رکھیں گے اور ہر ممکن طریقے سے ان کی زندگیوں میں بہتری لانے کی کوشش کریں گے۔”

    سال نو 2025 کی مبارکباد دیتے ہوئے سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی پوری ٹیم پاکستان کے تمام شہریوں کو نیا سال خوشی اور کامیابی کی دعا دیتی ہے۔ "ہماری کوشش ہوگی کہ ہم اپنے پروگرامز کی مدد سے ہر پاکستانی کے لئے ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھولیں۔”اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی کے سیکرٹری عامر علی احمد، ایڈیشنل سیکرٹری ڈاکٹر طاہر نور اور ادارے کے دیگر افسران اور عملے کے ہمراہ نیا سال کا کیک بھی کاٹا۔ یہ ایک خوشگوار اور علامتی لمحہ تھا جس میں بی آئی ایس پی کے تمام ممبران نے مل کر نئے سال کا خیرمقدم کیا اور اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ وہ مستحق افراد کے لیے اپنے کام میں مزید تیزی اور محنت سے کام کریں گے۔

    اداکارہ سلمیٰ ظفر عاصم نے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت کیوں دی ؟

    نئے سال کے پہلے دن پاکستان اسٹاک ایکسچینج کانیا ریکارڈ

  • سپریم کورٹ، الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف میر علی مدد جتک کی اپیل خارج

    سپریم کورٹ، الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف میر علی مدد جتک کی اپیل خارج

    اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے پی بی 45 کوئٹہ کے 15 پولنگ اسٹیشنز کے تنازعے کے معاملے پر الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل کو مسترد کر دیا۔

    عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے اس بات کا اظہار کیا کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ درست تھا اور اس میں کوئی قانونی خامی نہیں ہے۔جسٹس عقیل عباسی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے 25 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ الیکشن ایکٹ کے تحت الیکشن ٹربیونل کو سول عدالت کے اختیارات حاصل ہیں اور وہ انتخابی عذرداریوں پر شواہد قانون شہادت کے تحت ریکارڈ کرنے کا بھی اختیار رکھتا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ تکنیکی بنیادوں پر حقائق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیس میں الیکشن ٹربیونل نے انتخابی عذرداری کو قانون کے مطابق دائر کیا اور اس میں یہ ثابت ہوا کہ بظاہر پولنگ اسٹیشن کے عملے نے سازباز کے ذریعے انتخابی نتیجے میں ردوبدل کیا۔

    درخواست گزار میر علی مدد جتک کے 4912 ووٹوں میں فارم 45 کے ذریعے اضافہ کیا گیا تھا، جب کہ ان کے مخالف امیدوار میر محمد عثمان کے ووٹ 1623 ہی رہے۔ الیکشن ٹربیونل نے ریکارڈ کے مطابق 15 پولنگ اسٹیشنز کے فارم 45 میں فراڈ کی موجودگی کو تسلیم کیا تھا۔عدالت نے یہ بھی کہا کہ الیکشن ٹربیونل کا فیصلہ درست تھا اور اس میں کسی قسم کی قانونی خلاف ورزی نہیں ہوئی، لہذا میر علی مدد جتک کی اپیل مسترد کر دی گئی۔

    ماسکو نے شام کے اڈوں کو چھوڑ کر لیبیا کو اپنا نیا مرکز بنانا شروع کر دیا

    پاکستان کی معاشی ترقی مقصود ، معیشت میں استحکام لانا ہے،وزیراعظم