Baaghi TV

Author: ممتاز حیدر

  • خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی،دکاندار کی ضمانت مسترد

    لاہور ہائیکورٹ نے خاتون گاہک سے مبینہ زیادتی کرنے والے کپڑے کی دوکان کے مالک کی ضمانت مسترد کردی

    جسٹس طارق سلیم شیخ نے ملزم زین طارق کی عبوری ضمانت پر تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ،ملزم کے خلاف تھانہ فیصل آباد پولیس نے مقدمہ درج کیا گیا ہے ،عدالت نے فیصلے میں کہا کہ رپورٹ کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے واٹس ایپ چیٹ سمیت دیگر اشیاء ریکور کیں ،پولیس رپورٹ کے مطابق دونوں کے درمیان تصاویر کا تبادلہ ہوا ہے ،تفتیش اور شواہد کے مطابق ملزم قصور وار ہے ،ٹرائل کورٹ ٹرائل میں سی سی ٹی وی فوٹیجز اور دیگر شواہد کا جائزہ لے گی ف،ملزم کے وکیل کے مطابق ملزم نے خاتون کاہگ کو بوتیک کے کاروبار کے لیے پیسے ادھار دیے ،ملزم کے وکیل کے مطابق ادھارے پیسے واپس کرنے کی خاطر مدعیہ نے مقدمہ درج کروایا،ملزم عدالت کو مطمئن کرنے میں ناکام رہا ،ملزم پراسکیوشن کے الزامات پر ٹھوس شواہد پیش نہیں کرسکا .

    اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ، 3 ارب کا فراڈ، ملزم کی 100 روپے مچلکوں پر ضمانت منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ سے 3 ارب کے فراڈ کیس کے ملزم کی ضمانت 100 روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کر لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے 3 ارب 20 کروڑ روپے کے سیلز ٹیکس فراڈ کے شریک ملزم فرسٹ ویمن بینک کے امپیریل کورٹ برانچ کراچی کے مینیجر شاہد حسین خواجہ کی ضمانت محض ایک سو روپے کے عوض منظور کر لی. عدالت نےٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی کارروائی اختیار سے تجاوز قرار دیدی.عدالت نے فیصلے میں ایف بی آر، ٹیکس آفیشلز، ملزم کا ریمانڈ دینے والے مجسٹریٹ اور ضمانت مسترد کرنے والے ٹرائل کورٹ کے جج سے متعلق غیرمعمولی آبزرویشنز دی ہیں.

    ہائیکورٹ نے شریک ملزم شاہد حسین کے خلاف ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی کرمنل کارروائی کو اختیار سے تجاوز قرار دے دیا،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس بابر ستار نے عدالتی فیصلے کی کاپی چیئرمین ایف بی آر کو بھجوانے کا حکم بھی دیا،عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بینک کے برانچ منیجر کو پاور کمپنی کے برانچ میں اکاؤنٹ کھولنے میں اعانت پر گرفتار کیا گیا، ریاست نے درخواست گزار کے ٹیکس فراڈ کے جرم میں ملوث ہونے کا کوئی مواد پیش نہیں کیا، ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے قانون کے مطابق ٹیکس پیئر پر واجب الادا ٹیکس کا تعین ہی نہیں کیا، ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے درخواست گزار کو لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی میں گرفتار کیا اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کا علم ہونے کے باوجود کرمنل کارروائی شروع کی،ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے کرمنل کارروائی شروع کر کے اختیارات سے تجاوز کیا، اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے درخواست گزار کے وقار اور برابری کے آئینی حقوق مجروح کیے گئے، زیادہ ٹیکس جمع کرنے کی کوشش میں اتھارٹیز اور ٹیکس حکام نے طے کردہ قانون کی خلاف ورزی کی، شرم کی بات ہے ریمانڈ دینے والے مجسٹریٹ اور ضمانت مسترد کرنے والی عدالت نے سیلز ٹیکس ایکٹ شقوں کا خیال نہیں رکھا، ماتحت عدالت نے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کے بجائے ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے گمراہ کُن اقدامات کی ستائش کی، کرمنل کارروائی کی قانونی حیثیت کا سوال اس عدالت کے سامنے نہیں، امید ہے کہ ٹرائل کورٹ اس کارروائی کی قانونی حیثیت کو مدنظر رکھے گی۔

    درخواست گزار کی ضمانت 100 روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی جاتی ہے، چیئرمین ایف بی آر اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلوں کی کاپی ٹیکس افسران میں تقسیم کریں، پبلک آفیشلز کو تفویض کردہ قانونی اور پولیس اختیارات کا استعمال قانون کے مطابق کیا جائے، خلاف ورزی پر ایف بی آر اور ٹیکس افسران کو اختیارات کے ناجائز استعمال پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

  • امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    امریکی ریاست ورجینیا سے 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد

    امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے ریاست ورجینیا کے آئل آف وائٹ کاؤنٹی میں ایک بڑی کارروائی کے دوران 150 سے زائد پائپ بم اور دھماکہ خیز مواد برآمد کیا ہے، جسے حکام نے اپنے تاریخ میں پکڑے جانے والے سب سے بڑے ذخیرہ کا حصہ قرار دیا ہے۔

    17 دسمبر 2024 کو ایف بی آئی کے ایجنٹوں نے 20 ایکڑ پر پھیلی جائیداد پر چھاپہ مارا، جہاں یہ دھماکہ خیز مواد ملا۔ یہ جائیداد 36 سالہ بریڈ سپافورڈ کی ملکیت تھی، جو غیر قانونی شارٹ بیرل رائفل رکھنے کے الزام میں پہلے ہی گرفتار تھا۔مشتبہ شخص سپافورڈ کے ایک پڑوسی نے، جو خود بھی قانون نافذ کرنے والے ادارے سے منسلک ہے، حکام کو اطلاع دی تھی کہ سپافورڈ اپنی پراپرٹی پر اسلحہ اور گھریلو طور پر تیار کردہ دھماکہ خیز مواد ذخیرہ کر رہا ہے۔ پڑوسی نے مزید بتایا کہ سپافورڈ 2021 میں ایک دھماکہ خیز ڈیوائس کے حادثے میں اپنی تین انگلیاں کھو چکا تھا، اور اس نے اپنے شوٹنگ پریکٹس کے دوران صدر جو بائیڈن کی تصاویر استعمال کی تھیں۔

    ایف بی آئی نے جو مواد برآمد کیا، اس میں متعدد پائپ بم شامل تھے، جن پر "مہلک” کے لیبل لگے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ، "پہننے کے قابل بنیان” میں چھپائے گئے دھماکہ خیز آلات اور ایک جار میں ذخیرہ کیا گیا HMTD (ہائیڈروجن پیرو آکسائیڈ مونوڈائی آکسائیڈ) شامل تھا، جو ایک انتہائی حساس دھماکہ خیز مواد ہے۔ اس مواد کو معمولی درجہ حرارت میں تبدیلی سے بھی پھٹنے کا خطرہ تھا۔ایف بی آئی کے ایجنٹوں کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ خیز مواد ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتا تھا اور اس کارروائی نے کئی جانوں کو بچانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    سپافورڈ کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ان کے مؤکل پر صرف غیر قانونی آتشیں اسلحہ رکھنے کا الزام ہے اور اس کے خلاف دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے یا کسی دھماکے میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سپافورڈ کے پاس صرف غیر قانونی اسلحہ تھا اور اس کا دھماکہ خیز مواد سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

    تاہم، حکومت کی طرف سے مقدمے سے پہلے سپافورڈ کو حراست میں رکھنے کی درخواست کی گئی ہے، اور ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کافی ثبوت ہیں جو اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ سپافورڈ نے خطرناک دھماکہ خیز مواد تیار کیا تھا، جس سے بڑی تباہی مچ سکتی تھی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ برآمد شدہ دھماکہ خیز مواد کی نوعیت انتہائی خطرناک تھی، اور اس کے استعمال سے غیر متوقع اور مہلک نتائج مرتب ہو سکتے تھے۔ یہ مواد نہ صرف جانوں کے لیے بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک بڑے خطرے کا باعث بن سکتا تھا۔

    ایف بی آئی کی یہ کارروائی اس بات کا غماز ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کس طرح خطرناک سرگرمیوں کا سراغ لگا کر شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کارروائی نے کئی جانوں کو بچایا اور امریکہ کی تاریخ میں ایک سنگین دہشت گردانہ منصوبے کو ناکام بنایا۔

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

  • یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    یونان کشتی حادثہ،مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئیں

    یونان میں پیش آنے والے کشتی حادثے میں جاں بحق ہونے والے مزید 4 پاکستانیوں کی لاشیں مل گئی ہیں۔

    ایف آئی اے کے مطابق، اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی لاشیں ملنے کی تعداد 9 ہو چکی ہے۔ ان لاشوں کی شناخت اور دیگر تفصیلات سے متعلق نئی معلومات سامنے آئی ہیں۔تین لاشوں کی شناخت نارووال کے رہائشی شبیر، زین علی اور ذیشان کے نام سے ہوئی ہے۔ایک لاش کی شناخت سیالکوٹ کے رہائشی اویس علی کے نام سے ہوئی ہے۔یہ لاشیں یونان کے جزیرے گیواڈوس سے ایتھنز کے اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق، پاکستانی سفارت خانہ ان لاشوں کو پاکستان بھجوانے کے انتظامات کر رہا ہے۔ ان لاشوں کو پاکستان لانے میں مزید ایک ہفتے کا وقت لگنے کا امکان ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق، اس کشتی حادثے میں اب بھی 40 پاکستانیوں کی لاشیں لاپتہ ہیں، جن کا سراغ ابھی تک نہیں مل سکا۔ حکام کی جانب سے سرچ آپریشن جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ مزید لاشوں کو بازیاب کیا جائے گا۔

    یہ المناک حادثہ 13 اور 14 دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا تھا، جب ایک کشتی جو لیبیا کے علاقے تبروک سے یونان جا رہی تھی، حادثے کا شکار ہو گئی۔ اس حادثے میں 44 پاکستانیوں کو ریسکیو کیا گیا تھا، جن میں سے بعض زخمی ہیں اور کچھ محفوظ ہیں۔یہ حادثہ ایک بار پھر غیر قانونی طور پر سمندری راستوں سے یورپ جانے والے پاکستانیوں کی مشکلات اور خطرات کو اجاگر کرتا ہے۔ حکام نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر قانونی طریقوں سے ہجرت کرنے سے گریز کریں اور محفوظ راستوں کو اپنائیں۔

    پاکستانی حکام نے اس حادثے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ ایف آئی اے اور وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ تمام متاثرہ افراد کی مکمل مدد فراہم کریں گے اور جلد از جلد ان کی لاشیں پاکستان منتقل کرنے کے انتظامات کریں گے۔

    ایف آئی اے اور یونان کشتی حادثہ، وزیراعظم کی برہمی ، انصاف کب ہوگا؟

    یونان کشتی حادثہ: ایف آئی اے کے 31 افسران اور اہلکاروں کےملوث ہونے کا انکشاف

    یونان کشتی حادثہ، مزید 15 انسانی اسمگلروں کے نام اسٹاپ لسٹ میں شامل

  • نیو ایئر نائٹ،لاہور سے 377 افراد گرفتار

    نیو ایئر نائٹ،لاہور سے 377 افراد گرفتار

    لاہور میں سال نو کے موقع پر پولیس کی فول پروف سکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے تعاون کی بدولت نیو ایئر نائٹ پر پرامن ماحول قائم رہا۔ کسی بھی افسوس ناک واقعہ کا سامنا نہیں ہوا اور شہر بھر میں پولیس نے اپنی بہترین حکمت عملی سے امن قائم رکھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس دوران مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث 377 افراد کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا گیا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس نے پیشگی کارروائیوں کے دوران ہوائی فائرنگ کرنے والے 58 ملزمان کو گرفتار کر کے حوالات میں ڈال دیا۔ ان کارروائیوں میں ملزمان سے 7 رائفلز اور 47 پسٹلز برآمد کیے گئے، جو کہ پولیس کی موثر حکمت عملی کا نتیجہ تھا۔ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ شہر بھر میں پولیس کی طرف سے کی جانے والی ناکہ بندی کے دوران 107 ملزمان سے اسلحہ برآمد کیا گیا۔ ان ملزمان سے 12 رائفلز، 4 بندوقیں، 90 پسٹلز اور سینکڑوں گولیاں قبضے میں لی گئیں۔ فیصل کامران کا کہنا تھا کہ اسلحہ کی اس برآمدگی سے شہر کی امن و امان کی صورتحال مزید مستحکم ہوئی۔پولیس نے منشیات کے خلاف بھی سخت کارروائیاں کیں اور مجموعی طور پر 27 کلو چرس برآمد کی۔ اس کے علاوہ 1 کلو گرام ہیروئن، 4 کلو 220 گرام آئس، اور 1181 لیٹر شراب بھی برآمد کی گئی۔ فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس کی اس کامیاب کارروائی کے دوران 383 لیٹر کچی شراب کی ترسیل بھی ناکام بنائی گئی، جس کے نتیجے میں 17 ملزمان گرفتار ہوئے۔

    نیوز ایئر نائٹ کے دوران پولیس نے ون ویلنگ اور آتشبازی کرنے والے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کی۔ ناکوں اور گشت کے دوران 63 ملزمان کو گرفتار کیا گیا جو پابندی کے باوجود ون ویلنگ کر رہے تھے۔ اس کے علاوہ آتشبازی کرنے والے 27 افراد کو بھی گرفتار کیا گیا، جن کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔نیو ایئر نائٹ پر خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ہلڑ بازی کرنے والوں کے خلاف بھی پولیس نے سخت ایکشن لیا۔ اس دوران 16 افراد کو قانون کی گرفت میں لایا گیا۔ فیصل کامران نے کہا کہ پولیس کی جانب سے کیے گئے سکیورٹی اقدامات کے باعث شہریوں کو محفوظ ماحول فراہم کیا گیا۔

    پولیس کی بہترین حکمت عملی اور سکیورٹی انتظامات کے نتیجے میں نیو ایئر نائٹ پر حادثات میں 88 فیصد کمی آئی۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ صرف تین افراد معمولی زخمی ہوئے، جن میں سے دو افراد کو طبی امداد فراہم کر دی گئی، جبکہ ایک شخص ابھی ہسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت خطرے سے باہر ہے۔فیصل کامران نے پولیس کی فیلڈ ٹیم کی محنت اور بہترین حکمت عملی کی تعریف کی اور کہا کہ گزشتہ سال کی نسبت حادثات میں اتنی بڑی کمی پولیس کی شاباش کی مستحق ہے۔ لاہور پولیس کے سکیورٹی انتظامات کی بدولت نیو ایئر نائٹ پر امن و امان کی فضا قائم رکھی گئی، جس پر شہریوں نے بھی پولیس کے اقدامات کی ستائش کی۔

    نیو ایئر نائٹ پر لاہور پولیس کی طرف سے کئے گئے بہترین سکیورٹی انتظامات اور شہریوں کے تعاون سے لاہور میں سال نو کا آغاز محفوظ رہا۔ پولیس کی اس کامیاب حکمت عملی کے باعث شہر بھر میں امن قائم رہا اور کسی بھی بڑے حادثے یا افسوس ناک واقعے کی اطلاع نہیں ملی۔

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

  • پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب

    پاکستان میں دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کا گھناؤناکرداربےنقاب ہو گیا ہے

    دہشت گردی اور سنگین انسانی جرائم میں ملوث بھارت کاسیاہ چہرہ عالمی سطح پر بے نقاب ہو گیا ہے،عالمی جریدے واشنگٹن پوسٹ نے بھارتی حکومت کی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کو بے نقاب کر دیا، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق بھارت پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں کےذریعے ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے, بھارتی ایجنسی’را’ نے اجرتی قاتلوں اور افغانی ہتھیاروں کے ذریعے پاکستان میں کم از کم چھ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کی، واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ”گزشتہ اپریل دو نقاب پوشوں نے لاہور میں تامبا جس کا اصل نام عامر سرفراز ہے کو گولیوں کا نشانہ بنایا اور فرار ہو گئے“یہ واقعہ بھی دوسرے ممالک کی طرح بھارتی خفیہ قتل مہم کا تسلسل ہے،بھارتی ایجنسی”را“نے پاکستان میں کئی افراد کو نشانہ بنایا، شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانی افراد کے قتل میں بھارت ملوث ہے، 2021 کے بعد بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی ”را“ نے پاکستان میں متعدد افراد کو قتل کرنے کے لیے ایک خفیہ مہم چلائی جس میں میں کئی پاکستانی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان کے وزیر داخلہ بھی ہلاکتوں میں "بھارت کے براہ راست ملوث ہونے” کا انکشاف کر چکے ہیں،

    واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 2014ء میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول نے کہا تھا کہ ”پاکستان پر حملہ کرنا غیر حقیقی ہے لیکن ہم اپنے مقاصد کے حصول کیلئے خفیہ ذرائع استعمال کرسکتے ہیں“امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ”را“ کی قتل مہم کی وجہ سے بھارت بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کی زد میں ہے، بھارت نے امریکا، کینیڈا اور مغربی ممالک میں ماروائے عدالت قتل کئے، کینیڈااورامریکہ میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ نے سکھ راہنماؤں کو قتل کیا، نئی دہلی میں را کے افسر وکاش یادیو نے نیویارک میں سکھ علیحدگی پسند راہنما پر قاتلانہ حملے کی ہدایت جاری کیں،را افسر نے اس قتل میں اپنے ایجنٹ کو ایک مقامی قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی ہدایت کی،کینیڈین حکام نے بھی بھارتی سفارت کاروں اور را کی دہشتگردی کو بے نقاب کیا،

    سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستانی شہریوں محمد ریاض اور مولانا شاہد لطیف کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارت کے ملوث ہونے شواہد منظر عام پر آچکے ہیں، اس سے قبل بھی وزارت خارجہ شواہد کے ساتھ پاکستانی سرزمین پر بھارتی دہشتگردی کو بے نقاب کرچکی ہے، بھارتی جارحیت، دہشت گردی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر اقوام عالم کو سخت نوٹس لینا چاہیے، دوسرے ممالک میں بھارتی دہشتگردی، مداخلت اور ٹارگٹ کلنگ عالمی امن کے لیے شدید خطرہ ہے،

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے واضح اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں،چینی اخبار

    پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کے واضح اور ٹھوس ثبوت موجود ہیں،چینی اخبار

    بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی کی پاکستان میں دہشتگردی کی مالی معاونت پر تشویش ہے،ترجمان دفتر خارجہ

  • جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ، 181 میں سے دو افراد زندہ کیسے بچے

    3 روز قبل جنوبی کوریا کے موان انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر جیجو ائیر کا ایک طیارہ حادثے کا شکار ہوگیا، جس کے نتیجے میں 179 افراد ہلاک ہو گئے۔ تاہم خوش قسمتی سے دو مسافربچ جانے میں کامیاب ہو گئے۔

    حادثہ اس وقت پیش آیا جب جیجو ائیر کا طیارہ موان ائیرپورٹ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔ طیارے میں کل 181 مسافر سوار تھے، جن میں سے صرف 2 مسافر زندہ بچ سکے۔ ان دونوں مسافروں کی شناخت 32 سالہ خاتون "لی” اور 25 سالہ "وون” کے طور پر کی گئی ہے۔ جیجو ائیر کے سی ای او نے میڈیا کو بتایا کہ طیارہ حادثے کی وجوہات ابھی تک غیر واضح ہیں اور ابتدائی تحقیقات میں طیارے میں کسی قسم کی خرابی کے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔ سی ای او نے مزید کہا کہ اس حادثے کا کوئی سابقہ ریکارڈ نہیں تھا اور کمپنی اس سانحے پر گہرے افسوس کا اظہار کرتی ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، دونوں زندہ بچ جانے والے مسافر طیارے کے "ایمپنیج” (دُم والے حصے) میں موجود تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ طیارے کے اس حصے کو حادثے کے بعد زخمی حالت میں نکالا گیا تھا۔ دونوں متاثرین کو سر اور بازو پر چوٹیں آئی ہیں لیکن ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

    وائس آف امریکا کی ایک رپورٹ کے مطابق، طیارے کے پچھلے حصے میں موجود مسافر اس لئے بچ گئے کیونکہ یہ حصہ حادثے کے دوران نسبتاً زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ 2015 میں امریکی جریدے ٹائم میگزین نے ایک مطالعے میں جہاز کے دُم والے حصے کو کمرشل پروازوں کے لئے محفوظ ترین حصہ قرار دیا تھا۔ اس مطالعے کے مطابق، طیارہ حادثے میں جہاز کی پچھلی نشستوں پر اموات کی شرح 32 فیصد، وسطی نشستوں پر 39 فیصد اور سامنے کی نشستوں پر 38 فیصد رہتی ہے۔

    یہ حادثہ جنوبی کوریا کی تاریخ میں 1997 کے بعد سے کسی بھی جنوبی کوریائی ائیر لائن کا بدترین حادثہ ہے۔ 1997 میں ہونے والے ایک اور طیارہ حادثے میں 200 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے، جو کہ اس علاقے کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک سنگین حادثہ تھا۔

    قازقستان میں ہونے والے ایک اور فضائی حادثے کا موازنہ کیا جا سکتا ہے جس میں آذربائیجان کا ایک مسافر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں بھی 38 افراد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ 29 افراد زندہ بچ گئے تھے۔ زندہ بچ جانے والے افراد بھی طیارے کے پچھلے حصے میں موجود تھے۔

    جنوبی کوریا میں ہونے والے اس حادثے نے پورے خطے میں صدمے کی لہر دوڑ دی ہے۔ اگرچہ خوش قسمتی سے دو مسافر بچ گئے ہیں، تاہم اس سانحے میں 179 افراد کی ہلاکت نے پورے ملک کو غم میں ڈبو دیا ہے۔ حادثے کی تفصیلی تحقیقات جاری ہیں تاکہ اس کی وجوہات کو سامنے لایا جا سکے اور آئندہ کے لئے حفاظتی تدابیر میں مزید بہتری لائی جا سکے۔

    جنوبی کوریا طیارہ حادثہ،ایئر پورٹ پر لواحقین کی آہ و بکا،141 لاشوں کی شناخت

    ایک دن میں تیسرا فضائی حادثہ، طیارہ رن وے سے اترگیا

    طیارہ حادثہ، روس نے آذربائیجان سے معافی مانگ لی

  • سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    سوشل میڈیا کی دوستی،بھارتی نوجوان پاکستان پہنچ گیا

    بھارت کی ریاست اتر پردیش کے ضلع علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے ایک 30 سالہ نوجوان بادل بابو نے سوشل میڈیا پر پاکستانی لڑکی سے محبت میں گرفتار ہو کر غیر قانونی طور پر سرحد پار کی اور پاکستان پہنچ گیا۔

    بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے فیس بک پر ایک پاکستانی لڑکی سے دوستی کی تھی، جس کے بعد وہ اس لڑکی سے ملنے کے لیے سرحد عبور کر کے پاکستان پہنچا۔ پاکستانی حکام نے اُسے گرفتار کر لیا ہے اور اس وقت اس سے تفتیش جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق، بادل بابو نے پاکستانی حکام کو بتایا کہ اس کی ملاقات اس پاکستانی لڑکی سے فیس بک پر ہوئی تھی، اور وہ اُسی سے ملنے کے لیے پاکستان آیا تھا۔ پاکستانی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ بادل بابو نے کس طرح سرحد پار کی اور کیا اس کے پاس قانونی دستاویزات تھے یا نہیں۔

    اس واقعہ نے ایک اور بار یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر ہونے والی محبتوں کے باعث لوگ اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر سرحدوں کو پار کرتے ہیں۔یہ پہلا واقعہ نہیں ہے جب کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے محبت کے نتیجے میں سرحد پار کی ہو۔ اس سے پہلے بھی متعدد افراد نے ایسی محبتوں کے نتیجے میں غیر قانونی طور پر سرحد عبور کی ہیں۔ سال 2023 میں، سیما حیدر نامی پاکستانی خاتون نے پب جی گیم پر بھارتی لڑکے سے دوستی کی اور اس کے بعد وہ اپنے چار بچوں کے ساتھ نیپال کے راستے بھارت پہنچ گئیں، جس کے بعد بھارتی پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔

    اسی سال، 19 سالہ پاکستانی لڑکی اقرا جیوانی کی دوستی 25 سالہ بھارتی شہری ملائم سنگھ یادیو سے آن لائن گیم کے ذریعے ہوئی۔ اس دوستی کے بعد دونوں نے نیپال میں شادی کر لی۔ اس طرح کے واقعات سوشل میڈیا کی محبتوں کے حوالے سے ایک نیا رجحان بن گئے ہیں جہاں افراد اپنی زندگیوں کے فیصلے آن لائن تعلقات کے نتیجے میں کرتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے ہیں، اور سرحد پار محبت کی کہانیاں دونوں ممالک میں خبریں بن چکی ہیں۔ گزشتہ سال ایک بھارتی لڑکی انجو نے فیس بک پر دوستی کے بعد پاکستان آ کر دیر بالا میں پاکستانی نوجوان نصر اللہ سے نکاح کیا تھا۔ ایسے واقعات معاشرتی اور سیاسی سطح پر دونوں ممالک میں بحث کا موضوع بنتے ہیں۔

    ان واقعات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا نے محبت اور تعلقات کے تصور کو نئی جہت دی ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان تعلقات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات بھی سامنے آئی ہیں۔ سرحدوں کے پار جانے والے افراد کو قانونی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور بعض اوقات ان کی زندگیاں خطرے میں بھی آ جاتی ہیں۔پاکستانی حکام اس وقت بادل بابو کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا وہ کسی اور مقصد کے لیے سرحد پار کر کے آیا تھا یا صرف محبت کی وجہ سے ایسا کیا۔ اس واقعہ نے ایک بار پھر اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ سوشل میڈیا کا اثر افراد کی ذاتی زندگیوں پر کتنا گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

  • مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    مری میں بارش متوقع،پنجاب میں دھند،سندھ میں موسم سرد،خشک

    ملک بھر میں موسم کی صورتحال سامنے آئی ہے،محکمہ موسمیات کے مطابق اسلام آباد اور گردونواح میں موسم سرد رہے گا،

    محکمہ موسمیات کے مطابق مری، گلیات اور گردو نواح میں موسم شدید سرد اور ہلکی بارش متوقع ہے،کشمیر میں موسم شدید سرد اورچند مقامات پر ہلکی بارش اور برفباری کا امکان ہے،گلگت بلتستان میں موسم شدید سرد ا کے ساتھ ہلکی بارش اور برفباری کا امکان ہے،خیبرپختونخوا کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اورمطلع ابر آلود رہنے کا امکان ہے، چترال، دیر، سوات، کو ہستان ،شانگلہ، مانسہرہ میں ہلکی بارش اور برفباری کا امکان ہے، صوابی، مردان، پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ،بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان میں دھند چھائی رہے گی،

    سندھ کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اورخشک رہنے کا امکان ہے، سکھر ، شہید بینظیر آباد،شکارپور، کشمور، خیر پور میں شدید دھند ہوگی،پنجاب کے بیشتر اضلاع میں موسم سرد اور خشک رہنے کی توقع ہے، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، جہلم ، لاہور، شیخوپورہ، قصور میں دھند ہوگی ، اوکاڑہ، ساہیوال، سرگودھا، فیصل آباد، جھنگ، بھکر، لیہ میں شدید دھند چھائی رہے گی،ملتان، بہاولپور، بہا ولنگر، خانیوال، خانپور، رحیم یار خان اور ڈی جی خان میں دھند کی توقع ہے، بلوچستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید سرد اور مطلع ابرآلود رہنےکا امکان ہے، کو ئٹہ، پشین، زیارت، قلعہ عبدا للہ ، قلعہ سیف اللہ، ژوب میں بارش اور برفباری کا امکان ہے،لہہ منفی11، اسکردو،گوپس منفی 9،گلگت منفی 7،استور،ہنزہ منفی 5، ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے،چترال،بونجی اورکالام میں منفی 04 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ،دیر منفی 3۔ راولا کوٹ،کوئٹہ، مالم جبہ منفی 2،مری،ایبٹ آباد منفی 1،اسلام آباد 1رہا.

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

    پی آئی اے پرواز میں فنی خرابی،گوادر جانے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ

  • جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

    جاپانی فحش فلموں کی اداکارہ کی دورہ لاہور کی تصاویر وائرل

    جاپان کی مشہور فحش فلموں کی اداکارہ کائے اساکرا نے حال ہی میں لاہور کا دورہ کیا اور اس دورے کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے اپنے مداحوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا۔

    انہوں نے لاہور کے تاریخی مقامات کی سیر کی اور اپنے سفر کی تصویریں انسٹاگرام پر اپ لوڈ کیں جس میں ان کا حجاب میں ملبوس ہونا خاص طور پر توجہ کا مرکز رہا۔کائے اساکرا، جنہیں فحش فلموں کی انڈسٹری میں "رائے لِل بلیک” کے نام سے جانا جاتا ہے، نے اپنے دورے کی کچھ تصاویر اپنے انسٹاگرام پر شیئر کیں، جن میں وہ لاہور کی گلیوں اور مختلف تاریخی مقامات کی سیر کرتے ہوئے نظر آئیں۔ ان تصاویر میں کائے اساکرا نے کالے رنگ کا برقعہ اور مکمل حجاب پہنا ہوا تھا، جو کہ اس خطے کی ثقافتی روایات کے مطابق تھا،کائے اساکرا نے اپنی انسٹاگرام سٹوری پر ایک تصویر شیئر کی جس میں وہ لاہور کی گلیوں میں چلتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، اور اس تصویر کے کیپشن میں لکھا تھا، "صبح کی چہل قدمی دنیا کے ایک مقام پر۔”

    کائے اساکرا نے لاہور کے مشہور تاریخی مقامات جیسے بادشاہی مسجد، لاہور فورٹ، اور مسجد وزیر خان کا دورہ کیا۔ ان تمام مقامات پر وہ اپنی تصویریں کھینچ کر اپنے مداحوں کے ساتھ شیئر کرتی رہیں۔ ان کی ان تصاویر میں لاہور کی قدیم اور روایتی جمالیات کی جھلکیاں بھی نظر آئیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ثقافتی ورثے میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔

    ایک اور انسٹاگرام اسٹوری میں، کائے اساکرا نے لاہور کی سردی میں بکریوں کے بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے ایک تصویر شیئر کی۔ اس تصویر میں وہ دھوپ میں بیٹھ کر سردی سے لطف اندوز ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں، جس میں وہ مکمل طور پر مشرقی ماحول سے ہم آہنگ نظر آئیں۔

    کائے اساکرا کی اس لاہور یاترا کا مقصد تو ابھی تک واضح نہیں ہو سکا، لیکن سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں نے ان کی اس سیر کو دلچسپ قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے مشرقی ثقافت کے مطابق اپنے لباس اور رویے کو اختیار کیا، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ان کے مداحوں کا کہنا ہے کہ کائے اساکرا نے مشرقی اقدار کا احترام کیا اور انہیں اپنے سفر کے دوران اس کا مکمل خیال رکھا۔

    کائے اساکرا ایک 28 سالہ جاپانی فحش اداکارہ ہیں اور سوشل میڈیا کی بڑی شخصیت بھی ہیں۔ ان کے انسٹاگرام پر 2 ملین فالوورز ہیں، اور وہ اکثر اپنے سفر، زندگی کے لمحات اور مختلف موضوعات پر اپنے خیالات شیئر کرتی رہتی ہیں۔ ان کی اس لاہور یاترا نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کی بھی توجہ حاصل کی ہے۔

    کائے اساکرا کی لاہور میں سرپرائز وزٹ نے ثابت کیا کہ ثقافتیں اور نظریات مختلف ہونے کے باوجود، دنیا بھر کے لوگ ایک دوسرے کی روایات اور اقدار کا احترام کر سکتے ہیں۔ ان کا لاہور میں حجاب میں نظر آنا اور مقامی روایات کے مطابق چلنا ایک خوبصورت پیغام بھی دے رہا ہے کہ انسان جب دوسرے ملکوں اور ثقافتوں کا احترام کرتا ہے تو وہ خود بھی احترام کے قابل بن جاتا ہے۔

    لڑکیوں کی تصاویر پر فحش گانے لگا کر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    دوران پرواز ہوائی جہاز میں فحش فلم چل گئی